12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 12:80–82

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب کہ اس سے ناامید ہوگئے تو اس سے الگ ہوکر خفیہ مشورہ کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد کرلیا تھا اور اس سے پہلے بھی تم نے یوسف کے حق میں کیسی تقصیر کی (کوتاہی کی) پس میں تو یہاں سے نہیں ٹلوں گا اس وقت تک کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا اللہ مجھے کوئی حکم فرمائے اور اس کا حکم سب سے بہتر ہے

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو کہ اے ہمارے باپ ! بیشک تمہارے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو اتنی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (کہ یہ صورت پیش آے گی)

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور اس بستی سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی کہ جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بیشک سچے ہیں

جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح ومشورہ کرنے لگے کہ ان کیا کرنا چاہئے، عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا، بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا، اس نے کہا کہ باپ نے بنیامین کے واپس لانے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول وقرار لیا تھا پہلے بھی قصور سرزد ہوچکا ہے، میری غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ باپ کو منہ دکھاؤں۔ جب تک باپ کی اجازت نہیں آوے گی میں یہیں رہوں گا اور اپنے بھائی کو لے کر جاؤں گا۔ قتل ہوں گے یا قتل کریں گے بغیر اس کو لئے نہیں جائیں گے۔ خدا احکم الحاکمین ہے اسی کے ہاتھ میں ہمارا فیصلہ ہے۔ جو تقدیر میں ہوگا وہ ہوگا تم اگر گھر جاتے ہو تو باپ سے جاکر ساری حقیقت بیان کرو کہ ہم نے ہرچند اس بات کا اقرار کیا تھا کہ بنیامین کی حفاظت کریں گے۔ مگر ہمیں غیب کی خبر نہیں تھی کہ یہاں چوری کی علت میں تمہارا بیٹا پکڑا جاوے گا۔ ہم نے موافق اپنے دین کے چوری کی سزا بھی بتلادی۔ اب عزیز مصر اس کو نہیں آنے دیتا اس جرم میں اس کو روک رکھا ہے ہم مجبور ہیں کیا کریں۔ آپ کو ہمارے کلام کا یقین نہیں ہے تو جس گاؤں میں ہم آکر اترے ہیں یہاں کے لوگوں سے دریافت کیجئے اور جس قافلے کے ساتھ ہم مصر میں داخل ہوئے ہیں ان سے ساری حقیقت معلوم کرلیجئے کہ ہم کہاں تک سچے ہیں ''۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

پھر یعقوب نے سن کر کہا : (نہیں) بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بات گھڑ لی ہے پس (مجھے) صبر ہی بہتر ہے۔ امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے، بیشک وہی جاننے والا حکمت والا ہے

فرزندگان یعقوب (علیہ السلام) کی مصر سے واپسی، بنیامین کے حال کی خبر دینا جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے کنعان پہنچ کر باپ سے بنیامین کا قصہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ : یہ بھی تمہاری سب افترا پردازی اور من گھڑت ہے یعنی بادشاہ کو کیا خبر تھی کہ چور کی کیا سزا ہے۔ تمہی نے شیخی میں آکر کہ دیا کہ ہم میں سے جو چور ہو اسے غلام بنالیا جائے۔ تمہارے کہنے کے موافق بادشاہ نے کیا، خیر صبر کرنا چاہئے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پہلے تو فقط حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا رنج تھا، اب بنیامین کی جدائی سے اور زیادہ رنج بڑھ گیا جس کی کوئی حد نہ رہی۔ پھر خیال کیا کہ ہر رنج کے ساتھ خوشی لگی ہوئی ہے دل کو تسکین فرمائی۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ کی ذات سے توقع تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں۔ آزمائش الہی کے طور پر کچھ عرصہ تک آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں پھر ضرور ملیں گے۔ اس لئے انہوں نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت سے کچھ دور نہیں جو اللہ تعالیٰ روبیل، یوسف، بنیامین سب بچھڑے ہوؤں کو اکٹھا ملا دیوے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی توقع کو پورا کیا اور سب بچھڑوں کو حسب مراد ملایا۔ روبیل خود مصر میں رہ گئے تھے شرم کے مارے کنعان نہیں آئے تھے۔
Ayahs 12:84–85

