12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمظہر القرآن

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلاوے گا اور دوسرا جو ہے (کہ جس نے دیکھا کہ اس کے سر پر روٹی ہے اور پرندے روٹی کھا رہے ہیں) تو وہ سولی پر چڑھادیا جائے گا پھر پرندے اس کا سر (نوچ نوچ کر) کھائیں گے۔ جس بات کے بارے میں تم سے سوال کرتے تھے وہ فیصل ہوچکی

ساقی اور باورچی کی تعبیر خواب کی تعبیر یہ ہے کہ ساقی تو تین دن رہ کر چھوٹ جائے گا اور اپنے مربی کو یعنی بادشاہ کو بدستور سابق شراب پلایا کرے گا، اور اپنی خدمت پر مامور ہوجاوے گا اور دوسرے کی تعبیر یہ ہے کہ یعنی باورچی کی کہ وہ سولی پر لٹکایا جائے گا اور بہت دن تک اس کو لٹکا رہنے دیں گے۔ پرندے اس کی کھوپڑی میں سے بھیجا کھائیں گے۔ وہ یہ تعبیر سن کر متحیر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم نے تو جھوٹی بندش کی تھی خواب تو کچھ دیکھا نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب کیا ہوسکتا ہے۔ اب تو جو کچھ ہونا تھا اور جو کچھ میں نے جواب دیا میرے جواب کے موافق ضرور واقعی ہوگا اور یاد رکھو اس میں ہرگز خلاف نہ ہوگا۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور ان دونوں میں سے یوسف نے جس آدمی کی نسبت سمجھا کہ نجات پائے گا، اس سے کہا :'' اپنے آقا کے سامنے جب جاؤ تو میرا بھی ذکر کردینا '' پس شیطان نے اسے بھلادیا کہ وہ اپنے آقا کے سامنے یوسف کا تذکرہ کرے۔ پس یوسف کئی سال اور قید خانہ میں رہے

یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتلا کر ساقی سے یہ کہا کہ تو اپنے بادشاہ سے میرا ذکر کی جئیو کہ قیدخانہ میں ایک غلام مظلوم قید ہے اور پانچ سال اس کو قید میں گزر چکے وہ خواب کی تعبیر بہت اچھی بیان کرتا ہے۔ مگر جب ساقی قید سے باہر نکلا تو شیطان نے اسے بھلا دیا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ اپنے بادشاہ کے سامنے نہ کیا اور تھوڑے عرصہ تک قید میں رہے۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے خدا کا بھروسہ چھوڑ کر ساقی سے یہ بات کہی اس بات پر یوسف (علیہ السلام) کچھ عرصہ تک قید میں رہے یعنی پانچ برس تو پہلے رہ چکے تھے۔ اس مدت کے گزرنے کے بعد سات سال اور رہے۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور (ایک دن) بادشاہ نے (درباریوں کو جمع کر کے) کہا کہ میں (خواب میں) دیکھتا ہوں کہ سات فربہ گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی ہیں۔ اے دربار والو ! میرے اس خواب کی تعبیر دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر دینی آتی ہو

بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر جب علم الہی کے موافق جو سبب تھا اس کا وقت آگیا تو ریان بن ولید بادشاہ مصر نے یہ خواب دیکھا جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور اس خواب سے وہ ڈر گیا اور اپنے شہر کے جادوگروں اور کاہنوں اور عقلمندوں سب سے اس خواب کی تعبیر پوچھی اور وہ سب اس خواب کی تعبیر بتا نے سے عاجز آگئے۔ اس چرچے سے کئی سال کی بھولی ہوئی بات ساقی کو یاد آئی اور اس نے بادشاہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کیا کہ قید خانہ میں تعبیر خواب کے ایک بڑے عالم ہیں۔ پس بادشاہ نے اس کو بھیج دیا۔ وہ قید خانہ میں پہنچ کر حضرت یوسف علیہ السلا کی خدمت میں عرض کرنے لگا :'' یہ خواب بادشاہ نے دیکھا ہے اور ملک کے تمام علماء وحکماء اس کی تعبیر سے عاجز رہے ہیں حضرت اس کی تعبیر ارشاد فرمائیں ''۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس خواب کی تعبیر ایسی بتلائی کہ بادشاہ اور سب اہل مصر دنگ رہ گئے۔ غرض اس مسبب الاسباب کو جب کوئی کام منظور ہوتا ہے تو اس طرح غیب سے سبب پیدا ہوجاتے ہیں، نہیں تو بنتے ہوئے سبن بگڑ جاتے ہیں۔ بادشاہ کے خواب کی تاریخ سے سات برس کے بعد سات برس قحط پڑنے کو تھا اس لئے سات موٹی گائیں اور ہری بالیں خواب کے بعد کی اچھی پیداوار ہیں کے سات سال ہیں اور دبلی گائیں اور سوکھی بالیں قحط کے سات سال ہوں گے۔ اور خواب کا حاصل یہ ہے کہ قحط کے سات برس میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوگی بلکہ اچھی پیداوار کے سات برس میں جو کچھ پیدا ہوا ہوگا وہ سب سات برس کے قحط میں صرف ہوجائے گا۔
Ayahs 12:44–49

