12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsروح القرآن

Ayahs 12:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

(الف، لام، را۔ یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتاراتا کہ تم سمجھو۔

الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 1، 2) (الف، لام، را۔ یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی۔ ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتاراتا کہ تم سمجھو۔ ) الٓرٰ : حروف مقطعات ہیں اور حروف مقطعات پر ہم سورة البقرہ کے آغاز میں بحث کرچکے ہیں۔ کتاب مبین کا مفہوم پیشِ نظر آیات ایک ایسی کتاب کی ہیں جو اپنے بیان اور استدلال میں سورج کی طرح روشن اور بدیہیات کی طرح واضح ہیں۔ اس کی ہر بات اپنے اندر روشنی کا اتنا سامان رکھتی ہے کہ باہر سے اسے ثبوت کی ضرورت نہیں۔ پورا قرآن پاک آپ کے سامنے ہے۔ کہیں سے بھی نکال کے دیکھ لیجیے، قرآن پاک کا اسلوب اپنی ایک مخصوص شان رکھتا ہے۔ اس کے الفاظ ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہیں۔ الفاظ کا دروبست نہایت محکم ہے۔ جملوں کی ساخت اور ان کی ترتیب فصاحت و بلاغت کا آئینہ ہے۔ اس کا اندازِ بحث نہایت دلنشیں، تمام الجھنوں کو دور کرنے والا اور طبیعتوں کے لیے تشفی بخش ہے۔ کتاب مبین کا یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب مبین کو لازمی مانا جائے اور اگر اسے متعدی قرار دیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ کتاب حق و باطل کو ظاہر کرنے والی اور انھیں کھول کھول کے بیان کردینے والی ہے۔ اس کا انداز کہیں بھی حق و باطل میں سمجھوتہ کرنے کا نہیں بلکہ یہ حق و باطل کو اس طرح کھول کر بیان کرتا ہے کہ ان میں کہیں بھی آمیزش کا اندیشہ نہیں رہتا۔ اہلِ عرب پر احسان آیت نمبر 2 میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر اتارا۔ اس میں اَنْزَلْنَہُ کی ضمیر کا مرجع قرآن بھی ہوسکتا ہے اور قصہ یوسف ( علیہ السلام) بھی۔ اگر قصہ یوسف ( علیہ السلام) مراد لیا جائے تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ تم نے چونکہ عرب ہوتے ہوئے قصہ یوسف ( علیہ السلام) کے بارے میں استفسار کیا ہے تو ہم نے بھی اس کا جواب عربی میں اتارا تاکہ تمہیں سمجھنے میں دشواری پیدا نہ ہو، کیونکہ تمہاری زبان عربی ہے اور تم کسی اور زبان سے واقف نہیں ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کا مرجع قرآن کریم کو ٹھہرایا جائے تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے تمہارے لیے جو قرآن کریم اتارا ہے وہ عربی زبان میں اتارا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم میں بھیجتا ہے تو اس پر جو کتاب اتارتا ہے وہ اس قوم کی زبان میں ہوتی ہے۔ اور رسول ( علیہ السلام) بھی بالعموم اس قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے جو اس کی ہم زبان ہوتی ہے تاکہ وہ قوم کتاب کو بھی سمجھ سکے اور رسول کی تعلیم و تبیین سے بھی فائدہ اٹھا سکے۔ نبی کریم ﷺ یوں تو ساری دنیا کی طرف تشریف لائے لیکن آپ ﷺ کی براہ راست بعثت عربوں میں ہوئی اور انھیں کو امت کے ہر اول دستے کے طور پر تیار کیا گیا۔ سو جس طرح معلم اور متعلم کے درمیان زبان کی بیگانگی، افادہ اور استفادہ میں رکاوٹ بنتی ہے اسی طرح رسول اور امت میں بھی زبان کا اختلاف دین کے قبول کرنے اور اس کے سمجھنے میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے دوسری جگہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا تو ان کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ اپنی بات کو ان کے سامنے واضح کرسکے۔ قرآن کریم الفاظ سمیت نازل ہوا ہے، اس کی دلیل ہمیں اس آیت سے ایک الجھن کے ازالے میں بھی مدد ملتی ہے جو عام طور پر مستشرقین کی طرف سے پیدا کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) پر جو کتابیں اتری ہیں ان میں صرف مفہوم اور معنی یا خیال ان کے دل پر نازل کیا جاتا تھا جسے وہ اپنی زبان اور اپنے الفاظ میں ان کے سامنے پیش کرتے تھے۔ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے کہ کتاب اپنے لفظوں سمیت پیغمبر کے دل پر نازل کی جائے۔ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی اور یہودی بھی اپنی کتابوں کے بارے میں یہی تصور رکھتے ہیں اور اس لیے ان کے تراجم کو کتاب کا قائم مقام سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے نزدیک وحی کا ہرگز یہ مفہوم نہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم کا مفہوم نازل نہیں ہوا بلکہ اس کے الفاظ بھی نازل ہوئے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام نظم و معنی سے مل کر بنتا ہے، لیکن مستشرقین مسلسل جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات انڈیلتے رہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ الفاظ بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوئے ہوں۔ روزگارِفقیر کے مصنف نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ لاہور کے ایک کالج میں علامہ اقبال ( رح) مدعو تھے۔ پر نسپل نے دورانِ تقریب علامہ ( رح) سے آکر کہا کہ آپ تقریب ختم ہوتے ہی چلے نہ جایئے، مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنا ہے۔ چناچہ تقریب کے بعد وہ علامہ کو ایک طرف لے کر بیٹھ گئے اور پوچھنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ مسلمان قرآن کریم کے بارے میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اسی طرح یعنی لفظ و معنی سمیت حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا تھا، کیا آپ کا بھی یہی عقیدہ ہے ؟ علامہ کہنے لگے کہ ہاں میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے دل پر الفاظ اور مفہوم دونوں ایک ساتھ نازل ہوئے تھے۔ پر نسپل نے کہا یہ عجیب بات ہے آپ اتنے پڑھے لکھے آدمی ہیں اور پھر بھی اس طرح کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ علامہ اقبال ( رح) کہنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ تو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ تھے، میں ان کا ایک ادنیٰ امتی ہوں، میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ مجھ پر بنے بنائے اشعار نازل ہوتے ہیں تو اپنے ذاتی تجربہ کے پیش نظر میں اس بات سے کیسے انکار کرسکتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ پر الفاظ سمیت وحی نازل نہیں ہوتی تھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو عربی میں نازل کیا۔ ایک معمولی آدمی بھی جانتا ہے کہ کسی کتاب کا عربی یا فارسی یا انگریزی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ کتاب اس زبان میں نازل کی گئی ہے کیونکہ عربی، فارسی اور انگریزی زبان کی صفات ہیں، خیال اور مفہوم کی نہیں۔ کسی آدمی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ عربی بولتا ہے یا لکھتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ عربی میں سوچتا ہے بلکہ اس کا مطلب عربی زبان ہوتا ہے کہ اس کے بولنے اور لکھنے کی زبان عربی ہے۔ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے عربی میں نازل کیا ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے اور اس کے الفاظ عربی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام میں نظم و معنی دونوں شامل ہوتے ہیں اور اس کو عربی زبان میں اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ عرب کے لوگو ! تم اسے سمجھ سکو۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم آپ کو ایک بہترین سرگزشت سناتے ہیں، اس قرآن کی بدولت جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ اس سے پہلے بیشک آپ اس سے ناآشنا تھے۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ق وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لِمَنَ الْغٰفِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 3) (ہم آپ کو ایک بہترین سرگزشت سناتے ہیں، اس قرآن کی بدولت جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ اس سے پہلے بیشک آپ اس سے ناآشنا تھے۔ ) اَحْسَنَ الْقَصَصِ کا مفہوم پیشِ نظر آیت کریمہ میں اَحْسَنَ الْقَصَصِ میں دو سورتوں کا احتمال ہے۔ ایک یہ کہ اَلْقَصَصِ ۔ قصّ سے مصدر ہے اس کا معنی ہے کسی چیز کا تتبع کرنا ہے، یعنی پیچھا کرنا۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک تابوت میں رکھ کر دریائے نیل میں بہا دیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے کہا وقالت لاختہ قصیہ کہ اس تابوت کے پیچھے پیچھے جاؤ، دیکھو یہ کدھر جاتا ہے۔ قصہ بیان کرنے والا بھی چونکہ ایک ترتیب سے بیان کرتا ہے اس لیے اس کو قاصّ کہتے ہیں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ قصص اسم ہے جو قصہ اور سرگزشت کا ہم معنی ہے۔ پہلی سورت میں اَحْسَنَ الْقَصَصِ کا معنی ہوگا کہ ہم تمہیں بہترین پیرائے میں قصہ سناتے ہیں۔ اور دوسری سورت میں معنی ہوگا، ہم تمہیں بہترین قصہ سناتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اس قصے کو بہترین کیوں قرار دیا گیا ؟ جو شخص بھی اس سورت کو غور سے پڑھے گا، اس کے سامنے اس کا اَحْسَنَ الْقَصَصِ ہونا خودبخود کھلتا چلا جائے گا۔ اس کے احسن القصص ہونے کی دو جہتیں ہیں۔ ایک جہت تو ہے اس واقعہ کے اجزاء کے اندر اور دوسری جہت ہے اس کے مقاصد کے اندر۔ جہاں تک اس کے مقاصد کا تعلق ہے وہ اگرچہ متعدد اور متنوع ہیں لیکن ان میں ایک تو بہت واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت جب کسی کام کا فیصلہ کرلیتی ہے تو پھر اس کے اسباب خودبخود اس طرح فراہم ہوتے ہیں کہ دیکھنے والی نگاہ جس واقعہ کو اس کا مخالف سمجھتی ہے اسی سے مشیت کی موافقت پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ مثلاً حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے عزیز اور باکمال بھائی کو راستے سے ہٹانے بلکہ نیست و نابود کرنے کے لیے کنویں میں پھینکا تاکہ وہ وہاں بھوکا پیاسا مرجائے اور یا کوئی قافلہ اسے نکال کرلے جائے اور غلام بنا کر بیچ ڈالے۔ دیکھنے والی نگاہ یہی سمجھتی تھی کہ برادرانِ یوسف اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن ان کا یہ مجرمانہ فعل اللہ تعالیٰ کی مشیت یعنی یوسف (علیہ السلام) کی کامیابیوں کا پہلا زینہ ثابت ہوا۔ وہ اگر آپ کو کنویں میں نہ پھینکتے تو ظاہر ہے کہ آپ کبھی بھی مصر جانے کا ارادہ نہ کرتے۔ اسی طرح زلیخا نے انتقام کی آگ بجھانے کے لیے آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا اور اس طرح نعوذباللہ آپ کی ذلت کا سامان کیا، لیکن وہی جیل آپ کے لیے تخت مصر کا راستہ بن گئی۔ آپ بلندیوں کے زینے چڑھتے ہوئے مصر کی حکومت پر فائز ہوگئے۔ اس سے بتانا مقصود یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قدرت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بےسروسامانی میں تخت مصر کا مالک بنا سکتی ہے تو نبی کریم ﷺ تو آخری نبی ہیں جن کے بعد کسی اور کو دنیا کی ہدایت کے لیے آنا نہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی میں اور آپ ﷺ کی وساطت سے ایک کامیاب اسلامی انقلاب آپ ﷺ کی بعثت کا منطقی نتیجہ ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کے لیے اسی طرح اسباب فراہم کرے گی جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے کیے گئے۔ تم ان کے قتل کے منصوبے باندھتے رہو، ان کا ملک میں رہنا مشکل کردو، ان کے لیے اور بھی جو مشکلات پیدا کرسکتے ہو، کرو۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ ایسا عروج اور ایسی کامرانی عطا فرمائے گا جو اس سے پہلے کبھی کسی کو نصیب نہ ہوسکی۔ دوسری جہت اس واقعہ کے اجزاء کے اندر ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا لڑکپن میں آزمائشوں میں ڈالا جانا اور پھر انہی آزمائشوں کا کامرانیوں کے ذرائع میں تبدیل ہوجانا، مصر میں ایک اچھا ٹھکانا دستیاب ہونا، پھر وہیں خوشیوں کے مرکز سے غموں کا پھوٹنا اور جیل تک پہنچ جانا، پھر آپ ( علیہ السلام) کے جیل کے ساتھیوں کا رہا ہوجانا اور آپ کی قید کا دراز ہوجانا۔ ان قدم قدم بدلتے ہوئے حالات میں سے آپ کی پختہ سیرت و کردار کا پیدا ہونا اور آپ ( علیہ السلام) کے کمالات کی شہرت کا پھیلنا، نہ جیل کی اذیتوں کا آپ ( علیہ السلام) کو کمزور کرنا اور نہ حسن کی فرمائشوں کا آپ ( علیہ السلام) کو بدراہ کرنا، اسی طرح کے کئی اور واقعات اور اس میں حیران کن تبدیلیاں اس واقعہ کو اَحْسَنَ الْقَصَصِثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس میں جہاں آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کے دلائل ہیں وہیں قریش مکہ کے لیے بھی عبرت کا سامان ہے۔ اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی شخص بھی اس طرح درخواست نہیں کرسکتا کہ ہمیں فلاں بات کا جواب دے دیا جائے یا فلاں بات کی حقیقت کھول دی جائے۔ یہ حق پروردگار نے صرف اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ وہ اپنی تبلیغی ضرورتوں کے حوالے سے یا کسی اور پہلو سے اگر کسی بات میں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو وہ پروردگار سے براہ راست درخواست کرتے ہیں تو کسی رسول کی بعثت کے بعد چونکہ وحی الٰہی کا نزول جاری ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس درخواست کا جواب بھی عنایت فرماتے ہیں۔ چناچہ اس حقیقت کی طرف اشار کرتے ہوئے فرمایا کہ مشرکینِ مکہ نے آپ ﷺ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں جو سوال کیا اس کا جواب اس لیے انھیں دیا جارہا ہے کہ اب قرآن نازل ہورہا ہے اور انسانوں میں اللہ تعالیٰ کا ایک رسول موجود ہے اور اس پر وحی اتر رہی ہے، اس کی برکت سے یہ احسن القصص آپ ﷺ کو سنایا جارہا ہے، ورنہ اس احسن القصص کے بارے میں آپ ﷺ بھی کچھ نہیں جانتے تھے۔ آپ ﷺ کی زبان پر اس احسن القصص کی تفصیلات کا وحی الٰہی کے ذریعے جاری ہوجانا یہ آپ ﷺ کی نبوت کی ایسی دلیل ہے جس سے کوئی بدترین دشمن ہی انکار کرسکتا ہے۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

