12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsسراج البیان

Ayahs 12:1–3

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الر ، یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں ۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے شاید تم سمجھو ۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم تجھے اچھا قصہ سناتے ہیں ، اس لئے کہ ہم نے قرآن تیری طرف بذریعہ وحی کے بھیجا ہے اور بیشک اس سے پہلے تو بیخبر وں میں تھا ۔ (ف 1) ۔

بہترین واقعہ : (ف 1) سورة یوسف کا نزول اس وقت ہواجب حضور ﷺ مکہ چھوڑ رہے تھے ، اور مدینہ کی جانب ہجرت کا ارادہ تھا ، غرض یہ ہے کہ جس طرح برادران یوسف نے جمال ظاہری کو رشک وحسد کی آنکھوں سے دیکھا اور بھائی کو کنوئیں میں پھینک دیا ، اسی طرح یہ برادران قوم حضور ﷺ کے جمال روحانی کی تجلیات کو برداشت نہ کرسکے ، اور حضور ﷺ غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے پھر جس طرح یوسف (علیہ السلام) ارض مصر میں حکومت اعلی کے درجہ تک پہنچے اسی طرح حضور کو مدینہ کے لوگوں نے آنکھوں پر بٹھایا ، اس سورة کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ہجرت یوسف (علیہ السلام) کی سی ہجرت ہے انشاء اللہ آپ مدینے میں یوسف (علیہ السلام) کی طرف اقتدار حاصل کریں گئے اور یہی برادران یوسف (علیہ السلام) آپ سے عفو وکرم کے طالب ہوں گے ۔ اس سورت میں نفسیات انسانی کی بعض مخفی کیفیتیں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ، حسد وعناد کا انجام ، محبت کا ذب وصادق میں امتیاز معصیت کی جانب میلان بشری یہ سب چیزیں نہایت عمدگی سے بیان کی ہیں ، درمیان میں بہت سے حقائق ومعارف آگئے ہیں موقع بہ موقع ان کے متعلق تشریحات آگے آئیں گی ۔ حل لغات : احسن القصص : بہترین واقعہ ۔ بہترین اخبار ۔ قصہ کے معنے کہانی یا افسانہ کے نہیں ، بلکہ تعبیر دینے ، یا حقیقت کے ہیں ، کیونکہ قرآن فرضی خبریں نہیں بیان کرتا اس کا مقصد تو واقعات وحقائق کو بیان کرنا ہے ۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا ، اے باپ میں نے گیارہ ستاروں ، اور سورج اور چاند کو دیکھا ، کہ مجھے سجدہ کرتے ہیں (ف 1) ۔

خواب کی حقیقت : (ف 1) بعض خواب قابل تعبیر ہوتے ہیں ، ان کا تعلق مستقبل کے حالات سے ہوتا ہے ، اور بعض اضغاث واھلام ، یعنی خوابہائے پریشان ، جن کی تعبیر بوجہ اختلاف احوال معقول وغیر معقول نہیں ہے ، خواب کیوں تعبیر طلب ہوتا ہے ؟ اور کیوں اس کا تعلق آئندہ حالات سے ہوتا ہے ؟ مادیت کی رو سے اس کا کوئی جواب نہیں ، البتہ مذہب نے اس حقیقت کو بیشتر سے معلوم کرلیا ہے کہ روح انسانی فیضان آلہی کا نتیجہ ہے اور روح کا تعلق عام ارواح سے ہے جب روح کو کامل تجرد اور علیحدگی کا موقع ملتا ہے ، وہ عالم ارواح کی جانب پرواز کرلی ہے تو اپنے ساتھ بیش بہا معارف ومعلومات لاتی ہے ۔ خواب کی پوری پوری حقیقت اب تک معلوم نہیں ہوسکی بہر حال آیندہ معلومات کی آئینہ داری کی کامل تردید ہے ۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ آسمان کے گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں ، اور چاند سورج بھی جھکے ہوئے ہیں ، اس لئے انہیں تعجب ہوا ، اور انہوں نے اپنے والد سے استصواب کیا ،
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

کہا بیٹے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ بیان کرنا ، کہ وہ تیرے لئے کوئی فریب بنائیں گے البتہ شیطان انسان کا صریح دشمن ہے (ف 2) ۔

(ف 2) مشفق باپ نے بتایا ، کہ تعبیر اچھی ہے ، اپنے بھائیوں سے نہ کہنا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے ، کیونکہ اس طرح ان کے دل میں حسد ورشک کی آگ جل اٹھے گی ، اس آیت میں انسان کی اس نفسیت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان بالطبع دوسروں کے عروج کو نہیں دیکھ سکتا ، ایک باپ کی اولاد ہیں ، بھائی بھائی ہیں ، مگر یہ منظور نہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کسی بات میں سبقت لے جائے ،
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ کریگا اور تجھے خواب کی تعبیر سکھلائے گا ، اور اپنی نعمت تجھ پر ، اور اولاد یعقوب (علیہ السلام) پر پوری کرے گا ، جیسے اس نے پہلے تیرے باپ دادا ، ابراہیم (علیہ السلام) واسحاق (علیہ السلام) پر اسے پورا کیا ، بیشک تیرا رب خبردار ہے حکمتوں والا (ف 3) ۔

(ف 3) سچے خواب نبوت کا ایک حصہ ہیں ، کیونکہ قلب جس قدر پاک اور مصفا ہوگا ، اسی قدر معارف عالیہ کے اکتساب کی اس میں استعداد زیادہ ہوگی ، انبیاء جو کچھ بذریعہ خواب دیکھتے ہیں وہ بالکل حق اور حقیقت ہوتی ہے ، اس طرح ان میں یہ ملکہ بھی ہوتا ہے کہ خواب کی صحیح صحیح تعبیر معلوم کرلیں ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو خوشخبری دی کہ تمہیں علم التعبیر سے بہرہ ور کیا جائے گا ، تم خواب کی سچی تعبیر بتا سکو گے ، نیز تم پر اللہ کا فضل ہوگا ، اور تم ابراہیم واسحق (علیہ السلام) کی مسند پر بیٹھو گے ۔ فن تعبیر وجدان صحیح اور ذوق پر موقوف ہے ، علمی طور پر اس کی جزئیات مدون نہیں ۔
Ayahs 12:7–11

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

البتہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے مذکور میں سائلین کے لئے نشانیاں ہیں ۔

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب بولے کہ البتہ یوسف اور اس کا بھائی (بنیمین) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارا ہے حالانکہ ہم زبردست جماعت ہیں ، بیشک ہمارا باپ صریح خطا میں ہے ۔

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرو ‘ یا کسی زمین میں پھینک دو تب باپ کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوگی ، اور تم اس کے بعد بھلے لوگ ہو رہنا ۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا ، یوسف (علیہ السلام) کو قتل نہ کرو ، اور اگر تم کو کرنا ہی ہے تو اسے تاریک کنوئیں میں ڈال دو ، کہ کوئی راہ گیر اے اٹھالے ۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

بولے ، اے باپ ! تیرا کیا حال ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی نسبت تو ہمارا اعتبار نہیں کرتا ، اور ہم اس کے خیر خواہ ہیں ۔ (ف 1) ۔

یوسف (علیہ السلام) کیوں باپ کو پیارے تھے ! (ف 1) اب یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں شروع ہوتی ہیں ، بھائی ملے کرتے ہیں ، کہ یوسف کو تاریک کنوئیں میں ڈال دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اس کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے تاکہ ہم یوسف (علیہ السلام) کی جگہ لے لیں اور باپ ہم سے زیادہ محبت کرنے لگے ۔ بات یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خلعت نبوت ملنے والا تھا ، یہ باپ کے ہونہار اور سعادتمند صاحبزادے تھے ، باپ کو بالطبع ان سے زیادہ انس تھا ، اور یہ محبت دوسروں کو ناگوار تھی اور قرآن حکیم سے یہ ثابت نہیں ہوتا ، کہ یہ لوگ بھی انبیاء تھے ، بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بدگمانی اور ان کے دوسرے افعال سے ثابت ہوتا ہے ، کہ وہ انبیاء نہ تھے کیونکہ انبیاء کا دل اس نوع کے جذبات سے پاک ہوتا ہے ۔ حل لغات : سجدین : خواب میں چاند اور سورج چونکہ جھک آئے تھے ، اس لئے انہیں انسان فرض کہ لیا گیا اور ساجدین کہا گیا ، ورنہ ساجدۃ ہونا چاہئے تھا ، تاویل ال احادیث : باتوں کی سمجھ بوجھ ، لفظ عام ہے ، مگر مراد یہاں تعبیر رؤیا سے ہے ، ضلال : گمراہی ، مغلوب ہونا ، گم ہونا ، ہلاک ہونا ، ضلال کا لفظ عربی میں وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ لغزش فکر سے لے کر گناہ کبیرہ تک سب کو ضلال کہا جاتا ہے ۔ اس لئے جہاں یہ استعمال ہو ، یہ دیکھ لینا چاہئے کہ کن معنوں میں یہاں استعمال ہوسکتا ہے ، یہاں مغلوب ہونے کے معنی ہیں ۔ ان ابانا لفی ضلال مبین : یعنی ہمارا باپ مغلوب ہے ۔ کہ محبت میں ۔ غیبت الجب : کنوئیں کی تاریک گہرائیاں ۔
Ayah 12:12

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

اسے کل ہمارے ساتھ بھیج کہ کچھ چرائے اور کھیلے اور ہم اس کے محافظ ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) یرتع ویلعب : سے معلوم ہوا کہ کھیل کود ممنوع نہیں بلکہ جائز ومستحسن ہے ، کھیل وہ ممنوع ہے جس میں محض وقت ضائع ہوتا ہے جسم انسانی یا فکر انسانی کو اس سے کوئی راحت نہ ملے ، وہ کھیل یا ورزش جس سے طبیعت میں انشراح وبشاشت پیدا ہو ، درست ہے ۔ قرآن کا مقصد جب کسی واقعہ کو بطور عبرت پیش کرنا ہوتا ہے تو وہ غیر ضروری تفصیلات کو جو آرائش افسانہ کے قبیل سے ہیں ، ترک کردیتا ہے ، اور صرف وہ حصہ ذکر کرتا ہے ، جو اصل مقصود ہے ۔
Ayahs 12:13–15

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

بولا مجھے اس سے غم ہوتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ ، اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل رہو ۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

بولے ، اگر اسے بھیڑیا کھاجائے ، اور ہم قوی جماعت ہیں ‘ تو تو ہم زیان کار ہوئے ۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب اسے لے گئے اور اس امر پر اتفاق کرلیا کہ اسے تاریک کنوئیں میں ڈال دیں ، اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو وحی بھیجی ، کہ تو ان کے اس کام سے (آئندہ کو) نہیں خبردار کرے گا ، اور وہ نہ جانیں گے (ف 2) ۔

(ف 2) خدا کا قانون ہے کہ جب دنیا کی اعانت کے سلسلے منقطع ہوجائیں ، آپس کا رشتہ ٹوٹ جائے ، اور یاس کے بادل آمنڈ آئیں ، اس وقت وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا خون سفید ہوگیا ، ان کے دلوں میں شفقت واخوت کے سومے خشک ہوگئے ، اور وہ ظالمانہ سلوک پر مستعد ہوگئے ، تو اس وقت اللہ کی رحمت جوش میں آئی ، اس کا دریائے کرم موزن ہوا اور یوسف کو تاریک کنوئیں ، میں سل امتی و کامیابی کی خوشخبریاں سنائی دینے لگیں ، اللہ نے کہا ، فکر نہ کرو ، ایک وقت آئے گا ، کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے ، اور انہیں معلوم نہیں ہوگا ، کہ تم یوسف ہو ، حل لغات : یرتع : آزادی سے کھانا پینا ۔
Ayahs 12:16–18

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور اندھیرا پڑے اپنے باپ کے پاس روتے آئے ،

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہا اے باپ ہم آپس میں آگے نکلنے کو دوڑنے لگی اور اپنے اسباب کے پاس یوسف (علیہ السلام) کو بٹھا دیا ، سو اسے بھیڑیا کھا کیا اور تو تو ہماری بات باور نہ کرے گا اگرچہ ہم سچے ہوں ،

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور اس کے کرتے پر جھوٹا لہو لگا لائے یعقوب بولا ، ہرگز نہیں بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک حیلہ بنایا ہے ، اب صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم کہتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں (ف 1) ۔