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا :'' یہ ایک پریشان خواب ہے اور ہم خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے ''

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے جس نے رہائی پائی تھی اور ایک مدت کے بعد اسے یوسف کا قول یاد آیا کہ میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتاؤں گا مجھ کو (قید خانہ میں) جانے کی اجازت دیجئے (وہیں تعبیر خواب کے ایک عالم ہیں)

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(چناچہ وہ قید خانہ میں آیا اور کہا) '' اے یوسف اے صدیق ! ہم کو اس خواب میں تعبیر دیجئے کہ سات فربہ گائیں جن کو سات دبلی گائیں کھاتی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات بالیں سوکھی ہیں تاکہ (ان) لوگوں کے پاس پھر جاؤں (اور بیان کروں) تاکہ ان کو معلوم ہوجائے ''

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ تم سات سال متواتر (خوب) کھیتی کروگے پھر جو فصل کاٹوگے تو اس کو بالوں ہی میں رہنے دینا (تاکہ گھن نہ لگ جائے) مگر تھوڑا سا جو تمہارا کھا نے میں آجاوے

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سات بڑے سخت مصیبت قحط کے سال آئیں گے کہ جو کچھ تم نے ذخیرہ ان برسوں کے واسطے پہلے سے جمع کر رکھا تھا اس کو کھا جاویں گے مگر ہاں تھوڑا سا جو (بیج کے واسطے) احتیاط سے بچا رکھو گے

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس سات برس کے بعد ایک برس ایسا آوے گا کہ جس میں لوگوں کے لئے خوب بارش ہوگی اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

بادشاہ مصر کی خواب کی تعبیر کا جواب مع تدبیر کے اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ انہوں نے کہا :'' یہ بھی کچھ خواب ہے، یونہی دماغی بخارات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے ''۔ ساقی کو مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا پیام یاد آیا تو بادشاہ سے کہا :'' میں اس کی تعبیر بتاؤں گا، مجھے قید خانہ تک جانے دیجئے۔ وہاں ایک شخص ہے کہ علم تعبیر کو خوب جانتا ہے ''۔ بادشاہ یہ خبر سن کر نہایت خوش ہوا اور فرمایا کہ جلدی اٹھ اور خبر لا۔ تو ساقی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا اور زمین خدمت کو بوسہ دے کر عرض کیا کہ اے صدیق ! یعنی بڑے سچے ہمیں ذرا ایک خواب کی تعبیر تو بتایئے۔ ہمارے بادشاہ نے یہ خواب دیکھا ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا :'' سات گائیں موٹی موٹی سے مطلب یہ ہے سات برس جو کچھ کھیتی کرو اور غلہ پیدا ہو اس میں سے بقدر ضرورت اپنے اور جانوروں کے کھانے کے لئے لے لو اور باقی اناج بدستور بال میں رکھ چھوڑو۔ اگر بال سے جدا کرو گے تو گھن لگ جانے کا اندیشہ ہے پھر تم اور تمہارے جانور بھوک سے مر جائیں گے۔ کیونکہ پھر سات برس تک لگاتار قحط پڑے گا پھر اس وقت تمہارا کل اندوختہ تمہارے کام آئے گا اور جو کچھ تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ کھاؤگے کچھ باقی نہ رہے گا۔ بیج کے لئے جو غلہ رکھ چھوڑتے ہیں وہ تو رہے گا باقی سب کھا کر بیٹھ رہوگے۔ غرض کہ خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ تدبیر بھی بتلاتے گئے۔ پھر فرمایا کہ اس سات سال کی قحط سالی کے بعد ایک سال ایسا مینہ برسے گا کہ ساری زمین تر ہوجائے گی اور سارے شہر سیراب ہوجائیں گے اور اچھا اناج میوہ ہوجائے گا اور لوگ اپنی عادت کے موافق انگور تل وغیرہ اچھی طرح نچوڑیں گے۔ مصر کے لوگوں کی تسکین کے طور پر اس آٹھویں سال کا ذکر بھی یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا۔
Ayahs 12:50–51

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ انہیں میرے پاس لاؤ تو جب ایلچی اس کے پاس آیا یوسف نے کہا کہ تو اپنی سرکار کے پاس لوٹ جا پھر اس سے دریافت کر کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے (پہلے ان کا فیصلہ چاہتا ہوں) بیشک پروردگار میرا ان کے مکر سے خوب واقف ہے

