14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 14:1–3

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

یہ ایک کتاب (قرآن ہے اس کو ہم نے تمہاری طرف اتارا تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے (کفر) کی اندھیریوں سے (نکال کر ایمان کی) روشنی میں لاؤ، اس کی راہ کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اللہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے، اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جنہیں دنیا کی (چند روزہ زندگی آخرت سے پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں وہ ہی بڑی دور کی گمراہی میں ہیں

الرا۔ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ ہم نے اس کو تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ لوگوں کو کفر و نفاق اور شرک و بدعت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اخلاص اور سنت و توحید کی روشنی میں لے جاؤ۔ مگر یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہماری توفیق نہ ہو اور ہم کسی پر آسان نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ خدا کی راہ پر چلو اور وہ خدا ایسا ہے کہ ہر شے پر غالب ہے اور زمین اور آسمانوں میں اس کی حمد و ثنا ہوتی ہے۔ وہ اللہ ایسا شہنشاہ بادشاہ احکم الحاکمین ہے کہ تمام آسمانوں اور زمین کے اختیارات رکھتا ہے اور کل موجودات آسمانی اور مخلوقات ارضی اس کے محکوم ہیں۔ ان کافروں کے واسطے جو ایمان نہیں لاتے اور کسی دلیل کو نہیں مانتے عذاب سخت ہونے والا ہے۔ یہ لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اور خلق خدا کو راہ خداوندی سے باز رکھتے ہیں، اور آنحضرت ﷺ کیا طاعت اور قرآن پر ایمان لانے سے روکتے ہیں اور راہ حق کو کج بتاتے ہیں۔ یہ لوگ بہت بڑی گمراہی میں ہیں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کو بآسانی بتائے پس خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور وہی غالب حکمت والا ہے

شان نزول : مشرکین آنحضرت ﷺ پر اعتراض جو کرتے تھے کہ یہ قرآن خود ان کا بنایا ہوا ہے خدا کی طرف سے نہیں آیا اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو ہم یقین کرتے۔ یہ تو انہی کی زبان میں خود انہوں نے بنا لیا ہے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ بہت بڑا خدا کا احسان ہے کہ جتنی قوموں میں رسول بھیجے سب انہیں میں سے، اور جتنی کتابیں اتاریں انہیں کی زبان میں۔ تو پھر لوگوں کو جو دقتیں پیش آتیں اس کا کچھ ٹھکانا۔ نہیں اپنی زبان ہونے پر تو یہ کفر و انکار ہے دوسری زبان ہوتی تو یہ عذر ہوتا کہ سمجھنے سے عاجز ہیں۔ اسی واسطے ہمیشہ یہی دستور رکھا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں کتاب بھیجی، تاکہ آسانی سے وہ خدا کے احکام ان لوگوں تک پہنچا دیں یہ اس کا بڑا فضل اور حکمت ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑتا ہے اور اپنی رحمت سے دور کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے، اور وہ بادشاہ غالب ہے اور حکمت والا ہے اس کا کام حکمت سے خالی نہیں
Ayahs 14:5–6

