12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsروح القرآن

Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ کہنے لگے، کیا آپ ہی یوسف ( علیہ السلام) ہیں ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، کہ ہاں ! میں یوسف ( علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا۔ جو شخص بھی تقویٰ اختیار کرتا اور صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

قَالُوْٓا ئَ اِنَّکَ لاََ نْتَ یُوْسُفُ ط قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَھٰذَٓا اَخِیْ ز قَدْمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا ط اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَیُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 90) (وہ کہنے لگے، کیا آپ ہی یوسف ( علیہ السلام) ہیں ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، کہ ہاں ! میں یوسف ( علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا۔ جو شخص بھی تقویٰ اختیار کرتا اور صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ) افشائے راز معلوم ایسا ہوتا ہے کہ پہلی ملاقاتوں میں وہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتے تھے تو انھیں اس کے خدوخال میں یوسف ( علیہ السلام) کی جھلک محسوس ہوتی تھی، اس کے طوراطوار میں یوسف ( علیہ السلام) کا شبہ ہوتا تھا۔ لیکن وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ شاہانہ لباس میں ملبوس جو شخص مصر جیسے متمدن ملک کے تخت پر بیٹھا حکومت کررہا ہے وہ یوسف ( علیہ السلام) ہوسکتا ہے۔ کہاں کنعان کا وہ کنواں جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پھینکا گیا تھا اور کہاں مصر کا تخت۔ ان کا تصور اتنی لمبی مسافت طے نہیں کرسکتا تھا۔ اس لیے ان کے ذہن میں اس کے یوسف ( علیہ السلام) ہونے کا خیال بھی پیدا ہوتا تھا تو وہ اسے جھٹک دیتے تھے۔ اب جیسے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یوسف ( علیہ السلام) اور بن یامین کے بارے میں سوال کیا تو انھیں یقین ہوگیا کہ یہی یوسف ( علیہ السلام) ہے۔ اس لیے فوراً بول اٹھے کہ کیا واقعی آپ ہی یوسف ( علیہ السلام) ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تمام حجابات اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ ہاں، میں ہی یوسف ( علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ تم مجھے جس حال میں دیکھ رہے ہو یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا کرم اور اس کی عطا ہے۔ اس نے ہم پر احسان فرمایا اور یہ مقام اور منصب مجھے عطا ہوئے۔ چونکہ آپ پیغمبرانہ اخلاق کے مالک تھے اس لیے نہ تو کوئی ایسی بات فرمائی جس سے انھیں شرمندگی ہوتی اور نہ ایسی بات فرمائی جس سے خودپسندی کی بو آتی اور فخر کا اظہار ہوتا۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے اپنی بات کہنے کی بجائے بطور اصول یہ بات فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص بھی تقویٰ کا راستہ اختیار کرتا ہے یعنی وہ پوری طرح اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے ڈال دیتا ہے، اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیتا ہے اور زندگی اس طرح گزارتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت تمام تعلقات پر غالب رہتی ہے۔ غیرمشروط اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے، زبان سے اسی کے احسانات کا ذکر ہوتا ہے۔ انگ انگ سے اس کے شکرکا اظہار ہوتا ہے اور اسے کے دیئے ہوئے مقصد زندگی کو منزل قرار دے کر اسی کی طرف سفر جاری رہتا ہے۔ اور جو اس راستے میں مشکلات پیش آتی ہیں انھیں اس راستے کی سنتیں سمجھ کر خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے تو کوئی ایسا شخص ہو یا ایسے افراد اللہ تعالیٰ تعالیٰ ان کی مساعی کو نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ ان کے اجر وثواب کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ لیکن اس کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ تقویٰ اور صبر کا رشتہ احسان سے بندھا ہوا ہو۔ آدمی جو بھی نیکی کا کام کرے، اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے، آنحضرت ﷺ کی سنت کو حرز جان بنائے، ہر چھوٹے بڑے کام سے پہلے اس کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہیے کہ میں اپنے خدا کے سامنے ہوں اور اپنے خدا کو دیکھ رہا ہوں اور اگر اس مقام پر نہ پہنچ سکے تو اس بات کا یقین تو بہرحال رکھے کہ میرا اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔ جو شخص ان مضبوط احساسات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا مقرب ہوجاتا ہے۔ وہ جب تک دنیا میں ہے اس کے ہر عمل کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی قوت کارفرما ہوتی ہے۔ اور جب وہ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو کامرانیاں اس کے جلو میں چلیں گی اور فرشتے اس کو جنت کے دروازوں پر خوش آمدید کہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو بات اس آیت کے آخر میں فرمائی گئی ہے یعنی تقویٰ ، صبر اور احسان، یہ سورت کا مرکزی مضمون ہے۔ یہی بات سمجھانے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے تمام واقعات بیان کیے گئے۔ ان کا ہر عمل تقویٰ کی تصویر ہے۔ انھوں نے زندگی عزیمت اور صبر کے ساتھ گزاری اور ہر قدم اٹھانے اور ہر بات کہنے سے پہلے یقینا ان کو یہ مقام حاصل رہا ہے کہ وہ اپنے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کہنے لگے، اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر برتری بخشی اور بیشک ہم ہی غلطی پر تھے۔

قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِئِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 91) (برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کہنے لگے، اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر برتری بخشی اور بیشک ہم ہی غلطی پر تھے۔ ) اعتراف حق یاد ہوگا کہ برادرانِ یوسف کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) پر سب سے زیادہ غصہ تھا وہ اس بات پر تھا کہ ہمارے والد آخر یوسف ( علیہ السلام) کو ہم پر ترجیح کیوں دیتے ہیں، ان کی تمام شفقت اور عنایت یوسف ( علیہ السلام) ہی کے لیے کیوں ہے، اس میں ایسی کیا بات ہے کہ ہمارے والد اسے زیادہ چاہتے ہیں حالانکہ ہم دس بھائی ہیں۔ قبائلی زندگی کے حوالے سے اس شخص کو زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور ہمیشہ اس کے سامنے احترام کی نگاہیں بچھی رہتی ہیں جس کے بیٹے جوان اور بڑی تعداد میں ہوتے ہیں کیونکہ قبائلی زندگی میں طاقت اور قوت کے زور سے اپنے آپ کو منوایا جاتا ہے اور جوان بیٹے ہی ہر شخص کی طاقت ہوتے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم ایک پورا جتھہ ہیں، طاقت اور قوت سے بھرپور لیکن ہمارے والد کو بجائے ہمیں ترجیح دینے کے ہمیشہ ہر بات میں یوسف ( علیہ السلام) کی فکر رہتی ہے۔ اسی حسد اور اسی غلط فہمی نے ان سے وہ ظلم کروایا جس کا کوئی جواز نہ تھا۔ لیکن اب جبکہ بھائیوں نے تخت حکومت پر یوسف ( علیہ السلام) کو فائز دیکھا تو نہایت لجاجت اور شرمندگی سے اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم آج اللہ تعالیٰ اور خلق خدا کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے والد صاحب یوسف ( علیہ السلام) کو جس طرح ہم پر ترجیح دیتے تھے وہ یقینا حق بجانب تھے۔ ترجیح اور برتری کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے باعث بھائیوں نے جو ظلم کیا آج اللہ تعالیٰ نے یوسف ( علیہ السلام) کو تخت حکومت پر بٹھا کر ان کے سامنے یہ بات ثابت کردی کہ یوسف ( علیہ السلام) اپنی معنوی اور روحانی خصوصیات کے باعث ہر طرح سے ترجیح پانے کے لائق تھے۔
Ayahs 12:92–93