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے کہا اے عورتو ! تمہاری کیا حقیقت ہے جب تم نے یوسف کا جی لبھانا چاہا تو عورتوں نے کہا کہ حاشا للہ ہم نے ان میں کوئی بدی نہ پائی عزیز کی بی بی (جو کہ حاضر تھی) کہنے لگی کہ اب تو حق بار (سب پر) ظاہر ہوگئی میں نے ہی اس کا جی لبھانا چاہا تھا اور بیشک وہی سچے ہیں

یوسف (علیہ السلام) کا بےقصور ثابت ہونا اور زلیخا کا اپنے جرم کا اقرار کرنا جب ساقی نے بادشاہ کے حضور میں یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کا حال بیان کیا تو بادشاہ مصر کو وہ تعبیر بہت پسند آئی اور یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل کو اس نے بخوبی پہچان لیا اور جان لیا کہ یہ شخص نہایت ہی صاحب کرامات ہے۔ اس لئے پھر بادشاہ نے اپنا قاصد یوسف (علیہ السلام) کے بلانے کے واسطے بھیجا کہ ان کو قید خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ نے قید خانہ کے نکلنے سے انکار کیا اور کہا کہ جب تک بادشاہ اس بات کی تحقیق نہ کرلے کہ میں بےجرم قید خانہ میں داخل ہوا ہوں، اور جو تہمت مجھ پر لوگوں نے دھری ہے اس سے جب تک میں بری بات ثابت ہو لوں اور جب تک بادشاہ یہ بات بھی خوب اچھی طرح نہ جان لے کہ عزیز مصر کی بیوی نے مکر و فریب کرکے مجھ کو زبردستی قید کرایا۔ اس وقت تک میں قید خانہ سے ہر گز نہ نکلوں گا۔ اسی بنا پر یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات کہی کہ پہلے ان عوتوں ہی سے اس بات کو دریافت کرنا چاہیئے جن عورتوں کو میرے معاملے میں دخل ہے جس کے سبب سے ان عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ چناچہ بادشاہ مصر نے ان عورتوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی کہ یہ کیا معاملہ ہے، جب تم نے یوسف (علیہ السلام) پر اپنی خواہش ظاہر کی تھی کس طرح ہوا اور کیا ہوا اس وقت عورتوں نے ایک زبان ہوکر جواب دیا کہ حاشا للہ ! یہ بات ہرگز نہیں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں کوئی برائی ہو وہ نہایت ہی پارسا آدمی ہیں اور عزیز مصر کی عورت زلیخا نے بھی یہ بات کہی کہ اب حق بات ظاہر ہوگئی غرضیکہ اس دریافت سے بادشاہ کو کل حقیقت کی اطلاع ہوگئی کہ یوسف (علیہ السلام) کی اس میں کچھ خطا نہیں ہے اور وہ بلکل سچے ہیں۔ قصور فقط زلیخا کا ہے کہ اس نے یوسف سے بدفعلی چاہی اور یوسف اس بات میں سچے ہیں کہ انہوں نے زلیخا کا کہنا نہ مانا اس لئے زلیخا کو آپ اپنے قصور کا اقرار ہے۔ پھر بادشاہ نے حضرت یوسف کے پاس پیغام بھیجا کہ عورتوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا اب آپ میرے پاس آیئے تو میں آپ کے سامنے ان کو سزا دوں۔ یوسف نے فرمایا کہ میری غرض یہ نہیں کہ میرے سبب سے کسی کو تکلیف ہینچے۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ یہ تحقیقات جو میں نے کی محض اس وجہ سے تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی اور بیشک اللہ دغابازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے یہ درخواست اس سبب سے کی تھی تاکہ عزیز مصر کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیبت میں اس کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ اس کے اہل خانہ کی حرمت اور اس کی تربیت کا حق ہے میں نے ہمیشہ ملحوظ رکھا۔ اور وہ یہ بات بھی جان لے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو رسوا کرتا ہے۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتلاتا، بیشک تو برائی کے لیے تو بڑا ہی حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب اپنے مقدمہ کی تحقیقات کرا لی اور اپنی برات سب کے ذہن نشین کرچکے تو اس وقت آپ کو خیال آیا کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کردیں کہ میں نے اپنے نفس کی پاکی اور صفائی کے واسطے یہ بات نہیں کی اور میں اپنے کام پر خوش نہیں ہوا۔ میں نے یہ بات کہ کر اللہ کی جناب میں تواضع و انکسار سے عرض کیا کہ '' میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا مجھے اپنی بےگناہی پر ناز نہیں ہے اور میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار نہیں دیتا مگر ہاں جس پر میرا پروردگار مہربان ہو، وہ نفس کی برائیوں سے اور خواہشوں سے امن میں رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے ''۔
Ayahs 12:54–55

