14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsروح القرآن

Ayahs 14:1–2

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

(ا۔ ل۔ ر۔ یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ ﷺ کی طرف نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ ان کے رب کی توفیق سے اس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے۔ اور کافروں کے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی ہے۔

الٓرٰقف کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ 5 لا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ۔ اللّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِط وَوَیْلٌ لِّلْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِنِ ۔ (سورۃ ابراہیم : 1۔ 2) (ا۔ ل۔ ریہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ ﷺ کی طرف نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ ان کے رب کی توفیق سے اس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے۔ اور کافروں کے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی ہے۔ ) اس سورت کا آغاز ( ا۔ ل۔ ر) سے کیا گیا جو حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی بحث ہم سورة البقرہ میں کرچکے ہیں۔ استفادہ کے لیے اسے ایک نظر دیکھ لیا جائے۔ نہایت جامع الفاظ میں اس سورت کا تعارف کرایا گیا ہے۔ تعارف میں سب سے پہلے اس سورت کو کتاب قرار دیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ اس عظیم کتاب یعنی قرآن کریم کا ایک حصہ ہے جسے لوح محفوظ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے۔ لوح محفوظ میں چونکہ اسے مستقل طور پر لکھ دیا گیا ہے اس لیے اسے کتاب سے یاد کیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اس کے مٹ جانے کے تمام واہمے ختم ہوگئے ہیں۔ ممکن ہے اس کا تعلق پیش گوئی سے ہو کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے ایسے زمانے میں نازل کیا گیا ہے جو زمانہ نوشت و خواند اور لائبریوں کا زمانہ ہوگا جس میں پریس وجود میں آجائے گا جس میں کسی بھی یادداشت اور تحریر کو محفوظ رکھنے کے لیے بیسیوں اسباب پیدا ہوجائیں گے۔ تعارف میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اسے ہم نے نازل کیا ہے۔ اور قرآن کریم میں بعض دیگر مواقع پر یہ تصریح کردی گئی ہے۔ کہ یہ کتاب آخری کتاب ہے اور ہم نے اسے قیامت تک کی نوع انسانی کے لیے نازل کیا ہے۔ اور اسی کے ساتھ وابستگی قوموں کے لیے عروج کا باعث ہوگی اور اس سے تعلق توڑ لینا تباہی اور بربادی کا باعث ہوگا۔ تعارف میں مزید یہ فرمایا گیا ہے کہ انسان کو زندگی کے سفر کے لیے ہمہ جہت اور ہمہ نوع روشنی کی ضرورت ہے اس کا فکری ارتقاء تحقیق و تجسس کی روشنی کا طالب ہے۔ اس کے جذبات کی آسودگی ایک ایسی روشنی کی ضرورت محسوس کرتی ہے جس میں فطرت اور طبیعت الجھن اور اڑچن محسوس نہ کرے لیکن یہ انسان کی بدقسمتی ہے کہ وہ روشنی کی تلاش میں ہمیشہ اندھیروں میں ٹھوکریں کھاتا ہے اور اگر کہیں روشنی دکھائی دیتی بھی ہے تو اس کی حیثیت صبح کاذب سے زیادہ نہیں ہوتی اس لیے انسان کو اطمینان دلانے کے لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب درحقیقت ایک مینارہ نور ہے جس سے ہمہ وقت روشنی کی کرنیں پھوٹتی ہیں اور انسانی راستوں کو روشن کرتی ہیں۔ آج جبکہ انسانی قافلہ تاریک راہوں میں ٹھوکریں کھا رہا ہے اللہ تعالیٰ کا نہایت کرم ہے کہ اس نے اس منبع نور کو نازل کیا ہے تاکہ آپ ﷺ اس روشنی کی مدد سے لوگوں کو تاریکیوں سے نکالیں۔ اس آیت میں قابل غور بات یہ ہے کہ اس میں تاریکی کے لیے ظلمات یعنی جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اور روشنی کے لیے نور کا لفظ جو واحد ہے۔ قرآن پاک کا استقصاء کر جائیے۔ آپ کو کہیں بھی نور کی جمع نہیں ملے گی حالانکہ عربی زبان میں نور کی جمع انوار شائع و ذائع ہے لیکن ظلمات کو ہر جگہ جمع ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فکری اور عملی گمراہیاں اور بےبصیرتی اور نارسائیوں کی تاریکیاں رنگا رنگ اور بیشمار ہیں لیکن ہدایت کا راستہ ایک ہی ہے جس کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے نیکی اور بھلائی کا علم جو حضرت آدم (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا ہر دور میں اسی کا نزول ہوتا رہا اور اب قرآن کریم کی شکل میں وہی نور اور روشنی اور وہی علم حق اس امت کو دیا جارہا ہے۔ تاکہ زندگی کے کسی دائرے میں اس امت کو تاریکی کا احساس نہ ہو۔ آیت میں مذکور نور کے فہم کی تسہیل کے لیے ارشاد فرمایا کہ یہ نور انسانوں کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں بلکہ یہ وہی خدائے بزرگ و برتر کا راستہ ہے جسے صراط مستقیم بھی کہا گیا ہے۔ اور جسے پروردگار عالم نے اپنے رسولوں ( علیہ السلام) کے واسطے سے ہمیشہ نوع انسانی کی ہدایت کے لیے واشگاف فرمایا اور حقیقت یہ ہے کہ اسی کا یہ حق ہے کہ وہ انسانوں پر یہ بات واضح کرے کہ تمہارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ہے اور صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے کیونکہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اس کی ملکیت ہے مالک کو بجا طور پر اپنے مملوک کے لیے زندگی کی رہنمائی مہیا کرنا اس کی حدودو قیود مقرر کرنا اور اس کے مقاصد اور منہج کو کھول کر بیان کردینے کا حق حاصل ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی زندگی میں آسانی کے لیے روشنی مہیا فرمائی ہے اور وقتاً فوقتاً اپنے رسول ( علیہ السلام) بھیج کر اس نے ترغیب کا سامان بھی کیا ہے اور تفہیم و تشریح کی ضرورت بھی پوری فرمائی ہے۔ لیکن اس سے استفادہ اور اس کی قبولیت کے لیے کسی پر جبر نہیں فرمایا ہر انسان کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ کہ وہ چاہے تو اسے قبول کرے اور اپنی منزل مراد کو پالے اور چاہے اسے رد کر کے خسران کا راستہ اختیار کرلے۔ اور مزید یہ کہ اس راستے میں محض چاہت بھی کام نہیں دیتی نصیب اس کا کھلتا ہے اور ہدایت اس کو ملتی ہے جو چاہت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے توفیق مانگتا ہے اور ہر مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے لیکن جو لوگ اس کی طرف سے لاپروائی، غفلت یا اعراض کا رویہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے قدرت نے عذاب شدید کی تباہی اور خرابی رکھی ہے۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔

الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًاطاُولٰئِکَ فِی ضَلٰلٍمبَعِیْدٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 3) (جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ ) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بنیادی گمراہیوں اور خرابیوں کا ذکر فرمایا ہے جو آنکھیں رکھنے اور عقل اور شعور سے بہرہ ور ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشنی میں سفر کرنا پسند نہیں کرتے انھیں تاریکی کے دھکے اور اندھیروں کی کھائیاں گوارا ہیں۔ یہ چند بنیادی خرابیاں جب ان کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں تو پھر انھیں میعادی بخار میں مبتلا شخص کی طرح شہد بھی کڑوا لگتا ہے ان کی سب سے پہلی خرابی یہ ہے کہ وہ حیات دنیا کو حیات آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیا چند روزہ ہے فانی ہے اس کی ہر نعمت بےثبات ہے اس کا ہر وعدہ فریب ہے اور آخرت ایک ہمیشہ کی زندگی ہے جسے کبھی ختم ہونا نہیں وہیں کی کامیابیاں اصل کامیابیاں ہیں اور وہیں کی ناکامیاں ہی اصل ناکامیاں ہیں۔ لیکن وہ نقد پر ادھار کو ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں وہ نفع اٰجل کے لیے نفع عاجل کو حماقت سمجھتے ہیں انھیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ قیامت آئے گی انسان زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے آخرت کے نام سے ایک نئی دنیا بسے گی پہلی زندگی کا حساب کتاب ہوگا اور اسی حساب کے نتیجے میں جزا یا سزا کا فیصلہ ہوگا۔ وہ اسی موجودہ زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس کی خوشیوں کا حصول ان کی زندگی کا مقصد ہے اور اس میں اس حد تک اندھے ہوگئے ہیں کہ نہ صرف کہ خود آخرت کے لیے کچھ کرنا نہیں چاہتے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے سے روکتے ہیں اور اگر کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف آنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے نہ صرف فکری الجھنیں پیدا کرتے ہیں بلکہ فکری الجھنوں کے ساتھ ساتھ عملی کجرویاں بھی پیدا کرتے ہیں۔ نئے نئے ناموں سے نئی نئی گمراہیاں اختراع کرتے ہیں سفلی جذبات کو ابھارنے کے لیے تفریح کے نام سے نفس کے لیے نئے نئے پھندے تیار کرتے ہیں پروپیگنڈے کے زور سے انسان کی ہوس کو بےہنگم بناتے ہیں لطف و لذت کے دلچسپ ذرائع سے انسانیت کی منزل کھوٹی کرتے ہیں اور اس راستے میں وہ غبار اڑاتے ہیں کہ انسان خواہشات نفس کو اپنا رہنما بنا لیتا ہے۔ یہ صورتحال ایسے لوگوں کو ہدایت کے راستے سے اتنا دور لے جاتی ہے کہ وہاں سے واپس پلٹنا مشکل ہوجاتا ہے اسی کے لیے اس آیت میں ظلالم بعید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا۔ تاکہ وہ ان پر اچھی طرح واضح کر دے پس اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی سب پر غالب ہے اور حکیم ہے۔

وَمَآ اَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ طفَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (سورۃ ابراھیم : 4) (ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان پر اچھی طرح واضح کر دے پس اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی سب پر غالب ہے اور حکیم۔ ) اللہ تعالیٰ کا احسان ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے پیغمبر اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائیں اور گمراہیوں سے ہدایت کے راستے پر نکالیں اس کے لیے ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے کام لے کر ان کے دل و دماغ میں غیر معمولی طریقے سے پیغمبر کی دعوت کو اتار دیں۔ لیکن یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے اس نے سرا سر تبلیغ و دعوت اور تعلیم و تلقین پر اس کی کامیابی کا انحصار رکھا ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ بات از بس ضروری تھی کہ پیغمبر اپنی دعوت کو اس زبان میں پیش کرتا جو زبان اس کی قوم سمجھ سکتی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی ایک ایک حقیقت کو ان پر واشگاف کرسکے اور کتاب اللہ تعالیٰ کی تعلیم کا ایک ایک گوشہ ان پر کھول سکے چناچہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے دنیا میں جب بھی کوئی رسول بھیجا ہے تو وہ اپنی قوم کی زبان بولتا ہوا آیا ہے تاکہ اس کی بات کو سمجھنے اور حقائق کا ادراک کرنے میں انھیں کوئی دشواری نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسری زبان میں کسی علم و فن کو سیکھ لینا مشکل تو ہے لیکن بہت دشوار نہیں لیکن جہاں تک انسانوں کی ہدایت اور ان کے مزاج کو بدلنا اور ان کی عادات واطوار کو نئے سانچے میں ڈھالنا احساسات سے کہنگی اور درشتی نکال کر تازگی اور ہمدردی و خیر خواہی کی جوت جگا دینا یقینا ایک مشکل ترین کام ہے دوسری زبان کا فاصلہ طے ہوتے ہوتے بعض دفعہ انسان بیزار ہوجاتا ہے اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کریم کا بےحد احسان ہے کہ اس نے اپنے رسول ( علیہ السلام) ہمیشہ اس کی قوم کی زبان بولنے والے مزاج آشنا معروفات کو سمجھنے والے اور قوم کی تاریخ کے پس منظر اور پیش منظرجاننے والے بھیجے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی ایک طرف پیغمبر کی دل آویز شخصیت اس کا دل موہ لینے والا انداز گفتگو مزید اس کا بےعیب کردار پھر خاندانی عظمت و وجاہت اور پھر اس پر نازل ہونے والی پر ہیبت کتاب اور سب سے بڑھ کر اپنے مخاطبوں کے لیے اس کی ہمدردی و جاں فشانی کے باوجود اگر کوئی شخص یا کوئی قوم پیغمبر کی دعوت پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی بلکہ مخالفت میں بڑھتی چلی جاتی ہے تو ایسے لوگوں کے بارے میں پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر آپ کو ان کے ایمان نہ لانے سے ہرگز پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ ایمان کی دولت ایمان سے بےاعتنا لوگوں کو عطا نہیں کرتا۔ آپ کی کا و شوں میں کوئی کمی نہیں لیکن جو لوگ اپنی لاپرواہی اور بےنیازی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف آنا پسند نہیں کرتے اللہ تعالیٰ بھی ان کی قبولیت کی استعداد کو سلب کرلیتا ہے اس کے قانون میں صرف ان لوگوں کے لیے گنجائش ہے جو اللہ تعالیٰ سے مانگتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ فیصلے اس کی مشیت اور حکمت سے ہوتے ہیں اور جب وہ فیصلہ کرلیتا ہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا نہ کوئی اسے ٹال سکتا ہے۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا (اور انھیں حکم دیا) کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو اور ان کو خدا کے یادگار ایام یاد دلائوں۔ بیشک ان کے اندر ثابت قدم رہنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ 5 لا وَذَکِّرْ ہُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 5) (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا (اور انھیں حکم دیا) کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو اور ان کو خدا کے یادگار ایام یاد دلائو۔ بیشک ان کے اندر ثابت قدم رہنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت سے استدلال اس آیت کریمہ میں پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ انھیں بھی ہم نے اس مقصد کے لیے بنی اسرائیل میں بھیجا تھا کہ وہ انھیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکالیں یعنی انھیں گمراہیوں سے ہدایت کی طرف لائیں اور زندگی کے معاملات میں وہ جن غلطیوں کا شکار ہوچکے ہیں اس کی اصلاح کریں اور اپنی جہالت سے وہ جس طرح اپنا تعلق اپنے اللہ تعالیٰ سے کمزور کرچکے ہیں اسے اسرنو توانا کریں۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے یادگارایام سے انھیں یاددہانی کرائیں۔ ایام اللہ ان دنوں کو کہتے ہیں جن دنوں میں عبرت و نصیحت کا کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کو ماننے والوں پر اس کی طرف سے کوئی غیر معمولی اعلان ہوا ہو یا اس کا انکار کرنے والی کوئی قوم عذاب کا شکار ہوئی ہو۔ ایسے واقعات کے سیاق وسباق اور اسباب کے ذکر سے قوم کو نصیحت کرنے اور عبرت دلانے میں ہمیشہ مددملتی ہے۔ اگر بصیرت گل نہ ہوچکی ہو اور قبولیت سلب نہ ہوچکی ہو تو انسان ہمیشہ انسانی زندگی کے واقعات سے سبق سیکھتا ہے وہ کتابی حقائق سے بھی استفادہ کرتا ہے لیکن اس سے بڑھ کر انسانی واقعات انسانوں کے دکھ اور انسانوں کی خوشیاں اس پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تشنہ نے ٹھیک کہا تھا ؎ کتابوں کا لکھا تو عمر بھر پڑھتے رہے تشنہؔ کبھی وہ بھی پڑھا ہوتا جو دیواروں پہ لکھا ہے مزید فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کی سرگزشت تم دیکھو گے کہ تمہیں اس سرگزشت میں دو کردار آگے بڑھتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ایک وہ جنھوں نے مخالف حالات میں صبر کے دامن کو تھامے رکھا۔ مشکلیں آئیں لیکن ان کے ثبات قدم میں لغزش نہ آئی۔ بڑی سے بڑی آزمائش پیش آئی لیکن انھیں جادہ مستقیم سے نہ ہٹا سکی اور دوسرے وہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا فرمائیں اور انھوں نے نعمتیں پا کر بجائے بگڑنے کے شکر کا راستہ اختیار کیا وہ جیسے جیسے انعامات سے گراں بار ہوتے گئے ویسے ویسے ان کی مقصد سے لگن بڑھتی گئی اور ان کے اندر بجائے سرکشی آنے کے عاجزی اور فروتنی میں اضافہ ہوتا گیا تم اگر ان کی سرگزشت سے اے مکہ والو کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو حق کے سامنے سرکشی اختیار کرنے کی بجائے عاجزی اختیار کرو اور مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ تم ان قریش کی اذیتوں سے ہراساں ہونے کی بجائے صبر کا دامن اور مضبوطی سے تھام لو۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا۔ کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں نہایت برا عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور بیشک اس میں تمہارے رب کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ اَنْجٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَ کُمْ طوَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآ ئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 6) (اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں نہایت برا عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور بیشک اس میں تمہارے رب کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کا اصل سرمایہ صبر اور شکر ہے۔ یہی دو ایسی بنیادی صفات ہیں جس سے باقی صفات جنم لیتی ہیں اور انھیں دونوں صفات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت و تائید نازل ہوتی ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں انھیں صفات کے برگ و بار لانے کے حوالے سے تاریخی مثال کے طور پر بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک ورق الٹا گیا ہے، جس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی ہیں کہ جن کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی نعمت کا بہت بڑا اظہار ہے وہ جن دنوں پیدا ہوئے وہ بنی اسرائیل کے لیے نہایت آزمائش اور تکلیف کے دن تھے۔ لیکن انھوں نے اسے صبر سے گزارا اور اللہ تعالیٰ سے برابر تعلق قائم رکھا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اسی صبر کے نتیجے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کا غیرمعمولی طریقے سے تحفظ ہوا، دشمن کے گھر آپ ( علیہ السلام) کی پرورش کا سامان کیا گیا اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو نشاۃ ثانیہ ملی۔ اور یہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ایک گروہ، ایک بہت بڑی قوم کی صورت اختیار کر پایا۔ پھر ایک وقت آیا کہ ان کے اندر شکر کے جذبات پیدا ہونے کی بجائے ناشکری کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ چناچہ اگلی آیات میں صبر کے ساتھ ساتھ شکر کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ ارشاد فرمایا :
Ayahs 14:7–8