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور یعقوب نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہا کہ ہائے افسوس یوسف (کی جدائی) پر، اور اس کے غم سے (روتے روتے) آنکھیں سفید ہوگئیں پس وہ غم کھاتا رہا

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹوں نے) کہا : خدا کی قسم ! تم تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتے رہو گے یہاں تک کہ تم (گھل گھل کر) بیمار ہوجاؤ یا ہلاک ہوجانے والے میں سے ہوجاؤ

یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم سے آنکھیں کھو بیٹھنا بنیامین کا قصہ سننے کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے کہ : افسوس حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد آگئی، بنیامین کا حال جب سنا تو حضرت یعقوب کا غم حد سے بڑھ گیا، اس سے اور بھی دوچند صدمہ ہوا اور آپ بیٹوں کے فراق میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ سیاہی سفیدی سے بدل گئی اس سبب سے بھی تھا کہ آپ جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں لیکن آپ کو ان کے دین کی طرف سے خیال پیدا ہوا کہ مصر میں سارے لوگ بت پرست ہیں، کبھی ان کے عقائد میں بھی فرق نہ آئے پھر یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے فہمائش کے طور پر باپ سے یہ کہا کہ : یوسف (علیہ السلام) کو یاد کرکے رنج وغم کرتے کرتے یا تو آپ اپاہج اور دیوانے ہوجائیں گے یا اپنی جان کھودیں گے۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

یعقوب نے کہا : میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد کرتا ہوں اللہ ہی کی جناب میں، اور خدا کی طرف سے میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو ان سخت لفظوں میں فہمائش کی جس کا ذکر اوپر گزرا تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ جواب دیا کہ '' میں بےصبری کرکے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کی شکایت کسی دوسرے سے کروں تو تم مجھ کو صبر کی فہمائش کرو۔ میں تو اپنے غم کا حال اسی پاک پروردگار سے عرض کرتا ہوں جس آزمائش کے طور پر یہ مصیبت ڈالی ہے۔ اے بیٹو ! تم کو معلوم نہ ہو تو نہ ہو مگر مجھ کو اللہ کی کریمی صفت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خواب یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا ہے اس کا ظہور میری آنکھوں کے سامنے ہوگا اور میری زندگی میں یوسف (علیہ السلام) ایک دفعہ مجھ سے ضرور ملے گا ''۔
Ayahs 12:87–89

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کو اور اس کے بھائی کو اور اللہ کی رحمت سے نامید نہ ہو بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب کہ یوسف کے بھائی یوسف کے پاس پہنچے تو کہنے لگے : اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو (بہت) مصیبت پہنچ رہی ہے اور ہم یہ تھوڑی سی پونجی لے کر آئے ہیں ہم کو پورا پیمانہ بھر دے اور ہم کو خیرات (سمجھ کر) دیدے، بیشک اللہ خیرات دینے والوں کو اچھا بدلہ دیتا ہے

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یہ حال سن کر یوسف کا دل بھر آیا اور) کہا : کیا تمہیں یاد ہے جو کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جب تم نادان تھے

