15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsروح القرآن

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

ال ر … یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی۔

الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ الحجر : 1) (ال ر … یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی۔ ) الٓرٰ… حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس پر ہم کسی حد تک تفصیل سے سورة البقرہ کے آغاز میں عرض کرچکے ہیں۔ اس لیے اب اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ آیت کریمہ اس سورت کی مختصر تمہید ہے جس کے فوراً بعد اصل خطبہ شروع ہوگیا ہے۔ اس تمہید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس سورت کی آیات جو تمہارے سامنے ہیں یہ الکتاب کی آیات ہیں، یعنی اس کتاب کی جس کا پہلی کتابوں میں پروردگار نے وعدہ فرمایا تھا کہ انسانی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مفصل کتاب نازل فرمائیں گے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت اس کتاب کا حصہ ہے یعنی قرآن مجید کا کہ جو اپنی ذات میں مکمل کتاب کہلانے کی مستحق ہے۔ باقی جتنی کتابیں بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتاری گئی ہیں ان کی عظمت اور افادیت میں کوئی کلام نہیں۔ البتہ اس کتاب کے مقابلے میں ان کی حیثیت اس کتاب کے ابواب کی ہے۔ کیونکہ ان میں سے کسی کتاب میں بھی نہ آج کے مسائل کا ذکر ہے اور نہ ان کے حل کا اور نہ اس کے کسی باب میں تکمیلی شان پائی جاتی ہے۔ قرآن مبین کا مفہوم اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ یہ قرآن مبین کی آیات ہیں۔ قرآن مبین کا معنی ہے واضح قرآن، جس کے سمجھنے میں کوئی الجھن اور دشواری نہ ہو۔ چناچہ جب ہم قرآن کریم کو پڑھتے ہیں اس کی بہت سی صفات میں سے یہ صفت بہت نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ قرآن کریم نے جن باتوں کو ایمانیات کا درجہ دیا ہے اور جن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے اور جن باتوں پر ہدایت کا دارومدار ہے اور جو انسانی زندگی میں کسی نہ کسی اہمیت کی حامل ہیں قرآن کریم جب انھیں بیان کرتا ہے تو اس کا بیان نہایت دلآویز، دل کو موہ لینے والا، الفاظ میں شان و شوکت کا حامل اور معنی میں دل میں اترجانے والا ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم ایسی زبان ہے جو نہایت آراستہ و پیراستہ اور شگفتہ زبان ہے۔ قدرت نے آج تک اس پر کہنگی کی پرچھائیں نہیں پڑنے دی۔ اس کی فصاحت و بلاغت آج تک معجزانہ شان لیے ہوئے ہے۔ وہ مشکل سے مشکل بات کو بیان کرتے ہوئے بھی الفاظ سے کھیلتا ہوا نہیں گزرتا۔ اس کی زبان عربی مبین ہے اور اس کا بیان، بیانِ مبین ہے۔ اس کی ایک ایک بات اس کی صداقت کی دلیل ہے۔ اس کی اندرونی شہادتیں اس قدر مکمل ہیں کہ اسے کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود جو لوگ اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے لیے معجزات کی فرمائش کرتے ہیں وہ دراصل حقیقت کے منکر ہیں اور اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

وہ وقت آئے گا جب یہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

رُبَمَا یَوَدُّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 2) (وہ وقت آئیں گے جب یہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔ ) رُبَمَاکی تحقیق رُبَّ حرف جار ہے اور یہ اسم پر داخل ہوتا ہے اور جب اسے فعل پر داخل کرنا ہو تو اس کے ساتھ مَاکافۃ لگا دیتے ہیں۔ اس طرح رُبَمَا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد یہ فعل پر بھی داخل ہوسکتا ہے۔ رُبَّقلت کے معنی پر دلالت کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے یا کثرت پر دلالت کرنے کے لیے۔ علمائِ نحو کا اس مسئلہ پر کافی اختلاف ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اس کی اصل وضع معنی قلت کے لیے ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ کثرت کے معنی پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس آیت میں کثرت کے معنی ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ علامہ ابوحیان کا پسندیدہ مذہب یہ ہے کہ رُبَّ محض اثباتِ شے پر دلالت کرتا ہے۔ قلت و کثرت کا مفہوم سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے۔ رُبَّ اگرچہ ماضی پر ہی بکثرت داخل ہوتا ہے لیکن یہ سمجھ لینا کہ یہ مضارع پر داخل نہیں ہوسکتا، غلط ہے۔ مضارع پر بھی داخل ہوتا ہے لیکن بہت کم مواقع پر۔ کافروں کا پچھتاوا اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آج یہ مکہ کے سربرآوردہ لوگ غرورورعونت کے ساتھ اس کتاب کا انکار کررہے ہیں۔ اسے سننے کے روادار نہیں۔ جب پڑھی جاتی ہے تو مذاق اڑاتے ہیں لیکن بہت جلد ایسے وقت آئیں گے جب یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہم نے سرِ تسلیم خم کردیا ہوتا، کاش ہم ایمان لے آئے ہوتے اور کاش ہم نے اسلام قبول کرلیا ہوتا۔ یہ وقت دنیا میں بھی آئیں گے اور آخرت میں بھی آئیں گے۔ فتح مکہ کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ نے مکہ سے ایک فاصلے پر پہنچ کر رات کو جگہ جگہ آگ جلانے کا حکم دیا تو یوں معلوم ہوا کہ جیسے پورا جنگل آگ میں جل اٹھا ہے اور اس نے مکہ کا محاصرہ کرلیا ہے۔ مکہ کے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے نکل کر اس آگ کو دیکھنے لگے لیکن مکہ سے نکلنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ بعض لوگوں نے آگے بڑھ کر اس آگ کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی، انھیں میں ابوسفیان بھی تھے۔ حضرت عباس ( رض) غالباً پہرے پر تھے کہ انھوں نے ابوسفیان کو دیکھ لیا اور اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ تو آنحضرت ﷺ نے ابو سفیان سے پوچھا کہ کیا تمہیں ابھی بھی یقین نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ انھوں نے باوجود اس کے کہ ابھی وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے جواب دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا، آج وہ ہمارے کام آتا۔ اس جواب میں کیا یہ تمنا مضمر محسوس نہیں ہوتی کہ کاش ہم مسلمان ہوچکے ہوتے۔ اسی طرح فتح مکہ کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے کعبۃ اللہ کے دروازے میں کھڑے ہو کر قریش کو خطاب فرمایا تو جب آپ ﷺ نے ان سے یہ سوال کیا کہ بتائو آج میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں تو کیا ان میں سے ایک ایک شخص دل میں یہ خیال نہیں کررہا تھا کہ کاش ہم مسلمان ہوتے، ہمیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر اس بات کی تمنا کریں گے۔ طبرانی نے حضرت جابر ( رض) سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے کئی گنہگار دوزخ میں جائیں گے۔ کچھ عرصہ بعد کافر انھیں طعنہ دیں گے کہ تم تو اپنے آپ کو مسلمان کہا کرتے تھے، لیکن تمہارا انجام بھی ہم سے مختلف نہیں۔ تمہارے ایمان نے تمہیں کوئی نفع نہ دیا۔ چناچہ ایک وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ ان گنہگاروں کو دوزخ سے نکالنے کا حکم دیں گے۔ چناچہ جیسے ہی یہ دوزخ سے نکلیں گے کافر بھی کوشش کریں گے کہ ہم ان کے ساتھ نکل جائیں، لیکن مسلمانوں کے نکلتے ہی دروازے بند کردیے جائیں گے۔ اس وقت کافر چیختے ہوئے کہیں گے، کاش ہم مسلمان ہوتے، تو اپنی کمزوریوں کی سزا بھگتنے کے بعد ہمیں بھی یہاں سے نکلنے کی اجازت مل جاتی۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

