12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsانوار البیان

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف لام را۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

(12:1) الرا۔ الف لام را۔ حرف مقطعات ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2:1) تلک۔ اسم اشارہ بعید ہے واحد مؤنث۔ اصل میں اسم اشارہتی ہے لام اس پر زیادہ کیا گیا ہے اور ک حرف خطاب ہے۔ جس کے حسب احوال مخاطب تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیہ میں گردان ہوتی رہتی ہے۔ یہاں مراد وہ آیات ہیں جو اس سورة میں ہیں۔ الکتب المبین۔ موصوف صفت۔ واضح کتاب۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سجمھ سکو

(12:2) انزلنا۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الکتاب ہے۔ بمراد قرآن۔ قرنا۔ مادہ قرئ۔ القرء کے اصل معنی طہر سے حیض میں داخل ہونے کے ہیں اور چونکہ یہ لفظ طہر اور حیض دونوں کا جامع ہے ۔ اسی لئے دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو اسم دو چیزوں کے لئے بحیثیت مجموعی وضع کیا گیا ہو وہ ہر ایک پر انفرادا بھی بولا جاتا ہے مثلاً لفظ مائدہ کہ دسترخوان اور کھانا دونوں کے مجموعہ کے لئے وضع کیا گیا ہے مگر ہر ایک پر انفرادا بھی بولا جاتا ہے۔ لہٰذا قرء نہ صرف حیض کا نام ہے اور نہ صرف طہر کا۔ بلکہ دونوں کے لئے وضع کیا گیا ہے اسکی دلیل یہ ہے کہ جس عورت کو حیض نہ آتا ہو اسے ذات قرء نہیں کیا جاتا اور ایسے ہی حائض جسے متواتر خون آرہا ہو اس کو بھی ذات قرء نہیں کہتے اور آیت کریمہ یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء (2: 228) تین حیض تک اپنے تئیں روکے رکھیں میں شلشۃ قروء کے معنی تین مرتبہ حالت طہر سے حالت حیض کی طرف منتقل ہونے کے ہیں بعض اہل لغت کا قول ہے کہ قرء کا لفظ قرء سے مشتق ہے جس کے معنی جمع کرنے کے ہیں۔ تو انہوں نے زمانہ طہر اور زمانہ حیض کو جمع کرنے کے معنی کا اعتبار کیا ہے۔ القراء ۃ کے معنی حروف و کلمات کو ترسیل میں جمع کرنے کے ہیں کیونکہ ایک حرف کے بولنے کو قرأت نہیں کہا جاتا۔ اور نہ یہ عام ہر چیز کے جمع کرنے پر بولا جاتا ہے لہٰذا اجمعت القوم کی بجائے قرأت القوم کہنا صحیح نہیں ہے۔ القران اصل میں کفران اور رجحان کی طرح مصدر ہے۔ قرآن کی وجہ تسمیہ کے متعلق علماء کے متعدد اقوال ہیں۔ کسی نے قرء کا معنی جمع کرنا لیا قرآن سابقہ کتب الہیہ کا حاصل اور مجموعہ ہے۔ راغب نے کہا ہے کہ قرآن تمام علوم کا مجموعہ ہے۔ ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ یہ سورتوں کا مجموعہ ہے۔ بہرحال سب نے قرآن کی وجہ تسمیہ بیان کرنے میں جمع کا مفہوم پیش نظر رکھا ہے۔ پروفیسر عبد الرؤف نے کہا ہے کہ یہ وجہ تسمیہ غلط ہے۔ قرآن کا نام سب سے پہلے سورة مزمل میں آیا ہے جو ترتیب نزول کے اعتبار سے تیسری سورة ہے اس وقت تک نہ سورتوں کا مجموعہ تھا اور نہ کتب سابقہ کا بچوڑ اور خلاصہ۔ بلکہ قرآن کہنے کی وجہ صرف قرأت و تلاوت ہے آیت ان علینا جمعہ وقرانہ (75:17) سے تو ویسے بھی صاف ظاہر ہے کہ جمع قرآن سے قرأت قرآن الگ چیز ہے۔ اور اگلی آیت فاذا اقرأنہ فاتبع قرأنہ (75:18) جب ہم اسے پڑھیں (یعنی جب ہمارا فرشتہ تمہیں وحی سنائے) تو اس کی قرأت کا اتباع کرتے رہئے۔ سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن بمعنی قرأت یا پڑھنا ہے۔ اگرچہ قرآن کے لغوی معنی متذکرہ بالا ہیں لیکن عرف عام میں یہ اللہ کی اس کتاب کا نام ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی۔ عربیا۔ عربی جو عرب کی طرف منسوب ہو۔ یا یائے نسبتی ہے عربی عرب کا باشندہ یا عرب کی زبان۔ العرب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں۔ الاعراب عرب کی جمع ہے مگر یہ لفظ باویہ نشین لوگوں کے ساتھ مختص ہوچکا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے قالت الاعراب امنا (49:14) باویہ نشین نے آکر کہا کہ ہم ایمان لے آئے۔ الاعرابی اعراب کا واحد ہے۔ الاعراب۔ کسی بات کو واضح کردینا۔ اس سے العربی۔ فصیح۔ وضاحت سے بیان کرنے والا۔ یا واضح اور فصیح کلام۔ اعراب عن نفسہ اس نے بات کو واضح بیان کردیا۔ قرآن حکیم میں آیا ہے بلسان عربی مبین (26:195) صاف عربی زبان میں۔ لہٰذا قرانا عربیا (آیۃ ہذا) قرآن واضح اور فصیح (عربی) زبان میں ۔ اس کے نصب کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔ (1) قرانا بدل ہے انزلنہ کی ضمیر کا اور عربیا اس کی صفت ہے (روح المعانی) (2) قرانا حال ہے ضمیر مفعول ہ (انزلنہ) کا عربیا تمہید و تاکید حال ہے (روح المعانی) (3) عربیا ضمیر کا حال ہے اور قرانا بطور تمہید و تاکید حال ہے (ضیاء القرآن بحوالہ قرطبی)
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں۔ اور تم اس سے پہلے بیخبر تھے۔