فرزندگان یعقوب (علیہ السلام) کا دوبارہ مصر آنا اوپر کے قصہ کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ادھر ادھر پھر کر یوسف (علیہ السلام) کو اور اس کے بھائی بنیامین کا پتہ لگاؤ۔ خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ دونوں تمہیں مل جاویں۔ خدا پر بھروسہ کرکے کمر ہمت چست باندھو اور اس کی جستجو میں نکلو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا پر جو ایمان رکھتے ہیں وہ ناامید نہیں ہوتے اور جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ ناامید ہوتے ہیں۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے باپ کا حکم پاکر گھر سے چلے اور سیدے مص میں داخل ہوئے اور عزیز مصر سے یہ آکر کہا کہ سے عزیز مصر ! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بہت ہی سختی ہے اس مرتبہ ہمارے گھر میں ناقص مال تھا وہ سب لے کر آئے ہیں، آپ اس غلہ کی قیمت لے کر ہمیں غلہ بھر دیں اور پورا تول تول دیں اور ہماری قیمت دینے نہ دینے کا خیال نہ کریں۔ ہمارا حال کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ آپ گویا صدقہ ہی تصور فرما کر ناقص درہموں کے بدلے غلہ دیں۔ اللہ پاک صدقہ کرنے والوں کو بہت بڑا اجر دیتا ہے۔ جب بھائیوں نے اس طرح کی گفتگو کی تو یوسف (علیہ السلام) سے گھر کی تکلیف سن کر رہا نہ گیا اور انہوں نے اپنے آپ کو اس طرح سے ظاہر کردیا کہ تم نے جو کچھ سلوک یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا وہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ کس طرح مکر و فریب سے باپ سے جدا کیا اور حقیقت میں تمہاری نادانی نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا۔
Ayahs 12:90–93

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں : کہا : (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ (بنیامین) میرا بھائی ہے البتہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا، البتہ بات یہ ہے کہ جو شخص پرہیزگاری کرے اور صبر کرے تو بیشک اللہ تعالیٰ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

(یہ سن کر ندامت سے جھگ گئے) اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطا وار تھے

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف نے کہا : آج کے دن (میری رف سے) تم پر کچھ ملامت نہیں (جو ہونا تھا وہ ہوچکا) اللہ تمہارا قصور معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

(اب تم) یہ میرا کرتہ (تعویذی اپنے ساتھ) لے جاؤ پس اسے میرے باپ کے منہ پر ڈال دو تاکہ ان کی آنکھیں بینا ہوجائیں اور میرے پاس اپنے تمام کنبے کو لے آؤ

حضرت یوسف کے بھائیوں نے انہیں پہچان کر قصور کی معافی چاہی، پھر حضرت یوسف نے انہیں جنتی کرتہ دیا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے سر سے تاج اتارا اور اپنی پیشانی دکھائی۔ ان کی پیشانی پر ایک تل تھا اس کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ یوسف ہیں اور کہنے لگے کہ کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو فرمایا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا چھوٹا بھائی بنیامین ہے۔ خدا نے بڑا فضل کیا کہ مدت دراز کے بعد ہمیں ایک جگہ کیا جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور مصیبت کے وقت صبر کرتا ہے اس کا اجر اللہ پاک ضائع نہیں کرتا ہے۔ میرے اوپر کیسی کیسی مصیبت پڑی ہر حالت میں صبر ہی کرتا رہا اللہ تعالیٰ نے رحم کھا کر اپنا فضل ہم پر کیا اور مصر کی سلطنت ہمارے قبضہ میں دے دی۔ جب بھائیوں نے دیکھا کہ اللہ اکبر ! ہم جسے عزیز مصر سمجھے ہوئے تھے وہ تو ہمارا بھائی نکلا تو پھر انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے معافی چاہی اور اپنے جرم کا اقرار کیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کی معذرت سن کر کہا :'' بھائی جو کچھ ہوا جانے دو اس کا خیال کب تک کیا کرو گے، آج کے بعد پھر کوئی الزام تم پر نہ لگایا جائے گا اور جو کچھ تم سے خطا بھی واقع ہوئی ہے اللہ پاک وہ معاف کرے گا کیونکہ وہ بیشک بہت بڑا بخشنے والا مہربان ہے ''۔ پھر یوسف (علیہ السلام) نے کہا :'' لو یہ کرتہ لے جاؤ '' وہ کرتہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا تھا جو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کے گلے سے کھول کر پہنا دیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر وحی آئی کہ اسے کنعان میں بھیج دے تو انہوں نے بھائیوں سے کہا کہ : اسے لے جاؤ، اسے ابا کے منہ پر ڈال دینا ان کی آنکھیں کھل جائیں اور جیسی روشنی تھی ویسی ہی آجاوے گی اور اپنے سب گھر بار کو لے کر یہاں آجاؤ۔ لکھا ہے کہ وہ کرتہ یہودا لے گئے کہ اس سے پہلے کا کرتہ بناوٹی خون کا بھرا ہوا جو دیا تھا تو انہی نے دیا تھا۔ اس خوشخبری کے کرتے کے لے جانے میں اس کا کچھ معاوضہ ہوجاوے۔
Ayahs 12:94–95

