12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsروح القرآن

Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف ( علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب قیدخانہ کی صعوبتیں مجھے زیادہ پسند ہیں اس گناہ سے جس کی طرف لوگ مجھے بلاتے ہیں اور اگر تو نے ان کے چرتر کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہوجائوں گا اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے ہوجائوں گا۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَیْہِ ج وَالِاَّ تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَھُنَّ اَصْبُ اِلَیْھِنَّ وَاَکُنْ مِّنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 33) (یوسف ( علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب قیدخانہ کی صعوبتیں مجھے زیادہ پسند ہیں اس گناہ سے جس کی طرف لوگ مجھے بلاتے ہیں اور اگر تو نے ان کے چرتر کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔ ) چند حقائق اس آیت کریمہ میں پہلی ہی نظر میں چند حقیقتیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں جن میں سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ ایک مومن کا مزاج جو ایمان و عمل کے سائے میں تیار ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی گناہ سے کمپرومائز نہیں کرتا۔ ایک طرف گناہ کے بہکاوے اور خوش عیشیاں ہوں اور دوسری طرف تکلیفیں منہ کھولے کھڑی ہوں تو ایک مومن گناہ سے سازگاری کی بجائے تکلیف کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اپنے اللہ تعالیٰ سے تکلیف یا آزمائش کبھی نہیں مانگنی چاہیے لیکن اگر گناہ سے بچنے کے لیے تکلیف کے راستے کے لیے بھی دعا کرنی پڑے تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اہل دنیا ہزار سمجھائیں کہ دیکھو اس برائی کے ذریعے تم ایک روشن مستقبل کے مالک بن سکتے ہو اور انکار کی صورت میں تمہارا سب کچھ تباہ ہوسکتا ہے، لیکن ایک مومن کے لیے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ گناہ کا راستہ اختیار کرے چاہے اس کی کچھ بھی قیمت دینی پڑے۔ وہ طریقہ جو ہمارے شعرا اور ادیبوں نے اختیار کیا ہے کہ گناہ کی ترغیبات اور گناہ کے محرکات کی موجودگی کو گناہ کے جواز کی دلیل بنا لیتے ہیں ایک مومن کے مزاج میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہاں دیکھ لیجیے کہ زلیخا نے گناہ نہ کرنے کی صورت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل جانے کی دھمکی دی تو انھوں نے اپنے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے جیل کی سختیاں گناہ کی لذتوں سے ہزار درجہ زیادہ پسند ہیں لیکن ہمارے نیک نام شعرا کا عالم یہ ہے کہ وہ حسن و شباب کو اس طرح کی غذا فراہم کرتے ہیں جس سے گناہ کی رغبت بڑھتی ہے۔ ہمارے ایک مقبول شاعر کے اشعار ہیں : حسین جلوہ ریز ہوں ادائیں فتنہ خیز ہوں ہوائیں عطر بیز ہوں تو شوق کیوں نہ تیز ہوں نگار ہائے فتنہ گر کوئی ادھر کوئی اُدھر ابھارتے ہوں عیش پر تو کیا کرے کوئی بشر لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ایسے حالات میں بھی بشر کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ گناہ پر لعنت بھیجے اور اس کی خاطر جیل بھی جانا پڑے تو سنت یوسفی کو زندہ کرے۔ دوسری حقیقت جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ گھروں کی بیگمات اس وقت وہ زبان بولتی ہیں جو زبان زلیخا بول رہی ہے اور وہ رویہ اختیار کرتی ہیں جو زلیخا اختیار کرچکی ہے۔ جب اس قوم کی سوسائٹی اور اس کا معاشرہ گناہ میں ڈوب چکا ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں ہر گھر میں زلیخا پیدا ہوجاتی ہے۔ گھروں کے دروازے برائی کے لیے کھل جاتے ہیں۔ گناہ کی دعوت کسی ایک زلیخا کی طرف سے نہیں بلکہ ہر گھر، ہر ادارے اور ہر ذریعہ ابلاغ سے گونجنے لگتی ہیں۔ ایسے معاشرے میں رفتہ رفتہ گناہ کی کھٹک اور کسک دم توڑ جاتی ہے۔ حکومت کے عمال بھی اس گناہ کے داعی بن جاتے ہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں باوجود اس کے کہ بات زنان مصر کی ہورہی ہے لیکن صیغہ جمع مذکرغائب کا لایا جارہا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بات ایک گھر کی نہیں یا صرف بیگمات کی نہیں بلکہ پورا معاشرہ اس آگ میں جل رہا ہے۔ اس آیت کو دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے مسلمان نوجوانوں کے لیے سنت یوسفی یہ ہے کہ برائی کی دعوت کسی صورت اور کسی طرف سے بھی دی جارہی ہو، وہ کھل کے اور ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات کہیں کہ ہم مومن ہیں، ہم اس راستے پہ نہیں چل سکتے اور اگر اس کے لیے ہمیں جیل بھی جانا پڑے تو ہم سنت یوسفی کو زندہ کرتے ہوئے جیل جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیل کی تیزی کو مضبوط بند ہی روک سکتا ہے، معمولی رکاوٹیں نہیں روک سکتیں۔ اسی طرح جب برائی سیل کی صورت اختیار کرجائے تو پھر جوانوں کے بےروک جذبے ہی اس کا راستہ روک سکتے ہیں، معمولی نصیحتوں سے برائی کے سیلاب کبھی نہیں رکتے۔ اس آیت کے دوسرے جملے سے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا کا دوسرا حصہ ہے اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرد مومن جس طرح کسی برائی سے سازگاری پیدا نہیں کرتا اور وہ ہر شیطانی ترغیب کے سامنے مضبوط دیوار بن کے کھڑا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی ذات اور اپنی نیکی کے پندار میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کی ذات پر نیکی کا رنگ جتنا گہرا ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ برائی کی ترغیبات کے مقابلے میں جس قدر ثابت قدم رہتا ہے اسی حد تک بلکہ اس سے بڑھ کر اس کے اندر انکساری اور عاجزی آتی چلی جاتی ہے۔ اسے اپنی بشری کمزوریوں کا احساس روز بروزبڑھتا جاتا ہے۔ اس کے یقین میں اضافہ ہوتا جاتا ہے کہ میں اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں۔ اگر مجھ سے کوئی نیکی کا کام ظہور پذیر ہوا ہے یا میں کسی برائی کی ترغیب کا مقابلہ کرسکا ہوں تو یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سوچ کا انداز ہمیشہ یہ ہوتا ہے : کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا جو ہوا، ہوا کرم سے تیرے جو ہوگا ترے کرم سے ہوگا
Ayahs 12:34–35

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور دور کردیا اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو، بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کو یہ سوجھی کہ ایک مدت کے لیے اسے قید کردیں حالانکہ وہ صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ )

فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ ط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (سورۃ یوسف : 34) (تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور دور کردیا اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو، بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گزشتہ آیت کریمہ میں جو دعا مانگی تھی کہ الٰہی ان عورتوں کے مکر و فریب سے مجھے نجات دے دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا۔ جب تک وہ باہر رہے، اللہ تعالیٰ نے انھیں استقامت عطا فرمائی اور جب انھیں جیل بھیج دیا گیا تو اب جیل کی دیواریں ان کی پاکدامنی کی دیواریں بن گئیں۔ ثُمَّ بَدَا لَھُمْ مِّنْ م بَعْدِمَارَااَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیْن۔ (سورۃ یوسف : 35) (پھر ان لوگوں کو یہ سوجھی کہ ایک مدت کے لیے اسے قید کردیں حالانکہ وہ صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ ) جب مصر کے سربرآوردہ اشراف نے دیکھا کہ ہر گھر میں یوسف ( علیہ السلام) کے چرچے ہورہے ہیں اور ہر خاتون کی زبان پر اس کے حسن کی داستانیں ہیں اور ہر تعلیم یافتہ اور مہذب خاتون کسی نہ کسی طرح یہ چاہتی ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) سے راہ و رسم پیدا کرے اور ادھر زلیخا کے ہیجان میں بھی کوئی فرق پیدا نہیں ہورہا تو باوجود اس کے کہ سوسائٹی کے تمام بڑے افراد یوسف ( علیہ السلام) کی پاکدامنی اور اپنی بیگمات کی آوارہ نگاہی کی علامتیں جابجا دیکھ چکے تھے اور انھیں یقین تھا کہ یوسف ( علیہ السلام) ہر لحاظ سے بےگناہ ہے اور محض ان کی بدنامی کے لیے ان کے چرچے کیے جارہے ہیں تاکہ وہ ہمارے راستے پر چل نکلے۔ انھوں نے اسی میں عافیت سمجھی کہ یوسف ( علیہ السلام) کو ایک عرصے کے لیے جیل بھیج دیا جائے تاکہ آہستہ آہستہ صورتحال خودبخود سکون پذیر ہوجائے۔ لوگ رفتہ رفتہ اس قصے کو بھول جائیں گے اور زلیخا کا ہیجان بھی وقت کے ساتھ ساتھ سکون پذیر ہوجائے گا۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ایک غیرمعین عرصہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

( اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، آپ ہمیں اس کی تعبیر بتایئے، بیشک ہم آپ کو محسنین میں سے سمجھتے ہیں۔

وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ ط قَالَ اَحَدُھُمَآ اِنِّیْ ٓ اَرٰنِیْ ٓ اَعْصِرُخَمْرًا ج وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْ ٓ اَرٰنِیْ ٓ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْکُلُ الطَّیْرُمِنْہُ ط نَبِّئْنَا بِتَاوِیْلِہٖ ج اِنَّا نَرٰکَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 36) ( اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، آپ ہمیں اس کی تعبیر بتایئے، بیشک ہم آپ کو محسنین میں سے سمجھتے ہیں۔ ) آزمائشوں کا تیسرا دور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جیل جانے سے آپ ( علیہ السلام) کی آزمائشوں کا تیسرا دور شروع ہوا۔ پہلا دور آپ ( علیہ السلام) کے لیے بےبسی اور کسمپرسی کا دور تھا جس میں آپ ( علیہ السلام) کو بیچا گیا، آپ ( علیہ السلام) پر غلامی کا داغ لگا لیکن آپ ( علیہ السلام) نے نہایت خاموشی سے اس دور کی ایک ایک کلفت کو برداشت کیا۔ دوسرا دور آپ ( علیہ السلام) کی سیرت و کردار کا امتحان تھا۔ آپ ( علیہ السلام) مسلسل کئی سال تک ایک طرف حالات کو سمجھنے میں زندگی کے نشیب و فراز پہچاننے اور انسانوں سے معاملہ کرنے کی سمجھ بوجھ پیدا کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ وقت کے ساتھ ساتھ گناہ کی ترغیبات بھی آپ ( علیہ السلام) کی طرف دراز ہوتی گئیں۔ آپ ( علیہ السلام) کی بھرپور جوانی اور آپ ( علیہ السلام) کا ملکوتی حسن آپ ( علیہ السلام) کے لیے بہت بڑی آزمائش ثابت ہوا جس کے خریداروں میں صرف زلیخا ہی نہیں مصر کے معزز گھرانوں کی دیگر بیگمات بھی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد سے آپ ( علیہ السلام) اپنے شرم و حیا کے تقاضوں کے مطابق نہایت استقامت کے ساتھ وقت گزارتے رہے حتیٰ کہ اسی پاکدامنی کی سزا کے طور پر آپ ( علیہ السلام) کو جیل بھیج دیا گیا۔ جیل کے دو ساتھی جس جیل میں آپ کو رکھا گیا تھا اس میں دو مزید نوجوان آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ ہی جیل میں داخل ہوئے۔ قرآن کریم نے اس کی تصریح نہیں کی کہ یہ دو نوجوان کون تھے، لیکن بائبل اور تلمود وغیرہ کی روایات سے مختلف باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ کہیں تو یہ کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک بادشاہ کی مجلسِ نائونوش اور عیش و طرب کا نگران تھا اور دوسرا سرکاری مہمان خانے کا انچارج تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ ان دونوں میں سے ایک شاہ مصر کے ساقیوں کا سردار تھا اور دوسرا شاہی نانبائیوں کا افسر۔ یہ دونوں کس قصور میں جیل بھیجے گئے تھے، اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ بادشاہ کے خلاف ایک سازش تیار ہوئی تھی جس میں پیش نظر یہ تھا کہ بادشاہ کو کسی تقریب میں زہر دے دیا جائے اور یہ دونوں نوجوان بھی اس سازش میں شریک تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایک دعوت کے موقع پر روٹیوں میں کچھ کر کر اہٹ پائی گئی اور شراب کے ایک گلاس میں مکھی نکل آئی۔ اس جرم میں دونوں کو قیدخانہ میں بھیج دیا گیا۔ جیل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت کا احترام قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دونوں نوجوان چند سال تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جیل میں رہے اور شب و روز آپ ( علیہ السلام) کے معمولات دیکھنے کا موقع ملا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں جس طرح کثرت سے عبادت کرتے تھے اسی طرح قیدیوں کے معاملات میں بھی دلچسپی لیتے تھے۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور ہر مشکل وقت میں کام آنے کی کوشش کرتے۔ کوئی قیدی بیمار ہوجاتا تو اس کی تیمارداری میں کوئی کمی نہ چھوڑتے اور جیل کے انتظامات کی بہتری میں بھی آپ ( علیہ السلام) ہمیشہ جیل کے عمال کا ساتھ دیتے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) کی خدمت خلق، آپ کی عبادت گزاری اور آپ ( علیہ السلام) کی خدا خوفی کی اس قدر شہرت تھی کہ سب قیدی اور جیل کے حکام آپ ( علیہ السلام) کو نہایت پارسا اور خدا رسیدہ سمجھتے تھے۔ بائبل میں ہے کہ قیدخانے کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یوسف ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں سونپا اور جو کچھ وہ کرتے تھے، اسی کے حکم سے کرتے تھے اور قیدخانے کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اس کے ہاتھ میں تھے بےفکر تھا۔ (پیدائش : 39، 22، 23) حقیقت یہ ہے کہ گلاب کا پھول ویرانے میں ہو یا باغ میں، وہ اپنی خوشبو سے ہمیشہ پہچانا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بھی مور کی طرح ہوتے ہیں، وہ جہاں بھی پر پھیلا دیتے ہیں وہیں حسن آرائی ہوجاتی اور نیکیوں کی بہار آجاتی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) اور اہل مصر کی اصلاح کے لیے اٹھنے والے تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ جس ماحول میں بھی رہیں، ماحول ان کی خوبیوں سے ناآشنا رہے۔ چناچہ ان نوجوانوں کا یہ کہنا کہ ہم آپ کو محسنین میں سے سمجھتے ہیں، آپ کی عظمت، دیانت اور سچائی کا اعتراف تھا۔ دونوں نے خواب دیکھا، دونوں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو خواب میں شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اچک اچک کر روٹیاں کھا رہے تھے۔ آپ ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتلا دیجیے چونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے نہایت نیک بندے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بعض دفعہ ایسی سمجھ عطا فرماتا ہے کہ وہ خواب کی تعبیر معلوم کرلیتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کوئی پیشہ ور نجومی ہیں نہ ماہر علم افلاک۔ لیکن آپ سے عقیدت کے باعث وہ یہ خیال کر رہے تھے کہ جس طرح کا علم وتقویٰ اللہ تعالیٰ نے انھیں دے رکھا ہے، کوئی بڑی بات نہیں کہ وہ علم تعبیر سے بھی آشنا ہوں۔
Ayahs 12:37–38