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

(اور یاد کرو جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا تھا کہ اگر تم شکرگزار رہے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہوگا۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم اور وہ سارے لوگ جو روئے زمین پر ہیں ناشکری کروگے تو خدا کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔

وَاِذْتَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۔ وَقَالَ مُوْسٰیٓ اِنْ تَکْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالافَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 7۔ 8) ( اور یاد کرو جب تمہارے رب نے آگاہ کردیا تھا کہ اگر تم شکرگزار رہے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہوگا۔ اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سارے لوگ جو روئے زمین پر ہیں ناشکری کروگے تو خدا کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ ) ان آیات کی تشریح میں صاحب تفیہم القرآن نے جو نوٹ لکھا ہے اسے یہاں ہم افادہ کے لیے نقل کر رہے ہیں۔ اس مضمون کی تقریر بائیبل کی کتاب استثناء میں بڑی شرح و بسط کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔ اس تقریر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی وفات سے چند روز پہلے بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے سارے اہم واقعات یاد دلاتے ہیں۔ پھر تو رات کے ان تمام احکام کو دہراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو بھیجے تھے۔ پھر ایک طویل خطبہ دیتے ہیں جس میں بتاتے ہیں کہ اگر انھوں نے اپنے رب کی فرمانبرداری کی تو کیسے کیسے انعامات سے نوازے جائیں گے اور اگر نافرمانی کی روش اختیار کی تو اس کی کیسی سخت سزا دی جائے گی۔ یہ خطبہ کتاب استثناء کے ابواب نمبر 4۔ 6۔ 8۔ 10۔ 11 اور 28 تا 30 میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے بعض بعض مقامات کمال درجہ موثر و عبرت انگیز ہیں۔ مثال کے طور پر اس کے چند فقرے ہم یہاں نقل کرتے ہیں جن سے پورے خطبے کا اندازہ ہوسکتا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر ” سن اے اسرائیل ! خدا وند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا کے ساتھ محبت رکھ۔ اور یہ باتیں جن کا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔ اور تو ان کو اپنی اولاد کے ذہن نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے ان کا ذکر کرنا “۔ (باب 6۔ آیات 4۔ 7) ” پس اے اسرائیل ! خدا وند تیرا خدا تجھ سے اس کے سوا اور کیا چاہتا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کا خوف مانے اور اس کی سب راہوں پر چلے اور اس سے محبت رکھے اور اپنے سارے دل اور ساری جان سے خدا وند اپنے خدا کی بندگی کرے اور خدا وند کے جو احکام اور آئین میں تجھ کو آج بتاتا ہوں ان پر عمل کرے تاکہ تیری خیر ہو۔ دیکھ آسمان اور زمین اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب خداوند تیرے خدا ہی کا ہے “۔ (باب 10۔ آیات 12۔ 14) ” اور اگر تو خدا وند اپنے خدا کی بات کو جان فشانی سے مان کر اس کے ان سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھے دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو خدا وند تیرا خدا دنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا۔ اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو ملیں گی۔ شہر میں بھی تو مبارک ہوگا اور کھیت میں بھی مبارک ……خدا وند تیرے دشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں تیرے روبرو شکست دلائے گا…… خداوند تیرے انبار خانوں میں اور سب کاموں میں جن میں تو ہاتھ ڈالے برکت کا حکم دے گا…… تجھ کو اپنی پاک قوم بنا کر رکھے گا اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خدا کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی۔ تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر خود قرض نہیں لے گا اور خدا وند تجھ کو دم نہیں بلکہ سر ٹھہرائے گا اور تو پشت نہیں بلکہ سرفراز ہی رہے گا “۔ (باب 28۔ آیات 1۔ 13) ” لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خدا وند اپنے خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ شہر میں بھی تو لعنتی ہوگا اور کھیت میں بھی لعنتی…… خداوند ان سب کاموں میں جن کو تو ہاتھ لگائے لعنت اور پھٹکار اور اضطراب کو تجھ پر نازل کرے گا…… وبا تجھ سے لپٹی رہے گی…… آسمان جو تیرے سر پر ہے پیتل کا اور زمین جو تیرے نیچے ہے لوہے کی ہوجائے گی…… خدا وند تجھ کو تیرے دشمنوں کے آگے شکست دلائے گا۔ تو ان کے مقابلہ کے لیے تو ایک ہی راستہ سے جائے گا مگر ان کے سامنے سات سات راستوں سے بھاگے گا…… عورت سے منگنی تو تو کرے گا لیکن دوسرا اس سے مباشرت کرے گا۔ تو گھر بنائے گا لیکن اس میں بسنے نہ پائے گا۔ تو تاکستان لگائے گا پر اس کا پھل نہ کھا سکے گا۔ تیرا بیل تیری آنکھوں کے سامنے ذبح کیا جائے گا…… بھوکا اور پیاسا اور ننگا اور سب چیزوں کا محتاج ہو کر تو اپنے ان دشمنوں کی خدمت کرے گا جن کو خدا وند تیرے برخلاف بھیجے گا اور غنیم تیری گردن پر لوہے کا جوا رکھے گا جب تک وہ تیرا ناس نہ کر دے …… خدا وند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کر دے گا “۔ (باب 28۔ آیات 15۔ 64)
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی اطلاع نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں۔ یعنی قوم نوح اور عاد اور ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد گزرے، خدا کے سوا جنھیں کوئی نہیں جانتا۔ ان کے رسول ( علیہ السلام) ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے۔ پس انھوں نے (ازراہ تمسخر) اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے۔ اور بولے کہ جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو ہم اس کے بارے میں سخت الجھن میں ڈال دینے والے شک میں ہیں۔

اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ 5 ط وَالَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِہِمْ ط لاَ یَعْلَمُہُمْ اِلاَّ اللّٰہُ طجَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْ ٓا اَیْدِیَہُمْ فِیْ ٓ اَفْوَاہِہِمْ وَقَالُـْوٓا اِنَّا کَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ وَاِنَّا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَیْہِ مُرِیْب۔ (سورۃ ابراھیم : 9) (کیا تمہیں ان لوگوں کی اطلاع نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں۔ یعنی قوم نوح اور عاد اور ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد گزرے، خدا کے سوا جنھیں کوئی نہیں جانتا۔ ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے۔ پس انھوں نے (ازراہ تمسخر) اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے۔ اور بولے کہ جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو ہم اس کے بارے میں سخت الجھن میں ڈال دینے والے شک میں ہیں۔ ) قوم نوح اور عاد کے بعد کی بعض قوموں کا حوالہ ان آیات میں خطاب اگرچہ عام انسانوں سے ہے لیکن روئے سخن مسلمانوں کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ کفار کی طرف سے بڑھتی ہوئی اذیتوں کے باعث مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے اور ان سے یہ کہا جارہا ہے کہ کفار کا رویہ ہزار قابل ملامت سہی لیکن تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تم دنیا میں سب سے نازک کام یعنی حق کی نمائندگی کے لیے اٹھے ہو اور یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لیے ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول ( علیہ السلام) آتے رہے ہیں۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ ہر دور کی امتوں نے اپنی طرف بھیجے جانے والے رسولوں سے وہی سلوک کیا ہے جو مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کر رہے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو ایک تو اس بات سے مطمئن رہنا چاہیے کہ تم اس راستے میں ستائے جانے والے پہلے لوگ نہیں ہو کیونکہ : زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے اور دوسری یہ بات کہ جن لوگوں کی تاریخ تم تک پہنچی ہے جس کا آغاز حضرت نوح (علیہ السلام) کی تاریخ سے ہوتا ہے اور جن میں مشہور قومیں عاد اور ثمودگزری ہیں۔ تم آج بھی ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہو اور ان پر جس طرح اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹا اس کی تفصیلات سینہ بہ سینہ تم تک پہنچ چکی ہیں۔ کیا یہ تاریخ کی آگہی یہ اطمینان دینے کے لیے کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے ستائے ضرور جاتے ہیں لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور نجات انھیں کا نصیب ہوتا ہے۔ اور جو قومیں ان کو ماننے سے انکار کرتی اور انھیں اذیتیں پہنچاتی ہیں انھیں بالآخر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اور ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ چند قومیں ہیں جن کا تذکرہ تم نے قرآن کریم میں پڑھا لیکن یہ مت سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) صرف انھیں قوموں کی طرف آئے اور یہی قومیں انکار کی پاداش میں پکڑی گئیں بلکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اور بھی نجانے کتنی قومیں گزری ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) آئے اور کہیں ان کی دعوت قبول کرلی گئی تو انسانوں کی قسمت سنور گئی اور جہاں اس کا انکار کیا گیا تو بالآخر خدا کے عذاب نے ان کی کمر توڑ دی۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے جس کی وضاحت قرآن کریم نے دوسرے مواقع پر بھی کی ہے کہ انسانوں کی کوئی قابل ذکر بستی یا ملک ایسا نہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا ہو۔ یعنی ہر جگہ انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) آتے رہے۔ البتہ ان میں سے تذکرہ صرف ان رسولوں ( علیہ السلام) کا کیا گیا ہے جو عام طور پر اپنے پیچھے ایک عالمگیر تحریک اور ہمہ گیر اثرات چھوڑ کر گئے ہیں۔ کتنی امتیں ہیں جو منصہ شہود پر ابھریں اور ایک مدت کے بعد فنا ہوگئیں۔ ایسی قوموں کی تاریخ کا ذکر کرنا ظاہر ہے کہ کا رعبث کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ لیکن جن رسولوں کی محنتوں نے امتوں کو بیدار کیا، زمانے کو نئی کروٹ دی اور نسلوں تک کے لیے اثرات چھوڑے اور سینہ بہ سینہ ان کے حالات بہت حد تک منتقل بھی ہوئے، قرآن کریم عموماً انھیں رسولوں اور انھیں کی امتوں کا تذکرہ کرتا ہے بلکہ ان کی زندگیوں کو بعد کی نسلوں کے لیے بطور نمونہ پیش کرتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات کا اظہار بھی کرتا ہے کہ حق کے نمائندہ صرف یہی لوگ نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر قابل ذکر جگہ پر اپنے رسول ( علیہ السلام) بھیجے ہیں تاکہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہماری طرف تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ اور یہ بات بھی کسی حادثے سے کم نہیں کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف آیا ہے تو انھوں نے ہمیشہ ان کا تمسخر اڑایا ہے۔ بعض دفعہ توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں فرمایا گیا کہ انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے، مقصود یہ تھا کہ ان کی حقیقت افروز باتوں کا مذاق اڑایا جائے اور یہ تأثر دیا جائے کہ کتنی لغو اور لایعنی باتیں ہیں جنھیں تم نبوت کے نام سے پیش کررہے ہو حالانکہ ایسی باتیں ایک عام آدمی کی زبان سے زیب نہیں دیتیں۔ یہ ان کا توہین آمیز رویہ سراسر ایک کٹ حجتی اور جہالت کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور دوسرا معنی اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ جیسے ہی پیغمبروں ( علیہ السلام) نے اپنی قوموں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف دعوت دی اور انھیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا نہ صرف کہ کسی اور کے سامنے سر نہیں جھکایا جاسکتا بلکہ کسی کی غیرمشروط اطاعت بھی نہیں کی جاسکتی تو انھوں نے محسوس کیا کہ یہ ایک ایسی بات کہی جارہی ہے جو ہماری بڑائی کے دعوئوں کو کھاجائے گی۔ انھوں نے اپنے پائوں تلے سے زمین ہلتی ہوئی محسوس کی، وہ سمجھ گئے کہ یہ بات محض بات نہیں بلکہ تخت و تاج الٹنے کا ایک نسخہ ہے۔ اس لیے انھوں نے آگے بڑھ کر ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیے۔ یہ ایک محاورہ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ خبردار اب ایک لفظ بھی آگے منہ سے نہ نکالنا، ورنہ زبان گدی سے کھینچ لی جائے گی کیونکہ تمہاری دعوت ممنوعہ علاقے میں داخل ہوچکی ہے اور اس کے بعد خم ٹھونک کر کہا کہ تم جو پیغام لے کے آئے ہو ہم کھلم کھلا اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ہمیں تمہارے اس پیغام کے بارے میں پہلے ہی شک تھا، ہم تمہاری حیثیت کے بارے میں بھی یکسو نہیں تھے۔ لیکن جیسے جیسے تمہاری دعوت آگے بڑھی ہے ہمارے شک و شبہ کی شدت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ تم تو معلوم ہوتا ہے اپنے اندر کچھ سیاسی عزائم بھی رکھتے ہو جنھیں مذہب کے راستے سے تم بروئے کار لانا چاہتے ہو۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے۔ وہ بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک وقت معین تک مہلت دے دے۔ وہ کہنے لگے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو، تم چاہتے ہو کہ تم ہمیں روک دو ۔ ان کی عبادت سے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے۔ پس تم ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا معجزہ لائو۔