چھوڑ دو انھیں وہ کھائیں پئیں اور عیش کریں اور غافل رکھے انھیں جھوٹی امید عنقریب جان لیں گے۔

ذَرْھُمْ یَاْکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا وَیُلْھِھِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْن۔ (سورۃ الحجر : 3) (چھوڑ دو انھیں وہ کھائیں پئیں اور عیش کریں اور غافل رکھے انھیں جھوٹی امید عنقریب جان لیں گے۔ ) دین سے بیزاری کا حقیقی سبب جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ اپنے کفر پر پچھتائیں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش ہم نے اسلام کا راستہ اختیار کیا ہوتا لیکن آج آپ ﷺ جیسی عظیم شخصیت، آپ ﷺ جیسا عظیم پیغمبر، آپ ﷺ جیسی دعوت و نصیحت اور آپ ﷺ جیسی گہری ہمدردی و موعظت کے باوجود یہ لوگ آپ ﷺ کی بات سن کے نہیں دیں گے کیونکہ آپ ﷺ کی دعوت زندگی کے بارے میں گہری بصیرت پر مبنی ہے۔ آپ ﷺ ایک ایسی بات کی دعوت دے رہے ہیں جو اس طلسم رنگ و بو کی حقیقت کو جانے بغیر سمجھ نہیں آسکتی۔ حقیقت شناسی تو بہت دور کی بات ہے یہ لوگ ابھی تک بچپنے سے باہر نہیں نکلے۔ جس طرح ایک بچہ زندگی کی کسی حقیقت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اسے دلچسپی ہوتی ہے تو کھانے پینے کی چیزوں میں، مٹھائیوں میں یا کھلونوں میں، کیونکہ وہ زندگی کو اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ یہ ایک کھیلنے کا موقع ہے، دل بستگی کے دن ہیں جو جی میں آجائے اسے حاصل کرنے کی ضد ہے اور ہر چیز پر کھلونے کی طرح قبضہ کرنے کا شوق ہے، ہر چیز کو ہتھیالینے کی ہوس ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کا زندگی کے بارے میں یہ تصور ہوگا وہ تو ظاہری زندگی کے لڑکپن سے بھی نکل نہیں پاتا، چہ جائیکہ باطنی اور معنوی زندگی کا سفر طے کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ زندگی چند حقائق کا نام ہے جس میں خوبصورتیاں بھی ہیں اور تلخیاں بھی، جس میں کچھ حاصل کرنے کی خواہشیں بھی ہیں اور کچھ کھو دینے کے حوصلے بھی۔ اس میں کچھ موہوم آرزوئیں بھی ہیں اور کچھ اولوالعزمیاں بھی۔ اس میں کامیابیوں کی رفعتیں بھی ہیں اور ناکامیوں کی عبرتیں اور حسرتیں بھی۔ یہ درحقیقت اپنے آپ کو کچھ بنانے کے دن ہیں۔ ایک آنے والی دنیا کی تیاری کے دن ہیں۔ اس میں شعور اور عقل کا قدم قدم پر امتحان بھی ہے۔ اور امیدوں اور آرزوئوں کا ہیجان بھی۔ زندگی کے ہر مرحلے پر غور و فکر کی دعوت ہے اور سوچ کے دائرے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اس رنگا رنگ زندگی سے قوس قزح تو بنانا چاہتا ہے اور زندگی کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنا تو چاہتا ہے لیکن اس کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرنا نہیں چاہتا۔ اور حقوق و فرائض کے تصور سے بھی دور بھاگتا ہے۔ ایسا شخص یا ایسی قوم اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ( علیہ السلام) کی دعوت سے کیا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ اس لیے نہایت فصاحت و بلاغت سے فرمایا کہ یہ لوگ اگر آپ ﷺ کی دعوت پر کان نہیں دھرتے تو آپ ﷺ کو اس پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ انھوں نے اپنے اندر کے وہ تمام سوتے خشک کردیے ہیں جہاں سے پیغمبر کی دعوت کی قبولیت کی استعداد ابلتی ہے اور عقل و خرد کے وہ تمام پیمانے توڑ ڈالے ہیں جس میں خیر و شر اور حق و باطل کے حقائق تولے جاتے ہیں۔ البتہ ایک فکرمندی کی بات ضرور ہے کہ انسانیت کا یہ قافلہ نہ پہلے رکا ہے اور نہ اب رکے گا۔ لیکن ان کی قسمت دیکھ کر دل ڈوبنے لگتا ہے کہ جس طرح یہ زندگی گزار رہے ہیں، انھیں نہایت تلخ حقائق سے واسطہ پڑے گا اور ان کا انجام بھی وہی ہو کر رہے گا جو اس سے پہلے ایسی قوموں کا ہوچکا ہے۔
Ayahs 15:4–5

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے معین نوشتہ رہا ہے۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم نہ اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے ہٹتی ہے۔

وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ وَلَھَا کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اََجَلَھَا وَمَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 4۔ 5) (ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے معین نوشتہ رہا ہے۔ کوئی قوم نہ اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے ہٹتی ہے) ایک سوال کا جواب ان آیتوں میں ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے جو طنز کی صورت میں اشرافِ قریش کی زبان پر رہتا تھا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہو اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص پیغام دے کر بھیجا ہے تو یہ معاملہ تو بہت نازک بھی ہے اور بہت سنگین بھی۔ اس پیغام کی قدر نہ کرنا بلکہ اس کا مذاق اڑانا نہ صرف ایک گناہ ہے بلکہ اتنا بڑا جرم ہے کہ جس سے بڑے جرم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پروردگارِعالم شہنشاہِ کائنات ہے۔ وہ جب اپنے کسی پیغامبر کے ذریعے اپنا پیغام اہل زمین کے نام بھیجتا ہے تو یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے کوئی بہت بڑا بادشاہ اپنے مقبوضہ ملک میں اپنی رعایا کے نام کوئی پیغام بھیجے اور رعایا نہ صرف اسے قبول کرنے سے انکار کرے بلکہ مسلسل اس کی توہین بھی کرے۔ اور اس کے لانے والے کی قدر و منزلت پہچاننے کی بجائے اس کا تمسخر اڑائے اور اس کو اذیتیں پہنچائے تو تصور کیجئے کہ ایسے ملک اور ایسے لوگوں سے بادشاہ کیا سلوک کرے گا۔ کیا وہ اولین فرصت میں ان کو سزا دینے کا انتظام نہیں کرے گا۔ خالقِ کائنات کا معاملہ تو اور بھی اہم ہے تو اگر تم واقعی اسی کے ایلچی ہو کے آئے ہو تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم نے جو رویہ تمہارے ساتھ اختیار کیا ہمیں اب تک اس کی سزا میں تباہ و برباد کردیا جاتا لیکن ہم تو اب تک اپنی تمام تر گستاخیوں کے باوجود نہ صرف اپنی حالت پر قائم ہیں بلکہ روزبروز ہمارے حالات بہتر ہوتے جارہے ہیں اور تم اور تم پر ایمان لانے والے حالات کی گرفت میں آتے جارہے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ دنیا کے حکمران اپنے حوصلے، اپنی طاقت اور اپنی حکمت کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ان کے ملک کا کوئی حصہ اگر ان کے احکام کی سرتابی کرتا ہے تو وہ اس خیال سے کہ کہیں وہ لوگ طاقت نہ پکڑ جائیں اور ہماری دسترس سے باہر ہوجائیں اور یا دوسرے لوگ ان سے متاثر ہو کر ان کے راستے پر نہ چل نکلیں۔ ان لوگوں کو سزا دینے میں جلدی کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ انسانوں پر صرف حکومت ہی نہیں کرتا بلکہ وہ ان کا رب ہونے کی وجہ سے ربوبیت کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے رحیم و کریم بھی ہے۔ اس لیے تاحدآخر وہ اپنے کرم کے تقاضوں سے صرف نظر نہیں کرتا اور مزید یہ کہ اس نے انسانوں اور جنوں کو رعایا کے طور پر صرف پابندِ قانون بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس نے انھیں عقل اور شعور دے کر فیصلے کی آزادی بھی بخشی کہ تم چاہو تو اللہ تعالیٰ کے قانون کی پابندی کرو اور چاہو تو تشریعی قانون کا انکار کرکے تکوینی قانون کی پیروی کرتے ہوئے اس کی زمین پر زندہ رہ سکتے ہو۔ اپنے اس فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے وہ رسول ( علیہ السلام) بھیجتا ہے، کتابیں اتارتا ہے، ان کے دل و دماغ کو ہموار کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے تاکہ وہ حتی الامکان اللہ تعالیٰ کے عذاب یا اس کی گرفت سے بچ جائیں۔ اور پھر اس کے لیے مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جلد بازیوں سے کئے ہوئے فیصلوں پر پچھتاتے ہوئے راہ راست اختیار کرلیں۔ اور یہ مہلت عمل اس نے ہر قوم کے لیے اس کی تخلیق کے ساتھ ہی لوح محفوظ میں محفوظ کردی ہے۔ چناچہ جب تک وہ مہلت ختم نہیں ہوتی اس وقت تک وہ اس قوم پر اپنا عذاب نہیں بھیجتا، لیکن جب وہ قوم اپنی مہلت کی عمر گزار دیتی ہے اور اپنے عمل سے پورے طور پر ثابت کردیتی ہے کہ اس کے اندر کی قبولیت دم توڑ چکی ہے اور خیر کی قبولیت کا کوئی مادہ اس کے اندر باقی نہیں رہا تو پھر وہ قوم اپنے انجام کی گرفت میں اس طرح آتی ہے کہ نہ وہ اس سے بچ کر آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے اور یہ گرفت ایسی شدید ہوتی ہے کہ قوم کا ہر طبقہ برابر سطح پر اس کی گرفت میں آتا ہے۔
Ayahs 15:6–7

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے تم تو ایک مجنون ہو۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے۔

وَقَالُوْا یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ۔ لَوْمَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِکَۃِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 6۔ 7) (اور یہ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے تم تو ایک مجنون ہو۔ اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے۔ ) قریش کی گری ہوئی حرکت کی حقیقت یہ قریش مکہ کے بگاڑ کی انتہا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو کسی مناسب طریقے سے خطاب کرنے کی بجائے طنزیہ انداز میں اور کسی حد تک حقارت کے ساتھ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ قرآن نازل کیا گیا یہ وہی انداز ہے جو عام طور پر کسی ناقابلِ ذکر آدمی سے کوئی بڑا آدمی بات کرتا ہوا اختیار کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اپنی ذاتی وجاہت، اپنے حسب نسب اور اپنی ہر دلعزیزی کے باعث مکہ بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور بعثت سے پہلے کوئی آدمی اس طرح آپ سے بات کرنے کی جرأت نہ کرسکتا تھا لیکن دعوت الی اللہ کا کام اس قدر مشکل اور تکلیف دہ کام ہے کہ اس کے لیے داعی کو سب کچھ دائو پر لگانا پڑتا ہے۔ اس کام کی کٹھن ذمہ داریاں اسے ہر ناگوار سے ناگوار بات بھی سننے پر مجبور کرتی ہیں۔ رسالت کا فریضہ اسے ہر ایک کی بات سننے اور ہر ایک سے ہمدردی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ گالیاں سنتا ہے اور دعائیں دیتا ہے، وہ ہلکا کیا جاتا ہے لیکن شکایت نہیں کرتا۔ لوگ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن اس کے سامنے کلمۃ الحق کی سربلندی کے سوا کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اسی صورتحال نے ان کو یہ جرأت دلائی جو اس ہلکے انداز میں طنز کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ تم تو ہمیں مجنون اور دیوانے معلوم ہوتے ہو کہ تم نے جس طرح اپنی ذات کو اس کام میں گم کردیا ہے اور اپنا نفع و ضرر کا پیمانہ توڑ چکے ہو اور اپنی تکلیفوں کو محسوس کرنے کی بجائے صرف اسلام کا مستقبل تمہیں عزیز ہو کے رہ گیا ہے، یہ رویہ کسی عقلمند آدمی کا نہیں ہوتا۔ مشکل یہ ہے کہ جب اقدار بدل جاتی ہیں اصول اور نظریات قدرومنزلت کھو دیتے ہیں تو ہر چیز میں ایک انقلاب برپا ہوتا ہے۔ خوب ناخوب ہوجاتا ہے اور ناخوب، خوب بن جاتا ہے۔ قیمتی چیزیں بےقیمت ہوجاتی ہیں اور بےقیمت چیزوں کی قیمت لگنے لگتی ہے۔ قریش بھی اسی بیماری کا شکار تھے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ پیغمبر جس کام کی سربلندی کے لیے ہر چیز برداشت کررہا ہے وہ کام کتنا عظیم ہے اور اس کے مقابلے میں ذاتی احترام، مالی نقصانات، مستقبل کے اندیشے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جنوں کی دلیل آپ کو مجنون ثابت کرتے ہوئے انھوں نے یہ دلیل دی کہ تم اپنے جس دعوے کے لیے ہر طرح کی قربانی دے رہے ہو، اگر اس دعوے میں کوئی سچائی ہوتی تو یقینا اس کی تائید و نصرت کے لیے آسمان سے فرشتے اترتے، کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہو۔ اور رسالت کا فیصلہ آسمان پر ہوتا ہے۔ تم پر آسمان ہی سے کتاب اتر رہی ہے تو تمہاری تائید بھی آسمانی مخلوق فرشتوں کو کرنی چاہیے۔ وہ تمہارے دائیں بائیں ہٹو بچو کہتے ہوئے نظر آئیں، تمہاری حفاظت کریں اور جو آدمی دست درازی کرے اس کے ہاتھ کاٹ دیں۔ تمہارے راستے میں رکاوٹ بننے والی ہر طاقت کو کچل ڈالیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بات بھی نظر نہیں آتی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نہیں ہو۔
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر حق کے ساتھ، اور انھیں اس کے بعد مزید مہلت نہیں دی جاتی۔

مَانُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَا کَانُـْوٓا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 8) (ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر حق کے ساتھ، اور انھیں اس کے بعد مزید مہلت نہیں دی جاتی۔ ) فرشتے کب اترتے ہیں یہ قریش کے سوال اور طنز کا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے فرشتے یونہی بےمقصد زمین پر نہیں اتارے جاتے اور نہ وہ اس لیے اتارے جاتے ہیں کہ وہ زمین پر جا کر ان حقائق کو منکشف کردیں جن کی دعوت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کا نبی ( علیہ السلام) آتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ لوگ اپنے فہم و شعور سے کام لے کر ان باتوں پر غور کریں جن کی دعوت لے کر اللہ تعالیٰ کا نبی مبعوث ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) پر صرف وہ فرشتے اترتے ہیں جو وحی الٰہی لے کے آتے ہیں اور یا وہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور اگر معرکہ حق و باطل حرب و ضرب تک پہنچ جائے تو پھر بعض دفعہ مسلمانوں کی نصرت کے لیے بھی فرشتے اترتے ہیں۔ لیکن کسی موقع پر بھی بالعموم اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ( علیہ السلام) کے سوا کسی اور کو فرشتے نظر نہیں آتے۔ لیکن اگر قوم کی طرف سے پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے کی جائے مخالفت شروع کردی جائے اور پھر یہ مخالفت بڑھتے بڑھتے اپنی انتہا کو پہنچ جائے اور ایک وقت آئے کہ قوم فیصلہ کرلے کہ اب اس نبی ( علیہ السلام) اور اس کے ایمان لانے والوں کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قوم کی مہلت عمل ختم کرنے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے اور فرشتوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ جاؤ اس ظالم قوم کا تختہ الٹ ڈالو اور انھیں ہمیشہ کے لیے تہہ وبالا کردو۔ یہ ہے وہ بات جس کو حق کے لفظ سے اس آیت کریمہ میں تعبیر کیا گیا ہے کہ یہ حق یعنی فیصلہ لے کر اللہ تعالیٰ کے فرشتے اترا کرتے ہیں اور جب یہ فیصلہ آجاتا ہے تو پھر قوم کے کسی فرد کو ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں دی جاتی بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد کردیے جاتے ہیں۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے اتارا ہے اس ذکر ( قرآن مجید) کو اور یقینا ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 9) (بیشک ہم ہی نے اتارا ہے اس ذکر ( قرآن مجید) کو اور یقینا ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ ) قریش کی گالی کا جواب دو آیتیں پہلے ہم نے پڑھا ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ کو اس بات پر مجنون قرار دیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر قرآن نازل کیا گیا ہے۔ اس کا جواب آنحضرت ﷺ نے نہیں بلکہ خود پروردگار نے نہایت زوردار طریقے سے دیا ہے۔ اس مختصر آیت میں تین مرتبہ ضمیر متکلم کو استعمال کیا گیا جس سے تاکید بالائے تاکید ثابت ہوتی ہے اور پھر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ اس بات کا اعلان فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ یقینا یقینا یقینا ہم ہی نے اسے نازل کیا ہے۔ تم نے آنحضرت ﷺ کو جو گالی دی ہے وہ آپ کو نہیں بلکہ ہمیں دی ہے کیونکہ آپ ﷺ نے نہ تو یہ کتاب خود مرتب کی ہے اور نہ ہم سے مانگ کرلی ہے۔ اس کی جو بھی ذمہ داری ہے وہ ہم پر ہے۔ البتہ اس کی تبلیغ اور اس کی تفہیم کی ذمہ داری جو رسول اللہ ﷺ ادا کررہے ہیں وہ بھی ہم نے ان پر عائد کی ہے۔ اگر تمہیں اپنے پروردگار کی عظمت اور جلال کا کچھ بھی اندازہ ہے تو پھر تمہیں سوچنا چاہیے کہ تم نے ایک ایسی ہلکی بات کہہ کر اور قرآن کریم کا انکار کرکے کتنا بڑا جرم کیا ہے۔ تمہیں دو باتیں کبھی نہیں بھولنی چاہئیں کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تم نے اگر قرآنی دعوت کو قبول نہ کیا تو یہ دعوت رک جائے گی اور قرآن کریم کی فکر ختم ہوجائے گی، یہ خیال خام ہے کیونکہ سورة انعام آیت نمبر 89 میں پروردگار نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس کا انکار کردیں تو ہم یہ کام ایسے لوگوں کے سپرد کریں گے جو کبھی اس سے کفر نہیں کریں گے۔ چناچہ قریش نے جب اسے قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انصار کے سینے اس کے لیے کھول دیے۔ چناچہ یہ حقیقت آج تک پوری تابانیوں کے ساتھ روشن رہی ہے کہ جب بھی امت مسلمہ نے اللہ تعالیٰ کی اس امانت کے ساتھ خیانت کا ثبوت دیا اور اس ذمہ داری کی ادائیگی سے پہلوتہی کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے مسلمانوں کو مٹا دیا اور اس دور کی مضبوط کافر قوم کو اسلام کی ہدایت دے دی۔ گزشتہ صدیوں میں سب سے زیادہ نقصان تاتاریوں نے پہنچایا ہے۔ ایسالگتا تھا کہ اسلامی تہذیب مکمل فنا کردی گئی ہے اور اسلامی علوم فنا کے گھاٹ اتر گئے، لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی ظالم اور قاتل قوم کو اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی اور انہی کی اولاد نے خلافتِ عثمانیہ کا چراغ جلایا۔ اقبال نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا : ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے اور دوسری بات یہ نہیں بھولنی چاہیے کہ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اور اسی نے اسکی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ 14 صدیاں گزر گئیں لیکن اس کتاب کا ایک شوشہ نہ بدل سکا۔ اتنا طویل عرصہ دنیا کی کوئی کتاب اور کوئی دستاویز آج تک محفوظ نہیں رہی اور خود آسمانی کتابیں بھی جو یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں لیکن ان کی حفاظت کا ذمہ چونکہ پروردگار نے نہیں اٹھایا تھا اس لیے وہ ترمیم اور تحریف سے محفوظ نہ رہیں۔ لیکن اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے صرف کتابت کے ذریعہ محفوظ نہیں رکھا جسے کسی وقت بھی اٹھایا جاسکتا ہے یا جلایا جاسکتا ہے بلکہ مسلمانوں کے سینے اس کے لیے مخزن اور مامن بنا دیے گئے۔ ہر سال رمضان المبارک میں کروڑوں لوگ اسے سنا کر اور سن کر اس کے محفوظ ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور دشمنانِ دین بالخصوص مستشرقین اپنی تمام مساعی کے باوجود ایک لفظ کی تبدیلی نہ ثابت کرسکے۔ جن مستشرقین نے آنحضرت ﷺ کی زندگی پر مخالفانہ کتابیں لکھیں وہ بھی یہ تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکے کہ دنیا میں قرآن کے علاوہ کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کا متن چودہ صدیوں تک ہر قسم کی تحریف سے یوں پاک رہا۔
Ayahs 15:10–13

