14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 14:37–41

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے پروردگار میرے ! میں نے اپنی کچھ اولاد ایک ایسے میدان میں بسائی ہے کہ جہاں کھیتی نہیں ہوتی (جو) تیرے حرمت والے گھر کے پاس ہے (اے پروردگار میرے) اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ شکر کریں

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے پروردگار میرے ! بیشک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر تو کوئی چیز بھی چھپتی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کیے، بیشک میرا پروردگار دعا کا سننے والا ہے

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے پروردگار میرے ! مجھے نماز کا قائم رکھنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو بھی، اے پروردگار ہمارے ! اور قبول کر میری دعا،

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اور اے پروردگار ہمارے ! بخش دے مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا

حضرت ہاجرہ اور اسماعیل (علیہما السلام) کو خانہ کعبہ کی سرزمین میں چھوڑنا اور وہاں چشمہ زمزم کا نکلنا۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔ اس وقت آپ کی پہلی بیوی جن کا نام سارہ تھا ان کو دیکھ کر رشک پیدا ہوا۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کردیجیے۔ حکمت الہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چناچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسماعیل کو اس سرزمین میں لے جائیں جہاں اب مکہ معظمہ ہے۔ آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوار کرکے حرم میں لائے اور کعبہ شریف کے نزدیک اتارا، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی نہ کوئی چشمہ، نہ پانی۔ ایک توشہ دان میں کھجوریں اور ایک برتن پانی انہیں دے کر آپ واپس ہوئے اور مڑ کر ان کی طرف نہ دیکھا۔ حضرت ہاجرہ نے عرض کیا : آپ کہاں جاتے ہیں اور ہمیں اس وادی میں بےانیس و رفیق چھوڑے جاتے ہیں۔ لیکن آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔ چند مرتبہ حضرت ہاجرہ نے عرض کیا اور جواب نہ پایا تو کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے، آپ نے فرمایا ہاں ! اس وقت انہیں اطمینان ہوا۔ حضرت ابراہیم چلے گئے اور انہوں نے بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے۔ حضرت ہاجرہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو دودھ پلانے لگیں۔ جب وہ پانی ختم ہوگیا اور پیاس کی شدت ہوئی اور صاحبزادے کا حلق شریف بھی پیاس سے خشک ہوگیا تو آپ پانی کی جستجو یا آبادی کی تلاش می صفا ومروہ کے درمیان دوڑیں۔ ایسا سات مرتبہ ہوا یہاں تک کہ فرشتے کے پر مارنے سے یا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے قدم مبارک سے اس خشک زمین میں ایک چشمہ (زمزم) نمودار ہوا اور ایک آواز آئی کہ اے اللہ کی بندی ! اس جگہ اللہ کا گھر ہے، تم گھبراؤ نہیں تم کو یہاں کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔ یہ تمہارا لڑکا اور ان کے والد صاحب اس اللہ کے گھر کی تعمیر کریں گے، ایک عرصہ کے بعد اس چشمہ زمزم کے قریب جانوروں کو اڑتے ہوئے دیکھ کر ایک جماعت مسافروں کی آئی۔ اس نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ سے دریافت کیا کہ : آپ اجازت دیں تو ہم قیام کرلیں۔ انہوں نے کہا : قیام کی اجازت ہے۔ لیکن پانی کا مالک میرا لڑکا رہے گا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد یہ مقام یعنی مکہ آباد ہوگیا انہی لوگوں میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی ہوئی۔ حضرت ہاجرہ کا وصال ہوگیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا پوری ہوئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تو آپ نے اس کا شکریہ ادا کیا کہ بڑھاپے میں اولاد ہونے کی کوئی امید نہیں ہوتی اللہ تو نے اسماعیل و اسحاق دو صاحبزادے مجھے عطا کیے اور میری دعا کو قبول کیا۔ پھر اپنے واسطے اور اولاد کے واسطے دعا کی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو نماز پر قائم رکھنا۔ اور سارے مومنوں کے لیے قیامت کے روز مغفرت ہونے کی دعا کی۔
Ayahs 14:42–43