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کچھ الزام نہیں، اللہ تعالیٰ تم کو معاف کرے۔ وہ ارحم الراحمین ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

میرا یہ کرتا لے جائو، میرے باپ کے چہرے پر ڈال دیجیے، وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور تم لوگ اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آجائو۔

قَالَ لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ط یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُم ز وَھُوَاَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ اِذْھَبُوْا بِقَمِیْصِیْ ھٰذَا فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا ج وَاْتُوْنِیْ بِاَھْلِکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 92، 93) (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کچھ الزام نہیں، اللہ تعالیٰ تم کو معاف کرے۔ وہ ارحم الراحمین ہے۔ میرا یہ کرتا لے جاؤ، میرے باپ کے چہرے پر ڈال دیجیے، وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور تم لوگ اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آجاؤ۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عفو ودرگزر بھائیوں نے جب اپنے جرم کا اعتراف کرلیاتو باوجود اس کے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو انھوں نے بےحد اذیتیں پہنچائی تھیں اور وہ خود بھی سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ یوسف ( علیہ السلام) کے ساتھ کرچکے ہیں اس کے بعد شاید معافی کی کوئی صورت نہ ہو، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بلند ظرفی اور آپ کا حُسنِ اخلاق دیکھئے کہ بجائے انھیں ملامت کرنے یا سزا دینے کے آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا، آج تم پر کوئی گرفت نہیں اور تم پر کوئی ملامت نہیں، میں تو اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی تمہیں تمہارے گناہ بخش دے کیونکہ وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ وہ شب و روز بندوں کی سرکشی دیکھتا ہے لیکن کبھی گرفت نہیں کرتا اور اگر بندے کی جانب سے اعترافِ جرم اور توبہ کی کوشش ہو تو وہ گناہ کو مٹا دیتا ہے اور پاکیزہ زندگی عطا کرتا ہے۔ میں بھی اسی کی توفیق سے تمہیں معاف کرتا ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی ( علیہ السلام) ایسے ہی اخلاق سے متصف ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت چونکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے ان کے اخلاق اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا پرتو ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب وہ تمام لوگ جن میں سے ایک سے ایک بڑھ کر مجرم تھا اور جنھوں نے آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے ساتھیوں ( رض) پر زیادتی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ آپ ﷺ جب بیت اللہ تعالیٰ سے باہر تشریف لائے تو بیت اللہ تعالیٰ کی دہلیز پر کھڑے ہو کر آپ ﷺ ان سے مخاطب ہوئے۔ پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں۔ وہ دشمن اور ایمان سے محروم ہونے کے باوجود آپ ﷺ کے مزاج شناس تھے۔ کہنے لگے کہ آپ ﷺ کریم ابن کریم ہیں۔ اس لیے ہم آپ ( علیہ السلام) سے عفو و درگزر کی امید رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم سے وہی بات کہوں گا جو میرے بھائی یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ جاؤ تم سب آزاد ہو، آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ انبیائے کرام کے معجزات حق ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) بن یامین سے سن چکے تھے کہ میرے والد ماجد کی آنکھیں میرے صدمے میں بےنور ہوچکی ہیں۔ اور اس صدمے کا آغاز اس وقت ہوا جب بھائیوں نے انھیں کنویں میں پھینکا اور ان کا کرتا کسی جانور کے خون میں ڈبو کر باپ کے سامنے جا کے پیش کردیا کہ یہ پیراہن یوسف ( علیہ السلام) کا ہے جسے بھیڑیا کھا گیا ہے اور یہ یوسف ( علیہ السلام) کے خون سے لت پت ہوگیا ہے۔ چناچہ اس پیراہن نے مدتوں آپ کو خون رلایا۔ ممکن ہے آپ نے وہ پیراہن محفوظ رکھا ہو اور گاہے ما ہے اسے دیکھ کر تسلی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوں۔ تو جس پیراہن نے غم دیا اور آنکھوں کی بینائی لے لی، آج اسی یوسف ( علیہ السلام) کا دوسرا پیراہن جو آپ کے جسم سے مس کرچکا تھا وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو دیا کہ جاؤ، جا کر میرا یہ کرتا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دینا، انشاء اللہ تعالیٰ وہ بینا ہوجائیں گے اور ان کی کھوئی ہوئی نظر واپس آجائے گی۔ جو لوگ معجزاتِ انبیاء کے قائل نہیں، وہ عام طور پر یہ تاویل کرتے ہیں کہ جب کسی شدید صدمے سے آدمی کے جسم کے کسی حصے کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ اس کا تعلق انسانی دماغ سے ہو تو اگر ویسے ہی شدید خوشی اس شخص کو اچانک پہنچے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس نقصان کی تلافی ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ پیراہنِ یوسف ( علیہ السلام) سے ہی آپ کی آنکھیں سفید ہوئی تھیں۔ دوسرے پیراہن نے آکر جب انتہائی خوشی دی تو آنکھیں درست ہوگئیں اور ان کی بینائی واپس آگئی۔ یہ بات قیاس کے اعتبار سے کیسی بھی صحیح کیوں نہ ہو، ہمیں اس کی احتیاج نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بزرگانِ دین کی کرامات اور انیبائے کرام کے معجزات برحق ہیں تو پھر ہمیں کسی ظنی توجیہ کی ضرورت کیا ہے ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے مزید فرمایا کہ تم سب اہل خانہ کو لے کر میرے پاس مصر میں آجاؤ۔ اس میں اگرچہ والدین کا ذکر نہیں لیکن ان کے ذکر کی چنداں ضرورت بھی نہیں کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے اصل مقصود تو وہی ہیں۔ انھیں کی وجہ سے بھائیوں کی نازبرداری کی جارہی ہے۔ تو جو چیز سلسلہ کلام میں غائتِ وضاحت کی حامل ہو، وہ ذکر کی محتاج نہیں ہوتی۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

(اور جب قافلہ چلا تو ان کے والد ماجد نے کہا کہ اگر تم لوگ مجھے خبطی نہ قرار دو تو میں یوسف ( علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کررہا ہوں۔

وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُُوْھُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُرِیْحَ یُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْن۔ (سورۃ یوسف : 94) (اور جب قافلہ چلا تو ان کے والد ماجد نے کہا کہ اگر تم لوگ مجھے خبطی نہ قرار دو تو میں یوسف ( علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کررہا ہوں۔ ) ” تَفَنُّدْ “ کسی کو حواس باختہ یا بیوقوف سمجھ کر اس کی رائے اور بات کو لایعنی قرار دینے کو کہتے ہیں۔ پیراہنِ یوسف ( علیہ السلام) کی خوشبو برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کا قافلہ جو اپنے ساتھ یوسف ( علیہ السلام) کے مل جانے کی انتہائی مسرت آمیز خبر لے کر روانہ ہوا تھا، ابھی وہ ابتدائی مراحل میں تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کنعان میں اپنے گھر بیٹھے ہوئے اہل خانہ سے کہا کہ میں تم سے ایسی بات کہنے لگا ہوں جس کے بارے میں مجھے اندیشہ ہے کہ تم مجھے یہ کہو گے کہ آپ تو سٹھیا گئے ہیں، اس لیے ایسی باتیں کہتے ہیں جسے عقل کبھی قبول نہیں کرسکتی۔ لیکن میں تمہیں پورے وثوق سے یہ کہتا ہوں کہ میں یوسف ( علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کررہا ہوں، ممکن ہے یوسف (علیہ السلام) کے جسم سے کوئی خاص خوشبو آتی ہو جو اب تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یاد تھی اور آپ ( علیہ السلام) نے اسی خوشبو کو محسوس کیا اور یا آپ اسے بطور محاورہ کے استعمال کیا ہے۔ خوشبو محسوس کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے حواس اس شخص کی موجودگی کو محسوس کررہے ہیں اور وہ عنقریب مجھ تک پہنچنے والا ہے۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

