Ayah 14:37رَبَّنَآ اِنِّیْ ٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَبَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ لا رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْ ٓ اِلَیْہِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ ابراھیم : 37)
(اے ہمارے رب ! میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھرکے پاس لا بسایا ہے۔ اے ہمارے رب ! یہ اس لیے تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس آپ لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنادیں۔ اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔ )
خاندان ابراہیمی کی تاریخ کے چند اوراق
جس زمانے میں آپ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ میں اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا ہے، اس زمانے میں آپ ( علیہ السلام) کی رہائش فلسطین کے علاقے میں تھی جو ملک شام کا نہایت سرسبز علاقہ تھا۔ یہاں کا موسم، یہاں کا سبزہ، یہاں کے پھل اور یہاں کی پیداوار دنیا کے لیے ایک مثال تھی۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یہاں وہ فراوانی تھی کہ دوسرے ملکوں کی ضرورتیں بھی یہاں سے پوری ہوتی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ آپ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو لے کر اس وادی غیرذی زرع میں پہنچیں جہاں بظاہر زندگی بسر کرنے کی کوئی ضرورت میسر نہیں۔ پورے علاقے میں گھاس کی پتی تک نہیں اگتی۔ بارشیں کہیں قسمت سے ہوتی ہیں، دور دور تک کوئی پانی کا چشمہ تک نہیں، کوئی سائے کا سامان نہیں۔ حکم دیا گیا یہاں اللہ تعالیٰ کا گھرتعمیر کرو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا گیا اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو یہیں رہنے کا حکم دیا گیا۔ اور وقتاً فوقتاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خود بھی تشریف لا کر یہاں قیام پذیر رہتے۔ اب اسی شہر کی آبادی کے لیے دعائیں ہورہی ہیں۔ پہلے اس کے لیے امن مانگا گیا اور اب زندگی کی بقاء کا سروسامان مانگا جارہا ہے۔ عرض کیا جارہا ہے کہ الٰہی میں نے اپنی اولاد کا ایک حصہ یہاں لا بسایا ہے لیکن تو جانتا ہے کہ یہاں کوئی چیز نہیں اگتی، تیری رحمت ہے کہ تو نے چاہ زم زم کے نام سے پانی کا ایک سوتا جاری کردیا ہے۔ اس پانی کی برکت سے یقینا آبادی کا امکان پیدا ہوجائے گا۔ اسماعیل کی اولاد تو آہستہ آہستہ پھیلے گی لیکن یہاں سے گزرنے والے قافلوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل فرما دے۔ وہ یہاں اپنا بسیرا کرنا شروع کردیں۔ یہاں بظاہر تو دلچسپی کی کوئی چیز نہیں لیکن اگر تو ان کے دلوں میں اپنے گھر کی محبت پیدا کردے گا تو پھر دکھ اٹھا کر بھی وہ لوگ یہاں رہنا پسند کریں گے۔ اور ساتھ ہی ساتھ انھیں ان کے کھانے کی ضرورت پورا کرنے کے لیے الٰہی ان کو پھلوں کا رزق عطا فرما۔ اس کے قرب و جوار میں کوئی ایسا علاقہ مہیافرما جس میں ان کی ضرورت کے مطابق پھل پیدا ہوسکیں اور اگر ثمرات کو وسیع معنی میں لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی ضرورت کی ہر چیز کی پیداوار یہاں پہنچنے کا سامان فرما۔ چناچہ حیرانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام دعائوں کو قبول فرمایا اور محض اپنے خصوصی فضل سے انھیں وہ سب کچھ دیا جو ان کی ضرورت تھا۔ اس وقت کی دنیا بھی امن کی بری طرح محتاج تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین پر آنے والوں کے دلوں میں اپنے گھر کی ایسی عظمت اور ایسی چاہت پیدا کی کہ بنو جرہم کے قافلے نے جب وہاں پانی کا چشمہ اور ایک ماں بیٹے کا جھونپڑا دیکھا اور ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہ گھر نظر آیا جس کی سادگی دنیا کی خوبصورتیوں کو شرمائے دے رہی تھی تو انھوں نے بھی اپنے خیمے وہاں لگا لیے۔ اس طرح آہستہ آہستہ خیموں کا ایک شہر آباد ہوگیا۔ یہ لوگ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ چناچہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے انھیں میں شادی فرمائی۔ چناچہ یہ آپ کا سسرالی خاندان ٹھہرا۔ اس طرح سے رفتہ رفتہ شہر وجود میں آیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی عظمت اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی تعلیم نے ان کے دلوں میں یہ بات اتار دی کہ اس گھر کے چاروں طرف دور تک حرم کا علاقہ ہے جس میں کوئی جرم نہیں کیا جاسکتا۔ اور کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ حتیٰ کہ کسی جانور کو شکار تک نہیں کیا جاسکتا۔ اور مزید یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے حرمت والے مقرر فرمائے ہیں جن میں تین مسلسل ہیں یعنی ذی القعد، ذوالحج اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب ہے۔ ان چار مہینوں میں کوئی دنگا فساد نہیں ہوسکتا، کوئی لڑائی نہیں لڑی جاسکتی۔ اس طرح سے پورے جزیرہ عرب میں یہ بات مسلم ہوگئی کہ تین مہینے حج کے لیے ہیں اور ایک مہینہ رجب کا عمرہ کے لیے۔ اور انھیں چار مہینوں میں کاروبار بھی کیا جاسکتا ہے۔ چناچہ سال کے باقی آٹھ مہینے تو جیسے کیسے گزرتے لیکن ان چار مہینوں میں پورے جزیرہ عرب میں تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہوتیں اور سب کا رخ اللہ تعالیٰ کے گھر کی طرف ہوتا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے نجانے کہاں کہاں کا رزق اس شہر کے باسیوں کو مہیا فرمایا۔ اور جہاں تک لوگوں میں اس شہر اور اس کے رہنے والوں کے احترام کا تعلق ہے تو اسے اس وقت بھی محسوس کیا جاتا تھا اور آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ آج جبکہ مصروفیات کا ایک ہجوم ہے جس نے انسان کو جکڑ رکھا ہے۔ بایں ہمہ جو شخص ایک دفعہ حج یا عمرہ کر آتا ہے، وہ دوبارہ جانے کی ضرور کوشش کرتا ہے جبکہ وہاں کثرت سے جانے والوں نے ایسی مشکلات پیدا کردی ہیں کہ وہاں نہ عمرہ کرنا آسان رہا ہے اور نہ مناسک حج کی ادائیگی آسان رہی ہے، لیکن عشاق کا قافلہ ہے جس میں کبھی کمی نہیں آتی بلکہ روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے :
کوئی تو بات ہے آخر میکدے میں ضرور
جو دور دور سے میخوار آکے پیتے ہیں
اور ضروریات کی فراوانی کا حال یہ ہے کہ حرمین کے بازار دنیا کے ہر بڑے شہر سے زیادہ آباد ہیں۔ کوئی ضرورت کی چیز اور کوئی پھل ایسا نہیں جو ان بازاروں میں دستیاب نہ ہو۔ اور جہاں تک زمانہ ماضی کا تعلق ہے اس وقت بھی اس شہر کے مکینوں کو خاص ایک مرتبہ حاصل تھا۔ یہ کسی طرف بھی قافلہ تجارت لے کر نکلتے تو کوئی قبیلہ بھی ان سے تعرض کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا بلکہ جس قبیلے کے پاس سے گزرتے وہ راستہ بتانے کے لیے انھیں بدرقہ مہیا کرتا اور لوگ ان کا احترام کرتے صرف اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے متولی ہیں۔ اس لیے اگر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے گی تو اس گھر کا مالک ہم سے ناراض ہوجائے گا۔
اس وادی میں قیام کا مقصد
یہاں ایک بات کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے، وہ یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس شہر میں اپنی اولاد کی ضروریات کے لیے امن بھی مانگا، پھلوں کے رزق کے لیے بھی دعا کی اور یہ بھی گزارش کی کہ اس گھر کو مرجع خلائق بنادے۔ اور اس شہر کے رہنے والوں کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا فرما، لیکن جہاں تک اپنی اولاد کے اس شہر میں قیام کی غرض و غائت کا تعلق ہے اور جس مقصد کے لیے انھیں یہاں لایا گیا ہے وہ صرف ایک چیز ہے کہ وہ یہاں نماز قائم کریں کیونکہ مقصود اگر کھانے پینے کی نعمتوں کا حصول ہوتا اور زندگی کی لذتیں ہوتیں تو وہ فلسطین، شام اور عراق میں زیادہ مہیا تھیں۔ اس کے لیے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہاں رہنے کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے گھر کے مجاور بن کے رہیں۔ اسی کی خدمت بجا لائیں، اسی کو اپنی عبادتوں سے آباد رکھیں۔ اسی کے لیے اقامتِ صلوٰۃ کی وسیع اصطلاح کو استعمال کیا گیا۔ اقامتِ صلوٰۃ نماز پڑھ لینے کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد نظام صلوٰۃ کا قائم کرنا ہے۔ کسی چیز کی اقامت اس کے مالہ وما علیہ کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ عدالت قائم ہوگئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عدالت کی عمارت بن گئی۔ جج کا تقررہوگیا، عملہ وجود میں آگیا، وکلاء آنے جانے لگے، استغاثہ سنا جانے لگا، مدعی اور مدعا علیہ کی ضرورتیں پوری ہونے لگیں اور انصاف ملنے لگا۔ اسی طرح اقامتِ صلوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ مسجدیں بن گئیں، جماعتوں کا اہتمام ہوگیا، موذنوں کا تقرر ہوگیا، خطباء اور مدرسین لگا دیے گئے اور اس پورے نظام کے پیچھے ایک قوت حاکمہ کو بھی مقرر کردیا گیا جو اس کی نگرانی بھی کرے اور اس کی اہمیت کو بھی منوائے۔ بازاروں اور گلی کوچوں میں نمازوں کی پابندی کرانے کے لیے لوگوں کا تقرر کردیا گیا۔ یہ سب کچھ ہوچکنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ ہوگئی۔
