13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 13:40–41

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم تم کو دکھائیں بعض وہ چیز جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں یا (اس سے پہلے ہی) اپنے پاس بلا لیں تو بہرحال تم پر تو (حکم کا) پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارے ذمہ ہے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو (یعنی ان کی آبادی کو) ہر طرف سے گھٹائے چلے آتے ہیں اور اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم ہٹانے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

اسلام کا اقبال اور کفار کے زوال و مکر کا ذکر : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار کے لیے ہم نے جو وعدہ کیا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں پہلے عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ ہم چاہیں تو کچھ عذاب تمہیں حین حیات میں ان پر نازل کردیں۔ یا تمہیں اپنے پاس بلا لیں۔ یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر تمہارا کام پیغام الہی کا پہنچانا ہے، کوئی ایمان لائے یا نہ لائے، تم سے اس کے بارہ میں کچھ سوال نہ ہوگا تم اپنا کام کیے جاؤ۔ باقی رہی جزا و سزا وہ اللہ کے اختیار میں ہے ہم اچھی طرح ان کا حساب کتاب کرکے فیصلہ کردیں گے۔ پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی تسکین خاطر کے لیے فرمایا کہ اس وعدہ کی یہ علامت ظاہر بھی ہو رہی ہے کہ ملک ان کے ہاتھوں سے رفتہ رفتہ نکلے جا رہے ہیں اور مسلمان اس پر قابض ہوتے جاتے ہیں پھر فرمایا کہ خدا کے حکم کا کوئی پھیرنے والا نہیں ہے وہ جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے۔ وعلینا الحساب۔ آیت کے اس ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ایک نہ ایک دن نیک و بد کا بہت جلدی حساب لینے والا ہے اس کو یاد رکھنا چاہیے اور اس سے ڈرنا چاہیے۔
Ayah 13:42

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

اور ان سے پہلے جو کافر تھے وہ بھی مکر کرچکے ہیں تو بیشک ساری خفیہ تدبیروں کا مالک تو اللہ ہی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ ہر جی کرتا ہے اور عنقریب یہ کافر لوگ جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کے لیے ہے

مشرکین مکہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جس طرح کفار مکہ تمہاری ایذا رسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اسی طرح ان سے پہلے بھی لوگ خدا کے رسولوں کو ایذا پہنچا چکے ہیں مگر ان کے یہ مکر کچھ پیش چل نہیں سکے۔ کیونکہ جتنے مکر ہیں سب خدا کی مخلوق ہیں اور اسی کے ارادہ سے ظاہر ہوتے ہیں، اسی لیے کسی مکر سے کوئی نفع اور ضرر بغیر حکم خدا کے نہیں ہوسکتا، اور وہ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے کہ کون اچھا کرتا ہے کون برا۔ پھر جو جیسا کرے گا اس کو ویسا ہی بدلہ ملے گا اور کفار یہ بات بھی عنقریب جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کو ملتا ہے۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں تم رسول نہیں۔ (اے محبوب ! ﷺ) تم فرماؤ : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور اس شخص کی جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا علم ہے

مشرکین کا اعتراض قرآن پاک پر اور اس کا جواب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ کفار مکہ جو تمہیں یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ خدا کے رسول نہیں اگر ہوتے تو ہمارے سوال کو پورا کرتے ۔ تم ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ ہے کہ میں اس کا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور تم نے اس کو نہیں مانا، مجھے جھٹلاتے ہی گئے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ پہلے آسمانی کتابوں کے پیرو علماء یہود و نصاری کو بھی خوب معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی خدا نے میری رسالت کی خبر دی ہے