12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

ا ل ر تلک اٰیٰت الکتب المبین۔ الر۔ یہ آیتیں ہیں ایک کتاب واضح کی۔ تلک سے آیات قرآن کی طرف اشارہ ہے اور الکتاب کی طرف آیات کی اضافت بتقدیر مِنْ ہے (کتاب سے یعنی کتاب کی آیات) اور الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی یہ آیات اس قرآن کی جس کا اعجاز ظاہر ہے ‘ یا جس کے مضامین حلال حرام حدود اور احکام واضح ہیں۔ قتادہ نے کہا : وا اللہ ! اس کی برکت ‘ ہدایت اور رشد آگینی ہے۔ زجاج نے کہا : یہ حق کو باطل سے اور حرام کو حلال سے واضح کرنے والا ہے (اس قول پر مبین متعدی ہوگا اور قتادہ کے قول پر لازم ہوگا) ۔ بعض علماء کے نزدیک تلک سے آیات سورة کی طرف اشارہ ہے اور الکتاب سے مراد سورة ہے۔ یعنی یہ سورة کی آیات ہیں جو اس پر غور کرے گا ‘ اس پر واضح ہوجائے گا کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے (مخلوق کا کلام نہیں ہے) ۔ یا یہ مراد ہے کہ یہودیوں پر (ان کے سوال کا جواب) واضح کردینے والا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ علماء یہود نے مشرکوں سے کہا تھا کہ محمد ﷺ سے دریافت کرو کہ اولاد یعقوب شام چھوڑ کر مصر کیوں آگئی ہے اور حضرت یوسف کا کیا واقعہ ہوا تھا ؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ صاحب باب النقول الباب نزول نے اس شان نزول کا ذکر نہیں کیا۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو

انا انزلنا قراٰنًا عربیًا ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا۔ قرآن اس میں جنس ہے ‘ اس کا اطلاق پوری کتاب پر بھی ہوتا ہے اور ہر جز پر بھی ‘ اگرچہ غلبۂ استعمال کی وجہ سے پورے قرآن کا نام اس کو قرار دے دیا گیا ہے لہٰذا قرآن کا حمل الکتاب پر ہوسکتا ہے خواہ الکتاب سے مراد سورت ہی لی جائے (کیونکہ اجزائے کتاب کو بھی قرآن کہا جاسکتا ہے) ۔ عَرَبِیًّا کا لفظ حال ہے اور قرآنًا اس کی تمہید۔ یا قرآن موصوف ہے (جبکہ قرآن کو بمعنی اسم مفعول کے لیا جائے) اور عربیًا صفت ہے۔ عربیًا کہنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن تمہاری زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ لعلکم تعقلون۔ تاکہ تم سمجھو۔ یعنی قرآن کے معانی کو سمجھو اور فہم و دانش سے کام لے کر اس کے لطائف اور لفظی و معنوی خوبیاں جان لو۔ (1) [ خالد بن عرفظہ کا بیان ہے : میں حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ خاندان عبدالقیس کے ایک آدمی کو پیش کیا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : تو فلاں شخص ہے خاندان عبدالقیس کا ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں۔ آپ نے اس کو اپنی قمچی سے مارا۔ اس شخص نے کہا : امیر المؤمنین ! میں نے کیا کیا ہے ؟ فرمایا : بیٹھ جا۔ وہ بیٹھ گیا۔ آپ نے اس کو تین بار یہ آیات سنائیں : بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ا ل ر تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتَابِ الْمُبِیْنَ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ اور ہر مرتبہ قمچی سے مارا۔ اس شخْص نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! میرا قصور کیا ہے ؟ فرمایا : تجھے دانیال (پیغمبر) کی کتاب پسند ہے۔ اس شخص نے کہا : پھر آپ مجھے کچھ حکم دیں ‘ میں اس کی تعمیل کروں گا۔ فرمایا : جا کر کوئلے اور اونی کپڑے کے ٹکڑے سے رگڑ کر اس کو مٹا دے ‘ آئندہ پھر اس کو نہ خود پڑھنا نہ کسی کو پڑھانا۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں اہل کتاب سے ان کی کتاب کی ایک نقل چمڑے میں رکھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ کتاب کی نقل ہے ‘ ہم نے اپنے علم میں اضافہ کرنے کیلئے اس کو حاصل کیا ہے۔ یہ سنتے ہی حضور ﷺ کے دونوں رخسار (غصہ سے) سرخ ہوگئے۔ پھر نداء دی گئی : الصلوٰۃ جامعۃ۔ انصار کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ کو غصہ آگیا (کوئی خاص بات ہے) مسلح ہوجاؤ۔ یہ کہہ کر انصار نے رسول اللہ ﷺ کے منبر کو (حفاظت کیلئے) چاروں طرف سے گھیر لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! مجھے کلمات جامعہ و خاتمہ عطا کر دئیے گئے ہیں ‘ میرے لئے (سب کا) خلاصہ کردیا گیا ہے (یعنی تمام گزشتہ آسمانی کتابوں کا یہ مختصر خلاصۂ جامعہ ہے) میں تمہارے پاس ان کلمات کو روشن ‘ صاف ستھری شکل میں لے آیا کہ تم تردد نہ کرو اور حیرانی میں پڑے ہوئے لوگوں کے تردد سے فریب نہ کھاؤ۔ میں یہ سن کر کھڑے ہو کر عرض کیا : میں دل سے پسند کرتا ہوں ‘ اللہ کے رب ہونے کو اور اسلام کے دین ہونے کو اور آپ کے رسول ہونے کو۔ پھر حضور ﷺ منبر سے اتر آئے۔ ابراہیم نخفی نے اسی طرح روایت کی ہے (ازالۃ الخفاء)] حاکم وغیرہ نے بیان کیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا اور آپ نے ایک زمانہ تک لوگوں کو پڑھ کر سنایا تو صحابہ نے (ایک روز) عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ہم کو کوئی قصہ سناتے (تو بہتر ہوتا) اس پر آیت اللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِالخ نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے اس روایت میں اتنا اور زائد نقل کیا ہے کہ اس کے بعد صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اگر آپ ہم کو نصیحت فرماتے اور یاددہانی کرتے (تو ہمارے لئے مفید ہوتا) اس پر آیت اَلَمْ یَأْنِلِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ الخ نازل ہوئی۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔ حضرت ابن عباس (یا حضرت ابن مسعود) نے فرمایا کہ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کوئی قصہ بیان فرمائیے تو نازل ہوا۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے

نحن نقص علیک احسن القصص ہم تم سے بہترین قصہ بیان کرتے ہیں۔ القصص یا مصدر ہے ‘ اس وقت مفعول مطلق ہوگا : بہترین بیان ‘ نادر ترین اسلوب کے ساتھ۔ یعنی ہم گزشتہ امم اور پارینہ اقوام کے قصے بہترین اسلوب کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یا القصص سے مراد ہے قصہ ‘ اس وقت مفعول بہ ہوگا ‘ یعنی قصہ حضرت یوسف بیان کرتے ہیں جو بہترین قصہ ہے۔ اس قصہ میں عجائبات قدرت ہیں ‘ عبرتیں اور حکمتیں ہیں ‘ وقائق اور فوائد ہیں جو دین و دنیا کے حالات کو درست کرنے والے ہیں۔ بادشاہوں اور رعایا کی سیرتیں اور علماء کے خصائل ہیں ‘ عورتوں کی مکاری کا اظہار ہے ‘ دشمنوں کی ایذاء پر صبر کرنے کا بیان ہے ‘ قابو پانے کے بعد بھی دشمنوں سے درگذر کرنے کی تعلیم ہے۔ اس صورت میں قصص بروزن فعل بمعنی اسم مفعول کے ہوگا ‘ جیسے نقض بمعنی منقوض اور سلب بمعنی مسلوب کے آتا ہے۔ قَصَّ اَثَرَہٗ اس کے نقش قدم پر چلا ‘ اس کی پیروی کی۔ قصہ بیان کرنے والا واقعات کو صحیح صحیح بیان کرتا ہے ‘ جیسی خبر ہوتی ہے اسی کے موافق اظہار کرتا ہے (گویا اپنے بیان میں گذرے ہوئے واقعہ کا اتباع کرتا ہے) ۔ خالد بن معدان نے کہا : سورة یوسف اور سورة مریم مزے لے لے کر اہل جنت ‘ جنت میں پڑھیں گے۔ ابن عطاء نے کہا : ہر غم رسیدہ سورة یوسف سن کر کچھ چین پاتا ہے۔ بما اوحینا الیک ھذا القرآن اس قرآن کو وحی کے ذریعے سے آپ کے پاس بھیجنے کے سبب سے۔ ما اوحینا سے مراد ہے : وحی کرنا (یعنی ما مصدری ہے) اور القرآن سے مراد سورة یوسف ہے۔ وان کنت من قبلہ لمن الغٰفلین۔ اگرچہ آپ اس سے پہلے ناواقف تھے۔ یعنی وحی کرنے سے پہلے آپ اس قصہ سے ‘ یا ان تمام قصص ‘ یا احکام و شرائع سے ناواقف تھے جن کی اطلاع آپ کو وحی کے ذریعہ سے دی گئی ہے۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں

اذ قال یوسف لابیہ جبکہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا تھا۔ اگر احسن القصص کو مفعول بہ قرار دیا جائے تو اِذْ قَالَ یُوْسُفُ اس سے بدل اشتمال ہوگا۔ یا یوں کہا جائے : اُذْکُرْ فعل محذوف ہے اور اِذْ قَالَ اس کا مفعول فیہ ہے (اس وقت کو یاد کرو جب حضرت یوسف نے کہا تھا) یوسف عبرانی لفظ ہے ‘ اسی لئے یہ لفظ غیر منصرف ہے۔ آپ کے باپ حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے (اور یہ سب بزرگ پیغمبر تھے) امام احمد اور بخاری نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کریم بن کریم بن کریم بن کریم ‘ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔ یابت اني رایت احد عشر کوکبًا والشمس والقمر ابا جان ! میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور چاند اور سورج دیکھے۔ رَایَتُ (اس جگہ) رؤیا (خواب) سے مشتق ہے۔ رویت (دیکھنا) سے ماخوذ نہیں ہے کیونکہ آگے آیت میں لا تقصص رؤیاک اور ہذا تاویل رُؤیایء آیا ہے۔ سعید بن منصور نے سنن میں اور بزار و ابو یعلی نے اپنی اپنی سندوں میں اور ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و ابو الشیخ و ابن مردویہ نے اپنی تفسیروں میں اور عقیلی وابن حبان نے ضعفاء میں اور حاکم نے مستدرک میں اور ابو نعیم و بیہقی نے دلائل النبوت میں حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو بشرط مسلم صحیح بھی قرار دیا ہے کہ ایک یہودی نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : (بیہقی نے اس یہود کا نام بستان لکھا ہے) محمد ﷺ ان ستاروں کے متعلق وضاحت کرو ‘ جو یوسف نے (خواب میں) دیکھے تھے۔ حضور ﷺ خاموش رہے اور حضرت جبرئیل نے نازل ہو کر آپ کو اطلاع دی تو حضور ﷺ نے فرمایا : اگر میں تجھے بتادوں گا تو کیا تو مان لے گا ؟ یہودی نے جواب دیا : جی ہاں۔ فرمایا : (گیارہ ستارے) جرثان ‘ الطارق ‘ الذبال ‘ قالبس ‘ عمودان ‘ الفلیق ‘ المصبح الضرغ ‘ الضروح ‘ وثاب اور ذوالکتفین تھے۔ ان کو اور سورج و چاند کو حضرت یوسف نے دیکھا تھا کہ اوپر سے اتر کر ان سب نے حضرت یوسف کو سجدہ کیا۔ یہودی بولایا : بیشک ‘ خدا کی قسم ! ان کے یہی نام تھے۔ رایتھم لي سجدین۔ میں نے ان کو دیکھا کہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ سجدہ کرنا ذوی العقول کی خصوصیت ہے ‘ اسلئے ستاروں کے بےعقل ہونے کے باوجود ان کو صاحب عقل قرار دے کر بصیغۂ ذوی العقول ان کی تعبیر کی اور ذوی العقول ہی کی ضمیر ان کی طرف راجع ہے۔ تعبیر کے لحاظ سے گیارہ ستاروں سے گیارہ بھائی مراد تھے ‘ ستاروں کی طرح وہ بھی سرچشمۂ انوار تھے اور سورج سے اشارہ باپ کی طرف تھا اور چاند سے اشارہ ماں کی طرف تھا۔ سدی نے کہا : حضرت یوسف کی ماں راحیل کا تو انتقال ہوچکا تھا ‘ اسلئے چاند سے اشارہ آپ کی خالہ کی طرف تھا۔ ابن جریج نے کہا : شمس مؤنث (مستعمل) ہے اور قمر مذکر ہے ‘ اسلئے شمس سے ماں کی طرف اور قمر سے باپ کی طرف اشارہ تھا۔ مگر یہ قول غلط ہے۔ شمس کی تانیث اور قمر کی تذکیر تو عربی لغت میں ہے (واقعہ میں نہ سورج مؤنث ہے اور نہ چاند مذکر) سورج ‘ چاند سے زیادہ روشن ہے ‘ اسلئے سورج سے باپ اور چاند سے اشارہ ماں کی طرف تھا۔ حضرت یوسف نے یہ خواب جمعہ کی رات میں جو شب قدر بھی تھی ‘ دیکھا تھا۔ یہ قول بعض علماء کا ہے (جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ مترجم)
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