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلی امتوں میں رسول ( علیہ السلام) بھیجے۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

تو جو رسول ( علیہ السلام) بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

ہم اسی طرح مجرموں کے دلوں میں اس کو اتارتے ہیں۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور گزر چکی ہے پہلوں کی یہی روش۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَقَدْخَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 10۔ 11۔ 12۔ 13) (اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلی امتوں میں رسول بھیجے۔ تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔ ہم اسی طرح مجرموں کے دلوں میں اس کو اتارتے ہیں۔ یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور گزر چکی ہے پہلوں کی یہی روش۔ ) استہزا ہر قوم کا شیوہ قرآن کریم کی تمام تر جلالتِ قدر اور غیرمعمولی حفاظت کے باوجود جس کا اعتراف آپ نے گزشتہ آیت کی تشریح میں پڑھا، قرآن پاک پر ایمان نہ لانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ہر امت کی اصلاح و ہدایت کے لیے رسول ( علیہ السلام) بھیجے اور کتابیں اتاریں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی قوم نے آسانی سے پیغمبر ( علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرلیا ہو۔ ہر قوم نے پیغمبر کی دعوت کا مذاق اڑایا، تمسخر سے کام لیا بلکہ جو کچھ ان سے ہوسکا اپنی طرف سے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اگر آپ ﷺ کے ساتھ بھی یہ سب کچھ ہورہا ہے تو اس میں نئی بات کوئی نہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک دل میں دو چاہتیں، دو محبتیں کبھی اکٹھی پیدا نہیں ہوتیں۔ جس دل میں شیطانی خیالات اپنی جگہ بنا چکے ہوں، خواہشاتِ نفس نے بسیرا کرلیا ہو اور دنیا ترجیح پاچکی ہو اس دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، اللہ تعالیٰ کے دین سے وارفتگی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے اتباع کا جذبہ کبھی آسانی سے داخل نہیں ہوسکتا۔ یہ ندی کے دو کنارے ہیں جو جمع نہیں ہوسکتے۔ جو شخص دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے اس کے لیے موت کا تصور اور آخرت کی باتیں ایک ایسے انگارے کی طرح ہیں جس سے خس و خاشاکِ دنیا جل کر خاکستر ہوجاتا ہے، ایسے لوگوں کو دین کی بات اور پیغمبر ( علیہ السلام) کی دعوت سن کر آگ سی لگ جاتی ہے۔ اس لیے وہ کبھی ایمان لانے کی جرأت نہیں کرتے۔ ایمان اسی کو نصیب ہوتا ہے جو پیغمبر ( علیہ السلام) کی دعوت پر غور کرتا ہے اور سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ اس کے دل کو کھول دیتا ہے۔ اب وہی پیغمبر ( علیہ السلام) کی دعوت جو اس کے لیے دل میں اترنے والی سلاخ کی طرح تھی، دل میں اترتی ہوئی شبنم بن جاتی ہے۔ وہ اسی کو اپنی گم گشتہ متاع سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر صدیوں کی امتیں گواہی دے رہی ہیں۔ قریش مکہ بھی اس حقیقت سے باہر نہیں جاسکتے۔ انھیں جب تک اندر سے اٹھتی ہوئی آواز نہیں سنے گی، اس وقت تک وہ اپنی روش کو بدلنے پر قادر نہیں ہوں گے۔
Ayahs 15:14–15

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول بھی دیتے اور وہ سارا دن اس میں سے اوپر چڑھتے رہتے۔

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں مدہوش کردی گئیں، ہم ایسی قوم ہیں جن پر جادو کردیا گیا۔

وَلَوْفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآئِ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ ۔ لَقَا لُوْا اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُ نَابَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُرْرُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 14۔ 15) ( اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول بھی دیتے اور وہ سارا دن اس میں سے اوپر چڑھتے رہتے۔ تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں مدہوش کردی گئیں، ہم ایسی قوم ہیں جن پر جادو کردیا گیا۔ ) نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہوتا جب تک قریش اور دیگر مشرکین سنجیدگی اور متانت سے آنحضرت ﷺ کی دعوت پر غور و فکر کے لیے آمادہ نہیں ہوتے اور وہ دنیا اور آخرت کی حقیقت پر تدبر سے کام نہیں لیتے اور قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے محض آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لیے نئے سے نئے معجزے اور نئی سے نئی نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر ہم ان کے سامنے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں کہ تم اگر نبی کریم ﷺ کی حقانیت کی دلیل کے طور پر کوئی نشانی دیکھنا چاہتے ہو تو لو ہم تمہارے لیے یہ دروازہ کھولے دیتے ہیں اور پھر وہ دن کے اجالے میں اس میں آتے جاتے بھی رہیں تب بھی وہ بجائے اس حق کو قبول کرنے کے یہ عذر کریں گے کہ ہم تو یہ جان ہی نہیں سکے کہ ہمیں کیا دکھایا جارہا ہے، ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ ہماری نگاہیں بند کردی گئیں، ان پر جادو کردیا گیا، ہم بظاہر دروازے سے آئے گئے بھی لیکن کچھ نہیں دیکھ سکے بلکہ ہم تو اپنے آپ کو یوں محسوس کرتے ہیں کہ ہم تو مکمل طور پر جادو اور سحر کی زد میں ہیں اور جادو ہم پر غالب آچکا ہے۔ اس لیے ہم یہ اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ یہ ہے سوچ ان لوگوں کی جو حقیقت کو حقیقت کے انداز میں دیکھنے کی بجائے ہر چیز کو اپنے مزعومات کی نگاہ سے دیکھتے اور اپنی خواہشات کے ترازو میں تولتے ہیں۔
Ayahs 15:16–18

