Ayah 13:1الٓمّـٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ ط وَالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 1)
(ال م ر۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ بالکل حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں مان رہے ہیں۔ )
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا احسان بھی ہے اور وارننگ بھی
ال م ر۔ حروفِ مقطعات ہیں۔ اس کی تفصیلی بحث ہم سورة البقرہ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اب یاددہانی کے لیے سورة البقرہ کو نکال کر دیکھ لیا جائے۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ ۔ ” تِلْکَ “ اسمائے اشارہ میں سے ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں، قریب اور بعید۔ ہم سورة البقرہ کے آغاز میں ذٰلِکَ کے حوالے سے اسمائے اشارہ کی ان دونوں قسموں پر تفصیل سے عرض کرچکے ہیں کہ فصیح عربی میں اسم اشارہ قریب اور اسم اشارہ بعید کا کیا مفہوم ہے اور آیت کریمہ میں اسے کس مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔ الکتاب سے مراد بعض لوگ مجموعہ کتب آسمانی لیتے ہیں۔ لفظ میں اگرچہ اس کی بھی گنجائش ہے لیکن حقیقت میں یہاں الکتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس کے نزول کا پہلی آسمانی کتابوں میں وعدہ کیا گیا تھا اور بعض کتب الٰہی میں اس کی خصوصیات بھی بیان کی گئی تھیں۔ یہاں الکتاب کے ذکر سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مسلمانو ! تمہیں اپنی قسمت پر ناز کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر وہ کتاب نازل کی ہے اور یہ اس کتاب کی آیات ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے کسی زمانے میں انسانوں کی کسی نسل پر نازل کرنے کا وعدہ فرمایا تھا اور یہ بتلایا تھا کہ وہ کتاب آخری کتاب ہوگی، اس کے بعد آسمان زمین سے کبھی ہم کلام نہیں ہوگا۔ اس کتاب کے نزول کے ساتھ وحی الٰہی کا سلسلہ رک جائے گا کیونکہ جس ذات بابرکات پر وہ کتاب نازل ہوگی وہ آخری نبی ﷺ اور رسول ﷺ ہوں گے۔ اور جس امت کو اس کتاب کا حامل بنایا جائے گا وہ آخری امت ہوگی کیونکہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری موعظت، آخری نصیحت، آخری ہدایت اور انسانی مسائل کے حل کے لیے آخری نسخہء شفا بن کے آئے گی اور وہی کتاب بالآخر رحمت کا موجب ہوگی۔ اس لیے اس پر ایمان لانے والوں کو اس حوالے سے اچھی طرح اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنا ہوگا۔ اگر اس کتاب کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے اور اس کا حق ادا کرنے اور اس کے نفاذ میں کوئی کوتاہی کی گئی تو سوچ لیجیے امت کی قسمت پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے یہ کتاب اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ کا احسان ہے تو دوسری طرف ایک دھمکی بھی ہے کہ اس کا حق ادا کرو گے اور اس کی ذمہ داریاں نبھائو گے تو پھر یہ دنیا بھی تمہاری اور آخرت بھی تمھاری۔ اور اگر اس میں کوتاہی کرو گے تو پھر سوچ لو کہ اس کا انجام کتنا خطرناک ہوگا۔ اس میں مشرکینِ مکہ کے لیے تعریض بھی ہے کہ تم نے اس کتاب کو جس طرح تنقید کا نشانہ بنا رکھا ہے تمہارے لیے یہ دل لگی کا سامان ہے۔ لیکن تمہیں اندازہ نہیں کہ تم اس کتاب کی عظمت کو نظرانداز کرکے ایک خوفناک انجام کی طرف بڑھ رہے ہو۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جب بھی کوئی کتاب نازل فرمائی اور کسی رسول کو بھیجا تو اس پر اس آخری نبی کی صفات بھی اتاری گئیں۔ ان تمام باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جس سے آنے والے پیغمبر کی شناخت آسان ہوسکتی تھی۔ اسی طرح یہ آخری کتاب جو آپ ﷺ پر نازل کی جانی والی تھی اس کی ضروری صفات بھی ان پیغمبروں پر نازل کی گئیں اور پھر ان سے آنے والے پیغمبر اور اس پر اترنے والی کتاب پر ایمان لانے اور نصرت کرنے کا عہد لیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں اشاراتی انداز میں ان تمام باتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔
قرآن کریم کی اہمیت
اس کتاب کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے مزید فرمایا اور اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ جو کتاب آپ ﷺ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ آپ ﷺ کے واسطے سے آپ ﷺ کے مخالفین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اسے آپ ﷺ کے رب نے نازل کیا۔ اولاً تو اس کتاب کا اپنا شکوہ اور اس کے پیرایہ بیان کی عظمت بجائے خود دل ہلادینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن جن خالی دماغوں پر اس کتاب کی عظمت نہیں کھلتی انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے۔ اور تمہیں ذرا رک کرمراقبہ کرنا چاہیے کہ ہم کون ہیں ؟ ہم تمہارے خالق ومالک ہیں، ہم تمہارے رازق ہیں، تمہاری زندگی اور موت ہمارے قبضے میں ہے، ہم ساری کائنات کے شہنشاہِ مطلق ہیں، تکوینی طور پر کائنات کا ذرہ ذرہ ہمارے تابع فرمان ہے، ہماری قدرتوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں، ہمارا علم بےحد وسیع ہے، ہمارے لشکروں کی کوئی انتہا نہیں، ہماری رحمت ہر چیز پر غالب ہے۔ اس لیے ہم کافروں کو بھی روزی دیتے ہیں لیکن جب ہمارا غضب بھڑکتا ہے تو اس سے بچانے والا بھی کوئی نہیں۔ پتھروں کو چونکہ ہماری عظمت مستحضر ہے۔ اس لیے ہماری خشیت اور ہمارے خوف سے ان میں شگاف پڑجاتے ہیں، ان سے نہریں رواں ہوجاتی ہیں اور اگر یہ قرآن ہم کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو ہماری خشیت کی وجہ سے وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا۔ لیکن تم کبھی اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جو کتاب ہمارا پیغام ہے، اس کے ساتھ روا رکھا جانے والا اچھا یا برا سلوک وہ ہماری ذات کے ساتھ سلوک ہے۔ ہر پیغام اپنے پیغام بھیجنے والے کی نسبت سے عظیم ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر ہیں لیکن فرعون کے دربار میں ان کی ہر بات کو خندہ استہزا سے اڑا دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے پیچھے کوئی قوت نہیں۔ اور فرعون کی لغویات کو بھی وزن دیا جاتا ہے کیونکہ وہ مصر کے تخت و تاج کا مالک ہے۔ قرآن کریم کی ایک ایک آیت انسانی دلوں پر اس لیے اثر انداز نہیں ہوتی کہ ہم اجنبی زبان میں اسے پڑھتے ہوئے نہ سمجھتے ہیں اور نہ اس طرف دھیان جاتا ہے کہ یہ کلام کس کا ہے۔ اس لیے پروردگار نے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں دیکھو کہ ہم کیا ہیں یا قوم عاد یا قوم ثمود سے پوچھ لو کہ ہم استخفاف کرنے والوں سے کیا سلوک کرتے ہیں پھر شاید تمہیں اندازہ ہوسکے کہ قرآن کریم کی عظمت کیا ہے۔