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر کی) اندھیریوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لائیں، اور ان کو اللہ کے دنوں (یعنی اللہ کی نعمتوں) کو یاد دلاؤ، بیشک اس میں ہر صبر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب اس نے تم کو فروعن کے لوگوں سے بچایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری لڑکیوں کو، اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ ا السلام کو اپنی قدرت کی دلیلوں کے ساتھ اور معجزات دے کر حکم دیا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ۔ یعنی جہالت سے نکال کر علم کی ترغیب دو اور ان کو یہ بات یاد دلاؤ کہ دیکھو اگر تم میری رسالت کی تصدیق نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ نے جو عذاب اگلے کفار پر نازل کیا تھا وہی تم پر بھی نازل کرے گا اگر تم کفر کروگے۔ اور ہمارا یہ بیان جو ہماری قدرتوں کے واسطے آئینہ کا کام دیتا ہے، ہر صابر اور شاکر کے حق میں مفید ہے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے قوم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو دیکھو تم پر کیا کیا انعام کیے۔ ایک اس وقت کا احسان جب تم کو قوم فرعون سے نجات دی جو تمہیں سخت عذاب دیتے تھے۔ یعنی غلام بنا کر بڑی بڑی محنتیں لیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کا مار ڈالتے تھے کیونکہ نجومیوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا لڑکا پیدا ہوگا کہ فرعون کی ہلاکت اس کے سبب سے ہوگی اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے کہ ان کے ہاں کی عورتوں کی خدمت کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ فرعونیوں کی تکلیف رسانی تمہارے حق میں اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ اس قصہ کا مطلب یہ ہے کہ قریش اس بات کو سمجھیں کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت مان لی تو انجام یہ ہوا کہ ایک مدت تک ان کی حکومت اور دین کی سرداری قائم رہی۔ اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں ان نبی آخر الزماں ﷺ کو بھیجا اگر تم بھی نبی وقت کی اطاعت کروگے تو تم کو بھی وہی حکومت اللہ دیوے گا۔ اللہ سچا ہے اس کا وعدہ سچا ہے۔ چناچہ وہی ظہور میں آیا۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور اس وقت تمہارے پروردگار نے تم کو خبردار کیا کہ اگر تمیری شکر گزاری کروگے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکر کروگے تو میرا عذاب سخت ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے تمہیں اطلاع کی تھی کہ اگر تم شکر کرو گے تو تمہاری نعمت کو ضرور بالضرور بڑھائیں گے، اور اگر ناشکری کروگے تو یاد رکھو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور جس قدر لوگ زمین پر ہیں سب کے سب کافر ہوجاؤ، تو بیشک اللہ بےپرواہ سب خوبیوں والا ہے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم یہ بھی خوب سمجھ لو کہ تمہارے کفر سے اللہ تعالیٰ کا کچھ حرج نہٰں۔ اگر تم اور زمین کی سب مخلوقات یعنی سب آدمی اور جنات کافر ہوجائیں تو اللہ کو کیا پروا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تم سب کی عبادت اور شکر سے بےنیاز ہے۔ اگر تم اس کی حمد نہ کروگے تو کیا ہے، ذرہ ذرہ اور قطرہ قطرہ اس کی نعمت کا شکر کر رہا ہے اور ہر شرئے اس کی تسبیح میں مشغول ہے۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے قوم نوح کی اور عاد اور ثمود کی، اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے، جن کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف (تعجب سے) لے گئے اور بولے : ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور بیشک ہم کو تو اس میں بڑا شک ہے جس راہ کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو کہ جس سے خاطر جمع نہیں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اگلی امتوں کی مٹی کر اب ہونے کی خبریں نہیں پہنچیں یعنی قوم نوح کی، قبیلہ عاد کی، اور قبیلہ ثمود کی جن کے پاس رسول معجزے اور نشانیاں لے کر آئے اور ان لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا، منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور کہنے لگے کہ تم جو کچھ خدا کی طرف سے لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہمیں تو یقین نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو، اور جو تم ہمیں نصیحت کرتے ہو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا : کیا تم کو اللہ کے بارے میں کچھ شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، وہ تم کو بلاتا ہے تاکہ تمہارے کچھ گناہ معاف کردے اور تم کو ایک وقت مقررہ تک (یعنی موت تک) مہلت دے انہوں نے کہا : تم بھی تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو، تم چاہتے ہو کہ تم کو ان چیزوں سے روکو جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، پس تم ہمارے پاس لے آؤ کوئی روشن دلیل

ارشاد ہوتا ہے کہ جب کفار نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تو انہوں نے اس طرح فرمایا کہ تم خدا کی ذات میں کس بات کا شک کرتے ہو۔ کیا اس کے موجود ہونے میں شک ہے یا اس سکے ایک ہونے ٰمیں شک ہے، بہرحال تمہارا شک محض غلط ہے۔ کیا آنکھوں سے یہ بھی نہیں دیکھتے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ایسے وقت میں کہ کوئی مثال اس کی نہ تھی۔ بغیر نمونہ اور بغیر دیکھے بھالے کسی شے کا پیدا کرنا کیا اس بات کی نشانی نہٰں ہے کہ خدا موجود ہے۔ اور ایسا ہے کہ مثل نہیں رکھتا اپنا نظیر آپ ہی ہے۔ کسی کو اس کی ذات یا صفات میں شراکت نہیں ہے، اور پھر تم لوگوں پر یہ احسان اس کا ہے کہ رسولوں کو بھیج کر تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ آؤ میری طرف اور جو لوگ اس کے رسول کو سچا جان کر حق بات کی پیروی کرنے لگتے ہیں اور سچے دل سے خدائے وحدہ لا شریک پر ایمان لے آتے ہیں، ان کے گزشتہ گناہوں سے درگزر کرکے مغفرت کی خلعت دیتا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان پر بھی یہ مہربانی کرتا ہے کہ جلد عذاب بھیج کر ان کو ہلاک نہیں کرتا وقت مقررہ تک ان کی زندگی قائم رکھتا ہے۔ ان باتوں وک سن کر اور لاجواب ہو کر کفار نے دوسرا اعتراض پیش کیا کہ اے رسول ! تم تو ہماری طرح انسان ہو، کھاتے پیتے ہو چلتے پھرتے ہو، تمہیں ہم پر فضیلت ہی کیا ہے جو ناحق ہم کو ایک نئے دین پر لانا چاہتے ہو۔ تمہارا اصل منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہم کو ہمارے باپ دادا کے پرانے معبودوں کی عبادت سے روک دو ۔ بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر تمہارا دین اختیار کرلیں، اور تمہارے ان معجزوں کو جو تم دکھاتے ہو سند نہیں۔ ہم تو جب جانیں کہ ہماری فرمائش کے مطابق کوئی معجزہ اچھا سا کر دکھاؤ۔
Ayahs 14:11–12

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان سے کہا : ہم ہیں تو تمہارے جیسے آدمی مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (نبوت دے کر) کرم کردیتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں اور حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے رستے دکھا دئیے اور البتہ ہم تو تمہاری ایذاؤں پر (جو تم نے ہمیں دی ہیں) صبر ہی کریں گے، اور بھروسہ کرنیوالوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے

کفار کے اعتراض کا جواب کفار نے جو رسولوں پر اعتراض کیا تھا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہو کوئی فضیلت ہم پر نہیں رکھتے ہو۔ اس کا جواب رسولوں نے یہ دیا کہ بیشک ہم تمہاری طرح انسان ہیں لیکن اتنی بات ہے کہ انہیں آدمیوں میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے نبوت کی نعمت دیتا ہے، اور رسالت کی دولت اپنے بندوں میں سے وہ جس پر مہربان ہوتا ہے دینی نعمتوں سے مالا مال کردیتا ہے۔ اور ہماری یہ قدرت نہیں کہ بغیر حکم خدا کے کوئی معجزہ دکھا سکیں ہم بےمرضی خدا کے اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کرسکتے۔ اور ایمان والوں کو اللہ پر بھروسہ چاہیے اور ہمیں کیا عذر ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں۔ حالانکہ اس نے ہم کو ہدایت کی ہے اور اپنی محبت کے طریقوں پر رہنمائی فرمائی ہے۔ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ سب کام اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ ہم تمہاری مخالفت سے گھبرانے والے نہیں بلکہ ہم ضرور بالضرور صبر کریں گے ہم کو اس صبر کے اجر کا اللہ پر بھروسہ ہے۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا : ہم بیشک تمہیں نکال دیں گے اپنی زمین سے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ۔ پس ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ضرور ہلاک کردیں گے ان ظالموں کو

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ضرور ان کے بعد تم کو زمین میں بسا دیں گے، یہ وعدہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور میں کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب کے وعدے سے ڈرے

