Ayah 12:106وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلاَّ وَھُمْ مُّشْرِکُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 106)
(اور ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے مگر اس طرح کہ ساتھ ہی اس کے شریک بھی ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ )
آیت کے دو مفہوم : دیدہ عبرت سے محرومی، شفعاء پر تکیہ
حقیقت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن بظاہر اس آیت کریمہ کے دو مطلب ذہن میں آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انسان کی بدنصیبی کا حال یہ ہے کہ اگر وہ مخلوقات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو بطور خالق تسلیم بھی کرلیتا ہے اور مان لیتا ہے کہ واقعی ایک اللہ تعالیٰ ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک ہے، لیکن ساتھ ہی وہ بہت سی قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بھی ٹھہراتا ہے۔ کسی نے اس کی ذات میں شریک ٹھہرایا، کسی نے صفات میں اور کسی نے حقوق میں۔ یہ بدنصیبی صرف اس بات کا نتیجہ ہے کہ وہ زمین و آسمان کی نشانیوں کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ورنہ انھیں شرک کے لیے کہیں گنجائش نہ ملتی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانتے ہیں، اسے کائنات کا مالک سمجھتے ہیں، لیکن نبی کریم ﷺ کی دعوت کو خالصتاً قبول کرنے کے لیے اس لیے تیار نہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے کئی شریک بنا رکھے ہیں اور ان شرکاء کو اللہ تعالیٰ کے یہاں شفعاء کا درجہ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اگر واقعی قیامت آہی گئی اور وہاں ہمیں اپنا حساب دینا پڑا تو ہمیں اس کی کیا فکر ہے جنھیں ہم نے زندگی بھر پکارا اور پوجا اور ان کے نام کی قربانیاں دیں اور ان کی جے پکاری، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی بازپرس سے پناہ نہ دیں۔ وہ ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ نہ رکھیں۔ مشرکینِ مکہ عام طور پر فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں مانتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور انھیں اس بات کا یقین تھا کہ بیٹیاں اپنے باپ کو ہمیشہ زیادہ پیاری ہوتی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی وجہ سے پکڑا تو بیٹیاں ضد کرکے ہمیں چھڑا لیں گی۔ شفاعت کا یہ جھوٹا تصور درحقیقت جزا و سزا کے تصور کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام تو اس بات پر زور دیتا ہے کہ تم جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ ہر نیکی کی جزا ملے گی اور ہر برائی کی سزا ملے گی۔ ہر شخص اپنی چھوٹی بڑی نیکی اور برائی کو دیکھے گا اور اسی کے مطابق اس کا انجام ہوگا اور یہی وہ تصور ہے جو انسان کو اپنی اصلاح پر آمادہ کرتا ہے لیکن اگر اسے یہ بتادیا جائے کہ تم چاہے کچھ بھی کرتے پھرو کوئی تمہیں پکڑنے والا نہیں۔ اور اگر پکڑے بھی گئے تو تمہارے سفارشی تمہیں چھڑا لیں گے۔ تو اندازہ فرمائیے اس کے بعد ایمان و عمل کی کیا قدر و قیمت رہ جاتی ہے۔ مشرکینِ مکہ اسی شرک کی وجہ سے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ آپ ﷺ انھیں عذاب سے ڈراتے لیکن وہ اپنے مصنوعی سہاروں کی وجہ سے کسی ڈراوے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔
Ayah 12:107اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْ تِیَھُمْ غَاشِیَۃٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰہِ اَوْتَاْ تِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 107)
(کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی آفت انھیں دبوچ نہ لے گی یا قیامت ان پر اچانک نہ آجائے گی اور وہ اس سے بالکل بیخبر ہوں۔ )
کو تاہی فکر انجام سے بےپروائی
اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ایک تو یہ کہ یہ لوگ اپنے شرکاء اور شفعاء پر اس حد تک بھروسہ کرچکے ہیں کہ انھیں اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں کہ اچانک ان پر عذاب آدھمکے یا قیامت آجائے، کوئی سی بھی صورت ہو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جن کے دامن گرفتہ ہیں اور جن سے ہم نے عقیدت کا رشتہ باندھ رکھا ہے وہ ہماری دستگیری کریں گے اور ہمیں ایسی ہر مصیبت سے بچا لیں گے حالانکہ ایمان تو بہت بڑی بات ہے معمولی عقل رکھنے والا آدمی بھی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب یا اس کی قیامت سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ آج کے علم و دانش نے سب سے زیادہ جس چیز کو نقصان پہنچایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کا ڈر ہے۔ یعنی اس کی طرف سے آنے والے عذاب کا ڈر اور اس کی قیامت کا خوف۔ آج کا دانش ور اس کو محض ایک ڈراوا یا ڈھکوسلہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک جنت یا جہنم بھی مفروضے کے سوا کچھ نہیں۔ ہمارا بہت بڑا شاعر یہ بات کہہ چکا ہے :
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
دوسری بات جس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ انسان زندگی کی رواروی میں یہ بات بھول جاتا ہے کہ مجھے اپنے انجام کی فکر ہونی چاہیے۔ وہ اپنے حال کو دائم خیال کرتا ہے۔ جس طرح جی رہا ہے اسے کبھی خیال نہیں گزرتا کہ اس میں کوئی تبدیلی بھی آسکتی ہے حالانکہ اس کے سامنے آئے دن جنازے اٹھتے ہیں، تخت و تاج اچھلتے ہیں، عظمتیں سرنگوں ہوتی ہیں، چھوٹے خاندان بڑے خاندانوں کی جگہ لے لیتے ہیں اور بڑے خاندانوں کے چشم و چراغ گرد راہ بن جاتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اپنے بارے میں غور کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔ اس آیت کریمہ میں انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی ناگہانی آفت اچانک آسکتی ہے، زلزلے کا کوئی جھٹکا آبادیوں کو ویرانوں میں بدل سکتا ہے۔ لیکن انسان کی بےبصیرتی ایک ایسی اٹل حقیقت بن چکی ہے کہ جسے تبدیل کردینا شاید آسان نہیں۔ لیکن یہ روش نہ پہلے کسی کو آسودہ کرسکی ہے اور نہ آئندہ کسی کو زندگی دے سکے گی۔
Ayah 12:108قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ ٓ اَدْعُوْ ٓا اِلَی اللّٰہِ قف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ط وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 108)
(کہہ دیجیے ! یہ ہے میری راہ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ۔ میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ تعالیٰ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔ )
میرا راستہ دعوت الی اللہ ہے، شرک نہیں