مزید فرمایا کہ یہ بھی یاد رکھو کہ کہ اس قرآن کریم میں جو بات ارشاد فرما دی گئی ہے وہ سرتاپا حق ہے۔ اس میں جس بات کی خبر دی گئی ہے وہ شدنی ہے۔ اس کا ہر دعویٰ ثابت، مدلل اور مبرہن ہے، لیکن اکثر لوگ قرآن کریم کی عظمت کو نہ سمجھتے ہوئے اور جو کچھ اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے اس کی حقیقی قدروقیمت کو نہ پہچانتے ہوئے اس پر ایمان نہیں لاتے۔
مکی سورتوں کے عمومی موضوعات
اگلی آیت سے چونکہ وہ دلائل شروع ہورہے ہیں جن سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ نبی کریم ﷺ جن باتوں کی طرف تمہیں بلا رہے ہیں، وہ باتیں بالکل برحق اور مسلمہ حقیقت ہیں۔ مکی سورتوں میں چونکہ ان باتوں کا بیان متعدد دفعہ آیا ہے اس لیے یہاں انھیں بیان نہیں کیا گیا۔ وہ تین باتیں ہیں جن کی طرف آپ ﷺ دعوت دے رہے تھے۔ وہ یہ ہیں (1) کہ خدائی پوری کی پوری اللہ تعالیٰ کی ہے۔ کائنات میں اس کے سوا کوئی اور مالک نہیں۔ اس لیے اس کے سوا کوئی بندگی و عبادت کا مستحق بھی نہیں۔ (2) اس زندگی کے بعد دوسری زندگی بھی ہے جس میں ہم سب کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہوگی۔ (3) میں اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ ہوں اور جو کچھ پیش کررہا ہوں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے پیش کررہا ہوں۔ یہی تین باتیں ہیں جنھیں ماننے سے لوگ انکار کررہے تھے اور انھیں تین باتوں کے اثبات کے لیے اور لوگوں کے شبہات و اعتراضات کو رفع کرنے کے لیے آئندہ آیات میں دلائل پیش کیے جارہے ہیں۔
Ayah 13:2اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰ تِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًی ط یُدَبِّرُالْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰ یٰتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَآئِ رَبِّکُمْ تُوْقِنُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 2)
(اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک، ایک وقت معین کے لیے گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتظام فرماتا ہے، وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔ )
اللہ تعالیٰ کی مثالوں سے توحید و آخرت پر استدلال
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ مشرکینِ عرب اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہ تھے، وہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا اور تمام کائنات کا خالق سمجھتے تھے۔ حقیقت میں اسی کو رزق رساں اور اسی کو مشکل اور مصیبت میں کام آنے والا جانتے تھے۔ اس لیے ان کا اصل جرم یہ نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود یا اس کے خالق ہونے کے منکر تھے بلکہ ان کی خرابی یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے۔ چناچہ بظاہر قرآن کریم ان آیات میں جو دلائل دے رہا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس ذات کو تم اپنا خالق سمجھتے ہو اس کی یہ یہ شانیں ہیں، یہ اس کی صفات ہیں اور یہ اس کی قدرتیں ہیں اور یہ یہ اس کی مخلوقات ہیں اور اس طرح اسے اپنی مخلوقات پر گرفت حاصل ہے۔ تو جس خالق ومالک کی یہ شانیں ہوں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک بنانے کا کیا جواز ہے اور اسے کائنات کا نظام چلانے کے لیے کسی اور کی شرکت کی کیا ضرورت ہے، لیکن اگر ان دلائل پر گہری نظر سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اس کائنات کا ایک ہی خالق ومالک اور ایک ہی متصرف اور ایک ہی مدبر ہے اسی طرح یہ دلائل اس بات پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس پورے نظام کا ایک فرمانروا ہے۔ ہم اپنے چاروں طرف مخلوق کو دیکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مخلوق کا ایک خالق ہے۔ ہم اپنے تمام اطراف میں ایک نظم اور ترتیب دیکھتے ہیں۔ اجرامِ فلکی میں ہمیں حیرت انگیز نظم نظر آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نظم کا ایک ناظم ہے۔ ہمیں کائنات کا مشاہدہ اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ تمام کائنات میں ایک تکوینی قانون کارفرما ہے جس نے ہر مخلوق کو باندھ رکھا ہے اور ہر مخلوق اس کی پیروی کرنے پر مجبور ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ایک حکمران ہے جس نے سب پر اپنا قانون نافذ کر رکھا ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ نظم بغیر ناظم کے، قانون بغیر حکمران کے، حکیم بغیر حکمت کے، ربوبیت بغیر رب کے اور مخلوق بغیر خالق کے ہو۔ اسے نہ عقل سلیم تسلیم کرتی ہے اور نہ دنیا کا چلن قبول کرتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جو دلائل اس کی وحدانیت اور توحید پر دلالت کرتے ہیں وہی اس کے وجود پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ اس لیے قرآن پاک کے دلائل اگر شرک کے ابطال کے لیے کافی ہیں تو وہی ملاحدہ کے الحاد کے لیے بھی شافی ہیں۔
اس آیت کریمہ میں روئے سخن چونکہ قریش کی طرف ہے اور میں عرض کرچکا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہ تھے۔ البتہ اس کی صفات میں دوسری قوتوں کو شریک مانتے تھے۔ اس لیے ان کے معتقداتِ باطلہ کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات کو زیر بحث لانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی صفات کے حوالے سے بات کی جارہی ہے۔ اور بطور خاص اس کی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے : اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں کو اس طرح بلند فرمایا ہے کہ ان کے قیام کے لیے کہیں بھی ستون کھڑے دکھائی نہیں دیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کی چھت اس طرح تانی گئی ہے کہ وہ ایسے ستونوں پر کھڑی ہے جو دکھائی نہیں دیتے۔ عمد، عماد کی بھی جمع ہے اور عمود کی بھی۔ کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ یہ عظیم شامیانہ ظاہری ستونوں پر نہیں بلکہ جذب و کشش کے ایسے ستونوں پر کھڑا ہے جسے دیکھنے سے نگاہیں عاجز ہیں اور صرف آسمان ہی کیا بیشمار اجرامِ فلکی ہیں جو آسمان سے متعلق ہیں۔ ان میں سے ایک ایک کُرّہ اپنے حجم میں اس قدر عظیم ہے کہ زمین اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور اس فضائے بسیط میں کوئی سہارا ان کو تھامنے والا نہیں۔ ایک غیرمحسوس طاقت نے انھیں ان کے مقام اور مدار میں روک رکھا ہے جسے دیکھنے اور سمجھنے سے عقل عاجز ہے۔ پھر ان آسمانوں کی وسعتوں اور بلندیوں کو آج تک کوئی نہ جان سکا۔ اللہ تعالیٰ کی کتابیں ہمیں یہ علم دیتی ہیں کہ اس فضائے بسیط کے اوپر سات آسمانوں کا وجود ہے، لیکن سائنس ابھی تک اس کا ادراک نہیں کرسکی۔ البتہ بعض سائنسدانوں کا یہ کہنا کہ سرے سے آسمانوں کا کوئی وجود نہیں، یہ سراسر جہالت کی دلیل ہے کیونکہ اہل علم کے نزدیک یہ بات مُسلّم ہے کہ عدم علم عدم وجود کو مستلزم نہیں ہوتا۔ سائنس اگر اب تک آسمانوں کے وجود کا ادراک نہیں کرسکی تو اسے اپنی بضاعتی کا اعتراف کرنا چاہیے نہ کہ اسے دلیل بنا کر آسمانوں کے وجود سے انکار کردیا جائے۔ سائنس کی نارسائی کا عالم تو یہ ہے کہ فضائے بسیط میں آج تک سائنس جن کُرّوں کو دریافت کرچکی ہے اس کے بارے میں بھی وہ کیا جانتی ہے۔ اگرچہ انسان خلاء میں کمندیں ڈال چکا ہے لیکن ابھی تک خلائی علم کی ابجد میں گھوم رہا ہے۔ اس کے اپنے اعتراف کے مطابق کتنے ستارے ہیں جن کی روشنی آج تک زمین پر نہیں پہنچ سکی۔ اس سے کائنات کی وسعتوں کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کے مقابلے میں انسانی علم کس قدر درماندہ اور نارسا ہے۔
