13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsروح القرآن

Ayahs 13:20–21

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے پیمان کو توڑتے نہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِاللّٰہِ وَلاَ یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاق۔ وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ وَیَخَافُوْنَ سُوْآئَ الْحِسَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 20۔ 21) (جو اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے پیمان کو توڑتے نہیں۔ اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ ) اولوالالباب کی پہلی صفت وہ عقلمند جو اللہ تعالیٰ کے قرآن سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرتے ہیں ان کی مختلف صفات ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اس کے میثاق کو کبھی توڑنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عہد ہے جسے عہدالست کہا جاتا ہے۔ عہدِ الست کا مفہوم عہد کے الفاظ پر غور کیجیے، پروردگار نے انسانوں سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ عہد لیتے ہوئے یہ نہیں فرمایا گیا کہ میں تمہارا خدا نہیں ہوں ؟ یعنی پروردگار نے انسانوں سے اپنے اللہ تعالیٰ ہونے کا عہد نہیں لیا بلکہ اپنے رب ہونے کے بارے میں پوچھا اور سب نے اقرار کیا کہ ہاں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب پروردگار نے نوع انسانی سے اپنے رب ہونے کا اقرار لیا تو یہ بات ازخود انسانوں پر واضح ہوگئی کہ جس عظیم ذات کے لیے ہم ربوبیت کا عہد کررہے ہیں وہی ہمارا اللہ تعالیٰ ہے اور یہ ایسی حقیقت تھی جس کا عہد لینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ گمراہی کی ابتداء جب بھی ہوئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے انکار سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے ربوبیت کے انکار سے ہوئی ہے۔ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار کیا ہو اور اگر کبھی پروپیگنڈے یا غلط تعلیم کے زور سے زبانوں پر انکار جاری کر بھی دیا جائے تو حقیقت میں انسانی فطرت اسے قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ جب کبھی موقع آتا ہے اس کا اظہار ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ تاریخ میں ہم جتنی قوموں کا ذکر پڑھتے ہیں وہ مختلف قسم کے شرک میں تو ملوث رہی ہیں لیکن کبھی کسی قوم کے بارے میں تاریخ نے یہ نہیں لکھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار کردیا۔ ایک بڑی ذات جو کائنات کا مبداء و معاد ہے اسے ہر قوم نے قبول کیا چاہے اس کا نام کچھ بھی رکھا ہو۔ البتہ اس کے نیچے بیشمار رب بنا لیے کیونکہ ان کا گمان یہ تھا کہ ایک ایسی ذات جو آسمانوں کی بلندیوں پر متمکن ہے زمین کے آخری گوشے تک بسنے والے انسانوں کے حالات سے نہ آگاہ ہوسکتی ہے اور نہ ان کے معاملات میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنے اختیارات اپنے ماتحتوں میں تقسیم کردیتی ہے تاکہ دنیا کا نظام چلتا رہے۔ یہیں سے شرک کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں یاد دلایا جارہا ہے کہ ہم نے پہلے دن انسانوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ تم میرے سوا کسی اور کو رب نہ ماننا یعنی میری ذات کے اقرار کے ساتھ ساتھ یہ کبھی حرکت نہ کرنا کہ میرے اختیارات اور میری صفات میں کسی اور کو شریک کردو۔ مشرکین مکہ دنیا بھر کے مشرکین کی طرح اسی گمراہی کا شکار تھے حتیٰ کہ بنی اسرائیل بھی حامل کتاب ہونے کے باوجود اس گمراہی سے محفوظ نہیں تھے اور آج کا انسان بھی روشنی، علم و ہنر کے باوجود اسی گمراہی کا شکار ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار نہیں اس کی یاد بھی کسی نہ کسی حد تک زندہ رہتی ہے۔ لیکن حلت و حرمت کا اختیار صرف اسی کے پاس ہے۔ اطاعتِ مطلقہ صرف اسی کا حق ہے۔ یہ وہ بات ہے جسے دنیا کی اکثریت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی ان صفات کو نہ جانے کن کن قوتوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ کہیں یہ اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا ہے، کہیں بادشاہت کو، کہیں آمریت کو اور کہیں خواہشِ نفس کو۔ بنی اسرائیل بھی اسی گمراہی کا شکار تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو مانتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اختیار انھوں نے اپنے احبار اور رہبان کو دے رکھا تھا۔ عدی ابن حاتم طائی جب مسلمان ہونے کے لیے مدینہ آئے اور اپنے اطمینان کے لیے حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ میں نے مسلمانوں سے یہ سنا ہے کہ قرآن کریم میں اہل کتاب کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے احبار اور رہبان کو رب بنا لیا ہے۔ میں عیسائی ہوں اس لیے میں اہل کتاب کے عقائد کو جانتا ہوں۔ ہم نے کبھی اپنے علما اور پیشوائوں کو رب نہیں بنایا، یہ سراسر ہم پر الزام ہے۔ آپ ﷺ نے عدی سے سوال کیا کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ؟ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ؟ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے ؟ اس کا فیصلہ آپ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کرتے ہیں یا اپنے علماء اور اپنے پیشوائوں کو آپ نے یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ کتاب اللہ تعالیٰ سے ہٹ کر جو فیصلہ بھی دے دیں آپ اس کو دین کا درجہ دے دیتے ہیں ؟ عدی نے جواب دیا کہ ہم نے یہ اختیارات واقعی اپنے علماء کو دے رکھے ہیں وہ اگر ایسا فیصلہ بھی کردیں جو کتاب خداوندی سے یکسر متصادم ہو تو ہم کتاب اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے بلکہ انھیں کے فیصلوں کی اطاعت کرتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہی معنی ہے کسی کو رب بنانے کا۔ مطلق قانون سازی، غیرمشروط حاکمیت اور غیرمشروط اطاعت یہ سراسر پروردگار کا حق ہے کیونکہ وہ ہمارا رب ہے جب یہ حق کسی اور کو دیا جائے گا تو وہ بھی رب بن جائے گا۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں اسی بات کی یاد دہانی کی جارہی ہے کہ ہم نے تم سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا رب نہیں بنائو گے لیکن تم نے جابجا اس کے مقابلے میں رب بنا لیے جہاں منفعت کی امید نظر آئی یا کسی سے نقصان کا خوف ہوا تو اس کو اپنا رب بنا لیا۔ چاہے وہ دودھ دینے والی گائے ہو، پیاس بجھانے والا پانی ہو، سایہ دینے والا پیپل کا درخت ہو یا ضروریاتِ زندگی کی کفالت کرنے والی دولت دنیا ہو یا تخت اقتدار پر فائز انسان ہوں یا تقدس کے پیکر ہوں ان میں سے ہر ایک چونکہ فیض رسانی اور فائدہ پہنچانے کی کسی نہ کسی صورت میں صلاحیت رکھتا ہے اس لیے اس کو ربوبیت کی سند دے دی گئی اور اگر کہیں سے خوف محسوس ہوا مثلاً سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلانے والا پانی، کشتیوں کا راستہ روکنے والی چٹانیں، ڈسنے والے ناگ، تخت اقتدار پر مسند نشیں فرعون اور نمرود، فضاء میں کڑکنے والی بجلیاں اور بادل، مظاہرفطرت اور مظاہر قدرت اور ایسی تمام زمینی اور آسمانی قوتیں جو انسان کے لیے خوف اور دہشت کا سبب بن سکتی تھیں ان سب کو ربوبیت کی مسند پر فائز کردیا گیا۔ امتِ مسلمہ جو قیامت تک کے لیے اس عہد کی مناد اور مبلغ بنا کر اٹھائی گئی ہے خود اس کا حال دیکھئے کہ پورے عالم اسلام میں ایک ملک بھی ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یعنی اس کی حاکمیتِ مطلقہ کا عملی طور پر اعتراف ہو۔ ہر جگہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر کسی نہ کسی حد تک مسلمانوں میں عبادات کا عمل جاری ہے، اخلاقیات زندہ ہیں، انفرادی سطح پر نیکی سے وابستگی باقی ہے تو اسلامی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بس یہی کچھ کافی ہے کوئی ضروری نہیں کہ ملک میں اسلامی قانون بھی نافذ ہو بلکہ مسلمانوں میں ایک ایسی معتدبہ تعداد بھی موجود ہے جو سرے سے اسلامی قانون کے وجود ہی کی منکر ہے حالانکہ اگر اسلامی قانون کے وجود سے انکار کردیا جائے تو اس سے آپ سے آپ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام کا اجتماعیت سے کوئی رشتہ نہیں ہم انفرادی زندگی میں مسلمان ہیں اور ہمیں اسلام کی انفرادی زندگی کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ رہے اجتماعی ادارے تو ان کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ نے آزاد چھوڑا ہے انھیں اپنی صوبدید کے مطابق جس طرح بھی چلایا جائے اس کا اسلام سے یا اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وہ گمراہی ہے جس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ انسانی کے آغاز میں یہ عہد لیا تھا اور قرآن کریم میں وضاحت کے ساتھ اس کی یاد دہانی کرائی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عہد کہاں لیا گیا تھا اور اس کی کیفیت کیا تھی ؟ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کے حوالے سے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ عہد حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمین پر بھیجنے کے بعد عالم ارواح میں لیا گیا تھا لیکن بعض دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیقِ آدم کے موقع پر پیش آیا۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کرکے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرایا گیا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا اسی طرح پوری نسل آدم کو بھی جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ حضرت ابی ابن کعب ( رض) نے غالباً نبی کریم ﷺ سے استفادہ کرکے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے وہ فرماتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا اور (ایک ایک قسم یا ایک ایک دور کے) لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی شکل میں مرتب کرکے انھیں انسانی صورت اور گویائی کی طاقت عطا کی، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انھیں جب اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ ٹھہراتا ہوں تاکہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو یہ عہدومیثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا۔ اس پر سب انسانوں نے کہا کہ ہم گواہ ہوئے آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا کوئی ہمارا رب ہے نہ کوئی معبود۔ “ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ازلی میثاق فی الواقع عمل میں آیا بھی تھا تو کیا اس کی یاد ہمارے شعور اور حافظہ میں موجود ہے اور کیا ہم میں سے کوئی شخص بھی یہ جانتا ہے کہ آغاز آفرنیش میں وہ اپنے خدا کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس سے یہ عہد لیا گیا تھا اور اگر کسی کو یاد نہیں تو پھر یہ عہد ہمارے خلاف حجت کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف باتیں کہی جاسکتی ہیں جن کا تعلق خارجی شواہد سے بھی ہے اور انسان کے اندرد بے ہوئے احساس سے بھی۔ جہاں تک خارجی شواہد کا تعلق ہے اس سلسلے میں گزارش ہے کہ خود انسانوں میں بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جنھوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہمیں یہ عہد پوری طرح یاد ہے۔ حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ یہ عہد و میثاق مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں اور بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جس وقت یہ اقرار لیا گیا میرے آس پاس میں کون کون لوگ موجود تھے، ہاں یہ ظاہر ہے کہ ایسے افراد شاذونادر کے درجہ میں ہیں، اس لیے عام لوگوں کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو بالخاصہ اثر رکھتے ہیں، چاہے وہ کام کسی کو یاد رہے یا نہ رہے بلکہ اس کی خبر بھی نہ ہو مگر وہ اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ عہد و اقرار بھی ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے کہ دراصل اس اقرار نے ہر انسان کے دل میں معرفتِ حق کا ایک بیج ڈال دیا جو پرورش پا رہا ہے چاہے اس کو خبر ہو یا نہ ہو، اور اسی بیج کے پھل پھول ہیں کہ ہر انسان کی فطرت میں حق تعالیٰ کی محبت و عظمت پائی جاتی ہے خواہ اس کا ظہور بت پرستی اور مخلوق پرستی کے کسی غلط پیرایہ میں ہو، وہ چند بدنصیب لوگ جن کی فطرت ہی مسخ ہو کر ان کا عقلی ذائقہ خراب ہوگیا اور میٹھے کڑوے کی پہچان جاتی رہی ان کے علاوہ باقی ساری دنیا کے اربوں انسان اللہ تعالیٰ کی دھن اور خیال اور عظمت سے خالی نہیں، چاہے مادی خواہشات میں مبتلا ہو کر یا کسی گمراہ سوسائٹی میں پڑ کر وہ اس کو بھلا دیں، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ؟ کُلُّ مُوْلُوْدِ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ وفی بعض الروایات عَلٰی ھٰذِہِ الْمِلَّۃِ (اخرجہ البخاری و مسلم) ہر پیدا ہونے والا دین فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو دوسرے خیالات میں مبتلا کردیتے ہیں۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو حنفی یعنی ایک خدا کا ماننے والا پیدا کیا ہے پھر شیاطین ان کے پیچھے لگ گئے اور ان کو اس صحیح راستہ سے دور لے گئے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنے سارے بگاڑ کے باوجود جب کبھی حالات کی گرفت میں آتا ہے اور اس کے مزعومہ سہارے ایک ایک کرکے ٹوٹنے لگتے ہیں تو پھر آخر ایک وقت آتا ہے کہ وہ تنہائی میں اس ان دیکھی ذات کو پکارتا ہے جسے اس کی عقل و دانش نے آج تک قبول کرنے سے انکار کیا تھا چونکہ اس کی عقت پر آج تک خواہشات، مفادات، وضعی علوم اور جدید فلسفوں کے پردے پڑے ہوئے تھے جس نے اس کی فطرت کو دبا رکھا تھا جیسے ہی تندی حالات کا ایک تیز جھونکا ان پردوں کو اٹھا کر دور پھینکتا ہے اور اس کی اصلی فطرت کو کام کرنے کا موقع مبتا ہے تو اس کے تحت الشعور دبا ہوا اللہ تعالیٰ کا تصور ابھر کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور یہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے اگر تھوڑا سا بھی تأمل کیا جائے تہ یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ اسی عہدالست کی صدائے بازگشت ہے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد جب دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے تو اس کلمے کے صورت میں دراصل وہ اللہ تعالیٰ سے ایک عہد کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی الوہیت تسلیم نہیں کرے گا اور محمد کریم ﷺ کے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ کا رسول نہیں مانے گا۔ یہ وہ عہد ہے جس میں انفرادی اور اجتماعی زندگی پوری طرح سمٹ جاتی ہے۔ اس کا کوئی گوشہ بھی اس کی وسعت سے باہر نہیں رہتا کیونکہ الوہیت میں حاکمیتِ مطلقہ، اطاعتِ کاملہ، ہمہ گیر بندگی اور عبدیتِ راسخہ کے تمام مفاہیم و جذبات شامل ہیں۔ اور انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ان کی عملداری سے باہر نہیں۔ وہ عقلمند لوگ جن کی آنکھیں روشن ہیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو اپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں وہ ایسے ہی خیالات اور تصورات کے حامل ہوتے ہیں اور وہ ان پختہ تصورات میں کبھی شکست و ریخت پیدا نہیں ہونے دیتے۔ دوسری صفت اگلی آیت کریمہ میں فرمایا : کہ ان عقلمندوں کی صفات میں سے دوسری صفت یہ ہے کہ وہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں اور ان کی بجاآوری میں کبھی تساہل سے کام نہیں لیتے اسی لیے بندوں کے جو حقوق ان پر بر بنائے رشتہ رحم عائد ہوتے ہیں ان کو بھی پوری فیاضی سے ادا کرتے ہیں۔ وہ جس طرح انسانیت کے رشتے کا پاس رکھتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ حق قرابت کی ادائیگی کی فکر کرتے ہیں۔ وہ اس معاملے میں بالکل آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور قرآن پاک کے فرامین کی تصویر ہیں۔ اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ نے جو ارشادات فرمائے ہیں ان میں سے چند ایک کا ذکر اس اہم حقیقت کو سمجھنے کے لیے ممد و معاون ہوسکتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے جسے بخاری نے روایت کیا : لَیْسَ الْوَاصِلُ اَلْمُکَافِیْ وَلٰـکِنَّ الْوَاصِلُ اِذَا اَنْ قُطِعَتْ رَحِمُہُ وَصَلَھَا صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ اگر اس سے قطع تعلقی کی جائے تو پھر بھی وہ اس کو جوڑتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے : قال قال رجل یارسول اللہ من احق بحسن صحابتی قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک کہ ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! میرے بہترین سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے۔ فرمایا : تیری ماں۔ عرض کی، اس کے بعد کون ؟ فرمایا : تیری ماں۔ پھر سوال کیا اس کے بعد، چوتھی مرتبہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : تیرا باپ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان من ابر البر صلۃ رجل اھل ود ابیہ بعدہ ان یولی حضور ﷺ نے فرمایا : کہ کسی آدمی کا اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا، سب سے بہتر صدقہ کیا ہے ؟ فرمایا : ایک بےمایہ آدمی کا اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے ایک ایسے عزیز کو دینا جو اس کا نام لینے کا بھی روادار نہ ہو۔ ان احادیث سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسلام نے صلہ رحمی پر کس قدر زور دیا ہے اور حق قرابت کی ادائیگی کی کس حد تک تاکید کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے خاندان اسلامی ریاست کی اساس ہے۔ خاندان جس قدر باہم پیوست، مضبوط اور توانا ہوگا، اسی قدر اسلامی معاشرہ اور اسلامی ریاست مضبوط اور توانا ہوگی۔ جس خاندان میں عزت نفس کی پرواہ کی جاتی ہو اور ہر شخص کو احترام میسر ہو اس معاشرے کے باہمی تعلقات ہر طرح کی الجھنوں اور اڑچنوں سے پاک ہوتے ہیں۔ اس کا ایک ایک فرد اپنے سے زیادہ دوسروں کے دکھ درد کا محافظ ہوتا ہے۔ وہ اپنے بارے میں بعد میں سوچتا ہے، اپنے عزیزوں کے بارے میں پہلے سوچتا ہے اور اس میں بھی حیران کن بات یہ ہے کہ ایسے معاشرے کے تمام لوگ آپس میں جو بھلائیاں کرتے ہیں اور ایثار و مروت سے کام لیتے ہیں، تو وہ اس طرح کسی پر احسان نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ارادوں میں کوئی کمزوری واقع نہ ہو، ہم کسی خودغرضی اور ریا کی گرفت میں نہ آجائیں۔ وہ جب کسی کی مدد کرتے ہیں تو اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں اور مدد لینے والے کے شکرگزار ہوتے ہیں کہ اس نے اسے اس قابل سمجھا۔ قرآن کریم نے ان کے حُسنِ سلوک کی تصویرکشی کرتے ہوئے فرمایا : وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مُسْکِیْنًاوَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ اِنَّمَا نُطْعِمُکُم لِوَجْہِ اللّٰہِ لاَنُرِیْدُمِنْکُمْ جَزَآئً وَّلاَ شُکُوْرًا۔ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًاقَمْطَرِیْرًا (8۔ 10) اپنے بہتر سے بہتر سلوک کے باوجود اس بات سے اندیشہ ناک رہتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔ لوگوں کے ساتھ ان کے معاملات کو اعلیٰ سے اعلیٰ معیار پر رکھ کر نہ جانچا جائے۔ ہر ایثار کے پیچھے جو محرکات کام کرتے ہیں ان کی بخیہ گری نہ کی جائے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ ؎ چلے بچ کر کوئی کتنا وہ ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کی رضاجوئی میں ثابت قدم رہے اور جنھوں نے نماز کا اہتمام رکھا اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا اس میں سے سراً اور علانیۃً خرچ کیا اور جو بدی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں، انجام کار کی کامیابی انھی کے لیے ہے۔

وَالَّذِیْنَ صَبَرُوْا ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِہِّمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ سِرًّا وَّ عَلاَ نِیَۃً وَّیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 22) (اور جو لوگ اپنے رب کی رضاجوئی میں ثابت قدم رہے اور جنھوں نے نماز کا اہتمام رکھا اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا اس میں سے سراً اور علانیۃً خرچ کیا اور جو بدی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں، انجام کار کی کامیابی انہی کے لیے ہے۔ ) تیسری صفت اولوالالباب کی کچھ مزید صفات بیان فرمائی جارہی ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے رب کی خوشنودی کی راہ میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان پر صبر کرتے ہیں۔ صبر کا معنی ہوتا ہے، جم جانا، اڑ جانا اور استقامت دکھانا اور پابندی کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لیے وہ جب اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں قدم قدم پر ایسے حالات سے واسطہ پڑتا ہے جنھیں برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کبھی تو اقتدار اپنے احتساب کی زنجیروں میں جکڑ دینا چاہتا ہے اور کبھی بگڑا ہوا معاشرہ اسے اپنے اندر سے نکال پھینکنا چاہتا ہے۔ کبھی خواہشاتِ نفس زنجیرِ پا بن جاتی ہے اور کبھی بیوی بچوں کی فرمائشیں دل خون کرنے لگتی ہیں، کبھی اس کی منصبی قوت اس کے لیے حرام ذرائع کو آسان کردیتی ہے۔ ایسی صورت میں حرام ذرائع سے بچنا اور حلال پر اکتفا کرنا بہت بڑا امتحان بن جاتا ہے۔ ایسے تمام مواقع پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی، شیطان کی پیروی سے گریز، خواہشاتِ نفس کی اطاعت سے انکار کرنے کے لیے صبر کی بہت بڑی قوت درکار ہوتی ہے۔ استقامت کا ایسا جوہر جو ان تمام محرکات کے سامنے دیوار بن کر حائل ہوجائے اللہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے اپنے ایمان و عمل سے ہر ہر قدم پر یہ ثابت کردیتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں۔ نفس کے بہلاوے ہمارے صبر کو شکست نہیں دے سکتے۔ برو ایں دام بر مرغ دگر نہِ کہ عنقارا بلند است آشیانہ چوتھی صفت مزید یہ بھی فرمایا گیا کہ ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نماز کو قائم کرتے ہیں۔ قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جب نماز پڑھتے ہیں تو فرائض، واجبات، سنن اور آداب کی پابندی کرتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اصحابِ اقتدار میں سے ہیں تو وہ اپنے دائرہ اقتدار میں احکامِ صلٰوۃ کا نفاذ کرتے ہیں۔ مسجدیں تعمیر ہوتی ہیں، آئمہ اور مؤذنوں کا تقرر ہوتا ہے، مساجد دین کے مراکز میں تبدیل ہوجاتی ہیں، ان کی دیکھ بھائی اور حفاظت کے لیے، مناسب عملہ مقرر ہوتا ہے، اپنے دائرہ اختیار میں ترک نماز جرم قرار دیا جاتا ہے، مسلمانوں کے دل و دماغ میں یہ بات اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نماز دراصل تذکیر بھی ہے اور عہدوفا کی تعمیر بھی۔ اس کی پابندی جس طرح اللہ تعالیٰ کے رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بناتی ہے اسی طرح بعض دیگر مکارمِ اخلاق کی تعمیر کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ پانچویں صفت ان برگزیدہ لوگوں میں مزید ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کچھ دے رکھا ہے اس میں سے سراً و علانیۃً دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ موقع چھپا کے دینے کا ہو یا کھلے عام دینے کا ان کا ہاتھ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ” سراً “ سے مراد زکوٰۃ کے علاوہ صدقاتِ نافلہ کی ادائیگی ہے اور ” علانۃً “ سے مراد زکوٰۃ ہے کیونکہ اموالِ ظاہرہ میں سے زکوٰۃ سب کے سامنے ادا ہونی چاہیے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی زکوٰۃ ادا کرنے کی طرف رغبت ہو اور انھیں اپنے فرض کا احساس ہوسکے، لیکن اموالِ باطنہ میں سے عطیات دیتے ہوئے عزت نفس کی پاسداری ضروری ہے اور وہ ہمیشہ اس کا لحاظ کرتے ہیں کہ کسی کی مدد کرتے ہوئے نہ اس کی عزت نفس پر چوٹ پڑے اور نہ اس کی حیثیت عرفی مجروح ہو۔ چھٹی صفت مزید ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ برائی کو برائی سے نہیں بلکہ اس کو نیکی اور بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ وہ شرکا مقابلہ شر سے نہیں بلکہ خیر ہی سے کرتے ہیں۔ وہ ظلم کے مقابلے میں ظلم نہیں انصاف کرتے ہیں۔ دوسرے ان کے خلاف اگر جھوٹ بولیں تو وہ تب بھی اپنے سچ پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ وہ خیانت کے مقابلے میں دیانت کا بول بالا کرتے ہیں۔ وہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کی صحیح پیروی کرتے ہیں۔ لا تکونوا امعۃ تقولون ان احسن الناس احسنا و اِن ظلمونا ظلمنا۔ ولٰـکن وطّنوا انفسکم، ان احسن الناس ان تحسنوا وان اساؤا فلا تظلموا تم اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع بنا کر نہ رکھو۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ تم اپنے نفس کو ایک قاعدے کا پابند بنائو۔ اگر لوگ نیکی کریں تو تم نیکی کرو۔ اور اگر لوگ تم سے بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔ جن لوگوں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں وہ اس قابل ہیں کہ انھیں آخرت کی راحتیں نصیب ہوں۔ آیت کریمہ میں عقبیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا لغوی معنی ہوتا ہے، پیچھے آنا۔ کیونکہ ہر فعل کی جزاء اس کے پیچھے آتی ہے۔ اَعْقَبَہ کا معنی ہے جازاہ۔ اگر جزاء اچھی ہو تو اس کے لیے العقبۃ، العقبیٰ ، العاقبہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور اگر جزاء بری ہو تو اس کے لیے العقوبۃ، المعاقبۃ اور العقاب کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
Ayahs 13:23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

سدابہار باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے، ان کے آبائواجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر داخل ہوں گے۔

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ آپ لوگوں پر سلامتی ہو۔ بوجہ اس کے جو تم نے صبر کیا۔ بس کیا ہی خوب ہے انجام کار کی کامیابی۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ ۔ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 23۔ 24) (سدابہار باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے، ان کے آبائواجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر داخل ہوں گے۔ اور کہیں گے کہ آپ لوگوں پر سلامتی ہو۔ بوجہ اس کے جو تم نے صبر کیا۔ بس کیا ہی خوب ہے انجام کار کی کامیابی۔ ) ایسے اولوالالباب کا انجام گزشتہ آیات میں اولوالالباب کی صفات بیان کرنے کے بعد پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ آخرت کی راحتیں اور انجام کار کی کامیابی عطا فرمائے گا۔ اب اس آیت کریمہ میں اس کی تھوڑی سے تفصیل بیان کی گئی ہے کہ انھیں ایسے سدابہار باغات دیے جائیں گے جن پر کبھی خزاں کا سایہ بھی نہیں پڑے گا۔ بہار تو یہاں بھی آتی ہے اور بہار کے دنوں میں کیفیت یہ ہوتی ہے ؎ جہاں چھپ گیا پردہ رنگ میں لہو کی ہے گردش رگ سنگ میں لیکن اس بہار کو اس بہار سے کوئی نسبت نہیں۔ یہاں کی بہار زوال اور خزاں سے محفوظ نہیں۔ یہاں جو کلی کھلتی ہے وہ مرجھاتی بھی ہے اور جو پھول مشام جاں کو معطر کرتا ہے اس کی پتیاں بکھرتی بھی ہیں، جو زمین مخملی لباس پہنتی ہے، وہاں چند دنوں کے بعد خاک بھی اڑتی ہے، لیکن قیامت کے دن جن باغوں میں یہ خوش نصیب داخل ہوں گے ان کی بہار پر کبھی خزاں نہیں آئے گی۔ وہاں کی خوشیاں ناپائیدار نہیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں ایسی خوشیاں بھی عطا کرے گا، عام ذہنوں تک جن کی رسائی بھی آسان نہیں۔ مثلاً ایک مہمان کے لیے حوصلہ مند اور خوش اخلاق میزبان قسم قسم کے خوان نعمت سجاتا ہے اور ہر طرح سے مہمان کی لذت کام و دہن کا لحاظ رکھتا ہے۔ لیکن اس کی طرف تو کبھی دھیان بھی نہیں جاتا کہ اس کے ساتھ ایسے لوگوں کو ٹھہرایا جائے جن کا قیام اس کے لیے خوشی کا باعث ہو۔ جنت میں پروردگار ان خوش نصیبوں کے لیے اس بات کا بھی اہتمام کرے گا کہ جن لوگوں کا قرب ان کی خوشیوں میں اضافہ کرسکتا ہے اور جنھیں یہ اپنے وجود کا حصہ سمجھتے ہیں وہ بیشک جنت کے اس مقام میں رہنے کے قابل نہ ہو جس مقام میں یہ خوش نصیب ہوں گے۔ لیکن محض ان کی دلجوئی اور خوشی کے لیے ان کے آبائواجداد، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی جائے گی تاکہ ان کی خوشیاں ادھوری نہ رہیں اور ان کی مسرتوں میں کسی قسم کا جھول نہ رہے۔ ان کا اعزاز پھر ان کامیاب لوگوں کے اعزاز کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی عزت افزائی اور ان کی تحسین و تعریف کے لیے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا، وہ جنت کے بیشمار دروازوں میں سے ایک ایک دروازے سے داخل ہوں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا پیغام دیں گے۔ اور ساتھ ہی اس بات کا اظہار بھی کریں گے کہ تمہیں یہ سب کچھ اس لیے عطا ہورہا ہے کیونکہ تم نے دنیا میں ہر مصیبت کے مقابلے میں، ہر بہلاوے کو رد کرنے میں اور بُرائی کے ہر محرک کو ناکام کرنے میں جو صبر دکھایا ہے آج پروردگار تمہیں اس کا بھرپور صلہ عطا فرما رہے ہیں۔ اور ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں صلہ اور انعام عطا فرمایا ہے وہ تمہارے انجام کی کامیابی ہے جس کی فکر نے تمہیں زندگی میں عیش سے دور رکھا تھا۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے۔ اور ان کے لیے برا گھر ہے۔

وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَاللّٰہِ مِنْ م بَعْدِمِیْثَاقِہٖ وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ لا اُوْلٰٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَھُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 25) (اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے۔ اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ ) ایمان نہ لانے والوں کی صفات گزشتہ آیات میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرتے اور قرآن کریم سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر ان کے شاندار انجام کو بیان فرمایا۔ اب قرآن کریم کے اپنے اسلوب کے مطابق ان لوگوں کے حالات بیان کیے جارہے ہیں جو مذکورہ لوگوں کے بالکل برعکس ہیں اور پھر ان کے انجام کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا : کہ جو لوگ عہد الست یا عہدفطرت اور یا کلمہ طیبہ کی صورت میں کیے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں اور جن تعلقات اور رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے انھیں کاٹتے ہیں اور اس طرح سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں کیونکہ زمین میں فساد سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ اسلام کا نظام حق و عدل قائم کیا جائے۔ اور یہ نظام دو بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے۔ ایک وحدت اِلٰہ اور دوسرا وحدت آدم یعنی ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور توحید ہی ہمارے دین کی اساس ہے۔ اور انسانوں کی اصل حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، تمام انسان انھی کی اولاد ہیں۔ اس لحاظ سے ان میں اونچ نیچ، تفاوت اور مختلف طبقات کے وجود کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اور یہی دونوں گمراہیاں ہیں جنھوں نے زمین میں فساد برپا کیا ہے۔ چناچہ جو لوگ ایسی ہی گمراہیوں کے ذریعے زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نظام حق و عدل کو قائم ہونے کا موقع نہیں دیتے، یہی لوگ لعنت کے مستحق ہیں۔ اور قیامت کے دن بدترین انجام سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ روزی کشادہ کردیتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے۔ اور تنگ روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی پر خوش اور مسرور ہے۔ اور یہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلے میں محض ایک متاع حقیر ہے۔

اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط وَفَرِحُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلاَّ مَتَاعٌ۔ (سورۃ الرعد : 26) (اللہ تعالیٰ روزی کشادہ کردیتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے۔ اور تنگ روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی پر خوش اور مسرور ہے۔ اور یہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلے میں محض ایک متاع حقیر ہے۔ ) ایمان نہ لانے کا ایک سبب مشرکینِ مکہ کو جن اسباب نے اسلام کو قبول کرنے سے روکا ان میں سے ایک سبب یہ تھا کہ وہ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ دنیا کی خوشحالی اور خوش عیشی یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی دلیل ہے۔ اور اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے دولت دیتا ہے اور جس کے رزق میں وسعت عطا فرماتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں برگزیدہ شخص ہوتا ہے۔ اور جو شخص رزق کی تنگی میں مبتلا ہے اور اس کی زندگی بدحالی میں گزر رہی ہے اور غربت کے باعث کوئی شخص اس کی عزت نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں غیرمقبول ہے اور اس کے یہاں اس کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بنیادی گمراہی کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ کسی کے اچھا یا برا ہونے یا کسی کے عزیزیا ذلیل ہونے کا سبب اس کے رزق کی تنگی یا فراخی نہیں۔ رزق کی تنگی یا فراخی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ایک دوسرے قانون سے ہے۔ یہ درحقیقت ایک آزمائش ہے۔ کسی کی آزمائش وسعتِ رزق سے ہوتی ہے اور کسی کی رزق کی تنگی سے۔ کوئی صبر کے ذریعے آزمایا جاتا ہے اور کوئی شکر کے ذریعے، لیکن جہاں تک عزت و ذلت اور اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول اور عدم قبول کا تعلق ہے اس کا رشتہ رزق سے نہیں بلکہ ایمان و عمل سے ہے، جس سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت والا وہ ہے جو صاحب کردار اور متقی ہے۔ چاہے اسے دو وقت کا کھانا نصیب نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ شخص ذلیل ہے جو کافر اور فاجر ہے۔ چاہے وہ وقت کا حکمران ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات ان لوگوں کی انتہائی حماقت سے تعلق رکھتی ہے کہ وہ رزق کی تنگی یا فراخی کو عزت یا ذلت کا سبب سمجھتے ہیں۔ کاش وہ اس بات کو سمجھیں کہ حیات دنیا اور دنیا کی دولت و ثروت حیات آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا اِلہَٰ اِلاَّ اللہ کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا فریبِ سود و زیاں لا اِلہَٰ اِلاَّ اللہ
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

(اور جنھوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اتاری گئی اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی۔ کہہ دیجیے ! بیشک اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور اپنی طرف رہنمائی ان لوگوں کی فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط قُلْ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ ۔ (سورۃ الرعد : 27) (اور جنھوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اتاری گئی اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی۔ کہہ دیجیے ! بیشک اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور اپنی طرف رہنمائی ان لوگوں کی فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ) کفار کا مطالبہ اور اس کا جواب قرآن کریم کی مکی سورتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب وہ نبی کریم ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ کے دلائل کے سامنے بےبسی محسوس کرنے لگتے تھے تو پھر ان کی زبانوں پر ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا کہ آپ ﷺ ہمیں کوئی ایسی محسوس نشانی یا حسی معجزہ دکھائیں جس کے بعد ہمیں انکار کرتے نہ بنے۔ اور اس کے لیے وہ اپنی طرف سے مختلف چیزیں تجویز کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ مکہ معظمہ پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک شہر ہے جس میں کوئی میدانی علاقہ نہیں اور جس کے اڑوس پڑوس میں بھی کوئی کھیتی نہیں اگتی۔ آپ ﷺ اگر اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس شہر کو گلشن میں تبدیل کردے۔ پہاڑوں کی بجائے اسے میدانی علاقہ بنادیا جائے۔ یہاں کھیتیاں اگیں، مختلف قسم کی پیداوار ہو، پانی کے چشمے رواں ہوں، سبزہ لہلہاتا ہو، ہرے بھرے درخت بہار دے رہے ہوں یا اور اسی قسم کے مطالبات اکثر آپ ﷺ کے سامنے پیش کرتے رہتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر نبی اللہ تعالیٰ سے اپنے خصوصی تعلق کو ثابت کرنے کے لیے معجزات دکھاتا ہے۔ یہ گویا اس کی طرف سے سندماموریت ہوتی ہے۔ ہر نبی اور رسول کے معجزات اس کے اپنے زمانے کے غیرمعمولی کمالات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جادو کے دور میں عصائے موسیٰ ہر طرح کے جادو کے طلسم کو توڑنے کے لیے عطا فرمایا گیا۔ طب و حکمت کے عروج کے دور میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے کمالات عطا فرمائے گئے جس نے اس دور کی طب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ نبی کریم ﷺ ایک ایسے دور میں تشریف لائے جبکہ دنیا اپنے ارتقاء کی طرف بڑھ رہی تھی، علم اپنا دامن کھول رہا تھا، متمدن حکومتوں کا دور شروع ہوچکا تھا جن کے لیے تہذیب اور تمدن کے ساتھ ساتھ ایسے دستوری کمالات کی ضرورت تھی جو انسان کے شعوری ارتقاء کی تکمیل میں مدد دیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کو سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم دیا گیا جس نے فرد سے لے کر ریاست تک تمام ضرورتیں پوری کیں اور علم کے ان گوشوں میں رہنمائی کی جہاں اس سے پہلے انسان کی رسائی ممکن نہ تھی۔ مکہ کے رہنے والے اپنی پسماندگی کے باعث قرآن کریم جیسی نعمت کا حق تو ادا نہ کرسکے البتہ وقتاً فوقتاً حسی معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ چناچہ ان کے مطالبے کے جواب میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ہدایت کا دارومدار نشانیوں پر ہوتا تو خود تمہارا اپنا وجود اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ تمہارے چاروں طرف بیشمار نشانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ تم جس مخلوق کو بھی تھام کے بیٹھ جاؤ اس کا وجود تمہارے لیے دفترِکردگار بن جائے گا۔ ہدایت کے لیے ضرورت نشانیوں کی نہیں بلکہ حُسنِ طلب کی ہے۔ توجہ الی اللہ کی ہے، جو شخص بغیر حُسنِ طلب کے نشانیوں پر اصرار کرتا رہے گا وہ ہدایت کو کبھی نہیں پاسکتا، لیکن جو آدمی سچی طلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگا اس کے لیے اللہ تعالیٰ ہدایت کا دروازہ ضرور کھولے گا۔ تم اگر ہدایت چاہتے ہو تو اپنے دلوں کا قبلہ درست کرو، اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگو، وہ غیور خدا ہے، ناقدروں کو کبھی کوئی چیز نہیں دیتا۔ اس کے یہاں سب سے بڑا سکہ جو کبھی کھوٹا نہیں ہوتا وہ انابت الی اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ اپنے اندر پیدا کرلو تو پھر تمہیں کسی مزید نشانی طلب کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
Ayahs 13:28–29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے خوشخبری ہے اور اچھا ٹھکانا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ ط الَاَ بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰی لَہُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ ۔ (سورۃ الرعد : 28۔ 29) (جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے خوشخبری ہے اور اچھا ٹھکانا ہے۔ ) انابت الی اللہ کی وضاحت پیشِ نظر آیت کریمہ میں گزشتہ آیت کریمہ میں بیان کردہ مضمون کی مزید وضاحت فرمائی جارہی ہے۔ سابقہ آیت میں فرمایا کہ قریش مکہ کے ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں ہے کہ انھیں منہ مانگی نشانیاں نہیں دکھائی جارہیں۔ اگر یہ کوئی حقیقی سبب ہوتا تو یہ خود مختلف وقتوں میں آنحضرت ﷺ کے کئی معجزات دیکھ چکے۔ اور پھر ان کے گردوپیش میں اور ان کی ذات کے اندر نشانیوں کی کیا کمی ہے۔ غور و فکر کی نگاہ چاہیے، نشانیاں تو ہر طرف بکھری ہوئی ہیں۔ گھاس کی پتی سے لے کر آفتاب عالم تاب تک اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی نشانیاں ہی تو ہیں۔ اسی طرح پہلی امتیں جو عذاب کا شکار ہوئیں ان پر عذاب اس وقت آیا جب انھوں نے منہ مانگے معجزات اور نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اور معجزات اور نشانیوں کو کبھی جادو قراردیا اور کبھی شعبدہ بازی ٹھہرایا۔ اگر ایمان کا سبب نشانیاں ہوتیں تو یقینا سابقہ امتیں اور خود قریش مکہ اس سے محروم نہ رہتے۔ ایمان کے لیے انابت الی اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے۔ جب تک ایک آدمی طلب صادق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، ایمان لانے کا امکان بھی پیدا نہیں ہوتا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ انابت وہ معتبر ہے جس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کو مانناہو اور ماننا بھی ایسا جس کے بعد دل کا ہر کانٹا نکل جائے۔ تشکک اور ارتیاب کی کہر چھٹ جائے۔ دل کے اندر روشنی کا ایسا دیپ جلے کہ دل کی تمام تاریکیاں دور ہوجائیں۔ ایک ایسی قوت فیصلہ جنم لے جو تذبذب کے تمام راستوں کو بند کردے۔ کیونکہ جب تک دل شبہات کا شکار رہتا ہے اور اس میں اشتباہات کے کانٹے اگتے رہتے ہیں اس وقت تک دل میں یقین کی قوت نہیں اترتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دل میں وہ پختگی پیدا نہیں ہوتی جو تمام اندیشہ ہائے دوردراز کا خاتمہ کردے۔ اور وہ اطمینان پیدا نہیں ہوتا جو ایمان لانے والے کی شخصیت کو آسودہ کردے۔ یہ ایمان اور یقین، یہ پختگی اور یہ آسودگی اور یہ قوت اور یہ استقامت صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر سے پیدا ہوتی ہے۔ اور ذکر بھی وہ جو ذات رسالت مآب ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیم سے ملتا ہے۔ یہ زبان کا ورد بھی ہے اور زندگی کا عمل بھی۔ یہ دل کی روشنی بھی ہے اور شخصیت کا رویہ بھی۔ یہی وظیفہ بھی جب اللہ تعالیٰ کی یاد میں ڈھل جاتا ہے یا تنبیہ کی شکل اختیار کرجاتا ہے تو پھر مومن کے دل سے بیک وقت ایک ایسی قوت کا ظہور ہوتا ہے جس میں جمال بھی ہوتا ہے اور جلال بھی۔ یہی وہ چیز ہے جو ہزار خطرات میں بھی انسان کو پریشان نہیں ہونے دیتی۔ اور یہی وہ سہارا ہے جس کے ساتھ ٹیک لگانے والا کبھی ڈولتا نہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ کے آخر میں فیصلہ کن انداز میں فرمایا کہ سنو، سننے والو ! اگر ایک انسان کی اصل قوت دل کا اطمینان ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی اور حوالے سے کبھی نہیں ملتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے ذکر کو حرز جان بنائو، اس کی تعلیمات کو زندگی کا دستور بنائو، اسی کی ذات وصفات کو زندگی کا اثاثہ اور قوت کا سرچشمہ جانو۔ یہی وہ آب حیات ہے جس سے سیرکام ہونے والا کبھی تشنگی کا شکار نہیں ہوتا۔ یہ چونکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت اور سب سے بڑی دولت ہے اسی لیے اگلی آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کو زندہ کرلیتے ہیں ان کے لیے خوشخبری اور بہترین انجام ہے۔ طوبیٰ مصدر ہے بشریٰ کے وزن پر، یہ طَابَسے ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کے نزدیک اس کا معنی ہے، دل کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل کا وہ یقین اور اطمینان جو ذکر اللہ تعالیٰ سے پیدا ہوتا ہے اس میں صرف ایک قوت نہیں ہوتی بلکہ اس میں دل کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ جمال و جلال کا ایک ایسا امتزاج ہے جسے خوبصورت تعبیر دیتے ہوئے اقبال نے کہا : ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن یا جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کو ایک ایسی امت میں رسول ﷺ بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ﷺ پڑھ کر سنائیں انھیں وہ کلام جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ ہرچند وہ خدائے رحمن کا انکار کررہے ہیں فرما دیجیے کہ وہی میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰـکَ فِیْٓ اُمَّۃٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاْ عَلَیْہِمُ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ط قُلْ ھُوَرَبِّیْ لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ج عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ مَتَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 30) (اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ پڑھ کر سنائیں انھیں وہ کلام جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ ہرچند وہ خدائے رحمن کا انکار کررہے ہیں فرما دیجیے کہ وہی میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ ) مطالبہ معجزات کا جواب ایک اور پہلو سے سابقہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکینِ مکہ بار بار آپ ﷺ سے عجیب و غریب نشانیوں کا مطالبہ کرتے تھے۔ چناچہ گزشتہ آیات میں ان کے مطالبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ معجزات یا نشانیاں ایمان کا حتمی ذریعہ نہیں ہیں بلکہ ایمان لانے کا حقیقی سبب اطمینانِ قلب ہے اور پھر یہ بھی بتایا کہ اطمینان قلب کن چیزوں سے حاصل ہوتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے آپ کو بھی کسی غیرمعمولی نشانی کے بغیر رسول بنا کر بھیجا ہے۔ یقینا آپ ﷺ سے بھی آپ ﷺ کی قوم ایسے ہی مطالبات کرے گی۔ اور آپ ﷺ اور مسلمان ان کے مطالبات سے کبھی نہ کبھی کم و بیش متأثر ہوں گے۔ اس لیے ابھی سے آپ ﷺ کو چند باتیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔ 1 ہر پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے۔ وہ قوم اس کی امت دعوت کہلاتی ہے۔ ایمان لانے والے اس لحاظ سے امت دعوت کہلاتے ہیں۔ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت میں ہر ایک کے لیے ایک ایک نمونہ موجود ہے۔ آپ ﷺ کو سابقہ رسولوں کی دعوت پر غور کرنا چاہیے کہ ان کی دعوت کی اساس معجزات تھے یا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ۔ اور پھر یہ بات بھی کہ کیا ان کی امتیں منہ مانگے معجزات دیکھنے کے بعد مسلمان ہوجاتی تھیں۔ آپ کو خوب معلوم ہے کہ اولوالعزم رسولوں نے معجزات کو ایک خاص حد سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ بعض رسولوں ( علیہ السلام) نے سند ماموریت کے طور پر معجزات ضرور دکھائے لیکن توجہ تمام تر تبلیغ و دعوت پر رکھی۔ ان کی امتوں نے ہرچند ان سے قسم قسم کی نشانیاں مانگیں لیکن رسولوں نے ہمیشہ انھیں حقائق کی طرف متوجہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ اس لیے آپ ﷺ بھی ان کے مطالبات پر دھیان نہ دیجیے اور شب و روز اس کام میں لگے رہئے جو اصل آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔ 2 مشرکینِ مکہ کو وارننگ دیتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے بھی امتیں گزری ہیں وہ تم سے بدرجہا علم و دولت اور قوت و شوکت پر فائق تھیں۔ ان میں سے جن امتوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں ( علیہ السلام) کی دعوت پر کان نہیں دھرے بلکہ مخالفت میں بڑھتی چلی گئیں وہ بالآخر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں اور تاریخ میں آج عبرت کے طور پر زندہ ہیں۔ تم نے اگر وہی روش اختیار کیے رکھی تو سوچ لو اس کا انجام کیا ہوگا۔ 3 اصل حیثیت کی وضاحت کے بعد نبی کریم ﷺ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، رسول (علیہ السلام) کا کام معجزات دکھانا نہیں نہ غیرمعمولی قوتوں کا ظہور ہے بلکہ آپ ﷺ کا اصل کام یہ ہے کہ آپ ﷺ پر جو اللہ تعالیٰ کا کلام اتررہا ہے جس میں زندگی کے حقائق بھی ہیں اور اوامرو نواہی پر مشتمل ایک شریعت بھی۔ دلائل وبراہین سے عقائد کا اثبات بھی ہے اور شریعت کے احکام کی حکمت و دانش سے تسہیل بھی۔ ان میں سے ایک ایک چیز کو لوگوں کے سامنے اس طرح پڑھ کے سنانا جس طرح شاہی فرامین پڑھ کر سنائے جاتے ہیں، یہ آپ ﷺ کا پہلا کام ہے، پھر اسی کی تعلیم و تبلیغ، اسی پر مبنی نظام کا نفاذ اور اسی کے مطابق لوگوں کے قلوب کا تزکیہ۔ آپ ﷺ کے یہ وہ عظیم مناصب ہیں جن سے تمام انبیاء اور رسل گراں بار رہے ہیں۔ آپ کی اس دعوت و تبلیغ کے مقابلے میں یہ ہر ممکن طریقے سے رکاوٹیں کھڑی کریں گے اور مختلف قسم کے اعتراضات بھی اٹھائیں گے۔ چناچہ اس کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ یہ اللہ تعالیٰ کو مانیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے دوسرے نام رحمن کو ماننے سے انکار کردیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ابوجہل نے ایک دن نبی کریم ﷺ کو بیت اللہ تعالیٰ کے سائے میں دعا مانگتے ہوئے سنا۔ آپ یا اللہ اور یارحمن کہہ کر پروردگار کو اپنی طرف متوجہ کررہے تھے۔ وہ جاہل دوڑتا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رحمن کو شریک بنا لیا ہے اور اس کی بھی پوجا کرتے ہیں۔ چناچہ بطور مثال اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ تو اس طرح کی گھٹیا حرکتیں بھی کریں گے لیکن آپ کا کام صرف یہ ہے کہ آپ ان کے مطالبات یا اس طرح کی خرافات کے جواب میں صاف صاف فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہی میرا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، میرا اسی پر بھروسہ ہے، وہی میرا ملجا ہے۔ حالات کیسے بھی ہوں مجھے بہرصورت اسی کی طرف لوٹنا ہے، معجزات دکھانا میرا کام نہیں، یہ اسی کی حکمت و مشیت پر منحصر ہے، وہ چاہتا ہے تو معجزے دکھاتا ہے، نہیں چاہتا تو نہیں دکھاتا۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی ایسا قرآن بھی اترتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ چلنے لگتے یا اس کے اثر سے زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے اس کے ذریعہ بات کی جاسکتی، (یہ قدرت سے بعید نہ تھا) بلکہ سب کام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ (باایں ہمہ وہ ایمان نہ لاتے) کیا نہیں جانتے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا اور ان کافروں کو برابر کوئی نہ کوئی آفت ان کے اعمال کی پاداش میں پہنچتی رہے گی یا ان کی بستی کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے ظہور کا وقت آجائے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْقُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْکُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی ط بَلْ لِّلّٰہِ الْاَمْرُجَمِیْعًا ط اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ یَشَائُ اللّٰہُ لَھَدَی النَّاسَ جَمِعْیًا ط وَلاَ یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْتَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِھِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَیُخْلِفُ الْمِیْعَاد۔ (سورۃ الرعد : 31) (اور اگر کوئی ایسا قرآن بھی اترتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ چلنے لگتے یا اس کے اثر سے زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے اس کے ذریعہ بات کی جاسکتی، (یہ قدرت سے بعید نہ تھا) بلکہ سب کام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ (باایں ہمہ وہ ایمان نہ لاتے) کیا نہیں جانتے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا اور ان کافروں کو برابر کوئی نہ کوئی آفت ان کے اعمال کی پاداش میں پہنچتی رہے گی یا ان کی بستی کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے ظہور کا وقت آجائے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ) سابقہ مضمون کی تاکید و تکمیل گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ غیرمعمولی نشانیاں دیکھ کر لوگ ایمان نہیں لایا کرتے بلکہ ایمان کا اصل جوہر اگر طبیعت میں اتر کر روشنی دیتا ہے تو اس کا سبب صرف وہ تصورات ہیں جو اللہ تعالیٰ کا نبی اہل دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ جیسے جیسے دل و دماغ میں اترتے جاتے ہیں ویسے ویسے ایمان کی کھیتی دلوں میں بہار دینے لگتی ہے لیکن آنحضرت ﷺ کی تاریخ دعوت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ شاید آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے اثرات کو روکنے کے لیے بار بار آپ سے معجزات طلب کرتے تھے اور وہ بھی ایسے جس کا تقاضا ان کی طبیعتیں کرتی تھیں۔ ایک روز ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چند مطالبات پیش کیے کہ اگر مکہ کے پہاڑ دور ہٹ جائیں اور ہماری کھیتی باڑیوں کے لیے زمین فراخ ہوجائے، نیز اس میں چشمے اور نہریں جاری ہوجائیں اور قُصیّ (قریش کا جدِاعلیٰ ) قبر سے زندہ ہوجائے اور ہم بھی دوش ہوا پر سوار ہو کر شام و یمن میں تجارت کے لیے آیا جایا کریں تو پھر ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ اس کے جواب میں قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ اگر قرآن کریم کے اترنے کے ساتھ پہاڑ چلنے لگتے یا زمین میں ارتعاش پیدا ہوجاتا یا مردے زمین سے نکل کر باتیں کرنے لگتے تو تب بھی ان قریشیوں سے ایمان کی کوئی امید نہ تھی حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسی نشانیوں کا دکھا دینا کیا بعید ہے۔ ہر چیز اس کی قدرت کے سامنے عاجز ہے۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص ہدایت و ضلالت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قانون سے باہر نہیں۔ وہ جس طرح کسی کو زبردستی ہدایت یافتہ نہیں بناتا، اسی طرح وہ زبردستی گمراہ بھی نہیں کرتا لیکن بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آئے بغیر نہیں رہتا تھا کہ ممکن ہے کہ اگر ان لوگوں کو غیرمعمولی نشانیاں دکھا دی جائیں یہ راہ راست اختیار کرلیں اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھنے لگیں۔ اس لیے وہ جی ہی جی میں تمنا کرتے کہ کاش ان کا مطالبہ تسلیم کرلیا جاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا : اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ مایوس ہونا کیا ہے، لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) ، مجاہد ( رض) اور حسن ( رض) سے اس کا ترجمہ اَفَلَمْ یَعْلَمُوْا منقول ہے یعنی ” کیا وہ نہیں جانتے۔ “ علامہ قرطبی نے اس پر کئی اشعار سے استشہاد کیا ہے۔ ان میں سے رباح بن عدی کا یہ شعر ہے : اَلَمْ یَیْئَسِ الْاَقْوَامُ اِنِّیْ اَنَا اِبْنُہٗ وَاِنْ کُنْتُ عَنْ اَرْضِ الْعَشِیْرَۃِ نَائِیَا کیا لوگ نہیں جانتے کہ میں اس کا بیٹا ہوں، اگرچہ میں قبیلہ کی سرزمین سے دور ہوں۔ کیا صاحب ایمان لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت میں زبردستی لوگوں کو ایمان دینا ہوتا تو اس کی قدرت سے کیا تھا بعید تھا کہ وہ سب لوگوں کو ایمان کی توفیق دے دیتا بلکہ ہر شخص کو پیدائشی طور پر صاحب ایمان پیدا کرتا لیکن اگر ایسا ہوتا تو سوال یہ ہے کہ جزاء و سزا کا ترتب کس بات پر ہوتا، نیکی اور بدی کی شناخت کیا ہوتی اور انسان کو ہدایت و ضلالت کے معاملے میں یہ اختیار دیا گیا ہے اس کا امتحان کیسے ہوتا ؟ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بالکل نشانیاں ظاہر ہی نہیں فرماتا حالانکہ امتوں کی تاریخ جاننے والے جانتے ہیں اور خود قریش بھی جانتے تھے کہ ان کے کرتوتوں کی پاداش میں وقتاً فوقتاً انھیں بعض سزائوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعض دفعہ ان کے قرب و جوار کے لوگوں پر تنبیہات نازل ہوتی رہتی تھیں تاکہ لوگ غفلت سے جاگیں اور پیغمبر کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں لیکن انسان کی کمزوری یہ ہے کہ جب تک وہ کسی بڑی گرفت میں نہیں آتا اس کے اندر نہ قبولیت کی آنکھ کھلتی ہے اور نہ سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کو بھی ایک مذاق سمجھ کر ٹالتا رہتا ہے۔ نتیجتاً ایسے غیرسنجیدہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوتے ہیں اور وہ عذاب ان کی قبر توڑ کے رکھ دیتا ہے۔