اس شہر کے رہنے والوں کو جسمانی اور روحانی ضرورتوں کے مہیا کردینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ شاکر اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو گھاس کے چند تنکے کھا کر اور پانی کے چند گھونٹ پی کر اپنے مالک کی وفاداری میں جان لڑا دیتا ہے۔ یہاں کے رہنے والوں سے بھی یہی تقاضا ہے کہ حالات نامساعد بھی ہوں اور ضروریات کی کمیابی بھی ہو تب بھی اقامتِ صلوٰۃ اور اس گھر کی آبادی میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔
Ayah 14:38رَبَّنَآ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَمَا نُعْلِنُ ط وَمَا یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآئِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 38)
(اے ہمارے رب یقینا تو جانتا ہے جو ہم دل میں چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ )
ادب پہلا قرینہ ہے
اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ پروردگار ہم اپنی جن ضرورتوں کے حوالے سے اور آنے والے دنوں میں اپنی اولاد کے لیے جو کچھ مانگ رہے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ان میں کوئی بات ایسی نہیں جسے تو نہ جانتا ہو۔ ہم جن باتوں کا اظہار کرتے ہیں تو انھیں بھی جانتا ہے اور جن باتوں کے اظہار کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں تو ان سے بھی آگاہ ہے۔ دعا اس لیے نہیں کررہے کہ آپ کے علم میں ان باتوں کو لایا جائے بلکہ اس سے مقصود اپنی عاجزی، اپنی احتیاج اور اپنی سرافگندگی کا اظہار ہے۔ تیری ذات کو جس طرح عطا کرنا زیب دیتا ہے اور یہی تیری پہچان ہے اسی طرح ہمیں مانگنا، عجز کا اظہار کرنا اور اپنی کمزوریوں کو بیان کرنا زیب دیتا ہے اور یہ ہماری پہچان ہے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آدمی بہت کچھ مانگنا چاہتا ہے لیکن بعض دفعہ حدِ ادب مانع ہوتی ہے اور آدمی چاہتے ہوئے بھی نہیں مانگ سکتا، کیونکہ محبت کی دنیا میں ادب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا سب سے بڑی بات ہے۔ کیونکہ :
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
اس لیے پروردگار ہمیں وہ کچھ عطا فرمائیے جو ہمارے لیے مناسب ہو۔ ہم چاہیں اسے مانگ پائیں یا نہ مانگ پائیں کیونکہ تو جانتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا کیا ہے۔ اور ہماری قوت گویائی نے کہاں کہاں ہمارا ساتھ چھوڑا ہے اور ادب کے تقاضے کہاں کہاں مانع ہوئے ہیں۔ اس لیے تو اپنے علم اور کرم کے مطابق ہمارے ساتھ سلوک فرما اور اپنی رحمتوں سے ہمیں نہال فرما دے۔
آیت کا دوسرا جملہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا جواب ہے اور یا آپ کے لیے تسلی کا باعث ہے کہ آپ اطمینان رکھیئے، آپ کا رب آپ کی ہر ادا سے واقف ہے۔ ہرحال کو جانتا ہے۔ جو بات زبان پر ہے اسے سنتا ہے، جو الفاظ سے بیگانہ لیکن دل میں مچل رہی ہے وہ اسے بھی جانتا ہے، وہ آپ کی ضرورت اور اپنی رحمت کے مطابق آپ سے معاملہ کرے گا۔
Ayah 14:39اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ ط اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآئِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 39)
(حمد اور شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب دعائوں کا بہت سننے والا ہے۔ )
سابقہ احسانات کا حوالہ
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بارگاہ ِ الوہیت میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں اور دل پر عجیب کیفیتیں گزر رہی ہیں۔ حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے بھی واقف ہیں اور اس کی بےنیازیاں بھی ان کے سامنے ہیں۔ مانگتے مانگتے خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دعا کی قبولیت میں تردد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ میری سابقہ زندگی میں اس نے جو قدم قدم پر عنائتیں فرمائی ہیں وہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ میرے حال پر ہمیشہ مہربان رہا ہے۔ اس کی عنائتوں کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ بڑھاپے میں جبکہ ہر شخص اولاد سے مایوس ہوجاتا ہے اس نے نہ صرف مجھے اولاد بخشی بلکہ ایسے دو بیٹے عطا فرمائے جو آگے چل کر ملکوں اور قوموں کے لیے وجہ افتخار ثابت ہوں گے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عرب کے جدِامجد کے طور پر یاد کیے جائیں گے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اپنے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے واسطے سے ایک ایسی قوم کا حوالہ بنیں گے جو صدیوں تک قوموں کی امامت کا فریضہ انجام دے گی۔ جس ذات نے اس سے پہلے بےمانگے ایسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں اس کے بارے میں کیسے خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ اب میری گزارشات کو نظراندار فرمائے گا۔ وہ تو ہمیشہ سے دعا کا سننے والا اور ہمیشہ کے لیے دعا قبول کرنے والا ہے۔ اس کا ابررحمت نہ آج تک رحمت سے خالی ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔
Ayahs 14:40–41رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْصلے ق رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآئِ ۔ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَاب۔ (سورۃ ابراھیم : 40۔ 41)
(اے میرے رب ! مجھے نماز کا قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔ اے ہمارے رب ! میری التجا ضرور قبول فرما۔ اے ہمارے رب ! مجھے اور میرے والدین کو اور مومنین کو اس دن بخش جس دن حساب قائم ہوگا۔ )
مقصد میں سرگرم ہونے کی دعا
یہ وہ آیت کریمہ ہے جسے بالعموم مسلمان نماز کے آخر میں دعا کے طور پر پڑھتے ہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نماز میں اپنی اور اپنی اولاد کے لیے سرگرم رہنے کی دعا مانگی ہے، حالانکہ اس سے دو آیتیں پہلے دعا میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ بارِدگر پھر اسی کی دعا کرنا اس کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے، لیکن مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے حضور یہ درخواست کی تھی کہ میں نے اپنی اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس اس لیے لا بسایا ہے تاکہ وہ اقامتِ صلوٰۃ کریں یعنی ان کے یہاں قیام کا مقصد صرف اقامتِ صلوٰۃ ہے۔ اب اسی اقامتِ صلوٰۃ کے بروئے کار لانے کے لیے دعا مانگی جارہی ہے اور دعا میں فعل استعمال نہیں کیا گیا جو کسی عمل کے واقع ہونے پر دلالت کرتا ہے بلکہ اسم صفت لایا گیا ہے جس میں اہتمام اور استمرار کی شان پائی جاتی ہے اور جو عموماً انسان کی طبیعت ثانیہ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے طلب اس بات کی کی جارہی ہے کہ پروردگار مجھے اور میری اولاد کو اس طرح کا بنا دے کہ ہم سے نماز کا اہتمام اس طرح سے ظہور میں آئے جیسے چشمے سے پانی ابلتا ہے، جیسے سورج سے کرنیں پھوٹتی ہیں، جیسے چاند سے چاندنی ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اور صلوٰۃ چونکہ تمام نیکیوں کی جامع نیکی ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایفائے عہد کا جذبہ استوار ہوتا ہے اور اسی سے دن کے پانچ وقتوں میں تجدیدِ عہد ہوتی ہے۔ اس میں ایک مومن ان تمام کیفیات سے گزرتا ہے جو ایک مومن کا سرمایہ ہیں۔ اور اس کی زبان پر وہ تمام تسبیحات جاری ہوتی ہیں جو اس کی بندگی کی علامت ہیں۔ اسی لیے آدمی اپنی فروتنی اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اظہار کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ یہ پوری زندگی کی تعبیر ہے۔ اسی کی اہمیت کے پیش نظر دوبارہ عرض کیا گیا کہ اے ہمارے رب ! ہماری یہ دعا قبول فرمانا۔ کیونکہ اقامتِ صلوٰۃ یعنی اسلامی زندگی کی ذمہ داریاں ادا کرنا ایک نہایت کٹھن کام ہے جو ایک دو دن پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں پوری زندگی مطلوب ہے۔ یقینا اس میں کہیں نہ کہیں کو تاہیاں ہوں گی، کہیں نہ کہیں لغزشیں ہوں گی۔ اس لیے آخر میں اپنی، والدین کی اور مومنوں کی بخشش کے لیے دعا مانگی کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی بخشش اور عفو و درگزر میں جگہ عطا فرمائے۔
اس دعا میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو بھی شریک کیا ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس کی حقیقت یبان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وَمَا کَانَ اِسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبْیِہِ اِلاَّ عَنْ مَوْعِدَۃٍ وَعَدَہَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ اَنَّہٗ عَدُوَّلِلّٰہِ تَبَرًّا مِنْہُ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے معافی طلب کرنا صرف اس لیے تھا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے والد سے استغفار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اور جب آپ ( علیہ السلام) پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو وہ اس کے استغفار سے رک گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اوپر اپنے والدین کے لیے جو دعا مانگی ہے، وہ اس ممانعت سے پہلے کی ہے، لیکن جب آپ ( علیہ السلام) کو روک دیا گیا تو پھر آپ ( علیہ السلام) نے اپنے والد کے لیے کبھی دعا نہیں مانگی۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت یہاں اس لیے بیان کی گئی ہے تاکہ قریش کو معلوم ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر بنایا تھا اور کن امیدوں اور آرزوئوں سے آپ ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہاں ٹھہرایا تھا اور ان کے لیے کیا کیا دعائیں مانگی تھیں۔ اب اگر قریش میں معمولی عقل بھی باقی ہے تو وہ اپنی حالت اور ان دعائوں کو سامنے رکھ کر غور کرسکتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کے لیے جو نعمتیں مانگی تھیں وہ اس مقصد کے ساتھ مشروط تھیں جس کے ایفاء کے لیے انھیں یہاں بسایا گیا تھا، لیکن قریش کا رویہ عجیب ہے کہ ایک طرف نعمتوں پر قبضے کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف ملت ابراہیم کے بنیادی تصور کے پرخچے اڑا دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کو اپنے خیالی معبودوں کی طرف منسوب کرکے مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔
Ayahs 14:42–43وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلاً عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ 5 ط اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ ۔ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُئُ وْسِہِمْ لاَ یَرْتَدُّاِلَیْہِمْ طَرْفُھُمْ ج وَاَفْئِدَتُھُمْ ھَوَآء۔
(سورۃ ابراھیم : 42۔ 43)
(اور یہ خیال مت کرو کہ اللہ تعالیٰ بیخبر ہے ان کرتوتوں سے جو یہ ظالم کررہے ہیں۔ وہ تو انھیں ڈھیل دے رہا ہے اس دن کے لیے جس میں نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، وہ سر اٹھائے ہوئے بھاگ رہے ہوں گے، ان کی پلکیں جھپکنے نہیں پائیں گی اور ان کے دل اڑے جارہے ہوں گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ ۔ شخص البصر سے ہے۔ اس کا معنی ہے نگاہ کا ٹکٹکی لگ جانا، نگاہوں کا پھٹے کا پھٹا رہ جانا، مُھْطِعِیْنَ ۔ ہطع۔ ھطوعا سے ہے، اس کا معنی ہوتا ہے ڈرتے اور کانپتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھتے جانا۔ المقنع راسہ اس آدمی کو کہتے ہیں جو اپنا سر اٹھائے ہوئے ہو۔
آنحضرت ﷺ کو تسلی
آیت میں خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہے، لیکن اس میں جو شدید عتاب ہے اس کا تعلق قریش سے ہے۔ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ قریش جو اذیت رسانیوں میں روز بروز دلیر ہوتے جارہے ہیں اور آپ ﷺ کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ راہ راست کی طرف راغب نہیں ہوتے بلکہ آپ ﷺ کا منہ چڑاتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور اس پر پروردگار انھیں بظاہر کوئی سزا نہیں دے رہا ہے تو آپ ﷺ یہ خیال نہ کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرتوتوں سے واقف نہیں۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں ان کی ایک ایک بات اور ایک ایک حرکت اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہے۔ ہماری طرف سے گرفت میں تاخیر اس لیے نہیں کہ ہم انھیں معاف کردینا چاہتے ہیں بلکہ تاخیر اس لیے ہے کہ ہم انھیں ایک سخت ترین عذاب کی طرف ڈھیل دیتے ہوئے لے جارہے ہیں اور وہ عذاب ایسا ہولناک ہوگا کہ اسے دیکھتے ہی ان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی اور یہ سر اٹھائے ہوئے بےقابو ہو کر بھاگے چلے جارہے ہوں گے۔ اور انھیں اتنا ہوش نہیں ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو روک سکیں یا اپنا جائزہ لے سکیں۔ خوف کی گرفت ان کیے تمام حواس پر غالب آچکی ہوگی۔ ان کی آنکھیں جھپکنے سے عاجز ہوجائیں گی اور دل کے احساسات دہشت کی گرفت میں اپنی اصل حیثیت کھو چکے ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کا نقشہ کھینچا جارہا ہے جب لوگ میدانِ حشر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے اور کفار کی بھاگتے ہوئے یہ کیفیت ہوگی جس کی منظرکشی کی گئی ہے جنھیں اس آنے والے دن کا یقین نہیں، وہ تو ممکن ہے محض اس کو ڈراوا سمجھ کر نظرانداز کردیں لیکن جس کے سامنے قیامت اور حشر حقیقتِ ثابتہ ہے اس کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا میں پکڑنے کی بجائے آخرت تک انھیں مہلت کیوں دی گئی۔