یاد کرو جب یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان، میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور چاند اور سورج دیکھے ہیں، میں نے انھیں دیکھا ہے کہ وہ میرے آگے سربسجود ہیں۔

اِذْقَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْہِ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَعَشَرَ کَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیْتُھُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 4) (یاد کرو جب یوسف (رح) نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان، میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور چاند اور سورج دیکھے ہیں، میں نے انھیں دیکھا ہے کہ وہ میرے آگے سربسجود ہیں۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب پیشِ نظر آیت کریمہ میں اس اَحْسَنَ الْقَصَصِکی تمہید بیان کی جارہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ابھی بچپن گزر رہا تھا لیکن ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق بچپن ہی میں آپ ( علیہ السلام) کے عادات و خصائل نہایت پاکیزہ تھے۔ شکل و صورت میں تو اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو غیرمعمولی حسن سے نوازا تھا جو دیکھتا وہ پیار کرتا۔ لیکن آپ کی عادتیں بھی دوسرے بچوں سے مختلف اور آنے والے باکمال مستقبل کی غماز تھیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، اس لیے ان سے زیادہ گہری نظر اور کس کی ہوسکتی تھی، اس لیے وہ روز بروز محسوس کرنے لگے تھے کہ میرے بیٹوں میں یوسف ( علیہ السلام) وہ بیٹے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اس کے آبائواجداد کی وراثتِ نبوت کو آگے بڑھائے گا۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) کو سب سے زیادہ ان سے پیار تھا اور ان پر زیادہ نظر تھی کہ اچانک اس ہونہار بیٹے نے ایک دن اپنے ابا جان سے کہا کہ میں نے خواب میں گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو دیکھا ہے، لیکن کچھ دیر رکنے کے بعد پھر کہا کہ میں نے انھیں دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ ایک تو خواب بجائے خود چونکا دینے والا ہے اور پھر اس کے سنانے کا انداز اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ آپ ( علیہ السلام) ابھی بچے ہیں اور بچوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب کوئی حیران کن بات دیکھتے ہیں تو اسے اپنے ہمجولیوں کو سب سے پہلے سناتے ہیں اور اگر اس بات میں ان کے نفس کو غذا ملتی ہو یعنی ان کی بڑائی ثابت ہوتی ہو تو پھر تو وہ ہر جاننے والے سے کہتے پھرتے ہیں اور اپنی بڑائی کا اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کسی اور کو خواب سنانے کی بجائے نہایت خاموشی سے اپنے ابا جان کو یہ خواب سنایا جبکہ بچے عام طور پر ایسی باتیں اپنے باپوں سے چھپاتے ہیں۔ اور پھر اپنے ابا جان سے بھی کہتے ہوئے عجیب انداز اختیار کیا کہ آدھی بات کہہ کے رک گئے۔ یعنی یہ کہہ کر کہ میں نے صرف گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں تو خاموش ہوگئے۔ گویا آپ ( علیہ السلام) کو جھجک نے پکڑ لیا اور طبعی شرافت و نجابت بولنے سے مانع ہوگئیں۔ یقینا یہ سوچنے لگے ہوں گے کہ اس میں ایک تعلی کا پہلو ہے۔ والد صاحب کہیں یہ گمان نہ کریں کہ میں کسی پندار میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ اس لیے کچھ دیر کے لیے رکے، لیکن پھر جھجکتے ہوئے بات کو یہ سوچ کر پورا کیا کہ بات کا مکمل کرنا بھی بہرحال ضروری ہے، ورنہ اسے جھوٹ سمجھا جائے گا۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

آپ نے فرمایا کہ اے میرے بیٹے تم اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف سازش کریں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

قَالَ یٰـبُنَیَّ لاَ تَقْصُصْ رُئْ یَاکَ عَلٰٓی اِخْوَتِکَ فَیَکِیْدُوْا لَکَ کَیْدًا ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ (سورۃ یوسف : 5) (آپ نے فرمایا کہ اے میرے بیٹے تم اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف سازش کریں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ ) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بیٹے کو ہدایت حضرت یعقوب (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لیے وہ اس خواب کی تعبیر یقینا سمجھتے ہوں گے، لیکن آپ ( علیہ السلام) نے اس کی تعبیر کی بجائے وہ بات کہی جس کا کہنا نہایت ضروری تھا۔ آپ جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیشانی سے ابھرتے ہوئے نور کو پہچانتے تھے اور آپ کی عادات و خصائل میں پیغمبرانہ جھلک دیکھ رہے تھے اسی طرح آپ اپنے دس بیٹوں کو بھی اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے۔ وہ اگرچہ ایک پیغمبر کے بیٹے تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی تھے لیکن ان کے اندر اپنے عزیز باپ کی بہت کم خوبیاں جگہ بنا سکی تھیں۔ وہ عام نوجوانوں جیسے جوان تھے اور ان کی سوچ بھی عام انسانوں جیسی تھی۔ وہ معمولی باتوں سے برے اثرات لینے والے لوگوں میں سے تھے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے سب سے پہلے اس بات پر تنبُّہ کرنا ضروری سمجھا کہ بیٹا اپنا یہ خواب، اپنے بھائیوں کے سامنے مت بیان کرنا۔ خواب میں چونکہ آنے والے عظیم مستقبل کی جھلک دکھائی دیتی ہے، وہ اس کی وجہ سے حسد میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ نااہل لوگوں کی یہ خصلت ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی بجائے ہمیشہ اہل فضائل سے حسد کرنا شروع کردیتے ہیں اور اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم ان کی وجہ سے ان جیسے نہیں ہوسکے۔ پھر وہ سازشوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں کیونکہ شیطان ان کو اسی راستے پر چلا کر انھیں خیر اور بھلائی کے راستے سے اور دور لے جاتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے درمیان حسد ہی نے یہ نتیجہ دکھایا تھا کہ ایک بھائی نے دوسرے کو قتل کردیا اور وہ تاریخ کا بہت بڑا سبق بن گیا۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا۔ اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت تمام کی۔ بیشک تمہارا پروردگار سب کچھ جاننے والا، بہت دانا ہے۔

وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اٰلِ یَعْقُوْبَ کَمَآ اَتَمَّھَا عَلٰٓی اَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ ط اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 6) (اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا۔ اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت تمام کی۔ بیشک تمہارا پروردگار سب کچھ جاننے والا، بہت دانا ہے۔ ) خواب کی تعبیر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے صاحبزادے سے خواب سن کر جان گئے کہ یہ سچا خواب ہے اور رویائے صادقہ نبوت کی تمہید ہوتے ہیں۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں ( علیہ السلام) کو نبوت دینے سے پہلے سچے خواب دکھاتا ہے۔ اس طرح سے انھیں آہستہ آہستہ وحی الٰہی سے مانوس کیا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ بھی فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل امین ( علیہ السلام) کے میرے پاس آنے سے پہلے میں ایسے سچے خواب دیکھتا تھا کہ دن نکلتے ہی تعبیر سامنے آجاتی تھی۔ اس لیے حضرت یعقوب نے فرمایا کہ بیٹا جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ سچا خواب دکھایا ہے اسی طرح وہ تمہیں اپنی خصوصی نعمت یعنی نبوت سے نوازے گا۔ اور یہ نعمت جس طرح آپ ( علیہ السلام) پر ہوگی اسی طرح آل یعقوب پر بھی ہوگی، یعنی اس کا فیضان سب تک پہنچے گا اور ممکن ہے یہ سلسلہ نبوت خاندان میں دیر تک چلے گا اور یہ وہی اللہ تعالیٰ کا انعام اور احسان ہے جو اس سے پہلے تمہارے اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہما السلام) پر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت اور رسالت سے نوازا اور مزید یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بات کی تہہ تک اترنے کا سلیقہ بھی سکھائے گا۔ یعنی تمہیں تعبیر کا ملکہ بھی عطا فرمائے گا اور اب جو تم نے خواب دیکھا ہے تم خود جان لو گے کہ اس کی اصل تعبیر کیا ہے۔ چناچہ قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حالات کی کئی گردشوں کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر کا اقتدار عطا فرمایا اور اس کے چند سالوں کے بعد انھوں نے اپنے والدین، اپنے بھائیوں اور اپنے خاندان کو مصر میں بلا لیا۔ اور انھوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو تخت پر بلایا اور وہ خود اپنی مسند پر فروکش تھے۔ والدین کے تخت پر پہنچنے کے وقت یقینا وہ تعظیم کے لیے اٹھے ہوں گے لیکن والدین بھی رسم دنیا کے مطابق تعظیمی طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جھکے تو اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا یَااَبْتَ ھٰذَا تَاوِیْلٌ رُوْیَایَ مِنْ قَبْلُاے ابا جان یہ میرے اس خواب کی تاویل ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ انبیائے کرام کو جو ذہنی اور روحانی صلاحیتیں عطا فرماتا ہے ان میں صفائے قلب اور ذہنی بالیدگی غیرمعمولی حد تک عطا فرمائی جاتی ہے اور یہی وہ صلاحیت ہے جس سے خوابوں کی تعبیر کا راستہ کھلتا ہے۔ اس لیے عمومی طور پر ہر پیغمبر تعبیر خواب کے وصف سے متصف ہوتا ہے، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ صلاحیت معلوم ہوتا ہے کہ اعجاز کی حد کو پہنچی ہوئی تھی۔ چناچہ یہی وہ کمال ہے جس نے آپ ( علیہ السلام) کے لیے اقتدار کا راستہ صاف کیا۔ اس کے بعد واقعہ کی ابتداء ہورہی ہے اور اس سے پہلے پروردگار اپنی دو صفات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ علیم ہے۔ دنیا کے سامنے درجہ بدرجہ اور رفتہ رفتہ عقدے کھلتے اور نئے نئے حالات پیش آتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں آغاز سے انجام تک پہلے ہی سب کچھ ہوتا ہے اور دوسری یہ بات کہ جس ترتیب اور حکمت سے یہ واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں اس میں اللہ تعالیٰ کی جابجا حکمت کا اظہار ہوتا ہے تاکہ انسان اس پر غور کریں اور دین کے اسرار کو سمجھیں۔ ہم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور ان کے والد ماجد کا رد عمل مندرجہ بالا آیات میں پڑھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے ہونہار بیٹے کے روشن مستقبل کی اس خواب کے ذریعے ایک جھلک نظر آئی اور آپ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائے گا اور ان کے واسطے سے ان کے آبائواجداد پر نعمتیں تمام کرے گا۔ ساتھ ہی احتیاطاً یہ بھی فرمایا کہ اپنے بھائیوں کو یہ خواب نہ سنانا ورنہ وہ حسد کے مارے تمہارے خلاف سازشیں کریں گے۔ جو شخص بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حالات پڑھتا ہے اور ان کے پاکیزہ کردار سے واقف ہے وہ قرآن کریم کے اس بیان کو انتہائی فطری اور واقعات کے مطابق بلکہ واقعات کا عکاس خیال کرتا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ بائبل اور تلمود کا بیان قرآن کریم کے اس بیان سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا بیان یہ ہے کہ حضرت یعقوب نے خواب سن کر بیٹے کو خوب ڈانٹا اور کہا کہ اچھا اب تو یہ خواب دیکھنے لگا ہے کہ میں اور تیری ماں اور تیرے سب بھائی تجھے سجدہ کریں گے۔ قارئین کرام دونوں حوالوں کے سامنے رکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی پیغمبرانہ سیرت سے قرآن کریم کا بیان زیادہ مناسبت رکھتا ہے یا بائبل اور تلمود کا ؟
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

(بیشک یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخْوَتِہٖٓ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 7) (بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ) ایک تنبیہ یہ آیت آئندہ آیت سے شروع ہونے والی سرگزشت کے لیے تمہید ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں مشرکین کا سوال بظاہر بنی اسرائیل کی تاریخ سے متعلق ہے لیکن قرآن کریم انھیں اس واقعہ کے آئینہ میں اس وقت حق و باطل کے سلسلے میں برپا ہونے والی کشمکش کے حوالے سے جو سوالات ذہنوں میں پیدا ہورہے تھے ان کی طرف توجہ دلا رہا ہے اور ان کو یہ باور کرا رہا ہے کہ تم اگر غور سے ان واقعات کو دیکھو تو تمہیں ان سوالوں کا جواب مل جائے گا جو تمہارے ذہنوں میں کشمکش برپا کیے ہوئے ہیں۔ تم دیکھ رہے ہیں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے سرزمینِ مکہ میں ایک عجیب کشمکش پیدا ہوگئی ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ داعی الی الحق کے سامنے دنیا بھر میں تنی ہوئی کفر کی سیاہ چادر کو اتار کر حق کے نور سے اجالا کرنا پیش نظر ہے اور حال یہ ہے کہ مکہ کے گلی کو چے اس کی دعوت کے لیے بند ہوچکے ہیں۔ قریش آپ کے قتل کے منصوبے باندھ رہے ہیں اور وہ اسلام کو کسی طور برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسی صورتحال میں سوچنے والے ذہن سوچتے ہیں کہ اسلام کا اور اس کے داعی کا مستقبل کیا ہے ؟ وہ کب تک اس صورتحال کا مقابلہ کرے گا ؟ اور کس طرح اس کے لیے کامیابی کے راستے کھلیں گے ؟ قرآن کریم توجہ دلا رہا ہے کہ تمہارے ان سوالوں کا جواب اس سرگزشت میں موجود ہے، اس لیے اسے غور سے سنو۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