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب کہ (یہ لوگ کرتہ لے کر روانہ ہوئے اور) قافلہ مصر سے چلا تو (ادھر کنعان میں) ان کا باپ کہنے لگا : البتہ مجھ کو یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر مجھے بہکا ہوا نہ کہو

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! یقیناً تم اپنی پرانی خود رفتگی میں پڑے ہوئے ہو

ارشاد ہوتا ہے کہ جب قافلہ مصر کی آبادی سے میدان میں آیا تو باد صبا نے حق تعالیٰ سے اذن لے کر یوسف (علیہ السلام) کے کرتے کی خوشبو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دماغ میں پہنچادی۔ وہ خوشبو سونگھ کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے۔ اگر تم بیوقوف نہ بناؤ اور فتور عقل نہ سمجھو تو بات یہی ہے جو میں کہ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا : '' واہ یہ خوب سوچے '' اللہ کی قسم ! آپ بیشک قدیمی حیرت میں گرفتا ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے غلبہ محبت اور ان کے ذکر کی کثرت سے ان سے ملاقات کی توقع آپ کو چالیس برس بعد بھی باقی ہے ''۔
Ayahs 12:96–98

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جبکہ اس کے پاس خوشخبری دینے والا آیا تو اس نے (آتے ہی) یوسف کا کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا پس اسی وقت بینا ہوگئے (تب) یعقوب نے کہا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ بیشک میں اللہ کی جانب سے وہ بات جانتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

(سب بیٹوں نے) کہا : اے ہمارے باپ ! ہمارے گناہوں کے بارے میں بخشش مانگئے، بیشک ہم خطا وار ہیں

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

یعقوب نے کہا : عنقریب میں تمہارے لیے اپنے پروردگار سے چاہوں گا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ جب خوشخبری دینے والا یعنی یہودا اپنے باپ کے پاس پہنچا تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کے کرتے کو اپنے باپ کے منہ پر ڈال دیا پس وہ بینا ہوگئے۔ لکھا ہے کہ یہودا بھائیوں کے ساتھ راہ میں نہیں ٹھرے اور ننگے پاؤں برہنہ سر دوڑتے ہوئے کنعان میں پہنچے۔ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کیوں جی میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ مجھے اللہ کی وحی کے ذریعہ سے وہ بات معلوم جو تم کو نہیں معلوم، یعنی یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا ظہور ضرور ہوگا، پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے باپ سے معذرت کی اور اپنی خطا کا اقرار کیا :'' بیشک ہم قصور وار ہیں۔ آپ ہمیں معاف فرمائیں اور درگاہ الہی میں ہمارے لئے مغفرت کی دعا کیجئے '' آپ نے فرمایا کہ عنقریب ہم تمہارے لئے دعا کریں گے، آپ نے مغفرت کی دعا کرنے میں بخل نہیں کیا۔ بلکہ وعدہ فرمایا کہ بوقت سحر ہم خدا سے تمہارے واسطے دعا کریں گے۔ آپ صبح کے وقت اٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے اور دعائے صبح زیادہ تر مقبول ہوتی ہے۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب کہ وہ (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے (یعنی اس کے خیمہ میں) تو یوسف نے اپنے پاس (تعظیما) اپنے ماں باپ کو جگہ دی اور کہا : سب مصر میں چلو انشاء اللہ (ہر طرح کا) امن ہوگا

یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی مع رشتہ دار سب کا ایک جگہ ہونا، یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا حضرت یعقوب (علیہ السلام) مع رشتہ داروں کے جو مرد عورت ملا کر 63 آدمیوں کے قریب تھے کنعان سے لے کر چلے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خبر ملی کہ ہمارے والدین آرہے ہیں۔ اور اب بہت نزدیک آگئے ہیں تو آپ تخت پر بیٹھ کر ان کے استقبال کو روانہ ہوئے۔ بادشاہ مصر نے اپنے دربار کے اور اور دوسرے معزز آدمیوں کو بھی ان کے ہمراہ کردیا جب باپ کے پاس پہنچے تو ماں باپ کو اپنے تخت پر جگہ دی۔ پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے عین شہر میں آکر باپ اور ماں کو تخت پر بٹھایا تو ان کے گیارہ بھائیوں نے براہ تعظیم ان کے آگے سجدہ کیا۔ یہ سجدہ تعظیم کا کہلاتا تھا۔ زمانہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک اپنے بزرگوں اور معزز آدمیوں کو سجدہ تعظیمی کرنا روا تھا مگر اب شریعت محمدیہ میں یہ تعظیمی سجدہ ناجائز ہے۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور وہ سب کے سب اس کے لیے سجدے میں گرے اور یوسف نے کہا : اے میرے باپ ! یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جو پہلے میں نے دیکھا تھا، بیشک میرے پروردگار نے اس (خواب) کو سچا کیا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ اس نے مجھ کو قید خانہ سے نکالا اور تم سب کو گاؤں سے لا کر میرے پاس پہنچا دیا بعد اس کے جھگڑا ڈال دیا تھا شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان، بیشک میرا پروردگار جس بات کو چاہے (اس کی تدبیر) آسان کردے، بیشک وہی جاننے والا حکمت والا ہے

پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد بزرگوار سے کہا کہ : اے والد ماجد ! میں نے جو بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے آسمان سے زمین پر اترے اور ان کے ساتھ چاند سورج بھی ہے اور ان ستاروں نے میرے آگے سجدہ کیا یہ اسی خواب کی تعبیر ہے اور یہی نتیجہ و انجام اس خواب کا تھا۔ ہمارے پروردگار نے اس خواب کو سچ کر دکھایا اور ہم اس کا لاکھ لاکھ شکر کرتے ہیں کہ ہمیں طرح طرح کی نصیحتیں دیں اور مجھے قید سے نکالا اور آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ پھر اس کے بعد شیطان کا ذکر کیا کہ : اس نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان میں جھگڑا ڈالا مگر ہزار ہزار اس کا شکر ہے کہ اس نے اس کا تصفیہ کردیا، اور فرمایا کہ میرا رب لطیف ہے کہ اس نے اپنے لطف و کرم سے میرے اوپر بڑے بڑے احسان کئے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس تعبیر میں کنوئیں کا ذکر نہیں کیا ایسا نہ ہو کہ سوتیلے بھائی شرمندہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحتوں اور ضرورتوں کو خوب جانتا ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
Ayahs 12:101–102

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(یوسف نے دعا کی) اے میرے پروردگار ! بیشک تو نے مجے بادشاہی دی اور مجھ کو خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا (جو کہ علم عظیم ہے) اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے واللے ! تو ہی میرا کارساز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ تو مجھے اسلام پر موت دے اور مجھ کو خاص نیک بندوں میں شامل کردے

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے محبوب کریم ﷺ) یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم اس کو تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جبکہ یوسف کے بھائی اپنے کام کا مشورہ کرتے تھے اور وہ فریب کر رہے تھے