ایک باطل عقیدہ کی تردید
ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ” پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا “ اس جملے سے پروردگار نے مشرکینِ مکہ کے ایک باطل عقیدہ کی تردید فرمائی ہے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک ایسی کائنات جس کے اور چھور کا کوئی اندازہ نہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے کیونکہ وہی کائنات کی ہر چیز کا خالق ومالک ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کائنات کو اس کی وسعتوں سمیت پیدا کرنے کے بعد کہیں چھپ کر بیٹھ گیا ہے۔ اب اس کے انتظام و انصرام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اور ویسے بھی اگر عقل سے سوچا جائے تو پوری کائنات میں بکھری ہوئی مخلوقات کی متنوع ضرورتوں اور رنگا رنگ معاملات کی دیکھ بھال اور فراہمی ایک ذات خداوندی سے کس طرح ممکن ہے۔ اس نے یقینا اپنے بہت سے اختیارات ان قوتوں کے حوالے کردیے ہیں جو اس کے قرب کے حامل ہیں۔ اس لیے اپنی ضرورتوں کو حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان قوتوں کو خوش رکھنے کی کوشش کریں جن کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات دے رکھے ہیں۔ چناچہ وہ تمام مخلوقات کے معاملات کی دیکھ بھائی کر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کائنات کے کسی گوشے میں آرام فرما رہا ہے۔ اور یا اپنے عرش معلی پر داد حکومت دے رہا ہے۔ اس گمراہی کی تردید میں ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تمام مخلوقات کو پیدا کرکے دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا بلکہ کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی وہ تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوا۔ یعنی تخلیق اور کائنات کا نظام سنبھالنے میں کوئی فاصلہ نہیں ہے۔ ادھر تخلیق مکمل ہوئی، ادھر اس کے ایک ایک گوشے کا انتظام سنبھال لیا گیا۔ کیونکہ جو ذات اس کائنات کی خالق ہے اور مخلوقات کو پیدا کرنے والی ہے وہی ان کی رب اور حاکم بھی ہے اور وہ اپنے تخت سلطنت سے اپنی تمام رعایا اور مخلوق کی حالت کو دیکھ بھی رہی ہے اور ان کی ضرورتوں کو پورا بھی کررہی ہے۔ تو جو ذات تخت سلطنت پر فائز ہو کر مکمل قدرت و قوت کے ساتھ نظام حکومت چلا رہی ہے اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنی خدائی میں کسی کو شریک کرے۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نظام تنہا نہیں چلا سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتا ہے حالانکہ عجز اور ناتوانی خدائی صفات کے بالکل برعکس صفات ہیں۔ جو عاجز ہوگا وہ خدا نہیں ہوسکتا، جس کی قدرت کہیں جا کے رک جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادھورا خدا ہے۔ پھر یہ بتانے کے لیے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہے اور کس طرح اس کے احکام کے سامنے ایک ایک کُرّہ بےبس اور سرتاپا اطاعت ہے۔ ارشاد فرمایا : وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ” اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، یعنی ایک قانون کا پابند بنایا ہے۔ “ یعنی اگر تم یہ دیکھنا چاہو کہ کس طرح کائنات کی ایک ایک چیز اس کے احکام کی تابع ہے اور کوئی چھوٹی بڑی طاقت اس کے احکام سے سرتابی نہیں کرسکتی تو تم سورج اور چاند کو دیکھو جو روزانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے چمکتے اور ڈوب جاتے ہیں۔ تمہارے دن کی ہماہمی سورج کے وجود سے ہے اور تمہاری شب کی لذت و گداز چاند کی چاندنی سے ہے۔ انسان کا تمام وظیفہ حیات اور سرگرمی ٔ کارسورج اور چاند کے طلوع و غروب سے ہے۔ سورج تو اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی مخلوق ہے جس سے ہماری زندگی کا چولہا جلتا ہے، اسی سے ہماری کھیتیاں پکتی ہیں اور ہماری خوراک کا انتظام ہوتا ہے، یہی سمندر سے ہمارے لیے بادل اٹھاتا ہے جو زمین کی سیرابی کا کام کرتے ہیں، پھر چاند پھلوں میں مٹھاس اور دانے میں گداز پیدا کرتا ہے اور پھر دونوں کی حرکت ہماری زندگی کے تمام معاملات کو ایک توازن دیتی ہے۔ زمین کی دو حرکتیں ہیں، ایک اپنے گرد جو 24 گھنٹوں میں مکمل ہوتی ہے اور دوسری آفتاب کے گرد، جو 365 دن لیتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زمین کو آفتاب سے جدا ہوئے آج 2 ارب صدیاں گزر چکی ہیں، لیکن ان گردشوں میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آیا، ورنہ علماء ہئیت کے تمام حساب غلط ہوجاتے۔ اپنے گرد زمین ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے اور آفتاب کے گرد 68 ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے۔ اگر اس کی پہلی رفتار کو 10 گنا کم کردیا جائے تو شب و روز 10 گنا لمبے ہوجائیں گے۔ جون میں 140 گھنٹے کا گرم دن زمین کو جھلس کر رکھ دے گا اور جنوری کی اتنی طویل رات ہر شے کو منجمد کردے گی۔ اور اگر اسے بڑھا دیا جائے تو ہر شے کا وزن کم ہوتا جائے گا۔ اور جب یہ رفتار 16 ہزار 200 میل فی گھنٹہ پر پہنچے گی تو کسی چیز میں کوئی وزن نہیں رہے گا۔ ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا درختوں اور مکانوں کو گرا دے گا اور ہا کی کا بال ہٹ ہونے کے بعد ہوا میں اڑ جائے گا اور پھر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ زمین سورج سے تقریباً 9 کروڑ 29 لاکھ میل دور ہے۔ اگر یہ فاصلہ کم ہوتا تو ہم گرمی سے مرجاتے اور زیادہ ہوتا تو سردی سے مرجاتے۔ کُرّہ زمین کا رخ آفتاب کی طرف بالکل سیدھا نہیں بلکہ 23 درجہ کے قریب ایک طرف جھکا ہوا ہے۔ یہی جھکائو موسموں کا سبب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر دن پچھلے دن جیسا ہوتا اور ہم سردی گرمی، بہار اور برسات کے مناظر، غذائوں اور پھلوں سے محروم ہوجاتے۔ سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں اس طرح بندھے ہوئے ہیں کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی اپنے کسی فرض سے انحراف کی جرأت نہیں کرسکتا۔ سورة یٰسین میں فرمایا گیا ہے ” کہ ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کردی ہیں، وہ انھیں منزلوں کے مطابق سرگرمِ سفر رہنے پر مجبور ہے اور سورج کی مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے یا اس سے آگے نکل جائے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے، ہر ایک اپنے مدار میں گردش کررہا ہے۔ ان دونوں کی گردش، ان کی کارکردگی اپنے فرائض میں غیرمعمولی پابندی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اور اس کی مخلوقات کا ایک ایک فرد اس کے تکوینی نظام میں جکڑا ہوا ہے، اور کسی کو بھی اس کے حاکمانہ اقتدار کے مقابلے میں دم مارنے کی مجال نہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ کیونکہ ممکن ہے کہ انسان یا جن اپنی ضرورتوں کی فراہمی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک بنالیں۔ اور یہ سمجھیں کہ جب تک دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں بنایا جائے گا ہماری ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتیں اور کائنات کا نظام ٹھیک طرح سے چل نہیں سکتا۔
کائنات کے فرمانروا کے ایک ہونے پر دلیل
کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًی ط اس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے۔ جس طرح کائنات کی ایک ایک مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے احکام کے تحت فرائض انجام دینا اور اس کے نظام کا کل پرزہ بن کے رہنا اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ یہاں ایک ہی فرمانروا ہے، یہ کائنات مختلف دیوتائوں کی رزم گاہ نہیں۔ یہاں صرف ایک کی مرضی چلتی ہے، کسی اور کو دخل دینے کی جرأت نہیں، یہاں صرف ایک احکم الحاکمین ہے، کسی اور کی حکومت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح اس کائنات کے تمام اجزاء اور اس میں کام کرنے والی تمام قوتیں اس بات پر بھی دلالت کررہی ہیں کہ اس نظام کی کوئی چیز غیرفانی نہیں۔ ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس کے اختتام تک وہ چلتی ہے اور جب اس کا وقت آن پورا ہوتا ہے تو وہ مٹ جاتی ہے۔ سورج ایک وقت تک روشنی بکھیرتا ہے، پھر پردہ شب میں محجوب ہوجاتا ہے۔ چاند ایک وقت تک اپنی تابانیوں سے حسن بکھیرتا ہے اور پھر درماندہ ہو کے رہ جاتا ہے۔ بہار ایک وقت کے لیے آتی ہے اور پھر زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ خزاں جب مسلط ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ہر رونق کو نگل جائے گی، لیکن پھر اسی کے بطن سے شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں۔ سورج اور چاند بظاہر صدیوں سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لیکن سائنسدان کہتے ہیں کہ سورج کی قوت میں رفتہ رفتہ کمی آرہی ہے اور ایک بہت بڑے فلسفی کا قول ہے کہ کائنات کا رجحان زوال کی طرف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کائنات پر قیامت چھا جائے گی۔ اور قرآن کریم کا وہ قول حقیقت بن کر سامنے آجائے گا کہ ایک دن سورج بےنور ہوجائے گا۔ کہنا یہ ہے کہ جس طرح کائنات کی ایک ایک چیز اور زمین و آسمان کی ایک ایک مخلوق الگ الگ زوال پذیر ہے، اسی طرح یہ نظام مجموعی طور پر بھی زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس عالم طبیعی کی مجموعی ساخت یہ بتارہی ہے کہ ایک دن سب کچھ زوال کا شکار ہوجائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر طلوع ہونے والا دن قیامت کی صداقت پر دلیل بنتا جارہا ہے تو قرآن کریم کا قیامت کے وقوع پر بار بار زور دینا وہ عقل کا عین تقاضا ہے جسے آج سمجھنا بظاہرمشکل نظر آتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے امکانات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
آخرت پر دلیل
اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے مظاہر کے حوالے سے اب تک جو کچھ آیت کریمہ کی وضاحت میں عرض کیا گیا، اس کے بعد یہ بات چنداں مخفی نہیں رہتی کہ اس عالم کا خالق و مدبر ایک ہی ہے۔ اور کسی اور کے لیے اس جہان کے خلق و تدبیر میں کوئی دخل نہیں۔ البتہ اگر ہم اس آیت کریمہ میں مزید غور کریں تو ایک اور بات بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے جو عام ذہنوں کے لیے کسی حد تک مخفی ہے، لیکن ایسی بھی مخفی نہیں کہ پروردگار نے اس کا لحاظ فرماتے ہوئے بطور خاص اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ ارشاد ہوا، کہ اللہ تعالیٰ یہ نشانیاں اس لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے کہ شاید تم اپنے رب کی ملاقات پر یقین کرلو، کہ جب تم اس بات پر غور کرو کہ جس پروردگار کی بےپناہ قدرت کا عالم یہ ہے کہ وہ آسمانوں کو بغیر ستونوں کے کھڑا کرسکتا ہے اور ان میں ایسے ایسے اجرامِ فلکی کو معلق کرسکتا ہے جن کے تھامنے کے لیے بظاہر اسباب کوئی صورت ممکن نہیں۔ اور پھر مخلوقات کی رزق رسانی کے لیے کیسے کیسے حیرت انگیز انتظامات برپا کرسکتا ہے، اس سے کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک دن ساری مخلوقات کو موت کا شکار کردے۔ اور پھر ایک وقت گزرنے کے بعد تمام مخلوقات کو دوبارہ زندہ کردے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت برپا کرے جس میں تمام انسانوں کو حساب کتاب کے لیے لا کھڑا کرے۔ یقینا ایسا کرنا اس بےپناہ قدرتوں کے مالک کے لیے کوئی مشکل نہیں۔
زمین و آسمان کے اسی نظام میں جس چیز سے آدمی سب سے زیادہ حیران ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جو اس کی ایک ایک مخلوق کی پیدائش سے ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا انتہا درجے کا حکیم ہے۔ اس کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں۔ اس سے یہ بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے کہ وہ نوع انسانی کو ایک ذی عقل و شعور اور صاحب اختیار و ارادہ مخلوق بنانے کے بعد اور اپنی زمین کی بیشمار چیزوں پر تصرف کی قدرت عطا کرنے کے بعد اس کے کارنامہ زندگی کا حساب نہ لے، اس کے ظالموں سے بازپرس اور اس کے مظلوموں کی دادرسی نہ کرے، اس کے نیکوکاروں کو جزاء اور اس کے بدکاروں کو سزا نہ دے۔ ایسا ہونا کسی حکیم سے تو ہرگز ممکن نہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر یہ کیونکہ ممکن ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسی حکیم و دانا ذات ایک نہ ایک دن قیامت لا کر انسانوں کے معاملات کا حساب کتاب نہ لے۔ اس کی حکمت و دانش کا یقینا یہ تقاضا ہے کہ وہ ایک نہ ایک روز قیامت برپا کرکے ہر نیکی کی جزاء دے اور ہر برائی کی سزا دے۔