Ayah 14:44وَاَنْذِرِالنَّاسَ یَوْمَ یَاتِیْہِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ لا نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ط اَوَلَمْ تَکُوْنُـْوٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَالَکُمْ مِّنْ زَوَالٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 44)
(اور خبردار کیجئے لوگوں کو اس دن سے جس دن ان پر عذاب آدھمکے گا تو یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت قبول کرلیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے… کیا تم اس سے پہلے قسمیں نہیں اٹھایا کرتے تھے کہ تمہیں یہاں سے کہیں جانا نہیں۔ )
آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آج یہ کفار قریش اگر آپ ﷺ کی بات مان کے نہیں دے رہے تو آپ ﷺ اس کی پرواہ نہ کریں۔ البتہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے آنے والے عذاب سے ضرور ڈرائیں۔ اور انھیں اچھی طرح باخبر کردیں کہ عذاب کا آنا تم سے دور نہیں لیکن تمہیں اندازہ نہیں کہ اس دن تمہاری بےبسی کس حال کو پہنچ چکی ہوگی۔ عذاب کا پہلا جھٹکا لگتے ہیں تمہاری یہ رعونت ہوا ہوجائے گی اور تم اللہ تعالیٰ سے عاجزی کرنے لگوگے کہ ہمیں ایک مختصر سی مدت کے لیے مہلت دے دی جائے۔ یعنی ہمیں مزید کچھ دن جینے کا موقع دیا جائے تاکہ ہم آپ کی دعوت کو قبول کرلیں کہ آپ نے سالوں تک جس بات کی طرف ہمیں بلایا ہے اور ہم نے اس کی پرواہ نہیں کی اس وقت تم اس کے لیے مہلت مانگو گے کہ ہمیں زندگی کا ایک اور موقع دیا جائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس دعوت کو جسے پیغمبر لے کر آئے ہیں اسے قبول کرلیں اور رسولوں ( علیہ السلام) کی پیروی کریں۔ لیکن اس کے جواب میں پروردگار ارشاد فرمائے گا کہ آج تم مزید مہلت مانگتے ہو، کل تک تمہاری حال یہ تھا کہ تمہیں دنیا سے چلے جانے کا یقین نہیں آتا تھا اور تم اس بات کو باور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ کبھی تمہیں بھی زوال آسکتا ہے بلکہ تم قسمیں کھا کھا کے یہ کہتے تھے کہ جس آنے والی زندگی سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ ایک بہکاوے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور تم کسی قیمت پر اپنی ضد سے ٹلنے والے نہیں تھے، اب آخر تمہاری وہ قسمیں اور وہ ڈینگیں کہاں گئیں جس نے تمہیں دنیوی زندگی میں نہ جانے کیا بنا رکھا تھا۔
Ayah 14:45وَّسَکَنْتُمْ فِی مَسٰکِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُـْوٓا اَنْفُسَھُمْ وَتَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنَا بِہِمْ وَضَرَبْنَا لَکُمُ الْاَمْثَالَ ۔ (سورۃ ابراھیم : 45)
(اور تم ان لوگوں کی (متروکہ) بستیوں میں آباد رہے ہو جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے اور یہ بات تم پر خوب واضح ہوچکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا برتائو کیا تھا، اور ہم نے بھی بیان کی تھیں تمہارے لیے طرح طرح کی مثالیں۔ )
تاریخ کی یاددہانی
کفار کی آہ و بکاہ اور زندگی میں مہلت دینے کی درخواست پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم تو اس طرح درخواست پیش کررہے ہو جیسے تم اچانک پکڑے گئے ہو، حالانکہ ہر آنے والے رسول ( علیہ السلام) نے تمہیں قیامت کی خبر دی اور دنیا کی بےثباتی اور تمہاری زندگیوں کی ناپائیداری کا ہمیشہ تمہیں یقین دلایا اور مزید یہ کہ تمہارے سامنے ابھی تک ان آبادیوں کے کھنڈرات بکھرے ہوئے ہیں اور جن میں سے بعض آبادیوں میں تم سکونت بھی رکھتے ہو جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آچکا ہے اور جو اپنی بداعمالیوں کے باعث اپنے ہولناک انجام کو پہنچیں۔ ان کی تاریخ دیکھ کر اور ان کے حالات سن کر یہ جاننا کوئی مشکل نہیں تھا کہ تمہیں بھی ایک دن ایسے حالات سے سابقہ پیش آئے گا۔ لیکن تم نے کسی چیز کو درخوراعتنا نہ سمجھا اور آج اس کا انجام تمہارے سامنے ہے۔
Ayah 14:46وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ وَعِنْدَاللّٰہِ مَکْرُھُمْ ط وَاِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَالُ ۔
(سورۃ ابراھیم : 46)
(اور انھوں نے اپنی ساری چالیں چلیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی چالوں کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی چالیں ایسی تھیں کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جاتے۔ )