(11:3) بما۔ اس کے ذریعہ سے۔ ان کنت۔ میں ان مخففہ ان (ثقیلہ) سے ہے۔ اس کو ان نافیہ سے فرق کرنے کے لئے لام فارقہ لایا گیا ہے۔ الغافلین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بیخبر ۔ لاعلم۔ غافل۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

(11:4) اذقال یوسف۔ احسن القصص سے بدل اشتمال ہے۔ یوسف۔ بوجہ معرفہ اور عجمہ کے غیر منصرف ہے۔ عبرانی لفظ ہے۔ یابت۔ یا حرف نداء ابت میں تائے تانیث ۔ یائے اضافت کے عوض لائے ہیں ۔ یا ابی سے یا ابت ہوگیا۔ رایتھم۔ میں نے ان کو دیکھا۔ رایت ماضی واحد متکلم۔ رایت۔ رویۃ سے بھی ہوسکتا ہے اور رؤیا سے بھی۔ لیکن اگلی ہی آیت میں لفظ رأیاک صریحا ظاہر کرتا ہے کہ یہ رؤیا سے ہے۔ جس کے معنی ہیں خواب میں دیکھنا ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ رایتھم میں نے ان کو خواب میں دیکھا۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

(12:5) یبنی۔ یا حرف ندا۔ بنی۔ ابن سے اسم تصغیر ہے۔ مضاف ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ اضافت کے باعث ی کو ی میں مدغم کیا گیا۔ بنی میں تصغیر تحقیر کے لئے نہیں بلکہ شفقت اور محبت کے لئے ہے اور نحوی اسے تصغیر الحبیب کہتے ہیں اے میرے پیارے بیٹے۔ فیکیدوا۔سببیہ ہے فعل مضارع کو نصب دیتا ہے۔ یکیدوا مضارع منصوب بوجہ فاء سببیہ یا جواب نہی میں جو بہ اضمار ان (اضمار مضمر۔ پوشیدہ محذوف) مثال لایقضی علیہم فیموتوا۔ کاد یکید کیدا (باب ضرب) خفیہ تدبیر کرنا۔ فیکیدوا لک کیدا۔ ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی چال ضرور چلیں گے۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

(12:6) کذلک۔ اول کاف حرف تشبیہ ذ اسم اشارہ ل علامت اشارہ بعید۔ آخری کاف حرف خطاب (واحد مذکر) ایسے ہی۔ اسی کی طرح ۔ ای مثل ذلک الاجتبائ۔ یجتبیک۔ مضارع واحد مذکر غائب اجتباء افتعال سے مصدر ۔ جبی مادہ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تجھ کو منتخب کر رہا ہے۔ چن رہا ہے۔ مجتبی برگزیدہ۔ چنا ہوا۔ منتخب شدہ ۔ الاحادیث۔ کہانیاں ۔ باتیں۔ حدیث کی جمع۔ ہر وہ کلام جو انسان تک پہنچ سکے۔ خواہ بذریعہ سماعت۔ خواہ بذریعہ وحی۔ عالم خواب میں ہو یا بیداری کی حالت میں ۔ اس کو حدیث کہتے ہیں۔ تاویل۔ اس کا مادہ اول ہے بروزن تفعیل مصدر ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کا اصل کی طرف رجوع ہونا۔ اور جس مقام کی طرف کوئی چیز لوٹ کر آئے اسے موٹل (جائے بازگشت) کہتے ہیں۔ پس تاویل کسی چیز کو اس غایت کی طرف لوٹانے کے ہیں جو اس سے بلحاظ علم یا عمل کے مقصود ہوتی ہے۔ چناچہ غایت علمی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے وما یعلم تاویلہ الا اللہ (603) حالانکہ اس کی مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور غایت عمل کے متعلق ہے ہل ینظرون الا تاویلہ یوم یاتی تاویلہ (7:52) اب وہ صرف اس کی تاویل یعنی وعدہ عذاب کے نتائج سامنے آجائیں گے (یعنی اس دن سے جو غایت مقصود ہے وہ عملی طور پر ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گی) ۔ تاویل۔ اصلی غایت۔ اصلی مراد۔ اصل حقیقت ۔ ٹھیک ٹھیک مقصود۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

ہاں یوسف اور انکے بھائیوں کے (قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(12:7) فی یوسف۔ یوسف ۔ بوجہ معرفہ و عجمہ غیر منصرف ہے۔ فی یوسف ای فی خبر یوسف۔ خبر (مضاف محذوف) یوسف۔ مضاف الیہ۔ السائلین۔ پوچھنے والے۔ جو ئندگان علم۔ طالبان حق۔ سوال کرنے والے۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔

(12:8) عصبۃ۔ عصب سے العصب کے معنی بدن کے پٹھے۔ جو جوڑوں کو تھامے ہوئے ہیں ۔ الاعصاب۔ پٹھے۔ مضبوطی کے ساتھ باندھنے کو عصب کہتے ہیں۔ مثلاً لاعصبتکم عصب السلمۃ میں تمہیں سلمہ درخت کی طرح باندھ کر چھوڑوں گا۔ فلان شدید العصب فلاں کے جوڑ مضبوط ہیں۔ وقال ھذا یوم عصیب (11:77) اور بولے یہ بہت سخت دن ہے۔ عصیب بمعنی فاعل اور مفعول دونوں طرح مستعمل ہے۔ العصبۃ۔ وہ جماعت جس کے افراد ایک دوسرے کے حامی اور مددگار ہوں۔ اور اس طرح طاقت اور مضبوطی کا سبب بنیں۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے لتنوء بالعصبۃ اولی القوۃ ایک طاقت ور جماعت کو اٹھانا مشکل ہوتیں۔ ونحن عصبۃ (آیت ہذا) حالانکہ ہم ایک پوری جماعت کی جماعت ہیں۔ عصبۃ کی جمع عصب ہے جیسے غرفۃ کی جمع غرف ہے۔ علامہ زمخشری (رح) فرماتے ہیں عصبۃ وعصابۃ دس اور دس سے زیادہ اشخاص کو کہتے ہیں بعض چالیس تک بتاتے ہیں ان کا یہ نام اس واسطے پڑگیا کہ اتنے اشخاص سے سب کاموں میں قوت ہوجاتی ہے اور وقت پڑے یہ لوگ کافی سمجھے جاتے ہیں۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالوں یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائیگی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔

(12:9) اطرحوہ۔ اس کو پھینک دو ۔ اس کو دور کہیں پھینک آو۔ طرح یطرح (فتح) طرح جس کے معنی پھینک دینے اور دور ڈال دینے کے ہیں۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ یحل لکم۔ خلا یخلو خلاء وخلو (باب نصر) خالی ہونا۔ خالی رہ جانا۔ خلا الانائ۔ برتن خالی ہوگیا۔ خلا الرجل۔ آدمی تنہا رہ گیا۔ یخل لکم وجہ ابیکم تمہارے لئے خالی ہوجائے گا تاکہ تمہارے باپ کی توجہ (صرف) تمہاری طرف ہوجائے ۔ وتکونوا من بعدہ قوما صلحین۔ اس کے بعد تمہارے سب کام بن جائیں گے۔ یا اس کا معنی یہ ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد تم بھلے آدمی بن جانا۔ (یعنی توبہ کرکے نیک بن جانا) اکثر مفسرین نے اسی پہلو کو اختیار کیا ہے۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) ۔

(12:10) غیبت۔ الغیابۃ کے معنی نشیبی زمین کے ہیں۔ اور اسی سے گھنے جنگل کو غابۃ کہا جاتا ہے۔ غیابۃ تاریکی۔ گہرائی مجازاً ۔ الجب۔ وہ کنواں جس کی کوٹھی تعمیر نہ کی گئی ہو۔ یا جو پختہ اور لپا ہوا نہ ہو۔ غیب الجب۔ کچے کنویں کے اندھیرے میں۔ کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں۔ یلتقطہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ التقاط (افتعال) سے لقط مادہ۔ وہ نکال لیگا لقط (باب نصر) زمین پر پڑی ہوئی چیز کو اٹھا لینا۔ السیارۃ۔ کارواں۔ قافلہ۔ چلنے والے مسافر۔ سیار کا مؤنث ہے جو سیر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی تانیث جمع کے معنی کے لحاظ سے ہے۔
Ayah 12:11

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں ؟

لاتامنا علی یوسف۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ تو ہم کو امین نہیں بناتا یوسف پر۔ یعنی یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا۔ اصل میں تامنا (امن یامن سمع) تھا۔ نون نون میں مدغم کردیا گیا۔ لناصحون۔ ناصح کی جمع۔ خیر خواہ ۔ خیر خواہی کرنے والے۔ لام تاکید کے لئے ہے۔
Ayah 12:12

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔

(12:12) یرتع۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب رتع رتع ورتوع۔ مصدر (باب فسخ) جس کے اصل معنی جانوروں کے چرنے کے ہیں پھر استعارہ کے طور پر انسانوں کے جی بھر کر کھانے پینے پر یہ لفظ بولا جانے لگا۔ رتعۃ فراخی۔ ارزانی۔ راتع چرانے والا۔ مرتع چراگاہ۔ مرتع فراخ دل وسیع الرزق۔ یرتع وہ خوب جی بھر کر کھائے پئے۔ یرتع ویلعب میں مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ہے۔ اس کی دیگر مثالیں :۔ (1) فاتبعونی یحبیکم اللہ (3:31) میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ (2) فاذکرونی اذکرکم (2:152) مجھے یاد کرتے رہو میں بھی تمہیں یاد کرتا رہوں گا۔ یلعب۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ لعب مصدر (باب سمع) وہ کھیلے کودے۔
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

(12:13) انی لیحزننی۔ میں لام ابتدائیہ ہے۔ اس سے مضارع کے معنی حال کے لئے مختص ہوجاتے ہیں۔ جیسے انی لاطالع الجرائد میں اخبار دیکھ رہا ہوں۔ انک لتعلم ما نرید۔ تجھے خوب معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ انی لیحزننی ان تذھبوا بہ۔ بیشک مجھے غمزدہ بناتی ہے (یہ بات) کہ تم اسے لیجاؤ (اور اس طرح اسے مجھ سے جدا کر دو ) واخاف۔ اور میں ڈرتا ہوں (یہ حضرت یعقوب کا دوسرا اندیشہ تھا) ان یاکلہ الذئب کہ کہیں اسے بھیڑیا کھاجائے۔
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے۔

(12:14) ونحن عصبۃ (ملاحظہ ہو 12:8) حالانکہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں۔
Ayahs 12:15–16

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

(12:15) اجمعوا۔ وہ سب جمع ہوگئے۔ سب نے باتفاق فیصلہ کرلیا۔ سب نے پختہ ارادہ کرلیا۔ جواب لما محذوف ہے ۔ ای یجعلوہ فی غیبت الجب وفعلوا بہ ما فعلوا من الاذی۔ اوحینا الیہ۔ اور ہم نے اس پر وحی کی۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع حضرت یوسف ہیں ۔ یہ وحی اصطلاحی مراد نہیں بلکہ الہام کے معنی میں ہے جو غیر نبی کو یا نبی کو قبل از نبوت ہوتا رہتا ہے۔ لتنبئہم۔ تو ضرور ان کو جتائے گا۔ تو ضرور ان کو بتلائے گا۔ (باب تفعیل) مضارع بانون ثقیلہ واحد مذکر حاضر تنبئۃ اور تنبیٔ سے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (برائے برادران یوسف) ۔ وہم لا یشعرون۔ درآں حالیکہ وہ جانتے بھی نہ ہوں گے کہ تو یوسف ہے۔
Ayah 12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

(12:17) نستبق۔ مضارع جمع متکلم۔ استباق (افتعال) سبق۔ مادہ ۔ ہم ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ دوڑنے لگے۔ استباق اور تسابق (افتعال و تفاعل) ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں مقابلہ کرنا۔ ذھبنا نستبق۔ ہم (اپنے سامان کو رکھ کر ایک طرف) گئے کہ مقابلہ کی دوڑ دوڑیں۔ یا ہم جاکر دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے۔ مؤمن۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ایمان رکھنے والا۔ یقین کرنے والا۔ وما انت بمؤمنین لنا۔ آپ ہم پر یقین تو نہیں کریں گے۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

(12:18) وجاء و اعلیٰ قمیصہ بدم کذب۔ کذب ای ذی کذب۔ مصدر کو صفت کے لئے مبالغہ کی خاطر استعمال کیا ہے۔ دم کذب موصوف وصفت۔ علی قمیصہ ای فوق قمیصہ والمعنی اتو بدم کذب فوق قمیصہ۔ وہ لے آئے جھوٹ موٹ کا خون اس کی قمیص پر لگا ہوا۔ سولت۔ ماضی واحد مؤنث غائب تسویل (باب تفعیل) سے جس کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کو مزین کرکے دکھانا جس پر وہ حریص ہو۔ (بلکہ تمہارے نفسوں نے یعنی تمہارے دلوں نے ایک بات جو جھوٹی ہے) مزین اور معقول شکل میں بنالی ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ۔ الشیطن سول لہم (47:25) شیطان نے (یہ کام) انہیں مزین کر دکھایا۔ المستعان۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ استعانۃ (استفعال) سے مصدر۔ وہ جس سے اعانت طلب کی جائے۔ جس سے مدد مانگی جائے ۔ معاونت باہمی مدد کرنا۔ تعاون ایک دوسرے کے ساتھ مدد گار ہونا۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو) کہ اس (کنوئیں) کے قریب ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقا بھیجا اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اسکو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔

(12:19) سیارۃ۔ قافلہ (ملاحظہ ہو 12:10) ۔ واردھم۔ اسم فاعل۔ مضاف۔ ہم مضاف الیہ۔ پانی پر پہنچنے والا۔ قافلہ کے آگے جا کر پانی کی تلاش کرنے والا سقہ۔ (ملاحظہ ہو 11:98) انہوں نے اپنا سقہ بھیجا۔ ادلیٰ ۔ اس نے لٹکایا۔ اس نے ڈول لٹکایا۔ ادلاء سے جس کے معنی ڈول ڈالنے اور ڈول کھینچنے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب یبشری۔ واہ خوشخبری۔ ارے واہ۔ کلمہ تعجب و انبساط۔ اسروہ۔ اسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب انہوں نے اس کو چھپالیا ۔ سر سے سرر مادہ ۔ ضمیر واحد مذکر غائب اہل قافلہ کے لئے ہے یا برادران یوسف کے لئے کہ انہوں نے یوسف کی اصلی حقیقت کو چھپالیا اور کہا کہ یہ ہمارا غلام ہے ہم سے خریدلو ۔ بضاعۃ۔ منصوب بوجہ مال کے۔ بطور مال تجارت کے۔ بضاعۃ پونجی۔ سامان تجارت بضاعۃ بضع سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں گوشت کا بڑا ٹکڑا۔ اسی سے ہے المبضع (اسم آلہ) گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کا آلہ۔ نشتر۔ یا کہتے ہیں۔ فلان بضعۃ منی۔ فلاں میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ البضع (یا کی کسر کے ساتھ) عدد جو دس سے الگ کئے گئے ہیں ۔ یہ لفظ تین سے لے کر نو تک بولا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ پانچ سے اوپر اور دس سے کم ۔ اور علمائے لغت کے نزدیک تین سے نو تک کے لئے ہے۔ اسی سورة میں ہے بضع سنین (12:42) چند سال۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اسکو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدو دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انھیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

(12:20) شروہ انہوں نے اس کو بیچا۔ شراء سے (باب ضرب) جس کے معنی ہیں خریدوفروخت کرنے کے۔ ماضی جمع مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (برائے یوسف) اور اگر اس کو خریدنے کے معنی میں لیا جائے تو ضمیر جمع مذکر غائب اہل قافلہ کے لئے ہوگی۔ ثمن بخس۔ موصوف۔ صفت۔ حقیر قیمت۔ بخس ناقص۔ ظلم سے کسی شے کے گھٹانے یا کم کرنے کو بخس کہتے ہیں۔ فیہ من الزاھدین۔ فیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب۔ حضرت یوسف کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور قیمت کے لئے بھی۔ زاھدین۔ الزھید سے ہے جس کے معنی حقیر چیز کے ہیں۔ اس لئے کسی چیز سے بےرغبتی کرنے والے۔ یا حقیر سی چیز پر راضی ہوجانے والے کو زائد فی الشیٔ کہا جاتا ہے پس وکانوا فیہ من الزاھدین وہ اس کے بارے میں بےرغبت تھ۔
Ayahs 12:21–22

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو ' عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں۔

(12:21) اکرمی۔ اکرام (افعال) سے امر واحد مؤنث حاضر۔ تو باعزت کر۔ مثوہ۔ مثوی مضاف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مضاف الیہ ۔ اس کی قیام گاہ ۔ اس کا ٹھکانہ ۔ اس کی مہمانی۔ مثوی ظرف مکان مثاوی جمع۔ ٹھکانہ۔ دراز مدت تک ٹھہرنے کا مقام۔ ثوی یثوی (ضرب) ثواء وہ اقامت پذیر ہوا ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے والنار مثوی لہم (47:12) اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اکرمی مثوہ۔ اس کے قیام کو باعزت و اکرام بنانا۔ یعنی اسے دوران قیام عزت و توقیر سے رکھنا۔ کذلک۔ کاف حرف تشبیہ۔ ذلک اسم اشارہ۔ اس طرح یعنی جس طرح ہم نے اس کو بھائیوں کے ہاتھوں قتل سے بچا کر۔ کنویں کی گہرائیوں سے نجات دلا کر اس پر احسان کیا۔ اسی طرح ہم نے اس پر اپنی کرم نوازی سے عزیز مصر کے ہاں عزت و اکرام کا ٹھکانہ دلا کر ملک مصر میں اس کے قدم جما دئیے۔ (12:21) فی الارض۔ ای فی ارض مصر۔ مصر کی سرزمین۔ مکنا۔ ماضی جمع متکلم مکن یمکن تمکین (تفعیل) ہم نے اس کو ٹھکانہ عطا کیا ہم نے اس کو جماؤ بخشا۔ تمکین دی۔ ہم نے اس کے پاؤں جما دیئے۔ ولنعلمہ لام تعلیل کے لئے۔ یعنی ہم نے یوسف کے قدم ارض مصر میں جما دئیے اور اس کو جاہ و تمکنت عطا کی کہ (اب) اسے تاویل احادیث کا علم بھی عطا کریں۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ : پھر ہم نے مصر میں لاکر یہاں کی سرزمین پر ان کا قدم جما دیا کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم نے اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرما ویں۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے انکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یو سف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے وہ (یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