Ayah 13:3وَھُوَالَّذِیْ مَدَّالْاَرْضَ وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنْھٰرًا ط وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰ تِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔
(سورۃ الرعد : 3)
(اور وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں اس میں پیدا کیں۔ وہ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے، بیشک ان چیزوں کے اندران لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کریں) ۔
زمین کی نشانیوں سے استدلال
سابقہ آیت کریمہ میں آسمان کی نشانیوں سے اللہ تعالیٰ نے توحید اور آخرت پر استدلال فرمایا ہے۔ اب زمین کی نشانیوں سے استدلال فرمایا جارہا ہے۔ جس زمین پر ہم رہتے ہیں اسے پروردگار نے کب پیدا فرمایا، یہ ایک ایسی بحث ہے جس کا پہلا صفحہ انسان کے ہاتھ سے گم ہوچکا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال یہ ہے کہ کوئی بہت بڑا ستارہ سورج کے پاس سے گزرا اور اس کے زور کشش سے سورج کے چند ٹکڑے الگ ہو کر گھومنے لگے، ان میں سے ایک ٹکڑا زمین تھی جسے دوسرے ستاروں کے زور کشش نے آہستہ آہستہ متوازن کردیا۔ جب یہ زمین سورج سے جدا ہوئی ہے تو اس کا درجہ ٔ حرارت 12 ہزار فارن ہائٹ تھا۔ آہستہ آہستہ اس میں کمی ہوئی۔ جب اس کا درجہ ٔ حرارت 4 ہزار فارن ہائٹ پر آیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی پیدا فرمایا اور مدتوں اس پر بارشیں ہوتی رہیں اور پھر اس کو پھیلا کر انسانوں کے رہنے کے قابل بنادیا گیا۔ یہ سائنسی تحقیق کہاں تک صحیح ہے، اس سے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ ہم اتنی بات یقین سے جانتے ہیں کہ جس پروردگار کی بےپناہ قدرت نے سورج اور چاند کو تخلیق فرمایا اسی نے زمین کو بھی پیدا فرمایا۔ یہ ایک چپٹا گول کُرّہ ہے لیکن اسے اس طرح پھیلا دیا گیا ہے کہ وہ ہر طرح سے انسانی رہائش کے قابل ہوگیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ اسے لوہے کی طرح سخت بنایا کہ کوئی لیٹنے والا اس پر لیٹ نہ سکے اور نہ اسے ربڑ کی طرح نر م بنایا کہ اس پر رہنے والے اس کے اندر دھنس جائیں۔ زمین کی سطح بظاہر بڑی سخت ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ایک تھکا ہوا آدمی بغیر بستر کے بھی اس پر لیٹ جائے تو وہ اسے آرام مہیا کرتی ہے اور وہ گہری نیند میں ڈوب جاتا ہے۔ بستر اور نرم بستر کی ضرورت انسان کی سہولت پسند طبیعت نے پیدا کی ہے ورنہ زمین کی آغوش کو اللہ تعالیٰ نے آغوش مادر کی طرح آرام دہ اور راحت رساں بنایا ہے۔ اس کے میدانی علاقوں میں لہلہاتی فصلیں اور بہتے ہوئے دریا اس کے ہموار ہونے کی کھلی شہادت دیتے ہیں۔ صحرائوں میں سفر کرنے والے اس کی بےکراں وسعتوں کو دیکھ کر اس کے نشیب و فراز کا تصور بھی نہیں کرسکتے لیکن یکسانی اور ہم رنگی چونکہ انسان کے ذوق لطیف پر گراں گزرتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس میں نشیب و فراز بھی پیدا فرمائے اور اپنی قدرت کے اظہار کے لیے بلندوبالا پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں جنھیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی نگرانی اور اسے سنبھالنے کا فریضہ شاید ان کے حوالے کیا گیا ہے لیکن بعض جگہ جب ان کی کھدائی ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف پہاڑی سلسلے اپنے خوبصورت لوازمات سمیت انسان کے ذوق لطیف کا جواب ہیں تو دوسری طرف نہ جانے انسانوں کے لیے کتنے دفینے اور خزینے ہیں جن کے یہ امین ہیں۔ پھر انھیں میدانی علاقوں اور پہاڑی علاقوں کے بیچ بیچ دریا رواں کردیے گئے جو ایک طرف زمین کی آبیاری کا سبب ہیں تو دوسری طرف انسان کے جمالیاتی ذوق اور دعوت نظارہ کی تسکین کا سبب بھی ہیں۔
تخالف و توافق کے قانون سے استدلال
مزید غور کرنے سے حکمتوں کے مزید گوشے سامنے آتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ زمین اور آسمان، ہوا اور پانی، دریا اور پہاڑ بظاہر آپس میں مزاج کے اعتبار سے کتنے مختلف ہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے سے متضاد معلوم ہوتے ہیں اور ان میں پیدا کی جانے والی صلاحیتیں ایک دوسرے سے متخالف دکھائی دیتی ہیں، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ پروردگار نے انھیں متخالف عناصر کو ایک دوسرے کا ہمنوا اور مددگار بنادیا ہے۔ سورج کی کرنیں بظاہر پانی کا خاتمہ کرتی ہیں لیکن یہی کرنیں پانی کے ڈول بھر بھر کر فضاء میں ابر کی چادریں بچھا دیتی ہیں۔ ہوا کا کام ہر سامنے آنے والی چیز کو اڑانا ہے لیکن وہ ابر سے پانی برسانے کا کام کرتی ہیں۔ زمین کی مٹی پانی کی دشمن ہے اور پانی کو نگل جانا چاہتی ہے، لیکن یہی زمین پانی کو چوس کر ہر بوئے جانے والے غلے کو سیراب کرتی ہے اور زائد پانی کو اگل کر ندی نالوں میں پہنچا دیتی ہے۔ گرمی ننھے منے پودے کی نزاکت کی دشمن ہے لیکن وہ اسے جلانے کی بجائے اس میں سختی پیدا کرتی ہے تاکہ وہ غلے کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوسکے۔ سورج کی کرنیں پھلوں کو پکاتی ہیں اور غلے کے دانوں کو موسم کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ اس طرح سے ہم قدم قدم پر دیکھتے ہیں کہ متخالف عناصر آپس میں ایک دوسرے کے موافق رہ کر ایک دوسرے کی معاونت کرتے ہیں اور اس مجموعی مفاد کو سامنے لاتے ہیں جس کے لیے انھیں پیدا کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک زمین کے اوپر اور ایک آسمان کے نیچے متخالف عناصر کا پیدا کرنا اور پھر انھیں سے موافق ذمہ داریوں کا ادا کروانا، متضاد عناصر میں ایسی سازگاری پیدا کرنا کہ وہ مفوضہ امور میں ایک دوسرے کے دست وبازو ثابت ہوں، کیا یہ امر اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ جس طرح اس کائنات کا خالق ایک ہے، اسی طرح اس کائنات کے امور کی تدبیر کرنے والا اس کے ہر کام کی دیکھ بھال کرنے والا، اس کے چھوٹے بڑے فیصلے کرنے والا وہ بھی ایک ہی خداوند ذوالجلال ہے۔ پوری کائنات میں ایک نظام کارفرما ہے جس کا سررشتہ ایک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ایک ہی پروردگار کی سلطنت ہے اور ایک ہی کا حکم یہاں کارفرما ہے۔ یہ کائنات مختلف الاغراض دیوتائوں کی رزم گاہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ کائنات اور اس کا نظم ایک دن کے لیے باقی نہ رہ سکتا۔
توافق و تخالف کے قانون کی ہمہ گیری
وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰ تِ کائنات میں توافق اور تخالف کا جو قانون کارفرما ہے یہ اسی کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ ہے۔ جس طرح کائنات کے بڑے بڑے عناصر میں یہ قانون کارفرما ہے، اسی طرح ایک ایک پھل اور ایک ایک دانے کے اندر بھی جاری وساری ہے۔ دانہ گندم کو دیکھ لیجیے اس کی ظاہری ہیئت بھی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قدرت اس سے جب ایک سوئی نکالتی ہے تو ان دونوں حصوں سے یکساں کام لیتی ہے۔ دونوں اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ہم الگ الگ حیثیتوں کے مالک ہیں تو ہم ایک چیز کو جنم کیوں دیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نباتات میں بھی زوجین کا قانون نافذ کیا ہے جس طرح مرد اور عورت دو الگ الگ شخصیتیں ہونے کے باوجود دونوں مل کر ایک شخصیت کو جنم دیتے ہیں جس میں دونوں شخصیتوں کی خصوصیات اور چاہتیں جمع ہوتی ہیں اور دونوں کی شخصیت ایک دوسرے کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔ صنفِ نازک میں اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ رکھ دیا ہے جو صنف قوی کی چاہت ہے اور مرد میں وہ سب کچھ رکھ دیا گیا ہے جو عورت کی طلب کا جواب ہے۔ دونوں ہر لحاظ سے ایک دوسرے کے مساوی لیکن متغائر شخصیتیں ہیں۔ لیکن ان میں تکمیل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اس کے تکوینی نظام کے تحت ایک دوسرے کا لباس بن جاتے ہیں۔ اسی طرح نباتات میں بھی اللہ تعالیٰ نے نر اور مادہ کی تقسیم رکھی ہے۔ ایک ہی پودا جو نر ہو یا مادہ کبھی پھل نہیں دیتا تاوقتیکہ دوسرا پودا کہیں قریب یا بعید موجود نہ ہو۔ یا ہوا کہیں سے نر کے بیج لا کرمخالف پودے کے خوشے میں داخل نہ کردے۔ رات اور دن کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے لیے جوڑا بنایا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر لپٹے ہوئے چلے آتے ہیں۔ یہ مخالف اور موافق عناصر کا مل کر قدرت کے امر مطلوب کو انجام دینا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کائنات کے ایک ایک ذرے کے پیچھے ایک حکیم کی حکمت، ایک قادر کی قدرت، ایک عَلّام کا علم اور ایک حاکم کی حکومت کام کررہی ہے۔ اس نے جس طرح ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا ہے، اسی طرح اس نے دنیا کا بھی ایک جوڑا بنا کر کائنات کے اس نظام کو مکمل کیا ہے۔ جس طرح ہر جوڑا دوسرے کے بغیر نامکمل رہتا ہے اسی طرح دنیا بھی آخرت کے بغیر نامکمل رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی وہ حکمت جو زمین پر انسان کو بھیجتے ہوئے اس کے پیش نظر تھی وہ نامکمل رہے گی اور ان چیزوں کے اندر اللہ تعالیٰ کے خلق و تدبیر اور اس کی قدرت و حکمت اور اس کی توحید اور آخرت کی جو نشانیاں ہیں وہ اس وقت تک ناقابلِ فہم رہیں گی جب تک لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور و فکر نہیں کریں گے۔
Ayah 13:4وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰ تٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰی بِمَآئٍ وَّاحِدٍ قف وَنُفَضِّلُ بَعْضَھَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الْاُکُلِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 4)
(اور زمین میں پاس پاس زمین کے خطے ہیں، انگوروں کے باغات ہیں، کھیتی ہے اور کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ جڑواں ہیں اور کچھ اکہرے۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں لیکن ہم پیداوار میں ایک کو دوسرے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں) ۔
زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ
اب ایک اور پہلو سے زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ مقصود اس سے بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی حاکمیت کی مطلق العنانیت کو بیان کرنا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ زمین پر غور کرو، تمہیں زمین مختلف حصوں میں بٹی ہوئی ملے گی، حالانکہ وہ ایک کُرّہ ہے اور اگر وہ سورج سے جدا ہوا ہے تو پھر اس کا مبدا بھی ایک ہے۔ اس لحاظ سے تو اس کو ظاہری شکل و صورت سے لے کر باطنی فوائد و خصوصیات تک یکساں ہونا چاہیے، لیکن عجیب بات ہے کہ زمین ایک فاصلے پر جا کر بعض دفعہ رنگ بدل لیتی ہے۔ اس کی مٹی کا رنگ بدل جاتا ہے اور اس کے خصائص بھی تبدیل ہوجاتے ہیں اور بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ زمین کا ایک حصہ اگر نباتات کے قابل ہے تو دوسرا حصہ مختلف دھاتوں کا دفینہ ہے۔ کہیں زمین کے نیچے آب شریں بہہ رہا ہے اور کہیں کڑوا اور نمکین پانی۔ مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ زمین کے قریب قریب قطعات میں جہاں زراعت ہورہی ہے اس میں پیداوار باہمی عجیب و غریب تنوع کی حامل ہے۔ زمین کا ہر ٹکڑا دوسرے سے پیوست ہے لیکن ایک ٹکڑے میں کوئی چیز اگ نہیں سکتی اور دوسرا ہے کہ پوری پیداوار دے رہا ہے۔ اور پھر باغات ہیں تو ایک ہی طرح نہیں، کہیں انگوروں کی بیلیں بہار دے رہی ہیں، کہیں مختلف قسم کی کھیتیاں ہیں، کہیں کھجوریں ہیں اور کھجوریں بھی سب اپنے وجود میں ایک جیسی نہیں، کہیں ایک ہی جڑ سے ایک ہی تنا پھوٹا ہے اور کہیں ایک جڑ سے دو دو تنے پھوٹے ہیں اور دونوں کا پھل ایک دوسرے سے مختلف ہے حالانکہ زمین کے تمام ٹکڑوں کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جارہا ہے اور جن درختوں کا پھل بظاہر ایک دوسرے کے مشابہ ہے وہ بھی پیداوار کی کمی بیشی میں اور مزے میں یکساں نہیں اور کسی کا پھل معیار کے مطابق ہوتا ہے اور کسی کا معیار سے فروتر۔ کیا یہ رنگا رنگی اور یہ تنوع اور یہ اختلاف اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے وہ آپ سے آپ نہیں ہورہا کیونکہ اگر آپ سے آپ ہوتا تو ایک ہی طرح سے ہوتا۔ اور نہ نیچر کا اندھا بہرہ قانون سب پر یکساں مسلط ہے۔ یہ صورتحال بول رہی ہے کہ ایک ہی خدائے علیم و حکیم اس پورے نظام کائنات کو اپنی نگرانی میں چلا رہا ہے۔ اور سارے عالم اسباب پر تنہا اسی کی حکمرانی ہے۔ وہ کسی قانون کا پابند نہیں بلکہ اس کائنات کا ہر تغیر اس کے قانون کا پابند ہے۔
Ayah 13:5وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُہُمْ ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰ بًائَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ 5 ط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ الْاَغْلٰلُ فِیْ ٓ اَعْنَاقِہِمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 5)
(اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم ازسرنو وجود میں آئیں گے، یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا، یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں، یہی لوگ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ )
تعجب کے قابل اصل بات
نبی کریم ﷺ جب مشرکین کے سامنے اپنی دعوت پیش فرماتے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے کہ تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہو اور مخلوق بھی ایسی جس کا باقی مخلوقات میں کوئی جواب نہیں، تو تم جیسی مخلوق کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ جیسی علیم و حکیم ذات تمہیں بےمقصد پیدا فرمائے گی اور تمہاری زندگیوں کا کوئی مقصد نہیں ہوگا۔ تم خودرو پودوں کی طرح مَل دَل کے ختم ہوجاؤ گے اور یا حیوانوں کی طرح کھا پی کر زندگی گزار دو گے اور ضروریاتِ زندگی کو زندگی کے مقاصد جانو گے اور حقیقی زندگی کا تمہیں کبھی شعور نہیں ہوگا اور تم اس بات پر یقین رکھو گے کہ ہم اس لیے زندہ ہیں تاکہ عیش و عشرت میں کھوئے رہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو بیشمار اور بیش بہا نعمتیں بخشی ہیں کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی جوابدہی نہ کرنی پڑے۔ کہا اگر تم یہ سمجھتے ہو تو تمہاری یہ بات انتہائی قابل تعجب ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے حواس عطا کیے ہوں اور عقل جیسی نعمت عطا فرمائی ہو اور خیر و شر کے اختیار میں آزادی بخشی ہو اسے یونہی بےمقصد زندگی گزار کر زندگی ختم کرنے کا اختیار دے دیا جائے نہ اس سے نعمتوں کے بارے میں بازپرس کی جائے اور نہ اس سے زندگی کی آزادیوں کے بارے میں سوال کیا جائے اور اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے تو یہ یقینا قابل تعجب ہے کیونکہ کہیں بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ آپ ایک شخص کو ملازم رکھتے ہیں، اسے خوبصورت رہائش دیتے ہیں، اس کی ایک معقول تنخواہ مقرر کردیتے ہیں، اس کی ہر ضرورت وقت سے پہلے پوری کردیتے ہیں، لیکن کبھی آپ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ تمہیں جو ذمہ داریاں دی گئی تھیں اور جن کی ادائیگی کے معاوضے کے طور پر تمہیں یہ ساری سہولتیں بخشی گئی تھیں تم نے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے کیا کیا۔ اگر چند روزہ زندگی اور چند روزہ ڈیوٹی کے بارے میں ایسا ہونا قابل تعجب ہے تو پوری انسانی زندگی اور اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں ایسا ہونا کیونکر قابل تعجب نہیں ہوگا۔ اس لیے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ تعجب کے قابل یہ بات نہیں ہے کہ ایک دن تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کے ایک ایک عمل کا حساب ہوگا بلکہ تعجب کے قابل تو یہ بات ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہم مر کے مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں ازسرنو زندہ کیا جائے گا اور یہ کہنا قابل تعجب اس لیے بھی ہے کہ تم اپنے سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کو دیکھتے ہو۔ تمہارے سامنے اس کی قدرتوں کا ظہور ہوتا ہے، تم نے سابقہ آیات میں اس کی بعض نشانیوں اور بعض قدرتوں کو خود ملاحظہ بھی کیا ہے، اس کے باوجود اگر کائنات کے فنا ہوجانے اور ازسر نو اس کے وجود میں آجانے کا تمہیں یقین نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے خدا کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا کیونکہ جس خدا کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے اور جسے تم خود کائنات کا خالق جانتے ہو اس کی قدرتوں کو دیکھتے ہوئے کوئی احمق سے احمق آدمی بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ جن عظیم قدرتوں کے مالک خدا نے پہلے یہ کائنات بنائی تھی اب وہ دوبارہ اسے کبھی نہیں بنا سکتا کیونکہ اس سے بڑی جہالت کی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ بات اصل میں یہ ہے کہ تمہاری گردنوں میں جہالت، ہٹ دھرمی، خواہشاتِ نفس اور اپنے آبائواجداد کی اندھی تقلید کے طوق پڑے ہوئے ہیں۔ وہ تمہیں سر اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں تو ہمارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں لیکن کچھ تمہارا کبروغرور اور خودپرستی اور کچھ تمہاری خواہشات اور آبائواجداد کی اندھی تقلید سر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں دیتی، تو جب تک آدمی آنکھیں نہ کھولے اور سر اٹھا کر نہ دیکھے تو چمکتے ہوئے سورج کی روشنی میں اسے دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ جس طرح انھوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کی ہے اسی طرح آخرت میں بھی انھیں ناقدری کا موقع دیا جائے بلکہ یہ لوگ حق ناشناسی، کبروغرور اور ناقدری کے باعث جہنم کا ایندھن بنیں گے اور ہمیشہ اس آگ میں جلیں گے۔
Ayah 13:6وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمُ الْمَثُلٰتُ ط وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِہِمْ ج وَاِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 6)
(اور یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لیے آپ سے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ گزر چکی ہیں ان سے پہلے عبرتناک مثالیں اور بیشک آپ کا رب ان کی زیادتیوں کے باوجود ان سے درگزر کرنے والا بھی ہے اور بیشک آپ کا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ )
انسان مجموعہ اضداد ہے
انسان کو اللہ تعالیٰ نے مجموعہ اضداد بنایا ہے۔ اگر یہ خیر کے راستے پر چل پڑتا ہے تو فرشتے بھی اس کے دامن میں نماز پڑھنا فخر محسوس کرتے ہیں اور اگر یہ شر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا راستہ اختیا کرتا ہے تو بعض دفعہ اس کی بداعمالیاں ہی نہیں بلکہ اس کی بداطواریاں بھی اس انتہا کو پہنچ جاتی ہیں کہ شیطان بھی اس کی نافرمانیوں اور اس کی بداطواریوں سے شرما جاتا ہے۔ اگر یہ صحیح راستے پر چلتا ہے تو وسعت کونین بھی اس کے سامنے سمٹ جاتی ہے۔ اور اگر یہ غلط راستے پر چل نکلتا ہے تو بدترینِ خلائق ثابت ہوتا ہے۔ جگر مرادآبادی نے ٹھیک کہا :
گھٹے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے
انسان کی زندگی کا مقصد