شرک کی مکمل تردید کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ یہ ہے میرا راستہ جس میں شرک کی کوئی گنجائش نہیں۔ تم نے نہ جانے عقیدت کے رشتے کس کس سے باندھ رکھے ہیں لیکن میں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے۔ وہی ہمارا ملجا و ماویٰ ہے، وہی ہمارا معبود و مسجود ہے، وہی ہمارا اِلہٰ اور حاکم حقیقی ہے، ہماری محبت کا حوالہ ہے، وہی ہمارے دلوں پر حکمران ہے، وہی ہماری تنہائیوں کا نگہبان ہے، ہم اسی کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں اور اسی کے سامنے سر جھکاتے ہیں، ہم اسی کے بندے اور اسی کے خلیفہ ہیں، اس کی زمین پر اس کی شریعت کو نافذ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ ہمارا جذباتی فیصلہ نہیں نہ مذہبی عقیدت کا جوش ہے بلکہ ہمارا یہ فیصلہ کامل بصیرت کی بنیاد پر ہے۔ ہم حجت اور برہان کی بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے شرک سے پاک ہے۔ شرک کی کوئی آلائش اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتی۔ خالق اور مخلوق میں مشابہت کی کوئی سی قسم بھی کیسے پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لیے میں صاف اعلان کرتا ہوں کہ میں مشرکین میں سے نہیں، میرا شرک سے کوئی رشتہ نہیں اور میں ہر طرح کے شرک سے اپنی مکمل براءت کا اعلان کرتا ہوں۔
Ayah 12:109وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْ ٓ اِلَیْھِمْ مِّن اَھْلِ الْقُرٰی ط اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 109)
(ہم نے تم سے پہلے بھی آدمی ہی بھیجے انھیں بستیوں والوں میں سے، ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے، کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور دارآخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا تو تم سمجھتے نہیں۔ )
دو اعتراضات اور ان کے جواب
اس آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ کے دو اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ انسانوں ہی میں سے ایک انسان کو نبوت کے منصب پر کیونکر فائز کردیا گیا ہے جبکہ نبوت اور رسالت کا منصب ایک عظیم تر منصب ہے۔ دنیا میں رہنے والا دنیا کی آلودگیوں سے آلودہ شخص باقی انسانوں کی طرح کم مائیگی کا شکار اور اپنے اندر ہزاروں تضادات رکھنے والا، خواہشات کا اسیر، کوتاہیوں اور کمزوریوں کے حصار میں رہنے والا اتنے بڑے منصب پر فائز کیسے ہوسکتا ہے ؟ اگر کوئی دنیا کا کام ہوتا تو دنیا کا کوئی آدمی بھی اس کے لیے مناسب ہوسکتا تھا لیکن ایک کام جس کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے بندھا ہوا ہے جس کی زبان سے خدا بولتا ہے جس پر فرشتے اترتے اور وہ فرشتوں سے باتیں کرتا اور ان کی باتیں سنتا ہے۔ وہ عالم غیب کی خبریں دینے والا آخر ایک آدمی کیسے ہوسکتا ہے۔
دوسرا اعتراض یہ تھا کہ چلیے اگر انسانوں کی ہدایت کے لیے کسی انسان یا آدمی ہی کو بھیجنا ضروری تھا تو کم از کم اسے ایک غیرمعمولی آدمی ہونا چاہیے تھا۔ یہ کیا ہوا کہ وہ جن بستیوں کی طرف ہادی بن کے آیا ہے اس نے ایک مدت انھیں بستیوں میں چلتے پھرتے اور رہتے ہوئے گزاری۔ اس کا بچپن وہیں گزرا، لڑکپن کی عمر بھی وہیں کٹی، جوانی کی بہاریں بھی وہیں آئیں، اب وہیں رہتے رہتے کہولت کی عمر بھی شروع ہوگئی۔ اسی کو اٹھا کر نبوت کے منصب پر بٹھا دیا گیا ہے اور لوگوں کو حکم دے دیا گیا کہ اس کی اطاعت کرو، اس کی سنو اور اس کی مانو، اسی میں تمہاری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔
قرآن کریم نے یہاں بھی اور دوسرے مواقع پر بھی ان باتوں کا جواب دیا ہے۔ جواب میں واقعاتی طرزاستدلال اختیار کیا گیا جو نہایت سادہ بھی ہے اور نہایت موثر بھی۔ ارشاد فرمایا کہ تم یہ بتائو کہ ہم نے محمد ﷺ کو جو رسول بنا کے بھیجا ہے تو کیا یہ تاریخِ ہدایت کا پہلا واقعہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دنیا میں جو پہلا انسان آیا وہ پہلا نبی اور رسول تھا اور پھر جیسے جیسے انسانوں کی ہدایت کے لیے ضرورت پیدا ہوتی رہی تو کسی نہ کسی انسان ہی کو یہ فریضہ منصبی عطا کیا جاتا رہا۔ تمہیں بتائو نوح، ابراہیم، موسیٰ ، ہود اور لوط (علیہم السلام) کیا انسان نہیں تھے۔ تم ان کو رسول کے طور پر جانتے ہو اور تمہیں یقین ہے کہ یہ انسانی ہدایت کے لیے آئے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو تمہارے جدِامجد ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ان کے وہ بڑے صاحبزادے ہیں قریش جن کی براہ راست اولاد ہیں جن کی اپنی قبر اور ان کی والدہ محترمہ کی قبر خود مکہ معظمہ میں ہے۔ ان کو تم رسول بھی مانتے ہو اور انسان بھی مانتے ہو تو آخر محمد کریم ﷺ کے بارے میں تمہیں کیوں اشتباہ لاحق ہوگیا ہے اور تمہیں ان کا انسان ہونا نبوت کے منافی کیوں دکھائی دیتا ہے۔
یہ تم جانتے ہو کہ رسول انسانوں کی ہدایت کے لیے آتے ہیں اور ہدایت کے لیے جس طرح نصیحت موثر ہوتی ہے اس سے بڑھ کر عمل اور زندگی کا رویہ موثر ہوتا ہے۔ آپ اگر کسی کے سامنے پاکدامنی پر وعظ کہیں تو یقینا اس کا کسی نہ کسی حد تک اثر ہوگا لیکن جو اثر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکیزہ جوانی کے واقعات سے ہوتا ہے وہ ظاہر ہے کہ پاکدامنی کے وعظ سے نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں استقامت اور استقلال تقریر کی صورت میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے اور اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔ لیکن کیا اس قدر اثرہوسکتا ہے جتنا طائف کے پتھروں کی بارش میں آنحضرت ﷺ کی استقامت اور استقلال کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اگر یہ امر واقعہ ہے کہ عملی ہدایت کے بغیر ہدایت کا باب مکمل نہیں ہوتا تو پھر ذرا غور کیجیے کہ اگر انسانوں کی ہدایت کے لیے کسی فرشتے کو بھیجا جاتا تو وہ تو سرے سے نظر ہی نہ آتا۔ نہ اسے بھوک لگتی، نہ اسے زخم لگتے، نہ اسے پیاس پریشان کرتی، نہ پتھروں کی بارش میں اس کا خون بہتا۔ گویا عملی ہدایت کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس سے وقوع پذیر نہ ہوتی تو انسان اس سے کیا ہدایت حاصل کرتا۔ وہ صبر کی تلقین کرتا تو لوگ پوچھتے صبر کی عملی صورت کیا ہے۔ وہ استقامت پر وعظ کہتا تو لوگ اس کی زندگی میں استقامت ڈھونڈتے، وہ پاکدامنی کی باتیں کرتا تو لوگ حیران ہوتے کہ ایسی شخصیت کے لیے پاکدامن رہنا کیا مشکل ہے جسے جنس کی ہر طرح کی آلودگیوں سے بےبہرہ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ انسانی ہدایت کے لیے کسی جن یا فرشتے کا آنا خلاف عقل ہی نہیں، ہدایت کی ضرورت کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی نبی ( علیہ السلام) آیا وہ انسانوں ہی میں سے اٹھایا گیا ہے۔
رہا دوسرا اعتراض کہ کسی انسان ہی کو بھیجنا تھا تو کسی غیرمعمولی انسان کو بھیجا ہوتا۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ انھیں میں سے ایک جانے پہچانے شخص کو نبوت دے دی گئی۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس چیز کو نبی ( علیہ السلام) کی صداقت کی دلیل ہونا چاہیے اسی کو نبوت کا متضاد قرار دے دیا گیا۔ کمال تو یہ ہے کہ جس قوم کی طرف کوئی رسول آیا وہ اسی قوم کا ہمیشہ ایک فرد رہا۔ انھیں میں وہ پلا بڑھا اور جوان ہوا، انھیں میں اس نے زندگی کے معاملات کیے۔ قوم کے بیشتر افراد اس کے شب و روز سے اچھی طرح آگاہ رہے۔ چناچہ جب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اپنی سچائی ہی کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی کوہ صفا پر چڑھ کر سب سے پہلے اپنی قوم سے یہی مشکل ترین سوال کیا کہ اے آل غالب بتائو کہ تم مجھے صادق سمجھتے ہو کہ کاذب۔
کہا سب نے قول آج تک کوئی تیرا
کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا
کہا گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا
تو باور کرو گے اگر میں کہوں گا
کہ فوجِ گراں پشت کوہ صفا پر
پڑی ہے کہ لوٹے تمہیں گھات پا کر
کہا تیری ہر بات کا یاں یقیں ہے
کہ بچپن سے صادق ہے تو اور ا میں ہے
کہا گر مری بات یہ دلنشیں ہے
تو سمجھو خلاف اس میں اصلاً نہیں ہے
کہ سب قافلہ یاں سے ہے جانے والا
ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا
غور فرمایئے کہ آنحضرت ﷺ جو سیدالرسل ہیں آپ ﷺ نے اپنی ذاتی زندگی کو اپنی نبوت کی دلیل بنایا۔ اگر آپ ﷺ مکہ معظمہ کے رہنے والے وہیں کے پلے بڑھے اور ان لوگوں کے جانے پہچانے نہ ہوتے اور آپ ﷺ قریش ہی کے ایک فرد نہ ہوتے تو آپ ﷺ ان سے یہ سوال کیسے کرسکتے تھے۔ اسی حکمت و دانش کے تحت اللہ تعالیٰ نے ہر نبی ( علیہ السلام) اور رسول ( علیہ السلام) کو اسی قوم اور انھیں بستیوں کی طرف رسول ( علیہ السلام) بنا کر بھیجا جن کی طرف اس کی بعثت ہوئی تھی۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْاسے استدلال
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا…الخ، سے دو باتیں فرمائی جارہی ہیں کہ تمہیں یہ اعتراض ہے کہ نبی کریم ﷺ کو مکہ معظمہ کے باسیوں میں سے ایک باسی ہونے کے باوجود رسول بنا کر کیوں اٹھا دیا۔ پوچھا گیا ہے کہ کیا تمہیں اس زمین کے گوشوں میں چلنے پھرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ کیا تم ان کھنڈرات پر سے نہیں گزرے جن میں رہنے والی قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوچکی ہیں۔ کیا تم ان کی تاریخ سے واقف نہیں ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ان کی طرف آنے والے پیغمبر ان قوموں سے نسلی رشتہ رکھتے تھے۔ وہ قومیں اگر انسانوں پر مشتمل تھیں تو یہ بھی انھیں میں سے ایک انسان تھے۔ تم بتائو موسیٰ آخر کون تھے، اسماعیل کن کا نام ہے۔ مسیح کس شخصیت کو کہتے ہیں۔ کیا یہ انسان نہیں تھے اور کیا یہ انھیں بستیوں کے رہنے والے نہیں تھے ؟ اگر تم ان بستیوں کی تاریخ سے واقف ہو تو پھر تمہیں اس پر اعتراض کیوں ہے کہ محمد ﷺ کو نبوت کیوں دی گئی ہے۔
دوسری بات یہ فرمائی جارہی ہے کہ تمہیں درحقیقت اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جن قوموں کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور پھر ان قوموں نے تمہاری طرح کج بحثیوں اور کٹ حجتیوں سے کام لے کر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ نتیجہ اس کا تمہارے سامنے ہے کہ ان بستیوں کے کھنڈرات، ان کے تباہ شدہ آثار خود اپنا نوحہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ وہاں کا ذرہ ذرہ یہ گواہی دیتا ہے کہ جو لوگ دنیا پر مرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسولوں ( علیہ السلام) پر ایمان نہیں لاتے ان کی دنیا ان کے لیے دارالعذاب بن جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لا کر اپنی زندگیاں سنوار لیتے ہیں ان کی دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت کا گھر جو دنیا سے بدرجہا بہتر ہے وہ تو ہے ہی ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور اس سے ڈرتے ہیں۔ کیا تم ان باتوں پر غور نہیں کرتے۔
Ayah 12:110حَتّٰیٓ اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْ ٓا اَنَّھُمْ قَدْکُذِبُوْا جَآئَ ھُمْ نَصْرُنَا لا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآئُ ط وَلاَ یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 110)