حضرت یعقوب علیہ السلام، ان کے بھائی اور ان کے بیٹے حضرت یوسف (علیہ السلام) تینوں کی وفات کا ذکر مورخین کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصر میں چوبیس سال عیش و خوشحالی کے ساتھ رہے۔ قریب وفات آپ نے وصیت کی کہ جنازہ ملک شام میں لے جاکر ارض مقدس میں آپ کو آپ کے والد حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کے پاس دفن کیا جائے۔ اس کی تعمیل کی گئی اور اسی وقت آپ کے بھائی غیص کی وفات ہوئی دونوں بھائی ایک ہی جگہ مدفون ہوئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) والد اور چچا کو دفن کرکے مصر کی طرف واپس ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی کہ جو اس آیت میں ہے۔ یعنی انبیا سب معصوم ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ دعا تعلیم امت کے لئے ہے کہ وہ حسن خاتمہ کی دعا مانگتے رہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والد ماجد کے بعد تئیس سال رہے اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی۔ آپ کے مقام دفن میں اہل مصر کے اندر سخت اختلاف واقع ہوا۔ ہر محلہ والے حصول برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن کرنے پر اصرار کرتے تھے آخر یہ رائے قرار پائی کہ آپ کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے چناچہ آپ کو سنگ مرمر کے صندوق میں دریائے نیل کے اندر دفن کیا گیا اور آپ وہیں رہے یہاں تک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آپ کا تابوت شریف نکالا اور آپ کو آپ کے آبائے کرام کے پاس ملک شام میں دفن کیا۔ اب آگے فرمایا کہ اے محمد ﷺ یہ ہم تم کو غیب کی خبریں بتاتے ہیں اور تم یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس تو تھے ہی نہیں جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے پر اتفاق کرلیا تھا اور جس وقت وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مکر کرتے تھے اور تمہاری تکذیب کرنے والے یہ جانتے ہیں کہ تم نے یہ قصہ کسی سے سنا بھی نہیں اور مطابق واقعہ کے تم اس کی خبر دیتے ہو تو یہ بات اس امر کی ظاہر دلیل ہے کہ تم نے یہ قصہ وحی الہی سے معلوم کیا ہے۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اکثر لوگ گو تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا رنج دفع کرنے لئے آپ کی تسلی فرمائی ہے۔ آپ کے رنج کا سبب یہ تھا کہ یہود کے بہکانے سے قریش نے آپ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بابت دریافت کیا تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) جن کی اولاد یہود کہلاتے تھے۔ یہ بتاؤ کہ یہود جن لا لقب بنی اسرائیل ہے مصر میں کیونکر چلے گئے تھے اور ملک شام ان سے کیونکر چھوٹ گیا تھا۔ چناچہ اس کا ذکر اوپر گزرچکا ہے جب اس قصہ کو قریش کے روبرو سورة یوسف کے نازل ہوتے ہی بیان فرمایا تو آپ کو توقع ہوئی کہ اس امر کی تائید غیبی سمجھ کر اکثر یہود آپ کے سچے نبی ہونے کی شہادت دیویں گے اور ایمان لاویں گے مگر وہ ایمان نہ لائے۔ اس سبب سے آنحضرت ﷺ کو کمال رنج تھا۔ اس رنج کے دفع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ بغیر اللہ کی مرضی کے اور بغیر مقررہ وقت کے فقط تمہاری تمنا سے یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے۔ اس کا تم کچھ رنج نہ کرو چناچہ وقت مقررہ پر وہی ظہور میں آیا۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (تبلیغ قرآن) پر کچھ معاوضہ تو چاہتے نہیں یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے ہمارے حبیب ﷺ تم تبلیغ احکام پر ان سے مزدوری بھی تو نہیں مانگتے اور یہ قرآن مقدس مکہ والوں سے تخصیص نہیں رکھتا بلکہ تمام عالم کی ہدایت کے واسطے ہے۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور بہت سی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (لیکن عبرت حاصل نہیں کرتے) اور ان سے بیخبر رہتے ہیں