حق و باطل کی کشمکش میں اہل باطل نے کبھی ایسانھیں ہوا کہ اپنے ترکش کا کوئی تیر چلانے سے روک لیا ہو اور اپنی کوئی ایسی تدبیر جس سے اسلامی قوت کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہو اسے بروئے کار لانے سے احتراز کیا ہو۔ ان کے دارالندوہ میں مشورے بہت سی زندگیوں کی تجربات کا نچوڑ اور بہت سے عقلمندوں کی کمال عقل کا ظہور ہوتے تھے۔ وہ اپنے تئیں خیال کرتے تھے کہ ہماری اس تدبیر کا جواب کسی سے ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور اس کی تدبیروں کے سامنے ان کی تمام تدبیریں دھری رہ گئیں۔ اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے حق کو سرخرو کیا اور باطل کو رسوا کیا۔
Ayah 14:47فَلاَ تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مَخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔
(سورۃ ابراھیم : 47)
(آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ خیال نہ کیجئے کہ وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ بڑا زبردست ہے، بدلہ لینے والا ہے۔ )
بارِدگر تسلی
آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لیے ایک تو سابقہ آیت میں یہ فرمایا گیا کہ آپ ان ظالموں کی تدبیروں اور سازشوں سے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ ان لوگوں نے ہر دور میں ایسی ہی چالیں چلیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت آئی تو ان کی ساری تدبیریں اکارت ہو کے رہ گئیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد کرتا ہے۔ انا لننصر والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا پروردگار کا یہ وعدہ آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ آپ یہ خیال نہ کریں کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف بھی جاسکتا ہے۔ البتہ وہ یہ بہتر جانتا ہے کہ پیغمبر ( علیہ السلام) اور اس پر ایمان لانے والوں کی مدد کا وقت کونسا ہے۔ جیسے ہی وہ وقت آئے گا تو پھر آپ دیکھیں گے کہ اس کی ہیبت اور غلبے کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکے گا اور جب وہ انتقام لے گا تو حق و عدل کا کوئی دشمن ایسا نہیں ہوگا جو اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچے۔
Ayah 14:48یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِالْقَھَّار۔
(سورۃ ابراھیم : 48)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (دو سرے آسمان سے بدل دیے جائیں گے) اور سب لوگ حاضر ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو ایک ہے اور سب کو سنبھالنے والا ہے۔ )
جس طرح ایک ہمدرد و غمگسار باپ اپنے بگڑے ہوئے بیٹے کو راہ راست پر لانے کے لیے کبھی پیرایہ بیان بدلتا ہے اور کبھی لہجہ تبدیل کرتا ہے، کبھی الفاظ کو شہد میں ڈبو کے نکالتا ہے اور کبھی اسے خون جگر کی آب دیتا ہے۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح بگڑا ہوا بچہ یا نوجوان بات کو سمجھنے کے لیے آمادہ ہوجائے۔ پروردگار اپنے بندوں پر ماں باپ سے بھی زیادہ رحیم و کریم ہے اور اس کے پیغمبر اسی رحم و کرم کے عکاس ہوتے ہیں۔ اس لیے ان پر جو کتاب اترتی ہے وہ ان تمام اوصاف کی غماز ہوتی ہے۔ چناچہ پیش نظر آیات میں بھی ہم کچھ ایسی ہی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ کبھی دنیا ہی میں آنے والے عذاب کا حوالہ دیا جارہا ہے، کبھی اپنے قانون اور اپنی سنت کے طرف اشارہ کرکے قریش کو توجہ دلائی جارہی ہے اور کبھی قیامت کے تذکرے اور اس دن پیش آنے والے حالات سے طبیعتوں کو نرم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں دعوتی تسلسل ہی کا ایک پیرایہ بدل کر ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ تم ہزار انکار کرو لیکن یہ بات انکار سے ٹل نہیں سکتی کہ بہرحال موت آئے گی۔ اور ایک ہمہ گیر موت قیامت کی صورت اختیار کرجائے گی۔ اس دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی اور تمہیں اپنی زندگی کے اعمال کی جواب دہی کے لیے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے گا۔ کاش تم اس دن اپنی بےبسی، اجنبیت اور تنہائی کو محسوس کرسکو کہ تمہارے پائوں تلے جو زمین ہوگی وہ، وہ زمین نہیں ہوگی جس سے تم دنیا میں مانوس رہے ہو۔ اور وہ آسمان نہیں ہوگا جس سے برستی ہوئی روشنی اور اترتے ہوئے حسن کو تم دیکھنے کے عادی ہو۔ یہ تو دنیا ہی اور ہوگی۔ ہر چیز بدل دی جائے گی۔ اور پھر اس دن اپنی قبروں سے نکلنے والے اور میدانِ حشر کی طرف بڑھنے والے اس طرح بےمحابا بڑھیں گے کہ نہ کوئی مددگار ساتھ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی، نہ کوئی دلجوئی کرنے والا اور نہ کوئی سہارا دینے والا۔ واسطہ ہوگا تو صرف ایک اللہ تعالیٰ سے، جو اپنی الوہیت اور حاکمیت میں یکتا ہوگا۔