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور (یہ سن کر) بادشاہ نے حکم دیا : ” یوسف کو میرے سامنے لے آؤ تا کہ میں اسے اپنے خاص کام پر مقرر کروں “ پھر جبکہ ان سے باتیں کیں (اور قابلیت معلوم ہوئی تو) کہا : ” بیشک تم آج (سے) ہمارے معزز اور امانت دار ہو “

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ مجھ کو زمین کے خزانوں پر مقرر کردیں، بیشک میں خوب حفاظت کرسکنے والا ہوں اور اس کام کو جاننے والا ہوں۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کی جگہ مقرر کرنا جب بادشاہ مصر کے روبرو یوسف (علیہ السلام) کی یہ باتیں بیان ہوئیں تو اسے دیکھنے کی زیادہ آرزو ہوئی اور بولا '' میرے پاس اسے لاؤ میں اپنے ہی کاموں کے لئے اس کو خاص کرلوں گا '' پھر بادشاہ کے قاصد نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ : تم یہ کپڑے اتارو اور اچھے کپڑے شاہانہ جو میں تمہارے واسطے لے کر آیا ہوں پہن لو اور شاہی دربار میں چلو وہاں تمہاری طلب ہورہی ہے۔ جب یوسف (علیہ السلام) قید خانہ سے باہر چلے تو قیدی جو ان کے دیدار سے خوش تھے چیخیں مار کر رونے لگے، انہوں نے ان کی دلنوازی کرکے دعا فرمائی یوسف (علیہ السلام) کی عمر اس وقت بتیس برس کی تھی جب بادشاہ کے پاس آئے اور بادشاہ نے ان کو نوعمر اور حسین پایا تو بادشاہ نے کہا کہ اس نے میرے خواب کی تعبیر جان لی حالانکہ بڑے بڑے تجربہ کار یہاں ہیں مگر کوئی نہیں بتا سکا۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سب سے بالا دست اور آگے بٹھلایا اور خلعت عطا کیا اور ایک سواری آراستہ زین ولگام سے آپ کو عنایت کی اور شہر میں ڈھنڈورا پٹودیا کہ یوسف (علیہ السلام) اب سے بادشاہ کا خلیفہ ہوگیا اور جب بادشاہ اور یوسف (علیہ السلام) کی گفتگو ہوئی تو بادشاہ نے کہا :'' آج سے تم میرے پاس ایک خاص مصاحب صاحب قدر ومنزلت مقرر کئے گئے اور تمہاری امانت ودیانت مجھ پر اچھی طرح ظاہر ہوگئی اس لئے تم امین بھی بنائے گئے ''۔ یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے حضور میں اپنی تقرری کا حال سن کر فرمایا کہ آپ مجھے تمام زمین مصر کی پیداوار کا خزانچی بنا دیجئے اس سب کا اختیار میرے ہاتھ میں دیجئے۔ میں اس کی پوری حفاظت کروں گا کیونکہ مجھے ان سب امور کا علم حاصل ہے علم حساب بھی جانتا ہوں۔ یہ بھی خوب معلوم ہے کہ کس طرح مال و اسباب فراہم کرنا چاہیے اور کہاں کہاں اس کو اٹھانا چاہیے، لوگوں کی بولیاں بھی سمجھتا ہوں۔
Ayahs 12:56–57

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی کہ اس ملک میں جہاں چاہے رہے ہم اپنی رحمت جسے چاہتے ہ ہیں پہنچاتے ہیں اور نیکوں کا ثواب ضائع نہیں کرتے

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور بیشک آخرت کا ثواب ان کیلئے بہتر ہے جو ایمان لائے اور پرہیز گار رہے

زلیخا سے شادی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ نے پیداوار کا خزانچی یعنی عزیز مصر کی جگہ مقرر کیا اور تمام ملکی انتظام ان کے اختیار میں دے دیا اور عزیز مصر کو معزول کردیا۔ عزیز مصر اسی رات کو فوت ہوگیا کہ اس کے بعد زلیخا اس کی بیوی کو یوسف (علیہ السلام) کے نکاح میں دے دیا اور وہ باکرہ تھی کیونکہ عزیز مصر نامرد تھا۔ زلیخا سے یوسف (علیہ السلام) کے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ جب یوسف (علیہ السلام) وزارت پر مقرر ہوگئے تو بار بار بادشاہ مصر کو اسلام کی دعوت دیتے رہے آخر وہ مسلمان ہوئے۔ اس کو اللہ تعال نے فرمایا کہ : ہم جس پر چاہیں اس پر انعام و احسان کرتے ہیں اور جو لوگ نیکوکار ہیں ان کا اجر اور ان کی نیکی برباد نہیں کرتے اور ایماندار اور متقی پرہیزگار کے لئے آخرت کا اجر ہے اور ہمیشہ ہمیشہ جنت ہے۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور (پھر قحط کے زمانہ میں) یوسف کے بھائی (کنعان سے غلہ خریدنے مصر میں) آئے پھر یوسف پاس پہنچے تو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے یوسف کو نہیں پہچانا

