13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمظہر القرآن

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

(اے محبوب) یہ کتاب (یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے اترا (یعنی قرآن) حق ہے و لیکن اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے

المرا۔ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں آچکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سورة کی آیتیں اور اس کے سوا جو تمام قرآن پاک کی آیتیں تم پر اتاری گئی ہیں وہ حق ہیں لیکن بہت لوگ اس کو نہیں مانتے اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے کہ جن کو تم دیکھ رہے ہو، پھر عرش پر قائم ہوا (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک میعاد معین تک چلتا ہے، اللہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے کھول کھول کر نشانیاں بتاتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کے ملنے کا یقین کرو

اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمانوں کو بےستون قائم کیا اس قادر مختار نے گول گنبد بنایا اور اس میں کسی ستون کی حاجت نہیں رکھی، پھر تخت حکومت پر جلوس فرمایا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا بندوں کی مصلحتوں کے واسطے اسے مفید جانا، ان دونوں کو محرک کیا۔ ان میں سے ہر ایک ایک میعاد معین تک حرکت میں رہے گا یعنی قیامت تک سورج اور چاند کو گردش رہے گی۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے جس کا موجود کرنا مصلحت ہوتا ہے اسے موجود کرتا ہے اور جس کا نابود کرنا مناسب ہوتا ہے اسے نابود کرتا ہے۔ وہی ذلت دیتا ہے وہی عزت بخشتا ہے۔ اس قرآن کے اندر امر و نہی مفصل بیان فرماتا ہے اور اپنی قدرت کی دلیلیں ایک کے بعد ایک ظاہر کرتا ہے کہ قیامت کا اعتقاد کرو اور اس بات کا یقین کرو کہ بعد مرنے کے جینا ہے اور حساب کتاب دینا اور اعمال کی جزا ملنا ضروری ہے۔
Ayahs 13:3–4

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور نہریں بنائیں، اور زمین میں ہر قسم کے پھل دو دو قسم کے بنائے (کھتا میٹھا ، اچھا اور برا، سرد وگرم، تروخشک وغیرہ) چھپا لیتا ہے رات (کی تاریکی) سے دن (روشنی) کو، بیشک اس میں غور کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں مختلف قطعے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں اور کھجور (کے درخت) ہیں بعض جھنڈ دار (یعنی بہت شاخ والے) اور بعض اس کے خلاف سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور ہم ہی پھلوں میں فوقیت دیتے ہیں (ازروئے ذائقہ کے) ایک کو دوسرے پر، بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں

آنحضرت ﷺ سے معجزہ طلب کرنے کا ذکر اس آیت میں زمین کی نسبت اپنی قدرت کاملہ کا حال بیان فرمایا کہ اللہ نے زمین کو پھیلا دیا، لمبائی اور چوڑائی میں، پھر پہاڑوں کو میخیں بنا کر جڑ دیا تاکہ ہل جل نہ سکے اور اس میں جا بجا نہریں اور ندیاں دریا سمندر جاری کیے تاکہ زمین کی پیداوار کو مناسب مناسب موقع پر پانی پہنچتا رہے اور ہر طرح کے میوے الگ الگ رنگ اور ہر ذائقہ کے پیدا کیے۔ پھر رات تمام ہوئی دن آموجود ہوا۔ سب خدا کی ایسی قدرت ہے کہ انسان غور کرے تو خدا کی وحدانیت کا یقین ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ زمین کو دیکھو ایک ٹکڑا ایک سے ملا ہوا ہے اس پر بھی کوئی ٹکڑا پتھریلا ہے کوئی شور والا اور کوئی پاکیزہ ہوتا ہے۔ کہیں طرح طرح کے باغ ہیں جس میں انگور و کھجوروں کے مختلف قسم کے درخت ہیں۔ کسی زمین میں کھیتی ہوتی ہے جہاں طرح طرح کے اناج پیدا ہوتے ہیں۔ ان درختوں اور کھیتوں کو ایک پانی سے سرسبز و شاداب کیا جاتا ہے اور یہ ایک ہی زمین میں ہوتے ہیں۔ پھر بھی قسم قسم کے پھل، پھول، میوے ترکاریاں اور اناج ہیں اور کھانے میں مزہ علیحدہ علیھدہ ہوتا ہے، یہ سب اس کی قدرت ہے۔ اس لیے فرمایا کہ عقل مند آدمی کے واسطے خدا کے پہچاننے کے لیے یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس طرح اب مینہ برسنے سے سے ہر طرح کی پیداوار تیار ہوجاتی ہے اسی طرح دوسرے صورت سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے مرے ہوئے آدمیوں کے جسم تیار ہوجاویں گے، پھر ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ کھیتی کے ذکر کے بعد حشر کا تذکرہ آیا ہے۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تم (ان کی تکذیب کرنے سے) تعجب کرو تو تعجب تو ان کے اس کہنے کا ہے :" جب ہم خاک ہوگئے تو کیا ہم نئے سرے سے بنیں گے " یہی وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