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور ہر گز اللہ کو بیخبر نہ جاننا اس کام سے جو کرتے ہیں ظالم لوگ، سوائے اس کے نہیں کہ ان کو ڈھیل دے رہا ہے ایسے دن کے لیے جس میں (شدت خوف و حیرت سے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

بےتحاشہ دوڑتے ہوں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے (ٹکٹکی باندھے ہوئے) کہ ان کی نگاہ ان کی طرف لوٹتی نہیں اور ان کے دلوں میں سکت نہ ہوگی

قیامت کا ذکر۔ کفار کے عذاب کا ذکر ارشاد ہوتا ہے کہ اے محمد ﷺ تم یہ خیال نہ کرنا کہ تمہارے مخالفوں سے اللہ تعالیٰ بیخبر ہے۔ بظاہر خطاب آپ سے ہے اور در پردہ آپ کی امت سے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ اطمینان رکھو کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی شامت ان پر ضرور آئے گی اور یہ بیشک عذاب الہی میں مبتلا ہوں گے یعنی ان کو عذاب ضرور ہوگا۔ فقط قیامت تک کی مہلت ہے جب قیامت کے دن آسمان کے دروازے کھول کر فرشتے اترنے لگیں گے، اور لوگوں پر عذاب کریں گے اس وقت ان کی آنکھٰں ادھر ہی کو لگ جائیں گی اور جب اسرافیل صور پھونکیں گے تو قبروں سے نکل نکل کر جلدی جلدی میدان محشر کی طرف بھاگنے لگیں گے اور نہ پلک جھپکائیں گے۔ ان کے دل کی حالت خوف و دہشت کی وجہ سے اس وقت ایسی ہوگی جیسے کوئی چیز اڑی جاتی ہے پھر وہ اپنے تئیں دیکھنا چاہیں تھے تو نہ دیکھ سکیں گے۔
Ayahs 14:44–46

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ کہ جب ان پر عذاب آجائے گا تو ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا قبول کریں اور رسولوں کی پیروی کریں، (جواب دیا جاوے گا ان کو) کیا تم قسم نہ کھاچکے تھے اس سے پہلے کہ تمہیں دنیا سے کہیں ہٹ جانا نہیں

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور تم پر یہ واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیساتھ معاملہ کیا اور ہم نے مثالیں دے دے کر تمہیں سمجھایا

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور بیشک ان لوگوں نے اپنی سی خفیہ تدبیریں کی تھیں اور ان کی خفیہ تدبیریں اللہ کے علم میں تھیں اور ان کی خفیہ تدبیریں کچھ ایسی نہ تھیں جس سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے

رسول اللہ ﷺ کے احکام پہار کی مثال ہیں اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے محبوب ﷺ کفار قریش کو ڈراؤ اس دن سے کہ جس دن ان پر عذاب آوے گا اس روز کافر کہیں گے : اے پروردگار ! ہمٰں تھوری سی مہلت دے۔ ہم تیرے حکم کو قبول کریں گے اور تیرے رسولوں کی پیروی کریں گے۔ جواب میں فرشتے کہیں گے کہ : تم وہی لوگ ہو کہ دنیا میں مبالغہ کی وجہ سے قسم کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ہمیں کبھی کچھ زوال نہ ہوگا یعنی آخرت کے منکر تھے اور تماشا یہ ہے کہ تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے تھے کہ جو تم سے پہلے منکرین حشر، تکذیب انبیاء کرکے ہلاک ہوچکے تھے۔ یہ تم کو خوب معلوم تھا کہ ہمارا عذاب ان پر نازل ہوچکا ہے پھر بھی تم نے عبرت نہ پکڑی اور ہم نے تمہارے سامنے مثالیں بھی بیان کیں اور تم کو یہ بھی معلوم تھا کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ مکر کیا اللہ تعالیٰ ان کے مکر کی سزا ان کو دے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بڑے مکار تھے کہ پہاڑ بھی ان کے مکر سے ٹل جائیں۔ حضرت رسول کریم ﷺ کے احکا پہاڑوں کی مثل ہیں۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

پس کبھی خیال نہ کرنا کہ اللہ خلاف وعدہ کرے گا اپنے رسولوں سے بیشک اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے

اللہ کا وعدہ : اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ تم لوگ خیال نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ جو وعدہ اپنے رسولوں سے کرے گا اس کو وفا نہ فرمائے گا، نہیں بلکہ ضرور اس وعدہ کو پورا کرے گا۔ جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ اہل ایمان کی نصرت کا وعدہ ہوا ہے وہ ضرور وفا کرنے والا ہے اور اللہ عاجز نہیں بلکہ غالب ہے۔ اور اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے والا ہے۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

(یہ سب اس دن ہوگا) جس دن بدل دی جائے گی دوسری زمین اس زمین کے علاوہ اور آسمان (بھی) اور لوگ (قبروں سے) نکل کر ایک اللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے کھڑے ہوں گے

زمین و آسمان کی حالت دوسری ہوگی اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان کی کچھ حالت بدل جاوے گی مثلا زمین کے پہاڑ ٹیلے، نہریں، درخت سب برابر کرکے ایک چورس میدان کردیا جاوے گا اور آسمان کے چاند سورج تارے نکال دیے جاویں گے یا یہ کہ زمین و اسمان کی ذات ہی بدل دی جائے گی۔ اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہوگی سفید و صفا، جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو نہ گناہ کیا گیا ہو اور آسمانوں سونے کا ہوگا تو یہ مشرک لوگ شرک کی جواب دہی کے لیے اس اللہ کے روبرو کھڑے ہوں گے جو اکیلا اور وحدہ لا شریک ہے۔
Ayah 14:49

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ایک دوسرے سے جکڑے ہوئے ہوں گے

جنوں کا ذکر۔ عذاب دوزخ کا ذکر اس آیت میں ارشاد ہے کہ جب قیامت کے دن یہ آسمان و زمین نہ ہوں گے اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑی کی جاوے گی تو جن لوگوں نے دنیا میں فساد مچا رکھا تھا خود بھی راہ حق سے علیحدہ رہے اور اوروں کو بھی علیحدہ رکھا تھا۔ یہ مجرم طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے اپنے شیطان سمیت آویں گے۔
Ayahs 14:50–51

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

لباس ان کے گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر لپٹی ہوگی

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تاکہ بدلہ دے اللہ ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ دوزخیوں کا کرتہ گندھک کے تیل کا ہوگا۔ جس میں ذرا سی آگ لگنے سے بھڑک اٹھے گی اور بجھائے نہ بجھے گی اور ان کے چہرے پر رال کا لیپ کردیا جائے گا۔ خدا ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، جس کا عمل اچھا ہوگا تو اپنی رحت میں شامل کرے گا۔ اگر عمل برے ہوں تو ویسا بدلہ دے گا اور خدا حساب کتاب لینے میں کچھ دیر نہ لگائے گا۔ جھٹ پٹ فارغ ہوجائے گا۔ قطران کے معنی گندھن کے تیل کے لکھے ہیں جو نہایت گرم کھولتی ہوئی چیز ہے کہ دوزخ کی آگ کا اثر اور تیزی بڑھانے کے لیے یہ چیزیں لباس کی طرح دوزخیوں کے جسم پر ملی جاویں گی۔ شرک کے کلمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں شرک کا اعتقاد ہوتا ہے۔ اس واسطے یہاں منہ کے جلنے کا اور ویل لکل میں دل کے جلنے کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے احکام پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور اس لیے کہ نصیحت مانیں عقل والے

توحید کا بیان اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت ﷺ کو خبر دی کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا گیا ہے ایک نصیحت ہے تاکہ لوگ خدا سے ڈریں اور جو نصیحت اس میں ہے اس سے معلوم کرلیں کہ سوائے اس ایک خدا کے دوسرا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ صاحب فہم ہیں عقل رکھتے ہٰں ان کو اس میں غور و فکر کرنا چاہیے اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ ترمذی ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : عقلمند وہ شخص ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کے بعد کا کچھ عقبی کا سامان کرلیوے اور عقل سے عاجز وہ شخص ہے جو عقبی سے غافل رہ کر عقبی کی بہبیودی کی تمنا دل میں رکھے۔