Ayah 12:50وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖ ج فَلَمَّا جَآئَ ہُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَسْئَلْہُ مَابَالُ النِّسْوَۃِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ ط اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِھِنَّ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 50)
اور ( یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا تو اس کو میرے پاس لائو۔ پس جب قاصد اس کے پاس آیا تو آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اپنے بادشاہ کے پاس اور اس سے دریافت کرو کہ حقیقت حال کیا تھی ان عورتوں کی جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ بیشک میرا رب ان کے مکر و فریب سے خوب آگاہ ہے۔ )
بادشاہ کی دعوت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب
بادشاہ کو جب تعبیر بتائی گئی تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ نہ صرف خواب کی تعبیر بتائی گئی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس مصیبت سے عہدہ برآ ہونے کی تجویز بھی دی گئی ہے اور مزید یہ کہ اس کے بعد آنے والے سال کی تبشیر بھی، جس کا بظاہر کوئی تعلق خواب سے معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ اس نے شدت تأثر میں فوراً حکم دیا کہ اسے میرے پاس لے کے آئو۔ چناچہ بادشاہ کا قاصد شاہی فرمان لے کر، یوسف ( علیہ السلام) کے پاس پہنچا۔ یہاں اگر اس کے بعد وقفہ ہو تو ہر سوچنے والا ذہن یہی سمجھے گا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو جیسے ہی پیغام ملا ہوگا، اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ کیونکہ ایک معصوم اور مظلوم شخص جسے ازراہِ ظلم کئی سالوں تک پس دیوارِ زنداں رکھا گیا ہو اور جس کی کوئی دادفریاد سننے والا بھی نہ ہو اس کے لیے بادشاہ کی طرف سے یہ پیغام کہ میرے پاس پہنچو، ایک ایسی نعمت غیرمترقبہ ہے جس کی خوشی کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ چناچہ بائبل اور تلمود میں اسی فطری طرز بیان کو سامنے رکھ کر قصہ گوئی سے کام لیا ہے، لیکن وہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ بادشاہ اور اس کے قاصد کو معاملہ جس شخص کے ساتھ ہے وہ عام فرد نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہے۔ پیغمبر اپنی سطح سے کبھی نیچے نہیں گرتا۔ قرآن کریم نے جس طرح اسے بیان کیا ہے وہ پیغمبرانہ شان کے عین مطابق ہے۔ لیکن بائبل کا بیان ہے کہ بادشاہ کی طلبی پر حضرت یوسف (علیہ السلام) فوراً چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ حجامت بنوائی، کپڑے بدلے اور دربار میں جا حاضر ہوئے۔ تلمود نے اس سے بھی زیادہ گھٹیا انداز میں اس منظر کو بیان کیا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ بادشاہ نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو میرے حضور پیش کرو۔ اور یہ بھی ہدایت کردی کہ دیکھو ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ لڑکا گھبرا جائے اور صحیح تعبیر نہ دے سکے۔ چناچہ شاہی ملازموں نے یوسف ( علیہ السلام) کو قیدخانے سے نکالا، حجامت بنوائی، کپڑے بدلوائے اور دربار میں لاکر پیش کردیا۔ بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا تھا۔ زروجواہر کی چمک دمک اور دربار کی شان دیکھ کر یوسف ( علیہ السلام) ہکا بکا رہ گیا۔ اور اس کی آنکھیں خیرہ ہونے لگیں۔ شاہی تخت کی سات سیڑھیاں تھیں۔ قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی معزز آدمی بادشاہ سے کچھ عرض کرنا چاہتا تو وہ چھ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتا اور بادشاہ سے ہمکلام ہوتا تھا اور جب ادنیٰ طبقہ کا کوئی آدمی شاہی مخاطبہ کے لیے بلایا جاتاتو وہ نیچے کھڑا رہتا اور بادشاہ تیسری سیڑھی تک اتر کر اس سے بات کرتا۔ یوسف ( علیہ السلام) اس قاعدے کے مطابق نیچے کھڑا ہوا اور زمین بوس ہو کر اس نے بادشاہ کو سلامی دی اور بادشاہ نے تیسری سیڑھی تک اتر کر اس سے گفتگو کی۔
بائبل اور تلمود کے دونوں بیان آپ کے سامنے ہیں۔ اندازہ فرمائیے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نسلاً بنی اسرائیل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل ہی کے پیغمبر ہیں لیکن جس طرح بائبل اور تلمود نے دربار میں ان کی حاضری کی منظرکشی کی ہے اسے دیکھ کر کون اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ انداز کسی پیغمبر کا ہوسکتا ہے۔ پیغمبر تو دنیا میں یہ سکھانے کے لیے آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے سامنے سر نہیں جھک سکتا اور کسی اور سے امیدیں نہیں باندھی جاسکتیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسی جاہ و جلال کے ساتھ جیل کاٹی، یہ کیسے ممکن تھا کہ اب انھیں عزت سے دربار میں لایا جارہا ہے تو وہ اس طرح خودسپردگی کا اظہار کرتے جس سے معلوم ہوتا کہ آپ ( علیہ السلام) کی سطح کسی عام آدمی سے بلند نہیں۔
بائبل اور تلمود کے بالکل برعکس قرآن کریم نے جس طرح اس واقعہ کو بیان کیا ہے وہ پیغمبرانہ شان کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کے پاس جیسے ہی قاصد پہنچا، آپ ( علیہ السلام) اپنی رہائی کی خبر سن کر خوشی سے بےقابو نہیں ہوئے بلکہ آپ ( علیہ السلام) نے نہایت تحمل اور بردباری کے ساتھ صرف یہ فرمایا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور جا کر ان سے کہو کہ مجھے جس جرم میں جیل بھیجا گیا تھا پہلے اس کی تحقیق کریں۔ ان عورتوں کو بلا کر پوچھیں جنھوں نے عزیز مصر کے گھر مجھے دیکھتے ہی اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ ان سے معلوم کیجیے کہ ایسا کیوں ہوا تھا اور اس کے پیچھے کیا سازش تھی ؟ اور اس پر میرا رد عمل کیا تھا۔ جب تک اس معاملے کا فیصلہ نہیں ہوجاتا میں اس وقت تک باہر نہیں آسکتا۔ اندر میں لوگوں کی زبانوں سے محفوظ ہوں۔ باہر نکلوں گا تو جس طرح مجھے بدنام کیا گیا ہے وہ لوگ جو حقیقت سے واقف نہیں ہیں وہ مجھے اسی بدنامی کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ ایک مصلح اور ایک پیغمبر کی حقیقی قوت اس کا بےعیب کردار ہوتا ہے۔ داغدار سیرت و کردار ایک ایسی کمزوری ہے جو کسی بڑے مقصد کے لیے انسان کو کھڑا نہیں ہونے دیتی۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جن الفاظ میں اپنے معاملے کی انکوائری کرنے کا کہا وہ بھی قابل غور ہے۔ آپ ( علیہ السلام) نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھ پر جو الزام لگایا گیا تھا اس کی حقیقت کیا تھی بلکہ آپ نے یہ کہا کہ ان عورتوں سے یہ معلوم کیجیے کہ جب انھوں نے یوسف ( علیہ السلام) کو بہکانے کی کوشش کی تو اس کی اصل حقیقت کیا تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ اس بات سے بیخبر نہیں تھا کہ بڑے گھروں کی کچھ بیگمات نے اس طرح ایک شریف نوجوان کو پھانسنے اور بہکانے کی کوشش کی تھی کیونکہ اگر معاملہ یہ نہ ہوتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے الفاظ مختلف ہوتے۔