Ayahs 14:49–51وَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ۔ سَرَابِیْلُھُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّار۔ لِیَجْزِیَ اللّٰہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ ط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
(سورۃ ابراھیم : 49۔ 50۔ 51)
(اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے، زنجیروں میں جکڑے ہوئے ان کے لباس تارکول کے ہوں گے۔ اور ان کے چہرے کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی تاکہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے ہر جان کو اس کی کمائی کا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکانے والا ہے۔ )
اندازہ فرمایئے کہ پروردگار تو حاکمیت کے جلال میں ہوگا اور پیش ہونے والے انسان مجرموں کی صورت زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ ان کے گلے میں طوق بھی ہوں گے تو یہ بھی غلط نہیں، کیونکہ اصفاد کا لفظ زنجیروں، بیڑیوں اور طوقوں سب پر بولا جاتا ہے۔ نہ اپنی مرضی سے چل سکیں گے، نہ سر اوپر اٹھا سکیں گے، نہ آسانی سے حرکت کرسکیں گے اور ذلت کا عالم یہ ہوگا کہ ان کا لباس تارکول کا ہوگا۔ سرابیل، سر بال کی جمع ہے۔ یہ قمیض کو بھی کہتے ہیں اور لباس کو بھی۔ اور قطران گندھک پر بھی بولا جاتا ہے، لیکن عام طور پر تارکول پر بولا جاتا ہے۔ اور یہ دونوں ہی آتش پذیر مادے ہیں کہ ایک طرف تو شدت عذاب انتہا کو پہنچی ہوگی اور دوسری طرف ذلت کی بھی کوئی انتہاء نہیں ہوگی۔ یہ دراصل بدلہ ہوگا ہر شخص کے اعمال کا۔ کیونکہ وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مسجودِ ملائک بنایا لیکن اس نے اپنے آپ کو اس حد تک ذلیل کیا کہ بتوں کو اپنا مسجود بنا لیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے عزت راس نہ آئی اور ذلیل ہو کر اس نے خوشی محسوس کی۔ جس شخص نے زندگی میں اپنے لیے یہ رویہ اختیار کیا اسے قیامت کے دن یقینا ایسی ہی سزا ملنی چاہیے تھی۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ شدت و ذلت کا عذاب اربوں کھربوں مخلوق کو دیا جارہا ہوگا جبکہ ابھی اس کا تفصیلی حساب ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ حساب کب تک ہوسکے گا۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس کا فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔ اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے محض اس بات کو قریب الفہم کرنے کے لیے فرمایا کہ اس سرعت حساب کو یوں سمجھو کہ صبح حساب شروع ہوگا اور دوپہر تک ختم ہوجائے گا۔
Ayah 14:52ھٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنْذَرُوْا بِہٖ وَلِیَعْلَمُـْوٓا اَنَّمَا ھُوَاِلٰـہٌ وَّاحِدٌ وَّلِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 52)
(یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ اس کے ذریعے انھیں خبردار کردیا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی ایک معبود ہے تاکہ عقلمند لوگ اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ )
آخری پیغام
یہ قرآن تمام نوع انسانی کے لیے آخری پیغام ہے جسے قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ موعظۃ من ربکم فرمایا ہے۔ انسانوں کی ہدایت اور ان کی بھلائی کے لیے اس سے بہتر کوئی نسخہ ٔ شفا نہیں۔ ان کی تمام تر خرابیوں کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اِلٰہ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور یا اسے اِلٰہ مان کر دوسری قوتوں کو اس کا شریک بناتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی تار تار ہو کر رہ گئی۔ اب اس کی بقاء اور سدھار کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو ایک ہی اِلٰہ، ایک ہی معبود، ایک ہی مشکل کشا، ایک ہی ہادی، ایک ہی رہنما، ایک ہی پرورش کرنے والا اور ایک ہی دنیا اور دین کے لیے رہنمائی دینے والا تسلیم کرلیا جائے۔ اور انسان عاجز ہو کر اس کے آستانے سے وابستہ ہوجائے۔ اور اس کے عقل و دانش کے پیکر بھی یہ تسلیم کرلیں کہ تمہاری عقل کو غذا بھی وہیں سے مل سکتی ہے۔ اور جہاں تمہاری عقل سپرانداز ہوجاتی ہے، اس دنیا کی رہنمائی بھی اس کو وہیں سے مل سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ :
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری