12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف لام را۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

(1) الر۔ میں اللہ ہوں جو کچھ تم کہہ رہے ہو اور کر رہے ہو میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور اے محمد ﷺ جو کچھ تمہارے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں وہ میرا کلام ہے یا یہ کہ قسم ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے کھائی ہے۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سجمھ سکو

(2) یہ سورت قرآن کریم کی آیات ہیں جو کہ حلال و حرام اور امر و نواہی کو واضح طور پر بیان فرمارہا ہے۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں۔ اور تم اس سے پہلے بیخبر تھے۔

(3) ہم نے قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین رسول اکرم ﷺ پر عربی میں نازل کیا ہے تاکہ جن چیزوں کا بذریعہ قرآن کریم ہم نے تمہیں حکم دیا ہے اور جن چیزوں سے تمہیں کو روکا ہے تم انکو سمجھو ہم آپ سے یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں سے اس قرآن کریم کے ذریعے جو بذریعہ جبریل امین ؑ ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ اور آپ اس قرآن کریم کے نزول سے پہلے جو بذریعہ جبریل امین آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعہ سے بالکل لاعلم تھے۔ شان نزول : (آیت) ”نحن نقص علیک“۔ (الخ) امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر قرآن کریم نازل کیا گیا آپ قرآن کریم لوگوں کو ایک زمانہ تک پڑھ کر سناتے رہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کچھ اور واقعات بیان کیجئے اس پر اللہ تعالیٰ نے اس بڑے عمدہ واقعہ کی اطلاع دی۔ اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کوئی واقعہ ہم سے بیان کیجئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ نازل فرمایا ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے، اس کے ذریعے، ہم آپ سے ایک عمدہ واقعہ بیان کرتے ہیں، نیز ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

(4) چناچہ حضرت یوسف ؑ جب دوپہر کو سوئے تو خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستاروں نے اپنے مقامات سے اتر کر ان کو سجدہ تحیت کیا ہے اور ان ستاروں سے مراد ان کے گیارہ بھائی ہیں اور ایسے چاند وسورج کو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ سے آئے اور مجھ کو سجدہ تحیت کیا، چاند وسورج سے ان کے والدین حضرت یعقوب ؑ اور حضرت راحیل مراد ہیں۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

(5) حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف ؑ سے فرمایا بیٹا اس خواب کے بعد اگر اور بھی خواب دیکھو تو اپنے بھائیوں کے سامنے مت بیان کرنا کہ کہیں وہ تمہاری موت کی کوئی تدبیر کریں، بلاشبہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے کہ لوگوں کو حسد پر اکساتا ہے۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

(6) اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں نبوت کے لیے منتخب کرے گا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دے گا اور نبوت واسلام دے کر تم پر اور تمہارے ذریعے یعقوب ؑ کے خاندان پر انعام کامل کرے گا اور اسی نعمت پر تمہارا انتقال ہوگا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے دادا، پردادا یعنی ابراہیم ؑ واسحاق ؑ کو نبوت واسلام کی نعمت سے نوازا، واقعی تمہارا پروردگار ان نعمتوں کو جاننے والا اور اس کی تکمیل میں حکمت والا ہے یا یہ کہ وہ تمہارے خواب کو جاننے والا اور جو پریشانی تمہیں لاحق ہوگی اس میں حکمتوں والا ہے۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

ہاں یوسف اور انکے بھائیوں کے (قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(7) یوسف ؑ اور ان کے واقعہ میں سوال کرنے والوں کے لیے دلائل موجود ہیں، یہ آیت علماء یہود کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔

(8) وہ وقت قابل ذکر ہے جب ان سوتیلے بھائیوں نے باہم مشورہ کیا کہ یوسف اور ان کے حقیقی بھائی بنیامین ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ عزیز ہیں اور ہم اس کی ایک جماعت ہیں واقعی ہمارے باپ یوسف ؑ سے محبت کرنے اور ان کو ہم پر ترجیح دینے میں ایک فاش غلطی پر ہیں۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالوں یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائیگی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔

(9) پھر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یوسف کو قتل کر دو یا کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ آؤ، اس صورت میں تمہارے باپ کا رخ صرف تمہاری طرف ہوجائے گا اور تم یوسف کے قتل کے بعد ان کے قل کے گناہ سے توبہ کرلینا یا یہ کہ پھر تمہارے باپ کے ساتھ تمہارے سب معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)۔