(اہل خانہ) کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم آپ ابھی تک پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں۔

قَالُوْا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِ ۔ (سورۃ یوسف : 95) (اہل خانہ) کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم آپ ابھی تک پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں۔ ) اہل خانہ کی بےبصیرتی اہل خانہ نے وہی کہا جس کا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اندیشہ تھا کیونکہ ان کے لیے یہ بات بعیدازعقل تھی کہ کوئی شخص اتنی دور سے اپنے بیٹے کی خوشبو سونگھ محسوس کرسکتا ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ آپ برسوں سے اسی خبط میں مبتلا ہیں کہ یوسف ( علیہ السلام) ضرور آئیں گے۔ ربع صدی کا زمانہ گزر گیا، کہیں اس کی بھنک نہیں پڑ سکی، اگر وہ زندہ ہوتا تو آج تک اس کی کوئی خبر تو ملتی، لیکن آپ ان باتوں کی طرف دھیان دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ آپ کو تو ایک لگن لگی ہوئی ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) سے ملاقات ضرور ہوگی اور اب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ اسی لگن اور کھٹک کا نتیجہ ہے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پس جب یوں ہوا کہ خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے کرتا آپ کے چہرے پر ڈال دیا تو آپ دوبارہ بینا ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

فَلَمَّآ اَنْ جَآئَ الْبَشِیْرُاَلْقٰہُ عَلٰی وَجْھِہٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا ج قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ ج لا اِنِّیٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 96) (پس جب یوں ہوا کہ خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے کرتا آپ ( علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا تو آپ ( علیہ السلام) دوبارہ بینا ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ) حضرت یعقوب (علیہ السلام) بیٹے کی خوشبو پا کر سرتاپا انتظار تھے کہ کب یوسف ( علیہ السلام) کی اطلاع ملتی ہے یا یوسف ( علیہ السلام) خود آتے ہیں اور اہل خانہ آپ ( علیہ السلام) کو ازکاررفتہ سمجھ کر آپ کی بات کو وہم سمجھ کر جھٹلا چکے تھے کہ اسی اثناء میں قافلے کے پہنچنے سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قاصد پیراہن لے کر پہنچ گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) یا قافلے والوں نے ایک تیز رفتار آدمی کو پیراہنِ یوسف ( علیہ السلام) دے کر پہلے روانہ کردیا تاکہ وہ قافلے سے پہلے آپ کو خوشخبری پہنچا سکے اور پیراہن سے آپ ( علیہ السلام) کی بینائی کا سامان کرسکے۔ چناچہ جیسے ہی وہ خوشخبری دینے والا پہنچا تو اس نے حسب ہدایت حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن آپ کے چہرے پر ڈال دیا۔ پیراہن ڈالنے کی دیر تھی کہ آپ ( علیہ السلام) اچھے بھلے بینا ہوگئے اور آپ ( علیہ السلام) کی بینائی درست ہوگئی۔ تب آپ ( علیہ السلام) نے اہل خانہ سے کہا کہ میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ میرا اللہ تعالیٰ سے جو تعلق ہے وہ تمہارا نہیں۔ اور میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ پروردگار اپنے بندوں کو آزمائشوں میں ضرور ڈالتا ہے لیکن وہ انھیں کبھی محروم نہیں کرتا۔ جب وہ آزمائشوں میں تقویٰ اور صبر سے اپنے آپ کو آراستہ رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ان کی امید روز بروز بڑھتی جاتی ہے۔ چناچہ میں نے بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ تو بالآخر پروردگار نے میری امیدوں کو بارآور کیا۔ سوال کا جواب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کئی گھنٹوں تک تین میل کے فاصلے پر ایک کنویں میں پڑے رہے لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ان کی خوشبو نہیں آئی۔ اور اب جبکہ وہ سینکڑوں میل دور مصر میں حکمرانی کررہے ہیں تو آپ نے ان کی خوشبو محسوس کرلی، آخر یہ کیا راز ہے ؟ شیخ سعدی مرحوم نے ” گلستان “ میں اپنے مخصوص انداز میں اس کا ذکر کیا ہے، ہم انھیں سے مستعار لیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ یکے پرسید زاں گم کردہ فرزند کہ اے روشن گہرپیرِخردمند زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرادر چاہ کنعانش ندیدی بگفت احوال ما برق جہانست دمِ پیدا دم دیگر نہاں است گہے برطارِ اعلیٰ می نشینیم گہے بر پشت پائے خود نبی نیم اگر درویش برحالے بماندے سرِ دست از دوعالم برفشاندے ایک آدمی نے اس بزرگ سے پوچھاجس کا بیٹا گم ہوچکا تھا کہ اے روشن گہر اور عقل مند بزرگ ! آپ نے اپنے بیٹے کے پیراہن کی خوشبو مصر سے سونگھ لی لیکن کنعان کے کنویں میں آپ اسے کیوں نہ دیکھ سکے۔ اس مرد بزرگ یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا ہمارا حال دنیا میں چمکنے والی بجلی کی طرح ہے، کبھی وہ ظاہر ہوتی ہے اور کبھی چھپ جاتی ہے، کبھی تو ہمیں ایک اونچے بالاخانے پر بٹھا دیا جاتا ہے اور ( ہم سب کچھ دیکھتے ہیں) اور کبھی اپنے پائوں کی ایڑی کا بھی ہوش نہیں ہوتا۔ اگر درویش ہمیشہ ایک ہی حال پر رہتا تو پھر وہ دنیا میں نہ رہ سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ اپنے پیغمبروں ( علیہ السلام) کو مخصوص قوتیں عطا کرتا ہے جو دوسرے لوگوں سے انھیں ممتاز کرتی ہیں لیکن یہ قوتیں ان کی ذاتی نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کی دین ہوتی ہیں۔ کبھی وہ انھیں ایسے بلند مراتب پر بٹھا دیتا ہے کہ دنیا ہاتھ کی لکیروں کی طرح ان کے سامنے ہوتی ہے۔ اور کبھی بعض معاملات سے بیخبر بھی رکھتا ہے اور یہ دونوں طرح کی کیفیات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ وہ جس کیفیت سے چاہتا ہے اپنے مقبول بندوں کو متکیف کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی آزمائش کرنا چاہتے تھے اس لیے تین میل کے فاصلے پر کنویں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خبر نہ دی لیکن جب آپ آزمائشوں میں سرخرو نکلے تو وہ بیٹا جسے غلام بنا کر بیچا گیا تھا اسے نہ صرف اللہ تعالیٰ نے حکمرانی دی بلکہ وہی باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور نور نظر بنا۔
Ayahs 12:97–98