قَالَتْ رُسُلُہُمْ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یَدْعُوْکُمْ لِیَغْفِرَلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرَ کُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ط قَالُوْ ٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ بَشَرٌمِّثْلُنَاط تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُاٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 10) (ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے۔ وہ بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک وقت معین تک مہلت دے دے۔ وہ کہنے لگے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو، تم چاہتے ہو کہ تم ہمیں روک دو ۔ ان کی عبادت سے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے۔ پس تم ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا معجزہ لائو۔ ) تعجب انگیز سوال گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفین نے جو کچھ کہا ان کی طرف بھیجے جانے والے رسولوں ( علیہ السلام) نے ان کے جواب میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم ہم سے جو کچھ کہہ رہے ہو اس کا تو مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بارے میں بھی سنجیدہ نہیں ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات میں شک ہے حالانکہ اس بات کو تم بھی جانتے ہو کہ زمین و آسمان کا خالق اس کے سوا کوئی اور نہیں، ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے، ہم تو اسی کی نمائندگی کرتے اور اسی کی بات تم تک پہنچاتے ہیں۔ اور تم جانتے ہو کہ وہ ذات تو سراسر رحیم و کریم ہے جو اس کی طرف بڑھتا ہے، وہ آگے بڑھ کر اسے تھام لیتا ہے۔ وہ تمہیں پکار رہا ہے کہ تم اس پر ایمان لائو، اسے مانو اور پھر اسی سے مانگو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان قبول کرتے ہوئے تمہاری بخشش فرما دے گا اور تمہارے ساتھ مغفرت کا سلوک کرے گا۔ اور اس طرح سے دنیا میں تمہارے قیام میں اضافہ کردے گا۔ وہ مہلت عمل جس کا تعین قوموں کی عملی اور اخلاقی زندگی سے ہوتا ہے جب تم اپنے اعمال و اخلاق درست کرلو گے تو اللہ تعالیٰ زمین پر تمہارے قیام اور مہلت عمل میں اضافہ فرما دے گا۔ اور یہی وہ چیز ہے جو تمہیں عین مطلوب ہے۔ اس کے جواب میں کفار نے کہا کہ تم ہماری قسمت، ہماری عزت اور ہماری نجات کی باتیں کرتے ہو حالانکہ تم ہماری ہی طرح کے انسان ہونے کے سواکچھ نہیں ہو۔ انسان، انسانوں کی قسمتیں بنانے یا بگاڑنے پر قادر نہیں۔ تم درحقیقت ہمیں ہمارے دین سے پھیرنا چاہتے ہو۔ اور تم چاہتے ہو کہ جنھیں ہمارے آبائواجداد پوجا کرتے تھے ہم انھیں چھوڑ دیں۔ لیکن اگر تمہیں اصرار ہے کہ تم واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہو تو پھر کوئی ایسا کھلا کھلا اور روشن معجزہ لے کر آئو جس سے ہمیں یقین ہوجائے کہ تم واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے ہو اور تمہاری پشت پر اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے جسے قبول کرنا ہمارے لیے ازبس ضروری ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی آسکتا ہے۔
Ayahs 14:11–12

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں ( علیہ السلام) نے کہا کہ ہم ہیں تو تمہارے ہی جیسے آدمی، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ ہماری یہ طاقت نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی معجزہ لے آئیں، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے، اور ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کیوں نہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں جبکہ اس نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت بخشی ہے اور ہم اس پر یقینا صبر کریں گے، تم جو بھی ایذا ہمیں پہنچائو گے۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ط وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاتِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْن۔ وَمَاَ لَنَآ اَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنَا سُبُلَنَاط وَلَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ اٰذَیْتُمُوْنَا ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ۔ (سورۃ ابراھیم : 11۔ 12) (ان کے رسولوں نے کہا کہ ہم ہیں تو تمہارے ہی جیسے آدمی، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ ہماری یہ طاقت نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی معجزہ لے آئیں، مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے، اور ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اور ہم کیوں نہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں جبکہ اس نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت بخشی ہے اور ہم اس پر یقینا صبر کریں گے، تم جو بھی ایذا ہمیں پہنچائو گے۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ) قوم کے اعتراضات کا جواب اللہ تعالیٰ کے رسولوں ( علیہ السلام) نے اپنی قوموں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم نے ہم پر یہ طعن توڑا ہے کہ ہم تو تمہاری طرح کے بشر اور انسان ہیں۔ اور بشر اللہ تعالیٰ کا رسول ( علیہ السلام) کیسے ہوسکتا ہے ؟ رسالت ایک عظیم منصب ہے اور بشریت نہایت فروتر مقام۔ یہ دونوں اکٹھے کیسے ہوسکتے ہیں ؟ یہ وہ غلط فہمی ہے جس نے بہت سے لوگوں کو ہدایت کی طرف آنے سے روکا۔ انسان بھی عجیب واقع ہوا ہے، اس کے بگاڑ کا ایک رنگ یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ربوبیت کا دعویٰ کرنے لگتا ہے۔ اور دوسری طرف حال اس کا یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قدر فروتر سمجھتا ہے کہ یہ تصور بھی اس کے نزدیک گناہ ہے کہ نبی بشر ہوسکتا ہے یا بشر نبی ہوسکتا ہے۔ حالانکہ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ آدم بشر تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں مسجودِ ملائک بنایا جبکہ ملائکہ نورانی مخلوق ہیں اور باقی کوئی مخلوق تو ان دونوں مخلوقات سے شان میں بلند نہیں۔ اور مزید یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ( علیہ السلام) انسانوں کی ہدایت کے لیے آتے ہیں اور ہدایت ہمیشہ اپنے ہم جنس سے حاصل کی جاتی ہے کیونکہ ہدایت کے لیے ضروریات کا یکساں ہونا، احساسات کا یک رنگ ہونا اور فہم و شعور کے سرچشموں کا مشترک ہونا ضروری ہے۔ اگر ان بنیادی چیزوں میں فرق ہوگا تو افادہ اور استفادہ ناممکن ہوجائے گا۔ اگر انبیا فرشتے ہوتے تو وہ نہ انسانوں کو نظر آتے اور نہ انسان ان کو دیکھ سکتے۔ نہ انھیں بھوک لگتی کہ وہ روزے میں نمونہ بن سکیں اور نہ انھیں بیماری لاحق ہوتی کہ ان سے صبر سیکھا جاسکے۔ نہ انھیں زخمی ہونے کا ڈر ہوتا کہ ان سے شجاعت و استقامت کا سبق پڑھا جاسکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں ہی سے جس کو اس قابل جانا اسے نبوت دے کر احسان فرمایا۔ اس لیے کفار کا یہ کہنا کہ تم چونکہ انسان ہو اس لیے نبی نہیں ہوسکتے، یہ بےعقلی بھی ہے اور احسان ناشناسی بھی۔ کفار نے دوسری بات یہ کہی تھی کہ تم اگر واقعی پیغمبر ہو تو کھلم کھلا اور واضح قسم کا معجزہ ہمیں دکھائو جس سے ہمیں یقین ہوجائے کہ تم کوئی بڑی قدرتوں کے مالک ہو۔ اس کے جواب میں رسولوں ( علیہ السلام) نے کہا کہ ہم نے ایسی کسی بات کا دعویٰ کب کیا ہے ؟ کہ ہم کوئی غیرمعمولی قوت رکھتے ہیں۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہم پر اترتی ہے۔ وہ انسانی ہدایت کے لیے ہمارے لیے رہنما ہے، ہم اسی کی روشنی میں تمہاری اصلاح کرنے کے لیے اٹھے ہیں تو ہمارا کام تمہیں ہدایت دینا ہے، غیرمعمولی معجزات دکھانا نہیں۔ اس کی قدرت کا سررشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب چاہتا ہے تو ہمارے ہاتھوں کسی بھی غیرمعمولی معجزے کا صدور ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کا دارومدار اس کی مرضی اور اس کی مشیت پر ہے ہم تو صرف اس کے نمائندہ ہیں۔ اس لیے جب وہ چاہے گا تو تمہیں کوئی معجزہ اور نشانی دکھا دے گا۔ لیکن اس کا اظہار یقینا ہمارے ذریعے سے ہوگا تاکہ پتہ چلے کہ ہم واقعی اس کے رسول ہیں۔ رسولوں ( علیہ السلام) کی قوموں نے ہمیشہ اپنے پیغمبروں ( علیہ السلام) کا تمسخر بھی اڑایا اور اذیتیں بھی پہنچائیں۔ اس لیے ان کی باتوں کا جواب دینے کے بعد ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ہم جانتے ہیں کہ تم عجیب و غریب مطالبات ہمیشہ زچ کرنے کے لیے کرتے ہو، ورنہ حقیقت تم سے بھی مخفی نہیں۔ یاد رکھو ہم تمہارے اس رویئے کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی سے رکنے والے نہیں۔ ہم تمہاری ایذا رسانیوں پر صبر کریں گے۔ ہمارا سرمایہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اگلی آیت میں مزید ارشاد فرمایا : کہ تم جو چاہو تو کرو، ہمارا اصل سرمایہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل ہے۔ ہم نے اس دعوت کا کام اسی کے بھروسے پر شروع کیا ہے۔ اب اذیتوں کا مقابلہ بھی اسی کے بھروسہ پر کریں گے۔ ہماری اس دعوت کی کامیابی چونکہ سراسر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسی پر ہم بھروسہ کرنا چھوڑ دیں جبکہ اسی نے ہم کو ہدایت دی اور وہی ہمارے لیے راستے آسان کرتا ہے اور پھر قاعدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں انھیں ہرحال میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ ہدایت بھی اس کے قبضے میں ہے اور دلوں کا ہدایت پر مطمئن ہوجانا اور ہزار مشکلات کے باوجود دل میں شک و ارتیاب کا پیدا نہ ہونا یہ بھی سراسر اسی کے قبضے میں ہے۔ اس راستے کی ہر کامیابی کا سررشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں فیصلے بھی اس کی مرضی سے ہوتے ہیں اور آخرت میں فیصلے بھی اسی کی مرضی سے ہوں گے۔ تو پھر ایک مومن کے لیے اس کے سوا کیا چارہ کار ہے کہ وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور کبھی اس کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

(اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں ( علیہ السلام) سے۔ ہم تمہیں یقینا اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں لوٹنا ہوگا ہمارے دین میں۔ پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور تمہیں ان کے بعد اس سرزمین میں آباد کریں گے۔ یہ انجام ہے ہر اس شخص کا جو میرے سامنے حاضری سے ڈرا، اور میری وعید سے اس نے خوف کھایا۔

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْلَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَاط فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْن۔ وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ ہِمْ ط ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 13۔ 14) (اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں (علیہم السلام) سے۔ ہم تمہیں یقینا اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں لوٹنا ہوگا ہمارے دین میں۔ پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔ اور تمہیں ان کے بعد اس سرزمین میں آباد کریں گے۔ یہ انجام ہے ہر اس شخص کا جو میرے سامنے حاضری سے ڈرا، اور میری وعید سے اس نے خوف کھایا۔ ) کفار کی دھمکی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی معلوم ہوتا ہے کہ انسانی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ انسان جب کسی سچائی یا حقیقت کو نہ ماننے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو شروع شروع میں دلائل کی جنگ لڑتا ہے۔ جب اس میں ناکام ہوتا ہے تو پھر وہ دھمکیوں اور اذیت رسانیوں پر اتر آتا ہے۔ مشرکینِ مکہ بھی یہی کر رہے تھے اور سابقہ امتوں کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتلارہی ہے کہ جب وہ دلائل کی جنگ میں پسپا ہوگئے تو انھوں نے اپنی طرف آنے والے رسولوں ( علیہ السلام) کو ڈرانا دھمکانا شروع کیا کہ تم نے اپنا اگر یہ دعوتی عمل ختم نہ کیا اور تم نے ہماری قوم کے نوجوانوں کو ان کے عقائد سے گمراہ کرنے کا سلسلہ نہ روکا تو ہم اس سرزمین سے تمہیں نکال باہر کریں گے۔ تمہاری دعویٰ یہ ہے کہ ہم نے اس سرزمین کو اپنی بداعمالیوں کے باعث فساد سے بھر دیا ہے، لیکن ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ہم ایک پر عیش زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن تمہاری تبلیغ و دعوت نے ہماری خوشیوں کو مکدر کردیا ہے۔ تمہیں خوشی کی کوئی بات اچھی نہیں لگتی اور ہر بات میں کیڑے نکالنے لگتے ہو۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک بستی یا ایک ملک میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ تم چونکہ کمزور اور اقلیت میں ہو اس لیے ہم کسی نہ کسی دن تمہیں نکال باہر کریں گے۔ یہ وہی صورتحال ہے جیسا کہ قرآن کریم نے قوم لوط کے بارے میں بتایا ہے کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے انھیں ان کی بےحیائی پر ٹوکا اور ان کے خلاف فطرت عمل پر ان کو ملامت کی تو وہ آپس میں اکٹھا ہو کر کہنے لگے کہ آل لوط کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ اپنے آپ کو بہت پاکباز سمجھتے ہیں اور دوسری بات یہ کہی کہ اگر تم ہماری بستی میں رہنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں واپس اپنے دین میں آنا ہوگا۔ یعنی جو خرافات، ہذلیات، لغویات اور جہالت پر مبنی طوراطوار کو انھوں نے اپنا دین بنا رکھا تھا۔ تمہیں اس دین میں واپس آنا ہوگا۔ ان کا گمان یہ تھا کہ نبوت سے پہلے یہ رسول ( علیہ السلام) ہمارے ہی دین پر تھے۔ نبوت کے بعد انھوں نے ہمارے دین کا انکار کرکے ارتداد کا راستہ اختیار کرلیا ہے حالانکہ امرواقعہ یہ ہے کہ پیغمبر نبوت سے پہلے بھی دین جہالت پر نہیں ہوتاوہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی سے پہلے خاموش زندگی گزارتا ہے اور کسی بحث میں مبتلا نہیں ہوتا تو لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس لیے پیغمبروں ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کافروں کی دھمکیوں کی پروا مت کریں۔ تبلیغ و دعوت کے حوالے سے آپ نے اپنا فرض خوب انجام دیا ہے۔ ہم نے انھیں تمہاری دعوت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا، لیکن ان کے رویئے نے یہ ثابت کردیا کہ وہ نصیحت کی بات کو نہیں سمجھتے، اب انھیں مٹا دیا جائے گا اور ان کی جگہ پر ہم تمہیں آباد کریں گے۔ اس لیے کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ جب حق و باطل کی کشمکش ہوتی ہے تو ہم اہل باطل کو زیادہ سے زیادہ مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ پیغمبر ( علیہ السلام) کی دعوت کو اچھی طرح سنیں اور پرکھیں لیکن جب اہل باطل بجائے دعوت حق کو قبول کرنے کے اسے مٹا دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو پھر ہم انھیں مزید مہلت نہیں دیتے۔ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اہل حق نے اپنا فرض کہاں تک انجام دیا ہے۔ اور اگر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ اہل حق اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) کی معیت میں اپنی تمام تر توانائیاں اس راستے میں صرف کرچکے ہیں اور اہل باطل کی اذیت رسانیوں پر انھوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا بلکہ انھیں فکرصرف ایک بات کی رہی کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے تو ہم کسی کمزوری کا شکار نہ ہوجائیں اور وہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی وعید، اس کی ناراضگی اور بالآخر اس کے عذاب سے لرزاں اور ترساں رہے تو پھر ہم ان اہل حق کو اہل باطل کو مٹا کر ان کی جگہ آباد کردیتے ہیں۔ ان کی زمینوں کا انھیں وارث بنا دیتے ہیں اور زمین کے تمام خزانے ان کے حوالے کرکے ان کو زمین کا حاکم بنا دیتے ہیں۔
Ayahs 14:15–17

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور انھوں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش منکر حق نامراد ہوگیا۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

( اس نامرادی) کے بعد جہنم ہے۔ اور پلایا جائے گا اسے خون اور پیپ کا پانی۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ بھرے گا اور حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا۔ اور ہر طرف سے اس پر موت بڑھ رہی ہوگی اور وہ مرنے والا نہ بنے گا۔ اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کے لیے موجود ہوگا۔

وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ مِّنْ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنْ مَّـآئٍ صَدِیْدٍ ۔ یَّتَجَرَّعُہٗ وَلاَ یَکَادُ یُسِیْغُہٗ وَیَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ط وَمِنْ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 15۔ 16۔ 17) (اور انھوں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش منکر حق نامراد ہوگیا۔ ( اس نامرادی) کے بعد جہنم ہے۔ اور پلایا جائے گا اسے خون اور پیپ کا پانی۔ وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ بھرے گا اور حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا۔ اور ہر طرف سے اس پر موت بڑھ رہی ہوگی اور وہ مرنے والا نہ بنے گا۔ اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کے لیے موجود ہوگا۔ ) وَاسْتَفْتَحُوْاکا فاعل کون ہے ؟ وَاسْتَفْتَحُوْا کا فاعل انبیائے کرام بھی ہوسکتے ہیں اور کفار بھی۔ انبیائے کرام کے فاعل ہونے کی صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ جب کفار کی جانب سے اذیت رسانیوں کا سلسلہ ناقابل برداشت حد کو پہنچ جاتا ہے اور کفار انبیائے کرام کو دق کرنے کے لیے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ بھی کرنے لگتے ہیں تو انبیائے کرام پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ جب وہ ان کے ایمان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ یا اللہ ہمارے اور ان کافروں کے درمیان فیصلہ فرما دے یعنی ان پر وہ عذاب نازل فرما جس کے یہ مستحق ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ سورة اعراف میں انبیائے کرام کی دعا نقل کی گئی ہے رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُالْفَاتِحِیْنَ (الاعراف 89) اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ ایسی صورتحال میں اللہ تعالیٰ پیغمبروں ( علیہ السلام) کی دعا قبول فرماتے ہوئے انھیں اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے اور مخالفین پر عذاب نازل فرما دیتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وَاسْتَفْتَحُوْا کا فاعل کفار ہوں۔ اور کفار اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگتے ہیں کہ یا اللہ اگر یہ پیغمبر ﷺ سچے ہیں تو آپ ہم پر عذاب نازل فرمائیے، جس سے یہ بات کھل جائے کہ ہم جھوٹے تھے اور پیغمبر ﷺ سچے۔ چناچہ ان دونوں میں سے صورت کوئی بھی ہو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ معاملہ کچھ بھی ہو اور دعا کسی جانب سے بھی مانگی گئی ہو اس کی قبولیت کے بعد حق و باطل کے فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ چناچہ حق کو غالب کردیا گیا اور باطل کو مغلوب کردیا گیا۔ اہل باطل اس طرح عذاب کا شکار ہوئے کہ ان میں سے ایک ایک شخص جو اپنے آپ کو جبر کی تصویر سمجھتا تھا اور جس نے حق کی دشمنی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا تھا، ان سب کو نامرادی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کی دنیا تباہ کردی گئی، رسوائیاں ان کا مقدر بن گئیں اور یہ لوگ دنیا میں عبرت کا نشان بن گئے۔ لیکن اسی پر بس نہیں، ابھی آخرت کا عذاب ان کے انتظار میں ہے جہاں انھیں جہنم میں پھینکا جائے گا اور جب پیاس کی شدت سے یہ جان کنی میں مبتلا ہوں گے تو انھیں خون اور پیپ ملا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ شدتِ پیاس سے ایک ایک گھونٹ کرکے اسے پینے کی کوشش کریں گے لیکن ان سے نگلا نہیں جائے گا۔ موت کے اسباب ہر طرف سے ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ شدتِ عذاب جان لیوا ہوگی، آگ کی تپش اور جلن ہر چیز کو جلائے دے رہی ہوگی اور پیاس سے انتڑیاں ٹوٹ رہی ہوں گی اور یہ ان تمام ناقابلِ برداشت تکلیفوں سے نجات پانے کے لیے موت کی تمنا کریں گے لیکن انھیں موت نہیں آئے گی۔ اس شخص کی تکلیف اور اذیت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ جسے موت کے سوا کوئی چیز عذاب سے نجات دینے والی نہ ہو لیکن اسے موت بھی نہ آئے۔ غالب نے اس کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے ٹھیک کہا : منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے آیت کے آخری جملے کو پڑھتے ہوئے دل ہول کھانے لگتا ہے کہ ایسے سخت عذاب اور سخت اذیت میں مبتلا ہونا بھی ان کافروں کی اصل سزا نہیں، بلکہ ان کی سزا بھی ان کے انتظار میں ہوگی جسے عذاب غلیظ فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس عذاب کی غلظت اور شدت کا عالم کیا ہوگا۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