کفار کو ہلاک کرکے مومنوں کو آباد کرنے کا ذکر ارشاد ہوتا ہے کہ کفار نے اپنے رسولوں سے یوں کہا کہ : اگر تم ہم کو تنگ کروگے اور تم نصیحت کرنے سے باز نہ آؤگے اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے جاؤگے تو ہم تم کو اپنی بستی سے نکال دیویں گے یا زبردستی ہمارا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی طرف وحی بھیجی کہ تم گھبراؤ نہیں ہم ظالموں کو ضرور بالضرور ہلاک کردیں گے اور ان کی زمین پر تمہیں مسلط کردیں گے۔ یہ امر یقینی اور یہ وعدہ سچ ہے اور جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور اس کے عذاب کو حق جان کر دل میں لرزتے ہیں اور حساب قیامت کا اندیشہ رکھتے ہیں، ان کے واسطے بھی یہی وعدہ ہے۔
Ayahs 14:15–17

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور انہوں نے فیصلہ مانگا اور ہر ایک سرکش ضدی نامراد ہوا

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

دوزخ اس کے پیچھے لگی اور وہاں (اس کو) پیپ کا پانی پلایا جائے گا

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

کہ جس کو ایک ایک گھونٹ کرکے (بمشکل) لے گا اور اس کو گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی اور اس کو موت ہر طرف سے آئے گی (یعنی موت کے اسباب موجود ہوں گے) اور وہ مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے گاڑھا عذاب ہے

کافروں کا دوزخ جانا اور اس کی کیفیت : رسولوں نے اپنے رب سے کفار پر فتح چاہی اور انبیاء اور ان کی امت سب مل کر یہ حکم چاہتے تھے کہ ہم میں سے جو کوئی باطل پر ہو اس پر عذاب نازل فرما۔ حق تعالیٰ نے فیصلہ کردیا انبیاء اور مومنوں نے نجات پائی۔ پھر فرمایا کہ تکبر کرنے والے اور کدا پر ایمان نہ لانے والے کلمہ توحید سے منہ موڑنے والے ہلاک ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ کے مومنوں کو فتح دی اور پھر ان کفار کے لیے یہ حکم فرمایا کہ فقط اس ہلاکت پر ہی بس نہیں ہے ان کے سامنے جہنم بھی ہے۔ وہاں پانی کی جگہ پینے کو پیپ کا ملا ہوا جوش کھاتا ہوا پانی ملے گا۔ مارے بدبو اور کڑواہٹ کے حق سے نیچے نہ اترے گا۔ فرشتے عذاب کے ہتھوڑے مار مار کر زبردستی پلائیں گے۔ بمشکل گھونٹ گھونٹ کرکے حلق سے نیچے اتاریں گے اور ہر طرف سے موت دکھائی دے گی مگر وہاں موت کہاں وہ تو موت ذبح کردی جائے گی پھر مرنا کیسا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اس پر بس نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی اور سخت عذاب ہوگا اور ہر مرتبہ سختی اور تکلیف میں زیادتی کی جاوے گی۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ان کا حال باعتبار عمل کے ایسا ہے جیسے راکھ کہ جس کو تیز آندھی کے دن ہوا تیزی کے ساتھ اڑا لے جائے، ان لوگوں نے جو کچھ (دنیا میں) کمایا تھا اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی

کافروں کے نیک عمل کام نہیں آئیں گے۔ اس آیت میں کفار کے اعمال کی مثال بیان کی گئی ہے کہ کفار جو نیکی کرتے تھے اس کا ثواب بھی ان کو کچھ نہ ملے گا۔ برے عمل کی سزا جو کچھ جو ہوگی وہ تو ہوگی مگر ان کے نیک عمل جیسے صدقہ دینا، صلہ رحمی کرنا، محتاجوں کی حالت برلانا، وغیرہ ان کی بھی ایسی مثال قیامت کے دن ہوجاوے گی جیسے آندھی میں کوئی راکھ کو اڑنے سے بچا نہیں سکتا۔ اسی طرح قیامت کے دن کافروں کو نیک عملوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ لوگ اکیلے خدا پر ایمان نہیں لائے تھے، بتوں کو خدا کا شریک کرتے تھے۔ اس لیے ان کی یہ سب نیکیاں بھی برباد ہوجاویں گی اور ان کا یہ خیال کہ اس کا اجر ملے گا بہت بڑی گمراہی ٹھہرے گی۔
Ayahs 14:19–20