اس آیت میں ایک اور بات بھی نہایت سبق آموز ہے، وہ یہ کہ اصل بنائے فساد تو زلیخا کی ذات تھی، اسی نے سب سے پہلے آپ ( علیہ السلام) پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی اور آپ ( علیہ السلام) نے جب اپنی پاکدامنی پر استقامت دکھائی اور اس کے گناہ کی ہر دعوت کو رد کردیا تو وہ انتقام پر اتر آئی، لیکن آپ ( علیہ السلام) نے بادشاہ کے نام پیغام میں دوسری عورتوں کا ذکر تو کیا لیکن زلیخا کی طرف اشارہ تک بھی نہیں کیا۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کی عالی ظرفی نے اسے گوارا نہ کیا کہ جس خاتون کے شوہر نے آپ ( علیہ السلام) کو اپنے گھر میں عزت دی بجائے غلام بنا کے رکھنے کے گھر کا مالک بنادیا۔ گھر اور جاگیر کا تمام انتظام آپ ( علیہ السلام) کے سپرد کردیا۔ اس کی بیوی نے اگر بےراہ روی اختیار کی تو وہ خود بھی اس سے واقف ہے۔ مجھے بہرحال ایسی کوئی بات نہیں کہنی چاہیے جس سے اس کی عزت پر حرف آجائے کیونکہ اس کی بیوی بہرحال اس کی عزت ہے۔
Ayah 12:51قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ اِذْرَا وَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ ط قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاعَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوْٓئٍ ط قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ز اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 51)
(بادشاہ نے ان عورتوں کو بلا کر) کہا، تمہارا کیا ماجرا ہے جب تم نے یوسف ( علیہ السلام) کو پھسلانے کی کوشش کی۔ وہ بولیں حَاشَالِلّٰہِ ہم نے اس میں کوئی بُرائی نہیں دیکھی۔ عزیز کی بیوی بولی اب حق آشکارہ ہوگیا۔ میں نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی۔ بیشک وہ راست بازوں میں سے ہے۔ )
بیگماتِ مصر کے واقعہ کی تحقیق
بادشاہ نے بیگماتِ مصر کو بلا کر صورتحال دریافت کی۔ قرآن کریم کے الفاظ میں دونوں باتوں کا احتمال ہے کہ بادشاہ نے ان بیگمات کو اپنے حضور میں طلب کیا ہو اور براہ راست ان سے استفسار کیا ہو یا اپنے قاصد کے ذریعے اس معاملے کی تحقیق کروائی ہو۔ صورتحال کچھ بھی ہو مقصد صرف یہ ہے کہ اس واقعہ کی تحقیق بادشاہ نے اپنی نگرانی میں کروائی۔ جواب میں بیگماتِ مصر نے اعتراف کیا کہ ہم نے یوسف ( علیہ السلام) میں ایسی کسی کمزوری کا شائبہ بھی نہیں پایا۔ ان میں زلیخا بھی موجود تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک ان کے اندر کا ضمیر زندہ تھا، اس لیے وہ ضمیر کی ملامت سے مجبور ہو کر بول اٹھیں کہ اب جبکہ ہر بات کھل گئی ہے اور حق پوری طرح واضح ہوگیا ہے تو میں اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ میں نے یوسف ( علیہ السلام) کو بہکانے کی کوشش کی۔ یہ بیگماتِ مصر تک معاملہ بھی میری وجہ سے پہنچا۔ انھیں بھی میں نے گھر میں دعوت دی تھی۔ اس لیے جو کچھ ذمہ داری ہے وہ مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ جہاں تک یوسف ( علیہ السلام) کا تعلق ہے وہ یقینا راست باز لوگوں میں سے ہے۔
اندازہ فرمایئے کہ جب اس معاملے کی خبر باہر لوگوں تک پہنچی ہوگی تو ان پر اس کے کیا اثرات ہوئے ہوں گے۔ مصر کا طبقہ خواص اور ان کی بیگمات تو یوسف ( علیہ السلام) سے پہلے ہی شناسا تھے۔ یوسف ( علیہ السلام) کی عظمت ان سے پہلے ہی اپنا آپ منوا چکی تھی۔ البتہ انھوں نے اپنی بدنامی سے بچنے کے لیے آپ ( علیہ السلام) کو زنداں کی نذر کردیا۔ زلیخا کا جواب بتاتا ہے کہ جس طرح وہ ضمیر کی ملامت کا شکار تھی ممکن ہے طبقہ امراء کے باقی لوگ بھی ایسے ہی احساسات رکھتے ہوں۔ لیکن لوگوں میں جب یہ خبریں پہنچیں کہ ایک نوجوان ہے جسے دس سال کی قید کے بعد رہائی مل رہی ہے لیکن اسے اپنی رہائی سے زیادہ اپنے اوپر لگے ہوئے الزامات سے براءت کی فکر ہے۔ ایسا حوصلہ مند اور بلند کردار آدمی مصر کی مٹی نے کیسے پیدا کردیا۔ یہاں تو ایسی جنس نہیں پائی جاتی۔ یقینا انھیں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے عقیدت پیدا ہوگئی ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی یقینا صحیح ہے کہ بادشاہ اس سے پہلے تعبیر اور یوسف ( علیہ السلام) کی خوبیاں سن کر ان کا معترف ہوچکا تھا اور اب جب اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بےنیازی اور بلند ہمتی دیکھی اور عورتوں سے ان کی راست بازی کا اعتراف سنا تو پہلے اگر وہ معترف تھا تو اب گرویدہ ہوگیا۔ اور اس کی گرویدگی کا اندازہ آگے آنے والی اس کی گفتگو سے ہوتا ہے۔
Ayahs 12:52–53ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ وَاَنَّ اللّٰہَ لاَیَھْدِیْ کَیْدَالْخَآئِنِیْنَ ۔ وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ ج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓئِ اِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیْ ط اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔
(سورۃ یوسف : 52، 53)
(یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرحاضری میں اس کی خیانت نہیں کی اور بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ میں اپنے نفس کو بری نہیں قرار دیتا بیشک نفس تو بُرائیوں ہی کا حکم دینے والا ہے، مگر جب میرا رب رحم فرمائے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ )
تحقیقات کے مطالبے کا سبب
یہ بات معلوم ہوتا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت فرمائی جب انھیں عزیز مصر کی بیوی اور بیگماتِ مصر کے اعتراف کی خبر پہنچی۔ اور ساتھ ہی اس بات کی بھی کہ ان سب نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آج تک جو کچھ کہا اور کیا اس میں کہیں بھی جھوٹ کا شائبہ نہ تھا۔ وہ نہایت راست باز آدمی ہیں جو کچھ ان کے خلاف الزامات کی دھول اڑائی گئی وہ سب ہمارا کیا دھرا تھا۔ اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ فرمایا کہ میرا مقصد نہ تو اپنی پاکدامنی کی تشہیر تھا اور نہ بیگمات اور زلیخا کو بدنام کرنا مقصود تھا بلکہ یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ بادشاہ یا عزیز مصر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کے گھر میں رہ کر اس کی عزت پر ڈاکہ نہیں ڈالا۔ وہ میرا محسن تھا اور کوئی شریف آدمی کبھی اپنے محسن کی عزت پر حملہ نہیں کرتا۔ میرے ارادے میں بھی کبھی فتور نہیں آیا۔ اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی اس کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ یہ بات ثابت کرنا میری طرف سے ضروری تھا ورنہ اگر میں خاموشی سے باہر آجاتا تو یہ بدنامیاں میرا پیچھا کرتیں اور میں لوگوں کی اصلاح کا کام کبھی نہ کرسکتا۔ اور لوگوں کی بداخلاقی پر کبھی تنقید نہ کرسکتا۔
جو ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے
معلوم ہوتا ہے اس کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ میں نے اگرچہ جو کچھ کیا ایک ضرورت کے تحت کیا، تب بھی اس میں ایک ادعا معلوم ہوتا ہے۔ گویا میں اپنے آپ کو بہت پارسا سمجھتا ہوں اور اپنی پارسائی کو شہرت دینا چاہتا ہوں حالانکہ کسی نیک سے نیک آدمی کو بھی اپنی نیکی پر گھمنڈ نہیں ہونا چاہیے۔ اسی احساس کے تحت انھوں نے فوری طور پر فرمایا کہ میں اپنے نفس کو گناہوں سے بالاتر نہیں سمجھتا۔ نفس میرے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور دوسرے لوگوں کی طرح یہ مجھے بھی بُرائی کی راہ سجھا سکتا ہے۔ اس لیے مجھے اگر اس بُرائی سے بچنے کا موقع ملا ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے اور میرے رب کا فضل و کرم ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کی توفیق کسی شخص پر بھی بےسبب نہیں ہوتی۔ اس کا قانون یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی بندہ مومن کو شیطان گناہ کی دعوت دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اس گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور عزم صمیم کرلیتا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے میں شیطان کے جال میں نہیں پھنسوں گا تو پھر اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کی ضرور مدد کرتا ہے۔ وہ اس کے لیے بچ نکلنے کے راستے آسان کردیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص محض خواہش رکھتا ہے کہ میں گناہ میں آلودہ نہ ہوں لیکن اس سے بچنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا بلکہ گناہ کی ترغیبات کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بجائے اس کو گناہ سے بچانے کے بُرائی اس کے لیے آسان کردیتے ہیں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اسی قانون کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور اس کے بھروسے پر بُرائی کیخلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ مجھے ہر طرح کی ترغیب دی گئی اور ہر طرح کی ترہیب سے کام لیا گیا۔ لیکن جب میں نیکی کے ارادے میں پختہ نکلا تو اللہ تعالیٰ نے میری دستگیری فرمائی اور ہر طرح کے حالات میں مجھے ہر طرح کے گناہ میں آلودہ ہونے سے محفوظ رکھا کیونکہ میرا رب غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔
Ayahs 12:54–55وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ ج فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ (سورۃ یوسف : 54)
(اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لائو، میں اس کو اپنا معتمدِ خاص بنائوں گا۔ پھر جب بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بات کی تھی تو کہا اب آپ ہمارے یہاں بااقتدار اور معتمد ہوئے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بادشاہ کی گرویدگی اور اس کا سبب
بادشاہ کے خواب کی تعبیر ملک کا کوئی صاحب علم نہ بتا سکا تو شاہی ساقی کے کہنے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر معلوم کی گئی۔ آپ ( علیہ السلام) نے بغیر کسی تامل کے نہ صرف خواب کی تعبیر بیان کی بلکہ آنے والے ناگفتہ بہ حالات سے عہدہ برآ ہونے کی تجویز بھی دی تو بادشاہ کے لیے یہ ایک حیران کن بات تھی کہ جس بات کا جواب پورے ملک کے دانشوروں سے نہ بن پڑا، اس کا جواب ایک قیدی نے اس سلیقے سے دیا ہے اور پھر حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسی تجویز دی ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے تو بادشاہ کو یقین ہوگیا کہ یہ نوجوان یقینا غیرمعمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ چناچہ اس نے اپنے قاصد کو یوسف ( علیہ السلام) کو دربار میں لانے کے لیے بھیجا۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بجائے اس عزت افزائی پر خوش ہونے کے نہایت وقار سے فرمایا کہ پہلے اس جرم کی تحقیق کی جائے جس کی پاداش میں مجھے جیل بھیجا گیا تھا۔ تو بادشاہ کو ایک اور اچنبھا ہوا کہ یہ نوجوان معلوم ہوتا ہے کہ اپنے زمانہ سے بہت بلند واقع ہوا ہے۔ وہ جیل میں ہونے کے باوجود شاہانہ جاہ و جلال کا مالک ہے۔ نہ اسے کوئی ترغیب رام کرسکتی ہے اور نہ ترہیب اس کے پائوں میں تزلزل پیدا کرسکتی ہے تو اس کے دل میں یوسف ( علیہ السلام) کے لیے اور قدر و منزلت پیدا ہوئی۔ اور پھر جب بیگماتِ مصر نے بادشاہ کے استفسار پر یوسف ( علیہ السلام) کی بلند کرداری کی گواہی دی تو یوسف ( علیہ السلام) کے لیے اس کی گرویدگی میں اور اضافہ ہوگیا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ نوجوان اگر ایک طرف غیرمعمولی صلاحیتوں کا مالک ہے تو دوسری طرف سیرت و کردار کی پاکیزگی میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ اور تیسری طرف اس کی بےنیازی کا عالم یہ ہے کہ کوئی لالچ اسے اس کے مؤقف سے ہٹا نہیں سکتا۔
خواب کی تعبیر آنے والے دنوں کے بارے میں اسے پہلے ہی فکرمند بنا چکی تھی۔ اور ملک کے حالات بھی کوئی بہت بہتر نہیں تھے۔ تو اس کے ذہن نے یہ فیصلہ کیا کہ آج کے دور کا اگر کوئی مرد کار ہوسکتا ہے تو وہ یہی شخص ہے، میں کیوں نہ اسے اپنا معتمدِخاص بنا لوں اور اس کے ناخن تدبیر سے نہ صرف ملک کے حالات کو بہتر کروں بلکہ آنے والے حالات میں بھی اس کی ذہانت و فطانت سے کام لوں۔ چناچہ حکم دیا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو میرے پاس لائو تاکہ میں اسے اپنا معتمدِ خاص بنائوں۔ چناچہ آپ کو بادشاہ کے پاس لایا گیا۔ دونوں میں ملاقات ہوئی۔ بادشاہ نے ملکی حالات پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے گفتگو کی۔ یقینا اس میں ملک کے انتظامی، دینی اور اخلاقی مسائل بھی زیربحث آئے ہوں گے اور ہر طرح کے معاملے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی رائے دی ہوگی۔ اس سے پہلے تو بادشاہ بعض حیران کن باتوں سے یوسف ( علیہ السلام) کا گروید تھا اب جب اسے ملاقات کا موقع ملا اور تفصیل سے باتیں ہوئیں تو تب اسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں صحیح صورتحال جاننے کا موقع ملا۔ اس نے جیسا کچھ اندازہ کیا تھا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس سے کہیں بڑھ کر پایا۔ چناچہ پہلے تو اس کا خیال صرف یہ تھا کہ میں اسے اپنے لیے خاص کرلوں گا، وہ میرا معتمد بن کے رہے گا اور اس کی حیثیت میرے مشیر کی ہوگی، لیکن اب اس نے بےساختہ پیشکش کی کہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) اس ملک کا اقتدار سنبھالیں۔ آپ ( علیہ السلام) مکین بھی ہیں اور امین بھی۔ بائبل میں کہا گیا ہے کہ فرعون نے یوسف ( علیہ السلام) سے کہا (سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی، فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا… دیکھ میں تجھے سارے ملک مصر کا حاکم بناتا ہوں… اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا ہاتھ یا پائوں ہلانے نہ پائے گا۔ (پیدائش :۔ 41، 39، 45) اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ کو مکین اور امین کہہ کر جس بات کی پیشکش کی گئی تھی اس کا مفہوم کیا تھا۔
قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ ج اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 55)
(حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا مجھے ملک کے ذرائع آمدنی پر مامور کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مطالبہ
گزشتہ آیت میں بیان کردہ پیشکش کے جواب میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہوں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے تمام ذرائع اور وسائل جن کا تعلق آمدنی سے ہے اور جن کی وجہ سے ملک چلتا ہے انھیں میرے حوالے کردیجیے کیونکہ عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کبھی ریاستیں بہتر لوگوں کو کسی بھلائی کی خاطر اپنے اختیارات میں شریک کرتی ہیں تو عموماً مالی اختیارات انھیں نہیں دیئے جاتے کیونکہ حقیقت میں جس شخص کے ہاتھ میں مالی امور ہوتے ہیں اصل اختیار اسی کے پاس ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے خزائنِ ارض کے الفاظ اور آگے چل کر غلہ کی تقسیم کا ذکر دیکھ کر قیاس کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو شاید افسرِ خزانہ یا افسرِ مال یا قحط کمشنر یا وزیر مالیات یا وزیر خوراک کی قسم کا کوئی عہدہ دیا گیا تھا۔ لیکن ہم بائبل سے جو حوالے دے چکے ہیں اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس سے مراد سلطنتِ مصر کا مکمل اقتدار تھا۔ تورات کی پیدائش 41 اور 44 میں ہے کہ پھر فرعون نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا دیکھ میں نے تجھے ساری زمین مصر پر حکومت بخشی اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ سے نکال کر یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ میں پہنا دی۔ تب اس کے آگے منادی کی گئی کہ سب ادب سے رہو اور اس نے اسے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور یوسف ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) کو کہا میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ یا پائوں نہ اٹھائے گا۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ اختیارات کس غرض کے لیے مانگے تھے۔ انھوں نے اپنی خدمات اس لیے پیش کی تھیں کہ ایک کافر حکومت کے نظام کو اس کے کافرانہ اصول و قوانین ہی پر چلائیں یا ان کے پیش نظر یہ تھا کہ حکومت کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر ملک کے نظام تمدن و اخلاق و سیاست کو اسلام کے مطابق ڈھال دیں۔ صاحب تفہیم القرآن نے اس کے جواب میں ایک نوٹ لکھا ہے، ہم اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
اس سوال کا بہترین جواب وہ ہے جو علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر ” کشاف “ میں دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
” حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اجعلنی علی خزائن الارض جو فرمایا تو اس سے ان کی غرض صرف یہ تھی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے احکام جاری کرنے اور حق قائم کرنے اور عدل پھیلانے کا موقع مل جائے اور وہ اس کام کو انجام دینے کی طاقت حاصل کرلیں جس کے لیے انبیاء ( علیہ السلام) بھیجے جاتے ہیں۔ انھوں نے بادشاہی کی محبت اور دنیا کے لالچ میں یہ مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ جانتے ہوئے کیا تھا کہ کوئی دوسرا شخص ان کے سوا ایسا نہیں ہے جو اس کام کو انجام دے سکے۔ “
اور سچ یہ ہے کہ یہ سوال دراصل ایک اور سوال پیدا کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ اہم اور بنیادی سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) آیا پیغمبر بھی تھے یا نہیں ؟ اگر پیغمبر تھے تو کیا قرآن میں ہم کو پیغمبری کا یہی تصور ملتا ہے کہ اسلام کا داعی خود نظام کفر کو کافرانہ اصولوں پر چلانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے ؟ بلکہ یہ سوال اس پر بھی ختم نہیں ہوتا، اس سے بھی زیادہ نازک اور سخت ایک دوسرے سوال پر جا کر ٹھہرتا ہے، یعنی یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ایک راستباز آدمی بھی تھے یا نہیں ؟ اگر راستباز تھے تو کیا ایک راستباز انسان کا یہی کام ہے کہ قید خانے میں تو وہ اپنی پیغمبرانہ دعوت کا آغاز اس سوال سے کرے کہ ” بہت سے رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے۔ “ اور بار بار اہل مصر پر بھی واضح کردے کہ تمہارے ان بہت سے متفرق خودساختہ خدائوں میں سے ایک یہ شاہ مصر بھی ہے اور صاف صاف اپنے مشن کا بنیادی عقیدہ یہ بیان کرے کہ ” فرمانروائی کا اقتدار خدائے واحد کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ “ مگر جب عملی آزمائش کا وقت آئے تو وہی شخص خود اس نظام حکومت کا خادم بلکہ ناظم اور محافظ اور پشت پناہ تک بن جائے جو شاہ مصر کی ربوبیت میں چل رہا تھا اور جس کا بنیادی نظریہ ” فرمانروائی کے اختیارات خدا کے لیے نہیں بلکہ بادشاہ کے لیے ہیں “ تھا ؟
حقیقت یہ ہے کہ اس مقام کی تفسیر میں دورانحطاط کے مسلمانوں نے کچھ اسی ذہنیت کا اظہار کیا ہے جو کبھی یہودیوں کی خصوصیت تھی۔ یہ یہودیوں کا حال تھا کہ جب و ذہنی و اخلاقی پستی میں مبتلا ہوئے تو پچھلی تاریخ میں جن جن بزرگوں کی سیرتیں ان کو بلندی پر چڑھنے کا سبق دیتی تھیں ان سب کو وہ نیچے گرا کر اپنے مرتبے پر اتار لائے تاکہ اپنے لیے اور زیادہ نیچے گرنے کا بہانہ پیدا کریں۔ افسوس کہ یہی کچھ مسلمانوں نے بھی کیا۔ انھیں کافر حکومتوں کی چاکری کرنی تھی مگر اس پستی میں گرتے ہوئے اسلام اور اس کے علمبرداروں کی بلندی دیکھ کر انھیں شرم آئی، لہٰذا اس شرم کو مٹانے اور اپنے ضمیر کو راضی کرنے کے لیے یہ اپنے ساتھ اس جلیل القدر پیغمبر کو بھی خدمت کفر کی گہرائی میں لے گرے جس کی زندگی دراصل انھیں یہ سبق دے رہی تھی کہ اگر کسی ملک میں ایک اور صرف ایک مرد مومن بھی خالص اسلامی اخلاق اور ایمانی فراست و حکمت کا حامل ہو تو وہ تن تنہا مجرد اپنے اخلاق اور اپنی حکمت کے زور سے اسلامی انقلاب برپا کرسکتا ہے اور یہ کہ مومن کی اخلاقی طاقت (بشرطیکہ وہ اس کا استعمال جانتا ہو اور اسے استعمال کرنے کا رادہ بھی رکھتا ہو) فوج اور اسلحہ اور سروسامان کے بغیر بھی ملک فتح کرسکتی ہے اور سلطنتوں کو مسخر کرلیتی ہے۔
Ayahs 12:56–57وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ج یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ ط نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآئُ وَلاَنُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَلَاَجْرُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 56، 57)