(ف 1) جب برادران یوسف (علیہ السلام) رات کے وقت ڈھاریں مارتے ہوئے لوٹے تو کہنے لگے کہ ابا ! آپ مانیں یا نہ مانیں ، یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے اور ثبوت میں یوسف (علیہ السلام) کا خون میں تربتر قمیص پیش کردیا جس میں جھوٹ موٹ خون لگا لیا گیا تھا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فراست پیغمبری سے پہچان لیا کہ یہ جھوٹ ہے ، اس لئے اس سے کہہ دیا ، کہ یہ محض فریب ہے تم نے یہ قصہ میرے سامنے سرخرو ہونے کے لئے بنا لیا ہے ، اس میں کوئی صداقت نہیں ۔ اس کے بعد اس مصیبت عظمی پر اپنے صبر کا اظہار کیا ، اور کہا کہ ان مواقع پر صبر ہی بہترین ہے ، اللہ ہماری مدد کرے گا ۔ حل لغات : سیارۃ : گھومنے پھرنے والے ، سیاح ، واردھم : وارد وہ ہوتا ہے جو قافلے کے آگے آگے چلتا ہے ، تاکہ پانی اور گھاس وغیرہ کی دیکھ بھال کرے ، اور ٹھہرنے کے لئے اچھی جگہ تلاش کرے ۔
Ayahs 12:19–21

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ایک قافلہ آگیا ، انہوں نے اپنا سقہ (ماش کی) بھیجا اس نے اپنا ڈول ڈالا ، بولا کیا خوشی کی بات ہے یہ تو لڑکا ہے ، اور اہل قافلہ نے اسے بطور پونجی چھپا لیا اور اللہ جانتا تھا جو وہ کرتے تھے ۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور انہوں نے اسے بقیت ناقص چند گنتی کی پاؤلیوں پر بیچ دیا ، اور اس سے بیزار تھے ۔

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور جس مصری نے اسے خریدا اپنی عورت سے کہا ، اس کو عزت سے رکھ ، شاید ہمارے کام آئے ، یا ہم اسے بیٹا بنالیں ، اور اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اس زمین میں جگہ دی اور تاکہ ہم اسے باتوں کی تاویل سکھلائیں ‘ اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے (ف 1) ۔

یوسف (علیہ السلام) مصر میں : (ف 1) یہاں سے پھر اصل قصہ کا آغاز ہوتا ہے ، حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب بھائی کنوئیں میں ڈال کر چلے گئے تو وہاں سے ایک قافلہ گزرا اور پانی کی تلاش میں وہ اس کنوئیں پر ٹھہر گیا ، کنوئیں میں ڈول ڈالا ، تو معلوم ہوا کہ اس میں ایک خوش طلعت لڑکا موجود ہے ، وہ مارے مسرت کے چلا اٹھے ، کہنے لگے ، زہے قسمت ، ! ہمیں ایک نہایت حسین لڑکا مل گیا ہے ، اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو قیمتی سرمایہ سمجھ کو چھپا لیا ، اور مصر میں نہایت سستے داموں یعنی چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا ، کیونکہ وہ اس کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ نہ تھے ، ۔ خریدار عزیز مصر تھا ، گھر لے جا کر بیوی کو تاکید کردی کہ اسے عزت و آرام سے رکھیو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے ، یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے میدان صاف کرو یا اور انہیں تمکن فی الارض کے لئے موقع دیا ، یعنی سرزمین مصر میں جگہ دی ، غور کیجئے قدرت اپنے کام کس درجہ منظم طریق پر انجام دیتی ہے ، یوسف جب کنعان میں ہیں شفیق والد ہر وقت نگاہ میں رکھتے ہیں ، ایک لمحہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے ایک خواب بھائیوں کے دل میں حسد ورشک کے جذبات پیدا کردیتا ہے ۔ بھائی جنگل میں دور دراز ایک گہرے اور تاریک کنوئیں میں پھینک دیتے ہیں ، کہ ہلاک ہوجائے ، خدائے علیم دیکھ رہے ہیں ایک قافلہ کو بھیج دیتے ہیں ، اور وہ انہیں عزیز مصر کے گھر پہنچا دیتا ہے ۔ کس قدر عبرت کا مقام ہے کہ یوسف (علیہ السلام) ، خاندان نبوت کا چشم وچراغ ، غلاموں کی طرح بکتا ہے اور کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ یہی غلامی آقائی کی تمہید بن جاتی ہے ، اللہ اپنے ارادوں کی تکمیل کیلئے حیرت انگیز طریق اختیار کرتا ہے ، ہم چونکہ واقعات کے تمام جہتوں سے کما حقہ آگاہ نہیں ہوتے اور آیندہ کی نسبت علم نہیں رکھتے ہیں اس لئے بعض اوقات مصیبت سے گھبرا اٹھتے ہیں ، اور نہیں جانتے کہ اللہ کو کیا منظور ہے دیکھئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کن طریقوں سے مصر کی وزارت ملتی ہے ۔
Ayahs 12:22–23

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا ہم نے اسی حکم اور علم دیا ، اور اسی طرح ہم نیکوں کو جزا دیا کرتے ہیں ۔

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور جس عورت کے گھر میں وہ تھا اس نے اس کو اس کے نفس سے پھسلایا ، اور دروازے بند کر لئے ، اور کہا جلد آ ، یوسف (علیہ السلام) بولا ، اللہ کی پناہ ، وہ میرا آقا ہے ، اس نے میرا اچھا ٹھکانا کیا ، البتہ ظالم لوگ بھلائی نہیں پاتے (ف 1) ۔

عفت نفس کی بہترین مثال : (ف 1) جب یوسف (علیہ السلام) جوان ہوگئے ، تو عزیز مصر کی عورت نے اظہار عشق و محبت شروع کردیا ، اور ایک دن موقع پا کر مکان کے دروازے بند کردیئے ، اور دعوت دی کہ یوسف مصروف عیش ہوں ، آپ نے کمال پاکبازی سے جواب دیا ، کہ یہ کیونکر ممکن ہے عزیز مصر نے مجھ پر احسان کئے ہیں ، اور میں انہیں دھوکہ دوں ، یہ ظلم مجھ سے نہ ہو سکے گا ۔ یہ اس وقت کے تمدن کا صحیح نقشہ ہے ، کہ امراء کی عورتیں عام طور پر عصمت فروش ہوتی تھیں ، اور شہوات نفسانی میں اس درجہ غلو تھا ، کہ اپنے غلاموں سے بھی پرہیز نہیں تھا ، آج کل بھی اونچے طبقوں میں یہی کیفیت ہے کیونکہ دولت کی فراوانی کے ساتھ دینی ضبط اور کنٹرول نہیں جس سے نفس کی شورشوں کو روکا جاسکے ، حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ضبط نفس دیکھئے ، گناہ پوری طاقت کیساتھ دعوت عمل دے رہا ہے ، خود جوان ہیں ، عزیز مصر کی حسین ومعزز عورت بلا رہی ہے ، مکان بند ہیں ، پوری خلوت ہے مگر یوسف (علیہ السلام) خدا سے پناہ مانگتے ہو کے صاف بچ جاتے ہیں ۔ اور زبان حال سے گویا ہوتے ہیں ۔ ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں ۔ جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے ۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور عورت نے اس کے ساتھ ارادہ کیا ، اور اگر یوسف (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے برہان نہ دیکھتا تو وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا ، یوں ہی ہوا ، تاکہ ہم اس سے بی اور بےحیائی کو ہٹائیں ، کہ وہ ہمارے منتخب بندوں میں تھا (ف 2) ۔