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اور اس کی وحدانیت کے دلائل اور اس کی حکمت کی علامات اور اس وجود کے گواہ بہت سے آسمان و زمین میں موجود ہیں، اور یہ کفار ان سب کو دیکھتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں نہ اس میں غور کرتے ہیں نہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور اکثر لوگ ان میں سے وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر اس کے ساتھ شریک مقرر کرتے ہوئے

مشرکین مکہ کا ذکر : حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے تھے، یہی بڑا شرک ہے اور اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ بغیر خالص دل کی توبہ کے اس شرک کی معافی نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا مانگا کرو : اللھم انی اعوذ بک من ان اشرک بک شیئا و ان اعلم بہ و استغفرک لما لا اعلم بہ۔ حاصل معنی اس دعا کے یہ ہیں کہ '' یا اللہ ! کھلے چھپے سب طرح کے شرک سے پناہ دے اور کسی قسم کا شرک دانستہ یا نادانستہ ہوگیا تو معاف فرما '' ہر مسلمان کو یہ دعا پڑھنی چاہئے۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

پھر کیا ان لوگوں کا خوف جاتا رہا کہ اللہ کا عذاب انہیں آ کر گھیر لے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اکثر لوگ ایماندار ہوکر شرک بھی کرتے ہیں۔ انہیں کے حق میں اب یہ ارشاد ہوا کہ کیا یہ لوگ بالکل اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ خدا کا عذاب آکر اچانک ان کو ڈھانک لے یا قیامت آجائے تو ان کو مطلق خبر بھی نہ ہو۔ اپنے اپنے کاروبار میں لگ رہے ہوں، یا رات کو بستر پر آرام سے سو رہے ہوں اور خدا کا طرح طرح کا عذاب جس طرح پہلی امتوں پر آیا ان پر بھی آجائے۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

تم فرماؤ : یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور میری پیروی کرنے والے بھی دل کی آنکھیں رکھتے ہیں، اور پاکی خدا کیلئے ہے اور میں شرک کرنے والا نہیں ہوں

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہ دیں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے دونوں جہان میں اس کی خدائی ہے عبادت بھی اسی کی زیبا ہے میں جو کسی کو اس راہ پر بلاتا ہوں تو یقین اور سند کی راہ سے اور بےدلیل نہیں ہے۔ مجھے خدا نے اس بات کی ہدایت دی ہے اور جو شخص ہمارا پیرو ہو وہ بھی جس کسی کو اس راہ کی طرف بلاتا ہے تو دلیل سے قائل کرکے بلاتا ہے۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور (اے محبوب) ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے تھے سب بستیوں کے رہنے والے تھے۔ تو کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں پس دیکھتے ان لوگوں کا کیسا انجام ہوا جو ان سے پہلے (کافر) ہو گزرے ہیں اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کیلئے بہتر ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

مشرکین کے اعتراض کا جواب، آسمان و زمین کی ہیئت : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قائل کیا ہے جو کہتے تھے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بناکر کیوں نہیں بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عادت الہی یوں ہی جاری رہی ہے کہ ہمیشہ انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اس میں جو حکمت ہے وہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ جتنے پیغمبر ہدایت عالم کے لئے پہنچے وہ سب کے سب اول سے آخر تک مرد ہی ہوتے آئے۔ کوئی عورت کسی زمانہ میں نبی یا رسول نہیں ہوئی اور کبھی کوئی فرشتہ رسول نہیں بنایا گیا۔ پھر فرمایا کہ لوگ جھٹلانے والے جو ہمارے رسول کو جھٹلاتے ہیں کیا یہ لوگ روئے زمین کی سیر نہیں کرتے یا پہلے لوگوں کا حال انہوں نے سنا نہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت صالح (علیہ السلام) وغیرہ کی امتوں کا کیا حال ہوا۔ یہ لوگ کس طرح ہلاک ہوئے اور اسی زمانہ میں جو لوگ مومن تھے اور خدا کے رسول کے تابع وفرمانبردار تھے ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوا، جس طرح یہ متقی بندے دنیا میں خدا کے حفظ وامان میں رہے، اسی طرح آخرت میں بھی ان کے لئے ہر طرح کا عیش و آرام ہے۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