(10) یوسف ؑ کے بھائیوں میں سے یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ یوسف ؑ کو قتل مت کرو بلکہ ان کو کسی گہرے یا اندھے کنویں میں ڈال دو تاکہ ان کو کوئی مسافر راہ چلتا ہوا نکال لے جائے اگر تمہیں یہ کام کرنا ہے تو اس طرح کرو۔
Ayahs 12:11–12

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں ؟

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔

(11۔ 12) چناچہ سب نے اپنے باپ کے سامنے آکر گزارش کی اور کہا کہ ہم انکے خیرخواہ ہیں، آپ ان کو ہمارے ساتھ جنگل بھیجئے تاکہ وہ جائیں آئیں کھائیں اور کھیلیں اور ہم ان پر مشفق ومہربان ہیں۔
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

(13) ان کے باپ نے فرمایا مجھے تمہارے ساتھ بھیجنے میں دو امر مانع ہیں، ایک تم ان کو میری نظروں سے لے جاؤ اور میں ان کو نہ دیکھ سکوں اور دوسرا یہ کہ مجھے اس چیز کا اندیشہ ہے کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے اور تم اپنے کھیل کود میں مصروف رہو۔
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے۔

(14) کیوں کہ حضرت یعقوب ؑ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بھیڑیا ان پر حملہ آور ہو رہا ہے اسی وجہ سے انہوں نے یہ فرمایا انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر ان کو بھیڑیا کھاجائے اور ہم دس لوگ ہیں تو ہم بالکل ہی گئے گزرے ہوئے یا یہ کہ ہم باپ اور بھائی کی حرمت کو چھوڑ کر بالکل گھاٹے میں پڑجائیں گے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔

(15) چناچہ جب حضرت یوسف ؑ کے لے جان کی اجازت لے کر وہ انکو جنگل میں لے گئے تو سب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان کو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دیں گے۔ چناچہ انہوں نے اپنا ارادہ پورا کیا تو اس وقت ہم نے جبریل امین کو یوسف ؑ کے پاس بھیجا اور بذریعہ الہام ان کو تسلی دی کہ اے یوسف تم ان کو ان کی یہ بات جتلاؤ گے اور وہ تمہیں پہچانیں گے بھی نہیں کہ تم یوسف ہو حتی کے تم خود ہی ان سے اپنا تعارف کراؤ گے اور کہ اس وقت ہم نے جو وحی بھیجی ان کے بھائیوں کو اس چیز کی قطعا کچھ خبر نہ ہوئی۔
Ayahs 12:16–17

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

(16۔ 17) ادھر وہ لوگ ظہر کے بعد یعنی شام کو اپنے باپ کے پاس یوسف ؑ پر روتے ہوئے پہنچے اور کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو کھیل کود اور شکار میں لگ گئے اور یوسف کو ہم نے اپنی چیزوں کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیا، چناچہ جس چیز کا آپ کو ڈر تھا وہی ہوا اور آپ کیوں ہم پر یقین کریں گے چاہے ہم کیسے ہی سچے کیوں نہ ہوں۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

(18) اور آتے وقت کسی بکری کو ذبح کرکے حضرت یوسف ؑ کی قمیص پر اس کا خون بھی لگا لائے تھے، حضرت یعقوب ؑ نے دیکھا کر فرمایا تو تم نے یوسف کی ہلاکت کے لیے اپنے دل سے بات بنالی اور اس کو کر گزرے۔ خیر صبر ہی روں گا جس میں شکایت کا کوئی نام نہ ہوگا اور تم جو کچھ یوسف ؑ کے بارے میں کہہ رہے ہو اس میں اللہ ہی سے مدد طلب کروں گے۔
Ayahs 12:19–20

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو) کہ اس (کنوئیں) کے قریب ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقا بھیجا اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اسکو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اسکو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدو دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انھیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