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ علم ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں۔

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمیں حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائیں، یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے، لیکن اکثر لوگ شکرگزار نہیں ہوتے۔

قَالَ لاَ یَاْ تِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰـنِہٖٓ اِلاَّ نَبَّاْتُکُمَا بِتَاْوِیْلِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّا تِیَکُمَا ط ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ ط اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لاَّیُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبُآئِ یْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ط مَاکَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِنْ شَیٌ ئٍ ط ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلیَ النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَیَشْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 37، 38) (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ علم ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں۔ میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمیں حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائیں، یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے، لیکن اکثر لوگ شکرگزار نہیں ہوتے۔ ) خوابوں کی تعبیر سے پہلے اپنا تعارف حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دونوں نوجوانوں کے خواب سن کر یہ فرمایا کہ میں تمہیں خوابوں کی تعبیر بتلائوں گا لیکن تمہیں کچھ دیر انتظار کرنا ہوگا۔ رہی یہ بات کہ انتظار کتنی دیر تک کرنا ہوگا، آپ ( علیہ السلام) نے اس کی ایک مدت مقرر کردی تاکہ نوجوان جو اپنے خواب کی وجہ سے پریشان ہیں، ان کی پریشانی میں کمی ہوجائے اور جیل کی زندگی میں چونکہ حوالہ دینے کی چیزیں بہت کم ہوتی ہیں، اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے اس چیز کا حوالہ دیا جو تمام قیدیوں کی روزانہ زندگی کا معمول تھا۔ یعنی تمہیں جیل کی طرف سے جو کھانا دیا جاتا ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ وہ کس وقت دیا جاتا ہے اس سے پہلے پہلے میں تمہیں تعبیر بتادوں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) دیکھ رہے ہیں کہ دونوں نوجوان آپ ( علیہ السلام) کی عقیدت سے سرشار ہیں اور ساتھ ہی اپنے خوابوں کی وجہ سے پریشان بھی۔ عقیدت نے ان کے اندر حضرت یوسف (علیہ السلام) پر اعتماد پیدا کیا ہے۔ اور پریشانی نے ضرورت پیدا کردی ہے۔ جہاں یہ دونوں چیزیں جمع ہوجائیں، وہاں یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ بات کہنے والے کی بات پر توجہ نہ دی جائے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے پیغمبرانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور ان دونوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتانے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ ان کی زندگی کے لیے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ انھیں بتائی جائے۔ آپ ( علیہ السلام) چونکہ پہلی دفعہ ان دو نوجوانوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کا دین پیش کررہے تھے اس لیے نہایت ضروری تھا کہ سب سے پہلے اپنا تعارف کرواتے اور جس علم کی وجہ سے ان دونوں نوجوانوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے خاص تعلق پیدا ہوا تھا اس کے اصل ماخذ بیان کرتے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ جس علم کی مدد سے میں تمہیں تمہارے خوابوں کی تعبیر بتلائوں گا یہ علم ان علوم میں سے ہے جس کی تعلیم مجھے میرے رب نے دی ہے۔ یہ علم انسانی واسطوں سے نہیں ملتا، اس کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ یہ علم انھیں عطا کرتا ہے جنھیں وہ رسالت و نبوت سے نوازتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں اس بات کا یقین کرلینا چاہیے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں اور اسی وجہ سے میں تمہیں خوابوں کی تعبیر بتائوں گا۔ لیکن اس کے لیے انتہائی ضروری یہ ہے کہ آدمی ان لوگوں سے ترک تعلق کرے اور ان راہوں پر چلنے سے اجتناب کرے جن راہوں پر وہ لوگ چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے۔ مجھے جو اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ان تمام لوگوں سے اپنا تعلق توڑ لیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انھیں اس بات سے بھی انکار ہے کہ کبھی آخرت بھی آئے گی، قیامت بھی بپا ہوگی اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کرنا ہوگی۔ تو جو شخص نہ آخرت کو تسلیم کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے اس کی حیثیت ایک خودرو پودے کی ہے جو زمین سے خودبخود اگتا ہے اور آنے جانے والوں کے پائوں میں مَل دَل کے ختم ہوجاتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے یہ کوئی خودرو پودا نہیں۔ اس کی زندگی کے کچھ مقاصد ہیں۔ ان ہی کے حوالے سے قیامت کے دن بازپرس ہوگی۔ کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے انعام سے نوازا جائے گا اور ناکامی پر جہنم میں جانا پڑے گا۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے ان کے نزدیک یہ تصور ناقابل قبول ہے کہ کبھی ایک ایسا دن بھی آئے گا جب اپنے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ میں چونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور آخرت میں جوابدہی سے ڈرتا ہوں اس لیے میں نے ایسے تمام لوگوں سے تعلق توڑ لیا ہے جو نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کو مانتے ہیں۔ میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے کہ مجھے زندگی اس طرح گزارنی ہے جو ایمان باللہ کا تقاضا ہے اور جس سے آخرت میں جوابدہی آسان ہوجائے۔ توحید کا تقاضا بےایمان لوگوں سے ترک تعلق دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ میں نے بےایمان لوگوں سے ترک تعلق کرکے اس ملت کا راستہ اختیار کیا ہے جو حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کہلاتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنا تعارف کرایا ہے کہ میرا تعلق ملت ابراہیم سے ہے اور میں اس عظیم خاندان کی ایک کڑی ہوں۔ یہ مت سمجھو کہ میں اللہ تعالیٰ کے دین کی بات کرکے کوئی نئی بات کہہ رہا ہوں بلکہ یہ وہی بات ہے جو میرے بزرگ اور میرے آبائواجداد اہل دنیا جن کے نام سے واقف ہے کہتے رہے ہیں۔ اور کوئی تعجب کی بات نہیں کہ یہ دونوں نوجوان بھی ان بزرگوں کے ناموں سے واقف ہوں۔ توحید کی تاریخی عظمت کو واضح کرنے کے بعد ایک ایسی بات فرمائی جو عقل و حکمت کا تقاضا ہے کہ جہاں تک توحید کا تعلق ہے یہ ایسی بات ہے جو دنیا کے لیے نئی نہیں۔ اس لیے یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا خالق ومالک ہے۔ وہی ہمیں رزق دیتا ہے، اسی نے زندگی کے امکانات پیدا کیے ہیں، قدم قدم پر جس کی قدرت اور حکمت کے شواہد موجود ہیں، ساری کائنات اسی سے اپنی زندگی کی بھیک مانگتی ہے، لیکن جہاں تک شرک کا تعلق ہے جسے لوگوں نے اپنا رکھا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک کیا جارہا ہے اور کہیں اس کی صفات اور حقوق میں، حالانکہ جس شخص کے دماغ میں تھوڑی سی عقل بھی ہے اور وہ آفاق وانفس کے دلائل کو سمجھ سکتا ہے تو وہ اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہوسکتا ہے اور کسی میں وہ صفات بھی ہوسکتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں اور کوئی مخلوق پر ویسے حقوق کا دعویٰ کرسکتا ہے جو حقوق اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ یہ سراسر ایک انہونی خلاف فطرت اور عقل کے خلاف بات ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ میرے اور میرے آبائواجداد نے کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ شرک کی کسی شکل میں بھی کبھی ملوث نہیں ہوئے۔ لیکن اکثر لوگ بجائے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکر ادا کرنے کے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ انسانوں پر اس کے فضل و احسان کا حال یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو وہ تمام صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں جن سے وہ توحید اور شرک میں فرق کرسکتا ہے۔ دلائلِ آفاق وانفس کو سمجھ سکتا ہے اور اس سے نتائج بھی اخذ کرسکتا ہے۔ اور مزید کرم اس کا یہ ہے کہ وہ زبردستی کسی پر ہدایت نہیں ٹھونستا، اپنی عقل استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے اور جو باتیں عقل سے بالا ہیں ان میں رہنمائی کے لیے اپنے رسول ( علیہ السلام) مبعوث کرتا اور اپنی کتابیں اتارتا ہے۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے احسانات پر شکر ادا کرنے کی بجائے شرک کا راستہ اختیار کرکے اس کی ناشکری کرتے ہیں۔
Ayahs 12:39–40

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے۔

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم اسے چھوڑ کر بندگی نہیں کرتے ہو، مگر چند ناموں کی جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اختیار و اقتدار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

یٰـصَاحِبْیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُالْقَھَّار۔ ط مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلاَّ ٓ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤْکُمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ ط اَمَرَاَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّ اِیَّاہُ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 39، 40) (اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے۔ تم اسے چھوڑ کر بندگی نہیں کرتے ہو، مگر چند ناموں کی جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اختیار و اقتدار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ) دعوتِ توحید ان آیات کی ترتیب انتہائی حیران کن اور نہایت فطری ہے۔ غور کیجیے کہ دو نوجوان جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکیزہ زندگی کو دیکھ کر آپ ( علیہ السلام) کی عقیدت سے بہرہ یاب ہوتے ہیں، آپ ( علیہ السلام) کی بصیرت کا تجربہ کرکے آپ ( علیہ السلام) پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں باوجود اس کے کہ آپ ( علیہ السلام) نے کبھی ان سے علم تعبیر کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، لیکن وہ آپ ( علیہ السلام) کی شخصیت سے اس حد تک متاثر ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک آپ ( علیہ السلام) ہی ہیں جو انھیں ان کے خوابوں کی تعبیر بتاسکتے ہیں۔ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے محض ان کے اظہارِ عقیدت کو اپنا سرمایہ نہیں بنایا بلکہ آپ ( علیہ السلام) نے اسے اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ کے لیے استعمال کرنے کے موقع میں تبدیل کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر چونکہ اللہ تعالیٰ کا دین لوگوں تک پہنچانے کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، اس لیے ان کی سب سے بڑی حرص یہ ہوتی ہے کہ جس طرح ممکن ہوسکے اللہ تعالیٰ کے دین کو لوگوں کے دماغوں میں اتارا جائے۔ اس لیے وہ نہایت حکمت سے موقع پیدا کرتے ہیں اور پھر اس سے فائدہ اٹھا کر دین کی تبلیغ کرتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ موقع پیدا کیا اور آپ ( علیہ السلام) نے اس سے فائدہ اٹھا کر پہلی ہی فرصت میں ان کے سامنے دین کی دعوت رکھی۔ اس دعوت میں بھی ہمیں ایک تدریج نظر آتی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نے فوراً انھیں دین کی بنیادی باتوں کی دعوت دینا شروع نہیں کی بلکہ سب سے پہلے اپنا تعارف کرایا اور اس تعارف میں علم تعبیر کو بنیاد بنایا کہ جس اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ علم عطا فرمایا ہے اسی نے مجھے نبوت بھی عطا فرمائی ہے اور یہ علم اسی نبوت کی ہی ایک شاخ ہے۔ اپنی بات میں استحکام پیدا کرنے کے لیے آپ ﷺ نے حق سے اپنی وابستگی اور بےدینی سے لاتعلقی کا اس طرح ذکر فرمایا کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کے راستے پر چلنے کے لیے ان لوگوں سے ترک تعلق کرنا پڑتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اور ان لوگوں سے رشتہ جوڑنا پڑتا ہے جو اس راستے کے مشعل بردار گزرے ہیں اور مزید یہ بھی فرمایا کہ میں نے یہ راستہ محض آبائواجداد کی عقیدت کی بناء پر اختیار نہیں کیا بلکہ عقل عام کا فتویٰ بھی یہی ہے۔ وہ توحید کا اثبات کرتی ہے اور شرک کا ابطال کرتی ہے۔ مصیبت میں اشتراک بھی تعلق کی بنیاد ہے دل و دماغ کو پوری طرح ہموار کرلینے کے بعد آپ ( علیہ السلام) نے ان نوجوانوں سے اس طرح خطاب فرمایا جو دلنوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اے میرے قید اور جیل کے ساتھیو ! اس میں کس قدر یگانگت اور پیار ہے۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ ایسے چند آدمی جو آپس میں کوئی تعلق نہ رکھتے ہوں لیکن اگر کسی مشترک مصیبت میں گرفتار ہوجائیں تو مصیبت کا اشتراک ان کے درمیان تعلق کی بنیاد بن جاتا ہے اور اگر پہلے سے کوئی تعلق موجود ہو تو مصیبت اس تعلق میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہے۔ اقبال مرحوم نے اپنی والدہ کے انتقال پر جو مرثیہ لکھا اس میں اس صدمے میں اشتراک کو دو بھائیوں میں محبت کے اضافے کا سبب قرار دیا۔ تخم جس کا تو ہماری کِشتِ جاں میں بو گئی شرکتِ غم سے وہ الفت اور محکم ہوگئی دعوت میں حکمت اس محبت آفریں خطاب سے ان نوجوانوں کو اپنی قربت کا احساس دلاتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا۔ اس میں اگرچہ توحید کی دعوت اور اس کا اثبات ہے لیکن اس کا انداز براہ راست نہیں بلکہ عمومی اور عقل عام پر مبنی ہے۔ وہ دونوں چونکہ بادشاہ کے ملازم تھے اور بادشاہ کے عتاب کے باعث وہ جیل پہنچے تھے۔ ان سے زیادہ یہ بات کون سمجھ سکتا تھا کہ ایک آدمی کا ایک آقا ہونا چاہیے یا دو ۔ اور اگر دو آقا ہوں اور محکوم اور ملازم ایک ہو تو اس غریب پر کیا گزرتی ہے اور اس کی شخصیت پر کیسے زخم لگتے ہیں ان دونوں کے لیے ان باتوں کا سمجھنا بہت آسان تھا۔ اس لیے ان سے پوچھا کہ بتائو ایک سے زیادہ رب اور وہ بھی متفرق اور الگ الگ بہتر ہیں یا ایک اللہ تعالیٰ جو قہار ہے۔ قہار کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب پر غالب ہے۔ اس کے دائرہ اختیار و اقتدار سے کوئی باہر نہیں۔ وہ ایسا کنٹرولر ہے کہ کائنات میں سے کوئی مخلوق بھی اس کے تکوینی حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ کائنات میں ایسے خدا اور ایسے آقا کی موجودگی میں جو سب پر غالب ہو کسی اور کی موجودگی کا کیا جواز ہے اور مزید یہ کہ اس ایک خدا کے وجود پر تمام اہل دنیا متفق ہیں۔ کیونکہ اس کا وجود انسان کی فطرت کی آواز۔ عہد الست کی پکار اور اقوام کی شہادت سے مستند ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو یقینا صحیح ہے کہ اس کا وجود ابدہ البدیہیات ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس کی ذات یا اس کے اختیار و اقتدار میں کسی شریک کو تسلیم کرنے کے لیے بڑی مضبوط دلیل کی ضرورت ہے اور ایسی کوئی دلیل انسان کے پاس موجود نہیں تو غور کیجیے کہ ایسی بےسروپا بات جس کی نہ عقل تائید کرے اور نہ فطرت اسے مانے۔ اسے اپنے اوپر مسلط کرلینے کا کیا جواز ہے۔ شرک کی تردید کے حوالے سے حضرت نے اپنے دونوں ساتھیوں کو براہ راست متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ جن شخصیات یا جن قوتوں کی پوجا کرتے ہو، کیا تم نے کبھی ان کی حقیقتوں پر غور کیا ہے۔ ان کے تم نے مختلف نام رکھے ہوئے ہیں۔ کسی کو ان داتا کہتے ہو، کسی کو غریب نواز کا نام دے رکھا ہے، کہیں مختلف ناموں سے مختلف دیویوں اور دیوتائوں کی پوجا ہوتی ہے، لیکن تم کچھ نہیں جانتے کہ جن کی پوجا کررہے ہو، یہ کون ہیں۔ بلاسوچے سمجھے کچھ نام ہیں جن کی پوجا کی جارہی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جس گھر میں لکشمی دیوی آجائے وہ امیر ہوجاتا ہے لیکن آپ پوچھ کے دیکھ لیجیے کہ یہ لکشمی دیوی کیا شے ہے۔ بےحقیقت ناموں کے پیچھے چلنا اور اپنے آپ کو ان ناموں پر قربان کردینا اس سے بڑھ کر جہالت کی اور کیا بات ہوگی۔ عقل بھی سوال کرتی ہے کہ ایک خدا جو سب پر غالب اور حاوی ہے اور جس کے انتظام و انصرام سے کوئی ذرہ بھی باہر نہیں، آخر اس کی موجودگی میں دوسروں کی غلامی کا قلادہ گلے میں ڈالنا کون سی عقل مندی کی بات ہے، لیکن تمہارے آبائواجداد نے محض اپنے وہم سے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں اور تم اپنے باپ دادا کی لکیر کو پیٹتے چلے آرہے ہو۔ آنکھیں کھول کر کائنات کا مطالعہ کرو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا حکم بھی کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ عناصرِ قدرت کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے حکم سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ زمین و آسمان کی بیشمار قوتیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں کیا اس کے سوا کسی اور کے حکم کی پابند ہیں۔ جن و انس، ملائکہ، چرند پرند اور حشرات الارض تک کوئی مخلوق نہیں جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور رز ق دیتا ہو۔ جب کائنات کی ایک ایک مخلوق اسی کی محتاج اور اسی کے احکام کی تکوینی طور پر پابند ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جن و انس جنھیں اللہ تعالیٰ نے فی الجملہ آزادی بخشی ہے اور اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دین، اس کی اطاعت اور اس کی بندگی اختیار کریں گے یا غیر اللہ کی، تو پھر اس کا کیا جواز ہے کہ وہ تکوینی طور پر تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں اور تشریعی طور پر غیر اللہ کی بندگی اپنے اوپر مسلط کرلیں، کیونکہ جس طرح اختیار و اقتدار تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کا ہے اسی طرح تشریعی طور پر اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی وہ دین قیم اور ٹھیٹھ اور سیدھا راستہ ہے جو فوزوفلاح اور جنت کی طرف جاتا ہے لیکن اکثر لوگ ایسی سیدھی بات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے اور ساری عمر پیچ در پیچ پگڈنڈیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ اس طرح سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے جیل کے ساتھیوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت رکھی۔ بنیادی تفصیلی مسائل چھیڑنے کی بجائے اپنی بات کو توحید کے اثبات اور شرک کی مذمت تک محدود رکھا۔ براہ راست ان کے خیالات اور عقائد پر تنقید سے گریز فرمایا اور شرک کے بارے میں جو تنقیدی باتیں فرمائیں انھیں دلآزاری کے ہر شائبے سے محفوظ رکھا اور اپنی بات کو اس طرح عقلی پیمانوں سے ناپ کے پیش کیا جس کا انکار کرنا ان کے لیے آسان نہ رہا۔
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے زنداں کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی، پھر پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے، فیصلہ ہوگیا اس بات کا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُکُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّہٗ خَمْرًا ج وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْکُلُ الطَّیْرُمِنْ رَّاْسِہٖ ط قُضِیَ الْاَمْرُالَّذِیْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیٰن۔ (سورۃ یوسف : 41) (اے زنداں کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی، پھر پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے، فیصلہ ہوگیا اس بات کا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ ) انبیاء (علیہم السلام) چونکہ لوگوں کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوتے ہیں اس لیے سب سے زیادہ جو خیال ان کے ذہن پر حاوی رہتا ہے وہ تبلیغ و دعوت ہے۔ جب بھی اس کا موقع نکلتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اس موقع کو غنیمت سمجھا تو پہلے ان کے سامنے توحید کی دعوت کو پیش کیا اور اس کے بعد ان کے خوابوں کی تعبیر بتلائی۔ خوابوں کی تعبیر جس شخص نے یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ شراب نچوڑ رہا ہے اس کے خواب کی تعبیر یہ بتلائی کہ تم اپنے منصب پر بحال ہوجاؤ گے اور دوبارہ اپنے آقا کو نائونوش کی مجلس میں شراب پلانے کی خدمت انجام دو گے۔ اور جس شخص نے یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہے اور پرندے اس کے سر پر رکھی ہوئی روٹیاں اچک اچک کر کھا رہے ہیں۔ اس کی تعبیر یہ بتلائی کہ تمہیں پھانسی دی جائے گی اور تمہاری لاش دنوں تک پھانسی پر لٹکی رہے گی اور پرندے سر کا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ ہے تمہارے ان خوابوں کی تعبیر جن کے بارے میں تم نے مجھ سے پوچھا تھا، میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور کہا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس شخص سے جس کے متعلق انھیں خیال تھا کہ وہ ان دونوں میں سے رہا ہوجائے گا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ پس یوسف (علیہ السلام) کئی سال جیل میں پڑے رہے) ۔

وَقَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنْھُمَا اذْکُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّکَ ز فَاَنْسٰہُ الشَّیْطٰنُ ذِکْرَرَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 42) (اور کہا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس شخص سے جس کے متعلق انھیں خیال تھا کہ وہ ان دونوں میں سے رہا ہوجائے گا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ پس یوسف (علیہ السلام) کئی سال جیل میں پڑے رہے۔ ) جیل کے دونوں ساتھیوں میں سے جس کے بارے میں آپ ( علیہ السلام) کو یقین تھا کہ وہ رہائی پائے گا اور اپنے منصب پر بحال ہوجائے گا اور بادشاہ کی قربت اسے دوبارہ میسر آئے گی، اسے آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اپنے بادشاہ سے میرا ذکر کرنا۔ ذکر کرنے سے مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم نے یہاں میرے بارے میں دیکھا اور جانا ہے اور جس طرح میں نے تمہارے خوابوں کی تعبیر بتائی ہے، یہ سب باتیں اپنے آقا سے کہنا تاکہ جب کبھی دربار میں ایسی کوئی ضرورت پیدا ہو تو وہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس طرح شاید کوئی رہائی کی شکل نکل آئے۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تم میرے بارے میں جو جذبات رکھتے ہو ان کا ذکر اپنے آقا سے کرنا اور یہ بھی کہنا کہ ایسا خدا رسیدہ اور نیک نفس انسان محض الزامات کی نذر ہو کر جیل میں بند ہے اور کوئی اس کی دادفریاد سننے والا نہیں کیونکہ امراء ِشہر نے اس کیخلاف سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ لیکن یہ شخص جب اپنے منصب پر بحال ہوا تو اسے شیطان نے یہ بات بھلا دی جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس سے کہی تھی کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا۔ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنی رہائی کے لیے بادشاہ کے ساقی کو ذریعہ بنانا چاہا، حالانکہ انبیاء کرام کا جو مقام و مرتبہ ہے اس کے پیش نظر یہ بات مناسب نہیں تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے کی بجائے بندوں کو رہائی کا ذریعہ بنا تے۔ چناچہ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ مزید چند سال جیل میں پڑے رہے اور اس کی تائید میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یوسف ( علیہ السلام) وہ بات نہ کہتے جو انھوں نے رہا ہونے والے سے کہی تو وہ کئی سال تک جیل میں نہ پڑے رہتے۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے ہمارے آئمہ تفسیر اور محدثین نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے ایک پیغمبر ( علیہ السلام) کے بارے میں اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ رہی یہ بات کہ کسی شخص کو اپنی رہائی کا ذریعہ بنانا بات توکل کے خلاف ہے، یہ سراسر غلط ہے۔ توکل کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آدمی ہاتھ پائوں توڑ کے بیٹھ جائے اور جائز تدابیر بھی اختیار نہ کرے جبکہ عدل و انصاف کے تمام دروازے بند ہوچکے ہوں۔ البتہ یہ بات توکل کیخلاف ہے کہ آدمی حالات سے دل شکستہ ہو کر ناجائز تدابیر اختیار کرنے لگے۔ جائز تدابیر اختیار کرنا اور امکانی مساعی کو بروئے کار لانا لیکن بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھنا اور اسی سے مانگتے رہنا عین توکل ہے۔ ضمیر کا مرجع فَاَنْسٰہُ الشَّیْطٰنُ ذِکْرَرَبِّہٖبعض لوگوں کا گمان ہے کہ فَاَنْسٰہُکی ضمیر کا مرجع حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوسف (علیہ السلام) کو شیطان نے اللہ تعالیٰ کی یاد بھلا دی۔ اس لیے انھوں نے یہ بات رہا ہونے والے شخص سے کہی۔ یہ بات عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ پیغمبر ( علیہ السلام) کبھی اس طرح کی غلطی کا ارتکاب نہیں کرتے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) تو کئی سال جیل میں پڑے رہے لیکن انھوں نے کبھی اپنے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے اپنی بےبسی کا اظہار نہیں کیا۔ اس ضمیر کا مرجع رہا ہونے والا شخص ہے وہ یہ بات بھول گیا کہ مجھے اپنے آقا سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بات کہنا تھی۔ رہی یہ بات کہ آپ ( علیہ السلام) کئی سال مزید جیل میں رہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کو اس بات کی سزا دی گئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کو ابھی اور چند سال آپ ( علیہ السلام) کو جیل میں رکھنا منظور تھا تاکہ جس کار عظیم کے لیے آپ کو تیار کیا جارہا تھا اس کی تربیت مکمل ہوسکے۔
Ayahs 12:43–45

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

(اور (ایک عرصہ کے بعد) بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے سات سوکھے ہوئے ہیں۔ اے درباریو ! میرے خواب کی مجھے تعبیر بتائو۔ اگر تم خوابوں کی تعبیر دیتے ہو۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

درباریوں نے کہا یہ خواب پریشاں ہے اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر کے عالم نہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور (اس وقت) وہ شخص بولا جو بچ گیا تھا دونوں میں سے اور ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا کہ میں آپ لوگوں کو اس کی تعبیر بتائوں گا، پس مجھے (قیدخانہ تک) جانے دیجیے۔