منکرین حشر کا ذکر اس آیت کو اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا یہ قول : مٹی ہوکر پھر کیونکر جئیں گے۔ ضعیف ٹھہرایا اس اس واسطے فرمایا کہ دنیا بھر میں کسی کو تعجب کی بات سننی ہو تو ان کا قول سنے۔ کیو کہ ہر عقلمند جانتا ہے کہ پہلے پہل ہر کام مشکل ہوتا ہے ایک دفعہ جو کام ہوچکا اور اس کا راستہ پڑگیا پھر دوبارہ اس کا ہوجانا کیا دشوار ہے۔ یعنی پہلی مرتبہ کی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر جو یہ لوگ دوسری دفعہ کی پیدائش کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں تو یہ ان کا اللہ تعالیٰ کی شان میں ایک کفر ہے۔ جس کی سزا یہ ہے کہ قیامت کے دن سخت جرم کے مجرموں کی طرح ان کی گردنوں میں آگ کے طوق ڈالے جاویں گے تاکہ یہ سزا نہ اٹھا سکیں اور دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ان کو رہنا پڑے گا۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور راحت سے پہلے مصیبت کی تم سے جلدی کرتے ہیں اور بیشک گزر چکی ہیں ان سے پہلے بہت سی عذاب کی نظیریں، اور بیشک تمہارا پروردگار تو لوگوں کو باوجود ان کے ظلم کے بھی معاف کردیتا ہے، اور بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب سخت ہے

آنحضرت ﷺ نے جب کفار کو عذاب کی آیتیں سنائی اور دھمکایا اور ڈرایا تو نضر بن حارث وغیرہ نے بطور ہنسی کے عذاب کی جلدی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ آخرت سے پہلے ہی عذاب چاہتے ہیں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کی برکت سے اس زمانہ میں کافروں پر عذاب موقو رکھا گیا، قیامت کے دن اکٹھا ہوجائے گا۔ یہ بیوقوف عذاب کا آنا کچھ بڑی بات سمجھتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ پہلی امتوں پر کیسے کیسے عذاب ہوچکے۔ زمین میں دھنس جانا، صورتوں کا مسخ ہوجانا اور زلزلہ کا آنا یہ عذاب کس نے بھیجے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ میں رحم اور قہر دونوں صفتیں ہیں اور اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنی رحم کی صفت کے تقاضے ان کو چھوڑ رکھا ہے۔ جس دن قہر کی صفت کا تقاضا ہوگیا تو پھر پہلے کی اجڑی ہوئی امتوں کی طرح سے ان کا کہیں ٹھکانا بھی نہ لگے گا۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ ان رسول پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ان کے پروردگار طرف سے (اے محبوب کریم ﷺ ! ) تم تو محض ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ہادی

یہ مشرکوں کا وہی پرانا سوال ہے جس کو بار بار وہ کہہ چکے تھے کہ اگلے رسولوں کو بڑی بڑی نشانیواں ملی تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا ملا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے وقت میں اونٹنی پیدا ہوئی تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے آپ بھی کوئی نشانی دکھائیے، اس صفا پہار کو سونے کا بنا دیجئے یا یہ پہار یہاں سے اکھڑ کر کہیں اور چلا جاوے اور یہاں ایک خوشنما باغ لگ جائے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ہم آپ کو سچا سمجھیں گے اور ایمان لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کے سوال کے پورا ہونے کی زیادہ خواہش نہ کرو، تمہارے متعلق تو صرف اتنی بات ہے کہ تم ان لوگوں کو نصیحت کردو کیونکہ رسول تو فقط اللہ تعالیٰ کے خوف سے لوگوں کو ڈرانے والے ہیں اور حق کا راستہ دکھانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ ہی کو معلوم ہے کہ جو کچھ ہر مادہ کے پیٹ میں ہے (یعنی کیسا بچہ ہے) اور جو کچھ پیٹ گھٹتے ہیں اور جو کچھ بڑھتے ہیں (یعنی حاملہ کے پیٹ میں ایک بچہ ہے یا زیادہ، پورا بن چکا ہے یا ناتمام ہے، رحم میں کتنی مدت رہے گا) اور اس کے نزدیک ہر چیز کا ایک اندازہ ہے

ماں کے پیٹ میں بچہ کی کیفیت اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے کہ عورت کے رحم میں جب نطفہ ٹھہرتا ہے تو ایک چلہ (چالیس روز) تک اپنی اصلی حالت میں رہتا ہے پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے پھر پتلا بن جاتا ہے اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ آتا ہے اور عمر رزق جس طرح کے عمل یہ پتلا پیدا ہونے کے بعد کرے گا یہ سب کچھ وہ فرشتہ لکھ لیتا ہے۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ ہر چھپی اور کھلی باتوں کا جاننے والا بزرگ بلند مرتبہ ہے۔ (اس کے نزدیک) برابر ہے