(19۔ 20) اور حضرت یعقوب ؑ نے ان کی باتوں کی تصدیق نہیں کی کیوں کہ انہوں نے پہلی دفعہ کہا تھا کہ ان کو ڈاکوؤں نے مار ڈالا (کرتہ کہیں سے پھٹا ہوا نہیں تھا) اور ادھر مدین سے مسافروں کا ایک قافلہ آنکلا جو مصر جارہا تھا، چناچہ وہ راستہ بھول کر غلط راستہ پر آگئے بالآخر گشت کرتے کرتے مدین اور مصر کے درمیان دونوں کی زمینوں میں آئے وہاں کنواں تھا، چناچہ اس سرزمین پر ٹھہر گئے، اور یہاں ہر ایک قوم نے اپنے اپنے آدمیوں کو پانی کی تلاش میں بھیجا، اتفاق سے عربوں میں سے ایک شخص مالک بن دعر نامی جو حضرت شعیب ؑ کے بھتیجے تھے اس کنوئیں پر آپہنچے جس میں یوسف ؑ تھے اور اس نے اپنا ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے ڈول کو پکڑ لیا تو وہ کنوئیں سے ڈول نہ کھینچ سکا تو اس نے کنوئیں کے اندر جھانکا۔ اچانک ایک لڑکے پر نظر پڑی جس نے ڈول کو پکڑ رکھا ہے، اس نے اپنے ساتھیوں کو پکارا کہ میرے ساتھیوں بڑی خوشخبری ہے وہ کہنے لگے مالک کیا ہے اس نے کہا کہ یہ بڑا اچھا لڑکا ہے، چناچہ اور ساتھی جمع ہوئے اور سب نے مل کر حضرت یوسف ؑ کو کنوئیں سے نکال لیا اور نکال کر قوم سے چھپالیا اور قوم سے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ مال تجارت ہے ہم نے پانی والوں سے مصر میں بیچنے کے لیے اس کو لیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو ان کی سب کارگزاریاں معلوم تھیں۔ غرض کہ وہاں حضرت یوسف ؑ کے بھائی پہنچ گئے اور انہوں نے ان کو مالک بن دعر سے بہت ہی کم قیمت یعنی بیس درہم یا بتیس درہم بیچ ڈالا، یا یہ کہ قافلہ والوں نے انکو بیچ ڈالا اور یوسف ؑ کے بدلے جو انہوں نے قیمت لی وہ اس کے کچھ محتاج تو تھے نہیں یا یہ کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائی ان کے کچھ قدر دان تو تھے نہیں کیوں کہ ان کی قدر ومنزلت کو نہیں پہچانا یا یہ کہ قافلہ والے حضرت یوسف ؑ کے قدردان نہیں تھے۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(21) مصر میں پہنچ کر مالک بن دعر سے یوسف ؑ کو عزیز نے جو کہ بادشاہ کا خازن اور اس کے لشکروں کا افسر تھا خرید لیا اور عزیز کا نام قطفیر تھا اور زلیخا سے کہا کہ ان کو قدرت و منزلت کے ساتھ رکھنا، ممکن ہے کہ یہ ہمارے کام آئے یا ہم اس کو اپنا لڑکا بنا لیں، اور عزیز نے مالک بن دعر سے حضرت یوسف ؑ کو بیس درہم اور ایک کپڑوں کے اور ایک جوتوں کے جوڑے کے عوض خریدا تھا، اور اسی طریقہ سے ہم نے یوسف ؑ کو سرزمین مصر میں بادشاہت عطا کی۔ اور تاکہ ہم انھیں خوابوں کی تعبیر دینا بتائیں اور اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ کیے ہوئے پر خوب غالب و قادر ہے اور کسی کو اس کے ارادہ پر غلبہ وقدرت نہیں لیکن مصر والے اس چیز کو جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں یا یہ کہ وہ اس بات کو جانتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ پر غالب ہے
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں۔

(22) اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے (اشد اٹھارہ سال سے تیس سال تک کی عمر کو بولتے ہیں) تو ہم نے ان کو حکمت اور نبوت عطا فرمائی، اسی طرح ہم نیکو کاروں کو قول وفعل کے بدلے علم و حکمت کے ساتھ بدلہ دیا کرتے ہیں۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے انکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یو سف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے وہ (یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

(23) اور جس عورت کے گھر میں حضرت یوسف ؑ رہتے تھے وہ ان سے اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے ان کو پھسلانے لگی اپنے اور یوسف ؑ پر گھر کے تمام دروازے بند کردیے اور یوسف ؑ سے کہنے لگی آجاؤ میں تمہارے ہی لیے ہوں یا یہ کہ چلے آؤ اور میں تم ہی سے کہتی ہوں، حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ میں ایسے کام سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں اور دوسرا یہ کہ میرا محسن عزیز جو ہے اس نے کس قدر و منزلت کے ساتھ مجھے رکھا ہے تو کیا میں اسی کے ناموس میں خیانت کروں، ایسے حق فراموشوں کو عذاب الہی سے نجات حاصل نہیں ہوا کرتی۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے انکا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اور اگر وہ پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