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

انھوں نے کہا کہ اے ہمارے والد گرامی ! ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا فرمایئے، بیشک ہم ہی خطاکار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

والد نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

قَالُوْا یٰٓاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیْنَ ۔ قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْ ط اِنَّہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (سورۃ یوسف : 97، 98) (انھوں نے کہا کہ اے ہمارے والد گرامی ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا فرمایئے، بیشک ہم ہی خطاکار تھے۔ والد نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ) باپ سے استغفار کی درخواست برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے جب اپنی آنکھوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقام و مرتبہ دیکھا تو انھیں اپنے غلطیوں کا احساس ہوا۔ وہ یہ سمجھ گئے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے یہاں خاص تقرب کے حامل ہیں۔ اور ادھر اپنے باپ کو جس طرح ہمیشہ پرازامید دیکھا اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کی امیدوں کو بارآور کیا تو انھیں یقین ہوگیا کہ ہمارے والد عام انسانوں جیسے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ تب وہ اپنے والد ماجد سے کہنے لگے کہ ہم جان گئے ہیں کہ ہم ہی خطاکار تھے۔ نہ ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کے مرتبے کو پہنچانا اور نہ آپ ( علیہ السلام) کے مقام کو جان سکے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خصوصی مغفرت کی دعا کریں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہوں گا۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں جب خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوتا ہوں اور میرا جو دعا اور مناجات کا خاص وقت ہے میں اس میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کروں گا۔ اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کردے گا کیونکہ وہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو اگر اپنے گناہوں کا احساس ہوجائے اور وہ واقعی اس پر نادم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ خود بھی رو رو کر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہے اور کسی اللہ تعالیٰ والے کے پاس اگر جایا جاسکتا ہو تو اس سے بھی دعا کی درخواست کرے۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا خاص وقت اور عبادت کی مخصوص جگہ بھی قبولیتِ دعا میں موثر ہوتی ہے۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب یہ لوگ یوسف ( علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور ( اپنے سب کنبے والوں سے) کہا، آپ سب مصر میں داخل ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو امن و چین سے رہو گے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَبَوَیْہِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 99) (پھر جب یہ لوگ یوسف ( علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور ( اپنے سب کنبے والوں سے) کہا، آپ سب مصر میں داخل ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو امن و چین سے رہو گے۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق ایسی باتیں حذف کردی ہیں جو سیاق کلام سے خودبخود سمجھ میں آسکتی ہیں۔ یہ بات اپنے تئیں بالکل واضح ہے کہ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کا قافلہ جب اپنے گھر پہنچا اور والدین کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پیغام پہنچایا کہ آپ سب لوگ میرے پاس تشریف لے آئیں تو نورنظر کو جلد از جلد دیکھنے کی بےچینی کے باوجود تیاری میں کچھ دن تو لگے ہوں گے۔ اس کے بعد تلمود کی روایت کے مطابق جو گاڑیاں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انھیں لینے کے لیے بھیجی تھیں ان پر سوار ہو کر تمام اہل خانہ جن کی تعداد تورات کے بیان کے مطابق 68 تھی مصر کو روانہ ہوگئے۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے مصر کے قریب پہنچنے کی اطلاع ہوئی تو تورات کی روایت کے مطابق وہ لائولشکر اور اپنے امراء کے ہمراہ ان کے استقبال کے لیے تشریف لائے بلکہ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر بھر میں ان کی آمد کی شہرت پھیل چکی تھی۔ اس لیے شہر میں زورشور سے ان کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ تمام آبادی خوشیوں کے ہجوم میں ڈوبی ہوئی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے امراء سمیت باہر نکل کر آپ کا استقبال کیا۔ چناچہ جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملے تو معلوم ہوتا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو خاص طور پر اپنے پاس جگہ دی یعنی اپنے محل میں اپنے ساتھ رہنے کی ان سے گزارش کی اور باقی سارے خاندان کو مصر میں داخل ہونے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی اطمینان دلایا کہ آپ ماشاء اللہ تعالیٰ مصر میں خوش و خرم رہیں گے اور حوادث روزگار آپ کو پریشان نہیں کرسکیں گے۔ پھر ان تمام لوگوں کے جلو میں آپ اپنے دربار میں تشریف لائے۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اوپر تخت پر بٹھایا اور سب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، اباجان ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے سچا ثابت کر دکھایا۔ اس نے مجھ پر احسان کیا جب اس نے مجھے قیدخانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا بعد اس کے کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ بیشک میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کے لیے نہایت باریک بین اور دقیقہ رس ہے۔ بیشک وہی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلیَ الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا ج وَقَالَ یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُئْ یَایَ مِنْ قَبْلُ ز قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا ط وَقَدْ اَحْسَنَ بِیْ ٓ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآئَ بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِمِنْ م بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ ط اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآئُ ط اِنَّہٗ ھُوَالْعَلِیْمُ الْحَکِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 100) (اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اوپر تخت پر بٹھایا اور سب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، اباجان ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے سچا ثابت کر دکھایا۔ اس نے مجھ پر احسان کیا جب اس نے مجھے قیدخانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا بعد اس کے کہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ بیشک میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کے لیے نہایت باریک بین اور دقیقہ رس ہے۔ بیشک وہی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ ) خواب کی تعبیر دربارِ شاہی میں پہنچنے کے بعد تمام مہمانوں کو درجہ بدرجہ ان کی مسندوں پر بٹھایا گیا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین سے تخت پر بیٹھنے کی استدعا کی۔ پھر آپ ( علیہ السلام) شاہی جلال کے ساتھ جب تخت پر رونق افروز ہوئے تو معمول کے مطابق تمام اہل دربار تعظیماً سجدے میں گرگئے۔ انھیں دیکھ کر آپ ( علیہ السلام) کے والدین اور آپ ( علیہ السلام) کے بھائی بھی سجدہ ریز ہوگئے۔ جب ان لوگوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد گرامی سے کہا کہ ابا جان ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر (جو حضرت سلمان فارسی ( رض) کی روایت کے مطابق) میں نے 30 سال پہلے دیکھا تھا۔ اس وقت یہ خواب محض ایک خیال معلوم ہوتا تھا، لیکن آپ ( علیہ السلام) کی بصیرت نے ایک درخشاں مستقبل کی جھلک ضرور دیکھ لی تھی اسی لیے بھائیوں کے حسد سے بچانے کے لیے آپ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ اسے اپنے بھائیوں کو نہ بتانا۔ آج دیکھ لیجیے، اللہ تعالیٰ نے میرے خواب کو ایک حقیقت بنادیا۔ لیکن اس حقیقت تک پہنچنے کے لیے مجھے جن صعوبتوں سے واسطہ پڑا اور جن گھاٹیوں سے گزرنا پڑا وہ اگرچہ ایک تکلیف دہ داستان ہے لیکن اس میں بھی قدرت مجھ پر بار بار احسان کرتی رہی۔ آپ ( علیہ السلام) نے مجھے بھائیوں کے حسد سے بچانا چاہا۔ لیکن میں بھائیوں کے حسد ہی کا نشانہ بنا۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ انھوں نے مجھے ٹھکانے لگا کر راستہ سے ہٹا دیا لیکن کسے خبر تھی کہ اسی کنویں سے میرے لیے کامیابیوں کا سورج طلوع ہوگا۔ مجھے غلام بنایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی واسطے سے ایک بڑے گھر کا قیام عطا فرمایا۔ گھر کی مالکن نے میرے ایمان میں نقب لگانا چاہی لیکن جب میں اس میں ثابت قدم رہا تو مجھے جیل بھیج کر اس نے اور دوسری بیگماتِ مصر نے بظاہر اپنا انتقام لیا اور یہ سمجھا کہ یہ خودسر نوجوان اب ہمیشہ خودسری کی سزا بھگتتا رہے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے جیل سے نکالا اور تخت شاہی تک پہنچایا۔ پھر مزید اس کا کرم یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو صحرا سے نکال کر یہاں آنے کی توفیق بخشی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حُسنِ اخلاق حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق کی بلندی دیکھئے کہ وہ اپنے تمام کنبے کی آمد کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے والدین کی تشریف آوری تو یقینا ان کے لیے نعمت غیرمترقبہ تھی۔ لیکن جہاں تک بھائیوں کا تعلق ہے وہ تو ان کے خون کے پیاسے رہ چکے تھے لیکن آپ ( علیہ السلام) بجائے اس کے کہ ان کی دشمنی کا ذکر کریں اور انھیں اس کے ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر ملامت کے تیربرسائیں۔ اس کے برعکس یہ فرما رہے ہیں کہ میرے اور بھائیوں کے درمیان جو ناگوار صورتحال پیدا ہوئی یہ سب کچھ شیطان کا کیا دھرا تھا۔ بھائیوں کو شیطان نے ایسا بہکایا کہ وہ خیر و شر میں تمیز نہ کرسکے۔ لیکن میں ان کی آمد کو بھی اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھتا ہوں۔ وہ بہرحال میرے بھائی ہیں، میرے خون کا حصہ ہیں۔ اس لیے میں ان کے حق قرابت کو کیسے بھول سکتا ہوں۔ لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ میرا رب لطیف ہے، وہ بہت باریک بین اور بےحد دقیقہ رس ہے۔ وہ جب کسی پر انعامات کرنا چاہتا ہے تو بظاہر اس پر جو مصیبتیں اترتی ہیں ان کے اندر سے راحت رسانی کے سامان پیدا کردیتا ہے۔ وہ محرومیوں اور مایوسیوں میں امیدوں کے پھول اگا دیتا ہے۔ وہ بظاہر ناکامیوں میں کامیابیوں کی سحر طلوع کردیتا ہے۔ نگاہیں کچھ دیکھ رہی ہوتی ہیں لیکن اس کی قدرت سے کچھ اور ظہورپذیر ہوتا ہے۔ میں بظاہر حوادث کا شکار ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں حوادث سے تخت و تاج کا راستہ نکالا۔ ہم ظاہربین لوگ اپنی نارسائیوں کو علم اور اپنی کوتاہیوں کو حکمت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں علیم اور حکیم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ بنی اسرائیل کی تعداد کی وضاحت گزشتہ دو آیتوں میں دو باتیں ایسی گزری ہیں جو کسی حد تک تفصیل طلب ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر آئے ہیں تو ان کی تعداد 68 تھی۔ لیکن جب تقریباً 500 سال بعد انھیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے لے کر نکلے تو بائبل کی روایت کے مطابق دوسرے سال بیابانِ سینا میں جب ان کی گنتی کرائی گئی تو صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد 6 لاکھ 3 ہزار 350 تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت، مرد اور بچے سب ملا کر کم از کم 20 لاکھ ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک خاندان محض تناسل کے ذریعہ سے اتنا بڑھ سکتا ہے۔ اہل علم اس سے انکار کرتے ہیں۔ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی اور ان کے بعدتقریباً چار صدیوں تک مصر میں حکومت کی۔ چونکہ یہ لوگ پیغمبروں ( علیہ السلام) کی اولاد تھے اور اپنا ایک مستقل دین رکھتے تھے۔ یقینا انھوں نے مصر کی غیرمسلم آبادی میں بھی تبلیغ و دعوت سے کام لیا ہوگا۔ ان کی تبلیغ کے نتیجے میں جو لوگ مسلمان ہوئے انھوں نے یقینا اپنا تہذیب و تمدن بھی مسلمانوں جیسا اختیار کرلیا ہوگا اور بالکل اپنے آپ کو بنی اسرائیل کا ہم رنگ بنا لیا ہوگا۔ جب مصر میں بنی اسرائیل کی حکومت کو زوال آیا اور غیرمسلموں کی حکومت قائم ہوگئی تو انھوں نے تمام مسلمانوں کو جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا یا مصر کے دوسرے خاندانوں سے، دین کی یکسانی کے باعث اسرائیلی کہنا شروع کردیا جس طرح مختلف ممالک میں آج بھی غیرعرب مسلمانوں کو بھی محض دین کے اشتراک کی وجہ سے محمڈن کہا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جن لوگوں نے مصر سے ہجرت کی، ان میں نسل کے اعتبار سے بنی اسرائیل اور مذہب کے اعتبار سے بنی اسرائیل دونوں شریک تھے۔ البتہ بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ غیرمسلم تو انھیں اسرائیلی کہتے تھے لیکن خود بنی اسرائیل انھیں اجنبی شمار کرتے تھے اور انھیں پردیسی کے لفظ سے یاد کیا جاتا تھا۔ مثلاً تورات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو احکام دیئے گئے ان میں ہم کو یہ تصریح ملتی ہے۔ ” تمہارے لیے اور اس پردیسی کے لیے جو تم میں رہتا ہے نسل در نسل سدا ایک ہی آئین رہے گا، خدا کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہوں جیسے تم ہو، تمہارے لیے اور پردیسیوں کے لیے جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو۔ “ (گنتی 15: 15۔ 16) کہنا صرف یہ ہے کہ تورات نے بنی اسرائیل کی جو تعداد ذکر کی ہے اس میں صرف بنی اسرائیل ہی شمار نہیں کیے گئے بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دوسرے نسلوں سے تعلق رکھتے تھے لیکن دین میں یکسانی کے باعث اسرائیلی کہلاتے تھے۔ اسی تناظر میں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ اگر بنی اسرائیل کی تعداد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں 20 لاکھ کے لگ بھگ تھی تو آج تو ان کی تعداد کئی کروڑ ہونی چاہیے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی ان کی تعداد کروڑوں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ آخر ہزاروں سالوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہونے کی بجائے کمی کیوں ہوگئی ہے۔ حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر نبی کریم ﷺ کے زمانے تک تاریخی شہادت کے مطابق یہ قوم بار بار اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئی اور ان کی بداعمالیوں کے باعث جب بھی ان پر عذاب آیا تو ایک بہت بڑی تعداد اس کا شکار ہوتی رہی ہے۔ اور دوسرا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ کئی صدیوں تک یہ قوم خانہ جنگی کا شکار رہی۔ اسی خانہ جنگی میں ان کی حکومتیں تقسیم ہوتی رہیں اور پھر ایک دوسرے پر چڑھائی کے نتیجے میں حکومتیں مٹتی رہیں۔ نبی کریم ﷺ کے بعثت مبارکہ سے انھیں سنبھلنے کا موقع دیا گیا۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کی تاریخ مسلمانوں کی تاریخ بن گئی اور جو لوگ یہودیت پر قائم رہے موجودہ اسرائیل حکومت قائم ہونے سے پہلے ہمیشہ عیسائی حکومتوں کے ذریعہ ان کا قتل عام ہوتا رہا اور یہ اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں کبھی حکومتوں اور کبھی عوام کے غیظ و غضب کا نشانہ بنتے رہے۔ البتہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب بھی ان کو کبھی محفوظ اور مامون زندگی ملی ہے تو وہ ہمیشہ مسلمان حکومتوں میں ملی۔ لیکن یہ اپنی عقربی فطرت کے باعث ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہے۔ سجدہ کا مفہوم دوسری بات جو دوسری آیت کے ضمن میں قابل توجہ ہے وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے والدین اور بھائیوں کا سجدہ ریز ہونا ہے۔ بعض لوگوں نے اس سجدہ کو اصطلاحی سجدہ کے معنی میں لے کر غیر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدے کے جو ازکی دلیل بنایا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا خیال ہے جسے نرم سے نرم لفظوں میں کفر یا گمراہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں غیر اللہ کو سجدہ کرنے سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ روا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ جب ایک صحابی ( رض) نے جو حیرہ ریاست سے لوٹ کے آئے تھے، آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ﷺ ! میں نے دوسرے ممالک میں دیکھا ہے کہ لوگ اپنے حکمرانوں کو سجدہ کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم آپ ﷺ کو سجدہ کیا کریں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد کیا تم میری قبر کو سجدہ کرو گے۔ انھوں نے کہا ہرگز نہیں کیونکہ آپ ﷺ ہی نے اس سے منع فرمایا ہے۔ تو فرمایا کہ پھر اب مجھے سجدہ کیوں کرو گے۔ آپ ﷺ کے کہنے کا مطلب شاید یہ تھا کہ سجدہ اس ذات کے لیے جائز ہے جسے کبھی زوال نہیں، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ بعض لوگوں نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ جس سجدہ سے منع کیا گیا ہے وہ سجدہ عبادت ہے۔ لیکن جہاں تک سجدہ تعظیمی کا تعلق ہے وہ پہلی شریعتوں میں جائز رہا ہے۔ ہماری شریعت چونکہ مکمل شریعت ہے اور ہم پر اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کردیا ہے اس لیے اب ہر طرح کا سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ بائبل جو کہ پہلی شریعتوں کا مجموعہ ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ بابل کی اسیری کے زمانے میں جب اخسویرس بادشاہ نے ہامان کو اپنا امیرالامراء بنایا اور حکم دیا کہ سب لوگ اسے سجدہ تعظیمی بجالایا کریں تو مرد کی نے جو بنی اسرائیل کے اولیاء میں سے تھے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا۔ تلمود میں اس واقعہ کی شرح کرتے ہوئے اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ ” بادشاہ کے ملازموں نے کہا آخر تو کیوں ہامان کو سجدہ کرنے سے انکار کرتا ہے۔ ہم بھی آدمی ہیں مگر شاہی حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس نے جواب دیا تم لوگ نادان ہو کیا ایک فانی انسان جو کل خاک میں مل جانے والا ہے اس قابل ہوسکتا ہے کہ اس کی بڑائی مانی جائے۔ کیا میں اس کو سجدہ کروں جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ؟ کل بچہ تھا، آج جوان ہوا ہے۔ کل بوڑھا ہوگا اور پرسوں مرجائے گا۔ نہیں ! میں تو اس ازلی اور اور ابدی خدا ہی کے آگے جھکوں گا جو حیی وقیوم ہے … وہ جو کائنات کا خالق اور حاکم ہے میں تو بس اس کی تعظیم بجا لائوں گا اور کسی کی نہیں۔ “ یہ تقریر نزول قرآن سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایک اسرائیلی مومن کی زبان سے ادا ہوئی ہے اور اس میں کوئی شائبہ تک اس تخیل کا نہیں پایا جاتا کہ غیر اللہ کو کسی معنی میں سجدہ کرنا جائز ہے۔ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں سجدہ اصطلاحی سجدہ کے معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ محض جھکنے کے معنی میں آیا ہے۔ قدیم تہذیب میں یہ عام طریقہ تھا اور آج بھی بعض ملکوں میں اس کا رواج ہے کہ کسی کا شکریہ ادا کرنے یا کسی کا استقبال کرنے یا محض سلام کرنے کے لیے سینے پر ہاتھ رکھ کر کسی حد تک آگے کی طرف جھکتے تھے۔ اس جھکائو کے لیے عربی زبان میں سجدہ اور انگریزی میں ” BOW “ کے الفاظ استعمال کیے جاتے تھے۔ بائبل میں بکثرت اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق ایک جگہ لکھا ہے کہ انھوں نے اپنے خیمہ کی طرف تین آدمیوں کو آتے دیکھا تو وہ ان کے استقبال کے لیے دوڑے اور زمین تک جھکے۔ عربی میں اسی کو سجد الی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ممکن ہے اس آیت کریمہ میں بھی سجدے سے مراد زمین کی طرف جھکنا ہو، لیکن اگر کوئی شخص اس سجود سے اصطلاحی سجدہ ہی مراد لے جب بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ سجدہ بجائے خود شرک نہیں بلکہ شرک کے اشباہ و قوالب میں سے ہے اور یہ اشباہ و قوالب حتمی طور پر آخری اور کامل دین یعنی اسلام میں حرام قرار دیئے گئے ہیں۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بخشی اور باتوں کی تعبیر کے علم میں سے بھی سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور مجھے نیکوکاروں کے زمرہ میں شامل فرما۔

رَبِّ قَدْ اٰ تَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ج فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قف اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 101) (اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بخشی اور باتوں کی تعبیر کے علم میں سے بھی سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور مجھے نیکوکاروں کے زمرہ میں شامل فرما۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ادا شکر اور دعا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ تمام اہل دربار ان کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور آپ ( علیہ السلام) کے والدین اور بھائی بھی آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ موجود ہیں اور دور دور تک آپ ( علیہ السلام) کے حکم کے خلاف سر ہلانے والا کوئی نہیں، تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کی یہ بارش دیکھ کر آپ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی حمدو سپاس میں ڈوب گئے اور بندوں کی طرف سے رخ پھیر کر اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کرلیا اور عرض گزار ہوئے، اے میرے رب ! میں ایک بےبسی کی تصویر غلام بن کر اس شہر میں آیا تھا۔ تیری عنایت کا کیا کہنا کہ تو نے مجھے اس ملک کی حکومت عطا کی۔ تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر اور باتوں کی تہہ تک اترنے کا ملکہ سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، میں اس ملک کا حکمران ہو کر بھی اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا، تو ہی میرا کارساز اور میرا سرپرست ہے۔ تیری طاقت میرا سہارا ہے۔ مجھے تیری ذات پر بھروسہ ہے۔ میری زندگی اور موت تیرے قبضہ میں ہے۔ تو نے جس طرح مجھے زندگی میں نعمتیں بخشی ہیں اور اقتدار عطا کیا ہے مجھے اپنے فرمانبردار کی حیثیت سے دنیا سے لے جانا اور اپنی اطاعت گزاری پر میرا خاتمہ کرنا اور مجھے ان نیک لوگوں کے زمرے میں شامل فرمانا جن کا نام اور یاد بعد کے لوگوں میں تو نے باقی رکھی ہے۔ مسلم اور صالح کا لفظ عام نیک آدمی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انتہائی مقرب اور فرمانبردار لوگوں کے لیے بھی۔ یہ لفظ واحد ہے لیکن اس کے معنی اور مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ اور اس کا مصداق جہاں اللہ تعالیٰ کا ہر فرمانبردار بندہ ہے وہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ لوگ بھی ہیں۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ سرگزشت غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تمہاری طرف وحی کررہے ہیں۔ اور تم تو ان کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب انھوں نے ایک رائے پر اتفاق کیا اور وہ سازش کررہے تھے۔

ذٰلِکَ مِنْ اَمنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ ج وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ اَجْمَعُوْ ٓا اَمْرَھُمْ وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 102) (یہ سرگزشت غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تمہاری طرف وحی کررہے ہیں۔ اور تم تو ان کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب انھوں نے ایک رائے پر اتفاق کیا اور وہ سازش کررہے تھے۔ ) آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کی دلیل حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کی یہ سرگزشت آپ ﷺ سے ہزاروں سال پہلے کی ہے۔ جب برادرانِ یوسف آپ ( علیہ السلام) کیخلاف باہم مشورہ کررہے تھے اور کوئی قتل کا مشورہ دے رہا تھا اور کوئی کنویں میں پھینکنے کا۔ تو بالآخر وہ اپنی ایک رائے پر جمع ہوگئے کہ انھیں کنویں میں پھینک دیا جائے۔ اور یہ درحقیقت ایک سازش تھی کہ انھیں ختم کردیا جائے تاکہ باپ کی تمام توجہ ہماری طرف ہوجائے۔ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو اے پیغمبر آپ تو ان کے پاس نہیں تھے کہ آپ ﷺ جان سکتے کہ انھوں نے کیا مشورے کیے اور کیا فیصلہ کیا۔ یہ تو بالکل ایک ایسی داستان ہے جو آپ ﷺ کے احاطہ علم سے باہر کی چیز ہے۔ اگر جو اس کا ذکر بائبل میں کیا گیا ہے لیکن آپ ﷺ چونکہ امی محض ہیں، آپ ﷺ لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ اس لیے آپ ﷺ اسے پڑھ کر بھی معلوم نہیں کرسکتے تھے اور عرب کے رہنے والے بھی ان باتوں سے قطعاً ناواقف تھے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کی تاریخ سے عربوں کو کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔ اس کے باوجود آپ نے ان کے سوال کرنے پر ایک ہی نشست میں ان کے سامنے جس طرح تاریخ کے کئی ابواب کھول کر رکھ دیئے ہیں۔ کتنی باتیں ہیں جس میں آپ نے بائبل کی اصلاح کی ہے۔ اور کتنے حکمت کے موتی ہیں جن سے بائبل خاموش ہے۔ اور آپ ﷺ نے خاص طور پر ان پر زور دیا ہے۔ یہ آپ ﷺ کی نبوت کی ایک واضح اور روشن دلیل ہے کہ ادھر قریش نے آپ ﷺ سے سوال کیا اور ادھر آپ ﷺ نے سوال کے جواب میں حیرت انگیز طور پر تاریخ کھول کر ان کے سامنے رکھ دی جبکہ پورے جزیرہ عرب میں اس کا جاننے والا کوئی نہ تھا اور کتنی ہی باتیں آپ ﷺ نے ایسی بیان کیں جس سے بائبل خاموش تھی یا اس کا بیان غلط تھا۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں، اگرچہ آپ ﷺ ان کے ایمان کی کتنی ہی حرص کریں۔

وَمَآ اَکْثَرُالنَّاسِ وَلَوْحَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 103) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی کتنی ہی حرص کریں۔ ) گزشتہ آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب جبکہ قریش کو اپنے سوال کا مسکت جواب مل گیا ہے تو اب ان کے ایمان لانے میں کیا تاخیر ہوسکتی ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا جارہا ہے اور یہ بجائے خود آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کہ اس صورتحال کے تقاضے کچھ بھی ہوں لیکن ہم آپ ﷺ کو بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کی اکثریت اب بھی ایمان نہیں لائے گی۔ سورة یوسف ( علیہ السلام) کا ایک ایک لفظ ان کے ایمان کا تقاضا کرتا ہے اور آپ کی نبوت کے لیے حجت ہے۔ اور خود آپ ﷺ کی خواہش اور حرص ان کے ایمان کے لیے دعا گو ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا وسیع علم آپ ﷺ کو خبر دے رہا ہے کہ ان کی اکثریت اب بھی ایمان نہیں لائے گی۔ کیونکہ ان کے اندر کی قبولیتِ ایمان کی صلاحیت مرچکی ہے۔ وہ اس کی حقانیت کو جانتے ہیں لیکن ماننے سے محروم ہیں۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ ﷺ ان سے اس ( تبلیغ و دعوت) پر کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کررہے ہو۔ یہ تو بس دنیا والوں کے لیے ایک یاددہانی ہے۔

وَمَا تَسْئَلُھُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ط اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 104) (اور آپ ان سے اس ( تبلیغ و دعوت) پر کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کررہے ہو۔ یہ تو بس دنیا والوں کے لیے ایک یاددہانی ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ کے لیے اس میں پریشانی کی کیا بات ہے کیونکہ آپ ﷺ تو ایمان کی نعمت مفت بانٹ رہے ہیں اور ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کررہے ہیں۔ وہ اگر اسے قبول نہیں کرتے تو وہ خود اللہ تعالیٰ کے دین سے محروم رہیں گے اور دنیا اور آخرت میں اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔ آپ ﷺ کوئی کاروبار تو نہیں کررہے ہیں کہ آپ ﷺ کا کاروبار خسارے کا شکار ہوجائے گا اور آپ ﷺ کے معاوضے میں کمی آجائے گی۔ نبی کی حیثیت سے آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کا دین ان تک پہنچائیں، سو آپ ﷺ نے اس میں تو کوئی کمی نہیں کی۔ اب اگر وہ قبول نہیں کرتے ہیں تو اس کا خمیازہ وہ خود بھگتیں گے، آپ ﷺ کو اس میں دل گرفتہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اس حال میں کہ ان سے اعراض کررہے ہوتے ہیں۔

وَکَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا وَھُمْ عَنْہَا مُعْرِضُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 105) (آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اس حال میں کہ ان سے اعراض کررہے ہوتے ہیں۔ ) مشرکین کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب گزشتہ رکوع کے اختتام پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات بھی اختتام کو پہنچ گئے۔ سوال بنی اسرائیل اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تھا۔ اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اسی رکوع کے اختتام پر سورة یوسف ( علیہ السلام) ختم کردی جاتی لیکن مزید ایک رکوع کا اضافہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ قرآن کریم انبیائے کرام کے واقعات یا تاریخی قصص کو تاریخ کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ یہ کتاب ہدایت ہے اور اس میں آنے والی ہر بات انسانوں کی ہدایت کے لیے ہوتی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سرگزشت ازاول تا آخر عبرت و موعظت کا مرقع ہے۔ واقعات کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ اس کی ایک ایک سطر بولتی ہوئی نصیحت ہے۔ چناچہ اسی تناظر میں واقعات کے اختتام کے بعد ایک رکوع کا اضافہ صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ واقعات بیان کیے گئے ہیں انھیں مزید اجاگر کیا جائے اور قرآن کریم کا جو اصل مقصد ہے اس کو ذہنوں میں اتارنے کی کوشش کی جائے۔ چناچہ اس حوالے سے جب ہم سورة یوسف ( علیہ السلام) پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سرگزشت اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت، اس کی مشیت اور اس کی حکمت کا مجموعہ ہے جس میں قدم قدم پر محسوس ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے توکل پر اور اس کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ کی نصرت کس طرح اس کو تھام لیتی ہے اور مصائب کے ہجوم میں کس طرح اس کی دستگیری کرتی ہے۔ اہل دنیا یہ سمجھتے ہیں کہ اس شخص کو دنیا نے دھتکار دیا ہے لیکن اس وقت اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہی دھتکارا ہوا شخص کامرانیوں کی منازل طے کرتا ہوا تخت و تاج کا مالک ٹھہرتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی داستان اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایسی ہی نشانیوں سے بھرپور ہے جو قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی بےکراں قدرت اور اس کی الوہیت پر ایسے دلائل سے مرصع ہے جس کے بعد پیغمبر کی دعوت کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ لیکن جب تاریخ کا طالب علم یہ دیکھتا ہے کہ اہل مکہ نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے کانوں سے سنا لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ وہ اپنے کفر اور شرک میں جس طرح پہلے گڑے ہوئے تھے اس میں کہیں دراڑ واقع نہ ہوئی تو سوچنے والا دماغ سُن ہو کر رہ جاتا ہے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے کہ یہ اتنی عظیم نشانیاں ان پر اثرانداز کیوں نہیں ہوتیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی بات کا جواب دیا گیا ہے کہ تم جن لوگوں کو بظاہر دیکھتے ہو کہ وہ آنکھیں کھول کھول کر نشانیوں کو دیکھتے ہیں۔ نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر انھیں اپنے کانوں سے سنتے ہیں لیکن ان کی روش میں کوئی تغیر نہیں آتا تو اس کا سبب اصل میں یہ ہے کہ وہ ظاہر میں تو نشانی کو دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت پر غور کرنے کی زحمت کبھی نہیں کرتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کو ایک چیز سمجھتے ہیں اور چیز کے سراپا میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو ایک نشانی نہیں سمجھتے کہ وہ حقیقت کی طرف سفر کرنے کی کوشش کرتے۔ دیکھنے کو تو جانور بھی دیکھتا ہے اور وہ ہر چیز کے مصرف کو بھی جانتا ہے۔ ایک گائے چارے کو دیکھتی ہے تو یہ جانتی ہے کہ چارہ پیٹ بھرنے کے لیے ہوتا ہے۔ چناچہ وہ اسے کھا کر فارغ ہوجاتی ہے لیکن انسان اور حیوان کے دیکھنے میں فرق ہونا چاہیے۔ حیوان صرف اپنے حواس سے کام لیتا ہے اور حواس کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ ہر چیز کا مصرف واضح کردے۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے حواس کے ساتھ ساتھ سوچنے والا دماغ اور گہرائی میں اترنے والی عقل بھی عطا کی ہے۔ اگر یہ عقل خواہشات نفس کی اسیر ہوکرنہ رہ جائے اور اس پر مفادات کی چادر نہ تان دی جائے تو یہ ہر چیز کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گلاب کا پھول دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ہاتھوں کا لمس اس کی نزاکت اور ملائمت کو محسوس کرکے جھوم اٹھتا ہے۔ نگاہ اس کے رنگ میں ڈوب جاتی ہے اور قوت شامہ اس کی خوشبو کی داد دیتی ہے لیکن اس پھول کے پیچھے کوئی حقیقت بھی کارفرما ہے یا نہیں، حواس اس کے بارے میں کوئی رہنمائی نہیں کرتے اور جس نے اپنی عقل کو نارسائی کی زنجیریں پہنا رکھی ہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہ سمجھتا ہے کہ اس سے گل قند تیار کی جاسکتی ہے تاکہ قوت ہضم میں معاون ہو۔ لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے حقیقت شناس بنایا ہے وہ صرف اس کی نزاکت، اس کے رنگ اور اس کی خوشبو ہی میں محدود نہیں رہتاوہ سوچتا ہے کہ جس چیز کی نزاکت، رنگ اور خوشبو مجھے حیران کیے دے رہی ہے اس کا پیدا کرنے کا والا کس شان کا مالک ہوگا۔ وہ پھول سے آگے بڑھ کر پھول کو پیدا کرنے والے کے بارے میں سوچتا ہے۔ اہل مکہ کا بھی اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقیقت شناسی کی صلاحیت سے محروم ہوچکے تھے۔ وہ ہر چیز کو نشانی کے طور پر نہیں، چیز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ بڑی سے بڑی نشانی پر سے گزرتے ہیں لیکن اس کی حقیقت پر غور کرنے کی زحمت کبھی نہیں کرتے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کا شکار افراد بھی ہوتے ہیں اور اقوام بھی۔ اگر اس کی فکر نہ کی جائے تو افراد ہی نہیں اقوام بھی اپنی منزل سے دور ہٹتی چلی جاتی ہیں۔ اقبال ( رح) نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا : اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس مرض کا شکار صرف عوام نہیں ہوتے بلکہ اہل علم اور اہل دانش بھی ہوتے ہیں۔ اور آج کے دور میں جن قوموں کو علم و دانش میں ترقی کا بڑا دعویٰ ہے وہ اس ظاہر بینی اور سطح پرستی کا زیادہ شکار ہیں۔ تباہ شدہ بستیاں، ناگہانی حوادث کا شکار قومیں ترقی یافتہ قوموں کی ہدف بنی ہوئی ہیں۔ ان کی کھدائیاں ہورہی ہیں، ہر پتھر کے پیچھے جھانکنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہر ٹوٹے ہوئے برتن کی کھال ادھیڑی جارہی ہے لیکن ان تمام کاوشوں کے پیچھے صرف یہ فکر کارفرما ہے کہ ان کا کلچر تلاش کیا جائے۔ اس سے کوئی غرض نہیں کہ انھیں عبرت کا موضوع بنایا جائے۔ ہمارا یہ ملک جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر لیا گیا ہے یہاں بھی موہنجوڈارو اور ہڑپہ میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ انور مسعود نے ٹھیک کہا : عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی کلچر نکل پڑا ہے ٹنوں کے حساب سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو معرفتِ حق کی دولت کیسے ملی ؟ کہا شہتوت کے پتے سے۔ سائل نے حیران ہو کر کہا وہ کیسے ؟ آپ ( رض) نے فرمایا کہ بکری شہتوت کے پتے شوق سے کھاتی ہے اور مینگنیاں کردیتی ہے۔ ہرن شہتوت کے پتے سے غذا حاصل کرتا ہے تو اس کی ناف سے کستوری نکلتی ہے اور ریشم کا کیڑا شہتوت کا پتا کھاتا ہے تو ریشم بنتا ہے۔ اگر شہتوت کے پتے میں کوئی ذاتی صلاحیت ہوتی تو وہ ہر جگہ مینگنیاں بن جاتا یا کستوری اور یا ریشم۔ لیکن وہ کہیں کستوری بنتا ہے اور کہیں ریشم۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو حقیقی شکلیں دینے والا کوئی اور ہاتھ ہے جو ان کے پیچھے کارفرما ہے، وہی ہاتھ میرے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ دیکھ لیجیے کہ حضرت علی ( رض) نے شہتوت کے پتے سے اپنے رب کو پہچانا۔