(اور اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف ( علیہ السلام) کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ اس میں جہاں چاہے متمکن ہو۔ ہم اپنے فضل سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں۔ اور ہم خوبکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔ اور آخرت کا اجر کہیں بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور تقویٰ پر قائم رہے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کلی اقتدار
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور بادشاہ کی ملاقات کے بعد جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کی اقتدار کی پیشکش قبول کرلی تو پروردگار نے اس آیت میں اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ اس طرح سے ہم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مکمل طور پر مصر کا حکمران بنادیا۔ ملک کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا جو آپ ( علیہ السلام) کے اقتدار سے باہر ہو۔ آپ ( علیہ السلام) جہاں چاہتے، جاسکتے تھے۔ اپنا ٹھکانہ بنا سکتے تھے، کسی جگہ بھی فروکش ہوسکتے تھے، ہر جگہ کا دورہ کرسکتے تھے اور ہر جگہ کے نظم و نسق میں تبدیلی پیدا کرسکتے تھے۔ ہمارے قدیم مفسرین نے اس کا یہی مفہوم سمجھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس طرح مطلق العنان حکمران بن گئے تھے کہ اگر آپ ( علیہ السلام) چاہتے تو فرعون کو بھی اپنا زیردست بنا سکتے تھے۔ مجاہد ( رح) کا قول نقل کیا گیا ہے جو مشہور آئمہ تفسیر میں سے ہیں کہ بادشاہِ مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا۔
خوب کاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ
آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے میں دو حقیقتیں واضح فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ درحقیقت تمام اختیار و اقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب کسی کو اپنے فضل و رحمت سے نوازنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ وہ ایک قیدی کو زنداں سے نکال کر تخت حکومت پر پہنچانے کا فیصلہ کرلے تو اس کی قدرت و مشیت سے کوئی بعید نہیں اور دوسری یہ بات کہ اس کے راستے پر چلنے والے چاہے کیسے ہی حالات میں مبتلا کیوں نہ ہوں اور کیسی کیسی آزمائشوں سے انھیں واسطہ کیوں نہ پڑے اگر وہ اس میں استقامت کا ثبوت دیں تو اللہ تعالیٰ کبھی ان کا اجرضائع نہیں کرتا۔ دنیا میں بھی صلہ دیتا ہے اور آخرت میں تو صلہ نہ ملنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی کو دنیا میں کس طرح کا صلہ دیا جائے اور اسے کس حال میں رکھا جائے اور جہاں تک آخرت میں صلہ کا تعلق ہے اس میں سب کے لیے جنت کی نوید سنائی گئی ہے۔ البتہ مدارج مختلف ہوسکتے ہیں۔ دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ اہل ایمان کو اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ صلہ تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی دیتا ہے لیکن آخرت کا اجر وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور یہ انھیں لوگوں کا حصہ ہے جو ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اللہ تعالیٰ کی ہر طرح کی نافرمانی سے لرزاں اور ترساں رہیں۔
Ayah 12:58وَجَآئَ اِخْوَۃُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَعَرَفَھُمْ وَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 58)
(اور ایک روز آنکلے برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے سو آپ ( علیہ السلام) نے انھیں پہچان لیا لیکن وہ آپ کو پہچان نہ سکے۔ )
برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کی حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری
گزشتہ آیت سے پیوستہ آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر کے اقتدار تک پہنچا دیا اور آپ ( علیہ السلام) نے حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے خاص طور پر زمین کے وسائل اور خزائن اپنی تحویل میں لینے کی درخواست کی کیونکہ بادشاہ کے خواب کی تعبیر کے مطابق ملک میں جو صورتحال چند سالوں کے بعد پیش آنے والی تھی آپ کے سوا کسی کو اس کا ادراک تھا اور نہ اس کے حل کرنے کی صلاحیت تھی۔ چناچہ ملک کی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جس کی وجہ سے ملک کے وسائل آپ کی گرفت میں آگئے۔ چناچہ آپ نے آنے والے خطرناک حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ممکن احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لانا شروع کیا۔ بنجر زمینیں آباد کرائیں، لوگوں کو کاشتکاری میں محنت کرنے پر آمادہ کیا، پیداوار کی حفاظت کے لیے جگہ جگہ ملک میں گودام تعمیر کیے۔ جو غلہ فوری ضرورت سے زائد ہوتا اسے خوشوں ہی میں چھوڑنے کا اہتمام کیا تاکہ اسے ہر طرح کے کیڑے سے محفوظ رکھا جاسکے۔ چناچہ پہلے سات سال خوب بارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں بھرپور پیداوار پیدا ہوئی۔ لوگوں کی ضرورت سے بچا کر گودام غلے سے بھر دیئے گئے اور اس طرح آئندہ سات سالوں میں قحط سالی کی جو مصیبت پیش آنے والی تھی اس کی پیش بندی کا اہتمام کیا گیا۔ چناچہ پہلے سات سال گزرنے کے بعد جب دوسرے سات سال شروع ہوئے، بارشیں برسنا بند ہوگئیں، پانی کے ذخیروں میں کمی آنا شروع ہوگئی، دریائے نیل پایاب ہو کر رہ گیا بلکہ آہستہ آہستہ خشک ہوتا چلا گیا، ہر طرف ویرانی برسنے لگی، قحط سالی نے بسیرا کرلیا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گزشتہ سالوں میں پیش بندی کی وجہ سے مصر قحط کے اثرات سے محفوظ رہا اور آپ کے حسن انتظام کی وجہ سے اہل مصر کے لیے ہر شخص کی ضروریات کے لیے غلہ مہیا ہونے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی لیکن قحط سالی کے اثرات صرف مصر تک محدود نہیں تھے بلکہ خشک سالی نے اڑوس پڑوس کے ممالک کو بھی
اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ وہاں چونکہ ایسی کوئی پیش بندی نہیں کی گئی تھی اس لیے وہاں قحط نے بری طرح اپنے پنجے گاڑدیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ بھوکوں مرنے لگے، لیکن رفتہ رفتہ جب ان ملکوں میں مصر کی خوشحالی اور حُسنِ انتظام کی خبریں پہنچیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہاں کا حکمران ایک ایسا خدا ترس آدمی ہے جسے صرف اپنے ملک کے رہنے والوں کی ہی فکر نہیں بلکہ بیرونی ممالک کے آنے والے انسانوں کی ضروریات کو بھی وہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ چناچہ لوگوں نے مصر کا رخ کرنا شروع کیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس صورتحال سے عہدہ برا ہونے کے لیے راشننگ کا سسٹم شروع کیا۔ ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق ایک معین مقدار میں غلہ دیا جانے لگا اور بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے یہ پابندی لگائی گئی کہ وہ عام راشن ڈپوئوں سے غلہ حاصل نہیں کرسکیں گے بلکہ انھیں براہ راست حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس کی منظوری لینا ہوگی اور منظوری کے بعد ہر شخص کو ایک بارشتر دیا جائے گا۔ چناچہ اسی پابندی کی وجہ سے جب آپ ( علیہ السلام) کے بھائی قحط سالی سے تنگ آکر مصر میں غلہ لینے کے لیے پہنچے تو انھیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ چناچہ جیسے ہی برادرانِ یوسف آپ ( علیہ السلام) کے سامنے آئے تو آپ ( علیہ السلام) نے انھیں دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ جب انھوں نے آپ ( علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکا تھا تو وہ عمروں کے فرق کے ساتھ بھرپور جوانیوں کے حامل تھے۔ اب اگرچہ وہ پختہ عمر کو پہنچ رہے تھے لیکن ماہ و سال کی گردش نے ان میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا نہیں کی تھی کہ آپ انھیں پہچان نہ سکتے لیکن آپ ( علیہ السلام) کی شکل و صورت میں واضح تبدیلی پیدا ہوچکی تھی کیونکہ جب آپ ( علیہ السلام) اپنے گھر سے جدا ہوئے تو آپ ( علیہ السلام) الہڑ عمر کے لڑکے تھے۔ ابھی آپ ( علیہ السلام) کی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں اور ابھی شباب آپ ( علیہ السلام) کہ چہرے سے ہویدا نہیں ہوا تھا۔ تقریباً ربع صدی کا زمانہ گزرنے کے بعد آپ کے بھائی آپ ( علیہ السلام) کو اس حال میں دیکھ رہے تھے کہ جس معصوم لڑکے کو انھوں نے کنویں میں پھینکا تھا وہ اب جوانی کی حدود سے نکل رہا تھا۔ لڑکپن اور جوانی اپنا خاص انداز رکھتے ہیں اور جب ایک شخص عمر کی پختگی کو چھو رہا ہو تو اس کی شکل و صورت میں ایسی تبدیلی کا آنا ناگزیر ہے جس سے پہچان اور شناخت میں دشواری پیدا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہ وہ اپنے اس بھائی کے بارے میں جسے انھوں نے کنویں میں پھینک کر اپنے راستے سے ہٹا دیا تھا کہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ وہ شاہانہ لباس میں ملبوس تخت سلطنت پر فائز ہوگا اور سینکڑوں ملازم اور غلام اس کی چاکری بجا لارہے ہوں گے۔ اس لیے وہ آپ ( علیہ السلام) کی پہچان میں بالکل ناکام رہے اور وہ یہی سمجھتے رہے کہ ہم ایک ایسے حکمران کے سامنے کھڑے ہیں جس سے ہمارا کوئی رشتہ کبھی نہیں رہا۔
Ayahs 12:59–60وَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ قَالَ ائْتُونِیْ بِاَخٍ لَّکُمْ مِّنْ اَبِیْکُمْ ج اَلاَ تَرَوْنَ اَنِّیْ ٓ اُوْفِی الْکَیْلَ وَاَنَا خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِہٖ فَلاَکَیْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ وَلاَ تَقْرَبُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 59، 60)
(سو جب اس نے ان کا سامان تیار کرلیا تو فرمایا کہ اب کے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لانا، کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور میں کتنا بہتر مہمان نواز ہوں۔ اور اگر تم اسے نہ لے کے آئے تو نہ تمہارے لیے میرے پاس غلہ ہے اور نہ تم میرے پاس پھٹکنا) ۔
بھائیوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ترغیب
معلوم ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے ہر شخص کو اپنے اہل خانہ کی تفصیل بتانا پڑتی تھی اور پھر ہر شخص کے لیے ایک بار شتر غلہ دیا جاتا تھا۔ اسی حوالے سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے اہل خانہ کے بارے میں بھی بتایا کہ ہم دس تو آپ کے سامنے ہیں لیکن ایک ہمارے والد ماجد ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتے اور دوسرے ہمارے ایک اور چھوٹے بھائی ہیں جنھیں ہم اپنے والد صاحب کی دیکھ بھائی کے لیے گھر چھوڑ آئے ہیں۔ ہمیں ان کے حصے کا بھی غلہ عطا فرمایئے۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہارے والد صاحب کی کمزوری اور بڑھاپا واقعی ایک ایسا عذر ہے جس کی وجہ سے وہ سفر نہیں کرسکتے اس لیے ہم ان کے حصے کا غلہ ضرور دیں گے لیکن جہاں تک تمہارے بھائی کا تعلق ہے اس کے حصے کا غلہ اس وقت تو ہم دے رہے ہیں لیکن آئندہ اسے ساتھ لے کے آنا ورنہ ہم اس کے حصے کا غلہ نہیں دیں گے بلکہ اسے نہ لانے کی صورت میں ہمارے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ اس کے نہ آنے کا مطلب یہ ہوگا کہ تم ہم سے جھوٹ بول رہے ہو اور ساتھ ہی اس کے ترغیب بھی دی اور ترہیب سے بھی کام لیا۔ ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ میں بیرونِ ملک سے آنے والوں کے ساتھ کس قدر محبت اور مروت سے پیش آتا ہوں کہ انھیں پیمانہ بھر کے غلہ دیتا ہوں۔ اس لیے تمہیں اپنے بھائی کو ساتھ لے کہ آنا چاہیے اور ترہیب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حالات میں کہ غلہ تمہاری ایسی ضرورت ہے جس سے تم صرف نظر نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود بھی اگر تم بھائی کو لے کے نہ آئے تو پھر میرے قریب آنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ میں جھوٹ بولنے والوں کو برداشت نہیں کرتا۔
Ayah 12:61قَالُوْا سَنُرَا وِدُ عَنْہُ اَبَاہُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 61)
(انھوں نے کہا ہم اس کے بارے میں اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔ )
بھائیوں کا خواب
سَنُرَا وِدُکا مصدر مراودت ہے۔ اس کے معنی ہوتے ہیں بہلانا پھسلانا یعنی دوسرے کو سخن سازی، ملائمت یا دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کرنا۔ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملے میں ایک خیانت کا ارتکاب کرچکے تھے۔ انھوں نے اپنے والد ماجد کو آپ ( علیہ السلام) کی حفاظت کا پورا یقین دلایا تھا اور پھر وعدہ شکنی کرتے ہوئے ان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ وہ اپنی اس کرتوت سے پوری طرح باخبر تھے۔ اسی احساس کے تحت انھوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یقین دلایا کہ ہم بن یامین کے والد ماجد کو ہر ممکن طریقے سے یقین دلائیں گے کہ ہم ان کے بیٹے کی حفاظت کریں گے تاہم ممکن ہے وہ ہماری بات پر اعتبار نہ کریں (کیونکہ ان کے دل کا چور بار بار ان کے اندر یہ اندیشہ پیدا کررہا تھا) لیکن ہم ہر صورت میں اپنی سی کوشش کر دیکھیں گے۔ اگر اس کے باوجود بھی ہمارے ساتھ بیٹے کو بھیجنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو پھر ہمیں معذور سمجھا جائے۔
Ayah 12:62وَقَالَ لِفِتْیٰـنِہِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَہُمْ فِیْ رِحَالِہِمْ لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُوْنَھَآ اِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓی اَھْلِہِمْ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 62)
(حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ ان کا دیا ہوا مال (خاموشی سے) سے ان کی خورجیوں ہی میں ڈال دو ، کہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں پہنچیں اس کو پہچانیں تاکہ وہ لوٹ کے آئیں۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا احسان