(ف 2) ھمت بہ “۔ پر دراصل وقف ہے اور ” ھم بھا “ پر نہیں ، مقصد یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی لئے تو پورا پورا بدی کا ارادہ کرلیا تھا ، مگر یوسف (علیہ السلام) متوجہ نہیں ہوئے ، کیونکہ وہ برہان نبوت کو بصیرت کی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے موجودہ قرات صحیح نہیں ، اور بغرض صحت ” ھم بہا “ کے معنی تیہج نفسی کے ہیں ، جو طبعی بات ہے ، انبیاء (علیہم السلام) قوت رجولیت سے تو بہرحال دوسرے لوگوں سے زیادہ بہرہ مند ہوتے ہیں کیونکہ ان کی قوتیں بےلوث رہتی ہیں ، اور ضائع نہیں ہوتیں ، مگر اس قوت کا استعمال کبھی ناجائز طریق پر نہیں ہوتا ۔ آیت کا مقصد یہ ہوگا کہ اس دعوت معصیت پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا طبعی حدود تک متاثر ہونا لازم تھا ، مگر برھان نبوت نے انہیں بچا لیا اور حقیقت میں معلوم ہوتا ہے ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے باوجود نفسانی کشاکش کے جذبات پر فتح حاصل کرلی ، یہی اصل عفت ہے کہ نفس بشری مجبور کرے اور نفس نبوی آگاہ روک کر کھڑا ہوجائے ، وہ شخص جس کے دل میں گناہ کی تحریک ہی پیدا نہ ہو ، وہ اگر بچ جائے تو کمال نہیں ، کمال یہ ہے کہ باوجود نہایت خواہش نفس کے انسان عفیف رہے ۔ حل لغات : برھان : دلیل ہر وہبات جو اصل معاملہ کو واضح کر دے ، واستبقا : لپکے ، استبق کے معنے دوڑنے اور لپکنے کے ہیں ۔
Ayahs 12:25–28

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے ، اور عورت نے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھاڑ دیا ، اور عورت کا شوہر دروازے کے پاس دونوں کو مل گیا ، عورت بولی ، جس نے تیری عورت کے ساتھ بدی کا ارادہ کیا ، اس کی اور کیا سزا ہے ، مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ۔

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) بولا ، اسی نے مجھ سے یہ خواہش کی تھی ‘ کہ میں اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھوں ‘ اور عورت کے لوگوں میں سے ایک گواہ نے یوں گواہی دی کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پٹھا ہے تو عورت سچی اور وہ جھوٹا ہے ۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے ‘ تو عورت جھوٹی اور وہ سچا ہے ۔

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جب عورت کے شوہر نے اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا دیکھا ، تو بولا ، بیشک یہ تم عورتوں کا فریب ہے البتہ تمہارا فریب بڑا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) (آیت) ” ان کیدکن عظیم “۔ عزیز مصر کا مقولہ ہے کہ تمہارے چرتر بہت خطرناک ہیں ، اور وہ بھی اس زمانے کی عورتوں کے لئے عام عورتوں کے باب میں یہ صحیح نہیں ، اسلام نے عورتوں کو عفیف قرار دیا ہے ، اور ان کی عزت کی ہے ، اور واقع بھی یہی ہے کہ عورتیں عموما مردوں سے زیادہ عفیف ہوتی ہیں ، گناہ کی تحریک مردوں کی جانب سے ہوتی ہے ، اگر مرد خود پاکباز رہیں اور عورتوں کی بہتر تربیت کریں ، تو پھر اس نوع کے خطرات باقی نہیں رہتے ۔ حل لغات : کیدکن “۔ چرتر ، مکر ، فن ۔
Ayahs 12:29–31

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

اے یوسف (علیہ السلام) ، اس بات سے درگزر کر ، اور اے عورت ۔ اپنے گناہ کی معافی مانگ تو ہی خطاکاروں میں ہے ۔

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر کی عورتوں نے آپس میں کیا ، عزیز کی عورت اپنے غلام کو بدی پر پھسلاتی ہے ، اور اس کی محبت میں فریفتہ ہوگئی ہے ، ہم اسے صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں ۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب عزیز کی عورت نے عورتوں کے مکر کو سنا تو ان کی طرف بلاوا بھیجا اور ان کے لئے محفل جمائی اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری دی ، اور یوسف (علیہ السلام) سے کہا ان کے سامنے نکل آ پس جب عورتوں نے اسے دیکھا ، تو اسے بڑا جانا ، اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے ، اور کہا ، حاشا اللہ ‘ یہ انسان نہیں ، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے (ف 1) ۔

