13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsروح القرآن

Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

(اور تحقیق مذاق اڑایا گیا ہے رسولوں کا آپ سے پہلے بھی، تو میں نے کفر کرنے والوں کو ڈھیل دی، اور آخرکار ان کو پکڑ لیا تو دیکھو کیسا ہوا میرا عذاب۔

وَلَقَدِاسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ وقف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 32) (اور تحقیق مذاق اڑایا گیا ہے رسولوں کا آپ سے پہلے بھی، تو میں نے کفر کرنے والوں کو ڈھیل دی، اور آخرکار ان کو پکڑ لیا تو دیکھو کیسا ہوا میرا عذاب) تاخیر عذاب کی حکمت سابقہ آیات کریمہ میں مشرکینِ مکہ کی یہ روش بیان کی گئی ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اثرات کو روکنے کے لیے کبھی تو مختلف قسم کے اعتراضات کا سہارا لیتے ہیں اور کبھی اس بات کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تم ہمارے کفر اور ہمارے رویئے سے تنگ آکر ہمیشہ ہمیں عذاب کی دھمکی دیتے ہو اور اس دھمکی کو ایک مدت گزر گئی لیکن تمہارا وہ عذاب جو نہ جانے کب سے روانہ ہوچکا ہے آج تک ہم تک نہیں پہنچ سکا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے اسی رویئے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تمہارا اپنی حماقت کے باعث پیغمبر کا مذاق اڑانا کوئی نئی بات نہیں۔ جب بھی انسانوں کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر ( علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ہے تو اس کے ساتھ انسانوں نے یہی معاملہ کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ ان پر ان کے اعمال کی پاداش میں عذاب آگیا اور وہ تباہ کردیے گئے، لیکن تم اب تک عذاب سے بچے ہوئے کیوں ہو ؟ اس پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ پہلی امتوں پر عذاب ان کے کفر سے فوراً بعد نہیں آگیا تھا بلکہ ہم ان کو مہلت پہ مہلت دیتے چلے گئے کہ شاید وہ اپنے رویئے کو سمجھنے کی کوشش کریں اور شاید اپنے چلن کو بدلیں لیکن جب وہ کسی طرح اپنی حالت کو بدلنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو آخرکار اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کی کمر توڑ دی۔ مشرکین کے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے ابھی تک ان کی مہلت عمل کی مدت کو ختم نہیں کیا۔ لیکن اگر انھوں نے اپنا رویہ نہ بدلہ تو سابقہ امتوں کی طرح ان پر بھی گرفت آئے گی اور وہ گرفت ایسا عذاب ہوگا جو ان کی جڑ اکھاڑ دے گا۔ انھیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک انھیں مہلت کی صورت میں سنبھلنے کا موقع دے رکھا ہے۔ جب یہ موقع ہاتھ سے جاتا رہا تو پھر ان کی تاریخ بھی سابقہ امتوں کی طرح عبرت کا حوالہ بن جائے گی۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

کیا وہ ذات جو ہر متنفس سے اس کے عمل پر محاسبہ کرنے والی ہے (اور وہ جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے یکساں ہیں) اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں، اے نبی ان سے کہہ دیجیے کہ ذرا ان کے نام تو بتائو، یا تم خدا کو ایسی چیزوں کی خبر دے رہے ہو جن کے زمین میں وجود سے وہ بیخبر ہے یا یونہی ہَوائی بات کررہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کی مکاریاں خوشنما بنادی گئی ہیں اور یہ لوگ راہ حق سے روک دیے گئے ہیں، اور جن کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو ان کو کوئی دوسرا ہدایت دینے والا نہیں۔

اَفَمَنْ ھُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ ج وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شرُکَآئَ ط قُلْ سَمُّوْھُمْ ط اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَہٗ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاہِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ط بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مَکْرُھُمْ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ (سورۃ الرعد : 33) (کیا وہ ذات جو ہر متنفس سے اس کے عمل پر محاسبہ کرنے والی ہے (اور وہ جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے یکساں ہیں) اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں، اے نبی ان سے کہہ دیجیے کہ ذرا ان کے نام تو بتائو، یا تم خدا کو ایسی چیزوں کی خبر دے رہے ہو جن کے زمین میں وجود سے وہ بیخبر ہے یا یونہی ہَوائی بات کررہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کی مکاریاں خوشنما بنادی گئی ہیں اور یہ لوگ راہ حق سے روک دیے گئے ہیں، اور جن کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو ان کو کوئی دوسرا ہدایت دینے والا نہیں۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ کو ان کے فریبِ نظر پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم جس خودفریبی میں مبتلا ہو کہ چونکہ تم پر عذاب نہیں آرہا اس لیے عذاب کے آنے کی سرے سے کوئی حقیقت نہیں حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سرکش سے سرکش اور نافرمان سے نافرمان قوموں کو بھی پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں سنبھلنے کے لیے مہلت دیتا رہتا ہے۔ اس کی پکڑ اس وقت آتی ہے جب مہلت عمل بھی بیکار ہوجاتی ہے، لیکن اس مہلت کے دور میں ایسا نہیں ہوتا کہ دعوت و تبلیغ کا سلسلہ روک دیا جائے۔ مہلت صرف گرفت میں ہوتی ہے، دعوت و تبلیغ کا کام جاری رہتا ہے۔ چناچہ گزشتہ آیت کریمہ میں انھیں یہ بتا کر کہ تم مہلت عمل کے دور سے گزر رہے ہو اصل مضمون کو پھر بیان کرنا شروع فرما دیا گیا۔ شرک کی تردید میں ایک دلیل مشرکین کے فسادِفکروعمل کا سب سے بڑا سبب شرک میں آلودہ ہونا ہے۔ وہ آنحضرت ﷺ کی بےپناہ تبلیغی مساعی کے باوجودت وحید کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وہ اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس کی صفات اور اس کے حقوق میں کسی کو شریک ٹھہرانے سے انسان کے فکروعمل میں کیا تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور کس طرح سے تمام انسانی معاملات تلپٹ ہو کے رہ جاتے ہیں اس لیے اس بنیادی نقطے سے انھیں آگاہ کرنے کے لیے بڑے زوردار انداز میں لیکن نہایت اختصار کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ تم نے جس طرح بہت سے معاملات میں کچھ قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کیا تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ہونے کے لیے لازماً خدا جیسا ہونا ضروری ہے۔ کائنات میں دو خدائوں کا ہونا جس طرح ممکن نہیں اسی طرح کسی ایسے شریک کا ہونا جو اپنی صفات اور حقوق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ یکسانیت رکھتا ہو یہ بھی ممکن نہیں۔ خداوند ذوالجلال کی ذات تو وہ ہے جو کائنات کے ایک ایک ذرے سے واقف اور اور کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کا محتاج ہے۔ ہر متنفس اسی سے زندگی کی بھیک مانگتا ہے اور اسی کی عطا اور بخشش سے سانس لیتا ہے۔ جس طرح زندگی اس کی مرہونِ منت ہے اسی طرح زندگی کی بقاء بھی اسی کی دین ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دل و دماغ کی بےپناہ قوتیں عطا فرمائی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ اس کی تمام تر تفصیلات سے خود انسان بھی واقف نہیں۔ خیالات کے ہیجان میں بعض دفعہ خود انسان گم ہوجاتا ہے۔ وارداتِ قلبی میں بڑے سے بڑا انسان بھی اپنا راستہ گم کر بیٹھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان بجائے خود ایک عالم اصغر ہے اور ایسے کروڑوں عالم اصغر ہیں جن میں سے ایک ایک کے خیال، تصور، فکر اور عمل کی تفصیل سے اللہ تعالیٰ کماحقہ واقف ہے۔ اور وہ اپنے صائب اور حقیقی علم کے مطابق ہر مخلوق کی ضروریات پوری فرما رہا ہے۔ اس کے ایک ایک عمل کا محاسبہ کررہا ہے۔ پہاڑوں کی کھائیوں میں، سمندروں کی گہرائیوں میں اور صحرائوں کی وسعتوں میں بسنے والی ہر چھوٹی بڑی مخلوق اس کے رزق سے فیض یاب ہورہی ہے۔ جس ذات کے علم وقدرت کی وسعت کا یہ عالم ہو اس کے مقابلے میں اجرامِ فلکی، مظاہرِفطرت یا مقدس انسانوں میں سے کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا خود انسان کے علم کی توہین ہے۔ ایسی بےسروپا بات اور ایسا نامعقول فیصلہ انسان اپنے معاملات میں کبھی گوارہ نہیں کرتا، چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اس طرح کے اعتقادات رکھے جائیں جبکہ مخلوق کو اس سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ انسانوں کی بہت بڑی تعداد نے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ یہ ایک ایسا انسانی حادثہ ہے کہ جس پر اظہارتأسف تو ہوسکتا ہے لیکن اس کی توجیہ نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے کلام خداوندی میں یہاں وقفہ معلوم ہوتا ہے۔ وقفہ لفظوں میں تو نہیں لیکن انسانی فکر میں ضرور ہے کیونکہ انسانی فکر کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مقدمات سے نتائج نکالتا ہے لیکن یہاں کسی نتیجے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود انسان ایسے راستے پر چل رہا ہے جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے پوچھئے جو دلیل کی قوت سے بےبہرہ ہوچکے لیکن مزعومہ عقائد کی ابجد سے نکلنے کو تیار نہیں کہ تم نے اپنے تئیں جو شریک بنا رکھے ہیں ان کے نام تو بتائو، کیونکہ نام ہی سے مسمیٰ کا تعارف ہوتا ہے تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے کہ وہ کون لوگ ہیں جنھیں تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے۔ اور اگر تمہارے پاس ان کے شریک خدا ہونے کی کوئی سند موجود ہے تو ہمیں بھی دکھائو اور اگر ایسی کوئی بات نہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو ایک ایسی بات کی خبر دے رہے ہو جس سے وہ اپنے بےپایاں علم کے باوجود ناواقف ہے۔ اور اگر تمہاری گمراہی تمہیں یہاں تک لے پہنچی ہے کہ تم اللہ کریم کے بارے میں ایسے تصورات رکھتے ہو تو پھر اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت تمہارے پاس اپنے باطل اعتقادات کی کوئی دلیل نہیں۔ تمہارے جی میں جو آتا ہے یا جو بات خیال میں آجاتی ہے، وہ تم کہنا شروع کردیتے ہو۔ تم کٹی ہوئی پتنگ کی طرح بےپر کی ہَوائی باتوں پر یقین رکھتے ہو۔ اور تم جانتے ہو کہ ایسی باتوں کا علمی دنیا میں کوئی جواز نہیں۔ ایک سوال کا جواب سوال یہ ہے کہ جس بات کا علمی دنیا میں کوئی مقام نہ ہو اور عام انسانی معاملات میں بھی اس کا کوئی وقار نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگ اس کے فریفتہ ہوں اور اپنی اس نامعقولیت پر جان تک دینے کے لیے تیار ہوں۔ اس آیت کے دوسرے حصے میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ بات درحقیقت یہ ہے کہ مذہبی طبقے میں بھی دو گروہ ہوتے ہیں، ایک ہے مشائخ اور علماء کا گروہ اور دوسرا طبقہ عوام سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ علماء سوء اور دنیادار مشائخ اپنے دنیوی مفادات کے لیے جب دین کو ذریعہ بنا لیتے ہیں تو پھر ان کے پیش نظر دین نہیں ہوتا بلکہ ہوس زر ہوتی ہے۔ وہ ہوس زر میں مبتلا ہو کر اپنے دین کو دنیا طلبی میں اس طرح استعمال کرتے ہیں جس سے آہستہ آہستہ ان کا ضمیرمردہ ہوجاتا ہے اور عوام یہ سمجھ کر کہ یہ اتنے بڑے بڑے علماء اور مشائخ جن باتوں کو حق سمجھتے ہیں ان میں یقینا حق کے سوا کوئی اور بات نہیں ہوگی۔ جب یہ دنیا کا دھندا ایک معمول بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس راستے پر چلنے والوں کو حقیقت شناسی سے محروم کردیتا ہے۔ انھوں نے گمراہی کا جو راستہ اپنے لیے انتخاب کیا اللہ تعالیٰ اسی راستے کو ان کا مطلوب و مقصود بنا دیتا ہے۔ اور پھر ان کا ایک ایک عمل اس طرح ان کی نگاہوں میں مزین کردیا جاتا ہے کہ وہ اس سے ہٹ کر کسی اور بات کو قبول کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا راستہ ان کے لیے ممنوع قرار پاتا ہے۔ پیشوائی کی موروثی گدی ان کے لیے سب سے بڑی سند بن جاتی ہے اور وہ حق کے ہر راستے سے اس طرح محروم کردیے جاتے ہیں کہ ان کے دل و دماغ اس کے فہم و ادراک سے عاجز ہوجاتے ہیں۔ ان کے اسلاف اگر علم و عمل میں جلالتِ شان کے بھی مالک تھے تو یہ ان کے مقابلے میں نہایت تہی دامن ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے شاید یہ کہنا غلط نہ ہو : میراث میں آئی ہے انھیں مسند ارشاد زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔

لَہُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ج وَمَالَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ ۔ (سورۃ الرعد : 34) (ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ ) جو لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت کو درخوراعتنا نہیں سمجھتے اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے ان کے اعتماد پر ہر بدعملی کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نے فیصلہ کرلیا کہ دنیا میں ان پر عذاب بھیجا جائے تو یہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوں گے اور آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بھی کہیں زیادہ دکھ دینے والا اور شدید ہوگا۔ اور رہا ان کا یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک قوتیں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گی، وہ ان کو کسی عذاب سے بچا نہیں سکیں گی۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

تمثیل اس جنت کی جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس کے نیچے ندیاں روا ہوں گی، اس کا پھل دائمی اور اس کا سایہ لازوال، یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّقُوْنَ ط تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَاالْاَنْھٰرُط اُکُلُھَادَآئِمٌ وَّظِلُّھَا ط تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا ق وَّعُقْبَی الْکٰفِرِیْنَ النَّارُ ۔ (سورۃ الرعد : 35) (تمثیل اس جنت کی جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس کے نیچے ندیاں رواں ہوں گی، اس کا پھل دائمی اور اس کا سایہ لازوال، یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔ ) جنت کی تمثیل قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق اہل دوزخ کے ذکر کے بعد اہل جنت کا ذکر فرمایا ہے۔ سب سے پہلے یہ ارشاد فرمایا کہ جہنم کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جو جنت پیدا کر رکھی ہے اور جو جنت کے مستحق لوگوں کو ملے گی۔ وہ جنت باغات پر مشتمل ہے اور جس میں بیش قیمت محلات ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے بعض دوسری آیات میں بیان فرمایا ہے، ان محلات کے نیچے سے یا ان کے چاروں طرف درختوں کے نیچے سے ایسی ندیاں اور نہریں رواں ہیں جن کا پانی کبھی خشک نہیں ہوگا۔ اس پانی کی سیرابی سے جو درخت توانا ہوں گے اگر وہ پھلدار ہیں تو ان کا پھل دائمی ہوگا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ موسم کے گزرنے سے وہ پھل آنا بند ہوجائیں یا سڑ جائیں، وہاں کسی چیز کے سڑنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اور اگر وہ درخت سایہ دار ہیں تو ان کے سائے پر کبھی کوئی خزاں نہیں چھائے گی، ان کے سائے لازوال ہوں گے۔ پت جھڑ کا موسم ان پر کبھی نہیں آئے گا۔ اور یہ جنت مسکن ہوگا ان لوگوں کا جو تقویٰ جیسی دولت کے سرمایہ دار ہوں گے۔ جنھوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے پیش نظر دنیا کی ہر اس نعمت سے کنارہ کشی کی ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، آج انھیں جنت میں اسی اتقا کے بدلے میں جو نعمتیں عطا ہوں گی وہ دائمی اور ابدی ہوں گی۔ البتہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے کفر کا راستہ اختیار کریں گے ان کا انجام جہنم ہوگا۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس چیز پر خوش ہیں جو اے پیغمبر آپ ﷺ پر اتاری گئی ہے اور ان جماعتوں میں سے ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ اے نبی آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائوں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔

وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰـھُمُ الْکِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْکِرُبَعْضَہٗ ط قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللّٰہَ وَلَآاُشْرِکَ بِہٖ ط اِلَیْہِ اَدْعُوْا وَاِلَیْہِ مَاٰبِ ۔ (سورۃ الرعد : 36) (اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس چیز پر خوش ہیں جو اے پیغمبر آپ پر اتاری گئی ہے اور ان جماعتوں میں سے ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ اے نبی آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائوں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔ ) اعتراض اور اس کا جواب اس آیت کریمہ میں ایک ایسے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو عموماً مشرکین کی طرف سے دہرایا جاتا تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے بہت سے نبی ( علیہ السلام) اور رسول ( علیہ السلام) مختلف امتوں میں آئے، ان میں سے بطورخاص اہل کتاب ہمارے سامنے موجود ہیں۔ مسلمانوں کا دعویٰ یہ ہے کہ اہل کتاب جن کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں اور ان کتابوں میں نہ صرف نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر ہے بلکہ آپ ﷺ کی بعض علامات اور صفات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہونا تو یہ چاہیے کہ اہل کتاب لپکتے ہوئے اس کتاب کی طرف آئیں اور دیوانہ وار آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اہل کتاب نبی کریم ﷺ کی بےانتہا مخالفت کررہے ہیں، اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے جن کو کتاب دی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اشارہ نصاریٰ کی طرف ہے۔ ان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نبی کریم ﷺ پر ایمان بھی لائے اور قرآن کریم کی ایک ایک بات کو تسلیم بھی کیا۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو شمعون صفا کے پیروکار ہیں اور جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور جن کا ذکر قرآن کریم نے سورة مائدہ کی آیت 82 میں کیا ہے۔ رہے وہ عیسائی جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہلاتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں اور جو اپنے آپ کو کر سچین کہتے ہیں وہ یقینا نبی کریم ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ وَمِنَ الْاَحْزَابِسے شاید وہی لوگ مراد ہیں۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ صاف صاف اعلان کردیجیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائوں۔ میری توحید تثلیث کے ماننے والوں کی تائید کی محتاج نہیں۔ اس میں میں تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف دعوت دوں گا اور مجھے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی لیے ہم نے اس کتاب کو نازل کیا ہے، عربی زبان میں ایک فرمان کی حیثیت سے۔ اور اگر آپ نے (بفرضِ محال) اس علم صحیح کے آجانے کے بعد لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ آپ کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰـہُ حُکْمًا عَرَبِیًّا ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ بَعْدَمَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَوَاقٍ ۔ (سورۃ الرعد : 37) (اور اسی لیے ہم نے اس کتاب کو نازل کیا ہے، عربی زبان میں ایک فرمان کی حیثیت سے۔ اور اگر آپ نے (بفرضِ محال) اس علم صحیح کے آجانے کے بعد لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ آپ کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔ ) قرآن کی حیثیت گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے مشرکینِ مکہ کا اہل کتاب کے حوالے سے اعتراض بھی پڑھا اور اس کا جواب بھی۔ اب ایک دوسرے پہلو سے اسی اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے کہ تم اپنی ساری انکار کی قوتیں اور شک و شبہ کے تمام طلسمات کو ایک طرف رکھ کر اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ قرآن کریم محض کتابوں میں ایک کتاب کا اضافہ نہیں بلکہ اس کی حیثیت فرمانِ الٰہی کی ہے جسے عربی زبان میں اس لیے اتارا گیا ہے تاکہ تم اس کے اولین مخاطب کی حیثیت سے اسے سمجھ سکو اور پھر اس کے مبلغ و مناد بن کر اٹھو۔ جب تک تم اس کی اس اصل حیثیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرو گے اس وقت تک مختلف بہانے تمہارا راستہ روکتے رہیں گے۔ کوئی کتاب جو نصیحت کے لیے لکھی جائے یا کسی علمی صداقت کے اثبات کے لیے، اس کے لیے ایک سے زیادہ آرا کا ہوجانا چنداں قابل تعجب نہیں، لیکن وہ نوشتہ جس کی حیثیت حاکم اعلیٰ کے فرمان کی ہو اس میں اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ تم اسے اپنی دماغی کاوشوں کا میدان بنائو۔ فرمان کی حیثیت صرف تسلیم کرنے سے وجود میں آتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اسے دماغ قبول کرتے ہیں یا نہیں، یہ بہت بعد کی بات ہے۔ اس لیے جب تک تم قرآن کریم کو فرمانِ الٰہی کا درجہ نہیں دو گے، اس وقت تک یہ قیل و قال ختم نہیں ہوگا۔ خطاب آنحضرت ﷺ سے، عتاب مشرکین پر اس کے بعد آنحضرت ﷺ سے خطاب ہے جس میں بظاہر ایک ایسی بات کی وجہ سے آپ پر عتاب ہورہا ہے جس کا ثبوت کسی پیغمبر سے قطعاً ناممکن ہے۔ اس کے بارے میں قرآن کریم کے اسلوب کا ایک نکتہ ذہن میں رہنا چاہیے، وہ یہ کہ جب کبھی کسی ایسی بات پر جس کا تعلق کفار سے ہو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ( علیہ السلام) پر عتاب ہوتا ہو تو وہ عتاب دراصل پیغمبر ( علیہ السلام) پر نہیں ہوتا بلکہ اس قوم پر ہوتا ہے جس کی طرف پیغمبر ( علیہ السلام) مبعوث ہوتا ہے۔ یہاں بھی خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن عتاب قریش مکہ پر ہے۔ ان کے رویئے اور انکار کی شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے یہ اندازِ بیان اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار درحقیقت اسے تسلیم کرنے سے انکار، پیغمبر پر ایمان لانے سے انکار یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر کہیں اس کا صدور نبی سے بھی ہو جو بالکل ناممکن ہے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ کے عتاب کی بجلی گرے گی اور وہ بھی اس کے غضب سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔ اور اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی تمام عنایتِ خصوصی کا مورد ہونے کے باوجود اس کے عذاب سے نہ بچ سکے اور کوئی اس کو بچانے والا بھی نہ ہو۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

(اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی کئی رسول ( علیہ السلام) بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد بھی عطا فرمائی اور کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی دکھا سکے۔ ہر چیز کے لیے ایک وقت اور ہر وقت کے لیے ایک نوشتہ ہے۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً ط وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَاب۔ (سورۃ الرعد : 38) (اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کئی رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد بھی عطا فرمائی اور کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی دکھا سکے۔ ہر چیز کے لیے ایک وقت اور ہر وقت کے لیے ایک نوشتہ ہے ) دو اعتراضات اور ان کا جواب مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ پر مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے۔ قرآن کریم حکمت دعوت کے مطابق جب مناسب سمجھتا ہے تو ان کا جواب دیتا ہے یہاں بھی ایک اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔ اعتراض یہ ہے جسے قرآن کریم نے ذکر نہیں کیا لیکن اس کے جواب سے سمجھ میں آتا ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ رسالت اور نبوت سرا سر روحانی منصب ہے یہ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو عطا کرتا ہے جو دنیا دار نہیں ہوتے ان کے حالات اہل دنیا جیسے نہیں ہوتے ان کی ضرورتیں اور چاہتیں اہل دنیا سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ان کے اندر جنسی جذبات اور طبعی ضروریات نہیں ہوتیں اس کی وجہ سے نہ انھیں کھانے پینے کی حاجت ہوتی ہے کہ وہ اکتساب رزق پر مجبور ہوں اور دنیا داروں کی طرح ان کے بھی بیوی بچے ہوں حضرت محمد ﷺ ان کے بقول اس لیے نبی ﷺ اور رسول ﷺ نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کی بیوی بھی ہے بچے بھی ہیں اور قرآن کریم نے دوسری جگہ قریش مکہ کے اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ رسول کیسا ہے کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں کاروبار کے لیے دوڑا بھاگا پھرتا ہے چناچہ اس آیت کریمہ کے پہلے جز میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے محمد ﷺ کو روئے زمین پر پہلا نبی اور رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اس سے پہلے ہزار ہا نبی ( علیہ السلام) تشریف لا چکے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنھیں تم تسلیم کرتے ہو اور بعضوں کی اولاد ہونے پر فخر کرتے ہو۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہم السلام) کو کون نہیں جانتا۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) سے کون ناواقف ہے یہ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول ( علیہ السلام) تھے۔ یہ جلیل القدر شخصیات اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) بھی تھیں اور ساتھ ہی ان کے ساتھ وہ تمام ضروریات بھی لگی ہوئی تھیں۔ اس لیے تاریخ کے آئینہ میں غور سے دیکھو اور اپنی غلطی کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ دوسرا اعتراض مشرکین مکہ کی طرف سے یہ کیا جاتا تھا کہ ہم نے اہل کتاب سے سنا ہے کہ قوموں کی طرف جتنے بھی رسول ( علیہ السلام) آئے ہیں وہ اپنی سند ماموریت کے طور پر کوئی نہ کوئی معجزہ یا نشانی لے کر آئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب نبوت عطا کی گئی تو آپ ( علیہ السلام) کو عصائے موسیٰ اور ید بیضا کے نشانات دیے گئے اور آپ ( علیہ السلام) کو فرعون کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا اسی طرح باقی انبیاء ( علیہ السلام) اور رسل ( علیہ السلام) کو بھی لیکن نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری تک زمانہ ارتقائے معنوی، روحانی اور ذہنی کی بہت سی منزلیں طے کرچکا تھا پہلے کسی انسان کی غیر معمولی شخصیت کو تسلیم کرنے کے لیے اس شخصیت سے خلاف عادت امور کا ظہور ضروری سمجھا جاتا تھا اس کے بغیر کسی شخصیت کو غیر معمولی تسلیم کرنا یا اللہ تعالیٰ سے اس کے کسی تقرب کو مان لینا ممکن نہ تھا لیکن حضور ﷺ کی کی بعثت کے وقت سیرت و کردار کی غیر معمولی توانائیاں اور ماحول کے اثرات سے بلند ہو کر غیر معمولی صفات کا اظہار بڑی سے بڑی شعبدہ بازی سے بڑھ کر اثر انداز ہونے لگا۔ اب مقابلہ جادوگروں کے ساتھ نہیں بلکہ ماہرین علوم و فنون اور ادب کے تیور شناسوں سے تھا۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر اپنے کردار کے بےعیب ہونے کی گواہی مانگی ہے اور اسی کو اپنی دلیل کے طور پر پیش فرمایا اور اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا کہ دنیا کی گمراہیوں میں سے بڑی بڑی گمراہیوں کا سبب آج تک یہ رہا ہے کہ اہل دنیا اللہ تعالیٰ اور پیغمبر ( علیہ السلام) کی صفات میں فرق کو ملحوظ رکھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں تھے اس لیے پیغمبر ( علیہ السلام) میں ہمیشہ خدا کی صفات ڈھونڈتے تھے لیکن اب علمی ارتقاء کے بعد انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ پیغمبر کا کام ہدایت دینا ہے معجزات اور نشانیاں دکھانا نہیں یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے۔ جب قوم پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتی تھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تائید میں معجزات دکھائے جاتے تھے اور یا سزا کے طور پر عذاب بھیجا جاتا تھا لیکن یہ عذاب کب آئے گا اس کا ہر رشتہ اللہ تعالیٰ کے نبی کے ہاتھ میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ تمہیں نبی سے ہدایت طلب کرنی چاہیے اور اگر تم نے اپنے آپ سے اس کو محروم کرلیا تو پھر اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق عذاب اپنے وقت پر آئے گا اور اگر معجزے کی ضرورت ہوئی تو اس کا ظہور بھی اپنے وقت پر ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کے لیے ایک اجل ہے اور ہر اجل اس کی یہاں لکھی ہوئی ہے۔ اس کا نظام نہایت منضبط ہے اس کے ہاں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔

یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَآئُ وَیُثْبِتُ ج وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰب۔ (سورۃ الرعد : 39) (اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے اختیار کا عالم یہ ہے کہ وہ جس طرح انسانوں کی قسمتیں بنانے میں آزاد ہے اور انھیں صلاحتیں دینے میں بھی کسی قید کا پابند نہیں۔ اسی طرح وہ انسانوں کو شریعت دیتے ہوئے سراسر اپنی مشیت کے مطابق کام کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ احکام کو کس طرح سفر کرنا چاہیے۔ چناچہ اسی کے مطابق وہ اپنی کتابوں میں کبھی نسخ سے کام لیتا ہے اور کبھی ترمیم و تحریف سے حفاظت کا انتظام اٹھا دیتا ہے تاکہ انسانی ارتقا کی طرح کردار سازی اور تربیت کا عمل بھی اپنی طبعی رفتار سے آگے بڑھے لیکن علم کا اصل سرمایہ جسے ام الکتاب کہا گیا ہے یہ اسی کے ہاتھ میں رہتا ہے ہر محو و اثبات اور ہر اخراج و اندراج صرف اسی حکمت و مشیت کے تحت ہوتا ہے کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ انسانوں کام اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر اور نازل کردہ کتاب کا اتباع کرنا ہے آئندہ قسمت اور حالت کا فیصلہ اتباع کو دیکھ کر ہوگا۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان کو دے رہے ہیں اس کا کچھ حصہ یا تو ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں گے اور یا ہم آپ ﷺ کو وفات دے دیں گے بس آپ ﷺ پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔

وَاِنْ مَّانُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔ (سورۃ الرعد : 40) (اور اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان کو دے رہے ہیں اس کا کچھ حصہ یا تو ہم آپ کو دکھا دیں گے اور یا ہم آپ ﷺ کو وفات دے دیں گے بس آپ ﷺ پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے ) مشرکین کو وارننگ اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن سنانا مشرکین مکہ کو ہے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ اس بات کی فکر میں نہ پڑیں کہ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ان کے ساتھ کیا ہوگا، اس کا تعلق ہرگز آپ ﷺ سے نہیں۔ وہ اگر اپنی قسمت پھوڑ چکے ہیں تو آپ ﷺ اس سے دل گرفتہ کیوں ہوں۔ مشرکین مکہ کو کہا جارہا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ تمہاری یہ مہلت کھلی چھوٹ بن گئی ہے اور تم اسی طرح داد عیش دیتے رہو گے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا انجام دور نہیں اگر اپنے آپ کو بدل لو گے تو اپنے انجام کو بہتر کرلو گے اور اگر نہیں بدلو گے تو ممکن ہے کہ ہم عذاب کا کوئی حصہ آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں تمہیں چکھا دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ کو وفات دینے کے بعد تمہیں عذاب کے حوالے کردیا جائے ابھی تک تو ہم پیغمبر کی ذمہ داری کے حوالے سے تمہیں مہلت دے رہیں ہیں۔ اس کا کام پہنچانا ہے سو وہ بخوبی اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب پھر ہمارا انصاف حرکت میں آئے گا اور ہم تم سے حساب لیں گے۔ اور بہت بدنصیب ہے وہ شخص اور قوم جس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حساب تک پہنچ جائے۔ نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayah 13:41

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھ نہیں رہے کہ ہم بڑھ رہے ہیں اس سر زمین کی طرف اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے اور کوئی اس کے فیصلے کو ہٹانے والا نہیں اور وہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا ط وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لاَ مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ ط وَھُوَسَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 41) (کیا یہ لوگ دیکھ نہیں رہے کہ ہم بڑھ رہے ہیں اس سر زمین کی طرف اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے اور کوئی اس کے فیصلے کو ہٹانے والا نہیں اور وہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ ) مسلمانوں کو تسلی اور مشرکین کو وارننگ ایک دوسرے پہلو سے اس آیت کریمہ میں بھی آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے لیے تسلی ہے اور کفار مکہ کے لیے وارننگ ہے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ آپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے کفار پر عذاب نازل نہیں ہوا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو کھل کھیلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ان پر کوئی گرفت نہیں ہوگی یہ بات غلط ہے ہم اگرچہ براہ راست ان پر عذاب نازل نہیں کر رہے لیکن اگر انھیں دیدہ بینا نصیب ہوتا تو وہ دیکھ سکتے تھے کہ کس طرح ان کا دائرہ اقتدار اور دائرہ رسوخ روز بروز سمٹتا جارہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک دن ان کا مرکز ِ اعصاب اور مرکز ِ قوت یعنی مکہ معظمہ اسلامی قوت کے سامنے جھک جائے گا اور مشرکین مکہ کو واضح تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم میں ہوش و خرد مندی ہوتی تو بڑی آسانی سے محسوس کرسکتے تھے کہ آنحضرت ﷺ تنہا اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت کو لے اٹھے تھے، لیکن کفر کی ساری مخالفتوں کے باوجود ایک معتد بہ تعداد مکہ معظمہ میں اسلام قبول کرچکی ہے اور مکہ کے اطراف میں کوئی علاقہ اور کوئی آبادی ایسی نہیں جہاں اسلام کی دعوت کسی نہ کسی حد تک اثر انداز نہیں ہوچکی۔ مسلمان ہجرت کر کے حبشہ تک جا چکے ہیں اور اس طرح سے وقت کا ایک حکمران اسلام قبول کرچکا ہے اور اس کی قوم میں اسلام کے لیے ہمدردی پیدا ہوچکی ہے۔ مدینہ منورہ میں اسلام کی شعاعیں پہنچ چکی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب مدینہ کی آغوش اسلام کے لیے کھل جائے گی۔ اس طرح دھیرے دھیرے اسلام مکہ کی طرف بڑھ رہا ہے اس سے ہر دیدہ بینا رکھنے والا شخص آسانی سے دیکھ سکتا ہے۔ کہ اسلام مکہ کے اطراف کو فتح کرتا ہوا فاتحانہ مکہ کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جس کے لیے پیش گوئی کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے۔ میں دریا کی روانی دیکھ کر جانباز کہتا ہوں کہ دریا میں ہی دریا کے کنارے ڈوب جائیں گے
Ayah 13:42