حشر کا نمونہ، ایک گنہگار شخص کی وصیت کہ مرنے کے بعد خاک رواں دواں کردینا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور بڑا عالی مرتبہ ہے کوئی اس کی مثل نہیں۔ منکرین حشر یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد ان کی خاک رواں دواں ہوجاوے گی، پھر وہ خاک کیونکر جمع ہوگی اور اس کا پتلا کیونکر بنے گا۔ آیت کے اس ٹکڑے میں ان لوگوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے وہ خاک رواں دواں ہوکر انسان کے علم سے باہر ہوجاتی ہے، مگر اللہ کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے وقت مقررہ پر وہ خاک جمع کی جاوے گی اور اس کا پتلا بنے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ایک گنہگار شخص نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر خاک کردیا جاوے اور وہ خاک کچھ ہوا میں اڑا دی جائے اور کچھ دریا میں بہا دی جائے۔ اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر خاک کردیا جاوے اور وہ خاک کچھ ہوا میں اڑا دی جائے اور کچھ دریا میں بہا دی جاوے۔ اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کے موافق عمل کیا اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا کو اس خاک کے حاضر کرنے کا حکم دیا اور فوراً وہ خاک حاضر ہوگئی۔ اور اللہ کے حکم سے اسکا پتلا بنا اور اس پتلے میں روح پھونکی گئی۔ اس سے پوچھا گیا کہ وہ وصیت تو نے کس نیت سے کی تھی۔ اس نے جواب دیا : یا اللہ ! کوئی چیز تیرے علم سے باہر نہیں ہے میں نے جو کچھ کیا تھا وہ فقط تیرے خوف سے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب سن کر اس کے قصور کو معاف کردیا۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے وہ شخص جو بات کو چھپائے اور جو پکار کر کہے اور وہ شخص جو رات کو چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے بات کا چھپانا اور ظاہر کرنا برابر ہے۔ وہ خفیہ بات کو بھی خوب جانتا ہے اور ظاہر کو بھی خوب پہچانتا ہے۔ جو شخص رات کو خفیہ کارروائی کرتا ہے اسے بھی پہچانتا ہے اور جو دن کو اعلانیہ کام کرتا ہے اس سے واقف ہے
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر آدمی کے آگے اور پیچھے نگہبان فرشتے ہیں ایک دوسرے کے بعد آنے والے کہ خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت آپ نہ بدل لیں، اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ پھر نہیں سکتی۔ اور نہ ان کے لئے اس کے سوا مدد گار ہے

ہر انسان کی فرشتوں کے ذریعے حفاظت صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کی حفاظت کیلئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔ صبح کی نماز کے وقت دن کے فرشتے، اور عصر کی نماز کے وقت رات کے فرشتے آن کر چوکی بدلوا دیتے ہیں۔ ان فرشتوں کو کراماً کاتبین کہتے ہیں، اور حفاظت کے فرشتے ان سب صدموں اور آفتوں سے آدمی کی حفاظت کرتے ہیں، جن صدموں اور آفتوں سے اس کی قسمت میں بچنا لکھا ہے۔ اور جب تقدیری کوئی آفت آنے والی ہوتی ہے جس سے حفاظت کرنے کا کوئی حک اللہ کا نہیں ہوتا، تو ایسی حالت میں فرشتے حفاظت چھوڑ دیتے ہیں۔ لکاھ ہے کہ دس فرشتے دن کو، اور دس رات کو ہر انسان پر تعینات ہیں۔ دو نیک بدی کے لکھنے والے، اور دو تمام جسم کی حفاظت کرنے والے، اور دو خاص درود شریف کا ثواب لکھنے والے دونوں ہونٹوں پر مقرر ہیں۔ اور دو خاص آنکھوں کی نگرانی رکھتے ہیں، اور ایک منہ پر تعینات ہے تاکہ سانپ بچھو یا اور کوئی موذی جانور منہ میں گھسنے نہ پائے۔ اور ایک فرشتہ ہر آدمی کی پیشانی پر ہے۔ جب آدمی تکبر کرتا ہے تو اس کو ذلت پہنچتی ہے۔ نیکی لکھنے والا فرشتہ بدی لکھنے والے پر سردار ہے۔ اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی کی نعمت و عافیت نہیں برباد کرتا جب تک وہ اپنی اچھی حالت کو برباد نہیں کرتے یعنی جب لوگ اچھے کام چھوڑ کر برے کام اختیار کریں تو اس وقت وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی دولت یا نعمت چھین لی جائے۔ اور جب اللہ کسی قوم کو عذاب دینا چاہتا ہے تو کوئی اس کا مزاحم نہیں ہوسکتا۔ اور سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی مخلوق کا کام بنانے والا اور ان کی تکلیف کو دور کرنے والا اور مدد کرنے والا نہیں۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی تو ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی ڈر کے لئے اور امید دلانے کے لئے اور بھاری (بھاری) بادلوں کو اٹھاتا ہے

بجلی اور رعد کا ذکر اس آیت میں اللہ پاک نے یہ ذکر کیا کہ بجلی اس کی قدرت کا ایک ادنی نمونہ ہے۔ پھر کسی کو بجلی دکھا کر ڈراتا ہے (یعنی مسافر کو اور اسے جسے مینہ ضرر کرے) اور کسی کو بجلی سے مینہ کی توقع ہوتی ہے، اور فائدہ کی امید اور بھرے ہوئے بادل اپنی قدرت کاملہ سے ہوا میں پھراتا ہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور گرج (یعنی رعد فرشتہ) اس کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کرتا ہے اور (دوسرے) فرشتے (بھی) اس کی ڈر سے ( تسبیح بیان کرتے ہیں) اور گرنے والی بجلیاں بھیجتا ہے پس ان کو گرا دیتا ہے جس پر چاہتا ہے اور کافر اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے

ارشاد ہوتا ہے رعد بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ رعد وہ فرشتہ ہے جو ابر پر مقرر ہے۔ بادلوں کو ہانکتا ہے۔ اور بجلی اس کا کوڑا ہے، اور سب فرشتے ڈر کے مارے اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ اللہ تعالیٰ بجلیوں کو گراتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے بجلی سے ہلاک کرتا ہے۔ جیسے اربد بن ربیع کو ہلاک کیا جس نے آنحضرت ﷺ کی نسبت بدخیال کیا تھا، وغیرہ۔ پھر فرمایا یہ گستاخ اللہ کے اوصاف میں جھگڑا کرتے ہیں، اس کی معبودیت اور قدرت میں کلام کرتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ وہ ایسے گستاخوں کو سخت عذاب دیا کرتا ہے۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کو پکارنا حق ہے اور جو لوگ اس کے سوا جن کو پکارتے ہیں۔ وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر مانند اس شخص کے جو پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے، اور وہ ہر گز نہ پہنچے گا اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے

شرک کا بیان اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں، ان کو کوئی فائدہ دنیا یا آخرت میں نہ ہوگا۔ اسی واسطے فرمایا کہ کافروں کی دعا جو خدا کے سوا اوروں سے کرتے ہیں بالکل ضائع ہوجاتی ہے اور بالکل گمراہی ہے۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں میں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور ان کی پرچھائیاں (بھی) ہر صبح وشام (سجدہ کرتی ہیں)

سجدہ کا حکم اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی خبر دیتا ہے کہ زمین و آسمان کے سارے جن انسان فرشتے سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ صبح ہوتے ہی جب آفتاب مشرق سے مغرب کو جانے لگتا ہے اور شام کو جب سورج غروب ہونے لگتا ہے سب چیزوں کے سائے خدا کے حضور سجدہ میں گرتے ہیں۔ اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے دونوں کو سجدہ کرنا چاہیے اور جو سجدہ نہ کرے گا گنہگار ہوگا۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

(اے محبوب کریم ﷺ ! ) تم پوچھو آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے تم ہی فرماؤ :" اللہ ہے " (پھر) تم فرماؤ :" پس کیا تم نے اللہ کے سوا ان کو دوست بنا رکھا ہے کہ جو خود اپنے لئے بھی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے "۔ تم فرماؤ :" کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوجائیں گے یا کیا اندھیریاں اور روشنیاں برابر ہوجائیں گی " ہرگز نہیں کیا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں کہ انہوں نے بھی کچھ اللہ کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق پیدا کر رکھی ہے، پس ان کو مخلوق کے بارے میں شبہ ہوگیا، تم فرماؤ : اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے

مشرکین کو تنبیہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ مشرک بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کے سوا کوئی خالق و رازق نہیں، پھر ان سے کہو کہ تم خدا کے سوا ایسے معبود کیوں ٹھہراتے ہو جن کو خود اپنی جان کے نفع نقصان کا ذرہ برابر اکتیار نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہی وہ گویا دل کے اندھے ہیں کہ ان کے دلوں میں تاریکی ہے اور جو لوگ خاص خدا کے مانے والے ہیں ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ بیان اور نابینا یکساں نہٰں ہوتا اور نہ روشنی اور تاریکی یسکاں ہوتی ہے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ پھر فرمایا کہ مشرکوں نے جن کو اپنا معبود ٹھہرایا کس سند اور کس دلیل سے کیا۔ ان معبودوں نے بھی خدا کی مخلوق پیدا کی، آسمان زمین بنائے، سورج چاند ستارے پیدا کیے، پھر فرمایا کہ ان بت پرستوں سے کہہ دیا جاوے کہ ہر شئے کا خالق وہی خدا ہے، جو تنہا اور اکیلا ہے۔ اور بڑے قہر والا ہے، اس کے سامنے کسی کی کچھ نہیں چلتی۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اس نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے اپنی مقدار کے موافق نالے بہنے لگے، پھر پانی کی رو اس پر پھولے پھولے جھاگ اٹھا لائی (جو پانی کے اوپر آتے ہیں) اور جس چیز کو کہ آگ میں زیور یا اور کسی اسباب بنانے کی غرض سے پگھلاتے ہیں اس پر بھی اسی طرح کا جھاگ اوپر آجاتا ہے۔ اللہ حق و باطل کی مثال اسی طرح بیان کرتا ہے، پھر جو جھاگ ہے وہ پھک کر دور ہوجاتا ہے اور وہ جو لوگوں کے کام آتا ہے وہ زمین میں رہتا ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دو مثالیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جب ہم آسمان سے مینہ برساتے ہیں تو وہ زمین پر بہہ نکلتا ہے اور تالاب ندی نالے اپنی حیثیت کے موافق پانی لے لیتے ہیں کوئی زیادہ کوئی کم۔ اسی طرح انسان کے دل میں بھی فرق ہے کسی کا دل زیادہ علم دین حاصل کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور کوئی دل کم۔ پھر فرمایا کہ ندی نالے کے پانی میں جھاگ اٹھتا ہے یہ ایک مثال ہے اور سونا چاندی وغیرہ گلانے کے وقت بھی جھاگ اٹھتا ہے اسی طرح حق و ناحق ہے کہ پانی سے جس طرح زمین کو فائدہ پہنچتا ہے، اور سونا چاندی کام میں آتے ہیں اور ان دونوں کا جھاگ سوکھ سوکھا کرجاتا رہتا ہے اس کو قیام نہیں رہتا، اسی طرح حق بات ہمیشہ قائم رہتی ہے اور ناحق کو کوئی قیام نہیں، جھاگ کی طرح وہ ٹھہر نہیں سکتی اور حق بات سے ہمیشہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ناحق سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسی قسم کی مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ فائدہ اٹھاویں۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے پروردگار کا حکم مانا ان کے لیے بہتری ہے، اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر ان کے پاس جو کچھ زمین میں ہے سب (موجود) ہو اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو تو وہ سب اپنی رہائی کے لیے دیدیں (تو قبول نہ ہوگا) یہی لوگ ہیں جن کا برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کے فرمانبردار اور رسول کے تابعدار ہیں ان کے اچھے اچھے انعام ہیں یعنی ان لوگوں کے لیے جنت ہے اور جن لوگوں نے خدا کو نہیں مانا رسول کی پیروی نہیں کی۔ اگر یہ لوگ ساری دنیا کے برابر دولت تاوان میں دیں یا اس سے بھی دوگنا دیں جب بھی قبول نہ ہوگا اور عذاب سے نہ چھوٹیں گے، بلکہ ہر ہر گناہ پر ان سے سوال ہوگا اور کوئی شرک بخشا نہیں جائے گا۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ اصل پانی اور سونے چاندی کی سی پائیدار قرآن کی نصیحت کے پابند ہیں اور تنگ دست لوگوں کا انجام کیا ہوا اور جن مالدار نافرمان لوگوں کا مدار زندگی دنیا کا عیش و آرام اور جھاگ کی سی ناپائیدار اور بڑوں کی رسموں کے مقابلہ میں قرآن کی نصیحت کو جھٹلانا رات دن کا کام تھا ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوا۔
Ayahs 13:19–21