برادران یوسف (علیہ السلام) کی مصر میں آمد مطلب یہ ہے کہ سات سال ارزانی میں یوسف (علیہ السلام) نے خوب غلہ جمع کیا۔ جب قحط شروع ہونے لگا دور دور کے لوگ غلہ خریدنے مصر کو آتے تو یوسف (علیہ السلام) ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے۔ جب یہ خبر ملک شام تک پہنچی تو یوسف (علیہ السلام) کے دسوں سوتیلے بھائی باپ کی اجازت سے مصر میں آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہیں پہچانا کیونکہ عرصہ ہوگیا تھا ان کی ہئیت بدلی ہوئی تھی، عزیز مصر کی جگہ شاہانہ لباس میں تھے یوسف (علیہ السلام) نے دانستہ ان سے پوچھا کہ : تم کون ہو تم جاسوس معلوم ہوتے ہو وہ بولے :'' بادشاہ سلامت ! معاذ اللہ ہم جاسوس کیوں معلوم ہونے لگے ہم سب ایک باپ کے بیٹے ہیں۔ ہمارے والد یعقوب (علیہ السلام) ہیں ''۔ پھر دریافت کیا کہ تمہارے باپ کے کتنے بیٹے ہیں وہ بولے :'' بارہ تھے ایک کو تو بھیڑیا کھا گیا ایک کو اپنے والد کی خدمت کے واسطے چھوڑ آئے ہیں اور ہم دس آپ کے سامنے حاضر ہیں ''۔ پھر یوسف (علیہ السلام) کے فرمانے سے خدمت گزار نے ان کی پونجی لے کر اس کے عوض میں گیہوں دے دیئے۔
Ayahs 12:59–66

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب یوسف نے ان کا سامان (غلہ کا) تیار کردیا تو (چلتے وقت) کہا کہ (اب کے آنا تو) اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لانا کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں تمہیں پورا پیمانہ دیتا ہوں اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

پھر اگر اسے لے کر میرے پاس نہ آؤگے تو تمہارے لیے میرے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے اور نہ تم میرے پاس آنا

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم اس کے باپ سے اس کی خواہش کریں گے اور ہم کو ضروری ایسا کام کرنا ہے

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف نے (پوشیدہ طور پر) اپنے ملازموں کو حکم دیا : " ان لوگوں کی جمع پونجی انہی کے تھیلوں میں رکھ دو شاید وہ اسے پہچانیں جب لوٹ کر اپنے گھر جائیں، شاید کہ (اس کے دینے کیلئے) وہ پھر لوٹ کر آئیں

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب کہ وہ اپنے باپ کے پاس (کنعان میں) پہنچے بولے : اے ہمارے باپ ہم سے پیمانہ (غلہ کا) روک دیا گیا ہے آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پیمانہ لا دیں، اور ہم ضرور اس کی حفاظت کے واسطے البتہ نگہبان ہیں

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

یعقوب نے کہا کہ کیا میں اس کے بارے میں بھی تمہارا ویسا ہی اعتبار کروں جیسا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں کرچکا ہوں تو اللہ ہی سب سے بہتر نگہبان ہے، اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اپنی جمع پونجی پائی جو ان کی طرف واپس کردی گئی تھی، بولے : اے ہمارے باپ اس سے زیادہ ہم کو کو کیا چاہیے۔ یہ ہماری پونجی ہے جو ہماری طرف واپس کردی گئی ہے اور (اب ہم پھر جا کر) اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ غلہ (اب کی مرتبہ) ہم زیادہ لاویں گے یہ تھوڑا سا غلہ ہے