اس وقت کو یاد کرو جب برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے کہا کہ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک جتھہ ہیں۔ بیشک ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے۔

اِذْقَالُوْا لَیُوْسُفُ وَاَخُوْہُ اَحَبُّ اِلٰٓی اَبِیْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ ط اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ نِ ۔ (سورۃ یوسف : 8) (اس وقت کو یاد کرو جب برادرانِ یوسف نے کہا کہ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک جتھہ ہیں۔ بیشک ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے۔ ) عُصْبَۃٌ کے معنی جماعت، گروہ اور جتھہ کے ہیں۔ خاص طور پر وہ گروہ جن کے درمیان خون کا اشتراک پایا جاتا ہو۔ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کا حسد حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے بھائی سے مراد ان کے چھوٹے حقیقی بھائی بن یمین ہیں جو ان سے کئی سال چھوٹے تھے۔ ان کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور باقی دس بھائی مختلف مائوں سے تھے، لیکن یہ دونوں بھائی ایک ماں سے اور سب سے چھوٹے اور ماں کی طرف سے یتیم تھے۔ اس کی وجہ سے باپ کی ان دونوں پر زیادہ نظر شفقت رہتی تھی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پر اگرچہ وہ بن یمین سے کئی سال بڑے تھے زیادہ توجہ ہونے کی وجہ ان کی پیغمبرانہ صفات تھیں اور ان کے باقی دس بھائی ایک تو عمر کی اس حد کو پہنچ چکے تھے جب وہ اپنے معاملات کے فیصلے خود کرنے کی پوزیشن میں تھے اور بھرپور جوان ہونے کی وجہ سے اپنے اوپر اعتماد بھی رکھتے تھے لیکن یہ بات ان کے لیے بہرحال محسوس کرنے والی تھی کہ ہمارے والد کی وہ توجہ ہم پر نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے بھائیوں پر ہے حالانکہ ذرا غور کرنے سے وہ خود بھی اس بات کو سمجھ سکتے تھے کہ ان کو ہمارے باپ کی توجہ کی جس قدر ضرورت ہے ہمیں نہیں اور مزید یہ بات بھی کہ جہاں تک حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا معاملہ ہے وہ اپنی من موہنی شکل و صورت کے ساتھ ساتھ انتہائی دل میں اتر جانے والی سیرت و کردار کا حامل ہے۔ اور اس کی پیاری پیاری عادتیں باپ کا دل جیتنے کے لیے کافی ہیں اور اس کے برعکس ہم جیسی کچھ کمزوریوں کا شکار ہیں وہ ہم بھی جانتے ہیں۔ لیکن وہ ان باتوں کو سمجھنے کی بجائے ان کے پیش نظر ایک ہی بات تھی جو بدویانہ قبائلی زندگی کی ایک حقیقت تھی۔ قبائلی زندگی میں جہاں کوئی ملکی قانون نہیں ہوتا اور صرف طاقت اور قوت اپنا لوہا منواتی اور اپنی عزت کرواتی ہے وہاں طاقت کا سرچشمہ بڑی تعداد میں جوان اولاد کا ہونا ہے اور ہم ایک دو نہیں، اکٹھے دس گبرو جوان ہیں اور ہماری وجہ سے ہمارے باپ کو قبائل میں ایک قوت حاصل ہے۔ کسی کو ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمارے والد کو ہمارا زیادہ لحاظ ہو اور شفقت کی نگاہیں ہم پر مرتکز رہیں۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے کہ شفقت انھیں حاصل ہے جو ان کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کا باعث ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے والد بڑھاپے کی وجہ سے سٹھیا گئے ہیں اور وہ صحیح فیصلہ کرنے سے محروم ہوگئے ہیں۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف ( علیہ السلام) کو قتل کردو یا اسے کسی علاقے میں دور پھینک دو تو تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری ہی طرف ہوجائے گی اور اس کے بعد نیک قوم بن جانا۔

اُقْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِاطْرَحُوْہُ اَرْضًا یَّخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا مِنْ م بَعْدِہٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 9) (یوسف ( علیہ السلام) کو قتل کردو یا اسے کسی علاقے میں دور پھینک دو تو تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری ہی طرف ہوجائے گی اور اس کے بعد نیک قوم بن جانا۔ ) بھائیوں کی مشاورت باپ کی توجہ سے محرومی کا علاج اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ تم یوسف ( علیہ السلام) کو قتل کردو اور یا اسے کسی ایسی سرزمین میں پھینک دو جہاں سے وہ واپس نہ آسکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب یوسف ( علیہ السلام) نہ رہے گا جو ہمارے راستے کا کانٹا ہے تو پھر ہمارے والد کی ساری توجہ ہماری طرف ہوگی۔ جب وہ دیکھیں گے کہ قدرت نے ایک بیٹا واپس لے لیا ہے، وہ اگرچہ سب سے قیمتی ہیرا تھا لیکن اب اس کے نہ رہنے کے بعد مجھے ان سے دل لگانا چاہیے جو اس جیسے نہ سہی لیکن ہی تو میرے بیٹے اور ساتھ ہیں بیٹوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد تم اپنے حالات کو درست کرلینا۔ پہلے اگر گھر سے غائب رہتے ہو یا باپ کی خدمت میں کمی کرتے ہو تو اب باپ کے سامنے رہنے کی کوشش کرنا اور زیادہ سے زیادہ خدمت بجا لانا۔ اور وہ تمام کام کرنا جن سے یہ سمجھ لیا جائے کہ تم نے بھی اپنے بھائی کے صدمے سے سبق سیکھا ہے اور اب پہلے سے نیک ہوگئے ہو۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو قتل نہ کرو اور اس کو کسی اندھے کنویں میں پھینک دو ۔ کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا۔ اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔

قَالَ قَـآئِلٌ مِّنْہُمْ لاَ تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَاَلْقُوْہُ فِیْ غَیٰـبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْہُ بَعْضُ السَّیَّارَۃِ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 10) (ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو قتل نہ کرو اور اس کو کسی اندھے کنویں میں پھینک دو ۔ کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا۔ اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔ ) بھائیوں کا فیصلہ ان بھائیوں میں سے کسی ایک نے کہا جو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ بعض مفسرین نے اس کا نام شمعون لکھا ہے کہ اگر تم یوسف ( علیہ السلام) کے بارے میں کچھ کرنے کا فیصلہ کر ہی چکے ہو اور تمہیں باپ کی بےالتفاتی واقعی ناقابل برداشت معلوم ہوتی ہے تو پھر یوسف ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کی بجائے اسے کسی گہرے تاریک کنویں میں پھینک دو ۔ غِیَابَۃٌکنویں کی تہہ کو اور جُبْکچے کنویں کو کہتے ہیں۔ اسی طرح جُبْاس کنویں کو بھی کہتے ہیں جو بہت گہرا ہو اور اس میں پانی زیادہ ہو۔ صحرائی راستوں میں جہاں سے قافلے گزرتے رہتے تھے اس طرح کے کنویں کھودے جاتے تھے جو عام حالات میں تو استعمال نہیں ہوتے تھے لیکن جب کوئی قافلہ گزرتا تو وہ پانی کی وجہ سے چند دن کے لیے وہاں رک جاتا۔ اس طرح سے وہاں رونق ہوجاتی۔ اور اگر کوئی قافلہ نہ گزرتا تو وہ ایک بےآباد اور سنسان جگہ شمار ہوتی۔ جرائم پیشہ لوگ ایسے مواقع پر کسی کو ٹھکانے لگانا چاہتے تو ان کنوئوں سے کام لیتے۔ کہنے والے کا منشا یہ تھا کہ تمہارا اصل مقصد تو صرف یہ ہے کہ تم کسی طرح یوسف ( علیہ السلام) کو اپنے اور والد کے درمیان سے ہٹا دو ۔ اس کے لیے قتل کرنا کیا ضروری ہے، کسی کنویں میں پھینک دو ۔ یہاں سے قافلے گزرتے رہتے ہیں، تجارتی قافلے بھی اور خانہ بدوشوں کے بھی۔ کوئی نہ کوئی قافلہ پانی لینے کے لیے رکے گا، پانی لینے کے لیے جب ڈول ڈالے گا تو اندر سے بچہ شور مچائے گا تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ نیچے تو کوئی انسان ہے تو وہ اسے نکال لیں گے، اور کہیں لے جا کر اسے غلام بنا کے بیچ ڈالیں گے۔ کیونکہ اس زمانے میں بردہ فروشی تو عام ہوتی تھی۔ اس طرح بچے کی جان بھی بچ جائے گی اور تمہارے پہلو کا کانٹا بھی نکل جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی مشورے پر اتفاق ہوگیا۔ اگلی آیات میں اس کے لیے جو سکیم بنائی گئی اس کا ذکر ہے۔
Ayahs 12:11–14

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں۔

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اس کو ہمارے ساتھ بھیجئے، ذرا چرے جگے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے غم میں ڈال دیتی ہے یہ چیز کہ تم اسے لے جائو اور ڈرتا ہوں کہ اس کو بھیڑیا کھاجائے جبکہ تم اس سے غافل ہو۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

انھوں نے کہا کہ اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا جبکہ ہم ایک جتھہ ہیں تب تو ہم اس صورت میں نہایت ہی نامراد ثابت ہوں گے۔

قَالُوْا یٰٓـاَبَانَا مَالَکَ لاَ تَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنٰـصِحُوْنَ ۔ اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْٓ اَنْ تَذْھَبُوْا بِہٖ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ ۔ قَالُوْا لَئِنْ اَکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ اِنَّـآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 11، 12، 13 14) (انھوں نے کہا اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں۔ کل اس کو ہمارے ساتھ بھیجئے، ذرا چرے جگے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے غم میں ڈال دیتی ہے یہ چیز کہ تم اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ اس کو بھیڑیا کھاجائے جبکہ تم اس سے غافل ہو۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا جبکہ ہم ایک جتھہ ہیں تب تو ہم اس صورت میں نہایت ہی نامراد ثابت ہوں گے۔ ) باپ کو فریب برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) اپنے تیار کردہ منصوبے کے مطابق اپنے والد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بات کہنے کا انداز ایسا اختیار کیا جس سے ان کی بدنیتی کی بھنک پڑنا بھی مشکل تھا۔ کہنے لگے کہ ابا جان بیٹوں کو ہمیشہ گھر میں تو نہیں رکھا جاتا، باہر گھومنے پھرنے سے ہی ہمت اور توانائی آتی ہے لیکن عجیب بات ہے کہ آپ یوسف ( علیہ السلام) کو گھر میں بٹھائے رکھتے ہیں اور محض اس وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں جانے دیتے کہ ہم خدانخواستہ اس کے دشمن ہیں۔ وہ ہمارا بھائی ہے، ہم اس کے دشمن کیسے ہوسکتے ہیں۔ نجانے آپ ( علیہ السلام) ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے۔ ہم تو ہر لحاظ سے اس کے خیرخواہ ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) اسے ہمارے ساتھ بھیجئے، ہم مل کے پکنک منائیں گے۔ کھیلیں گے، کو دیں گے، کھائیں پئیں گے، رتع کا معنی تو ہوتا ہے چرنا چگنا، لیکن اس کا صحیح مفہوم پکنک کے لفظ ہی سے ادا ہوتا ہے اور قبائلی زندگی میں سیر و تفریح کا یہی سب سے اچھا ذریعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شعراء جاہلیت اکثر بڑے اہتمام سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اور رہی یہ بات کہ آپ کو یوسف ( علیہ السلام) کے بارے میں فکرمندی ہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ہر لحاظ سے اس کی حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کے جانے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن میرے دل میں یہ غم آئے بغیر نہیں رہتا۔ جب میں یہ سوچتا ہوں کہ تم اسے ساتھ لے جاؤ اور وہاں تم حسب عادت کھیل کود میں لگ جاؤ اور اسے بھول جاؤ اور کہیں دوڑتے بھاگتے دور نکل جاؤ اور پیچھے سے بھیڑیا آکر اسے کھاجائے اور تمہیں خبر ہی نہ ہو کہ کیا قیامت گزر گئی۔ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے کہا کہ ہم دس کی تعداد میں ایک پورا جتھہ ہیں۔ اگر ہماری موجودگی میں بھیڑیا اسے کھاجائے تو پھر ہم سے زیادہ نامراد اور کون ہوگا۔ اگر دس آدمی مل کر ایک بھیڑیئے کو نہ روک سکیں اور اپنے بھائی کی جان نہ بچا سکیں تو وہ زندگی میں اور کون سا بھلا کام کرسکتے ہیں۔ وہ تو یقینا نامرادوں کا گروہ ہے۔ ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے بڑے اصرار کے ساتھ اپنے والد گرامی کو یوسف ( علیہ السلام) کو ساتھ بھیجنے پر آمادہ کیا تھا۔ چناچہ والد کی اجازت سے وہ یوسف ( علیہ السلام) کو ساتھ لے گئے اور وہاں جا کر جو کیا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ بائبل اور تلمود کا بیان اس سے بالکل مختلف ہے، ان کی روایت یہ ہے کہ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) اپنے مویشی چرانے کے لیے سکم کی طرف گئے تھے اور ان کے پیچھے خود حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی تلاش میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو بھیجا تھا۔ اندازہ کیجیے کہ وہ باپ جو اپنے بیٹوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے اپنے چھوٹے بیٹے کو ان کے ساتھ بھیجنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اپنے بھائی سے حسد کرتے ہیں۔ بایں ہمہ آپ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کی تلاش میں بھیجا۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حضرت یعقوب نے جانتے بوجھتے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو موت کے منہ میں دھکیلا۔ آپ قرآن اور بائبل کے مندرجات کو سامنے رکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کون سا بیان مناسبِ حال اور دل کو لگتا ہے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