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

پھر کیا وہ شخص جو یہ یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار کے پاس سے نازل کیا گیا ہے حق ہے وہ مثل اس شخص کے ہوگا جو اندھا ہے پس نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

وہ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اس عہد کو نہیں توڑتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں

نیک و بد کی پہچان اور اس کے نتیجے اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ پاک نے جو کچھ اپنے نبی برحق پر اتارا ہے اس پر جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے اور خدا کے سارے امر و نہی کو پورے عدل و انصاف پر سمجھتا ہے اس کے برابر کبھی وہ شخص نہیں ہوسکتا جو اس کو جھٹالتا ہے اور اس کی پیروی نہیں کرتا۔
Ayahs 13:22–23

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار کی رضا مندی چاہنے کے لیے صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا اور دفع کرتے ہیں برائی کو بھلائی سے اور ان ہی کے لیے آخرت کا نفع ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

رہنے کے لیے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد سے (وہ بھی داخل ہوں گے) اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے

ارشاد ہوتا ہے کہ اگرچہ ہر طرح کی نصیحت قرآن شریف میں ہے، لیکن وہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے عہد کا خیال ہے کہ شریعت میں جس چیز کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس کو بجا لانے کا عہد اور جس سے باز رہنے کا ارشاد فرمایا ہے، اس سے باز رہنے کے عہد کو وہ لوگ پورا کرتے ہیں۔ اور جس طرح یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر قائم رہنے کا اور رسولوں کی فرمانبردار کرنے کا اور کتب آسمانی کی پابندی کرنے کا عہد لیا ہے، شریعت کو اس عہد کے یاد دلانے کی ایک چیز جان کر، نہ کہ منافقوں کی طرح ان لوگوں کی یہ عادت ہے کہ زبان سے تو شریعت کی پابندی کا اقرار ہے اور دل میں اس اقرار کا کچھ بھی اثر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب ہونے سے ڈر کر جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر دل و زبان دونوں پر ایک سا ہے۔ اللہ کی خوشنودی اور ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

سلامتی ہو (آج) تم پر تمہارے صبر کرنے کے سبب سے (جو دنیا کی زندگی میں کیا پس اس جہان میں تمہارا انجام بہت اچھا ہے

صبر کا اجر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جو لوگ برے کاموں سے صرف خدا کی خوشنودی کے واسطے الگ رہے اور جن لوگوں نے پنج گانہ نماز قائم کی اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس میں سے حق دار کو، بال بچوں رشتہ داروں کو، فقراء اور مساکین کو دیا۔ غرضیکہ جو جو موقع خرچ کا خدا نے بتلایا ہے اس کے مطابق کھلم کھلا یا چھپ کر خرچ کیا اور برائی کے عوض بھلائی کرتے رہے۔ اگر کسی نے ان کو تکلیف دی یا ستایا تو صبر کرکے چپ ہو رہے، اس کے بدلے کے پیچھے نہ پڑے تو آخرت کا گھر انہی نیک بختوں کے واسطے بنایا گیا ہے یعنی جنت۔ اور ان کے بال بچے باپ ماں بھی اگر نیک بخت ہیں تو انہیں کے ساتھ رہیں گے اور فرشتے ہر ہر دروازے سے آ کر ان کو سلام کریں گے اور کہیں گے : کیا اچھا آخرت کا گھر تمہارے صبر کے بدلہ میں ملا ہے۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اس کا عہد توڑتے ہیں اس کے پکے ہونے کے بعد اور جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا اسے توڑتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں زمین میں، یہ وہ لوگ ہیں جن کیلئے لعنت ہے اور ان کے لیے اس جہاں میں خرابی ہوگی