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی زبانی یہ معلوم ہوچکا تھا کہ ان کے مالی حالات نہایت مخدوش ہیں۔ بنابریں اس بات کا اندیشہ تھا کہ وہ مالی مشکلات کی وجہ سے دوبارہ غلہ لینے کے لیے نہ آسکیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) شدید خواہش رکھتے تھے کہ کسی طرح ان کا چھوٹا بھائی ان کے پاس پہنچ جائے تاکہ اسے بھائیوں کی ایذارسانی سے محفوظ رکھا جاسکے۔ چناچہ اس کے حل کے طور پر انھوں نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ جو پونجی انھوں نے غلہ لینے کے لیے پیش کی ہے اسے چپکے سے ان کے سامان میں ڈال دیا جائے تاکہ اپنے گھر جا کر جب وہ سامان کھولیں تو اس میں اپنی پونجی پا کر وہ نہایت خوش ہوں گے اور اب واپسی کا ارادہ کرنے میں انھیں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی اور اس خوشی اور حُسنِ سلوک کی وجہ سے وہ اپنے بھائی کو لانے میں مزید کوشش کریں گے۔
Ayahs 12:63–64فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓی اَبِیْھِمْ قَالُوْا یٰٓـاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَکْتَلْ وَاِنَّا لَہٗ لِحٰفِظُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلاَّ کَمَآ اَمِنْتُکُمْ عَلٰٓی اَخِیْہِ مِنْ قَبْلُ ط فَاللّٰہُ خَیْرٌحٰفِظًا ص وَّھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 63، 64)
(پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس لوٹے تو عرض کرنے لگے کہ اے ہمارے ابا جان ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے، سو آپ ( علیہ السلام) ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور ہم اس کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : کیا میں اعتماد کروں تم پر، اس کے بارے میں۔ بجز اس کے کہ جیسے میں نے اعتماد کیا تھا تم پر، اس کے بھائی کے بارے میں اس سے پہلے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ )
بیٹوں کی گزارش اور باپ کا جواب
برادرانِ یوسف جب سفر سے واپس اپنے گھر پہنچے اور باپ کی خدمت میں حاضری دی تو سفر کی روداد سناتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس سفر کا سب سے اہم واقعہ یہ ہے کہ آئندہ کے لیے ہمیں غلہ سے محروم کردیا گیا ہے کیونکہ وہاں ہر شخص کو حاضری کی بنیاد پر غلہ ملتا ہے۔ جب ہم نے عزیز مصر کو بتایا کہ ہم گھر کے بارہ افراد ہیں، دس آپ کے سامنے ہیں اور ایک ہمارے والد ماجد ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتے اور ایک ہمارا چھوٹا بھائی ہے جسے والد کی دیکھ بھال کے لیے ہم گھر چھوڑ آئے ہیں۔ تو عزیز مصر نے کہا کہ اس دفعہ تو میں تمہاری بات کا اعتبار کرکے تمہیں بارہ افراد کا غلہ دے رہا ہوں لیکن آئندہ کے لیے اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر آئو کیونکہ اس کے لیے سفر نہ کرنے کا کوئی عذر نہیں اور اگر تم بھائی کو ساتھ لے کر نہ آئے جبکہ تمہیں ایک ایک آدمی کے لیے غلے کی ضرورت ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور میں جھوٹوں کو ہرگز غلہ دینے کا روادار نہیں۔ اب اگر ہمیں غلہ لینے کے لیے جانا ہے اور یقینا ہماری ضرورت کا یہی تقاضا ہے تو پھر بن یامین کو ساتھ لے جانا ضروری ہے ورنہ عزیز مصر ہمیں منہ لگانے کے لیے بھی تیار نہ ہوگا۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) بن یامین کو ہمارے ساتھ بھیجئے، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ہر طرح اس کی حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کا مطالبہ سن کر فرمایا کہ اگر میں تمہارے وعدے پر اعتماد کرکے اسے تمہارے ساتھ بھیج دوں تو یہ اعتماد ایسا ہی ہوگا جیسا اس سے پہلے میں یوسف ( علیہ السلام) کے بارے میں اعتماد کرکے ایک خطرناک غلطی کرچکا ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کچھ دیر رک کر فرمایا کہ اگر حالات کا جبر ایسا ہی ہے کہ بن یامین کو ضرور بھیجا جائے تو پھر میں اسے تمہارے اعتماد پر نہیں بھیجوں گا بلکہ اس یقین کے ساتھ بھیجوں گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حفاظت کرنے والا ہے، اس کی ذات نہایت رحیم و کریم ہے۔ پہلے ایک زخم اگر مجھے پہنچ چکا ہے تو اب انشاء اللہ تعالیٰ مزید کسی آزمائش میں وہ مجھے مبتلا نہیں فرمائے گا اور میری حفاظت کرے گا۔
Ayah 12:65وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَہُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَھُمْ رُدَّتْ اِلَیْھِمْ ط قَالُوْا یٰـٓاَبَانَا مَانَبْغِیْ ط ھٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَاج وَنَمِیْرُ اَھْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَرْدَادُکَیْلَ بَعِیْرٍ ط ذٰلِکَ کَیْلٌ یَّسِیْرٌ۔ (سورۃ یوسف : 65)
(اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولاتو دیکھا کہ ان کی پونجی بھی ان کو لوٹادی گئی ہے تو وہ کہنے لگے کہ ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے، یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے۔ اب ہم ضرور جائیں گے اور اپنے اہل خانہ کے لیے رسد لے کر آئیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک بار شتر غلہ زیادہ حاصل کریں گے۔ یہ غلہ بہت تھوڑا ہے۔ )
بھائیوں کی خوشی
والد صاحب کے ساتھ گفتگو سے فارغ ہو کر اپنے سامان کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ جو غلہ مصر سے لے کے آئے ہیں اسے سنبھال سکیں۔ چناچہ جیسے ہی انھوں نے غلہ اپنے کجاو وں سے نکالا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ غلے کی جو قیمت انھوں نے ادا کی تھی وہ ان کے سامان میں رکھ دی گئی ہے، گویا ان کی تمام پونجی انھیں واپس کردی گئی ہے اور غلہ احسان کے طور پر دیا گیا ہے۔ وہ اگرچہ عزیز مصر کا حُسنِ سلوک دیکھ کر پہلے بھی متأثر تھے لیکن یہ تو انھیں خیال بھی نہ تھا کہ ہم سے غلے کی قیمت تک نہ لی جائے گی۔ چناچہ اپنی پونجی کو دیکھتے ہی خوشی سے کھل اٹھے۔ فوراً اپنے والد گرامی کی طرف متوجہ ہوئے۔ کہا ابا جان ! ہماری لیے اصل مسئلہ غلے کی قیمت کی فراہمی ہے جس کی وجہ سے ہمیں غلے کے لیے جانے میں شدید تأمل ہوتا ہے۔ دیکھئے یہ پونجی بھی ہمیں عزیز مصر نے واپس کردی ہے، اب ہمیں اور کیا چاہیے۔ انھوں نے خوشی سے بےقابو ہوتے ہوئے کہا کہ اب تو ہم ضرور جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے کر آئیں گے۔ نَمِیْرُ مَارَیَمِیْرُ سے ہے۔ اس کا معنی ہے اپنی اہل و عیال کے لیے ضروریات کا فراہم کرنا۔ اس سے پہلے معطوف علیہ محذوف ہے۔ اب ہم ضرور جائیں گے اور سامانِ رسد لے کر آئیں گے۔ رہا، عزیزِ مصر کا مطالبہ کہ چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر آئو تو ہم اپنے بھائی کو بھی ساتھ لے کر جائیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ وہ اپنے سامان میں اپنی پونجی پا کر اس حد تک خوش تھے کہ ان کی ایک ایک بات سے خوشی پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