(24) اور اس عورت کے دل میں ان کا خیال تو جم ہی رہا تھا اور حضرت یوسف ؑ کو بھی کچھ کچھ خیال امر طبعی کے درجہ ہوچلا تھا اگر ان کے سامنے اپنے پروردگار کے گناہ دینے کا مشاہدہ نہ ہوتا جو کہ اس فعل پر لازم ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس وقت انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب ؑ کی صورت کو دیکھا مگر ہم نے اسی طرح علم دیا تھا تاکہ ان سے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کو دور رکھیں (کہ ارادہ سے بھی بچایا اور فعل سے بھی بچایا) کیوں کہ وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔ یعنی اس کام سے معصوم و محفوظ رہنے والوں میں سے تھے۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔ تو عورت بو لی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اسکی اسکے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ؟

(25) غرض کہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے، اس وقت حضرت یوسف ؑ وہاں سے جان بچا کر نکلنے کے لیے بھاگے اور وہ دروازہ بند کرنے کے لیے دوڑی اور دوڑنے میں اس عورت نے جو حضرت یوسف ؑ سے دروازہ بند کرنے کے لیے سبقت کرنا چاہی تو حضرت یوسف ؑ کی قمیص پیچھے کی طرف پھاڑ ڈالی مگر یوسف ؑ باہر نکل گئے تو دونوں نے اتفاقا اس عورت کے شوہر کو جو کہ اس کا چچا زاد بھائی تھا دروازہ پر کھڑا پایا تو وہ عورت فورا بات بنا کر اپنے خاوند سے کہنے لگی کہ جو شخص تیری بیوی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے، اس کی سزا سوائے اس کے کیا ہوسکتی ہے۔ کہ وہ جیل بھیج دیا جائے یا اسے اور کوئی درد ناک جسمانی سزا دی جائے۔
Ayah 12:26

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنیوالے نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹاہو تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا ہے۔

(26) حضرت یوسف ؑ کہنے لگے یہ بالکل جھوٹ بول رہی ہے، اسی نے مجھے دعوت دی اور یہی اپنا مطلب نکالنے کے لیے مجھ کو پھسلاتی تھی۔
Ayah 12:27

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا

(27) چناچہ اس عورت کے خاندان میں سے ایک حاکم نے فیصلہ کیا جو کہ اس کا حقیقی یا چچازاد بھائی تھا کہ اگر حضرت یوسف ؑ کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹے ہیں۔ اور اگر حضرت یوسف ؑ کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ اپنے فرمان میں کہ اس عورت نے مجھے پھسلایا ہے سچے ہیں۔
Ayah 12:28

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

جب اس کا کرتہ دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے (اور) کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں۔

(28) چناچہ جب اس کے بھائی یعنی خاوند نے ان کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو کہنے لگا کہ تو نے اپنی برأت ظاہر کی تھی یہ تم عورتوں کی چالاکی اور باتیں ہیں، بیشک تمہاری چالاکیاں بھی غضب ہی کی ہوتی ہیں کہ بری اور غیر بری سب کو لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔
Ayah 12:29

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کا خیال نہ کر اور (زلیخا) تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ بیشک خطا تیری ہی ہے۔

(29) پھر اس کے بھائی نے کہا اے یوسف ! اس بات کو جانے دو اور اس کا سرعام چرچا نہ کرتا پھر اس کے بھائی نے عورت کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اے عورت ! تو اپنے قصور کی معافی مانگ اور اپنے خاوند سے اپنے برے ارادہ کی معذارت کرواقعی تو اپنے خاوند کی خائن ہے۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔

(30) غرض کہ زلیخا کی اس بات کی شہر میں شہرت ہوگئی اور چار عورتوں نے یعنی بادشاہ کے ساقی کی بیوی اور قید خانہ کے داروغہ کی بیوی اور صاحب مطبخ کی بیوی اور نگران کی بیوی نے کہا کہ زلیخا اپنے غلام سے ناجائز مطلب حاصل کرنے لیے اس کو پھسلاتی ہے اس کے دل میں یوسف ؑ کا عشق جگہ پکڑ کیا ہے ہم تو اس کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں کہ اپنے غلام یوسف ؑ سے عشق کرتی ہے۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لئے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور انکے لئے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لئے) ہر ایک کو ایک ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو انکا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بیساختہ بول اٹھیں کہ سبحان اللہ (یہ حسن) یہ آدمی نہیں بزرگ فرشتہ ہے۔

