13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsروح القرآن

Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو (شکم میں) اٹھائے ہوئے ہوتی ہے کوئی مادہ اور وہ جانتا ہے جو کم کرتے ہیں رحم اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے نزدیک ایک اندازہ سے ہے۔

اَللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی وَمَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ط وَکُلُّ شَیْ ئٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ ۔ (سورۃ الرعد : 8) (اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو (شکم میں) اٹھائے ہوئے ہوتی ہے کوئی مادہ اور وہ جانتا ہے جو کم کرتے ہیں رحم اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے نزدیک ایک اندازہ سے ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی صفت علم کا اظہار نوعِ انسانی میں تمام بگڑے ہوئے لوگوں کی عموماً اور مشرکینِ عرب کی خصوصاً عقیدہ کی خرابیوں کا سبب بنیادی طور پر یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم بہت حد تک گم کرچکے تھے۔ جن صفات کو تسلیم کرتے تھے ان میں بھی مخلوق کی نارسائیوں اور کوتاہیوں کی آمیزش پائی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ان کی ہدایت کے لیے جن باتوں کی انھیں دعوت دیتا تھا وہ اپنے عقل و فکر کے پیمانوں کے مناسب نہ پا کر انھیں ماننے سے انکار کردیتے تھے اور اپنے سوالوں میں ایسا رویہ اختیار کرتے تھے جس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں نہایت ناتمام بلکہ غلط تصور رکھتے ہیں۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کا غلط تصور انسان کی گمراہی کا سبب بنتا ہے لیکن اس کی صفت علم سے متعلق انسان اگر گمراہی کا شکار ہوجائے تو وہ زندگی کی بیشتر راہوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ چناچہ اسی حقیقت کے باعث پیش نظر آیت کریمہ اور اس کے بعد کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے حوالے سے بعض حقائق کا اظہار فرمایا ہے۔ سب سے پہلے انسان کی اپنی حیثیت کو زیر بحث لا کر اسے آئینہ دکھایا گیا ہے تاکہ اسے اندازہ ہوسکے کہ میں اپنی ذاتی حیثیت میں کس قدر متضاد واقع ہوا ہوں کہ نہایت پستی سے مجھے اٹھایا گیا ہے، گندے پانی کے ایک قطرے سے میری نشو و نما کا آغاز ہوا ہے اور پھر حیرت انگیز طریقوں سے میں ماں کے پیٹ میں مختلف شکلیں اختیار کرتا رہا ہوں۔ اور پھر ماں کے پیٹ اور دنیا میں آمد کا سبب بجائے خود انتہائی کربناک اور حیرت انگیز ہے۔ اپنی پختہ عمر کو پہنچ کر آج جبکہ میں عقل و شعور کی معراج کو چھو رہا ہوں تو مجھے کچھ احساس ہی نہیں کہ میری تخلیق اور نشو و نما کا کس پستی سے آغاز ہوا اور آج کن بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اب میں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت کو چیلنج کررہا ہوں۔ چناچہ اسی بنیادی کمزوری کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے علم کی وسعتوں کی ایک جھلک دکھا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو وہ ہے جو ہر حاملہ وجود، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان، کے حمل کی ایک ایک تبدیلی سے آگاہ ہے۔ مادہ منویہ سے آغاز ہونے والا یہ سفر جس طرح عہد بعہد تغیرات سے گزرا ہے اور یہ تغیرات صرف جسم تک محدود نہیں بلکہ قسمت کا بنائو و بگاڑسعادت و شقاوت کی تقسیم، رزق کی تنگی اور وسعت، عمر کی کمی بیشی، ہر چیز پر محیط ہے، پھر دنیا میں انسان کے آنے کے بعد اس کا گردوپیش مزید حیرت میں ڈالنے والا ہے۔ اس زمین پر جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ایک مقدار سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کو سب سے زیادہ ضرورت پانی کی ہے، تو میدانی علاقوں میں پانی کے دریا بہا دیے گئے ہیں اور زمین کو سمندروں نے گھیر رکھا ہے اور پہاڑوں پر سردیوں میں برف جمتی ہے اور گرمیوں میں پگھل کر ندی نالوں کی روانی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد غذا کی ضرورت ہے، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو قوت روئیدگی سے مالامال کردیا ہے اور عناصرِ فطرت کو ہر اس چیز کی نگرانی اور افزائش پر لگا دیا ہے جس سے انسانوں اور حیوانوں کو غذا ملتی ہے۔ انسان بعض دفعہ اپنی فکری نارسائی کے باعث اللہ تعالیٰ کی تخلیقات کے بارے میں غلط فہمی اور گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ بھول جاتا ہے کہ قضا و قدر کے کارکن انسانوں سے بہتر بجٹ بنانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پروردگار نے زمین پر کتنے وسائل پیدا کیے، اس لیے کھانے والوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔ انسانی علم ایسے موقع پر غلطی کا شکار ہوسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا علم ہر طرح کی غلطی سے پاک ہے۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر چیز کو، عظیم اور عالی شان ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُالْمُتَعَالِ ۔ (سورۃ الرعد : 9) (وہ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر چیز کو، عظیم اور عالی شان ہے۔ ) سابقہ مضمون کی مزید تاکید یہ سابقہ مضمون کی مزید توضیح و تاکید ہے کہ یہ مت سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ظاہری ضرورتوں کو جانتا ہے اور تمہاری ظاہری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے بلکہ وہ جس طرح ظاہر کو جانتا ہے اسی طرح وہ غیب کو بھی جانتا ہے۔ تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا کیا چیزیں ہیں جنھیں تم دیکھ نہیں سکتے لیکن وہ تمہاری منفعت کا سامان ہیں۔ اسی طرح وہ کیا قوتیں ہیں جن سے تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن قدرت تمہیں ان سے بچائے ہوئے ہے۔ تمہارے علم کی بساط صرف سامنے کی دنیا تک ہے لیکن اس سقف نیلگوں کے پیچھے اور حواس کی دنیا سے ماورا اور احساس و خیال سے بالا بھی کوئی دنیا ہے جسے انسان نہیں جانتا، لیکن اللہ تعالیٰ کا علم اس پر بھی غالب اور حاوی ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں اور یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے علم کے خزانوں میں نقب لگا سکے کیونکہ وہ جس طرح علم میں بڑا ہے اسی طرح قوت میں بھی بڑا ہے اور اس کی بڑائی عظمت و احترام تک محدود نہیں بلکہ وہ متعال ہے اپنی عظمت اور اپنی قوت کے بل بوتے پر سب پر غالب ہے۔ ایک ایک ذرے سے لے کر ایک ایک عظیم کُرّے تک سب اس کے سامنے جھکے ہوئے سرنگوں اور سجدہ ریز ہیں۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

(اس کے علم میں) سب یکساں ہیں، تم میں سے وہ بھی جو آہستہ بات کرتا ہے اور وہ بھی جو زور سے بولتا ہے، شب کی تاریکی میں چھپا رہتا ہے اور دن کے وقت چلتا پھرتا ہے۔

سَوَآئٌ مِّنْکُمْ مَّن اَسَرَّالْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ وَمَنْ ھُوَمُسْتَخْفٍ م بِالَّیْلِ وَسَارِبٌ م بِالنَّھَارِ ۔ (سورۃ الرعد : 10) (اس کے علم میں) سب یکساں ہیں، تم میں سے وہ بھی جو آہستہ بات کرتا ہے اور وہ بھی جو زور سے بولتا ہے، شب کی تاریکی میں چھپا رہتا ہے اور دن کے وقت چلتا پھرتا ہے۔ ) اس کے علم محیط کا عالم یہ ہے کہ کوئی شخص آہستہ بات کرے یا زور سے بولے، وہ سب کو جانتا ہے اور سب کو سنتا ہے۔ اس کے یہاں سرگوشیاں اور رازداریاں کسی اخفا کا سبب نہیں بنتیں۔ کوئی دن کے اجالے میں گھومے پھرے اور کوئی رات کی تاریکیوں میں چھپ کے رہے، اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے سب یکساں ہیں۔ تاریکی ہمارے لیے پردہ ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز پردہ نہیں بن سکتی۔ وہ انسانوں کے پکڑنے میں اس لیے جلدی نہیں کر تاکہ اسے اس بات کا اندیشہ نہیں کہ کوئی مجرم کہیں چھپ کر ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے گا اور یا ہماری ڈھیل دینے سے وہ طاقت پکڑ لے گا اور پھر شاید دوبارہ اسے گرفت میں لانا مشکل ہو۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