وَقَالَ الْمَلِکُ اِنِّیْ ٓ اَرٰی سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْبُلٰتٍ خُضْرٍوَّاُخَرَیٰبِسٰتٍ ط یٰٓاَیُّھَاالْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُئْ یَایَ اِنْ کُنْتُمْ لِلْرُّئْ یَا تَعْبُرُوْنَ ۔ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ ج وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلاَمِ بِعٰلِمِیْنَ ۔ وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْھُمَا وَادَّکَرَبَعْدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمْ بِتَاوِیْلِہٖ فَاَرْسِلُوْنِ ۔ (سورۃ یوسف : 43، 44، 45) (اور (ایک عرصہ کے بعد) بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے سات سوکھے ہوئے ہیں۔ اے درباریو ! میرے خواب کی مجھے تعبیر بتائو۔ اگر تم خوابوں کی تعبیر دیتے ہو۔ درباریوں نے کہا یہ خواب پریشاں ہے اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر کے عالم نہیں۔ اور ( اس وقت) وہ شخص بولا جو بچ گیا تھا دونوں میں سے اور ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا کہ میں آپ لوگوں کو اس کی تعبیر بتائوں گا، پس مجھے (قیدخانہ تک) جانے دیجیے۔ ) اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) تقریباً دس سال تک جیل میں رہے اور وقت کے اندھے قانون نے کبھی پلٹ کر آپ ( علیہ السلام) کی طرف نہ دیکھا۔ آپ ( علیہ السلام) چونکہ عزیز مصر اور بعض دیگر معززین شہر کی سازش کا شکار ہوئے تھے جنھوں نے اپنی بیگمات کو قابو رکھنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قربانی دے ڈالی اور آپ ( علیہ السلام) کو پس دیوارِ زنداں بھیج کر بظاہر اس بات کا انتظام کرلیا کہ ہماری بیگمات کی بےراہ روی نے ہمارے خاندانوں پر جو بدنامی کے داغ لگائے ہیں یوسف ( علیہ السلام) کے منظر سے ہٹ جانے سے آہستہ آہستہ مٹ جائیں گے۔ جب لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ یوسف کو جیل میں بھیج دیا گیا ہے تو عام لوگ اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ وہ یقینا قصوروار ہوگا اس لیے اس کو جیل بھیجا گیا۔ اور جو لوگ حقیقت کو جانتے ہیں وہ بھی رفتہ رفتہ ان واقعات کو بھول جائیں گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اجنبی دیس میں تھے جہاں آپ ( علیہ السلام) کا کوئی قرابت دار نہ تھا۔ غلامی کا داغ آپ ( علیہ السلام) پر لگ چکا تھا۔ شہر کے بڑے لوگوں نے راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا ایسی صورتحال میں جیل میں آپ ( علیہ السلام) کا پرسانِ حال کون ہوتا اور کیونکر قانون آپ کی مدد کو پہنچتا۔ ایک رہا ہونے والا شخص جو آپ کا حددرجہ عقیدت مند تھا اس سے ایک گونہ امید پیدا ہوئی تھی لیکن وہ بھی جیل سے نکلتے ہی اپنے معمولات میں ایسا کھویا کہ اسے کبھی آپ ( علیہ السلام) کی یاد نہ آئی۔ ان حالات میں بظاہر اس کا کوئی امکان نہ تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کبھی بھی جیل سے نکل سکیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے ہیں وہ جب کسی چیز کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کے لیے اسباب بھی خود ہی فراہم کردیتا ہے۔ انہی اسباب میں بادشاہ کے خواب کو شمار کرنا چاہیے۔ بادشاہ کا خواب اور درباریوں کا جواب بائبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ اپنے خواب سے نہایت پریشان تھا۔ چناچہ اس نے صرف اپنے اہل دربار ہی کے سامنے نہیں بلکہ ملک بھر کے ماہرینِ تعبیر کو جمع کرکے سب کے سامنے اپنا خواب سنایا اور کہا کہ تم اگر تعبیر کا علم جانتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر دو ۔ سب نے بیک زبان کہا کہ یہ خواب، خوابِ پریشاں معلوم ہوتے ہیں۔ خواب ِ پریشاں ایسے خوابوں کو کہتے ہیں جو عام طور پر معدے کے بخارات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ سوئِ ہضم کی وجہ سے بعض دفعہ آدمی رات کو الٹے سیدھے خواب دیکھتا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہونے والوں نے ان خوابوں کو ایسے ہی خواب قرار دیا۔ اس لیے انھوں نے اس کی تعبیر بتانے سے معذرت کی۔ شاہی ساقی کی پیشکش اَضْغَاثُ ضغث کی جمع ہے۔ پھولوں کے گلدستے یا گھاس پھوس اور خس و خاشاک کے گٹھے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ لفظ بےحقیقت باتوں اور خبروں کے مجموعے پر بھی بولا جاتا ہے۔ پھر اسی سے اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ کی ترکیب پیدا ہوگئی اور یہ لفظ ان افکارِ پریشاں پر بولا جانے لگا جو انسان نیند کی حالت میں دیکھتا ہے اور جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں اور ماہرینِ تعبیر نے جب اس طرح اپنی بےبسی اور بیخبر ی کا اظہار کیا تو بادشاہ کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا۔ اس موقع پر بادشاہ کی مجلسِ عیش و طرب کے نگران کو اچانک حضرت یوسف (علیہ السلام) یاد آئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے تخلیہ میں بادشاہ کے سامنے صورتحال کی وضاحت کے لیے اپنی سرگزشت بیان کی اور تفصیل سے بتایا کہ میں نے جیل میں خواب دیکھا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے میرے خواب کی تعبیر بتائی تھی اور میں اسی تعبیر کے مطابق آج آپ کی خدمت بجالارہا ہوں۔ اور پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں یقینا اس نے وہ سب عقیدت مندانہ باتیں کہی ہوں گی جو وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے اپنے دل میں رکھتا تھا۔ اور آپ ( علیہ السلام) کی پاکیزہ زندگی اور آپ ( علیہ السلام) کی دانائی اور ہوش مندی کے بارے میں ایک ایک بات بادشاہ کے گوش گزار کی ہوگی۔ اور اس کی طرح اسے امید دلائی کہ آپ ( علیہ السلام) پریشان نہ ہوں مجھے آپ جیل خانہ جانے کی اجازت دیجیے۔ میں یوسف ( علیہ السلام) سے مل کر اس خواب کی تعبیر معلوم کرتا ہوں۔ وہ یقینا اس خواب کی تعبیر جانتے ہوں گے۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اے یوسف ( علیہ السلام) ، اے راست باز ! بتایئے ہمیں (اس خواب کی تعبیر) کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انھیں کھا رہی ہیں سات لاغر گائیں اور سات خوشے ہیں سرسبز اور دوسرے سات خوشے ہیں خشک۔ تاکہ میں اپنے لوگوں کے پاس جواب لے کر واپس جائوں، شاید وہ آپ ( علیہ السلام) کے علم و فضل کو جان لیں۔

یُوْسُفُ اَیُّھَاالصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعِ سُنْبُلٰتٍ خُضْرٍوَّ اُخَرَیٰبِسٰتٍ لا لَّعَلِّیْ ٓ اَرْجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 46) (اے یوسف ( علیہ السلام) ، اے راست باز ! بتایئے ہمیں (اس خواب کی تعبیر) کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انھیں کھا رہی ہیں سات لاغر گائیں اور سات خوشے ہیں سرسبز اور دوسرے سات خوشے ہیں خشک۔ تاکہ میں اپنے لوگوں کے پاس جواب لے کر واپس جاؤں، شاید وہ آپ ( علیہ السلام) کے علم و فضل کو جان لیں۔ ) شاہی ساقی کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری اور درخواست بادشاہ کے ساقی نے جیل پہنچتے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات کی اور آپ ( علیہ السلام) سے جن الفاظ میں خطاب کیا اور آپ ( علیہ السلام) نے آنے والے کے ساتھ جس طرح رویہ اختیار کیا، یہ دونوں باتیں قابل توجہ ہیں۔ آنے والا بادشاہ کا مقرب ہونے کی وجہ سے ایک بڑی حیثیت کا مالک ہے۔ لیکن وہ جس احترام کے ساتھ ایک قیدی سے مخاطب ہورہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کردار میں کس قدر عظمت اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے۔ وہ اس سے پہلے جیل میں آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ محبوس رہنے کی وجہ سے آپ ( علیہ السلام) کے طرز عمل اور آپ ( علیہ السلام) کی پاکبازی کو دیکھ چکا تھا۔ اس لیے اسے اس بات کا انتہائی یقین تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کوئی پیشہ ور نجومی نہیں کہ اٹکل پچو سے کوئی بات بتادیں بلکہ آپ ( علیہ السلام) اپنے قول و عمل میں نہایت راست باز اور اعلیٰ درجے کے سچے انسان ہیں۔ اس لیے اس بات کا تو وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ آپ ( علیہ السلام) کوئی غلط بات کہیں گے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جیل میں نہ جانے قیدیوں کی کتنی بڑی تعداد ہوگی اور ان میں سے بیشتر لوگوں کا آپ ( علیہ السلام) سے واسطہ پڑتا ہوگا۔ اور اگر تلمود کے بیان کو پیش نظر رکھیں تو یوں کہنا چاہیے کہ جیل کے داروغہ نے جیل کا تمام انتظام و انصرام اور قیدیوں کے معاملات آپ ( علیہ السلام) ہی کے حوالے کر رکھے تھے۔ اور ان میں وقتاً فوقتاً لوگ جیل سے رہا بھی ہوتے ہونگے۔ تو جس طرح کا تأثر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بادشاہ کا ساقی لے کر گیا اور جس کا وہ نہایت ادب سے اظہار کررہا ہے باقی جانے والے بھی یقینا ایسا ہی عقیدت آمیز تأثر ساتھ لے کر باہر جاتے ہوں گے۔ اور باہر کی فضا میں اس معصوم اور پاکباز قیدی کے بارے میں کیسے خیالات پھیلتے ہوں گے۔ آنے والے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہایت شاندار الفاظ میں خطاب کے بعد کہا کہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات سرسبز خوشے ہیں اور دوسرے سات سوکھے ہوئے خوشے ہیں، آپ اس کی صحیح تعبیر فرمایئے۔ ملک بھرکے اہل علم نے چونکہ اس کی تعبیر سے بیخبر ی کا اظہار کیا ہے بلکہ وہ ان خوابوں کو افکارِ پریشاں قرار دے رہے ہیں جس نے بادشاہ کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) اس کی تعبیر بتایئے تاکہ میں واپس جا کر لوگوں کو وہ تعبیر بتاسکوں اور اس سے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ لوگ آپ ( علیہ السلام) کے مقام و مرتبہ کو سمجھ سکیں اور اس طرح میں بادشاہ کے حضور آپ ( علیہ السلام) کے بارے میں کوئی بات کہہ سکوں۔ یہ آنے والا وہ شخص ہے جس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ کہا تھا کہ موقع غنیمت دیکھ کر اپنے بادشاہ سے میرے متعلق بات کرنا، لیکن اس نے سالوں تک اس بات کو بھلائے رکھا۔ اب وہ ایک مدت کے بعد پلٹ کے آیا تو کوئی اور ہوتا تو اس کے ساتھ درشتی سے پیش آتا، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس سے اس بات کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ اور نہ آپ ( علیہ السلام) نے کوئی ایسی شرط لگائی کہ پہلے میری رہائی کا فیصلہ کرو، میں اس کے بعد تعبیر بتائوں گا۔ آپ ( علیہ السلام) نے بغیر کسی تامل کے اور بغیر کوئی شرط عائد کیے خواب کی تعبیر بتادی۔
Ayahs 12:47–49