(31) سو جب زلیخا نے ان عورتوں کی بات سنی تو ان کو دعوت پر بلایا اور ان کے ٹیک کے لیے تکیے لگائے، جب وہ آئیں تو ان کے سامنے گوشت اور روٹی رکھی اور گوشت کات کر کھانے کے لیے ان کو ایک ایک چاقو بھی دیا کیوں کہ بغیر چاقو سے کاٹ کر اس زمانہ میں گوشت نہیں کھاتے تھے اور ان تمام کاروائیوں کے بعد زلیخا نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ ذرا ان کے سامنے تو آجاؤ چناچہ جب ان ان عورتوں نے حضرت یوسف ؑ کو دیکھا کر گھبرا گئیں اور حیران ہوگئی اور حضرت یوسف ؑ کے حسن و جمال کی بنا پر حیرانی اور دہشت میں چاقو سے اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہنے لگیں ماشاء اللہ یہ شخص آدمی ہرگز نہیں یہ تو اپنے پروردگار کا کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

تب (زلیخا نے) کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بیشک میں نے اسکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کریگا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔

(32) تب زلیخا نے ان عورتوں سے کہا کہ یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے لعن طعن کرتی ہو اور واقعی میں نے ان کو اپنی طرف دعوت دی تھی اور اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی تھی، مگر یہ عفت وپاک دامنی کے ساتھ علیحدہ رہے اور اگر آئندہ کو میرا کہنا نہ مانے گا تو جیل بھیجا جائے گا اور بےعزت بھی ہوگا، وہ سب عورتیں بھی حضرت یوسف ؑ سے کہنے لگیں کہ تمہیں اپنی محسنہ سے ایسی بےاعتنائی مناسب نہیں۔
Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

(یوسف نے) دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے انکے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں انکی طرف مائل ہوجاؤ نگا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا۔

(33) حضرت یوسف ؑ نے جب یہ دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اے میرے پروردگار جس فضول کام کی طرف یہ مجھے بلارہی ہیں اس سے تو جیل میں جانا ہی مجھے بہتر ہے۔ اور اگر آپ انکے داؤ پیچ کو مجھ سے دفع نہ کریں گے تو ان کی صلاح کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور آپ کی نعمت سے نادان ہوجاؤں گا یا یہ کہ نادانی کا کام کر بیٹھوں گا۔
Ayah 12:34

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو خدا نے انکی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کردیا۔ بیشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے۔

(34) چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور عورتوں کے مکر و فریب سے ان کو دور رکھا، بیشک وہ دعاؤں کا سننے والا اور ان کی قبولیت کو جاننے والا ہے یا کہ ان عورتوں کی باتوں کا سننے والا اور ان کے داؤ پیچ کو جاننے والا ہے۔
Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر باوجود اسکے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے انکی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصے کے لئے ان کو قید ہی کردیں۔

(35) پھر عزیز کو حضرت یوسف ؑ کی قیمص کے پھٹنے اور لڑکے کے فیصلے سے یہی مناسب معلوم ہوا کہ چندسالوں تک ان کو قید میں رکھیں یا یہ کہ اتنے وقت تک قید میں رکھیں جب تک کہ لوگوں کی باتیں ختم نہ ہوجائیں۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔ ایک نے دن میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا کیا ہوں کہ شراب (کے لئے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں (تو) ہمیں انکی تعبیر بتا دیجئے کہ ہم تمہیں نیکو کار دیکھتے ہیں۔