ازدیاد محبت : (ف 1) خوشبو اور محبت ہزار پردوں میں ہو ، چھپی نہیں رہتی خاتون مصر کے عشق کا دور دور چرچا ہوگیا ، گھروں میں عورتیں طعنے دینے لگیں کہ ایسی بھی کیا محبت جو اپنے غلام سے ہو ، اور والہانہ ہو یہ صریح گمراہی اور مغلوبیت ہے ، بات یہ ہے کہ جب تک واردات محبت سے کوئی شخص آگاہ نہیں ہوتا ، وردنہاں کا اندازہ نہیں کرسکتا ، انہیں کیا معلوم یوسف (علیہ السلام) میں کیا جادو ہے ، جو عزیز مصر ایسی شریف خاتون عزت وناموس سے بےپروا ہو کر باولی ہو رہی ہے ۔ جب امراۃ العزیز کو معلوم ہوا کہ کچھ عورتیں میرے یوسف (علیہ السلام) پر طعنہ زن ہیں ، اور میری محبت پر حرف گیر تو اس نے ایک دعوت طعام کا انتظام کیا ، عورتیں آ آکر سندوں پر بیٹھ گئیں ، چھریاں ہاتھ میں ہیں اور کھانے پینے میں مصروف ہوگئیں ، ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اس محفل قریب وطن میں داخل ہوں اور اپنے جلوہ پاک سے انہیں مسحور کردیں ، انہیں بتا دیں کہ عزیز مصر کا عشق کسی معمولی شخصیت کے ساتھ نہیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) سرداروں ہزار تقدس اس مجلس ناز میں اچانک داخل ہوئے ، عورتوں نے دیکھا کہ محسن ظاہری کے ساتھ حسن باطنی کی بھی کمی نہیں ، اور جبین تقدس سے پاکبازی کی تیز کرنیں نکل رہی ہیں ، تو بےاختیار بول اٹھیں ، سبحان اللہ ، یہ انسان نہیں ، کوئی پاک سیرت اور بزرگ فرشتہ ہے ، ہاتھ بےخودی میں کاٹ لئے ، نازک نازک انگلیاں زخمی ہوگئیں ، عزیز ومصر کو موقع مل گیا ، اس نے چمک کر کہا یہی ہے وہ مرد مقدس جس پر میں سو جان سے عاشق ہوں ، اور اسی کے بارہ میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں میں نے بہتیری کوشش کی کہ کسی طرح اس کو اپنی طرف مائل کروں ، مگر بچارہا ، یہ یاد رہے اب کی میں اسے مجبور کر دوں گی ، اور مگر یہ وہ کام کریگا جو میں اسے کہتی ہوں ، تو جیل میں بھجوا دوں گی ۔
Ayahs 12:32–34

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

عزیز کی عورت نے کہا ، یہی ہے وہ جس کی بابت تم نے مجھے ملامت کی ، میں نے اسے پھسلایا تھا کہ اپنا نفس میرے حوالہ کرے ‘ سو اس نے آپ کو بچایا اور البتہ اگر میرا کہا نہ مانے گا ، تو قید میں جائے گا ، اور ذلیل ہوگا ۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

بولا اے رب جس بات کی طرف مجھے یہ عورتیں بلاتی ہیں اس سے قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے ، اور اگر تو ان کا فریب مجھ سے دفع نہ کرے تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جاہلوں میں ہوں گا ،

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

سو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی ، پھر اس سے ان کا فریب ہٹایا ، البتہ وہ سنتا جانتا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیزہ مصر کا تو یہ جواب دیا ، کہ میں جیل میں جانا پسند کرتا ہوں مگر بہ دعوت معصیت قبول نہیں اور ان عورتوں کے متعلق جو دیدہ حیرت بن کر یوسف کو تک رہی تھیں ، اور چاہتی نہیں کہ کسی طرح ہماری کوئی ادا اسے پسند آجائے ، یہ دعا مانگی ، کہ اللہ ان نازک مواقع پر تو ہی ہے جو اپنے بندوں کو گناہوں سے بچاتا ہے ، جب چاروں طرف سے معصیت کے بادل گھر آئیں ، تو وہی ہے جو پاکدامنی کی توفیق مرحمت فرماتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور برائی سے متاثر نہ ہونا انتہا درجے کی خدا پرستی ہے ۔ غور کرو ، خوش جمال عورتوں کا براجما بیٹھا ہے ، اور عشق و محبت کے تیر برسائے جا رہے ہیں ، آتش نفس کو بھڑکایا جارہا ہے مگر وہ اللہ کا بندہ پیشگاہ جلالت میں دست بدعا ہے کہ خدایا اس مصیبت سے بچا ، اس ابتلاء سے مجھے نکال ، اور خالصۃ اللہ کی جانب رجوع ہے ، خدا کا خوف دل پر غالب ہے ۔ حل لغات : شغفھا : غلاف قلب میں محبت سما گئی ، ابو عبیدہ ؓ محبت نے دل پھونک دیا ، جوہری ، باؤلا کردیا ، نخاس ، دل کے ساتھ محبت چپک گئی ، دل کے پردوں کو چاک کرگئی ، سمین ، مختلف معانی ہیں ، غرض ایک ہے یعنی غلبہ ، عشق وجنون ۔ متکا : مسند ، بعض نے تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا ہے ، جس کے معنے ترنج کے ہیں ۔ اکبرنہ : مفسرین نے مختلف بھائی کئے ہیں ، جو حد درجہ کیک ہیں ، دراصل اس کے معنی یہ ہیں ، کہ انہوں نے غلاف توقع حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہایت قابل احترام پایا ۔
Ayahs 12:35–37