(12:23) راودتہ۔ اس عورت نے اس کو پھسلایا۔ اس سے خواہش کی گفت و شنید کی الرود کے اصل معنی نرمی کے ساتھ بار بار کسی چیز کی طلب میں آمدورفت کے ہیں۔ راود یراود مراودۃ (مفاعلۃ) عن نفسہ وعلی نفسہ۔ کسی کو گناہ کی رغبت دلانا۔ اراد یرید ارادۃ۔ چاہنا ۔ خواہش کرنا۔ رغبت کرنا۔ ارود یرود (افعال) ارواد وروید نرمی کرنا ۔۔ فی السیر نرم رفتار سے چلنا۔ راودتہ عن نفسہ۔ وہ عورت اس کو گناہ کی رغبت دلانے لگی۔ التی ھو فی بیتھا وہ عورت جس کے گھر میں وہ تھا۔ غلقت۔ اس عورت نے بند کیا (درواہ) غلقت الابواب اس عورت نے دروازے بند کر دئیے۔ ہیت لک۔ ادھر آؤ۔ چلے آؤ۔ ہیت لک۔ لکما۔ لکم۔ لکن۔ چلے آؤ۔ تو ایک۔ تم دونو۔ تم سب وغیرہ۔ ہیت۔ اقبل۔ اسرع۔ اسم فعل بمعنی امر۔ آؤ ۔ جلدی کرو۔ معاذ اللہ۔ معاذ۔ مصدر میمی اور اسم ہے۔ مضاف۔ اللہ مضاف الیہ۔ اللہ کی پناہ (یعنی یہ گناہ کا کام ہے میں اس کے کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) ۔ عوذ اور معاذ۔ کسی کی پناہ پکڑنی اور کسی سے وابستہ ہوجانا۔ جیسے اعوذ باللہ میں (ہر گناہ) سے اللہ کی پناہ چاہتا انہ ربی میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع عزیز مصر بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی۔ لہٰذا پہلی صورت میں ربی (میرا رب) سے مراد (میرا آقا) عزیز مصر ہوگا۔ اور دوسری صورت میں میرا رب یعنی میرا خدا ہوگا۔ انہ ربی وہ میرا مربی ہے۔ احسن۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے اچھا کیا۔ اس نے اچھا بنایا۔ مثوای۔ میرا ٹھکانہ۔ میری قیام گاہ۔ میری مہمانی۔ مضاف مضاف الیہ۔ احسن مثوای۔ اس نے مجھے بہترین ٹھکانہ دیا ہے۔ اس نے میرے قیام کا نہایت اچھے طریق پر بندوبست کیا ہے انہ لا یفلح الظالمون۔ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے انکا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اور اگر وہ پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

(12:24) ھمت بہ۔ اس عورت نے اس مرد کا ارادہ کرلیا۔ الہم کا معنی پگھلادینے والے غم کے ہیں اور یہ ہممت الشحم فالہم کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں : میں نے چربی کو پگھلایا چناچہ وہ پگھل گئی۔ اصل میں ہم کے معنی ارادہ کے ہیں جو ابھی دل ہی میں ہو۔ (راغب) ۔ ہم بالامر اذا قصدۃ وعزم علیہ۔ ہم کا معنی ہے کسی چیز کا قصد کرنا اور عزم کرنا۔ (الکشاف) الہم ھو المقاربۃ من الفعل من غیر دخول فیہ۔ ہم کے معنی ہیں کسی فعل سے مقدیت بغیر وہ فعل کئے کے۔ (الخازن) ہمت بہ وہم بھا۔ اس عورت نے اس مرد کا قصد کرلیا تھا ۔ اور وہ آدمی بھی اس عورت کا قصد کرلیتا ۔ لولا ان را برھان ربہ۔ اگر اس نے اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھ لیا ہوتا۔ متذکرہ معنی کے لحاظ سے کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عام قاعدہ کے مطابق شرط پہلے اور جزاء بعد میں آنا چاہیے تھی۔ اور کلام یوں چاہیے تھا۔ لولا ان رابرھان ربہ ھم بھا۔ لیکن یہاں جزاء کو مقد لایا گیا ہے اور شرط کو بعد میں لایا گیا ہے۔ یہ طرز کلام شاذ نہیں ہے قرآن مجید میں اور جگہ بھی ایسا کیا گیا ہے مثلاً واصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا۔ ان کا دت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبھا (28:10) اور ام موسیٰ کا دل ایسا بیقرار ہوا کہ قریب تھا کہ وہ موسیٰ کا حال ظاہر کر دیتیں اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط و مربوط نہ کردیا ہوتا۔ یہاں بھی جزا مقدم ہے اور شرط مؤخر۔ تو گویا اس صورت میں آیت کا مطلب ہوا۔ اس عورت نے اس کا عزم بالجزم کرلیا تھا اور اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھ لیا ہوتا تو وہ بھی اس عورت کا قصد کرلیتے۔ (لیکن چونکہ انہوں نے اپنے رب کی روشن دلیل کو دیکھ لیا اس لئے ان کے ارادہ کو نوبت ہی نہ آئی) ۔ بعض کے خیال میں ہمت بہ وہم بھا۔ ایک مستقل جملہ ہے اور لولا ان را برھان ربہ نیا جملہ ہے جس کی جزاء محذوف ہے (تو ضرور اس کے دام تزویر میں پھنس جاتا) ۔ اس سورت میں مطلب یہ ہوگا کہ زلیخا نے اپنی خواہش رانی کا مصمم ارادہ کرلیا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خیال بھی ہو چلا تھا۔ لیکن یہ خیال جس کی پشت پر کوئی عزم نہ تھا کوئی عیب نہیں ہے کہ یہ ایک امر طبعی ہے خلوت کی یکجائی میں جو ان تندرست مرد کا محض خیال اگر جوان حسین عورت کی طرف جائے خصوصاً جبکہ پیش قدمی اور تشویق (شوق دلانا) عورت کی طرف سے ہو رہی ہو تو یہ عیب نہیں ہے بلکہ دلیل ہے مرد کی صحیح اور تندرست ہونے کی۔ (ضیاء القرآن) مال الی مخالط تھا بمقتضی الطبیعۃ البشریۃ کمیل الصائم فی الیوم الحار الی الماء البارد۔ ومثل ذلک۔ لایکاد یدخل تحت التکلیف (روح المعانی) ۔ وہ مائل ہوئے بمقتضائے طبیعت بشر یہ جیسا کہ روزہ دار شدید گرمی کے دن کو ٹھنڈے پانی کی طرف مائل ہوتا ہے (لیکن نہ تو اس کی نیت پانی پینے کی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ پانی پینے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھاتا ہے) اس قسم کا میلان قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔ والمراد بھمہ (علیہ السلام) میل الطبع ومنازعۃ الشھوۃ لا القصد الاختیاری (بیضاوی) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصد سے مراد فطری میلان طبیعت ہے اور تقاضائے شہوت ہے قصد اختیاری مراد نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ اپنے رب کی برہان واضح نہ دیکھ لیتے تو (ہو سکتا ہے کہ) وہ بھی اس کے دام میں پھنس جاتے۔ الکشاف میں ہے (لولا ان رابرھان ربہ) جو ابہ محذوف تقدیرہ لولا ان رابرھان ربہ لخالطھا۔ اس کے ساتھ خلط ملط ہوجاتا۔ (خالط جماع کرنا ) ۔ (الفرائد الدریہ) ۔ برھان ربہ۔ اپنے رب کی برہان ۔ البرھان کے معنی دلیل اور حجت کے ہیں ۔ رجحان کی طرح فعلان کے وزن پر ہے۔ بعض کے نزدیک یہ برہ یبرہ کا مصدر ہے جس کے معنی سفید اور چمکنے کے ہیں ۔ برھان دلیل قاطع کو کہتے ہیں جو تمام دلائل سے زور دار ہو اور ہر حال میں ہمیشہ سچی ہو۔ روشن دلیل۔ یہ برہان حالیہ سلسلہ میں کیا تھی اس کے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔ (1) بعض کے نزدیک حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس وقت اپنے باپ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نظر آئے جو اسے اس فعل قبیح سے منع کر رہے تھے۔ (2) بعض کے نزدیک انہیں عزیز مصر کے سامنے نظر آیا جس کے دیکھنے پر اسکے احسانات و شفقت یاد آگئی اور وہ اس فعل سے باز رہے (3) بعض کے نزدیک ان کو آیات قرآنی لکھی ہوئی نظر آئیں لا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا (17:32) زنا کے پاس بھی مت جاؤ یقینا وہ بڑی بےحیائی اور بری راہ ہے۔ کذلک ایسے ہی۔ اسی کی طرح۔ (یعنی جس طرح ہم نے اس وقت ایک دلیل دکھا کر برائی سے بچا لیا ۔ اسی طرح اس کے اور کاموں میں بھی ہم اس کی مدد کرتے رہے۔ لنصرف۔ تاکہ ہم دور کریں۔ نصرف مضارع منصوب بوجہ عمل لام۔ جمع متکلم۔ الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا۔ صرف عنہ اس کی طرف سے پھیر دینا۔ السوئ۔ برائی ۔ برا فعل۔ گناہ ۔ عیب الفحشائ۔ افحش فحشاء فحش سے اسم تفضیل واحد مؤنث فحش مادہ۔ وہ قول یا فعل جس کی برائی کھلی ہوئی ہو۔ اور اس کا سننا یا کرنا برا لگے۔ بےحیائی کی بات۔ مخلصین۔ برگزیدہ۔ چنے ہوئے ۔ خالص۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔ تو عورت بو لی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اسکی اسکے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ؟

(12:25) واستبقا۔ استبق یستبق استباق (افتعال) سبق مادہ سے ماضی ۔ تثنیہ مذکر غائب۔ وہ دونوں دوڑے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر سبقت کی۔ استباق کے معنی ایک کا دوسرے پر سبقت لیجانا۔ قدت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس عورت نے پھاڑ دیا۔ قمیصہ۔ اس مرد کی قمیض کو۔ یعنی زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیض پھاڑ دی۔ قدد مادہ ۔ من دبر۔ پیچھے سے۔ دبر پیٹھ ۔ پشت۔ الفیا۔ ماضی ۔ تثنیہ مذکر غائب۔ انہوں نے پایا۔ الفاء (افعال) سے۔ لفی مادہ۔ القیت وجدت۔ کسی چیز کو پالینا۔ بل نتبع ما الفینا علیہ اباء نا (2:170) ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ داد کو پایا۔
Ayahs 12:26–27

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنیوالے نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹاہو تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا ہے۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا

(12:26) راودتنی۔ اس عورت نے مجھ کو پھسلایا۔ ماضی واحد مؤنث غائب ملاحظہ ہو 12:23 ۔ شھد۔ ماضی واحد مذکر غائب المشھود والشھادۃ۔ کسی چیز کا مشاہدہ کرنا۔ خواہ بصر سے ہو یا بصیرت سے اور صرف حاضر ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شہادت جب اپنی ذات کے متعلق ہو تو اس کے معنی اقرار کے ہوتے ہیں۔ مثلاً قالوا بلی شھدنا (7:172) انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔ اور کبھی شہادت کے معنی فیصلہ اور حکم کے ہوتے ہیں مثلاً آیت ہذا ۔ شھد شاھد من اہلہا۔ اس کے خاندان کے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ دیا۔ (یہاں یہ آدمی موجود تو تھا نہیں۔ لہٰذا اس کا وقوعہ کو دیکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا) ۔
Ayahs 12:28–29