ان لوگوں کے اعمال کی تمثیل جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ایسے ہے جیسے راکھ کا ڈھیر ہو جسے سخت آندھی کے دن تند ہوا اڑا کے لے جائے، وہ نہ حاصل کرسکیں گے ان اعمال سے جو انھوں نے کمائے، کچھ بھی۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادِ نِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ ط لاَ یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْ ئٍ ط ذٰلِکَ ہُوَالضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ۔ (سورۃ ابراھیم : 18) (ان لوگوں کے اعمال کی تمثیل جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ایسے ہے جیسے راکھ کا ڈھیر ہو جسے سخت آندھی کے دن تند ہوا اڑا کے لے جائے، وہ نہ حاصل کرسکیں گے ان اعمال سے جو انھوں نے کمائے، کچھ بھی۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ ) مشرکین کے اعمال کی تمثیل اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں خیر و شر کے دونوں جذبے ودیعت کیے ہیں۔ ماحول اور والدین جس جذبے کو جلا دینے کا سامان کرتے ہیں وہی جذبہ دوسرے جذبے پر غالب آجاتا ہے اور انسان کی زندگی اسی کی عکاس بن جاتی ہے۔ اور اگر شعور کی عمر کو پہنچ کر انسان وحی الٰہی کی رہنمائی کو قبول کرلیتا ہے تو اسے اسلامی زندگی نصیب ہوجاتی ہے۔ لیکن جو لوگ وقت کی روا روی میں یا ہَوائے نفس کی پیروی میں زندگی گزارتے ہیں ان میں اسلامی زندگی تو کبھی پیدا نہیں ہوتی البتہ کبھی کبھی عقل اور شعور ان کی دستگیری کرتے ہیں تو وہ انسانی بھلائی کے کاموں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ کبھی تو اس خیال سے کہ ان کی عقل انھیں رہنمائی دے رہی ہے اور کبھی شہرت اور نام کو زندہ رکھنے کی ہوس اور کبھی نیک نامی کو الیکشن میں کیش کرانے کی ضرورت ایسے کاموں کی داعی بنتی ہے۔ چناچہ کتنے ایسے خدا کے منکر یا غلط مذاہب کے ماننے والے ہمیں نظر آتے ہیں جنھوں نے بڑے بڑے رفاہی کام سرانجام دیے۔ اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان لوگوں کے نیک اعمال کا کیا ہوگا، کیا انھیں اس کی کوئی جزاء ملے گی یا نہیں ؟ اس آیت کریمہ میں انھیں کے اعمال کی ایک مثال کے ذریعے وضاحت کی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کے نیک اعمال راکھ کے ڈھیر کی مانند ہیں جن میں قبولیت کی کوئی چنگاری نہیں۔ اعمال کرنے والے اپنے تئیں بڑا سرمایہ جمع کرتے ہیں لیکن اس کی حیثیت راکھ کے ڈھیر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ راکھ کا ڈھیر اس کے سوا اور کیا حیثیت رکھتا ہے کہ اس وقت تک ایک جگہ پڑا رہتا ہے جب تک اس پر کوئی تیز ہوا نہیں چلتی اور جس دن کوئی آندھی اٹھے اور اس کی تیز ہوا کا جھونکا اس کے اوپر سے گزر جائے تو وہ اسے اڑا کر نجانے کہاں کہاں بکھیر دیتا ہے۔ اب ان کا یہ سارا سرمایہ منتشرراکھ کے ذرے ہیں جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں اور جس آندھی نے انھیں ذروں میں تبدیل کیا بلکہ انھیں راکھ کی صورت دی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہوا کفر اور شرک ہے جس کی موجودگی میں کوئی عمل بھی نہ اپنی اصلی شکل اختیار کرتا ہے اور نہ اس کی قبولیت کا کوئی راستہ کھلتا ہے۔ ایسے اعمال چونکہ دنیا ہی کے لیے کیے جاتے ہیں اور دنیوی اغراض ہی سامنے ہوتی ہیں۔ اس لیے ایسے اعمال کو دنیوی ضرورتوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ نیک نامی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ الیکشن میں کیش کرائے جاسکتے ہیں، لوگوں کی رائے بدلنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کے لیے چونکہ ایمان ضروری ہے، اخلاص ضروری ہے اور نیت کو ہر غیر خدا سے پاک کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس کے یہاں ایسے اعمال کی پذیرائی نہیں ہوتی، چاہے وہ اپنی شکل و صورت میں کیسے ہی دل پسند کیوں نہ ہوں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے بھی ایسے ہی کسی احساس کے تحت آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ ابن جدعان نے اپنی زندگی میں بظاہر بڑے بھلے کام بھی کیے تھے، کیا اس کی بخشش نہیں ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، نہیں۔ اس لیے کہ اس نے کبھی اپنے پروردگار سے یہ نہیں کہا تھا کہ یا اللہ مجھے بخش دے۔ اس کے یہ بھلے کام صرف نیک نامی کے حصول کے لیے تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اسے نیک نامی دے دی۔