انسان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی۔ وہ نگہبانی کرتے ہیں اس کی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی اور ان کا اس کے مقابل میں کوئی مددگار بھی نہیں بن سکتا۔

لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُغَیِّرُمَابِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ط وَاِذَآ اَرَادَاللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْٓئً ا فَلاَ مَرَدَّلَہٗ ج وَمَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍ ۔ (سورۃ الرعد : 11) (انسان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی۔ وہ نگہبانی کرتے ہیں اس کی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی اور ان کا اس کے مقابل میں کوئی مددگار بھی نہیں بن سکتا۔ ) کارکنانِ قضا و قدر بھی انسان کی نگرانی کرتے ہیں انسان کی اپنی اصلاح کے لیے یہ بات کفایت کرتی ہے کہ وہ اس بات کا یقین پیدا کرے کہ اللہ تعالیٰ ہرحال میں اسے دیکھ رہا ہے اور اس کا کوئی عمل کسی لمحے میں بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں یہی یقین ہے جو انسان کو اپنی زندگی بدلنے پر مجبور کرتا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی یقین کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ صرف یہی بات کافی نہیں کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہے۔ اسے اس بات کا بھی یقین رکھنا چاہیے کہ فرشتے انھیں ہر وقت گھیرے رہتے ہیں۔ ان کا ہر عمل فرشتے محفوظ کرلیتے ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں اسے بھی لکھا جاتا ہے اور جو کرتے ہیں اس کا بھی ریکارڈ تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جو شخص سراسر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ڈوبا رہتا ہے ظاہر ہے کہ اس کے ریکارڈ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے سوا اور کیا ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قربان جایئے یہاں یہ بھی فرمایا جارہا ہے کہ وہ فرشتے صرف اعمال ہی کو محفوظ نہیں کرتے بلکہ انسانوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ آسمان سے برسنے والے پتھر جنھیں شہاب ثاقب کہا جاتا ہے کروڑوں کی تعداد میں ہر شب زمین پر برستے ہیں لیکن انسانوں کی حفاظت کا پروردگار نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ کوئی پتھر انسانوں تک پہنچ نہیں پاتا۔ مزید اسی طرح کے خطرات ہیں جن سے انسانوں کو واسطہ پڑ سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت انسان کی حفاظت کرتی ہے۔ انجیل میں ٹھیک کہا گیا ہے کہ ” سمندروں کے کنارے کس نے باندھ رکھے ہیں “ سمندر اپنی بےپناہ وسعت کے باوجود زمین پر یلغار کیوں نہیں کردیتا۔ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی وہ حفاظت جو سمندروں کو آگے نہیں بڑھنے دیتی ممکن ہے وہ فرشتوں ہی کی صورت میں ہو کیونکہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی حفاظت کے لیے فرشتے آگے پیچھے رہتے ہیں اور طرح طرح کے مصائب سے اسے بچاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز ایک آدمی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ قبیلہ مراد کے چند آدمی آپ کو قتل کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ اس لیے اپنی حفاظت کا اہتمام فرمایئے۔ اقلیمِ یقین و رضا کے فرمانروا نے فرمایا : ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں۔ جب تک وہ مقررہ گھڑی نہ آجائے اور جب وہ ساعت آجاتی ہے تو وہ فرشتے تقدیرِ الٰہی کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں اور موت کا مقررہ وقت ایک ایسا مضبوط قلعہ ہے جس میں وقت سے پہلے کوئی داخل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان فیصلہ کن قانون قریشِ مکہ کو اپنی خوشحالی پر بڑا ناز تھا بلکہ وہ اپنی امارت و ثروت کو مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے برسرحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں اشارہ فرمایا جارہا ہے کہ جس طرح تمہاری بداعمالیوں کے باوجود فرشتے تمہاری حفاظت سے پہلوتہی نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت تمہیں حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ دیتی، اسی طرح تمہاری موجودہ حالت بھی خدا کی دین ہے۔ یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہے اور تم اپنی جہالت سے اسے انعام سمجھ رہے ہو، لیکن تمہیں یاد رہنا چاہیے کہ کوئی حالت بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ جب کوئی قوم اپنی سرکشی میں انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو پھر ان کی خوشحالی بدحالی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور بعض دفعہ اسے عذاب کا شکار کردیا جاتا ہے اور اسی طرح جب کوئی قوم اپنے اعمال واطوار کی اصلاح کرلیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نبی (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرلیتی ہے تو وہ چاہے غریب اور پسماندہ کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ اس کی حالت کو بدل دیتا ہے اور زمین کی حاکمیت عطا فرماتا ہے۔ تمہاری قسمت آج ترازو میں ہے کہ تم اپنے لیے کیا فیصلہ کرتے ہو۔ اگر تم نے اپنی سرکشی کا رویہ نہ بدلا تو کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ سکتا ہے اور اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے دین کی علمبرداری کا منصب سنبھال لیا اور اپنے آپ کو اس کے بندوں میں شامل کرلیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا میں وسیع عزت و عظمت عطا فرمائے گا کیونکہ ہر قوم کے حالات کی تبدیلی اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپنے اعمال کو جیسا بنا لے گی اسی کے مطابق پروردگار اپنا سلوک بھی بدل لے گا۔ جب بھی کوئی بندہ شکایت کرتا ہے تو ادھر سے آواز آتی ہے : جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ تم عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس سنت الٰہی کی روشنی میں اپنے حالات کا جائزہ لو۔ لیکن اگر تم نے اپنی حالت بدلنے کی طرف توجہ نہ دی تو پھر یاد رکھو جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب لانے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اس کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اور نہ کوئی ایسا کارساز اور مددگار ہوتا ہے جو اس مصیبت میں کام آئے۔ مشرکینِ مکہ کی یہ سوچ کہ فرشتے انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے یا وہ بت کام آئیں گے جن کی یہ پوجا کرتے رہتے ہیں سراسر ایک مہمل خیال ہے، وہاں صرف ایمان و عمل کا سکہ چلتا ہے، ایسے وقت میں کوئی کسی کو بچا نہیں سکتا۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے بجلی جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور ابھارتا ہے بوجھل بادلوں کو۔

ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّیُنْشِی ُ ء السَّحَابَ الثِّقَالَ ۔ (سورۃ الرعد : 12) (وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے بجلی جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور ابھارتا ہے بوجھل بادلوں کو۔ ) آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بےپناہی کو مزید نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ جب تم تلی ہوئی گھٹا اور تنے ہوئے بادل کو دیکھتے ہو تو تمہارا دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے کہ اب بارش ہوگی خشک میدانوں میں ہریاول کی صورت میں زندگی بہار دے گی، کھیتیاں لہلہائیں گی۔ ہر چیز میں زندگی کی رو دوڑ جائے گی، لیکن بار ش سے پہلے جب بجلی چمکتی ہے تو ایک طرف اگر بارش کا تصور کرکے تمہارے دلوں میں امیدوں کے چراغ جلنے لگتے ہیں تو ساتھ ہی بادل کی کڑک تمہارے دلوں میں خوف بھی پیدا کرتی ہے کیونکہ امیدو بیم کا سررشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو بادلوں کو رحمت کی گھٹا بنا دے اور چاہے تو انھیں کے اندر سے طوفانِ نوح ابل پڑے اور بجلیاں برس کر ہر چیز کو جلا کے بھسم کردیں، جس پروردگار کی قدرتوں کا یہ عالم ہے انسان جب اس کے بارے میں غفلت کا شکار ہوتا ہے تو اس کا گردوپیش کبھی اس پر روتا ہے اور کبھی اس کی حماقتوں پر ہنستا اور مسکراتا ہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور تسبیح کرتی ہے بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کڑکتی بجلیاں بھیجتا ہے پھر انھیں گراتا ہے جس پر چاہتا ہے اس حال میں کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ بڑی ہی زبردست قوت والا ہے۔

وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ ج وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہِ ج وَھُوَشَدِیْدُالْمِحَالِ ۔ (سورۃ الرعد : 13) (اور تسبیح کرتی ہے بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کڑکتی بجلیاں بھیجتا ہے پھر انھیں گراتا ہے جس پر چاہتا ہے اس حال میں کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ بڑی ہی زبردست قوت والا ہے۔ ) انسان کے بگاڑ کے اسباب انسان کے بظاہر بگڑنے کے جو اسباب ہیں ان میں ایک اہم ترین سبب انسان کا پیکر محسوس کا خوگر ہونا ہے۔ وہ بالعموم پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ پردوں ہی کو اصل قرار دے کر انھیں غیرمعمولی حیثیت دے دیتا ہے۔ مظاہرفطرت یا مظاہر قدرت کے بارے میں انسانوں کے اعتقادات کا فساد اسی سبب سے پیدا ہوا ہے۔ وہ سورج کو چمکتا ہوا اور چاند کو دمکتا ہوا دیکھ کر انھیں کو قدرت کا سرچشمہ سمجھ لیتا ہے۔ پانی کی قوت اور منعفت کو دیکھ کر اس کو دیوتا مان لیتا ہے۔ وہ کبھی اس ذات کے بارے میں نہیں سوچتا جس نے ان کو قوتیں دے رکھی ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی یہی بات فرمائی جارہی ہے کہ تم بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک اور فرشتوں کے بارے میں عجیب و غریب اعتقادات رکھتے ہو۔ کاش تمہیں معلوم ہوتا کہ بادل جب گرجتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے اور بجلی جب چمکتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی تحمید کرتی ہے اور جن فرشتوں کو تم اللہ تعالیٰ کے شریک بناچکے ہو وہ ہر وقت فرمانبردار غلاموں کی طرح لرزاں و ترساں اپنے فرائض ادا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے جلال و جبروت کا تصور کرکے سہمے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رعد و برق کی اپنی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے اور انسانوں کی نفع رسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں مقرر کیا گیا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو ان لشکروں سے مارنا چاہتا ہے تو یہ بجلیاں بم بن کر ان پر برستی ہیں اور جو قوت وہیبت کے دعویدار دنیا کو اپنی قوت سے ڈراتے رہتے ہیں جب وہ اللہ تعالیٰ کی بجلیوں کے نشانے پر آتے ہیں انھیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب ان کو ہدف بنا لیا گیا۔ اس لیے ان بجلیوں کے ضرر سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی حوالے سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کا حکم دیا۔ ارشاد فرمایا کہ جب بادل گرجے اور بجلی کڑکے تو جو شخص یہ کلمات پڑھے اگر اس کو بجلی سے نقصان پہنچے تو اس کی دیت کا میں ذمہ دار ہوں۔ سُبْحَانَ مَن یُّسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ مِنْ خَیْفَتِہِ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَئیٍ قَدِیْر وَھُوَشَدِیْدُالْمِحَالِ : اہل علم نے اس کا ایک معنی تو یہ کیا ہے کہ وہ بڑی ہی زبردست قوت والا ہے جس کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک ادنیٰ مخلوق اور جس کے ان گنت لشکروں میں سے ایک چھوٹا سا لشکر بڑے سے بڑے جبار کو ایک لمحے میں بھسم کرکے رکھ دے اس کی قوت کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور ایک دوسرا اس کا ترجمہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب ہے کہ وہ بڑی ہی سخت گرفت والا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا ایک شان نزول بھی بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت حسن ( رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافر کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اپنے اصحاب کی ایک جماعت بھیجی۔ انھوں نے اس کو دعوت دی۔ کہنے لگا، محمد ﷺ کا رب کون ہے، جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو۔ کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ؟ یا لوہے کا یا تابنے کا ؟ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری اور انھوں نے واپس جا کر سَیّد عالم ﷺ سے عرض کیا کہ ایسا اکفر سیاہ دل سرکش دیکھنے میں نہیں آیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کے پاس پھر جاؤ۔ اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا اور کہا کہ میں محمد ﷺ کی دعوت قبول کرکے ایسے رب کو مان لوں جسے نہ میں نے دیکھا نہ پہچانا۔ یہ حضرات پھر واپس آئے اور انھوں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ ! اس کا خبث تو اور ترقی پر ہے۔ فرمایا، پھر جاؤ۔ بتعمیل ارشاد پھرگئے۔ جس پر اس سے گفتگو کررہے تھے وہ ایسے ہی سیاہ دلی کی باتیں کررہا تھا۔ ایک ابر آیا، اس سے بجلی چمکی اور کڑک پیدا ہوئی اور بجلی گری اور اس کافر کو جلا دیا۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے۔ جب وہاں سے واپس ہوئے تو راہ میں انھیں اصحابِ اکرام کی ایک اور جماعت ملی۔ وہ کہنے لگے، کہئے وہ شخص جل گیا ہے۔ ان حضرات نے کہا، آپ صاحبوں کو کیسے معلوم ہوگیا ؟ انھوں نے فرمایا، سیّد عالم ﷺ کے پاس وحی آئی ہے اور اس کے بعد یہ آیت پڑھی۔ (خزائن العرفان)
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کو پکارنا سچ ہے، رہے وہ لوگ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں۔ وہ انھیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ ان کا پکارنا ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ وہ اس کے منہ میں پہنچ جائے۔ درآنحالیکہ وہ کسی طرح اس کے منہ پر پہنچنے والا نہ ہو۔ ان کافروں کی فریاد محض صدا بصحرا ہوگی۔

لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ ط وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لاَ یَسْتَجِیْبُوْنَ لَھُمْ بِشَیْ ئٍ اِلاَّ کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلیَ الْمَآئِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ھُوَبِبَالِغِہٖ ط وَمَا دُعَآئُ الْکٰفِرِیْنَ اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ ۔ (سورۃ الرعد : 14) (اسی کو پکارنا سچ ہے، رہے وہ لوگ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں۔ وہ انھیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ ان کا پکارنا ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ وہ اس کے منہ میں پہنچ جائے۔ درآنحالیکہ وہ کسی طرح اس کے منہ پر پہنچنے والا نہ ہو۔ ان کافروں کی فریاد محض صدا بصحرا ہوگی۔ ) نتیجہ خیز پکارنا صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا ہے گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وسعت علم اور بےپایاں قدرت کو مختلف پیرایوں سے بیان کرکے یہ ثابت فرمایا ہے کہ بلاشبہ انسانی زندگی میں کئی دفعہ ایسے مواقع آتے ہیں جب آدمی ظاہری اسباب سے مایوس ہو کر مسبب الاسباب کو پکارتا ہے یا ان قوتوں کو پکارتا ہے جن کے بارے میں اس نے یہ گمان کرلیا ہے کہ انھیں غیرمعمولی قوتیں حاصل ہیں چاہے وہ پتھر کے بت ہوں یا انسانی شکلوں میں چلتے پھرتے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق کے دعویدار ہوں۔ چاہے وہ غیبی قوتیں ہوں جو انسان کی نظر سے اوجھل ہیں لیکن وہ ان کی قوتوں پر بےپناہ یقین رکھتا ہے۔ ان تمام کی طرف توجہ دلا کر ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ انسانو ! تم خود ہی فیصلہ کرو کہ جب تم مدد کے لیے دست سوال دراز کرتے ہو اور اپنی بےبسی کا واسطہ دے کر اپنی بےبسی کا علاج چاہتے ہو تو کیا تمہیں دست سوال ایسی قوتوں کے سامنے پھیلانا چاہیے جو خود دوسروں کے دست نگر، زندگی سے تہی دامن اور ہر طرح کے اختیار سے عاجز ہیں انھیں پکارنے کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی احمق کنویں میں منڈیر پر بیٹھ کر کنویں کے تلوے میں موجود پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر پانی سے درخواست کرے کہ میں پیاس سے مر رہا ہوں، میری حالت پر رحم کھا اور میرے منہ میں داخل ہو کر میری پیاس کو بجھا دے جبکہ اسے معلوم ہے کہ وہ پانی نہ دیکھتا ہے اور نہ سنتا ہے اور نہ وہ اس کے منہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ وہ زندگی بھر بھی اسے پکارتا رہے، پانی کبھی اس کے منہ تک نہیں آئے گا اور کبھی بھی اس کی پیاس سیرابی سے آشنا نہیں ہوگی۔ وہ کیسی ہی دلسوزی سے اپنی پیاس کا اظہار کرے اور کتنا ہی پھیپھڑوں کا زور لگا کر پانی کا نام لے لے کر پکارتا رہے اس کی آواز صدا بصحرا ہو کے رہ جائے گی۔ اگر غور کیا جائے تو پکارنے والے کی ناکامی کا سبب صرف یہ ہے کہ اس نے اسے پکارا جس کے پاس اس کی پکار کا جواب نہ تھا اور اس آستانے سے اس نے گریز کیا جس آستانے پر ہر ایک کو مرادیں ملتی اور ہر ایک کی قسمت بنتی اور سنورتی ہے۔ ممکن ہے کسی کو اس مثال میں اجنبیت کا احساس ہو لیکن قرآن کریم چونکہ ٹھیٹھ عربی زبان اور ٹھیٹھ عربی مزاج کے مطابق نازل ہوا ہے کیونکہ عرب ہی اس کی اولین مخاطب تھے اور انھی کی حیثیت اسلام کے لیے ہر اول دستے کی تھی۔ ان کے جب ہم معروف کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عرب جب کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ ایک بےفائدہ کوشش کررہا ہے تو وہ اس کے لیے القابض علی الماء بطور ضرب المثل پیش کرتے تھے۔ امام لغت و نحو ابوعبیدہ نے بطور استشہاد یہ شعر بھی پیش کیا : وَاِنِّیْ وَاِیَّاکُمْ وَشَوْقًا اِلَیْکُمْ کَقَابِضِ مَائٍ لَمْ یَسَعُہُ الاَ نَامِلُ
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کررہے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، خوشی سے اور مجبوراً اور ان کے سائے بھی ( سجدہ ریز ہیں) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی۔

وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًاوَّکَرْھًاوَّظِلٰلُہُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۔ (سورۃ الرعد : 15) (اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کررہے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، خوشی سے اور مجبوراً اور ان کے سائے بھی ( سجدہ ریز ہیں) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی۔ ) ہر چیز کی تکوینی شہادت یہ انسان کی کج فکری ہے کہ وہ اس قدر برخود غلط ہوجاتا ہے کہ کسی کے سامنے جھکنا بھی اسے گوارا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے تئیں یہ سمجھتا ہے کہ مجھے جو اختیار اور اقتدار ملا ہے اس کی موجودگی میں میں کسی اور کی اطاعت کروں یا کسی کی ہدایت قبول کروں یا کسی کے سامنے جھکوں یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ میں بقدر استطاعت دوسروں کو اپنے سامنے جھکائوں گا اور اپنی فرعونیت کا صور ہمت سے بڑھ کر پھونکنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن ایسا شخص دو باتیں بھول جاتا ہے ایک تو یہ بات کہ جسے وہ اپنی فرعونیت سمجھتا ہے وہ درحقیقت ہَوائے نفس کا اتباع ہے۔ وہ جو جی میں آتا ہے وہ کرتا ہے اور جسے اس کا دل کہتا ہے یہی درحقیقت اس کا معبود ہے۔ ایسے لوگ بعض دفعہ دوسروں سے زیادہ کمزور ثابت ہوتے ہیں اور دوسری بات جسے وہ نظرانداز کردیتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنی جسمانی قوتوں اور ضرورتوں پر غور کرے تو اسے اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ قدم قدم پر اختیاری طور پر نہ سہی تکوینی طور پر اس ذات کا مطیع اور فرمانبردار ہے جس نے اس کو جسم و جان دیے اور قوتیں عطا کیں۔ ایک آدمی کو جب بھوک لگتی ہے تو وہ کھانے پر مجبور ہے، پیاس لگتی ہے تو پینے پر مجبور ہے، موسم کی شدت پریشان کرتی ہے تو پہننے پر مجبور ہے اور یہ کھانا پینا اور پہننا بھی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اسی کی مرضی سے ہوگا جس نے بھوک مٹانے، پیاس بجھانے کی صلاحیت پیدا کی۔ اسی طرح ایک آدمی جو اپنی زبان اور دل سے اللہ تعالیٰ کا اقرار اور اس کی تصدیق سے انکار کرتا ہے وہ بھی اس بات پر مجبور ہے کہ جب بولے تو زبان سے بولے اور جب تصدیق کرے تو دل سے کرے۔ اور یہ زبان سے بولنا اور دل سے تصدیق کرنا یہ وہ تکوینی قانون ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے۔ اور ہر شخص اسی کا پابند ہے۔ اس نے حکم دے رکھا ہے کہ جب سوچو، دماغ سے سوچو۔ جب چلو، پائوں سے چلو۔ جب محسوس کرو، تو حواس کے ذریعے محسوس کرو۔ اسی پر باقی تمام طبعی اور تکوینی قوانین کو قیاس کر لیجیے جس سے آدمی کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ میں خواہی نخواہی اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کی تعمیل کرنے پر مجبور ہوں اور کچھ نہیں تو آدمی اتنا ہی سوچے کہ زندگی کسی کی عطا ہے، میں جسے گزار رہا ہوں۔ اور اس کا گزرنا بھی اس کے پیدا کرنے والے کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح ایک دن ایسا آئے گا جب میری زندگی کا دیا بجھا دیا جائے گا۔ میں ہزار کوشش کروں کہ مجھے زندگی کے چند لمحے اور مل جائیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ یہی وہ بات ہے جس کے بارے میں اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ زمین و آسمان میں جو مخلوقات بھی آباد ہیں وہ طوعاً و کرہاً اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مجبور ہیں۔ اطاعت سے مراد اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ تم ہر چیز کے سائے کو دیکھ لو وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ مغرب یا مشرق کی طرف یہ ہمارا روز کا دیکھا جانے والا ماجرہ ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سجدے سے مراد اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت ہے۔ اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو کائنات میں ایسی کونسی سے چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام کی اطاعت کرنے پر مجبور نہیں۔ سورج چمکتا ہے، چاند دمکتا ہے، زمین بچھی ہوئی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔ ان میں کوئی بھی اپنی اس روش سے سرتابی نہیں کرسکتا جس کا انھیں حکم دیا جا چکا ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے پوچھئے آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے۔ کہہ دیجیے، اللہ تعالیٰ ۔ ان سے پوچھئے تو کیا اس کے بعد تم نے اس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع پر کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی ضرر پر۔ ان سے پوچھئے کیا اندھے اور بینا دونوں یکساں ہیں یا کیا روشنی اور تاریکی دونوں برابر ہیں۔ کیا انھوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنھوں نے اسی کی طرح خلق کیا ہے جس کے سبب سے ان کو خلق میں اشتباہ لاحق ہوگیا ہے۔ آپ ﷺ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ اور وہ ایک ہے سب پر غالب ہے۔

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قُلِ اللّٰہُ ط قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ لاَ یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ نَفْعًا وَّلاَ ضَرًّا ط قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ 5 لا اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ 5 ج اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ خَلَقُوْا کَخَلْقِہٖ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْہِمْ ط قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّھُوَالْوَاحِدُالْقَھَّارُ ۔ (سورۃ الرعد : 16) (اے پیغمبر ﷺ ان سے پوچھئے آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے۔ کہہ دیجیے، اللہ تعالیٰ ۔ ان سے پوچھئے تو کیا اس کے بعد تم نے اس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع پر کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی ضرر پر۔ ان سے پوچھئے کیا اندھے اور بینا دونوں یکساں ہیں یا کیا روشنی اور تاریکی دونوں برابر ہیں۔ کیا انھوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنھوں نے اسی کی طرح خلق کیا ہے جس کے سبب سے ان کو خلق میں اشتباہ لاحق ہوگیا ہے۔ آپ ﷺ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ اور وہ ایک ہے سب پر غالب ہے۔ ) مشرکین کے اعتقادی تضاد سے استدلال جب یہ بات واضح ہوچکی کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپناہ ہے، اس کا علم بےپایاں ہے، کائنات کی ہر چیز تکوینی طور پر اسی کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ جو لوگ اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں طبعی اور جبلی طور پر اسی کے احکام کے تابع اور اس کے بندے ہیں۔ اس وضاحت کے بعد کفار سے پوچھا جارہا ہے کہ تم اگر اس وضاحت کو تسلیم کرتے ہو تو پھر بتائو آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے۔ یہاں رب پروردگار اور مالک کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر مخلوق اسی کے تابع ہے اور اسی کا رزق کھا رہی ہے تو پھر اس میں کیا شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ اس کائنات کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا پروردگار اور رازق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن مشرکینِ مکہ سے جب یہ بات پوچھی گئی تو انھوں نے چپ سادھ لی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کو خالق اور مالک جانتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ شرک بھی کرتے ہیں جبکہ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ چناچہ اس وجہ سے انھوں نے عافیت اسی میں سمجھی کہ اس سوال کا جواب ہی نہ دیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کی خفت کو زبان دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ومالک ہے۔ جب اس پر وہ خاموش رہے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ انھیں اس جواب سے کوئی اختلاف نہیں، تو تب اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تمہیں یہ سب کچھ تسلیم ہے تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسے کارساز اور اولیاء کس طرح بنا لیے ہیں جو اپنے تئیں نہ کسی نفع کے مالک ہیں اور نہ ضرر کے، کیونکہ کوئی مخلوق بھی اپنے لیے جو نفع حاصل کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے امکانات اور وسائل سے حاصل کرتی ہے۔ اپنی ذات میں کوئی بھی کسی نفع نقصان کے حصول کا مالک نہیں۔ مندرجہ بالا تمام باتیں جنھیں قریش مکہ قبول کرچکے ہیں ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جو عقل اور فطرت کے خلاف ہو۔ جو شخص بھی کھلی آنکھوں سے اس کائنات کو دیکھتا ہے اسے جابجا اللہ تعالیٰ کی قدرت نظر آتی ہے۔ اور جو شخص اپنی عقل کے ذریعے اس کائنات میں غور کرتا ہے تو اسے اس کائنات کا نظم و ترتیب، اس کائنات کے ذرے ذرے میں پھیلی ہوئی حکمت اور کائنات کی ایک ایک مخلوق کی ضرورتوں کو بہم پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور رحمت کی ہمہ گیر کارفرمائی اس بات کو ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ حواس اور عقل کا فیصلہ اس کے سوا ممکن ہی نہیں کہ اس کائنات کا خالق ومالک ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ کیونکہ حواس بھی اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور عقل بھی اسی کا فتویٰ دیتی ہے، لیکن مشرکینِ مکہ کا عمل چونکہ سراسر اس کے خلاف تھا اس لیے ان سے پوچھا گیا کہ تم اپنے عقائد اور اعمال میں جس اندھے پن کا شکار ہو اور تمہیں اس پر اصرار بھی ہے تو کیا تمہارے نزدیک اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوتا ہے۔ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں تاریکی میں اندھا اور بینا برابر ہوتے ہیں۔ اس لیے فوراً فرمایا کہ کیا تاریکی اور روشنی برابر ہیں اور اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمہیں اپنی حالت پر نادم ہونا چاہیے۔ تاریکی کا مسافر بننے کی بجائے تمہیں روشنی کا مسافر بننا چاہیے۔ اور اگر گندگی کے کیڑے کی طرح (کہ وہ باہر رہنے کا تصور کر ہی نہیں سکتا) تم بھی ظلمتوں کے اسیر ہو کر رہ گئے ہو تو پھر یہ بتائو کہ جو لوگ ظلمت اور نور کے فرق کو جان چکے ہیں اور جن کے سامنے ظلمت کی حقیقت بھی کھل چکی ہے اور نور کی بھی، وہ آخر اپنی آنکھیں کہاں پھوڑ لیں۔ وہ کس طرح تاریکی کو نور قرار دے دیں اور نور کو تاریکی۔ ظلمات سے مراد وہ تمام گمراہیاں، تمام غلط خیالات اور خواہشاتِ نفس کے تمام مفاسد ہیں جنھیں انسانی فکر نے پیدا کیا ہے اور یا انبیائے کرام (علیہم السلام) کی دعوت کی مخالفت کے نتیجے میں قوموں نے ازخود وہ راستے اختیار کیے ہیں اور نور سے مراد وہ روشنی ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے نبیوں پر نازل ہوتی ہے جس میں صحیح فکر، صحیح علم، صحیح منزل اور صحیح راستے کی خبر دی جاتی ہے، جس میں علم و اخلاق کے رشتے کو جوڑا جاتا ہے اور جس میں کائنات سے اللہ تعالیٰ کے رشتے کی اور اللہ تعالیٰ سے کائنات کے رشتے کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اور جس میں انسانی زندگی کی ایک ایک چول اپنی جگہ بٹھا دی جاتی ہے تو پھر مزید کسی رہنمائی کی ضرورت نہیں رہتی۔ ظلمتوں یعنی گمراہیوں کے راستے بیشمار ہیں۔ اس لیے ظلمات کو ہر جگہ جمع لایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی انسانوں کے لیے رہنمائی ہمیشہ ایک ہی رہی ہے جسے انبیائے کرام (علیہم السلام) پر اتارا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے نور کو ہمیشہ واحد لایا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی نور واحد استعمال ہوا حالانکہ اس کی جمع انوار عربی زبان میں نہ صرف مستعمل ہے بلکہ غیرفصیح بھی نہیں، لیکن یہ انسانی فکر اور عمل کا حادثہ ہے کہ انسان نے ایک نور کی رہنمائی پر کفایت نہ کرتے ہوئے فکری اور عملی ظلمتوں کو زندگی کا رہنماء بنا لیا ہے اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ انبیائے کرام (علیہم السلام) کی دی ہوئی روشنی پر ان تاریکیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی ڈھٹائی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسی قادرمطلق ذات کے ساتھ ان قوتوں کو شریک بنا رکھا ہے جو اپنے لیے نفع و ضرر کی مالک بھی نہیں۔ اور فطرت اور وحی الٰہی کی روشنی کے مقابلے میں ظلمتوں کا اسیر بن کر بےبصری اور بےبصیرتی کا ثبوت دے رہے ہیں اور انھیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم نے کس طرح نور پر ظلمتوں کو ترجیح دے دی ہے اور اپنے لیے اندھا پن اختیار کرلیا ہے۔ ان کی نادانیوں اور گمراہیوں کی داستان سمیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ تم اللہ تعالیٰ کو بالاتفاق خالق کائنات جانتے ہو، اس کے باوجود تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ دوسری قوتوں کو شریک بنا رکھا ہے تو کہیں اس کی یہ وجہ تو نہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک ایک چیز کو تخلیق فرمایا ہے اور وہ ساری کائنات کا خالق ہے، اسی طرح تمہارے شرکاء نے بھی کچھ چیزیں خلق کی ہیں اور اس طرح سے تم پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے یا دوسرے شرکاء بھی، حالانکہ تم جانتے ہو کہ تم ایسی کسی الجھن میں مبتلا نہیں ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے میں تمہیں کوئی اشتباہ نہیں تو پھر تم نے شرک کے لیے گنجائش کیسے نکالی۔ فیصلہ کن اعلان آیتِ کریمہ کے آخر میں مشرکینِ مکہ کی بےاعتدالیوں کا ذکر ختم کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ، اے پیغمبر آپ ان مشرکین سے صاف صاف فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور تخلیق کائنات میں کسی کو کوئی دخل نہیں، کم از کم اس حد تک تم اللہ تعالیٰ کے معاملے میں عقیدہ کے اعتبار سے سچے ہو لیکن اس عقیدے کے جو لازمی نتائج ہیں نہ جانے تمہاری فکر وہاں پہنچنے سے کیوں رک جاتی ہے۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جو ذات ساری کائنات کی خالق ہوگی وہی اس کائنات کی مدبر بھی ہوگی، وہی اس کائنات کی حاکم حقیقی بھی ہوگی۔ تنہا اسی ذات کا حکم کائنات میں جاری وساری ہوگا۔ اس کائنات کے فیصلوں میں کوئی اس کا شریک نہیں ہوگا۔ اور دوسری یہ بات جو صرف لازمی نتیجہ کے طور پر نہیں بلکہ امرو اقعہ بھی ہے کہ جس طرح ایک ہی ذات اس کائنات کی خالق ہے اور وہ ہر طرح کے شرک سے پاک ہے اسی طرح وہی اس کائنات کی قہار بھی ہے۔ قہار اس ہستی کو کہتے ہیں جو اپنے زور سے سب پر حکم چلائے اور سب کو مغلوب کرکے رکھے۔ کائنات میں کوئی مخلوق اس کے سامنے چوں چرا نہیں کرسکتی۔ نہ کوئی اس کی ذات میں شریک ہے، نہ صفات میں، نہ اختیارات میں اور نہ حقوق میں۔ یہ تینوں باتیں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کہ جو ذات ساری کائنات کی خالق ہے وہ یقینا واحد ہوگی کیونکہ کوئی مخلوق خالق نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح وہ قہار بھی ہوگی کیونکہ خالق کے سامنے مغلوب ہو کے رہنا تصورمخلوقیت کا لازم جز ہے، کیونکہ اگر غلبہ کامل خالق کو حاصل نہ ہو تو وہ خلق ہی کیسے کرسکتا ہے۔ اس لیے تینوں باتوں کا اعلان اس آیت کریمہ کے آخر میں آنحضرت ﷺ سے کرایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے، وہی یکہ اور تنہا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور وہی سب پر غالب ہے۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اس نے آسمان سے پانی اتارا تو وادیاں اپنے اپنے اندازے کے مطابق بہہ نکلیں، پھر سیلاب کی رو نے ابھرا ہوا جھاک اٹھا لیا اور جن چیزوں کو آگ کے اندر تپاتے ہیں، زیور بنانے کے لیے یا دیگر سامان بنانے کے لیے، اس میں بھی ویسا ہی جھاک اٹھتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کو ٹکراتا ہے، پس جھاک تو رائیگاں چلا جاتا ہے لیکن جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹک جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمثیلیں بیان کرتا ہے۔

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌ م بِقَدَرِھَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًارَّابِیًا ط وَمِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْہِ فِی النَّارِ ابْتَغَآئَ حِلْیَۃٍ اَوْمَتَاعٍ زَبَدٌمِّثْلُہٗ ط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ 5 ط فَامَّا الزَّبَدُفَیَذْھَبُ جُفَآئً ج وَاَمَّا مَایَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ ط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ ۔ (سورۃ الرعد : 17) (اس نے آسمان سے پانی اتارا تو وادیاں اپنے اپنے اندازے کے مطابق بہہ نکلیں، پھر سیلاب کی رو نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا اور جن چیزوں کو آگ کے اندر تپاتے ہیں، زیور بنانے کے لیے یا دیگر سامان بنانے کے لیے، اس میں بھی ویسا ہی جھاگ اٹھتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کو ٹکراتا ہے، پس جھاگ تو رائیگاں چلا جاتا ہے لیکن جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹک جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمثیلیں بیان کرتا ہے۔ ) بعض حقائق کا استحضار مکی زندگی میں اگر ایک طرف عقائد کی کشمکش جاری ہے تو دوسری طرف اس کشمکش نے حق و باطل میں ٹکرائو کی صورت اختیار کرلی ہے۔ باطل ہر قیمت پر اہل حق کو ہزیمت دینے پر تلاہوا ہے۔ مختلف قسم کے شبہات اٹھا کر حق کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کی جارہی ہیں اور اہل حق کو روح فرسا اذیتیں پہنچا کر توڑنے کی کوشش ہورہی ہے اور ان اذیتوں اور ناگفتہ بہ حالات میں چونکہ کوئی تبدیلی نہیں آرہی اس لیے مسلمانوں میں مایوسی پیدا کرنے کی بھی کوشش جاری ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان تمام حوالوں سے قرآن کریم نے مسلمانوں کو اطمینان کا سامان بہم پہنچایا ہے اور اہل باطل کو آئینہ دکھایا ہے۔ ارشاد فرمایا، کہ تم اگر معنوی اور روحانی حقائق کو نہیں سمجھتے ہو تو ہم تمہیں ایک مثال سے سمجھاتے ہیں جو تمہاری آنکھوں دیکھی مثال ہے۔ تم نے بارہا دیکھا ہوگا کہ موسم برسات میں گھٹائیں اٹھتی ہیں، زمین کو زندگی دینے کے لیے بارشیں برستی ہیں، تیز بارش کے نتیجے میں وادیاں اور ندی نالے اپنی اپنی وسعت اور ظرف کے مطابق بہنا شروع کردیتے ہیں۔ پانی جب سیل کی صورت اختیار کرتا ہے تو راستے میں آنے والے کوڑے کرکٹ کی رکاوٹ سے ایک جھاگ اٹھتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھاگ پانی کو بہنے سے روک دے گا اور زمین ویسی کی ویسی خشک اور بنجر رہ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اس میں ہمیں تین باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ زمین کی زندگی کے لیے جب بھی بارش اترتی ہے تو بارش کی منفعت بخشی کے لیے ضروری نہیں کہ اسے رکاوٹیں پیش نہ آئیں کیونکہ جھلسی ہوئی زمین اولاً تو اس کو جھلس دینا چاہتی ہے اور ثانیاً کوڑے کرکٹ اور دوسری چیزوں کی رکاوٹیں اس کا راستہ روکنے کے لیے اپنا زور لگاتی ہیں جو جھاگ کی صورت میں نظر آتا ہے اور دوسری بات یہ کہ بارش کی منعفت بخشی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر اتنی رفتار اور اتنا زور ہو جو سیل کی صورت اختیار کرجائے تاکہ راستے میں حائل ہونے والی رکاوٹیں اس کا راستہ نہ روک سکیں۔ اور تیسری بات یہ کہ ندی نالے اور وادیاں اپنا اپنا ظرف اور اپنی اپنی وسعتوں کے دامن کشارہ رکھیں کیونکہ یہی سرمایہ سیل کی صورت آرائی کرتا ہے۔ اسی حقیقت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے ایک دوسری مثال بھی دی گئی کہ سونے اور چاندی کے برتنوں کے بنانے کے لیے جب بھی سونے اور چاندی کو تپایا جاتا ہے تو یہ کبھی نہیں ہوا کہ آگ سونے اور چاندی کو ملمع اور میل سے صاف کرکے خالص کردے اور ملمع اور میل جھاگ کی صورت میں مدافعت کا عمل بروئے کار نہ لائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر منفعت بخش چیز اور ہر قابل قدر حقیقت کا منفعت بخش ہونا اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب وہ ملمع اور میل کچیل سے صاف ہو اور یہ تنظیف اور تطہیر کا عمل بروئے کار نہیں آتا جب تک حالات کی شدت اسے تپا کر خالص نہیں کردیتی۔ ان دونوں مثالیوں کو سامنے رکھئے اور پھر اس آیت کریمہ پر غور فرمایئے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بارش کی صورت وحی کی دولت عطا فرما کر بھیجا۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب دعوت کی اس بارش نے قوت پکڑی اور سیل کی صورت اختیار کی تو باطل اور اہل باطل نے ہر ممکن طریقے سے اس کا راستہ روکا اور ان کی بڑھتی ہوئی مخالفت نے ایسی شکل اختیار کرلی جیسے سیلاب میں اٹھتے ہوئے جھاگ کی شکل ہوتی ہے اور دیکھنے والی نگاہ ایسا محسوس کرنے لگتی ہے کہ یہ جھاگ شاید سیل کو روک دے گا، لیکن اس سیل کو روکناجھاگ کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ جھاگ اڑ جاتا ہے اور پانی اپنی منفعت بخشی کے کام کو جاری رکھتا ہے۔ اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تبلیغ و دعوت کی قوت کو ایک سیل کی طرح آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر مخالفتیں زوروں پر ہوں تو اس کی مثبت قوتیں بھی اخلاص و عمل کے پورے زور کو بروئے کار لانے کی پابند ہیں لیکن اگر دل و دماغ بات کو سمجھنے کے لیے آمادہ ہوں تو پھر اس کی تیزی کو نغمگی میں بدل جانا چاہیے۔ بقول اقبال : گزر جا بن کے سیل تندرو کوہ و بیاباں سے گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا لیکن رک جانے اور سستانے کا کوئی موقع نہیں۔ تازہ دم ہونے کے لیے آرام ایک حقیقت ہے۔ لیکن کام سے غفلت اور مقصد سے لاتعلقی کا کوئی جواز نہیں۔ اس راہ میں نہ مصائب کی پرواہ کی جاتی ہے اور نہ بہلائوں پر کان دھرا جاتا ہے۔ فرض بار بار پکارتا ہے : اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول نظریاتی تصادم اور حق و باطل کی کشمکش میں اگر ایک طرف سیل کی سی قوت ہونی چاہیے تاکہ وقت کی مفسد قوتیں اس کو تر نوالہ نہ سمجھ لیں اور ان کی فتنہ انگیزیاں ان میں اپنے مطلب کے لوگ تلاش نہ کرسکیں، تو ساتھ ہی ساتھ اہل حق میں حق کے نفاذ اور اظہار اور دوسرے لوگوں سے معاملات میں ایسی نرمی ہونی چاہیے کہ حریر اور پرنیاں شرما جائیں اور ان کی مروت اور دلآویزی اور لوگوں کے کام آنے کا جذبہ لوگوں کو یقین دلا دے کہ یہی لوگ ہیں جن سے یہ دھرتی آباد ہے۔ اہل باطل جب دنیا کو اپنی منڈیوں میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہوں اور دوسری قوموں سے ان کے تعلقات صرف اپنے مفاد کی قیمت پر ہوں تو اہل حق کو دیکھ کر لوگوں کو یقین آجائے کہ یہ لوگ کچھ حاصل کرنے کے لیے سرگرداں نہیں بلکہ دوسروں کی ضرورتیں پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ اہل حق کو سرفراز کرتا ہے اور اہل باطل کو سرنگوں کرتا اور مٹا دیتا ہے کہ اس کا اصول ہی یہ ہے کہ جھاگ باقی نہیں رہتا وہ اڑ جاتا ہے اور جو چیز نفع دیتی ہے اسے باقی رکھا جاتا ہے۔ زندگی کی دوڑ میں جہاں اصلح ہونا ضروری ہے وہیں انفع ہونا بھی ضروری ہے بلکہ بقا فی الحقیقت انفع کے لیے مقدر ہے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا ان کے لیے انجام کار کی فیروزمندی ہے اور جن لوگوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی اگر ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوجائے جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ اسے فدیہ ہی میں دے ڈالیں، یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْالِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰی ط وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗ لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لاَ فْتَدَوْا بِہٖ ط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ سُوْٓئُ الْحِسَابِ 5 لا وَمَاْ ٰوہُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ (سورۃ الرعد : 18) (جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا ان کے لیے انجام کار کی فیروزمندی ہے اور جن لوگوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی اگر ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوجائے جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ اسے فدیہ ہی میں دے ڈالیں، یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں جو بات تمثیلی انداز میں سمجھائی گئی ہے اسے سادہ اور واضح انداز میں ایک دوسرے پہلو سے بیان کیا جارہا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو بارش وحی الٰہی کی صورت میں نازل ہورہی ہے وہ تو اپنے منطقی اور حقیقی انجام کو پہنچ کر رہے گی۔ لیکن سوچنے کی بات مشرکینِ مکہ کے لیے ہے کہ وہ انکار کی صورت میں کس قدر ہولناک انجام سے دوچار ہوں گے۔ قبول کرنے والے تو اپنے بہترین انجام کو پہنچ جائیں گے لیکن انکار کرنے والے کس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہوں گے اس کا اندازہ صرف اتنی بات سے ہوسکتا ہے کہ وہ یہ چاہیں گے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے اگر اتنا ہی اور ان کے پاس ہوتا تو وہ سب کو فدیہ میں دے کر اپنے جان بچانے کی کوشش کرتے۔ اس آیت کے بعض ضمنی افادات کی طرف صاحب تفہیم القرآن نے اشارہ کیا ہے ہم اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کا محاسبہ اپنے ان بندوں سے کرے گا جو اس کے باغی بن کر دنیا میں رہے ہیں۔ بخلاف اس کے جنھوں نے اپنے خدا سے وفاداری کی ہے اور اس کے مطیع فرمان بن کر رہے ہیں ان سے ” حسابِ یسیر “ یعنی ہلکا حساب لیا جائے گا، ان کی خدمات کے مقابلے میں ان کی خطائوں سے درگزر کیا جائے گا اور ان کے مجموعی طرز عمل کی بھلائی کو ملحوظ رکھ کر ان کی بہت سی کوتاہیوں سے صرف نظر کرلیا جائے گا۔ اس کی مزید توضیح اس حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت عائشہ ( رض) سے ابودائود میں مروی ہے۔ حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول ﷺ اللہ تعالیٰ ، میرے نزدیک کتاب اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ خوفناک آیت وہ ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً یُّجْزَبِہٖ ۔ ” جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔ “ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : عائشہ ( رض) ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کے مطیع فرمان بندے کو دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے حتیٰ کہ اگر کوئی کانٹا بھی اس کو چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے کسی نہ کسی قصور کی سزا قرار دے کر دنیا ہی میں اس کا حساب صاف کردیتا ہے ؟ آخرت میں تو جس سے بھی محاسبہ ہوگا وہ سزا پا کر رہے گا۔ حضرت عائشہ ( رض) نے عرض کیا پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِیْنِہِ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا ؟” جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔ “ حضور ﷺ نے جواب دیا، اس سے مراد پیشی ہے یعنی اس کی بھلائیوں کے ساتھ اس کی بُرائیاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ضرور ہوں گی، مگر جس سے بازپرس ہوئی وہ تو بس سمجھ لو کہ مارا گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص اپنے وفادار اور فرمانبردار ملازم کی چھوٹی چھوٹی خطائوں پر کبھی سخت گرفت نہیں کرتا بلکہ اس کے بڑے بڑے قصوروں کو بھی اس کی خدمات کے پیش نظر معاف کردیتا ہے لیکن اگر کسی ملازم کی غداری و خیانت ثابت ہوجائے تو اس کی کوئی خدمت قابل لحاظ نہیں رہتی اور اس کے چھوٹے بڑے سب قصور شمار میں آجاتے ہیں۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

(تو کیا جو شخص جانتا ہے کہ آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے۔ وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہے۔ نصیحت صرف عقلمند ہی قبول کرتے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ھُوَاَعْمٰی ط اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 19) (تو کیا جو شخص جانتا ہے کہ آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے۔ وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہے۔ نصیحت صرف عقلمند ہی قبول کرتے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور قریش مکہ کو تنبیہ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے۔ اور قریش مکہ کو آئینہ دکھانا مقصود ہے۔ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے انداز کو اور کفار کی ہدایت کے لیے آپ ﷺ کی دلسوزی کو جس طرح بیان فرمایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کی ہدایت کا کام محض ایک ذمہ داری سمجھ کر ادا نہیں فرما رہے تھے بلکہ لوگوں کی بھلائی اور ان کی زندگیوں میں خوش اطواری کا ورود اور آخرت کی فکر پیدا کرنے کی طلب آپ ﷺ پر اس طرح حاوی ہوگئی تھی کہ آپ ﷺ کی زندگی کے تمام معمولات اور آپ ﷺ کے تمام احساسات پر اس نے غلبہ پا لیا تھا، جو کافر ایمان لانے سے انکار کرتا تھا، آپ ﷺ کو چونکہ یقین تھا کہ اس کا انجام جہنم میں جلنا ہے تو آپ محسوس کرنے لگتے تھے کہ یہ شخص اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آگ کا ایک بڑا الائو ہے جو اس کا منتظر ہے اور یہ اپنی حماقت سے اس میں کود جانا چاہتا ہے۔ میں چونکہ اس کی تباہی اور بربادی دیکھ رہا ہوں اور میری اسے بچانے کی تمام کوششیں ناکام ہورہی ہیں تو آپ کی طبیعت پر ایک غیرمعمولی بار پڑتا تھا اور آپ کی روح زخمی ہونے لگتی تھی۔ اور آپ ﷺ کی بالکل وہی کیفیت ہوتی تھی جو ایک ہمدرد انسان کی آگ میں جلتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر ہوتی ہے۔ مزید پریشانی کی بات یہ تھی کہ کبھی کبھی آپ ﷺ محسوس کرنے لگتے کہ قریش مکہ کا ہدایت قبول نہ کرنا اور خطرناک انجام کی طرف بڑھتے چلے جانا تبلیغ و دعوت میں شاید میری کسی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ اور میں شاید ان کو ہدایت دینے میں وہ محنت، وہ توجہ، وہ ہمدردی و غمگساری بروئے کار نہیں لاسکا جس کی انھیں ضرورت تھی۔ چناچہ وہ ذات خداوندی جو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے وہ آنحضرت ﷺ کے اس احساس کے پیش نظر جس نے آپ ﷺ کو مضمحل کرکے رکھ دیا تھا تسلی دینے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور جابجا قرآن پاک میں ہم اسی حوالے سے تسلی پر مشتمل آیات کو نازل ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی نہایت دلنواز انداز میں آپ ﷺ کو اطمینان دلایا جارہا ہے کہ قریش مکہ کا راہ راست نہ اختیار کرنا آپ ﷺ کی کسی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی بدنصیبی کا نتیجہ ہے۔ انھیں آپ ﷺ نے باقی انسانوں کی ہی طرح ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن انھوں نے اپنے دل و دماغ میں جو بت سجا رکھے ہیں اور اپنے معمولات جن کاموں کی نذر کر رکھے ہیں اور اپنی ترجیحات جن حوالوں سے متعین کر رکھی ہیں اور اپنی خواہشات جن بداطواریوں کے تابع کر رکھی ہیں اس نے ان کے اندر ایک نئی شخصیت پیدا کردی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ان کی عقلیں مائوف ہوگئی ہیں، ان کے حواس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ کہنے کو بینا ہیں لیکن حقیقت میں اندھے ہیں۔ یہ دنیا کی ہر حقیقت کو دیکھتے ہیں لیکن آخرت کی حقیقت ان کی نگاہوں سے مخفی رہتی ہے۔ یہ حواس کی زندگی کو عقل کی زندگی سمجھتے ہیں اور آنکھ کی روشنی کو دل کی روشنی پر ترجیح دیتے ہیں۔ جس طرح آنکھ کا اندھا بار بار ٹھوکر کھا کے گرتا ہے اور اسے منزل تک پہنچنا کبھی نصیب نہیں ہوتا اسی طرح دل کا اندھا بھی حقائق کی شناخت سے ہمیشہ محروم رہتا ہے۔ وہ ہر چیز کے ظاہر کو جانتا ہے لیکن اس کے باطن تک اترنا اسے کبھی نصیب نہیں ہوتا۔ وہ حیوانی زندگی کا اسیر ہو کر انسانی زندگی سے بیخبر رہتا ہے۔ اس کا میدانِ عمل پیٹ کی ضرورتوں تک محصور ہوجاتا ہے۔ وہ انسانیت کی ضرورتوں کا شعور کبھی پیدا نہیں کرسکتا۔ اس لیے اقبال بار بار ترغیب دیتا ہے : دل کا نور کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں ان لوگوں کے دل چونکہ اندھے ہوچکے ہیں اور اپنی مسلسل بداعمالیوں سے ان کے دلوں کا نوربجھ چکا ہے۔ یہ سبب ہے جس کی وجہ سے آپ ﷺ کی دعوت ان کے دلوں تک نہیں اتررہی۔ وہ پیٹ کی ضرورتوں کو تو سمجھتے ہیں لیکن دل کی ضرورتوں کو سمجھنا ان کے بس کی بات نہیں۔ آپ ﷺ جو روشنی دکھانا چاہتے ہیں وہ اسے دیکھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اس لیے آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنا وہ سراسر ان کے بےصلاحیت ہونے کا نتیجہ ہے، آپ ﷺ کی دعوت میں کوئی کمی نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مشرکین کو آئینہ دکھایا جارہا ہے کہ تم آنحضرت ﷺ کی دعوت کو رد کرکے یہ سمجھتے ہو کہ تم نے شاید کوئی کارنامہ انجام دیا ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت انسانیت کی پکار ہے۔ انسانوں کی پیاسی روح کا جواب ہے۔ وہ تمہارے روشن مستقبل کی نوید ہے، وہ تمہاری فوزوفلاح کی ضمانت ہے۔ تم نے دن کی روشنی چھوڑ کر رات کی تاریکیوں کو پسند کیا۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ تم کس طرح حوادث کو دعوت دے رہے ہو۔ تم چونکہ دانش نورانی کی دولت سے تہی دامن ہو اس لیے دانش برہانی ہی کو زندگی کی اساس اور زندگی کی رہنما سمجھتے ہو، تمہیں معلوم نہیں کہ علم و دانش انسان کا عظیم سرمایہ ہے۔ لیکن جب یہی دانش، دانشِ نورانی سے الگ ہوجاتی ہے تو پھر اس دانش کا کام اتباعِ ہَویٰ کے سواکچھ نہیں ہوتا۔ یہ ہوائے نفس کی وکیل بن کر انسانی اقدار کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کے بعد وضاحت سے بتایا کہ حقیقی عقلمند کون لوگ ہیں۔