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

جب اس کا کرتہ دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے (اور) کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کا خیال نہ کر اور (زلیخا) تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ بیشک خطا تیری ہی ہے۔

(12:28) کیدکن۔ تم عورتوں کی چال کید مصدر۔ اسم مصدر۔ اچھی تدبیر۔ بری تدبیر۔ مکر و فریب ۔ واؤ۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔

(12:30) تراود۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ بلاتی ہے۔ وہ پھسلاتی ہے۔ خواہش رکھتی ہے۔ ملاحظہ ہو 12:23 اور 12:26 ۔ فتھا۔ اس کا غلام۔ مضاف مضاف الیہ۔ الفتی۔ نوجوان۔ فتاۃ۔ نوجوان عورت فتاء مصدر۔ بعدہ ہر دو فتی وفتاہ غلام اور لونڈی کے معنی میں استعمال ہونے لگے۔ شغفھا۔ شغف واحد مذکر غائب۔ ماضی ۔ شغف یشغف (فتح) شغف سے۔ جس کے معنی محبت کا دل کے پردوں میں اتر جانے کے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب وہ (آدمی) اس عورت کے دل میں اتر گیا۔ اس نے اس کو فریفتہ کرلیا۔ شغاف کے معنی پردہ دل کے ہیں قد شغفھا حبا اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرچکی ہے۔ حبا۔ بوجہ تمیز کے منصوب ہے۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لئے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور انکے لئے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لئے) ہر ایک کو ایک ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو انکا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بیساختہ بول اٹھیں کہ سبحان اللہ (یہ حسن) یہ آدمی نہیں بزرگ فرشتہ ہے۔

(12:31) مکرھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان عورتوں کا مکر۔ چال۔ مکارانہ باتیں۔ (ملاحظہ ہو 3:54) الکشاف، بیضاوی، مدارک التنزیل میں مکر کو لفظ اغتیاب کا ہم معنی لکھا ہے۔ (اغتیاب بمعنی عیب گیری کرنا۔ غیبت کرنا) کیونکہ مکر بھی خفیہ ہوتا ہے اور غیبت بھی پیٹھ پیچھے کی جاتی ہے۔ لہٰذا مکر بمعنی لعن و طعن طنز و تشنیع۔ ارسلت الیہن۔ ای دعتھن۔ اس عورت نے ان عورتوں کو دعوت دی۔ اعدت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس نے تیار کی۔ اعتاد (افعال) سے۔ عند واعتد الشیٔ۔ تیار کرنا۔ عتد یعتد الشیٔ۔ تیار ہونا۔ آمادہ ہونا۔ العتید۔ تیار۔ ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50:18) وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکلانے پایا۔ مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والا تیار ہے۔ متکأ۔ اسم ظرف مکان۔ سہارا لگانے کی جگہ ۔ جس پر ٹیک لگائی جائے۔ گاؤ تکیہ مسند وغیرہ ۔ اتکا یتکا اتکاء (افتعال) علی السریر۔ تخت پر سہارا لے کر بیٹھنا۔ توکأ علی عصاہ۔ سہارا لگانا۔ ٹیک لگانا۔ مجازا امراد کھانا ہے۔ یعنی طعام و ضیافت جس میں لوگ تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں۔ امام رازی کا قول ہے منکأسے مراد کھانے کی وہ چیز جس کو چھری سے کاٹنے کی ضرورت ہو ۔ اخرج۔ امر۔ واحد مذکر حاضر۔ خرج یخرج (نصر) خروج سے (اے یوسف ذرا) باہر تو نکل ۔ البرنہ۔ ماضی جمع مؤنث غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ البار (افعال) سے ان عورتوں نے اس کو بڑا سمجھا۔ ای اعظمنہ۔ اس کو انہوں نے عظیم پایا۔ مراد یہ کہ اس کے حسن بیمثال کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔ دم بخود ہوگئیں۔ قطعن۔ انہوں نے (ہاتھ) کاٹ ڈالے۔ تقطیع (تفعیل) سے ماضی جمع مؤنث غائب مراد یہ کہ انہوں نے ہاتھ زخمی کر لئے حاش للہ۔ کلمہ تعجب۔ اصل میں حاشا للہ ہے الف کی تحفیف کے لئے گرا دیا گیا۔ ماھذا بشرا۔ میں ما نافیہ ہے اور عالمہ ہے اور لیس (فعل ناقص) کا عمل کرتا ہے یعنی خبر منصوب ہوگئی۔ قرآن حکیم میں اس کی اور مثال یہ ہے ۔ ما ہن امھاتہم (58:2) وہ عورتیں (یعنی ان کی بیویاں) ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ما مشابہ بلیس کی اور مثال ما زید قائما۔ (زید کھڑا نہیں ہے) ای لیس زید قائما۔ ان ھذا۔ میں ان نافیہ ہے۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

تب (زلیخا نے) کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بیشک میں نے اسکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کریگا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔

(12:32) لمتننی۔ لمتن۔ ماضی جمع مؤنث حاضر۔ نی مفعول لوم سے (باب نصر) تم عورتوں نے مجھے ملامت کی۔ لومۃ ملامت۔ لائم ملامت کرنے والا۔ لومۃ لائم (5:54) ملامت گر کی ملامت۔ فیہ۔ جس کے بارے میں۔ ذلکن۔ ذ اسم اشارہ ۔ یہ ۔ یہی۔ کن ضمیر جمع مؤنث غائب خطاب کے لئے ہے۔ ولکن الذی۔ اے عورتوں یہی ہے وہ شخص۔ استعصم۔ اس نے بچا لیا۔ اس نے تھام لیا۔ اس نے روک لیا۔ استعصام (استفعالٌ سے ماضی ۔ واحد مذکر غائب۔ لئن لم یفعل۔ لام غیر عاملہ ہے۔ ان لم یفعل۔ اگر اس نے نہ کیا۔ ما امرہ۔ ما موصولہ ہے۔ اور ضمیر ہ کا مرجع ہے۔ ای ما امرہ بہ جس کا میں حکم دوں یا ما مصدریہ ہے۔ اور ہ ضمیر یوسف کی طرف راجع ہے۔ ای ولئن لم یفعل امری ایاہ۔ اگر اس نے میرا حکم نہ مانا۔ لیسجنن۔ لام تاکید بانون ثقیلہ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ تو وہ ضرور قید میں ڈالا جائے گا۔ لیکونا۔ لام تاکید بانون خفیفہ۔ جو بولنے میں آگیا ہے لیکن لکھا نہیں گیا۔ وہ یقینا ہوگا ۔ صاغرین۔ ذلیل و خوار۔ صغار سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت جر۔ صاغر واحد صغر (کرم) صغر صغر صغار ذلیل و خوار ہونا۔ اور صگر صغر صغارۃ۔ چھوٹا ہونا۔ صغیر چھوٹا۔
Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