(36) اور حضرت یوسف ؑ کے قید کے زمانہ میں یعنی ان کے جانے کے پانچ سال بعد بادشاہ کے دو غلام بھی جیل میں داخل ہوئے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا نانبائی، بادشا ان دونوں پر ناراض ہوا اور قید میں بھیج دیا ان میں سے ساقی نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ میں نے خود کو خواب میں انگور کا شیرہ نچوڑتے ہوئے دیکھا ہے کہ بادشاہ کو شراب بنا کر پلا رہا ہوں، اور تفصیل خواب کی یہ ہے گویا کہ میں انگوروں کے باغ میں داخل ہوا اور وہاں ایک عمدہ انگوروں کی بیل پر نظر پڑی جس کی تین شاخیں ہیں اور ایک شاخ پر انگوروں کے خوشے لٹک رہے ہیں تو میں اس سے انگور توڑ کر نچوڑ رہا ہوں اور انھیں بادشاہ کو پلا رہا ہوں۔ یہ سن کر حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ تو نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے، انگور کا باغ تو تیرا سابقہ پیشہ ہے اور اس کی بیل یہ بھی تیرے سپرد وہ کام ہوگا اور اس بیل کی خوبصورتی سے تیری عزت مراد ہے اور بیل کی تین شاخیں جو ہیں تو وہ یہ کہ تو تین دن تک جیل میں رہے گا اور پھر اپنے پہلے کام پر واپس چلا جائے گا اور انگور نچور کر جو بادشاہ کو پلا رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر عزت کے ساتھ بادشاہ کا ساقی بنے گا۔ اور نانبائی کہنے لگا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے گویا کہ میں بادشاہ کے مطبخ سے نکلا ہوں اور میرے سر پر روٹیوں کی تین ٹوکریاں لدی ہوئی ہیں اس پر سے پرندے نوچ نوچ کر رکھا رہے ہیں، حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ تم نے بہت برا خواب دیکھا ہے تمہارا پہلا پیشہ تم سے واپس لے لیا جائے گا اور تم تین دن جیل میں رہو گے، اس کے بعد بادشاہ تمہیں جیل سے نکال کر پھانسی دے گا اور پرندے تمہارا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ چناچہ ان دونوں نے حضرت یوسف ؑ کے بتانے سے پہلے کہا کہ آپ ہمیں کو ان کی تعبیر بتائیے آپ قیدیوں پر احسان کرنے والے معلوم ہوتے ہیں یا یہ کہ ہم آپ کو سچا سمجھتے ہیں۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں۔ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں میں انکا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں۔

(37) حضرت یوسف ؑ نے ان دونوں سے فرمایا اور یوسف ؑ کو جو علم کا معجزہ حاصل تھا اس سے بھی ان لوگوں کو آشنا کرنا چاہا کہ دیکھو جو کھانا تمہارے پاس آتا ہے کہ تمہیں کھانے کے لیے وہ ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی میں اس کی حقیقت اور رنگت تمہیں بتلا دیا کرتا ہوں تو پھر تمہارے خوابوں کی تعبیر سے کیوں کرواقف نہ ہوں گا، یہ بتلانا اس علم کی بدولت ہے جو میرے پروردگار نے مجھے دیا ہے میں نے تو ایسے لوگوں کے مذہب کی اتباع کی ہی نہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور موت کے بعد کی زندگی کے بھی منکر ہیں۔ میں نے تو اپنے ان بزرگوار باپ داداؤں کے مذہب کو اختیار کر رکھا ہے یعنی حضرت ابراہیم ؑ اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایان نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

(38) ہمارے لیے کسی طرح یہ مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان بتوں میں سے کسی کو شریک عبادت قرار دے دیں اور یہ دین مستقیم اور نبوت واسلام جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت دی ہے یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور دوسرے لوگوں پر بھی ان کی طرف اس نے ہمیں رسول بنا کر بھیجا، یا یہ کہ مومنین پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ان کو ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔
Ayah 12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا و غالب ؟

(39) لیکن اہل مصر اس ذات پر ایمان نہیں لاتے اے قیدیو ! یا قید خانہ کے رکھوالو ! ذرا سوچ کر بتلاؤ کہ بہت سے معبودوں کی عبادت اچھی ہے یا ایک معبود برحق کی جو کہ وحدہ لاشریک اور سب سے زبردست اور تمام مخلوق پر غالب ہے، اس کی عبادت بہتر ہے۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں خدا نے انکی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جا نتے۔

(40) تم لوگ تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر چند مردہ بتوں کی عبادت کرتے ہو، جن کو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے معبود ٹھہرا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے تو ان کی عبادت کے بارے میں کوئی کتاب اور حجت یعنی دلیل عقلی ونقلی نہیں بھیجی۔ اور اوامرو نواہی کے حکم کے دینے اور دنیا وآخرت میں فیصلہ فرمانے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے، اس نے تمام آسمانی کتابوں میں اسی چیز کا حکم دیا ہے کہ بجز اس کے اور کسی کی عبادت مت کرو یہ توحید خداوندی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ سیدھا راستہ ہے یعنی دین اسلام اور مصر والے اس طریقہ کو نہیں جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