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا اگر وہ چاہے تم کو لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ پر کچھ بھی مشکل نہیں

اللہ کی قدرت کا نمونہ۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور آسمان و زمین کا پیدا کرنا ساری مخلوق کے پیدا کرنے سے مشکل ہے۔ کیونکہ اس میں عجیب عجیب حکمتیں ہیں۔ بہرحال وہ اگر چاہے تو دنیا کو نیست و نابود کردے اور اس کی جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) اللہ کے روبرو سب حاضر ہوں گے پس کمزور لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے، پس کیا (آج) تم خدا کا عذاب ہم سے کچھ بھی دور کرسکتے ہو، وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے، اب ہم خواہ بیقراری کریں یا صبر سے رہیں ہمارے لیے (دونوں) یکساں ہیں۔ ہم کو (عذاب سے) کسی چرح چھٹکارہ نہیں

تمام مخلوق قیامت کے دن میدان محشر میں جمع ہوگی جزا و سزا کے لیے۔ اس آیت میں فرمایا کہ ساری مخلوق قیامت کے دن ایک کشادہ میدان میں کھڑی کی جاوے گی اور ان کے اعمال وہاں ظاہر کیے جائیں گے اور پھر عمل کے مطابق جزا و سزا کا ہونا عین انصاف پر خیال کیا جائے گا۔ غرضیکہ جب سب جمع ہولیں گے اور جزا و سزا ہوجائے گی تو بجائے کمزور اور چھوٹی حیثیت کے آدمی بڑے لوگوں سے یہ کہیں گے کہ ہم تمہیں دیکھ کر اور تمہارے کہنے سے ہر ایک بات میں تمہارے ہی تابع رہے اور خدا و رسول پر ایمان نہیں لائے۔ تمہیں بھی اب مناسب ہے کہ یہاں ہماری کچھ کام آؤ اور خدا کے اس عذاب میں کسی قدر کم کراؤ۔ وہ جواب دیں گے کہ اگر ہم دنیا میں ہدایت پاتے تو تمہیں بھی ہدایت پر لاتے۔ ہم کیا کریں ہم آپ ہی مجبور ہیں اس وقت خواہ روئیں چلائیں یا صبر کریں، اس عذاب سے کسی طرح رہائی نہیں ہوسکت۔ اس مقام کو دیکھ کر اہل ایمان کو بہت ڈرنا چاہیے اور خدا سے ہر وقت حسن خاتمہ کی التجا کرنی چاہیے۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور (جب فیصلہ ہوچکے گا تو) شیطان کہے گا : بیشک اللہ نے تو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھا تو میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا مگر یہی کہ میں نے تم کو بلایا تم نے میری بات مان لی، تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو اور خودا پنے اوپر الزام رکھو، نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، بیشک میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم نے پہلے (دنیا میں) مجھ کو (خدا کا) شریک ٹھہرایا تھا۔ بیشک ظالموں کے لیے درد دینے والا عذاب ہے

قیامت کے روز شیطان کا اعلان اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جب جنت جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوچکیں گے تو سب دوزخی جمع ہو کر ابلیس کو ملامت کریں گے اور ابلیس ان سے یوں کہے گا کہ مجھے ملامت کیا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ جھوٹا تھا اور میں نے تم سے الٹی بات کہی تھی، میری تم پر کچھ زبردستی تو تھی ہی نہیں۔ اگر تم میرا کہنا نہ مانتے تو میں تمہیں اپنے زور سے کچھ کافر تھوڑا ہی بنا سکتا تھا۔ تم نے کیوں میرا کہنا مانا۔ میرے پاس تو کوئی دلیل بھی نہ تھی تم نے میرے قول کو کیونکر سچ جانا۔ میں نے بےدلیل اور بےحجت تم کو بد کام کی طرف بلایا تم ناحق میرے فریب میں آگئے۔ اگر غور کرتے تو تم کو معلوم ہوجاتا کہ صرف انبیاء (علیہ السلام) کا اتباع حق ہے۔ تم مجھے ملامت نہ کرو اس واسطے کہ میں تو تمہارا دشمن تھا تم اپنے نفس کو ہی ملامت کرو۔ اور میں تمہاری دہائی نہیں کرسکتا میری اتنی مجال نہیں کہ ت میں عذاب سے بچاؤں نہ تم میری دہائی کرسکتے ہو۔ تم نے دنیا میں مجھ کو خدا کا شریک گردانا تھا اور خالق برحق کا حکم چھوڑ کر میری بات مانتے تھے۔ حالانکہ میں پہلے ہی سے تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ظالموں کے لیے دردناک عذاب موجود ہے۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، دعا خیر ان کی اس جگہ، ایک دوسرے کے ساتھ سلام ہوگی