(یوسف نے) دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے انکے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں انکی طرف مائل ہوجاؤ نگا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا۔

(12:33) رب۔ ای یاربی۔ اے میرے رب۔ احب۔ افعل التفضیل کا صیغہ ۔ زیادہ پیارا۔ زیادہ عزیز۔ یدعوننی۔ یدعون مضارع جمع مؤنث غائب دعوۃ سے (باب نصر) فی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ وہ مجھے بلاتی ہیں۔ الا تصرف عنی۔ الا۔ ان لا۔ صرف عن۔ کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا۔ ہٹا دینا۔ لاتصرف مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ الا تصرف عننی۔ اگر تو (ان کے چرتر کو) مجھ سے پھیر نہ دیگا ہٹا نہ دے گا ۔ یا دور نہ کر دے گا۔ اصب۔ صبا یصبوا (باب نصر) صبوۃ وصبو۔ کسی چیز کی طرف مائل ہونا۔ اصب مضارع واحد متکلم۔ میں مائل ہوجاؤں گا۔ اصب اصل میں اصبو تھا۔ جواب شرط کی وجہ سے واؤ حذف ہوگیا۔ اکن اصل میں اکون تھا۔ مضارع واح دمتکلم ۔ جواب شرط کی وجہ سے مجزوم ہوکر واؤ بوجہ اجتماع ساکنین گرگیا۔ میں ہوجاؤں۔
Ayahs 12:34–35

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو خدا نے انکی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کردیا۔ بیشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر باوجود اسکے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے انکی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصے کے لئے ان کو قید ہی کردیں۔

(12:34) استجاب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ (افتعال) سے جس کے معنی قبول کرنے اور ماننے کے ہیں۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔ ایک نے دن میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا کیا ہوں کہ شراب (کے لئے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں (تو) ہمیں انکی تعبیر بتا دیجئے کہ ہم تمہیں نیکو کار دیکھتے ہیں۔

(12:36) ارنی۔ میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں۔ اری رؤیۃ سے مضارع واحد متکلم نون وقایہ ی واحد متکلم کی ضمیر۔ اعصر۔ میں نچوڑتا ہوں عصر یعصر (ضرب) عصر سے جس کے معنی نچوڑنے کے ہیں۔ نبئنا۔ ہمیں آگاہ کر۔ تبنئۃ (تفعیل) مصدر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم امر واحد مذکر حاضر۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں۔ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں میں انکا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں۔

(12:37) لا یاتیکما۔ مضارع منفی مجزوم بوجہ عمل لا۔ نہی صیغہ واحد مذکر غائب کما۔ ضمیر تثنیہ مفعول وہ نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس ترزقنہ۔ تم دونوں کو وہ یعنی کھانا کھلایا جاتا ہے۔ مضارع مجہول تثنیہ مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب طعام کی طرف راجع ہے۔ نباتکما۔ میں تم دونوں کو آگاہ کردوں گا۔ ماضی (بمعنی مضارع) واحد متکلم۔ کما ضمیر تثنیہ مذکر حاضر۔ یاتیکما۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب کما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر حاضر ۔ منصوب بوجہ عمل ان (پیشتر اس کے کہ) تمہارے پاس (طعام) آئے۔ ذلکما مما علمنی ربی۔ یہ (تعبیر) منجملہ اس علم کے ہے جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے (یہ کہانت اور قیافہ شناسی نہیں ہے) ۔ ترکت۔ میں نے ترک کردیا۔ چھوڑ دیا۔ ترک سے مضارع واحد متکلم ۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کبھی اس دین پر قائم تھے بلکہ یہ کہ مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ترک بمعنی کسی چیز سے اعراض کرنا۔ اس سے کوئی واسطہ نہ رکھنا۔ ملۃ۔ دین۔ مذہب
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایان نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

(12:38) ما کان لنا ان نشرک باللہ من شیئ۔ ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک ٹھہرائیں۔
Ayah 12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا و غالب ؟

(12:39) یصحبی السجن۔ صاحبی۔ دو ساتھی۔ دو رفیق۔ صاحبی اصل میں صاحبینی (میرے دو ساتھی) تھا۔ منادی ۔ (صاحبین) ی (ضمیر واحد متکلم) کی طرف مضاف ہوا۔ یصحبی السجن اے قید خانہ کے میرے دو ساتھیو ! ء ارباب۔ رب کی جمع ۔ ء ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا جدا جدا بہت سے رب بہتر ہیں یا کہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہو۔ یعنی جدا جدا بہت سارے رب بہتر نہیں ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ایک اللہ ہو جو سب پر غالب ہو۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں خدا نے انکی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جا نتے۔

(12:40) ما تعبدون من دونہ الا اسمائ۔ یعنی اس کے سوا تم جن چیزوں کی پرستش کرتے ہو وہ محض چند نام ہیں (جن کو تم نے اور تمہارے آباد و اجداد نے من گھڑت نام دے رکھے ہیں) بھا۔ میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع وہ معبود ان باطل ہیں جن کو مشرکین نے ازخود نامزد کر رکھا ہے۔ سلطان۔ حجت۔ سند۔ الذین القیم۔ موصوف و صفت وہ دین جو دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہو۔ درست ، ٹھیک ، سیدھا۔