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا، تم سات سال برابر کاشت کرو گے، تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو اس کے خوشوں میں، مگر تھوڑا سا (ضرورت کے لیے نکال لو) جسے تم کھائو۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر آئیں گے اس خوشحالی کے بعد سات سال بہت سخت۔ وہ کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے پہلے جمع کر رکھا ہوگا، ان کے لیے، مگر تھوڑا سا جو تم محفوظ کرلو گے،

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر آئے گا اس عرصہ کے بعد ایک سال جس میں لوگوں کی فریاد رسی ہوگی اور لوگ ان میں انگور نچوڑیں گے۔ )

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا ج فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْبُلِہٖٓ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تَاْکُلُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌیَّاْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَھُنَّ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیْہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْہِ یَعْصِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 47، 48، 49) (آپ نے فرمایا، تم سات سال برابر کاشت کرو گے، تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو اس کے خوشوں میں، مگر تھوڑا سا (ضرورت کے لیے نکال لو) جسے تم کھائو۔ پھر آئیں گے اس خوشحالی کے بعد سات سال بہت سخت۔ وہ کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے پہلے جمع کر رکھا ہوگا، ان کے لیے، مگر تھوڑا سا جو تم محفوظ کرلو گے، پھر آئے گا اس عرصہ کے بعد ایک سال جس میں لوگوں کی فریاد رسی ہوگی اور لوگ ان میں انگور نچوڑیں گے۔ ) خواب کی تعبیر بادشاہ کے ساقی نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر پوچھی تھی لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صرف تعبیر پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ آپ ( علیہ السلام) نے اس صورتحال سے نکلنے کی تجویز بھی دی اور پھر تبشیر بھی دی۔ یعنی خوشخبری سنائی کہ اس کے بعد حالات بدلیں گے۔ آپ ( علیہ السلام) نے اس خواب کی تعبیر یہ بیان فرمائی کہ سات موٹی گائیوں سے مراد پہلے سات سال ہیں جن میں تم معمول کے مطابق برابر کاشت کرو گے۔ مصر چونکہ ایک زرعی ملک ہے اور اس وقت بھی زرعی ملک تھا جس کی گزربسر کا زیادہ تر دارومدار بارشوں اور دریا پر تھا۔ بارشیں ہوتیں، دریائے نیل میں پانی آتا، زمین سیراب ہوتی تو فصلیں لہلہانے لگتیں اور پورے ملک کی غذائی ضرورتیں پوری ہوجاتیں۔ اسی کی طرف خواب میں اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سات سال بارشیں ہوں گی اور تمہارے یہاں خوب پیداوار ہوگی لیکن سات سال کے بعد بارشوں کے رک جانے کے باعث اور دریائے نیل کے خشک ہوجانے کی وجہ سے خشک سالی کا آغاز ہوجائے گا۔ اور یہ خشک سالی سات سال تک چلے گی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک میں قحط پڑجائے گا۔ پھر ایک سال آئے گا جب خشک سالی ختم ہوگی، خوب بارشیں برسیں گی اور بارشوں کے نتیجہ میں تیل دینے والے بیج اور رس دینے والے پھل اور میوے خوب پیدا ہوں گے اور مویشی بھی اچھا چارہ ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دینے لگیں گے۔ یہ تو ہے اس خواب کی تعبیر۔ تعبیر سے تو صرف ایک عقدہ حل ہوا کہ بادشاہ نے جو خواب دیکھا ہے اس کا مفہوم کیا ہے۔ لیکن اس کے بعد جو اصل سوال ہے وہ یہ ہے کہ خشک سالی میں جب ملک قحط کا شکار ہوجائے گا تو لوگوں کی غذائی ضروریات کہاں سے فراہم کی جائیں گی۔ قحط تو چند دنوں کا بھی بستیاں اجاڑ دیتا ہے، سات سال کا قحط تو ملک بھر کی آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی اگر آج سے فکر نہ کی گئی تو پھر اس وقت کیا ہوگا۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر کے ساتھ ہی پیدا ہونے والے مسائل کا حل بھی بتایا۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا پہلے سات سالوں میں جتنا غلہ پیدا ہو اس کو محفوظ کرنے کے انتظامات کیے جائیں، صرف اتنے خوشوں سے غلہ نکالا جائے جتنی ملک کے لیے ضرورت ہے اور راشن بندی کے ذریعے نہایت احتیاط سے ملک کے ایک ایک فرد کو ضرورت کے مطابق غلہ دیا جائے۔ باقی گندم کی پوری فصل خوشوں میں چھوڑ دی جائے۔ دانہ جب خوشے اور بالوں سے الگ ہوتا ہے تو موسم کے بعض دفعہ اثرات اسے خراب بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ بالوں کے اندر رہتا ہے تو نہ اس کو سُرسُری لگتی ہے اور نہ اسے کیڑا لگتا ہے۔ اس لیے باقی انتظامات کے ساتھ یہ تجویز دی کہ غلے کو خوشوں سے الگ نہ کیا جائے بجز اس مقدار کے جو غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لازمی ہے۔ اور یہ بھی اشارہ دے دیا کہ اگر پوری احتیاط کے ساتھ غلے کی حفاظت کی جائے تو قحط سالی کے سات سال بھی آسانی سے گزر سکتے ہیں۔ پھر اس پر خوشخبری سناتے ہوئے یہ کہا کہ سات سال خوشحالی کے اور سات سال قحط سالی کے گزرنے کے بعد پندرھواں سال پھر خوشحالی کا آئے گا۔ اور اس میں پروردگار کی طرف سے بارشیں برسائی جائیں گی اور ہر لحاظ سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور پیداوار ایسی بھرپور ہوگی کہ انگور نچوڑنے والے انگور نچوڑیں گے، پھلوں کا رس پینے والے پھلوں کے رش سے شادکام ہوں گے اور ہر طرح کی غذائی ضرورتوں کی فراوانی ہوگی۔