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

یعقوب نے کہا کہ میں اسے تمہارے ساتھ ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کی قسم کھا کر مجھ کو پکا عہد نہ دیدو کہ ضرور اسے میرے پاس لے آؤگے بجز اس (صورت) کے تم گھر جاؤ۔ پھر جب انہوں نے یعقوب کو اپنا عہد دے دیا تو یعقوب نے کہا : جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے چھوٹے بھائی کو جس کا نام بنیامین ہے لائیں گے '' تو ان لوگوں کو رخصت کیا۔ جب وہ جانے لگے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گاروں سے کہ دیا کہ انہوں نے غلہ کی جو قیمت دی ہے اس کو چھپاکر ان کے بوجھوں میں ڈال دو اور ان کی گھٹڑیوں کو باندھ دو ۔ یہ ترکیب اس واسطے کی کہ شاید باپ کے پاس کوئی اور نقدی مال وغیرہ نہ ہو، جس سے دوبارہ غلہ خریدنے کا انہیں موقع نہ ملے یا اس واسطے کہ جب گھر جائیں گے اور وہاں اپنی گٹھڑیوں میں اپنا روپیہ جوں کا توں پائیں گے تو پھر دوبارہ ضرور آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی غلہ لے کر اپنے گھر واپس آئے تو سامان کھولنے سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق کا ذکر کیا کہ عزیز مصر ایک لائق شخص اور شریف النفس ہے۔ ہمیں اچھی طرح اتارا اور ہماری خوب مہمانی کی اور ہمیں بھرپور تول کر غلہ دیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اس مرتبہ جانا تو انہیں میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ہمارا باپ تمہارے حق میں دعا کرتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرتبہ اگر ہم جائیں گے تو وہ ہمیں غلہ نہ دیں گے اس واسطے کہ جب تک بنیامین نہ جائے ہمارا جانا بےسود ہے۔ علاوہ اس کے بنیامین کے جانے میں ایک اور فائدہ بھی ہے کہ اس مرتبہ ہم دس اونٹ لاد کر لائے ہیں اور اب گیارہ لائیں گے۔ کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ کے لائق غلہ دیتا ہے اور بنیامین کی طرف سے کچھ تردد نہ کریں ہم اسے کچھ تکلیف نہ ہونے دیں گے اور ہر طرح سے اس کی حفاظت کریں گے اس کا جواب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دیا کہ جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کی نگہبانی کا بھی اقرار کیا تھا۔ لیکن خیر بڑا نگہبان تو سب کا اللہ ہے یہ کہ کر بنیا میں کو ان کے ساتھ کردیا۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور (چلتے وقت) یعقوب نے (ان سے) کہا : میرے بیٹو ! سب کے سب ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہونا اور علیحدہ علیحدہ دروازوں سے جانا اور میں تمہیں اللہ کے حکم سے نہیں بچا سکتا، حکم تو سب اللہ ہی کا ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی پر ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو بھروسہ کرنا چاہیے

نظر بد کا ذکر۔ اللہ پر بھروسہ رکھنا ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرمایا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب سفر کی تیاری کی اور بنیامین لو لے کر مصر کی طرف چلے تو ان کے والد بزرگوار نے ان کو نصیحت کی کہ : تم سب کے سب ایک دروازے سے داخل نہ ہونا الگ الگ جانا۔ کیونکہ پہلی مرتبہ جب یہ لوگ گئے تھے تو ان سے کوئی واقف نہ تھا اور اب وہاں کے لوگ انہیں جان گئے ہیں کہ یہ سب کے سب ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں اور جوان جوان اور حسین ہیں، ایسا نہ ہو کہ کسی کی نظر بد انہیں لگ جائے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو معلوم ہوچکا تھا کہ مصر میں یوسف (علیہ السلام) تخت سلطنت پر ہیں مگر ان کو ظاہر کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے اپنے بیٹوں سے پوشیدہ رکھا۔ اور اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی اب بھی جو شخص دنیا کے اسباب کو برتے اور تقدیر پر شاکر رہ کر اصل بھروسہ اللہ پر رکھے تو ایسے شخص کا کام شریعت کے موافق شمار کیا جاوے گا۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب کہ وہ (مصر میں) اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے حکم دیا تھا تو وہ کچھ انہیں اللہ کے حکم سے بچا نہ سکا لیکن یعقوب کے دل کا ایک کطرہ تھا جسے اس نے پورا کردیا اور بیشک وہ تو صاحب علم تھا اس چیز سے کہ ہم نے اس کو علم سکھایا تھا و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

ارشاد ہوتا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جدا جدا داخل ہوئے تو جو تدبیر یعقوب (علیہ السلام) نے بتلائی تھی وہ سود مند نہ ہوئی بلکہ انہیں چوری کی تہمت لگائی گئی اور بنیامین کو اس جرم میں ایک سال تک روک دیا گیا اور حضرت یعقون (علیہ السلام) پر دوہری مصیبت آئی غرض تدبیر سے حکم قضا وقدر نہیں پھر سکتا۔ یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں جو مشقت و محبت بچوں کی تھی اس کے تقاضے سے انہوں نے یہ بات ظاہر کردی تھی مگر وہ اس کے کچھ معتقد نہ تھے کہ اس تدبیر سے تقدیر دفع ہوجائے گی۔ تقدیر کا جاننا اور ماننا انبیاء کا کام ہے لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں بےعلمی سے تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ یوسف کے پاس گئے اس نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (اور اس کو پوشیدگی میں) کہا کہ بیشک میں ہی تیرا بھائی (یوسف) ہوں پس جو کچھ (بدسلوکی) یہ لوگ (تیرے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر غمگین نہ ہو