(پھر جب (بڑے اصرار سے) وہ یوسف ( علیہ السلام) کو لے گئے اور سب نے یہ طے کرلیا کہ اسے کسی گہرے کنویں کی تاریک تہہ میں ڈال دیں اور ( عین اس وقت) ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تم ان کو ان کی کارستانی سے آگاہ کرو گے جبکہ ان کو کچھ خیال بھی نہ ہوگا۔

فَلَمَّا ذَھَبُوْا بِہٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ یَّجْعَلُوْہُ فِیْ غَیٰـبَتِ الْجُبِّ ج وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ لَتُنَبِّئَنَّھُمْ بِاَمْرِھِمْ ھٰذَا وَھُمْ لاَیَشْعُرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 15) (پھر جب (بڑے اصرار سے) وہ یوسف ( علیہ السلام) کو لے گئے اور سب نے یہ طے کرلیا کہ اسے کسی گہرے کنویں کی تاریک تہہ میں ڈال دیں اور ( عین اس وقت) ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تم ان کو ان کی کارستانی سے آگاہ کرو گے جبکہ ان کو کچھ خیال بھی نہ ہوگا۔ ) کنویں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) پر وحی برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے جب اپنے والد گرامی کو بہت اصرار سے آمادہ کرلیا تو پھر ان کی اجازت سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو ساتھ لے گئے۔ آبادی سے اس زمین کا فاصلہ جتنا بھی ہو جہاں وہ عموماً اپنے جانور چرانے کے لیے جاتے تھے وہ یقینا حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لیے نہایت اذیت ناک ثابت ہوا ہوگا۔ کیونکہ ان ظالموں نے جن کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور جو اپنے بھائی کی جان لینے پر تلے ہوئے تھے انھوں نے یقینا آبادی سے نکلتے ہی بھائی کو مارنا پیٹنا شروع کیا ہوگا۔ فقرے کسے جاتے ہوں گے، تکلیف دہ باتیں کہی جاتی ہوں گی، باپ کی محبت بھری باتوں کا حوالہ دے کر توہین کی جاتی ہوگی۔ یوسف ( علیہ السلام) بیچارے ان ظالموں میں سے کبھی ایک کی طرف دیکھتے ہوں گے کبھی دوسرے کی طرف، لیکن کوئی رحم کھانے کو تیار نہ ہوا ہوگا۔ اسی طرح کنویں کی منڈیر پر پہنچے، ان کے گلے میں رسہ ڈالا اور کنویں میں لٹکا دیا۔ جب درمیان میں پہنچے تو رسہ کاٹ دیا۔ اندھا اور گہرا کنواں اور یوسف ( علیہ السلام) اس میں اسیر جبکہ وہ آج تک باپ کی آغوش کے عادی رہے تھے اور کبھی انھوں نے کسی تکلیف کا منہ تک نہ دیکھا تھا۔ نجانے اس وقت ان کے دل میں کیا گزر رہی ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا کہنا کہ وہ کبھی اپنے بندوں کو فراموش نہیں کرتا۔ بعض روایات میں ہے کہ جب آپ کو کنویں میں پھینکا گیا تو حضرت جبرائیل کو حکم ہوا اَدْرِکْ عبدی کہ جاؤ میرے بندے کو سنبھالو۔ دیکھنا اسے چوٹ نہ لگنے پائے۔ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) آسمانوں سے بھاگے اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے پانی یا زمین تک پہنچنے سے پہلے انھیں اپنے پروں پر اٹھا لیا۔ لیکن اس کی اجازت نہ تھی کہ انھیں لے کر باہر نکل آتے۔ چوٹ سے تو محفوظ رکھا لیکن قید کو باقی رکھا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کی طرف وحی کی، یعنی یوسف ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) کے دل میں یہ بات ڈالی کہ یوسف ( علیہ السلام) گھبرانا نہیں، یہ وقتی تکلیف ہے، گزر جائے گی۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا کہ ہم اپنی قدرت سے تمہیں ایسی قدر و منزلت سے نوازیں گے اور ایسا بلند مرتبہ عطا کریں گے کہ ایک وقت آئے گا جب تیرے یہ بھائی تیرے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوں گے اور اس وقت تو انھیں ان کا ظلم یاد دلائے گا۔ ان کی زیادتیوں کا ذکر کرے گا اور انھیں تصور بھی نہیں ہوگا۔ چناچہ اسی سورة میں آگے چل کر بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آیا جب برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) غلہ لینے کے لیے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے پاس پہنچے جب وہ عزیز مصر کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ بھائی کہہ رہے تھے کہ آپ ہم پر غلہ صدقہ کیجیے، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بہترین جزاء دیتا ہے، تو تب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ھل علمتم ما فعلتم بیوسف کہ تمہیں معلوم ہے تم نے یوسف ( علیہ السلام) کے ساتھ کیا کیا تھا، تب انھوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور معافی مانگی۔ یہاں اسی کا ذکر کیا جارہا ہے کہ آج تم کنویں میں پڑے ہو، تمہارے بھائی اپنے تئیں تم سے چھٹکارا پاچکے ہیں۔ وہ کبھی تصور میں بھی نہیں لاسکتے کہ یوسف ( علیہ السلام) زندہ رہیں گے اور کبھی اقتدار تک پہنچیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھئے کہ جو بات کئی سالوں کے بعد جاکر ہونے والی تھی اسے محض تسلی کے لیے حضرت یوسف ( علیہ السلام) پر وحی کیا گیا۔ بائبل اور تلمود اس ذکر سے بالکل خالی ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کوئی تسلی بھی دی گئی تھی۔ البتہ اس کی بجائے تلمود یہ بیان کرتی ہے کہ جب حضرت یوسف ( علیہ السلام) کنویں میں ڈالے گئے تو وہ بہت بلبلائے اور خوب چیخ چیخ کر انھوں نے بھائیوں سے فریاد کی۔ قرآن کا بیان ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) بچپن اور لڑکپن میں ہی ایسی صفات کے حامل تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ نوجوان آئندہ چل کر تاریخِ انسانی کی عظیم تر شخصیت ثابت ہوگا اور تلمود کے پڑھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحرا کے چند بدو ایک لڑکے کو کنویں میں پھینک رہے ہیں اور وہ لڑکا چیخ چیخ کر فریاد کررہا ہے لیکن ان ظالموں کو رحم نہیں آتا، حتیٰ کہ وہ لڑکا کنویں میں پھینک دیا جاتا ہے۔
Ayahs 12:16–18

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور وہ آئے اپنے باپ کے پاس کچھ رات گئے، روتے ہوئے۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

بولے کہ اے ہمارے باپ ! ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا۔ پس اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ نہیں مانیں گے ہماری بات، اگرچہ ہم سچے ہیں۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ حضرت یعقوب نے فرمایا کہ (ایسا نہیں) بلکہ یہ تو تمہارے جی کی گھڑی ہوئی بات ہے،