بدبختوں کا انجام اس آیت میں بدبختوں کا انجام بیان کیا جس طرح دنیا میں بدبختوں کی خصلتیں نیک بختوں کے برخلاف ہیں۔ نیک بخت وعدہ وفا کرتے ہیں بدبخت نہیں وفا کرتے۔ قول کرنے کو کرلیتے ہیں مگر پورا کرنا نہیں جانتے، رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں، زمین میں کفر و شرک کا اور طرح طرح کا فتنہ و فساد اٹھاتے رہتے ہیں، امانت میں خیانت کرتے ہیں، اسی طرح آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا نیک بختوں سے الگ ہوگا۔ جس طرح دنیا میں لوگ ان پر لعنت کرتے ہیں وہاں بھی ان پر لعنت ہوگی اور دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ روزی کو کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) اور تنگ کردیتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) اور کافر لوگ دنیا کی (چند روزہ) زندگی پر اترا گئے اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں مگر کچھ دن برت لینا

دنیا میں مفلسی اور خوشحالی کا معمہ۔ نیک لوگوں کی مفلسی کا زکر مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیک خصلت لوگوں سے اپنی رضا مندی ظاہر فرمائی اور ان سے جنگ کا وعدہ فرمایا اور بدخصلت لوگوں سے ناخوشنودی ظاہر فرمائی اور دوزخ ان کا ٹھکانا فرمایا۔ اس پر یہ خیال دل میں گزر سکتا تھا کہ دنیا میں اکثر ایسے بدخصلت لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، بڑی آسائش اور خوشحالی سے بسر کرتے ہیں اور نیک خصلت لوگ تنگ حال ہیں۔ پھر جن لوگوں سے اللہ راضی نہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے آسائش کس مصلحت اور حکمت سے دے رکھی ہے۔ اس خیال کو اللہ تعالیٰ نے دفع فرما دیا کہ دنیا کی فارغ البارلی نیک عملی اور بدعملی پر موقوف نہیں ہے، نیک عملی اور بدعملی پر موقوف نہیں ہے، نیک عملی اور بد عملی کے موافق جزا و سزا تو خاص آخرت میں اللہ تعالیٰ نے رکھی دنیا میں بعضی مصلحت اور بعض حکمت کے موافق اللہ تعالیی نے نیکوں کو تنگ حال اور بعضے بدوں کو خوشحال رکھا اور اس مصلحت اور حکمت کا بھید اللہ کو ہی معلوم ہے۔ لیکن خلاصہ یہ ہے کہ نیک لوگوں کے لیے عقبی میں ہمیشہ کی راحت رکھی گئی ہے اگر دنیا میں چند روزہ کوئی تکلیف ہو تو وہ خیال کرنے کے قابل نہیں ہے اسی طرح بد لوگوں کی چند روزہ زندگی اگر آسائش سے گزری تو وہ دائمی تنگ حالی اور ذلت عقبی مٰ رکھی گئی ہے دنیا کی خوشحالی رپ اترانا اور خوش ہونا انہی لوگوں کا کام ہے جو عقبی کے منکر ہیں۔
Ayahs 13:27–29

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ان (رسول) پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ان کے پروردگار کی طرف سے۔ تم فرماؤ کہ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جو شخص اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اپنی طرف راہ دکھا دیتا ہے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے آرام پاتے ہیں، آگاہ ہو اللہ کے ذکر ہی سے دل کو چین آتا ہے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ کہ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے خوشی ہے اور اچھا انجام ہے

یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی نہیں اتری جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کو ملی تھی، تم بھی صفا پہاڑ کو سونا کا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا جواب ملا کہ اے رسول اللہ کے ! تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے وہ ہدایت دیتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی ایمان نہیں لاؤگے۔ ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ علم الہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پاتے وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لاویں گے۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں اس لیے کہ تم ان لوگوں کو پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور وہ تو رحمن ہی کے منکر ہو رہے ہیں، تم فرماؤ : وہ میرا پروردگار ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف مجھے جانا ہے

توحید کا ذکر اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جس طرح ہم نے پہلی امتوں میں رسول بھیجے، اسی طرح اس امت کے لیے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا۔ تاکہ جو باتیں ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہیں وہ سب تم ان لوگوں کو سنا دو اور ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انکار کرتے ہو کہ خدا کا نام رحمن نہیں لیکن اس کا نام رحمن ہے اور وہ میرا اور سب کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے میرا تو اسی پر بھروسہ اور سب کا وہی ٹھکانہ ہے۔ ایک روز سب کے سب اسی کی طرف پھر کر جانے والے ہیں۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے مشرکوں سے کہا کہ رحمن کو سجدہ کرو، تو وہ کہنے لگے : رحمن کیا ہے۔ اور صلح حدیبیہ میں بھی حضرت رسالت پناہ نے حضرت علی مرتضی ؓ سے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم اس پر کفار نے جھگڑا کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا کہ جس کے ذریعہ سے پہاڑ (اپنی جگہ سے) ٹل جاتے یا اس کے ذریعہ سے زمین پھت جاتی یا اس کے ذریعہ سے مردے بول اٹھتے تب بھی یہ کافر ایمان نہیں لاتے، بلکہ اللہ ہی کو سب طرح کا اختیار ہے، پھر کیا مسلمانوں کو اس بات کی دل جمعی نہیں ہوئی کہ اگر اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا، اور ان کافروں کو ان کے بد اعمالوں کے سبب سے ہمیشہ ایک نہ ایک سخت حادثہ پہنچتا رہتا ہے، یا وہ حادثہ ان کے گھروں کے قریب نازل ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا

آنحضرت ﷺ سے معجزہ طلب کرنے کا ذکر شان نزول : قریش کی ایک جماعت نے کہا : اے محمد ﷺ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارا اسلام لے آویں تو مکہ کے چاروں طرف کے پہاڑوں کو اکھاڑ ڈالو، تاکہ ہمارے لیے زمین کشادہ ہوجاوے اور زمین کو پھاڑ ڈالو تاکہ چشمے اور نہریں جاری ہوجاویں کہ ہم زراعت کریں اور قصی بن کلاب کو مع ہمارے باپوں کے زندہ کرو۔ اس وقت یہ آیت اتری اور فرمایا کہ اگر کوئی کتاب عالم میں ایسی ہوئی کہ اس کے پڑھنے کے وقت پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جاتے اور زمین چیر دی جاتی اور مردے بولنے لگتے تو قرآن ہی میں یہ صفت ہوتی۔ کیونکہ اس درجہ کا کمال کسی کتاب میں نہیں مگر ہر امر کا وقوع حاکم حکیم کی حکمت کے مقتضی پر موقوف ہے، وہ جب چاہے اس سے بڑھ کر ظاہر کرسکتا ہے۔ کیا مسلمان کو نہیں معلوم کہ ہدایت مشیت الہی سے متعلق ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے عذاب سخت ان کو پہنچے گا اور عذاب بھی دائمی۔ ان کافروں سے مکہ کے کافر مراد ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرنے کی شامت سے وہ بلا میں برابر مبتلا رہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ان پر یہ مصیبت آئے گی کہ تم ان مکانوں کے قریب ڈیرہ لگاؤگے۔ جب تک کہ مسلمانوں کو فتح نہ ہوگی یہ کافر مصیبت میں مبتلا رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور بیشک تم سے پہلے رسولوں پر بھی ہنسی کی گئی تو میں نے ان کافروں کو (کچھ دنوں) مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑا پس (دیکھو) میرا عذاب کیسا تھا

آنحضرت ﷺ کی تسلی اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسلی کے واسطے ارشاد ہوتا ہے کہ کچھ آپ ہی کے ساتھ گستاخی اور بےادبی نہیں ہوئی بلکہ آپ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کی بات بھی لوگ اسی طرح ٹھٹھوں میں اڑاتے تھے۔ حقیقت میں یہ جہالت بری بلا ہے۔ نہ خدا کی وقعت نہ رسول کی نہ علماء کی نصیب ہوتی ہے۔ پھر ہم نے کافروں کو ایک مدت تک مہلت دی اور ان کو راحت اور تن پرور میں چھوڑا پھر ہم نے ان کو پکڑا، پھر کیسا عذاب ان کو دیا جو سب کو معلوم ہے۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا وہ جو ہر جان پر اس کے اعمال کی خبر رکھتا ہے (ان بتوں کی مثل ہوسکتا ہے) اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ : ان کا نام تو لو کیا اللہ کو وہ خبر بتاتے ہو جس کو وہ ساری زمین میں نہیں جانتا یا محض ایک دکھاوے کی بات ہے (جس کی کوئی اصلیت نہیں) ۔ بلکہ کافروں کی نگاہوں میں ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئیں اور راہ (حق) سے روک دیے گئے اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں

مشرکین کا ذکر اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکوں کو جتلایا کہ اللہ پاک ہر شخص اور ہر چیز کا نگہبان اور مالک ہے اور ہر شخص کے کام کو دیکھتا اور جانتا ہے، اور مشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اس صفت کے نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ انہوں نے وج اللہ کے سوا اوروں کی عبادت اختیار کی ہے اور ان کو اپنا شفیع سمجھ رکھا ہے تو ان کے نام بتلائیں کہ وہ کون ہیں اور کیا صفت رکھتے ہیں، پتھر ہیں مٹی ہیں آخر کیا ہیں، کیونکہ یہ سب چیزیں اور کل مخلوق خدا کے قبضہ میں ہیں اور اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اگر فی الحقیقت ان کے معبود کوئی شیئے نہیں ہ ہیں، فقط ان کے خیال ہی خیال ہیں تو یہ ایسی بات ہے کہ جس چیز کا زمین و آسمان میں کہیں پتہ نہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کافروں نے اپنے مکروکفر کی زینت کر رکھی ہے یا ان کو شیطان نے گمراہ بنا رکھا ہے یہ راہ است سے روک دیے گئے ہیں کسی طرح ہدایت نہیں پا سکتے کیونکہ خدا جس کو گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی راہ نما نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 13:34–35

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور بیشک آخرت کا عذاب تو بہت سخت ہے، اور اللہ (کے عذاب) سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

(اور) جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے میوے اور سایہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہ تو ان کا انجام ہے جو پرہیزگار ہیں، اور کافروں کا انجام آگ ہے