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین سے اپنا حال ذکر کردیا اور تدبیر بھی بتلادی اس آیت میں اللہ نے اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی داخل ہوئے تو دو دو آدمیوں کو ایک گھر میں جگہ دی۔ بنیامین اکیلے رہ گئے ان کو اپنے پاس رکھا اور تنہائی میں ملاقات کرکے کہ دیا کہ تم دل میں کچھ خوف نہ کرو میں تمہارا بھائی ہوں۔ ان سوتیلے بھائیوں نے جو کچھ میرے اور تمہارے ساتھ سلوک کیا اس کا رنج وغم نہ کرو، پھر یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو خبر دی کہ : میں یہ تدبیر کرتا ہوں کہ تمہارے نام کے غلہ کی گٹھڑی میں ایک برتن رکھ دیتا ہوں۔ ان کو چوری کی علت لگا کر تمہیں اپنے پاس رکھ لوں گا۔ تو اس نے کہا :'' اچھا یہی کرو ''۔
Ayahs 12:70–72

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو پانے پینے کا پیالہ اپنے (حقیقی) بھائی کے سامان میں رکھ دیا (جب یہ لوگ روانہ ہوگئے تو) پھر ایک پکارنے والے نے پکارا : اے قافلہ والو (ٹھہرو) بیشک تم چور ہو

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے کہ کیا چیز ہے جو تم نہیں پاتے

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم کو بادشاہ کا پیالہ نہیں ملتا اور جو کوئی اس کو لاوے گا ایک اونٹ بھر کر غلہ پاوے گا اور میں اس وعدہ کا ضامن ہوں

بنیامین کو مصر میں روک لیا گیا جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر لدوادیا تو ایک برتن سونے اور جواہرات کا جس سے پانی پیتے تھے اور اس سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے۔ یہ برتن اپنے چھوٹ بھائی یعنی بنیامین کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا۔ جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خمت گاروں نے وہاں اس برتن کا پتا نہ پایا، دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے :'' اے قافلہ والو ! ٹھر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو ''۔ یہ سن کر وہ لوگ بہت پریشان ہوئے اور پھر کر دریافت کیا کہ کیا چیز چوری کی ہے انہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ کا سقایا یعنی پانی پینے کا برتن نہیں ملتا۔ پھر منادی نے یہ بھی کہا کہ جو شخص اس کا پتہ لگا دے گا اسے غلہ کا ایک اونٹ کا بوجھ بادشاہ کی طرف سے ملے گا اور ہم اس کے ضامن ہیں۔
Ayahs 12:73–75

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

(یوسف کے بھائیوں نے) کہا خدا کی قسم ! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

(ملازموں نے) کہا پھر اس کی کیا سزا ہونی چاہیے اگر تم جھوٹ بولتے ہو

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

بولے : چور کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں چوری کا مال نکلے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے، اسی طرح ہمارے ہاں ظالموں کی سزا دیا کرتے ہیں

جب یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے ان کے بھائیوں کو پکار کہا :'' تم چور معلوم ہوتے ہو '' تو انہوں نے قسم کھائی اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں، ہم پہلے بھی آچکے ہیں اب دوبارہ آئے ہیں۔ اس کی وجہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ غلہ کی قیمت پہلی دفعہ ہماری گٹھڑیوں میں چلی گئی تھی جس کے واپس کردینے کا ہمیں خیال یہ تھا، یہ بات سن کر یوسف علیہ السلا کے خدمت گاروں نے کہا کہ : اگر تم برخلاف اپنے قول کے چور ثابت ہوگئے تو تمہاری کیا سزا ہے ''۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جس کے پاس وہ برتن نکلے اسی کو سزا ملے، یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں چور کو ایک سال تک غلام بنا کر رکھ لیا کرتے تھے۔ غرضیکہ یہ بات یوسف (علیہ السلام) کی مرضی کے موافق تھی منظور کرلی، اور پہلے سوتیلے بھائیوں کی تلاشی لی، پھر بنیامین کی تلاشی لی وہ برتن ان کے سامان میں سے نکلا۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نہایت شرمندہ ہوئے اور سر جھکالیا اور بنیامین کو یوسف (علیہ السلام) کے حوالہ کیا۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پس (یوسف نے) اپنے (حقیقی) بھائی کے اسباب سے پہلے ان کے اسباب کی تلاشی اول شروع کی، پھر اسے اپنے بھائی کے اسباب میں سے اس کو نکالا، ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ورنہ) بادشاہ (مصر) کے قانون سے اسے حق نہ تھا کہ وہ اپنے بھائی کو روک لے مگر یہ کہ خدا ہی کو منظور تھا، جس کو ہم چاہتے ہیں درجوں بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اسی طرح تعلیم کی تھی اور اسی تدبیر سے بنیامین مصر میں آگئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو آرزدہ پاکر بھائیوں سے علیحدہ بتلادیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ بات زیبا نہ تھی کہ بادشاہ کے قاعدے کے موافق اپنے بھائی کو جو چور قرار پایا تھا سزا دے۔ اس واسطے کہ بادشاہ کا حکم چور کی نسبت یہ تھا کہ اسے مارو اور دونا مال لے لینا مقرر تھا۔ یہ بات خدا کی مشیت سے ہوئی کہ ان کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور ان کے دل میں یہ ڈالا وہ اپنی سلطنت کے مطابق جواب دیں۔ پھر فرمایا کہ خدا نے جو چاہا یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ وہ کیا ہم جس کے چاہتے ہیں مرتبے بڑھاتے ہیں۔ ہر عالم سے زیادہ دوسرا عالم موجود ہے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ اللہ تک پہنچتا ہے۔ اس کا علم سب کے علم سے برتر ہے۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