قال یٰبني لا نقصص رء یاک علی اخوتک باپ نے کہا : بیٹا ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ بیان کرنا۔ بُنَيَّ تصغیر کا صیغہ ہے ‘ کم عمر ہونے کی وجہ سے یا بوجہ انتہائی پیار کے تصغیر کا صیغہ استعمال کیا۔ بغوی نے لکھا ہے : حضرت یوسف اس وقت بارہ سال کے تھے۔ رؤیا نیند میں یا نیند جیسی کسی استغراق کی حالت میں کچھ دیکھنا۔ معمولی دیکھنے کو رویت تاء کے ساتھ کہتے ہیں اور نیند (وغیرہ) میں دیکھنے کو رؤیا بالف مقصورہ کہا جاتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : قوت خیالیہ سے اتر کر اگر کوئی صورت حس مشترک میں چھپ جاتی ہے تو اس کو رؤیا کہا جاتا ہے۔ نفس ناطقہ اور عالم ملکوت میں (تجرد ذاتی کی) مناسبت ہے ‘ اسلئے نفس کو جب انتظام بدن سے (نیند وغیرہ میں) کسی قدر فرصت ملتی ہے تو اس کا رخ عالم ملکوت کی طرف ہوجاتا ہے (اور چونکہ عالم ملکوت میں تمام غیر مادی حقائق و معانی کی غیر مادی صورتیں موجود ہیں ‘ اسلئے نفس) وہاں سے کچھ (غیر مادی) معانی کو (غیر مادی) صورتوں میں حاصل کرتا ہے (اور واپس لوٹ کر قوت خیالیہ کے سامنے رکھتا ہے) پھر قوت خیالیہ ان کو مناسب مادی شکلیں پہنا کر حسن مشترک کے سامنے لاتی ہے ‘ اس طرح غیر محسوس حقائق محسوس ہوجاتے ہیں اور یہی سچا خواب ہوتا ہے۔ اب اگر غیر مادی اور مادی صورتوں میں گہری مناسبت ہوتی ہے کہ دونوں میں سوائے کلی اور جزئی ہونے کے اور کوئی فرق نہیں ہوتا (غیرمادی) صورت کلی اور مادی شکل جزئی) تو تعبیر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور گہری مناسبت نہیں ہوتی تو تعبیر کی حاجت ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں : قوت متخیلہ سے جو صورتیں اتر کر حس مشترک میں چھپتی ہیں ‘ نفس ان کا مطالعہ اسی وقت کرتا ہے جب نیند یا استغراق کی حالت میں اس کو مطالعۂ محسوسات (اور بیرونی انتظامات) سے فرصت ملتی ہے۔ اس کی تین قسمیں ہیں ‘ دو غلط اور ایک صحیح اور صحیح بھی کبھی مختلف عوارض کی وجہ سے مخلوط ہوجاتی ہے ‘ غلطی بھی اس میں شامل ہوجاتی ہے اور کبھی تعیبر میں غلطی ہوجاتی ہے۔ 1) بیداری میں دیکھی ہوئی صورتیں خواب میں دکھائی دیتی ہیں یا قوت خیالیہ از خود ان کو اختراع کرلیتی ہے ‘ واقع میں ان کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔ اس خواب کو حدیث نفس کہتے ہیں۔ 2) انسان کے بدن کے اندر شیطان ان تمام مقامات میں تیر جاتا ہے جہاں جہاں خون دوڑتا ہے ‘ اسلئے بعض وقت قوت خیالیہ میں کوئی ہیبت آفریں ‘ ڈراؤنی شکل یا تفریح آگیں صورت ڈال دیتا ہے۔ ایسے خواب کو بدخواب ‘ یا حلم ‘ یا تخویف الشیطان کہا جاتا ہے۔ 3) اللہ کی طرف سے خزائن غیب میں سے کسی امر کا ‘ یا اپنی پوشیدہ صفات میں سے کسی خاص صفت کا ‘ یا مدارج قرب ذات میں سے کسی درجۂ خاص کا الہام اور القاء ہونا ہے (یعنی قلبی فیضان یا روحانی تنویر) یہی الہام بندے کیلئے بشارت (غیبی) بن جاتا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کا خواب ایک کلام ہوتا ہے کہ بندے سے اس کا رب کلام کرتا ہے۔ رواہ الطبرانی بسند صحیح۔ یہ خواب صحیح ہوتا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک خواب کی تحقیق یہ ہے کہ عالم کبیر تو یہ سارا عالم ہے اور عالم صغیر انسان ہے۔ عالم کبیر ایک شخص معین کا نام ہے جس کا نفس بھی ہے ‘ روح بھی ہے اور مختلف قوتیں بھی ہیں۔ اس کی شکل انسانی شکل کی طرح ہے اسلئے اس کو انسان کبیر کہا جاتا ہے۔ گویا جس طرح انسان عالم صغیر ہے ‘ اسی طرح یہ سارا جہان انسان کبیر ہے۔ دونوں میں گہری اور کامل مشابہت ہے۔ جس طرح انسان میں قوت متخیلہ ( اور اس کی کارفرمائی) ہے ‘ اسی طرح عالم کبیر کی بھی قوت متخیلہ ہے جس کے اندر تمام محسوسات اور غیر محسوسات ‘ اعراض ‘ جواہر ‘ مجردات اور معانی (حقائق غیر مادیہ) موجود ہیں تمام ممکنات خواہ مادی ہوں یا مادے سے خالی۔ یہاں تک کہ وہ چیزیں بھی جن کی خارج میں کوئی صورت نہیں مثلاً موت ‘ زندگی ‘ دن ‘ سال ‘ بیماری بلکہ اللہ کی ذات و صفت کی صورتیں بھی اللہ نے عالم کبیر میں قوت متخیلہ میں پیدا کردی ہیں اور ہر چیز مصور ہو کر اس میں موجود ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے نجار کو سیاہ فام عورت کی شکل میں دیکھا تھا اور حضرت یوسف نے گائے اور گیہوں کی بالیوں کی تعبیر میں کہا تھا کہ یہ ارزانی اور قحط کے سال ہیں۔ اب یہ ضروری نہیں ہے کہ جو شکل عالم کبیر کی متخیلہ میں کسی چیز کی ہو ‘ وہ اسی طرح ہو جس طرح ہمارے دماغوں میں اس کی آتی ہے یعنی خواب کی شکل کا محکی عنہ (عالم کبیر کی متخیلہ والی شکل) سے مطابق اور اس کی جنس سے ہونا ضروری نہیں بلکہ دونوں میں قدرے مناسبت کافی ہے۔ یہ مناسبت ظاہر ہو یا مخفی ‘ بہرحال اس مناسبت کی وجہ سے عالم کبیر کی متخیلہ میں اس چیز کی صورت آجاتی ہے۔ اسی مناسبت کی وجہ سے حضرت یوسف نے اپنے ماں باپ اور بھائیوں کو چاند سورج اور ستاروں کی صورت میں دیکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خواب چھ ہیں : عورت (کو خواب میں دیکھا جائے تو اس سے مراد) بھلائی ہے ‘ اور اونٹ (سے مراد) لڑائی ہے ‘ او دودھ (سے مراد) فطرت ہے ‘ اور سبزی (سے مراد) جنت ہے ‘ اور کشتی (سے مراد) نجات ہے ‘ اور چھوارے (سے مراد) رزق ہے۔ یہ روایت ابو یعلی نے معجم میں ضعیف سند سے بیان کی ہے۔ عالم کبیر کی اسی متخیلہ کو صوفیاء کی اصطلاح میں عالم مثال کہتے ہیں (امام غزالی اور امام الہند شاہ ولی اللہ نے اسی کو عالم اشباح کہا ہے۔ مترجم) جب نفس انسانی محسوسات کے مطالعہ سے کسی قدر فرصت پاتا ہے تو عالم کبیر کی قوت متخیلہ کی طرف اس کی توجہ ہوجاتی ہے اور عالم کبیر کی متخیلہ میں موجود رہنے والی کچھ صورتیں اتر کر انسان کی متخیلہ میں آجاتی ہیں ‘ یہی سچا خواب ہوتا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) چونکہ مجانب اللہ شیطان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہیں ‘ ان کی قوت خیالیہ وہم کی دخل اندازیوں سے مامون ہوتی ہے ‘ نیند کی رسائی محض ان کی آنکھوں تک ہوتی ہے ‘ دل بیدار رہتے ہیں اسلئے خیال کی خود تراشیدہ تصویروں اور الہامی حقائق میں ان کو کامل امتیاز ہوتا ہے۔ ان کے خوابوں میں غلطی پیدا کرنے والے عوارض مفقود ہوتے ہیں ‘ اسی وجہ سے ان کے خواب ہمیشہ حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں اور قطعی وحی کا حکم رکھتے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہوں اور بیٹے سے فرمایا : اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذُنَجْکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی تو بیٹے نے جواب دیا : یٰٓا اَبَتِ اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرْ (دیکھو ! حضرت اسماعیل نے نبوت کے خواب کو اغواء شیطانی اور وہم کی کارفرمائی نہیں قرار دیا بلکہ امر خداوندی سمجھا۔ مترجم) ۔ سخت ریاضت کی وجہ سے اولیاء کی نفوس قدسیہ پاک صاف ہوتے ہیں ‘ خلقی کدورتیں دھل جاتی ہیں ‘ گناہوں کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور ذنوب و معاصی کی سیاہی سے ان کا آئینۂ دل صاف ہوجاتا ہے اور انوار نبوت کی پرتو اندازی سے ان کے باطن روشن ہوجاتے ہیں ‘ اسلئے ان کے خواب بھی اکثر سچے اور مبنی برحقیقت ہوتے ہیں۔ ہاں اگر کبھی وہ کوئی مشتبہ ‘ مشکوک چیز کھا لیں یا ضرورت بقائی سے زیادہ کھا لیں تو کچھ باطنی کدورت پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے خواب کی سچائی میں کبھی فرق آجاتا ہے۔ کبھی عوامی صحبت کا پرتو ان کے اندرونی احوال پر پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے کچھ اندرونی کثافت پیدا ہوجاتی ہے۔ کبھی کسی گناہ کا کوئی کچوکا لگ جاتا ہے ‘ کیونکہ فطرتاً وہ انبیاء کی طرح معصوم نہیں ہوتے ‘ ان وجوہ سے بھی ان کے خوابوں میں اتفاقی طور پر فساد پیدا ہوجاتا ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے مؤمن کے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں جزء قرار دیا ‘ اور فرمایا : مؤمن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم نے حضرت انس ‘ حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے اور امام احمد ‘ ترمذی اور ابو داؤد نے صرف حضرت عبادہ کی روایت سے اور صرف بخاری نے حضرت ابو سعید کی روایت سے اور مسلم نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور امام احمد و ابن ماجہ نے حضرت ابو رزین کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کی ہے۔ صحیحین کی اوّل الذکر روایت کے علاوہ باقی روایات میں مؤمن کے خواب کے بجائے رویائے صالحہ کا لفظ آیا ہے۔ ابن ماجہ اور امام احمد نے صحیح سند سے حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ نیک مسلمان کا خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ ترمذی نے حضرت ابو رزین کی روایت سے بیان کیا کہ مؤمن کا خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ طبرانی نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کی روایت سے حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نیک مؤمن کا خواب اللہ کی طرف سے بشارت اور نبوت کے پچاس اجزاء میں سے ایک جزء ہوتا ہے۔ ابن النجار کی روایت میں حضرت ابن عمر کی (بیان کردہ) حدیث میں نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزء فرمایا ہے۔ ایک سوال : خواب کا جزء نبوت ہونا کیا حقیقت رکھتا ہے اور تعداد اجزاء کے اختلاف کو دور کرنے کی کیا صورت ہے ؟ جواب : کل مدت وحی (و نبوت) 23 سال ہوئی جس میں سے ابتدائی چھ ماہ تک سچے خواب دکھائی دیتے تھے۔ جو خواب بھی نظر آتا تھا ‘ فجر کے تڑکے کی طرح بعینہٖ سامنے آجاتا تھا ‘ اسلئے نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے خواب ایک جزء ہوگیا (کیونکہ 23 سال کی ششماہیاں چھیالیس ہوتی ہیں اور ابتدائی ششماہی نبوت بصورت خواب کی تھی ‘ اس طرح سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوگیا) باقی چالیس اور پچاس والی روایتیں تخمینی ہیں ‘ تحقیقی نہیں۔ کسر کو اس میں بالکل ساقط کردیا گیا ہے یا پورا جوڑ لیا گیا ہے۔ رہی وہ روایت جس میں ستر کی تعداد آئی ہے تو وہاں ستر سے عدد مخصوص مراد نہیں ہے بلکہ عدد کثیر مراد ہے۔ جیسے آیت اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً میں عدد کثیر مراد ہے۔ عرب ستر کا لفظ بول کر عدد کثیر مراد لے لیتے ہیں۔ اس روایت پر حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ خواب نبوت کے کثیر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ باقی پچیس والی روایت شاذ ہے۔ عوام کے خواب بھی اگرچہ عالم مثال سے ہی مستفاد اور حاصل ہوتے ہیں ‘ لیکن اکثر غلط اور جھوٹے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے خیالات میں نفسانی اور فطری کثافتوں اور کدورتوں کی آمیزش ہوتی ہے اور کدورتوں کی پیدائش کا سرچشمہ گناہ ہوتے ہیں۔ اگر تصویر خوابی اور عالم مثال کی صورت میں مشابہت اور تعلق واضح نہ ہو تو کبھی تعبیر میں غلطی ہوجاتی ہے۔ صحت تعبیر یا تو اللہ کی طرف سے الہامی ہوتی ہے ‘ جیسے ویعلمک من تاویل الاحادیث میں مراد ہے کہ اللہ خواب کی تعبیریں تم کو الہام کرتا ہے۔ الہامی تعبیر تو اکثر ان لوگوں کو میسر آتی ہے جو صالح اور اہل الہام ہوں یا صحت تعبیر عقل سلیم کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ترمذی نے صحیح سند سے حضرت ابو رزین کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کا خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے اور خواب جب تک بیان نہ کیا جائے ‘ پرندے کی ٹانگ پر (معلق) رہتا ہے ‘ جب بیان کردیا جاتا ہے تو گرپڑتا ہے۔ تم سوائے دانش مند یا حبیب کے کسی سے اپنا خواب نہ بیان کرو۔ بعض روایات میں حبیب کی جگہ مَنْ تُحِبُّ کا لفظ آیا ہے (یعنی جس سے تم محبت کرتے ہو ‘ جو تمہارا دوست ہو) ابو داؤد اور ابن ماجہ نے صحیح سند سے حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ خواب پرندہ کی ٹانگ پر رہتا ہے جب تک اس کی تعبیر نہ دے دی جائے۔ جب تم اس کی تعبیر دے دو تو وہ گرپڑتا ہے۔ اور خواب دوست یا صاحب رائے (عقل و فہم) کے سوا اور کسی سے نہ بیان کرو۔ میرے نزدیک اس حدیث میں طائر سے مراد ہے : قضاء و قدر ‘ یعنی جو آدمی کیلئے مقدر کیا جا چکا ہے۔ آیت مبارکہ ہے : وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنَاہُ طَاءِرَہُ فِیْ عُنُقِہٖ یعنی ہر انسان کے گلے سے اس کا مقدر (عمل وغیرہ) ہم نے باندھ دیا ہے۔ اس صورت میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ مؤمن کا خواب اللہ کی طرف سے مقرر کئے ہوئے فیصلے اور تقدیر پر مبنی ہوتا ہے۔ جب تک اس کو بیان کر کے تعبیر نہ لے لی جائے ‘ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا مقدر کیا گیا ہے۔ جب تعبیر دینے والا الہام کے زیر اثر یا عقل ‘ قوت ‘ فہم اور وہبی ملکۂ استبناط کی وجہ سے تعبیر دے دیتا ہے تو خواب گرپڑتا ہے ‘ یعنی ظاہر ہوجاتا ہے اور خواب کا مقتضٰی واضح ہوجاتا ہے اور خواب سوائے دانشمندیا حبیب اور صاحب مؤدت کے اور کسی سے نہ بیان کرو۔ حبیب اور صاحب مؤدت سے مراد ہے مرد صالح جو اللہ سے اور مؤمنوں سے محبت رکھتا ہے اور اس کے صالح ہونے کی وجہ سے اللہ کو اور مؤمنوں کو بھی اس سے محبت و مؤدت ہوتی ہے۔ مَنْ تُحِبُّکے لفظ کا بھی یہی مطلب ہے کہ جس سے تم کو محبت ہو ‘ یعنی وہ مرد صالح ہو کیونکہ مؤمن کو مرد صالح سے ہی محبت ہوتی ہے۔ حاصل یہ کہ دانشمند تو دانش و عقل کی روشنی میں صحیح تعبیر دے گا اور حبیب (یعنی اللہ اور مؤمنوں کا محب و محبوب) الہام کے زیر اثر درست تعبیر دے گا۔ ان دونوں کی تعبیر میں غلطی واقع نہیں ہوگی۔ خواب کے اقسام مذکورہ احادیث سے مستفاد ہیں۔ ابن ماجہ نے صحیح سند سے حضرت عوف بن مالک کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خواب تین (قسم کے) ہوتے ہیں : 1) آدمی کو رنجیدہ کرنے کیلئے شیطان کی طرف سے تخویف۔ 2) بیداری میں آدمی بعض باتیں کرتا یا ان کا ارادہ کرتا ہے ‘ پھر خواب میں انہی کو دیکھ لیتا ہے (یعنی حدیث نفس) ۔ 3) نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے صحیح سند سے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خواب تین ہیں : اللہ کی طرف سے بشارت اور حدیث نفس اور شیطان کی طرف سے ڈراوا۔ اگر کوئی خوش کن خواب دیکھے اور بیان کرنے کو دل چاہے تو بیان کر دے اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی سے بیان نہ کرے بلکہ اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ میں (خواب میں) طوق دیکھنے کو برا سمجھتا ہوں ‘ یہ مصائب اور دنیوی مشاغل میں پھنساؤ ہے (مترجم) اور بیڑی کو (خواب میں دیکھنا) پسند کرتا ہوں ‘ بیڑی (کی تعبیر) دین کی پابندی ہے۔ مسلم نے حضرت ابو قتادہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے۔ جو شخص برا ‘ ناگوار خواب دیکھے ‘ وہ بائیں جانب تھوک دے اور شیطان سے اللہ کی پناہ کا خواستگار ہو اور کسی سے بیان نہ کرے۔ خواب سے اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچے گا اور اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو اور سوائے اس کے جس سے اس کو محبت ہو اور کسی سے بیان نہ کرے۔ بخاری و مسلم نے صحیحین میں اور ابو داؤد نے سنن میں اور ترمذی نے جامع میں حدیث ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے۔ اگر کوئی شخص کوئی برا خواب دیکھے تو بیدار ہونے کے بعد بائیں طرف تین بار تھتکار دے اور اللہ کی پناہ مانگے تو خواب سے اس کو ضرر نہ ہوگا۔ بات یہ ہے کہ خواب اگر شیطان کی طرف سے تخویف اور وسوسہ ہو تو اللہ کی پناہ مانگنے سے اس کا اثر زائل ہوجائے اور اگر عالم مثال کی عکاسی اور صورت کشی ہو تو یہ صورت کشی کبھی قضاء معلق کی ہوتی ہے ( کہ اگر اس کا شرعی تدارک و تلافی نہ ہو تو اس کا وقوع ہوجائے اور تدرک ہوجائے تو وقوع نہ ہوگا) اللہ کی پناہ گیری قضاء معلق کو بھی رد کردیتی ہے (کیونکہ دعا اور تعوذ سے اس کا تدارک ہوجاتا ہے) اور رسول اللہ ﷺ نے جو برے خواب کو بیان کرنے کی ممانعت اور اٹھ کر نماز پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی تعبیر سے خواہ مخواہ رنج ہوگا ‘ اسلئے مناسب یہ ہے کہ نماز کی طرف رجوع کرے اور اللہ سے اس کو دفع کرنے کی دعا کرے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت سلمان کی روایت سے اور ابن حبان و حاکم نے حضرت ثوبان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قضاء (معلق) کو سوائے دعا کے اور کوئی چیز رد نہیں کرتی۔ برے خواب کو بیان کرنے کی ممانعت نہ تحریمی ہے نہ تنزیہی (بلکہ رنجیدگی اور غم سے بچانے کیلئے ہے) رسول اللہ ﷺ نے خود احد کی جنگ (سے پہلے اس) کے متعلق فرمایا تھا : میں نے خواب میں اپنی شمشیر ذوالفقار کی دھار ٹوٹی ہوئی دیکھی اور یہ مصیبت ہے اور میں نے گائے کو ذبح ہوتے دیکھا اور یہ بھی مصیبت ہے۔ آیت وَاِذ غدوت من اھلک سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ حدیث ذکر کردی گئی ہے۔ حضور ﷺ نے خواب میں اپنے منبر پر بنی امیہ کو چڑھے دیکھا اور حضور ﷺ کو یہ امر ناگوار گذرا ‘ مگر آپ نے یہ خواب بیان کردیا۔ سورة قدر کی تفسیر میں ہم نے یہ حدیث ذکر کردی ہے۔ جس روز امام حسین کو شہید کیا گیا ‘ اسی روز حضرت ابن عباس نے آپ کو شہید ہوتے خواب میں دیکھ لیا اور آپ نے اس خواب کو بیان بھی کردیا۔ اس موضوع کی احادیث بکثرت آئی ہیں۔ میں کہتا ہوں : برے خواب کو بیان کرنے کی ممانعت ممکن ہے اس وجہ سے بھی ہو کہ دشمن اس کو سن کر خوش نہ ہوں اور اچھے خواب کو سوائے دانشمند یا حبیب کے اور کسی سے بیان کرنے کی ممانعت کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ کہیں اس کو سن کر دشمن حسد نہ کرنے لگیں ‘ اسی لئے حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کو بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے منع فرما دیا تھا۔ فیکیدوا لک کیدًا پس وہ تیرے خلاف بڑی سازشیں کریں گے۔ یعنی حسد کی وجہ سے وہ تجھے ہلاک کرنے کی کوئی سازش کریں گے۔ ان الشیطن للانسان عدو مبین کوئی شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ سازش کو انسان کی نظر میں پسندیدہ بنا کر فریب پر آمادہ کردیتا ہے۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

وکذلک یجتبیک ربک اور تیرا رب (جس نے یہ خواب دکھایا جس سے تیری بزرگی اور برتری ظاہر ہو رہی ہے ‘ اسی طرح وہ) تجھے (نبوت و حکومت اور دوسرے بڑے کاموں کیلئے) منتخب کرلے گا۔ اجتباء (باب افتعال) جَبَبْتُ الشّیء (میں نے اس چیز کو اپنے لئے منتخب کرلیا ‘ چھانٹ لیا) سے ماخوذ ہے۔ جَبَبْتُ الْمَاء فی الحوض میں نے حوض میں پانی جمع کرلیا۔ ویعلمک من تاوین الاحادیث اور تجھے خوابوں کی تعبیر سکھا دے گا۔ خواب اگر سچا ہو تو حدیث ملک (الہام ملکوتی) ہوتا ہے اور جھوٹا ہو تو حدیث شیطان (تخویف شیطانی) ہوتا ہے۔ تعبیر نتیجۂ خواب ہوتی ہے اور تعبیر کا رجوع خواب کی طرف ہوتا ہے ‘ اسلئے اس کو تاویل کہتے ہیں (اوْل لوٹنا ‘ تاویل لوٹانا) یا یہ محاورہ (یعنی تعبیر کو تاویل کہنا) تاویل کلام اللہ اور تاویل اقوال انبیاء سے ماخوذ ہے ‘ یعنی اللہ اور انبیاہ کے کلام کی باریکیاں اور اسرار بیان کرنا اور ان کی تفسیر کرنا۔ ویتم نعمتہ علیک وعلی ال یعقوب اور تجھ پر اور آل یعقوب پر پورا پورا حسان کرے گا۔ نعمت سے مراد ہے : نبوت اور آل یعقوب سے مراد ہیں : اسرائیلی انبیاء۔ بعض کے نزدیک حضرت یعقوب کے صلبی بیٹے مراد ہیں کیونکہ آپ کے سب بیٹے پیغمبر ہوئے تھے (یہ قول ضعیف ہے) حضرت یعقوب یہ بات ستاروں کے لفظ سے سمجھ گئے۔ ستارے بھی روشن ہوتے ہیں۔ ستاروں کی روشنی سے آپ نے نبوت کی روشنی پر استدلال کیا۔ کما اتمھا علی ابویک من قبل ابرھیم واسحق جیسے اس سے پہلے اس نے تیرے دونوں داداؤں ابراہیم و اسحاق کو اپنی بھرپور نعمت عطا کی تھی (یعنی نبوت عطا کی تھی) اَبَوین (دو باپ) سے مراد ہیں : دادا اور پردادا۔ ان ربک علیم یقیناً تیرا رب خوب واقف ہے کہ کون انتخاب اور فضیلت کا مستحق ہے۔ حکیم بڑی حکمت والا ہے۔ جیسا ہونا چاہئے ‘ ویسا ہی کرتا ہے۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں

لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت للسائلین پوچھنے والوں کیلئے یوسف اور ان کے (اعلاتی) بھائیوں کے قصے میں (توحید کی) بکثرت نشانیاں (ا اللہ کی قدرت و حکمت کی دلیلیں) ہیں۔ حضرت یعقوب کے ماموں کی بیٹی لیا بنت لیان کے بطن سے آپ کے چھ بیٹے اور دینہ نام کی ایک بیٹی تھی۔ سب سے بڑا روبیل تھا ‘ دوسرا شمعون ‘ تیسرا لادی ‘ چوتھا یہودا ‘ پانچواں ریاں ‘ چھٹا یشحر اور چار بیٹے زلفہ اور یلہمہ دو باندیوں کے بطن سے تھے : دان ‘ تفتالی ‘ جاو ‘ آشر۔ کذا قال البغوی۔ بغوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ لیا کے مرنے کے بعد حضرت یعقوب نے اس کی بہن راحیل سے نکاح کرلیا تھا جس کے بطن سے دو بیٹے یوسف اور بنیامین پیدا ہوئے۔ اس طرح کل بارہ بیٹے ہوگئے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ شریعت اسرائیل میں ایک وقت میں دو بہنوں سے نکاح درست تھا۔ حضرت یعقوب کے نکاح میں ایک ہی زمانے میں دو بہین (لیا اور راحیل) تھیں۔ آیت لّلسَّاءِلِیْنَ کی تشریح میں بغوی نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ کنعان سے مصر کو اولاد یعقوب کے منتقل ہونے کی وجہ ریافت کی تھی۔ حضور ﷺ نے یہ واقعہ بیان فرما دیا ‘ تو یہودیوں نے اس بیان کو توریت کے بیان کے موافق پایا۔ بعض کے نزدیک سائلین سے مراد (صرف) یہودی ہی نہیں بلکہ جو بھی سوال کرے ‘ اس کیلئے اس قصہ میں توحید و نبوت کی نشانیاں ہیں۔ بعض کے نزدیک آیات سے مراد ہیں : نصیحتیں اور عبرتیں اور سائلین سے مراد ہیں : عبرت حاصل کرنے والے۔ اس قصہ میں برادران یوسف کے حسد اور حسد کے مآل بد اور ان کی ذلت کا بیان ہے۔ حضرت یوسف کے خواب اور اس کی تعبیر کے ظہور کی تفصیل ہے۔ حضرت یوسف کی عفت اور صبر عن الشہوت کا اظہار ہے۔ غلامی پر اور قیدخانہ کے مصائب پر صبر رکھنے اور مآل کار حکومت و اقتدار حاصل ہونے کی توضیح ہے۔ حضرت یعقوب کے غم واندوہ اور بالآخر حصول مسرت اور شادمانی کی تصریح ہے (یہ سب اللہ کی قدرت و حکمت کی نشانیاں اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے دلائل ہیں) ۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں

اذ قالوا لیوسف واخوہ احب الی ابینامنا جب یوسف کے بھائیوں نے (یعنی ایک نے دوسرے سے) کہا کہ اس میں شک نہیں کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں۔ اخوہ سے مراد ہے : حضرت یوسف کا حقیقی بھائی۔ ونحن عصبۃ باوجودیکہ ہماری دس کی جماعت ہے۔ فراء نے کہا : عصبہ دس اور دس سے اوپر کی جماعت کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : ایک سے دس تک عصبہ ہے۔ بعض نے تین سے دس تک کی جماعت کو عصبہ کہا ہے۔ بعض نے دس سے چالیس تک اور مجاہد نے دس سے پندرہ تک کی جماعت کو عصبہ قرار دیا ہے۔ قاموس میں ہے : عصبہ مردوں اور گھوڑوں اور پرندوں کی دس سے چالیس تک کی جماعت۔ عصابہ بھی اسی طرح ہے۔ جزری نے نہایہ میں لکھا ہے کہ عصابتہ دس سے چالیس تک کی انسانوں کی جماعت کو کہتے ہیں۔ عصابۃ کی طرح عصبۃ کی جمع عصب ہے (گویا عصابۃ اور عصبۃ اسم جمع ہے) اس کا واحد اس لفظ سے نہیں آتا ‘ جیسے نفر اور رہط (اسم جمع ہے اور اس کا مفرد نہیں آتا) بعض نے کہا : عصبۃ اس جماعت کو کہتے ہیں جو باہم متفق اور آپس میں تعاون کرنے والی ہو۔ اس صورت میں نَحْنُ عُصْبَۃٌ کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری جماعت متفق الرائے اور آپس میں تعاون کرنے والی ہے (پھر بھی باپ کو محبت یوسف اور اس کے بھائی سے زیادہ ہے) ۔ ان ابانا لفی ضلل مبین واقعی ہمارے باپ کھلی ہوئی غلطی میں پڑے ہیں۔ ضَلل سے مراد دینی گمراہی نہیں ہے ورنہ ایسا لفظ کہنے سے سب کافر ہوجاتے ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ باپ کا یہ عمل عقل کے خلاف ہے ‘ ان کی یہ رائے غلط ہے۔ ہم ان کے جانوروں کو چرانے ‘ امور معاش کا انتظام کرنے اور دنیوی کاروبار کی درستی میں کام آسکتے ہیں۔ یوسف اور اس کا بھائی اس سے قاصر ہیں ‘ اسلئے ہم سے محبت زیادہ ہونی چاہئے۔ یوسف اور اس کے بھائی کو ہم سے زیادہ چاہنا کھلی ہوئی غلطی ہے جس میں باپ مبتلا ہیں۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے

اقتلوا یوسف یوسف کو مار ڈالو __ وہب نے کہا : یہ بات شمعون نے کہی تھی۔ کعب نے کہا : دانی نے کہی تھی۔ مقاتل نے کہا : روبیل نے کہی تھی۔ بہرحال قائل ایک ہی تھا ‘ دوسرے اس رائے سے متفق تھے اسلئے کہنے کی نسبت سب کی طرف کردی گئی۔ ہاں جو لوگ اس قول سے متفق نہیں ہیں تو وہ قائل نہیں قرار دئیے جائیں گے مگر اکثر افراد جماعت کیونکہ اس سے متفق تھے ‘ اسلئے پوری جماعت کی طرف نسبت مجازاً کردی گئی۔ او اطرحوا ارضًا یا اس کو کہیں دور گمنام جگہ ڈال آؤ۔ ارضًا کی تنوین بتارہی ہے کہ اس سے مراد کوئی دور گمنام آبادی سے الگ زمین تھی۔ یخل لکم وجہ ابیکم تاکہ تمہارے باپ کی خالص توجہ تمہاری طرف ہوجائے۔ یوسف کی طرف سے توجہ ہٹ جائے ‘ محض تمہاری طرف رخ ہوجائے۔ وتکونوا من بعدہ قومًا صٰلحین اور اس کے بعد (یعنی یوسف کے بعد ‘ یا یوسف کے قتل سے فراغت کے بعد ‘ یا کہیں پھینک دینے کے بعد) تم صالح لوگ ہوجانا۔ یعنی اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگ لینا ‘ وہ معاف کر دے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اپنے باپ کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہو کر رہنا ‘ کوئی عذر پیش کردینا۔ باپ مان جائیں گے اور تمہارے معاملات باپ سے درست ہوجائیں گے۔ مؤخر الذکر مطلب مقاتل نے بیان کیا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے دینوی امور ٹھیک ٹھاک ہوجائیں گے۔ تمہارا کام بن جائے گا اور باپ کی توجہ تمہاری طرف کامل طور پر ہوجائے گی۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)

قال قائل منھم ان میں سے کہنے والے نے کہا۔ قتادہ نے کہا : یہ کہنے والا روبیل تھا۔ بغوی نے کہا : یہ یہودا تھا اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ لا تقتلوا یوسف یوسف کو قتل نہ کرو۔ قتل گناہ کبیرہ ہے۔ القوہ فی غیبت الجب اور گہرے کنویں کے گڑھے میں ڈال ڈو۔ غَیَابَۃٌ گڑھا۔ اصل لغت میں غیابت اس جگہ کو کہتے ہیں جس میں داخل ہونے والی چیز بالکل چھپ جائے ‘ غائب ہوجائے۔ گہرے گڑھے میں بھی جو چیز داخل ہوتی ہے ‘ وہ نظر سے چھپ جاتی ہے اسی لئے گہرے گڑھے کو غیابت کہا جاتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جس کنویں کی من نہ ہو ‘ وہ جب ہے۔ جبٌ قطع کرنا۔ بےمن کا کنواں بھی گویا کٹا ہوا ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے : جُب کنواں یا گہرا کنواں جس میں پانی بہت ہو اور دور اندر کی طرف ہو۔ یا وہ کنواں جو کسی اچھے یا سرسبز مقام میں ہو۔ یا بےمن کا کنواں جو قدرتی ہو ‘ آدمیوں کا کھودا ہوا نہ ہو۔ یلتقطہ بعض السیارۃ کہ کوئی راہ گیر اس کو پالے (اور لے جائے) التقاط پالینا ‘ کسی چیز کا اس جگہ مل جانا کہ ملنے کا خیال بھی نہ ہو۔ ان کنتم فعلین اگر تم (میرے مشورے پر) عمل کرنے والے ہو تو کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم صرف اتنی بات پر اکتفا کرسکتے ہو کہ باپ سے یوسف کو علیحدہ کر دو تو اسی پر اکتفا کرو (قتل نہ کرو) ۔ محمد بن اسحاق نے لکھا ہے کہ برادران یوسف کی یہ حرکت مختلف جرائم کی حامل تھی۔ قطع رحم ‘ باپ کی نافرمانی ‘ بےگناہ بچے پر ظلم ‘ اور بےرحمی ‘ امانت میں خیانت ‘ وعدہ شکنی اور دروغ بافی۔ اللہ نے ان کے تمام جرائم کو معاف فرما دیا تاکہ کوئی اس کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ میں کہتا ہوں : اللہ نے ان کے تمام جرائم معاف فرما دئیے ‘ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ ان کو باپ سے بہت زیادہ محبت تھی اور اسی شدت محبت نے ان کو رشک و حسد تک پہنچا دیا اور انہوں نے کوشش کی کہ باپ کی توجہ ان کی طرف خالص ہوجائے۔ بعض اہل علم نے کہا : برادران یوسف نے قتل کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے اپنی رحمت سے ان کو جرم قتل سے محفوظ رکھا۔ اگر وہ ایسا کر گذرتے تو سب کے سب ہلاک ہوجاتے۔ یہ تمام واقعات اس زمانے کے ہیں جب ان حضرات میں سے کوئی نبوت سے سرفراز نہیں ہوا تھا۔ ابو عمرو بن علاء کا یہی قول ہے۔ جو لوگ انباء یعقوب (یعنی برادران یوسف) کے پیغمبرہونے کے قائل ہیں ‘ ان کے نزدیک نبوت سے پہلے انبیاء سے صدور معصیت ناممکن نہیں ہے۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ برادران یوسف پیغمبر نہیں تھے اور قرآن مجید میں انبیاء کے ذیل میں اسباط یعقوب کا ذکر آیا ہے ‘ ان سے مراد اسرائیلی انبیاء ہیں جو حضرت یعقوب کی نسل سے پیدا ہوئے (بیٹے مراد نہیں) غرض سازش کر کے جب انہوں نے حضرت یوسف کو باپ سے جدا کردینے کا پختہ ارادہ کرلیا تو۔
Ayah 12:11

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں

قالوا یابانا ما لک لا تامنا علی یوسف کہا : ابا ! آپ یوسف پر ہمارا اعتماد کیوں نہیں کرتے۔ یعنی یوسف کے معاملے میں آپ کو ہم سے اندیشہ کیوں ہے۔ وانا لہ لنا صحون اور بلاشک و شبہ ہم تو اس کے خیرخواہ ہیں۔ حضرت یعقوب نے بیٹوں کو یوسف سے حسد کرتے پایا تو بدگمان ہوگئے ‘ اس بدگمانی کو دور کرنے کیلئے بیٹوں نے یہ بات کہی اور حضرت یوسف کی خیرخواہی کا اظہار کیا۔ مقاتل نے کہا : کلام کی ترتیب میں کچھ تقدیم تاخیر ہے۔ اصل ترتیب اس طرح ہے : اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًّا یَّرْتَعُ وَیَلْعَبْالخ باپ نے اس کے جواب میں کہا : اِنِّی لیحزننی الخ اس پر بیٹوں نے کہا : ما لک لا تامنا الخ۔ نصح کا معنی ہے : خیر خواہی یا بھلائی کرنا اور شفقت کرنا۔ یعنی ہم تو اس کے بہی خواہ ہیں ‘ اس کی حفاظت کریں گے اور حفاظت کے ساتھ واپس لے آئیں گے۔
Ayah 12:12

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں

ارسلہ معنا غدًا یرتع ویلعب کل اس کو ہمارے ساتھ (جنگل کو) بھیج دیجئے کہ وہ تفریح کرے۔ رتعٌ (باب فتح) سربلندی (یعنی کثرت فواکہ) مراد یہ ہے کہ جنگل میں جا کر وہ خوب پھل کھائے ‘ تفریح کرے ‘ کھیلے ‘ دوڑ لگائے ‘ شکار کرے ‘ تیراندازی کرے۔ وانا لہ لحفظون اور ہم یقیناً اس کی حفاظت کریں گے ‘ اس کو کوئی تکلیف نہ ہوگی۔
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے

قال انی لیحزننی ان تذھبوا بہ یعقوب نے کہا : تم اس کو لے کر چلے جاؤ گے تو مجھے اس سے رنج ہوگا (یعنی اس کی جدائی سے میرے دل کو دکھ ہوگا اور مجھے صبر نہ آئے گا) حزن سے اس جگہ مراد ہے : وہ قلبی دکھ جو محب کو محبوب کے فراق سے پیدا ہوتا ہے۔ واخاف ان یاکلہ الذئب وانتم عنہ غفلون اور مجھے اندیشہ ہے کہ تم تو اس کی طرف سے غافل ہوجاؤ گے اور بھیڑیا اس کو کھاجائے گا __ اس جنگل میں بھیڑئیے بہت ہوتے تھے ‘ اسلئے حضرت یعقوب نے یہ اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اَنْتُمْ عَنْہٗ غٰفِلُوْنَ فرمانے کا منشاء یہ تھا کہ مجھے تمہاری کسی سازش کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ تم تو کھانے کھیلنے اور سیر و تفریح میں مشغول ہوگے ‘ یوسف کی حفاظت نہ کرسکو گے اور کوئی بھیڑیا آکر اس کو کھاجائے گا۔ بغوی نے لکھا ہے : حضرت یعقوب نے خواب میں دیکھا تھا کہ کسی بھیڑئیے نے حضرت یوسف پر حملہ کیا ہے۔ یہ خواب دیکھنے کے بعد آپ کو حضرت یوسف کے معاملہ میں اندیشہ رہتا تھا۔ میرے نزدیک یہ روایت غلط ہے۔ انبیاء کے خواب کا متحقق ہونا لازم ہے۔ اگر حضرت یعقوب نے ایسا خواب دیکھا ہوتا تو ایسا واقع ہوجانا ضروری تھا ‘ کوئی احتیاط اس کو نہیں روک سکتی تھی (اس فقیر کی نظر میں حضرت مفسر کا دلیل مذکور سے خواب دیکھنے کی روایت کو غلط قرار دینا صحیح نہیں۔ ممکن ہے خوا دیکھا ہو لیکن تعبیر میں غلطی کی ہو۔ بھیڑئیے کے حملے کی تعبیر یہ ہو کہ کوئی دشمن حضرت یوسف پر حملہ کرے گا۔ چناچہ ایسا ہوگیا ‘ بھائیوں نے بھیڑئیے کا کام کیا۔ مترجم) ۔ الذِّءِْبُ میں الف لام جنسی ہے ‘ کوئی بھیڑیا۔
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے

قالوا لئن کلہ الذئب ونحن عصبۃ انا اذً الخسرون بیٹوں نے کہا : (ہماری دس کی جماعت ہے اور سب حضرت یوسف سے غافل ہوجائیں ‘ یہ ممکن نہیں) ہماری دس کی جماعت ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا یوسف کو کھاجائے تو ہم بالکل ہی گئے گذرے ہوئے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ اگر ہم دس ہونے کے باوجود اپنے آدمی کی حفاظت نہ کرسکیں تو پھر ہمارے جانوروں کی جن کو ہم جنگل میں چراتے ہیں ‘ کیسے حفاظت ہوسکتی ہے۔ ہم بدنصیب ہوں گے اگر حفاظت نہ کرسکیں۔ یا لَخَاسِرُوْنَ کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اگر ہماری جماعت بھی نگرانی نہ کرسکی تو ہم مستحق ہیں کہ نامراد رہنے کی ہم کو بددعا دی جائے۔ حضرت یوسف کو بھائیوں کے ساتھ نہ چھوڑنے کی دو وجہیں حضرت یعقوب نے بیان فرمائی تھیں ‘ جدائی کا غم اور اندیشۂ ہلاکت۔ بیٹوں نے دوسری وجہ کو دور کرنے کیلئے تو حفاظت کی یقین دہانی کردی اور غم دور کرنا ان کے اختیار میں نہ تھا بلکہ حضرت یوسف سے حضرت یعقوب کی اتنی محبت کہ ایک دن کی جدائی بھی گوارا نہ ہو ‘ بیٹوں کے حسد کا سبب تھی ‘ اسلئے اوّل بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی

فلما ذھبوا بہ واجمعوا ان یجعلوہ فی غیبت الجب پھر جب وہ یوسف کو لے گئے اور کنویں کے گہرے گڑھے میں ڈالنے کا انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا (تو پھر جو چاہا کیا ‘ کنویں میں ڈال دیا) شرط کا جواب محذوف ہے ‘ جس کی تشریح مترجم نے بین القوسین کردی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : اس شرط کی جزاء اگلی آیت وَاَوْحَیْنَا الخ ہے۔ وَاَوْحَیْنَا میں واؤ زائد ہے ‘ جیسے آیت : فَلَمَّا اَسْلَہَ اوتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ وَنَادِیْنَاہ میں وَنَادِیْنَاہُجزاء ہے اور اس میں واؤ زائد ہے۔ بغوی نے وہب وغیرہ کے بیان سے اخذ کر کے لکھا ہے کہ باپ کے سامنے بھائیوں نے یوسف کو نہایت عزت کے ساتھ اپنے ہاتھوں پر لیا ‘ اپنے اوپر سوار کرلیا لیکن آبادی سے باہر نکل کر ان کو پھینک دیا اور مار پیٹ کرنے لگے۔ ایک مارتا تھا تو حضرت یوسف دوسرے سے فریاد کرتے تھے ‘ مگر وہ بھی مارتا تھا تو تیسرے کی پناہ ڈھونڈتے تھے ‘ پر کوئی پناہ نہیں دیتا تھا۔ سبھی نے مارتے مارتے ادھ موا کردیا۔ حضرت یوسف چیخ رہے تھے اور باپ کو پکار رہے تھے اور فرما رہے تھے : ابا ! دیکھئے ان باندی بچوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا۔ آخر یہودا نے دیکھا کہ یہ لوگ حضرت یوسف کو قتل ہی کر ڈالیں گے تو بولا : قتل نہ کرنے کا تم نے مجھ سے وعدہ کیا ہے ‘ اسلئے قتل نہیں کرسکتے۔ غرض اس طرح ایک کنویں پر غیر معروف راستے سے لے گئے۔ کنویں کا منہ تنگ تھا مگر اندر بہت وسیع تھا۔ حضرت یعقوب کے مکان سے برقول مقاتل یہ کنواں تین فرسخ دور تھا۔ کعب نے کہا : مدین اور مصر کے درمیان تھا۔ قتادہ نے کہا : بیت المقدس کا کنواں تھا۔ حضرت یوسف کی عمر اس وقت بارہ یا اٹھارہ برس تھی۔ جب کنویں میں آپ کو لٹکانے لگے تو آپ نے کنویں کا کنارہ پکڑ لیا ‘ مگر انہوں نے آپ کے ہاتھ باندھ دئیے اور کرتہ اتار لیا۔ حضرت یوسف نے کہا : بھائیو ! کرتہ تو دے دو ‘ میں کنویں کے اندر اس کو پہن کر (سردی وغیرہ سے) بچاؤکر لوں گا۔ بھائیوں نے کہا : سورج اور چاند ستاروں کو پکارو ‘ وہی تیرا دل بہلائیں گے۔ آپ نے فرمایا : میں نے کچھ نہیں دیکھا تھا۔ آخر آپ کو کنویں میں ڈال ہی دیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ایک ڈول میں بٹھا کر ڈول کو کنویں میں لٹکا دیا۔ جب ڈول آدھے کنویں تک پہنچا تو رسی چھوڑ دی تاکہ حضرت یوسف گر کر مرجائیں۔ لیکن کنویں میں پانی تھا ‘ آپ پانی میں گرپڑے ‘ وہاں ایک پتھر نظر آیا آپ اس پر کھڑے ہوگئے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت یوسف کو روتا ہوا کنویں میں ڈال دیا گیا ‘ پھر اوپر سے آواز دی۔ حضرت یوسف سمجھے کہ بھائیوں کے دل میں کچھ رحم آگیا ہے ‘ اسلئے آپ نے آواز دی۔ بھائیوں نے اوپر سے پتھر برسانا چاہے تاکہ پتھر مار کر ہلاک کردیں ‘ مگر یہودا نے روک دیا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے ایک طویل بیان کے ذیل میں لکھا ہے کہ خاندان یعقوب کی سکونت شام میں تھی۔ حضرت یعقوب کی نظر میں ہر وقت حضرت یوسف اور بن یامین سمائے ہوئے تھے۔ اس پر دوسرے بھائیوں کو جلن پیدا ہوئی۔ وہ حضرت یوسف کو آبادی کے باہر صحرا میں لے گئے۔ اس روایت میں ہے کہ یوسف کو ڈول میں بٹھا کر ڈول کو کنویں میں لٹکا دیا ‘ نصف کنویں تک ڈول پہنچا تو رسی ہاتھ سے چھوڑ دی تاکہ حضرت یوسف گر کر مرجائیں۔ کنویں میں پانی تھا ‘ حضرت یوسف پانی میں گرگئے ‘ پھر ایک پتھر پر کھڑے ہوگئے اور روتے رہے۔ فوراً حضرت جبرئیل وحی لے کر آپہنچے ‘ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے : واوحینا الیہ اور ہم نے یوسف کے پاس وحی بھیجی (تاکہ اس کو اطمینان ہوجائے) بظاہر یہ وحی ‘ وحئ نبوت نہ تھی ‘ بلکہ اس کی صورت اس وحی کی سی تھی جیسی حضرت موسیٰ کی والدہ کے پاس بھیجی گئی تھی (یعنی الہام) وحئ رسالت و تبلیغ تو بعد کو آئی تھی جس کا بیان آیت وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗٓ ٰاتَیْنَاہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا میں کیا گیا ہے۔ لیکن ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد کا قول بیان کیا کہ اَوْحَیْنَا اِلَیْہِ میں وحئ نبوت مراد ہے۔ جب آپ کنویں میں تھے تو وحئ نبوت آئی تھی۔ لتنبئنھم بامرھم ھذا کہ تو ان کو ان کی اس حرکت پر (آئندہ) آگاہ کرے گا (اور وہ پشیمان اور ذلیل ہوں گے۔ مترجم) وھم لا یشعرون اور وہ جانتے بھی نہ تھے کہ ہم نے یوسف کے پاس وحی بھیجی ہے اور اس کو اطلاع دے دی ہے اور ان کے دل کو اطمینان دے دیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک (یہ جملہ وحی کا جزء ہے) مطلب یہ ہے کہ جس روز تم ان کو ان کی اس حرکت پر آگاہ کرو گے تو اس وقت ان کے خیال میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ تو ہی یوسف ہے۔ یوسف کے مرتبے کی رفعت ‘ زمانہ کا طول اور جسمانی تغیرات ان کو پہچاننے بھی نہ دیں گے۔ چناچہ آیت میں آیا ہے : حِیْنَ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَعَرَفَھُمْ وَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ جب برادران یوسف ‘ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا مگر وہ یوسف کو نہ پہچان سکے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہودا حضرت یوسف کو کھانا پہنچا دیتا تھا۔ آپ تین روز وہاں رہے اور یہ پیام (جو آیت میں مذکور ہے) وحی کے ذریعے سے ان کے پاس پہنچا۔ اللہ نے ان کا دل بہلانے اور کنویں سے نکلنے کی بشارت دینے کیلئے حضرت جبرئیل کو ان کے پاس بھیج دیا۔ امام احمد نے الزہد میں اور ابن عبدالحکم نے فتوح مصر میں اور ابن ابی شیبہ اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ اور ابن مردویہ نے حسن بصری کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اس وقت حضرت یوسف کی عمر سترہ برس کی تھی۔ بعض نے کہا : جوان ہونے کے قریب تھے۔ آپ کے پاس جوانی سے پہلے وحی آگئی تھی ‘ جیسی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ کے پاس آئی تھی۔ قصہ یوسف کی بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم کو جب آگ میں ڈالا گیا تھا تو آپ کے کپڑے اتار لئے گئے تھے۔ حضرت جبرئیل نے جنت سے لا کر ایک ریشمی کرتہ آپ کو پہنا دیا تھا۔ حضرت ابراہیم سے وہ کرتہ حضرت اسحاق کو پہنچا تھا اور حضرت اسحاق سے حضرت یعقوب کو۔ حضرت یعقوب نے اس کا تعویذ بنا کر حضرت یوسف کے گلے میں ڈال دیا تھا۔ حضرت جبرئیل نے وہی کرتہ کھول کر حضرت یوسف کو پہنا دیا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کے بعد برادران یوسف نے ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے حضرت یوسف کے کرتہ کو اس کے خون سے رنگین کرلیا۔
Ayah 12:16