(حتیٰ کے جب رسول ( علیہ السلام) اپنی قوموں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ان کو جھوٹ ڈراوے سنائے گئے تو ان کو ہماری مدد آپہنچی۔ پس نجات ملی ان کو جن کو ہم نے نجات دی اور ہمارا عذاب مجرموں سے ٹالا نہیں جاسکتا۔ )
نبی کریم ﷺ قریش مکہ کو ان کی سرکشی اور کفر پر ضد کو دیکھتے ہوئے جب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تو بجائے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے کے وہ اس کا تمسخر اڑاتے اور جیسے جیسے اس پر دن گزرتے جاتے، ویسے ویسے ان کا تمسخر تیز ہوتا جاتا۔ وہ مسلمانوں کو یہ کہہ کر چڑاتے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو، آخر وہ عذاب کہاں رکا ہوا ہے، وہ ہم پر پہنچنے میں کیوں نہیں آتا۔ اس آیت کریمہ میں براہ راست قریش مکہ کو جواب دینے کی بجائے نزول عذاب کا اصول بیان کیا جارہا ہے کہ عذاب کوئی معمولی بات نہیں جو معمولی باتوں پر آجائے۔ یہ تو قوموں کو جڑ سے اکھاڑ دینے کا ذریعہ ہے۔ اس لیے اس کا فیصلہ، فیصلہ کن وقت پر ہوتا ہے اور وہ وقت وہ ہوتا ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔
عذابِ الٰہی کے باب میں اللہ تعالیٰ کا قانون
اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) دنیا کی اصلاح کے لیے تشریف لاتے ہیں اور ان کی اصلاح کے سلسلے میں اپنی ہمتوں اور توانائیوں کا آخری قطرہ تک نچوڑ دیتے ہیں۔ لوگوں سے ان کی رحمت اور مؤدّت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ بجائے اللہ تعالیٰ سے عذاب کی دعا کرنے کے وہ اپنی قوم کو عذاب سے بچانے کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ ایک خاص مرحلے پر پہنچ کر محسوس کرتے ہیں کہ اب ان لوگوں میں قبولیتِ ایمان کے تمام امکانات دم توڑنے لگے ہیں اور انھوں نے مکمل طور پر خودکشی کا فیصلہ کرلیا ہے تب وہ اللہ تعالیٰ سے قوم پر عذاب نازل کرنے کی دعا کرتے ہیں۔ اسی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جب رسول اپنی قوم سے مایوس ہوجاتے ہیں یعنی ان کی کوششیں دم توڑنے لگتی ہیں اور انھیں کہیں بھی اپنی دعوت کا جواب ملنے کی امید باقی نہیں رہ جاتی۔ جس طرح دودھ بلونے والی خاتون جب تک مکھن کی آخری پھٹکی کی بھی امید رکھتی ہے تو وہ دودھ بلونے سے رکتی نہیں۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتی ہے کہ جتنا مکھن تھا وہ نکل آیا باقی چھاچھ کے سوا اور کچھ نہیں تو پھر وہ مایوس ہو کر ہاتھ چلانا بند کردیتی ہے اور چھاچھ پھینک دیتی ہے کیونکہ مقصود مکھن نکالنا تھا۔ جب وہ نکل آیا اور مزید مکھن کی امید نہ رہی تو اب ہاتھ ہلانا بیکار ہے۔ یہی حال پیغمبروں ( علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کا بھی ہے۔ جب انھیں لوگوں کی قبولیت کی طرف سے مایوسی ہونے لگتی ہے اور لوگوں کی جرأتوں کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ بار بار پیغمبر ( علیہ السلام) پر طنز کرتے ہیں کہ تم جو ہمیں عذاب کے ڈراوے دیتے رہے ہو وہ جھوٹ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ تب اللہ تعالیٰ کی جانب سے مدد آجاتی ہے یعنی اس کی طرف سے عذاب نازل ہوجاتا ہے۔ لیکن عذاب اچانک نہیں آتا کہ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے بھی عذاب کی گرفت میں آجائیں بلکہ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والوں کو نکال لیا جاتا ہے۔ اب عذاب اس شان سے اترتا ہے کہ ساری دنیا مل کر بھی اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ مجرم اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں یا آہ وزاری کریں اسے واپس نہیں کیا جاسکتا۔ جو قوم اس کا ہدف بنتی ہے وہ اس قوم کی جڑ اکھاڑ دیتا ہے۔ جس سرزمین پر وہ اترتا ہے وہ سرزمین مدتوں نحوست اگلتی ہے، اس کے گردوپیش میں بربادی کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔
Ayah 12:111لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِ ط مَا کَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَلٰـکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 111)
(ان کی سرگزشتوں میں بڑا سامانِ عبرت ہے عقل والوں کے لیے یہ قرآن کریم کوئی گھڑی ہوئی چیز نہیں ہے بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔ )
قرآن کی حقیقت اور اس میں بیان کردہ واقعات کی حیثیت
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات دیگر انبیائے کرام کے واقعات کا حصہ ہیں کیونکہ تمام انبیاء کرام ایک ہی سلسلہ ہدایت کی کڑیاں ہیں اور ان کے واقعات بھی ایک ہی مقصد کی سلک میں پروئے ہونے کی وجہ سے باہم پیوست ہیں۔ ان واقعات کو قرآن کریم تاریخ کے طور پر بیان نہیں کرتا اور نہ یہ مقصد ہے کہ لوگ ان سے تفریح حاصل کریں بلکہ ان واقعات میں سے ان باتوں کو چھانٹ چھانٹ کر بیان کیا جاتا ہے جن میں انسانوں کے لیے ہدایت و عبرت ہے۔ عبرت کے حصول کے لیے چونکہ عقل سلیم کی ضرورت ہے اس لیے یہ واقعات عقل والوں کے لیے تو عبرت کا باعث ہوتے ہیں باقی لوگ شاید ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ جب قریش مکہ کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ساری زندگی کے وہ اہم واقعات جن میں ہمارے لیے عبرت و نصیحت تھی ایک ہی نشست میں سورة یوسف ( علیہ السلام) کی صورت میں بیان کردیئے تو قریش مکہ نے ایمان لانے کی بجائے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ پوری سورت درحقیقت محمد ﷺ نے خود اپنی طرف سے گھڑ لی ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کوئی گھڑی ہوئی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں اور اگر مزید اطمینان چاہتے ہو تو پھر تم پہلی آسمانی کتابیں اٹھا کے دیکھو ان میں انجیل، تورات اور زبور تو تمہارے سامنے ہیں۔ ان میں جو چیزیں تحریف اور ترمیم سے بچ گئی ہیں، قرآن کریم ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کریم ایک ایسی کسوٹی ہے جس سے ہم صحیح یا غلط کا فیصلہ کرسکتے ہیں اور مزید یہ کہ ہدایت و عبرت کے لیے جس جس چیز کی ضرورت ہے قرآن کریم نے اس کی پوری تفصیل بیان فرما دی ہے۔ ہر چیز کی تفصیل سے مراد ہدایت کی ہر چیز کی تفصیل ہے جو قرآن کریم کا اصل موضوع ہے۔ اس کا یہ مقصود ہرگز نہیں کہ دنیا بھر کے علوم و فنون کی تفصیل قرآن کریم میں موجود ہے۔ مزید فرمایا کہ درحقیقت یہ کتاب انسانوں کی ہدایت کے لیے آئی ہے۔ اس میں انفرادی ہدایت بھی ہے اور اجتماعی ہدایت بھی۔ اس میں معاشرتی اصول بھی ہیں اور معاشی اصول بھی، اس میں سیاست کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں اور حکومت کے طریقے بھی، اس میں قوم کی شیرازہ بندی کے لیے آئین اور دستور کی ضرورت کو بھی پورا کیا گیا ہے اور احساسات کی پاکیزگی کے لیے پندونصائح سے بھی کام لیا گیا ہے۔ انسان جب ایمان لانے کے بعد قرآن کریم کی تعلیمات سے مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہے تو قرآن اس کی زندگی کی ہدایت بن جاتا ہے۔ اور جب وہ اس ہدایت کے مطابق ہر شعبہ زندگی کو استوار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ قرآن اس کے لیے رحمت ثابت ہوتا ہے۔