بھائیوں نے کہا : اگر اس نے چوری کی تو یہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ اس سے پہلے اس کا (حقیقی) بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ پس یوسف نے اپنے دل میں اس بات کو مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہیں کیا دل میں کہا کہ تم بری جگہ ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم باتیں بناتے ہو

ان کے بھائیوں نے عاجزی کی مگر کار آمد نہ ہوئی یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے جب دیکھا بنیامین نے چوری کی تو کہنے لگے کہ : اس پر کیا موقوف ہے اگر اس نے چوری کی ہے تو کوئی زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے اس کا ایک بھائی اور تھا اس نے بھی ایک مرتبہ چوری کی تھی کہ یوسف کی خالہ کے گھر میں مرغیاں تھیں۔ ایک سائل گھر کے دروازے پر آیا اور کوئی اس وقت موجود نہ تھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے ایک مرغی سائل کو دے دی۔ ان کے بھائیوں نے انہیں چوری لگائی یوسف (علیہ السلام) اس مقولہ کو سن کر چپکے ہورہے اور ان پر یہ ظاہر نہ کیا کہ میں یوسف ہوں۔ چوری کا الزام تم مجھ پر جھوٹ لگاتے ہو اپنے دل میں کہا کہ : تم سب سے بڑھ کر چور ہو کہ محبوب بیٹے کو باپ سے جدا کردیا اور اللہ تمہارے اس کلام سے خوب واقف ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو اپنے لوگوں کے سپرد کیا۔ بھائیوں نے اس کے چھرانے کے بارے میں بڑی گفتگو کی مگر کچھ فایدہ مند نہ ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ زور سے کام نہیں چلتا تو عاجزی کرنے لگے۔
Ayahs 12:78–79

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اے عزیز ! اس کا باپ بڑا بوڑھا آدمی ہے (وہ اس سے بہت محبت رکھتا ہے) پس اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لے بیشک ہم تجھے نیکی کرنے والوں میں سے دیکھ رہے ہیں

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسف نے کہا : خدا کی پناہ ! اس بات سے کہ ہم اس کے سوا (کسی اور کو) پکڑیں جس کے پاس ہمارا مال ملا ہے اگر ایسا کریں تو ہم ظالم ٹھہریں گے

بھائیوں کی پریشانی کا ذکر جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے دیکھا کہ اب بنیامین کو عزیز مصر نہیں چھوڑے گا تو بہت گھبرائے کیونکہ باپ سے وعدہ کر کے آئے تھے اس لئے گڑگڑانے لگے، اور نہایت ہی عاجزی و منت سے کہا کہ اے عزیز مصر ! بنیامین کا باپ بہت ہی بوڑھا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کے بعد اس سے ہی محبت رکھتا ہے۔ اگر آپ ہم میں سے ایک کو اس کے بدلے غلام بنالیں اور اس کو چھوڑ دیں تو بہتر ہوگا۔ بہت ہی بڑا احسان آپ کا ہمارے اوپر ہوگا اور ہم آپ کو نیکو کار مرد بزرگ دیکھتے ہیں ضرور ہمارے مدعا کو پورا کریں گے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ : یہ بڑی بےانصافی کی بات ہے کہ کسی اور کو پکڑ لیں ہم تو اسی کو پکڑیں گے جس کے پاس ہماری چیز ملی ہے۔ ہم اگر دوسرے کو پکڑ لیں تو بیشک ہم گنہگار ہیں۔