(منکروں کو ہم نے) یہاں تک ڈھیل دی کہ ناامید ہونے لگے رسول بھی (ظاہری اسباب سے) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہا تھا تب فوراً ان کے پاس ہماری مدد پہنچی پھر جس کو ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب مجرم قوم سے لوٹایا نہیں جاتا

مسلمانوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ قریش کی مخالفت قریب قریب پچھلی امتوں کے پہنچ گئی ان پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اس خیال کو رفع فرمایا ہے کہ عادت الہی پہلے سے یونہی ہے۔ یکایک ان امتوں کو اللہ تعالیٰ نے غارت نہیں کیا، ان کو بھی مہلت دی گئی کہ اس وقت کے نبی تنگ آگئے اور مایوس ہوگئے۔ مخالف لوگوں نے پورا گمان کرلیا کہ عذاب کا وعدہ جو انبیا نے کیا تھا وہ فقط ڈراوا تھا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مخالفوں کو پکڑا اور ایک دم میں غارت کردیا، گھبرانا نہیں چاہئے اب بھی ویسا ہی ہونے والا ہے۔ وقت مقررہ کی دیر ہے چناچہ ویسا ہی ہوا۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

البتہ عقلمندوں کے لیے پیغمبروں کے قصوں میں بڑی نصیحت ہے (یہ قرآن) ایسا کلام نہیں ہے کہ بنا لیا جائے و لیکن اس سے پہلے جو چیز (یعنی آسمانی کتابیں) آچکی ہیں یہ ان کی تصدیق کرنے والا ہے اور ہر چیز کی تفصیل (بیان) کرنے والا اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کا ذکر کیا کہ پہلی امتوں کے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے صحبزادے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں عقلمندوں کے واسطے ایک بہت بڑی عبرت ہے۔ کہ وہ ان قصوں کو سن کر یہ سمجھتے ہیں کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بخواہی کا انجام ندامت۔ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا کامیاب ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد قرآن پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ کسی انسان نے اپنی طرف سے بنا لیا ہو، بلکہ جس طرح اور کتابیں پہلے رسولوں پر توریت، انجیل وغیرہ نازل ہوتی گئیں، اسی طرح یہ قرآن مجید بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول مقبول ﷺ پر بذریعہ وحی کے نازل ہوا ہے اور ساری پہلی امتوں کی یہ قرآن مجید تصدیق کرتا ہے اور جو جو باتیں ان کتابوں کی صحیح ہیں ان کو علیحدہ کرکے بتلاتا ہے۔ اور جو غلطیاں ان میں اہل کتاب نے ڈال دی ہیں ان کو جدا کردیتا ہے۔ اور بہت سی باتیں ان کتابوں کی قائم رکھتا ہے اور بہت سے احکام منسوخ ٹھراتا ہے۔ غرضیکہ اس میں ہر ایک بات کی کامل تفصیل ہے حرام و حلال مباح، مکروہ سب کو علیحدہ علیحدہ بتلایا ہے۔ اسی واسطے یہ قرآن پاک ہدایت ورحمت ہے۔ جو لوگ اس کے احکام کے تابع ہیں اور قدم بقدم اس کی نصیحت پر چلتے ہیں، ضرور وہ مراد کو پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان پر خاص رحمت نازل فرماوے گا اور وہ گمراہی سے علیحدہ رہیں گے اور صراط مستقیم کی طرف متوجہ رہ کر ایمان دار بندوں کی پوری پوری صفت حاصل کریں گے۔