وَجَآئُ وْٓ اَبَاھُمْ عِشَآئً یَّبْکُوْن۔ قَالُوْا یٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَمَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ ج وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْکُنَّا صٰدِقِیْنَ ۔ وَجَآئُ وْعَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ط قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ط فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ط وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 16، 17، 18) (اور وہ آئے اپنے باپ کے پاس کچھ رات گئے، روتے ہوئے۔ بولے کہ اے ہمارے باپ ! ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا۔ پس اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ نہیں مانیں گے ہماری بات، اگرچہ ہم سچے ہیں۔ وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ ( ایسا نہیں) بلکہ یہ تو تمہارے جی کی گھڑی ہوئی بات ہے، میں صبرجمیل کروں گا اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگوں گا۔ بھائیوں کے جھوٹے عذر برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) اپنے بھائی کو کنویں میں پھینکنے کے بعد ظاہر ہے اپنے باپ کا سامنا نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے رات گہری ہونے تک وہیں رکے رہے۔ پھر رات کا ایک حصہ گزر جانے پر گھر لوٹے تو باہر سے ہی رونا پیٹنا شروع کردیا تاکہ باپ کو یقین دلایا جاسکے کہ ہم اس حادثے سے بری ہیں۔ ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم آپس میں دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہم نے چونکہ سامان کے پاس چھوڑا تھا تو اسے تنہا دیکھ کر بھیڑیئے کو حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور وہ اسے کھا گیا۔ ہمیں اس بات کا انتہائی دکھ ہے کہ ہم اپنے بھائی کو بچا نہ سکے اور مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ آپ ہم پر کسی طرح اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں حالانکہ ہم نے جو کچھ کہا ہے ہم اس میں بالکل سچے ہیں اور مزید انھوں نے اپنے بات کو پختہ کرنے کے لیے یہ بھی حرکت کی کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا کرتا کسی جانور کے خون میں ڈبو کرلے آئے اور یہ ظاہر کیا کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خون ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کرتا بالکل صحیح سلامت تھا، ہر دیکھنے والا حیران تھا کہ وہ بھیڑیا کیسا تھا جو کرتے والے کو کھا گیا لیکن اس کے کرتے پر خراش تک نہ آئی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اعلیٰ کردار بیٹوں کے جھوٹ موٹ بہانے سن کر حضرت یعقوب ( علیہ السلام) جان گئے کہ یہ بھیڑیئے کی کارستانی نہیں بلکہ بھائیوں کا ظلم ہے جو اپنے بھائی کو کھا گیا ہے، لیکن آپ ( علیہ السلام) نے بجائے اس پر بےصبری دکھانے اور جزع فزع کرنے کے نہایت وقار سے یہ کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے صبر جمیل کی توفیق مانگتا ہوں اور تمہارے نفسوں نے ایک بہت بڑے کام کو جس طرح آسان کردیا ہے میں اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتا ہوں لیکن بائبل اور تلمود نے اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا ہے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے تأثر کا جو نقشہ کھینچا ہے اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جلیل القدر پیغمبر نہیں بلکہ معمولی انسان ہیں جو کسی بھی حادثے کا شکار ہو کر ہوش و حواس کھو دیتا ہے۔ بائبل کا بیان ہے کہ تب یعقوب نے اپنا پیراہن چاک کیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دنوں تک اپنے بیٹے کے لیے ماتم کرتا رہا۔ اور تلمود کا بیان ہے کہ یعقوب بیٹے کی قمیض پہچانتے ہی اوندھے منہ زمین پر گرپڑا اور دیر تک بےحس و حرکت پڑا رہا۔ پھر اٹھ کر بڑے زور سے چیخا کہ ہاں یہ میرے بیٹے ہی کی قمیض ہے اور وہ سالہا سال تک یوسف ( علیہ السلام) کا ماتم کرتا رہا۔ اندازہ فرمایئے کہ قرآن کریم حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ایک باوقار، صاحب فراست، حلیم اور بردبار اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والے پیغمبر ( علیہ السلام) کے طور پر پیش کرتا ہے اور بائبل اور تلمود ایک کم ظرف انسان کی صورت میں۔
Ayahs 12:19–20

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

میں صبرجمیل کروں گا اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگوں گا۔ ادھر ایک قافلہ آیا تو اہل قافلہ نے پانی لانے کے لیے اپنے سقے کو بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا، خوشخبری ہو یہ تو ایک لڑکا ہے اور انھوں نے اسے ایک پونجی سمجھ کر چھپا دیا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کررہے تھے۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور انھوں نے اس کو ایک حقیر قیمت کے بدلے میں بیچ ڈالا، چند دراہم کے عوض۔ اور وہ اس کے معاملے میں بالکل بےپرواہ تھے۔

وَجَآئَ تْ سَیَّارَۃٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَھُمْ فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ ط قَالَ یٰـبُشْرٰی ھٰذَا غُلٰمٌ ط وَاَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ م بَخْسٍ دَرَاھِمَ مَعْدُوْدَۃٍ ج وََکَانُوْا فِیْہِ مِنَ الزَّاھِدِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 19، 20) (ادھر ایک قافلہ آیا تو اہل قافلہ نے پانی لانے کے لیے اپنے سقے کو بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا، خوشخبری ہو یہ تو ایک لڑکا ہے اور انھوں نے اسے ایک پونجی سمجھ کر چھپا دیا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کررہے تھے۔ اور انھوں نے اس کو ایک حقیر قیمت کے بدلے میں بیچ ڈالا، چند دراہم کے عوض۔ اور وہ اس کے معاملے میں بالکل بےپروا تھے۔ ) اس کی تشریح کے لیے صاحب تفہیم القرآن کا یہ نوٹ کافی ہے۔ اس معاملہ کی سادہ صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ برادرانِ یوسف حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینک کر چلے گئے تھے۔ بعد میں قافلے والوں نے آکر ان کو وہاں سے نکالا اور مصر لے جا کر بیچ دیا۔ مگر بائبل کا بیان ہے کہ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے بعد میں اسماعیلیوں کے ایک قافلے کو دیکھا اور چاہا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو کنویں سے نکال کر ان کے ہاتھ بیچ دیں۔ لیکن اس سے پہلے ہی مدین کے سوداگر انھیں کنویں سے نکال چکے تھے۔ ان سوداگروں نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو بیس روپے میں اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالا پھر آگے چل کر بائبل کے مصنفین یہ بھول جاتے ہیں کہ اوپر وہ اسماعیلیوں کے ہاتھ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو فروخت کرا چکے ہیں۔ چناچہ اسماعیلیوں کے بجائے پھر مدین ہی کے سوداگروں سے مصر میں انھیں دوبارہ فروخت کراتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو کتاب پیدائش باب 37۔ آیت 25 تا 28 و آیت 36) ۔ اس کے برعکس تلمود کا بیان ہے کہ مدین کے سوداگروں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نکال کر اپنا غلام بنا لیا پھر برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے قبضہ میں دیکھ کر ان سے جھگڑا کیا۔ آخرکار انھوں نے بیس درہم قیمت ادا کرکے برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کو راضی کیا۔ پھر انھوں نے بیس ہی درہم میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ دیا اور اسماعیلیوں نے مصر لے جا کر انھیں فروخت کیا۔ یہیں سے مسلمانوں میں یہ روایت مشہور ہوئی ہے کہ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فروخت کیا تھا لیکن واضح رہنا چاہیے کہ قرآن اس روایت کی تائید نہیں کرتا۔