کافروں کا انجام اور متقیوں کے انجام کا ذکر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں کے لیے دنیا میں اور آخرت میں دونوں جگہ عذاب ہے۔ دنیا کا عذاب تو مثلا مکہ کا قحط، قید، قتل مصیبت ہے، اور آخرت کا عذاب وقت مقررہ پر اس سے بھی زیادہ مشقت کا ہے اور پھر کوئی اس سے بچانے والا بھی نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنت کی مثال بیان کی کہ وہ جنت جس کا وعدہ خدا پر ایمان لانے والوں اور اس کے خوف سے ڈرنے والوں سے کیا گیا ہے اس میں یہ خوبیاں ہیں کہ جا بجا اس میں نہریں جاری ہیں اور اس کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں کبھی کم نہیں ہوں گی، اور سایہ بھی وہاں ہمیشہ رہے گا، دنیا میں جس طرح سایہ صبح و شام ہوتا ہے دوپہر کو جلتی دھوپ ہوتی ہے وہاں یہ بات نہیں۔ وہاں تو ہمیشہ ہمیشہ ہر وقت چھاؤں ہی چھاؤں ہے کیونکہ وہاں سورج نہیں ہے۔ متقیوں کا انجام تو یہ ہے کہ جنت کے مزے اڑائیں گے اور کافروں کا انجام دوزخ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں پڑے رہیں گے۔
Ayahs 13:36–37

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں وک ہم نے کتاب دی ہے وہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ جو کچھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور انہی کے گروہ میں بعض ایسے ہیں کہ اس کے بعض حصہ کا انکار کرتے ہیں، تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور میں اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، میں لوگوں کو اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے جانا ہے

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے قرآن کو عربی زبان میں فیصلہ کن اتارا (اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم فرمایا) اور (اے سننے والے) اگر تو اپنے پاس علم آنے کے بعد ان کی خواہشوں پر چلے گا تو اللہ کے مقابلہ میں نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا

توحید کا ذکر، شریعت محمدی پر نہ چلنے سے اللہ کی خفگی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب قرآن ہے اور وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے اصحاب مراد ہیں کہ یہ لوگ قرآن پاک سے خوش ہوتے ہیں۔ بعض کافر ایسے ہیں کہ جو قرآن پاک ان کی شریعت کے خلاف ہے اس کے منکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ میں تو مواخذ ہوں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور اس کا شریک کسی کو نہ سمجھوں جیسے تم نے عزیر اور مسیح کو ٹھہرا لیا۔ جب میں پکارتا ہوں اللہ کو پکارتا ہوں اور اسی کی طرف واپس جانے والا ہوں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے اگلے انبیاء پر ان کی زبان میں کتابیں بھیجی تھیں اسی طرح ہم نے تمہاری زبان عربی میں تم پر کتاب یعنی قرآن پاک نازل کیا۔ اور ایسا حکم ناطق بھیجا کہ اس میں تغیر اور نسخ کی کوئی گنجائش نہیں۔ پھر فرمایا کہ جو کافر اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں اگر تم ان کی خواہش کی پیروی کروگے، تو اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوگی۔ اس آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر امت کے لوگوں کو سنایا ہے کہ جو کوئی اس آخری شریعت کو چھور کر کسی اور طریقہ پر چلے گا تو اللہ تعالیٰ کی اس پر ایسی خفگی ہوگی جس سے اس کو کوئی بچا نہ سکے گا۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور اے محبوب بیشک ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے اور ان کو ہم نے بیبیاں اور اولاد دی۔ اور کسی رسول کو لائق نہیں کہ وہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سے، ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے

آنحضرت ﷺ پر عیب لگانے کا ذکر شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی رسول مقبول ﷺ کی شان میں عیب لگاتے اور نا درست باتیں بنا کر کہتے تھے کہ اس شخص کو عورتوں کا بہت شوق ہے، نکاح زیادہ کیے ہیں اگر پیغمبر ہوتا تو اسے عورتوں سے کیا کام تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب کے سب بشر تھے کوئی فرشتہ نہ تھا۔ انہیں کی طرح یہ رسول بھی بشر ہیں، کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں، چلتے ہیں بھی ہیں پھرتے بھی ہیں بیویاں بچے بھی ان کے ہیں، جیسے پہلے رسولوں کے تھے۔ چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں تھیں اور سات سو کنیزیں تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول کے بس کا یہ کام نہیں ہے کہ تمہاری ہر فرمائش کے مطابق معجزہ دکھا دے۔ یہ تو خدا کا کام ہے جب وہ چاہتا ہے کوئی معجزہ ظاہر کرتا ہے، جب نہیں چاہتا نہیں ظاہر کرتا۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) ہے

لوح محفوظ کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرماتا ہے جنہیں چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ توبہ کرنے سے جس گناہ کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں قائم فرماتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہر شرب قدر کو سال بھر تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کا حساب و کتاب لوح محفوظ میں نقل کرا کے اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دیتا ہے اسی کے موافق سال بھر تک ملائکہ کام کرتے ہیں۔ یہ ایک سال کا دنیا بھر کا حساب ہے اور جس مدت تک دنیا چلے گی وہ دنیا کی عمر تک کا حساب ہے وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