Ayah 12:66قَالَ لَنْ اُرْسِلَہٗ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاْ تُنَّنِیْ بِہٖٓ اِلاَّ ٓ اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ ج فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَھُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔ (سورۃ یوسف : 66)
(حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : میں بن یامین کو ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک تم میرے ساتھ خدا کے نام پر عہد نہ کرو کہ تم اسے ضرور میرے پاس لے کر آئو گے۔ الا یہ کہ تم بےبس کردیئے جاؤ۔ پس جب وہ لے آئے آپ ( علیہ السلام) کے پاس اپنا پختہ وعدہ تو آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو قول وقرار ہم کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہے۔ )
باپ کا بیٹوں سے عہد
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک بار شتر غلہ کے بدلے میں، میں اپنے بیٹے کو بھیجنے کے لیے ہرگز تیار نہیں، لیکن اگر تمہیں زیادہ ہی اصرار ہے تو پھر تم مجھ سے اللہ تعالیٰ کے نام پر ایک پختہ عہد کرو کہ تم ہر قیمت پر اپنے چھوٹے بھائی کو واپس اپنے ساتھ لائو گے۔ بجز اس کے کہ تمہیں کہیں گھیر لیا جائے، تم حالات کی گرفت میں آجاؤ یا کسی وجہ سے دشمن تمہیں پکڑ لے یا حکومت تمہیں گرفتار کرلے تو ایسی صورت میں تمہارا عذر مسموع ہوسکتا ہے ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ تم نے نقض عہد کیا ہے۔ چناچہ تمام بیٹوں نے بیک وقت اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنی بات کا پختہ عہد دیا کہ ہم بھائی کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ اس پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم جو آپس میں قول وقرار کررہے ہیں اور تم مجھے ایک عہد دے رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ نگران ہے۔ وہ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور کل ہم سب سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
Ayah 12:67وَقَالَ یٰبَنِیَّ لاَ تَدْخُلُوْا مِنْ م بَابٍ وَّاحِدٍوَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ ط وَمَآ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ ط اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ للّٰہِ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ ج وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 67)
(حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے بیٹو ! تم سب ایک ہی دروازے میں سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں اللہ تعالیٰ کے مقابل میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ حکم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ )
ایک مصلحت آمیز ہدایت
برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) جب عازم سفر ہونے لگے تو والدگرامی نے بلا کر کچھ نصیحتیں فرمائیں۔ ان میں سے ایک نصیحت یہ تھی کہ جب تم مصر پہنچو تو شہر میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ شہر کے مختلف دروازوں میں ایک ایک دو دو کرکے داخل ہونا۔ اس سے ہمیں پہلی بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت معمول کے مطابق شہر کی ایک فصیل تھی جس میں مختلف دروازے تھے۔ باہر سے آنے والوں کو کسی نہ کسی دروازے سے داخل ہونا پڑتا تھا اور دروازوں پر یقینا حکومت کی جانب سے محافظ بھی مقرر ہوں گے اور وہ یقینا باہر سے آنے والے ہر شخص کو تحقیق و تفتیش کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔ بالخصوص ایسے لوگ جو بیرون ملک سے آئیں اور ان کا تعلق قبائلی علاقے سے ہو تو ان پر یقینا محافظوں کی خصوصی نگاہ رہتی ہوگی کیونکہ عموماً حکومتوں کو قبائلی علاقوں کے لوگوں کی طرف سے شکایات رہا کرتی ہیں۔ متحدہ ہندوستان میں انگریز حکومت ہمیشہ قبائلی علاقے کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے۔ اسی حوالے سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو نصیحت فرمائی کہ تم قبائلی علاقے کے رہنے والے ہو اور پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے شہریوں کی نسبت زیادہ قدکاٹھ، مضبوط صحت اور خوبصورتی عطا کی ہے۔ تم گیارہ کی تعداد میں جب ایک ساتھ کسی دروازے میں داخل ہونے کی کوشش کرو گے تو خواہی نخواہی نگاہیں تمہاری طرف اٹھیں گی۔ ایسی صورتحال مختلف امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثلاً سرکاری کارندے آپ لوگوں کو خطرناک سمجھ کر گرفتار کرنے کی کوشش کریں یا اوباش لوگ آپ لوگوں کی وضع قطع دیکھ کر یہ سمجھیں کہ یہ کوئی کاروباری اور خوشحال لوگ معلوم ہوتے ہیں اس لیے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ اس طرح کے امکانات کے پیش نظر آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کی صورت میں تم ایسے کسی بھی نقصان سے بچ سکتے ہو۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو نظربد سے بچانے کے لیے یہ حکم دیا اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ نظر حق ہے۔ ایک روایت میں آپ ﷺ سے مروی ہے کہ نظر بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ ان کلماتِ طیبات سے دم فرمایا کرتے تھے اَعُوْذُبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَۃِ مِنْ کِلِّ شَیْطٰنٍ وَہَّامَۃٍ وَمِنْ کُلِ عَیْنٍ لاَمَّۃٍ اسی لیے ہدایت کی گئی ہے کہ جس شخص کو اپنے متعلق یہ خیال ہو کہ اس کی نظر لگتی ہے تو اسے چاہیے کہ جب کسی چیز کو دیکھے اور وہ پسند آئے تو کہے تَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِاور جس کو نظر کی وجہ سے تکلیف پہنچے تو جس کی نظر سے تکلیف ہوئی ہو اسے غسل کرنے کا حکم دیا جائے۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس نصیحت کے ساتھ یہ تنبیہہ بھی فرمائی کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ محض ایک احتیاطی تدبیر ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ تدبیر تمہیں تقدیر سے بچا سکتی ہے۔ اگر خدا نے تمہارے لیے کوئی چیز لکھ دی ہے تو وہ اٹل ہے، اسے روکنے اور بدلنے کا کسی کو اختیار نہیں کیونکہ اس کائنات میں اصل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے، حکم صرف اسی کا چلتا ہے۔ میں بھی اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور جو لوگ بھی بھروسہ کرنا چاہتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ لیکن بھروسہ اور توکل کا مطلب ترک تدبیرہرگز نہیں۔ جو ممکن تدبیر ہوسکتی ہو اسے ضرور بروئے کار لایا جائے لیکن بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو، اسی کا نام توکل ہے۔
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر اس خنجر کی تیزی کو مقدر کے حوالے کر