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

تحقیق چالیں چلی ہیں ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے لیکن سب چالیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کررہا ہے اور یہ کافر جلد جان لیں گے کہ دار آخرت کی کامیابی کس کے لیے ہے۔

وَقَدْمَکَرَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلِلّٰہِ الْمَکْرُجَمِیْعًا ط یَعْلَمُ مَاتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ ط وَسَیَعْلَمُ الْکُفّٰرُلِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 42) (تحقیق چالیں چلی ہیں ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے لیکن سب چالیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کررہا ہے اور یہ کافر جلد جان لیں گے کہ دار آخرت کی کامیابی کس کے لیے ہے۔ ) مشرکین کی چالیں کوئی معنی نہیں رکھتیں بلا شبہ کفار مکہ دعوت اسلامی کے اثرات کو روکنے کے لیے ایک سے ایک بڑی تدبیر اور ایک سے ایک بڑی چال بروئے کار لا رہے ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہر دور میں کفر نے اسلام کا راستہ روکا ہے۔ جب بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا رسول ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دین کو لے کر اٹھا ہے وقت کی مخالف قوتوں نے کبھی بھی اس دعوت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا۔ کفر سے جو کچھ بن پڑا ہے انھوں نے اسے بروئے کار لانے میں کبھی کوتاہی نہیں کی لیکن حق و باطل کی کشمکش جلد ہی یہ بات واضح کردیتی ہے کہ حق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت ہوتی ہے کفر بظاہر بہت شور مچاتا ہے لیکن اس کی حیثیت سطح آب پر ابھرنے والے جھاگ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جھاگ رفتہ رفتہ اڑ جاتا ہے اور خالص دھات اور نفع دینے والی چیز باقی رہ جاتی ہے۔ حق کی بالا دستی کے لیے اللہ تعالیٰ حق پر ایمان لانے والوں کا بھی امتحان لیتا ہے وہ اصحاب ایمان اور اصحاب کفر دونوں کے جذبوں اور دونوں کے محرکات سے واقف ہوتا ہے لیکن جب اہل ایمان اپنے اخلاص، صبر اور تقویٰ سے اپنی اہلیت ثابت کردیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے غلبے کے امکانات کو پیدا فرما دیتا ہے۔ وہ دنیا میں بھی غالب آتے ہیں اور آخرت میں بھی انھی کے لیے سرخروئی ہوتی ہے وہ دنیا میں چونکہ کافر اس طرح کے وعدوں کا مذاق اڑاتے ہیں اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ وہ آخرت میں دیکھ لیں گے کہ آخرت کی نعمتیں اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودیاں کس کے لیے ہیں۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نہیں ہیں، اے پیغمبر ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ میرے اور تمہارے درمیان اور وہ لوگ جن کے پاس کتاب کا علم ہے۔

وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلاً ط قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا م بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ لا وَمَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ ۔ (سورۃ الرعد : 43) (اور یہ کافر کہتے ہیں کہ تم خدا کے رسول نہیں ہو، اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ میرے اور تمہارے درمیان اور وہ لوگ جن کے پاس کتاب کا علم ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کی رسالت کی گواہی ایسے مسکت اور قطعی دلائل سننے اور ناقابل انکار شواہد دیکھنے کے بعد بھی اگر یہ کفار اپنی ضد پر قائم ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نہیں بلکہ آپ ﷺ نے خواہ مخواہ اپنے آپ ﷺ کو رسول ﷺ کی حیثیت سے پیش کیا ہے جبکہ رسول ﷺ ہونے کے لیے جس اثرو اقتدار کا ہونا ضروری ہے وہ آپ ﷺ کے پاس ہرگز نہیں آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ایسے کافروں سے یہ کہہ دیجیے کہ کسی بات کی صحت کو جاننے کے لیے ہمیشہ دلائل و شواہد درکار ہوتے ہیں لیکن اگر یہ سرمایہ بھی تمہارے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے تو پھر اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس کی طرف سے وحی کا اترنا اور میری نبوت کی دلیل میں بعض معجزات کا ظہور میری نبوت کے لیے کافی ہے۔ اور یہ گواہی وقت کے ساتھ ساتھ مزید اس طرح نکھرتی جارہی ہے کہ منکرین کے لیے اس کا جواب ناممکن ہوتا جارہا ہے اور اگر اس کی مزید گواہی دیکھنا ہو تو اس کے لیے اہل کتاب میں سے وہ انصاف پسند اور راست فکر لوگ کافی ہیں جو اپنی کتابوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ﷺ کی نشانیاں دیکھ کر گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں اور پہلی آسمانی کتابوں نے آپ ﷺ ہی کے آنے کی خبر دی تھی اور یہ اہل کتاب کے علماء ہیں جن کی طرف اوپر آیت نمبر 36 میں اشارہ فرمایا گیا ہے بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں من عندہ سے مراد حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہیں لیکن صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد اہل کتاب کے مومن بھی ہیں اور اس امت کے بھی۔