مومنوں کی بخشش ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اچھے عمل کیے وہ جنتوں میں داخل ہوں گے اور وہ جنتیں ایسی ہوں گی جن کے گھروں اور درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی تاکہ اہل جنت کو زیادہ لطف حاصل ہو۔ وہ اپنے رب کے حکم اور اس کے فضل کی وجہ سے ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب وہ آپس میں ملاقات کریں گے تو ایک دوسرے کو سلامتی کی بشارت دیں گے اسی طرح ملائکہ بھی خدا کے حکم سے جا جا کر انہیں سلام کیا کریں گے۔ جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا کے غم و رنج اور فکر و مصیبت سے وہ امن میں رہیں گے اور ہر طرح چین و آرام سے صحیح و سلامت ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دخول جنت کے لیے اول ایمان کو شرط ٹھہرایا ہے، یعنی قیامت، دوزخ، جنت، حسابت کتاب وغیرہ کا یقین کرنا۔ دوسرے ایمان کے بعد اعمال صالحہ بھی شرط ہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر اتباع سنت نبوی ﷺ نجات دشوار ہے۔ کیونکہ اعمال صالحہ کا جاننا بغیر طریقہ رسول اللہ ﷺ کے معلوم نہیں ہوسکتا۔ چناچہ خود فرماتے ہیں خیر الھدی ھدی محمد ﷺ یعنی سب سے بہتر طریقہ کار محمد ﷺ کا ہے۔
Ayahs 14:24–26

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات (یعنی کلمہ توحید) کی جیسے ایک پاکیزہ درخت کہ جڑ اس کی مضبوط اور اس کی شاخیں آسمان میں

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر فصل میں اپنا پھل دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں (اور ایمان لائیں)

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور گندی بات (یعنی کلمہ کفر و شرک) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گندہ درخت کہ وہ زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا گیا، اب اس کو کچھ ٹھہراؤ نہیں

مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں، اسی طرح خدا کا کلمہ توحید ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے۔ اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں، جس کا نتیجہ اس کو قیام کے دن معلوم ہوگا اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت یعنی اندرائن کا درخت کہ وہ تلخ اور بدبودار ہوتا ہے، جڑ بالکل کمزور ہے اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی طرح کفار کے غلط عقیدہ کی حالت ہے کہ اس کو وہ کسی مضبوط دلیل سے دنیا میں ثابت نہیں کرسکتے۔ اس لیے عقبی میں اس سے کوئی فائدہ ان کو نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس کی جڑ بالکل بےثابت ہے۔ شجر طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ ایمان والوں کو حق بات (یعنی کلمہ ایمان) پر ثابت رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی، اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے، اور اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے

عالم برزخ۔ قبر کی زندگی کے حالات شان نزول : اس آیت کی جو بیان ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی آدمی مر جاتا ہے اور اس کو اس کے عزیز و اقارب دفن کرکے الٹے پھرنے لگتے ہیں تو ابھی یہ لوگ اس مردہ کی قبر کے آس پاس ہوتے ہیں کہ ان کے چلنے کی آواز کان میں جاتی ہے۔ کہ اتنے میں منکر و نکیر دو فرشتے آن کر مردہ کو اٹھا کر بٹھلا دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تمہارا رب کون ہے، دین کیا ہے اور سید عالم ﷺ کی طرف اشارہ کرکے دریافت کرتے ہیں کہ ان کی نسبت تو کیا کہتا تھا۔ تو مومن اس منزل پر بفضل الہی ثابت رہتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ میرا دین اسلام ہے، اور یہ محمد ﷺ میرے نبی ہیں، وہ فرشتے کہتے ہیں : ان کا نبی ہونا تو نے کیونکر پہچانا، وہ مردہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام لائے اس کو میں نے پڑھا اور اس پر ایمان لایا اس سے مجھ کو معلوم ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، پھر وہ فرشتے اس مردہ کو برزخ دکھا کر کہتے ہیں کہ ایک ٹھکانا تیرا یہاں بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے تیرا یہاں کا ٹھکانا بدل دیا، پھر اس کو اس کا وہ ٹھکانا دکھاتے ہیں جو جنت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہ ٹھکانا دیکھ کر وہ مردہ بہت خوش ہوتا ہے اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے۔ اور اس میں جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں اور اس کو حکم ہوتا ہے کہ آرام سے سو جا یہاں تک کہ قیامت آوے اور اگر یہ مردہ کافر یا منافق ہوتا ہے تو ان فرشتوں کی خوفناک صورت دیکھ کر ڈر جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ثابت قدمی اور جرات اس کو عطا نہیں ہوتی۔ اس سبب سے ایسا شخص ہائے ہائے کرکے رہ جاتا ہے اور ان فرشتوں کے سوال کا جواب کچھ نہیں دے سکتا۔ اس لیے ایسے شخص کو طرح طرح کا عذاب قبر میں ہوتا رہے گا اور دوزخ کی گرمی اور لپٹ پہنچتی ہے، اور قبر اتنی تنگ ہوجاتی ہے کہ ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آجاتی ہیں۔ عذاب کے فرشتے اس پر مقرر کیے جاتے ہیں جو اسے لوہے کے گرزوں سے مارتے ہیں۔
Ayahs 14:28–30

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لا اتارا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

وہ دوزخ ہے کہ (یہ سب) اس میں داخل ہوں گے ور وہ رہنے کی بری جگہ ہے

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کیلئے برابر والے ٹھہرائے تاکہ بہکائیں لوگوں کو اس کے رستے سے تم فرماؤ : کچھ دن اور عیش کرلو کہ (آخرت میں) انجام تمہارا آگ ہے

قریش مکہ کی بربادی اس آیت کا شان نزول اس طرح ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت ﷺ کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاویں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبردار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے، لیکن اللہ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقررہ ہے۔ اس لیے وقت مقرر تک ان کو مہلت دی گئی پھر آخر نتیجہ یہ ہوا کہ بدر کی لڑائی مٰ اللہ تعالیٰ نے قریش کے اکثر ان بڑے بڑے سرداروں کو جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کی ناشکری کی تھی مسلمانوں کے ہاتھ سے غارت کرادیا اور کتے کی موت مارے گئے اور آخرت میں فی النار ہوئے۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے ہوئے میں سے پوشیدہ اور ظاہر کچھ (ہماری راہ میں) خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جب نہ سوداگری ہوگی نہ دوستی

قیامت میں دوستی کام نہٰں آئے گی۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ جو لوگ تم کو سچا رسول مان چکے ہیں ان کو نماز اور زکوۃ کی تاکید کردو اور ان کو یہ سمجھا دو کہ یہاں دنیا میں تو فرض اور نفل صدقہ خیرات میں تھوڑا سا مال خرچ کرنے سے ایک کے بدلہ میں سات سو تک کمانے کی تجارت کا موقع حاصل ہے۔ جس سے نیکی کا پلڑا بھاری ہوکر آدمی کی نجات قیامت کے دن ہوسکتی ہے۔ لیکن خاص اس دن عذاب الہی سے چھٹکارہ ہوجانے کے بدلے میں کوئی شخص تمام دنیا کا مال متاع بھی دینا چاہے گا تو چھٹکارہ نہ ہوسکے گا۔
Ayahs 14:32–34