نبی کریم ﷺ نے مشرکینِ مکہ کو مسلسل اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف بلایا اور کفر اور شرک کی خرابیاں اور نقصانات کھول کھول کر ان کے سامنے بیان فرمائے اور انھیں بتایا کہ جس پروردگار نے تمہیں پیدا فرمایا ہے اور تمہاری ہر طرح کی ضروریات پوری فرمائی ہیں اور تمہیں بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے اس نے تمہاری زندگی کا کوئی مقصد بھی مقرر کیا ہے اور زندگی گزارنے کے لیے مجھے اس نے ایک شریعت یعنی نظام زندگی دے کے بھیجا ہے۔ تم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اس کے مطابق اگر گزارو گے تو وہ دنیا میں بھی تم سے خوش ہوگا اور آخرت میں تمہیں جنت عطا فرمائے گا۔ لیکن اگر تم نے میری دعوت کو قبول نہ کیا اور شیطان کے راستے پر چلتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں جاری رکھیں تو کسی وقت بھی اس کا غضب عذاب کی صورت میں بھڑک سکتا ہے چناچہ آپ ﷺ بار بار کبھی نصیحت کی صورت میں اپنی دعوت پیش فرماتے، کبھی فہمائش سے کام لیتے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انھیں ڈراتے۔ جب اس پر ایک مدت گزری تو انھوں نے عذاب سے ڈرنے کی بجائے اسے ایک مذاق بنا لیا اور باربار کہتے کہ جس عذاب سے تم کئی سالوں سے ہمیں ڈرا رہے ہو، آخر وہ آ کیوں نہیں جاتا، وہ کہاں رک کر رہ گیا ہے۔ اندازہ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی ﷺ ان کی اصلاح کرنا چاہتا ہے، ان کے طوراطوار کو درست کرنا چاہتا ہے، ان کے اخلاق کو سدھارنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ٹوٹے ہوئے رشتے کو بحال کرنا چاہتا ہے اور انکار کی صورت میں جو عذاب آسکتا ہے، اس سے بچانا چاہتا ہے لیکن ان لوگوں کا حال دیکھئے وہ بجائے اپنی حالت درست کرنے کے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ بعض دفعہ خود دعا کرتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ کی یہ بات صحیح ہے تو اے اللہ تعالیٰ ہم پر یہ عذاب نازل کردیجیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی سفروں میں قوم عاد، قوم ثمود، قوم مدین اور قوم لوط کے کھنڈرات سے گزرتے رہتے ہیں۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ ان کی سرکشی کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کا تباہ کن عذاب آیا، لیکن بجائے سنبھلنے کے وہ دلیر ہو کر عذاب ہی کا مذاق اڑانے لگے ہیں۔ ایسے رویئے پر ہونا تو یہ چاہیے کہ فوراً اللہ تعالیٰ کے غضب کا کوڑا ان پر برس جائے لیکن پروردگار کی رحمت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ بیوقوف لوگ جس مہلت عمل سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عذاب کا محض ڈراوا ہے، کوئی عذاب نہیں آئے گا۔ اسی مہلت عمل کو پروردگار اپنی رحمت قرار دے رہے ہیں کہ سرکش اور نافرمان لوگ اپنی سرکشی جاری رکھتے ہیں لیکن ہم ان کی اس زیادتی کے باوجود ان سے درگزر کے رویئے کو بدلتے نہیں۔ ممکن حد تک انھیں ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں کہ شاید وہ اپنے آپ کو بدل لیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے پر آجائیں، لیکن جب وہ کسی قیمت پر بھی راہ راست اختیار نہیں کرتے تو پھر جس طرح اللہ تعالیٰ درگزر اور رحمت والا ہے اسی طرح وہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے۔ پھر اس کا عذاب آتا ہے اور ایسی قومیں مٹی کا زرق ہو کے رہ جاتی ہیں اور تاریخ میں انھیں عبرت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
Ayah 13:7وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌوَّلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ ۔ (سورۃ الرعد : 7)
(اور جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی، تم تو بس ایک خبردار کردینے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے۔ )
مشرکین کے مطالبہ کا جواب
مشرکین نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو ناکام کرنے اور بعض دفعہ آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لیے کبھی تو عذاب کا بار بار مطالبہ کرتے بلکہ اس کا مذاق اڑاتے اور کبھی یہ کہتے کہ اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت دے کے بھیجا ہے تو پھر اپنے اللہ تعالیٰ سے درخواست کیجیے کہ وہ آپ ﷺ کی دعا پر کوئی ایسی نشانی دکھائے جسے دیکھ کر ہم آپ کو ماننے پر مجبور ہوجائیں۔ کبھی وہ یہ کہتے کہ مکہ معظمہ کو میدانی علاقے میں تبدیل کرکے اسے چمن کی شکل دے دی جائے، کبھی کہتے کہ جا بجا اس کے اندر سے چشمے جاری ہوجائیں، کبھی اسی طرح کی کسی اور بڑی نشانی کا مطالبہ کرتے۔ اور جب ان کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاموشی رہتی تو پھر وہ آپ کا مذاق اڑاتے۔ قرآن کریم نے بعض دوسری جگہ ان کے اس مطالبے کا جواب ایک اور پہلو سے دیا، وہ یہ ہے کہ جہاں تک نشانیاں دکھائے جانے کا تعلق ہے، تمہارے سامنے اور تمہارے گردوپیش میں نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ البتہ اس کے لیے دیدہ بینا چاہیے۔ کائنات کی ایک ایک مخلوق اللہ تعالیٰ کی قوت تخلیق کی نشانی ہے۔ تمہیں بچپن سے لے کر موت تک حسب ضرورت جو غذائی ضروریات بہم پہنچائی جاتی رہی ہیں ان میں سے ایک ایک اس کے رب ہونے کی نشانی ہے۔ زمین و آسمان کا اپنے اپنے فرائض کو بجالانا اور چھوٹے بڑے کُرّوں کا اپنے اپنے مدار میں محو گردش رہنا اور زمین کی قوت روئیدگی کا زمین کو غذا اور حسن سے بھر دینا ان میں سے کون سی بات ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر نشانی نہیں۔ انسان کا اپنا جسم، اس کی روح، اس کے احساسات، اس کے تخیلات، اس کا جمالیاتی ذوق، ان میں سے ایک ایک بات ایسی نشانی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان تمام نشانیوں کے باوجود اگر تم منہ مانگی نشانی دیکھنا چاہتے ہو تو پھر یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے کہ جب کسی قوم کے مطالبے پر کوئی نشانی دکھائی جاتی ہے اور پھر وہ قوم اس نشانی کو دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتی تو پھر اس کو زندگی کی مہلت نہیں دی جاتی۔ جس طرح قوم صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کی نشانی ان کے مطالبے پر دکھائی گئی لیکن جب وہ اس پر بھی ایمان نہ لائی تو انھیں عذاب کی نذر کردیا گیا۔ لیکن اس آیت کریمہ میں ایک دوسری بات فرمائی گئی ہے کہ اے پیغمبر آپ ﷺ ان کے مطالبات پر نہ جایئے، اس دنیا کا ایک ایک گوشہ اور اس زمین کا ایک ایک ذرہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے معمور ہے۔ اگر یہ نشانی دیکھ کر ایمان لانے والے ہوتے تو اب تک ایمان سے محروم نہ ہوتے، کیونکہ :
ہر کہ دیدم در جہاں غیرے تو نیست
یا توئی یا خوئے تو یا بوئے تو
اس لیے آپ ﷺ ان کے مطالبے کو نظرانداز کیجیے۔ آپ ﷺ کا کام نشانیاں دکھانا نہیں بلکہ آپ ﷺ کا کام انھیں خبردار کرنا ہے۔ آپ منذر بن کے آئے ہیں۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اس راستے کی انھیں خبر دے دیں جو راستہ خیر اور فلاح کا راستہ ہے اور اس راستے سے انھیں ہٹانے کی کوشش کریں جو خسران کا راستہ ہے کیونکہ ہر قوم کے لیے ہم نے ایک ہدایت دینے والا بھیجا ہے اور آپ ﷺ کو ہم نے اس قوم کے لیے ہادی بنایا ہے۔ آپ ﷺ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کھول چکے ہیں، آپ ﷺ کی ذمہ داری ختم ہوچکی ہے، اب ان کا معاملہ اپنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