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر لوگوں کو نشانیاں دیکھنے کے بعد یوں سوجھا کہ اسے ایک وقت تک قید رکھیں ۔

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور اس کے ساتھ قید خانہ میں دو جوان داخل ہوئے ، ان میں سے ایک بولا میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوں اس میں سے پرندے کھاتے ہیں ، ہم تجھے نیک آدمی دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کی تعبیر بتلا ،

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

بولا ، جو کھانا تمہیں ہر روز ملتا ہے آج وہ تمہارے پاس آنے نہ پائے گا کہ اس کے آنے سے پہلے میں اس کی تعبیر تمہیں بتلاؤں گا ، یہ وہ علم ہے جو میرے رب نے مجھے سکھلایا ، میں نے ان کا دین چھوڑ دیا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کے منکر ہیں (ف 1) ۔

مسلمان قیدی کے فرائض دینی : (ف 1) اللہ کے نیک بندے جہاں کہیں ہوں اپنے فرائض تبلیغ سے غافل نہیں رہتے ، اور اپنے کردار وعمل سے یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ ہم نیکی کے داعی ، اور بھلائی کے مناء ہیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں بھیجدئیے گئے کیونکہ انہوں نے عزیز ، مصر کی محبت کو ٹھکرا دیا تھا اور ہوائے نفس کی مخالفت کی تھی ان کے ساتھ دو اور قیدی تھے ، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شراب کو نچوڑ رہا ہے ، اور دوسرے کے سر پر روٹیاں ہیں ۔ جنہیں پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نیک و صالح سمجھ کر تعبیر دریافت کی ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ میں ضرور تعبیر بتلاؤں گا پہلے چند گزارشات سن لیجئے ، اس کے بعد ان کا پورا وعظ مذکور ہے ، جس میں انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ مسئلہ توحید کو بیان کیا ، اور ان کی اس عقیدت سے جائز فائدہ اٹھایا ، پوچھا کہ بتاؤ ، تم بہت سے خداؤں کو پسند کرتے ہو ، یا ایک مالک کو جو سب پر حاکم ہو ، غرض یہ تھی کہ یہ لوگ ایمان کی نعمت سے بہرہ ور ہوجائیں ، قرآن چونکہ کامل دستور العمل ہے اس لئے ضرور تھا کہ وہ بتائے کہ قیدیوں کے لئے کیا طریق کار ہو ، وہ قید کے دن کس طرح کاٹیں ، اسوہ یوسف اسیران بالا کے لئے درس حکمت ہے مسلم قیدی کے فرائض میں ہے کہ وہ وہاں بھی نیک اور صالح رہے ، اور لوگ اس کے نیک وجود سے برابر استفادہ کرتے رہیں ، جیل کی چار دیواری میں بھی وہ اس درجہ خود دار ہو کہ (آیت) ” ان الحکم الا للہ “۔ کی تلقین کرے اور سوائے اللہ کے اور کمی سے نہ ڈرے ہوتا یہ ہے کہ کے وقتوں کو انسان پر داشت کرلیتا ہے مگر معصیت وابتلا کی آزمائش کڑی ہوتی ہے حضرت یوسف نے قصر شاہی میں رہ کر عفاف وعصمت کا ثبوت دیا اور جیل کی بند کوٹھڑی میں بھی تبلیغ جاری رکھی ۔ حل لغات : اسمآء : بعضے خالی نام جس میں کوئی حقیقت نہ ہو ، الدین القیم : قائم رہنے والا دین ۔