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل پیدا کیے تمہارے کھانے کے لیے اور تمہارے (نفع کے) لیے کشتی (اور جہاز) کام میں دی تاکہ وہ اللہ کے حکم سے سمندر میں چلے اور نہروں کو تمہارے کام میں دیا

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہارے (فائدے کے) لیے سورج اور چاند کام میں لگائے جو (اپنی چال پر) برابر چل رہے ہیں، اور تمہارے (فائدے کے) لیے رات اور دن کام میں لگائے

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور تم نے جو مانگا تم کو ہر چیز میں سے دیا، اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو ان کو شمار نہ کرسکوگے، بیشک انسان تو بڑا ظالم اور ناشکرا ہے

اللہ تعالیٰ کا احان بندو پر : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو احسان کیے ہیں ان کا بیان فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین کو تمہارے فائدے کے لیے بنایا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ جس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل اور ہزاروں قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ اور کشتیاں انسان کے قبضہ میں کردیں دریا کو بس میں کردیا۔ تاکہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوکر دریا کی راہ سے جہاں جی چاہے چائیں۔ تجارت کو ترقی ہو، سورج و چاند سے فائدہ اٹھائیں جو رات دن گردش میں رہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ بس اسی پر اکتفا نہٰں بلکہ تمہاری ہر ایک خواہش کو بھی پورا کیا۔ اس لی اگر خدا کی نعمتیں شمار کی جائیں تو گنتی میں نہیں آسکتیں۔ ایک ذرا سی بات ہے کہ انسان کے سانس کا آنا جانا ہی غور کیا جائے تو بہت بڑی نعمت ہے اس کا شکر کسی طرح بھی نہیں ادا ہوسکتا۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان ناشکرا ہے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کہاں تک ادا کرے گا وہ تو الٹا ناشکری کرنے لگتا ہے۔
Ayahs 14:35–36

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے پروردگار ! میرے اس شہر (مکہ) کو امن والا کردے اور مجھ کو اور میرے بیٹو کو بت پرستی سے بچائیو

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار ! میرے بیشک ان بتوں نے بہت آدمیوں کو گمراہ کر ڈالا، پس جس نے میری پیروی کی بیشک وہ میرا ہے، اور جس نے میرا کہا نہ مانا پس بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مناجات کی کہ یا الٰہی تو اس شہر کو یعنی مکہ معظمہ کو مکروہ اور خوف کی چیزوں سے امن میں کردے۔ یا الہی ! مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بت پرستی سے محفوظ رکھ۔ یا الٰہی ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا پس جو کوئی میری اتباع کرے گا وہ میرا ہے اور جو کوئی میرے خلاف کرے گا تو اس کی مغفرت کردیجیو۔ کیونکہ تو یقینا مغفرت کرنے والا اور مہربان ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی۔ حرم کے اندر کسی کا خون نہٰں ہوتا شکار تک نہیں کیا جاتا۔ اور نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے۔ پرندے بھی حرم کے اندر آ کر بےخوف ہوجاتے ہیں۔ دوسرے دعا کا اثر یہ تھا کہ اگرچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ معلوم تھا کہ انبیاء شرک سے معصوم ہیں لیکن بت پرستی سے نفرت اور بیزاری کے جوش میں اپنے آپ کو بھی اس دعا میں شریک کرلیا۔ اس دعا کے اثر سے اسماعیل کی اولاد چند پشتوں تک بت پرستی کی آفت سے محفوظ رہی، پھر آخر ان کے اندیشہ کا ظہور ہوا کہ عمرو بن لحی کے زمانہ سے مکہ میں بت پرستی پھیل گئی اور اس بت پرستی کے مٹ جانے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کے اثر کا ظہور ہوا جو انہوں نے اولاد اسماعیل میں سے نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے کے لیے کی تھی۔ اس دعا کا اثر ایسا پائیدار رہا کہ مکہ تو مکہ جزیرہ عرب سے بت پرستی ایس مٹ گئی کہ اب قیامت تک وہاں اس کے دوبارہ آنے کا خوف باقی نہیں رہا۔