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

وجاء وآ اباھم عشآء یبکون اور شام کو اندھیرا پڑے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔ اہل معانی نے لکھا ہے کہ اندھیرے میں عشاء کے وقت آنے کی مصلحت یہ تھی کہ جھوٹ بولنے کا جرأت آفریں موقع ہاتھ آجائے۔ چناچہ روایت میں آیا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کی چیخ پکار سنی تو باہر نکل آئے اور فرمایا : لڑکو ! کیا ہوگیا ‘ کیا بکریوں پر کوئی افتاد پڑگئی ؟ کہنے لگے : نہیں۔ حضرت یعقوب نے پوچھا : یوسف کہاں ہے ؟
Ayah 12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے

قالوا یا بانا انا ذھبنا نستبق وترکنا یوسف عند متاعنا فاکلہ الذئب وما انت بمؤمن لنا ولو کنا صدقین بولے : ابا ! ہم آپس میں دوڑ لگانے گئے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تھے (ہمارے پیچھے) بھیڑئیے نے اس کو کھالیا۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں آئے گا ‘ خواہ ہم سچ کہہ رہے ہوں (کیونکہ آپ کو یوسف سے انتہائی محبت ہے اور ہم لوگوں سے بدگمانی ہے ‘ یوسف کی محبت ہی آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں ہونے دے گی۔ مزید یہ کہ آپ کو ہماری طرف سے بدگمانی ہے ‘ اسلئے اگر ہم اس بیان میں سچے بھی ہوں تب بھی آپ یقین کرنے والے نہیں) ۔ بعض نے کہا : وَمَا اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ آپ کو ہماری طرف سے بدگمانی ہے ‘ اسلئے آپ یقین کرنے والے نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہمارے پاس اپنی سچائی کی کوئی دلیل نہیں ‘ اسلئے آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں آئے گا ‘ اگرچہ ہم عندا اللہ سچے ہیں۔ نَسْتَبِقُ (جمع متکلم ‘ باب افتعال) باب تفاعل کے معنی میں ہے ‘ یعنی باہم دوڑ میں ہم مقابلہ کرنے گئے تھے۔ بعض نے کہا : تیراندازی میں مقابلہ کرنا مراد ہے۔ باب افتعال اور تفاعل مشارکت کیلئے آتا ہے ‘ جیسے انتصال و تناصل تیراندازی میں مقابلہ کرنا۔ متاع سے مراد ہیں : کپڑے۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے

وجآء واعلی قمیصہ بدم کذب اور یوسف کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر لائے۔ کَذِبٍ کا معنی ہے : جھوٹ موٹ کا یا جھوٹا۔ کَذِبٍ مصدر بھی ہوسکتا ہے : جھوٹ۔ خون کو جھوٹ مبالغۃً قرار دیا۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے حسن بصری کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت یعقوب ‘ حضرت یوسف کی خبر سن کر چیخ پڑے اور حضرت یوسف کا قمیص جب پیش کیا گیا تو الٹ پلٹ کر اس کو دیکھنے لگے مگر قمیص میں شگاف کہیں نظر نہ آیا ‘ یہ دیکھ کر فرمایا : لڑکو ! وا اللہ بھیڑیا بھی کیسا ہوشیار تھا ‘ میرے بیٹے کو تو کھا گیا اور کرتے کو سالم چھوڑ دیا۔ حضرت یعقوب جب بیٹوں کا جھوٹ سمجھ گئے تھے تو۔ قال بل سولت لکم انفسکم امرا کہا : (بھیڑئیے نے یوسف کو نہیں کھایا) بلکہ تم نے اپنے لئے اپنے دل میں ایک بات بنا لی ہے۔ سَوَّلَتْ لَکُمْ یعنی تمہارے نفسوں نے ایک بہت بڑے امر کو تمہاری نظر میں آسان اور حقیر بنا کر دکھایا ہے (مطلب یہ کہ حضرت یوسف کی گمشدگی یا قتل کو تم نے اتنا آسان قرار دے لیا کہ اس کیلئے ایسی غلط عذر تراشی کرلی) ۔ سولت ‘ السول سے ماخوذ ہے۔ سول کا معنی ہے : لٹک جانا ‘ ڈھیلا ہوجانا۔ قاموس میں ہے : سولوہ شخص جس کے زیریں جسم میں ڈھیلا پن ہو اور سولۃٌ پیٹ وغیرہ کے لٹک آنے کو کہتے ہیں۔ بعض کا قول ہے : اس جگہ سوّلت کا معنی ہے : سجا کر دکھایا (یعنی برے کام کو اچھا کام بنا کر پیش کیا) کذا فی القاموس۔ سوّل لہٗ الشَّیْطَان شیطان نے اس کو بہکا دیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سولکا معنی ہے : حاجت اور غرض جس کو حاصل کرنے کی نفس کو حرض ہوتی ہے اور نسویل کا معنی ہے : برے کو اچھے کی شکل میں پیش کرنا۔ فصبر جمیل سو اب میں صبر ہی کروں گا ‘ جس میں کسی شکایت کی آمیزش نہ ہوگی۔ بغوی نے لکھا ہے : صبر جمیل (اچھا صبر) یعنی ایسا صبر جس میں مخلوق سے کوئی شکوہ نہ ہوگا اور جزع فزع نہ ہوگی۔ ابن جریرنے حبان بن حمیہ کی روایت سے مرسلاً بیان کیا ہے کہ صبر جمیلوہ ہے جس میں کوئی شکوہ نہ ہو۔ وا اللہ المستعان علی ماتصفون یعنی یوسف کے مرنے کی جو خبر تم بیان کر رہے ہو ‘ میں اس مصیبت پر صبر کرنے اور اس دکھ کو اٹھانے میں اللہ ہی سے مدد کا خواستگار ہوں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قصۂ یوسف کے ذیل میں یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ برادران یوسف ایک بھیڑئیے کو پکڑ کر لائے اور کہنے لگے : اس نے یوسف کو کھایا ہے۔ حضرت یعقوب نے اس سے پوچھا : کیا تو نے میرے جگرپارے کو کھایا ہے ؟ بھیڑئیے کو اللہ نے گویائی عطا فرما دی ‘ اس نے جواب دیا : خدا کی قسم ! میں نے تو آپ کے بیٹے کو دیکھا بھی نہیں۔ حضرت یعقوب نے پوچھا : پھر کنعان کی اس سرزمین میں تو کیسے آیا ؟ بھیڑئیے نے کہا : بھائی بندوں سے ملنے آیا تھا کہ یہ پکڑ لائے۔ الحاصل حضرت یوسف تین روز کنویں میں رہے کہ