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

(بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ہم نے آراستہ کردیا ہے آسمان کو دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے۔

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطانِ مردود کی دراندازی سے ہم نے اس کو محفوظ کردیا ہے۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں، جو کوئی سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کان لگاتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآئِ بُرُوْجًاوَّزَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ وَحَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ۔ اِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ الحجر : 16۔ 17۔ 18) (بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور ہم نے آراستہ کردیا ہے آسمان کو دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے۔ اور ہر شیطانِ مردود کی دراندازی سے ہم نے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ ہاں، جو کوئی سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کان لگاتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ ) آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی پھیلی ہوئی نشانیاں اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) کی دعوت کے مخالفین نے جس بات سے انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے وہ آئے دن نئی سے نئی نشانیوں کا مطالبہ ہے۔ چناچہ مشرکینِ مکہ بھی آنحضرت ﷺ سے کسی نہ کسی نشانی یعنی معجزے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ معجزات دکھانا اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) کا کام نہیں، وہ تو دنیا میں انسانی ہدایت کے لیے مبعوث کیا جاتا ہے۔ البتہ پروردگار اپنے نبی کی تائید کے لیے جب چاہتا ہے کوئی معجزہ دکھا دیتا ہے لیکن امت کے مطالبوں میں کبھی کمی نہیں آتی۔ اس آیت کریمہ میں ان کا مطالبات کے جواب میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم اگر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھنا چاہتے ہو تو اور اسی سے تمہارا ایمان وابستہ ہے تو ذرا آنکھیں کھول کے دیکھو کائنات کی وسعتوں میں اس کی کیا کمی ہے۔ سب سے پہلے آسمان کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھو ہم نے آسمان میں کیسے برج بنائے اور کس طرح ہم نے دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے آسمان کو آراستہ کیا۔ آسمان سے سورج نکلتا ہے تو خاکدانِ ارضی پر اپنے انوار کی بارش کرتا ہے۔ اپنی کرنوں سے زمین کے ایک ایک انچ کو روشن کردیتا ہے۔ چاند نکلتا ہے تو رات کی تاریکی کو اپنے حسن کی خوبصورتی پہنا دیتا ہے۔ ستاروں کی قندیلیں اپنے حسن کی الگ چمن آرائی کرتی ہیں، پھر ستاروں کا نظم و ترتیب اور ان کا آپس میں دروبست، حیرت انگیز آراستگی اور برجستگی کا اظہار کرتا ہے۔ جب صبح کے مطلع تاباں سے سورج کا ظہور ہوتا ہے تو صبح اس طرح آہستہ آہستہ گھونگٹ اٹھاتی ہے کہ آتش شوق بھڑک بھڑک جاتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عالم بقعہ نور ہوجاتا ہے اور جب سورج واپسیں سفر اختیار کرتا ہے تو اپنے پیچھے لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ جاتا ہے۔ قدم قدم پر دیکھنے والی نگاہ کہیں حیرت زدہ ہوتی ہے اور کہیں اٹک کے رہ جاتی ہے۔ لیکن اس کا معنوی حسن اس کا اندرونی بندوبست، اس کا تکوینی نظام اور اس کے ملکوت جو انسانی حواس سے ماوراء ہیں اور جہاں آج تک سائنس کی نگاہ نہیں پہنچ سکی اور نہ اسے تصور اسے اپنے حصار میں لاسکا ہے۔ قرآن کریم اس سے کبھی کبھی پردہ اٹھاتا ہے، انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں۔ برج سے کیا مراد ہے سوال یہ ہے کہ یہ برج کیا ہیں ؟ برج عربی زبان میں ان چیزوں کو کہتے ہیں جو دور سے نمایاں ہوں۔ اسی لیے قلعہ اور محل پر برج کا لفظ بول دیا جاتا ہے۔ اہل عرب عام طور پر بڑے بڑے ستاروں کو جو دور سے نمایاں دکھائی دیتے ہیں برج کے لفظ سے یاد کرتے تھے۔ اس لیے ان میں سے بعض اہل علم نے اس سے سات بڑے بڑے سیارے مراد لیے ہیں۔ یونان کے ایک علمائے ہیئت نے سورج کے مدار حرکت کو بارہ حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا اور وہ ہر حصے کو برج کہتے تھے جن کے نام یہ ہیں : حمل، ثور، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، جوزا اور حوت۔ اسی وجہ سے بعض مفسرین نے یہ سمجھا کہ قرآن کا اشارہ شاید انہی بروج کی طرف ہے اور بعض مفسرین نے اس سے سیارے مراد لیے، لیکن جب ہم ان آیات کو غور سے پڑھتے ہیں تو خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید اس سے مراد عالم بالا کے وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو نہایت مستحکم سرحدوں نے دوسرے خطے سے جدا کر رکھا ہے۔ اگرچہ یہ سرحدیں فضاء بسیط میں غیرمرئی کھچی ہوئی ہیں لیکن ان کو پار کرکے کسی چیز کا ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلاجانا سخت مشکل ہے۔ یہی وہ فصیلیں ہیں جن کی برکت سے جو شہاب ثاقب 10 کھرب روزانہ کی اوسط سے زمین کی طرف گرتے ہیں وہ سب جل کر بھسم ہوجاتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔ دنیا میں شہابی پتھروں کے جو نمونے پائے جاتے ہیں اور دنیا کے عجائب خانوں میں موجود ہیں جن میں سب سے بڑا 645 پونڈ کا ایک پتھر ہے جو گر کر 11 فیٹ زمین میں دھنس گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک مقام پر ساڑھے 26 ٹن کا ایک آہنی تودہ پایا گیا جس کے وہاں موجود ہونے کی کوئی توجیہ سائنسدان اس کے سوا نہیں کرسکے کہ یہ بھی آسمان سے گرا ہوا ہے۔ اندازہ کیجئے کہ اگر آسمان کے مختلف خطوں میں یہ مضبوط حصار نہ ہوتے جنھیں قرآن کریم نے برج قرار دیا ہے تو یہ برسنے والے شہابی پتھر درجہ بدرجہ ہر خطے کا کیا حشر کرتے اور زمین پر برسنے والی پتھروں کی بارش سے اہل زمین کا کیا انجام ہوتا۔ یہ حصار یعنی برج ہمیں دکھائی نہیں دیتے لیکن قرآن کریم کے انکشاف کے مطابق کائنات کے مختلف حصوں میں یہی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہیں اور خوبصورتی کا اظہار بھی، کیونکہ پروردگار نے یوں تو تمام آسمان کو نورانی قمقموں سے روشن کر رکھا ہے اور اہل زمین اسے دیکھ کے خوش ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ برج جنھیں ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ان کے اندر جو خاص طور پر حسن آرائی کی گئی ہے وہ بھی آسمان کی زینت اور حسن کا حصہ بن کر ہماری آنکھوں کو روشنی دیتی ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ شیاطین کی شرانگیزی سے بچاؤ کا انتظام دوسری آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کی سرشت ایسی بنائی ہے کہ بلندی اور رفعت کی طرف اڑنا ان کی شاید سرشت میں داخل ہے۔ اس لیے وہ عموماً آسمان کی وسعتوں میں پرواز جاری رکھتے ہیں لیکن ان کی سرشت میں چونکہ شر کا مادہ غالب ہے اس لیے وہ ہر جگہ شیطنت کے اظہار کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ پروردگار نے کائنات کو ان کے شر کے اثرات سے بچانے کے لیے وسیع انتظامات کر رکھے ہیں۔ انھیں انتظامات میں سے یہ انتظام بھی ہے کہ ملاء اعلیٰ سے مختلف خطوں پر پتھروں یا شہابیات کی ایسی بارش ہوتی ہے کہ یہ جنات اپنی حدود سے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں کرپاتے۔ زمانہ حال کے مشاہدات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دوربین سے دکھائی دینے والے شہاب ثاقب جو فضائے بسیط سے زمین کی طرف آتے نظر آتے ہیں ان کی تعداد کا اوسط 10 کھرب روزانہ ہے جن میں سے 2 کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں۔ ممکن ہے یہ انتظام اس لیے کیا گیا ہو تاکہ عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز ناممکن بنادی جائے۔ سن گن لینے والے تیسری آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد شیاطین کی عالم بالا تک رسائی بالکل ناممکن بنادی گئی۔ پہلے وہ فرشتوں سے ملتے جلتے اور ان کے پاس منڈلاتے رہتے تاکہ کسی بات کا اگر علم ہوجائے تو کاہنوں کو جا کے زمین پر بتائیں اور یہ غیب دانی کا مذموم دھندا چلتا رہے، لیکن حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد جب شرک کی جڑ مار دی گئی تو اس کے وسائل بھی ختم کردیے گئے، لیکن پھر بھی اگر کوشش کرکے کوئی شیطان کسی بات کی سن گن لینے کے لیے اوپر جانے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے وہ آسمانی قلعے جو آسمانوں میں بنائے گئے ہیں ان میں ملائکہ کی فوجیں برابر مامور رہتی ہیں۔ وہ ان شیاطین کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں اور جب وہ شیطان وہاں سے بھاگتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک قلعہ کی برجیوں پر مامور سپاہی دشمن کے آدمیوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں، کسی اجنبی کو اپنی حدود کے اندر لانگنے کا موقع نہیں دیتے، اسی طرح خدا کے مامور ملائکہ ان جن شیاطین کو شہاب ثاقب کا نشانہ بناتے ہیں۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں محکم پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں تناسب کے ساتھ اگائیں۔

وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰھَا وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ وَاَمنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ مَّوْزُوْن۔ (سورۃ الحجر : 19) (اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں محکم پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں تناسب کے ساتھ اگائیں۔ ) زمین پر اللہ تعالیٰ کی چند نشانیاں عالمِ بالا میں اپنی قدرت کے کمالات کا ذکر کرنے کے بعد اب انسان کو زمین کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ آسمان کی وسعتیں تمہاری رسائی سے باہر ہیں لیکن زمین کو تم بہت حد تک دیکھ سکتے ہو۔ ذرا اس کی وسعتوں کا اندازہ کرو اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھو کہ کیا اس کے ساتھ کسی اور شریک کی گنجائش ہے ؟ زمین اس کی کائنات کا ایک چھوٹا سا کُرّہ ہے لیکن اس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ نہ جانے کب سے اس پر حضرت انسان بس رہا ہے اور کتنی نسلیں اس پر انسان کی گزر چکی ہیں۔ ہر رنگ، ہر نسل اور ہر نوع کی مخلوق اس پر آباد ہے، لیکن آج تک اربوں انسانوں کی موجودگی میں کبھی شکایت پیدا نہیں ہوئی کہ زمین کی وسعت انسانوں کی آبادی کے مقابلے میں تنگ پڑگئی ہے۔ انسانوں کو ظلم خود انسانوں کو عاجز کردے تو وہ ایک دوسری بات ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ وسائل حیرت انگیز حد تک ہمیشہ انسان کی ضرورتوں سے بڑھ کر رہے ہیں۔ اربوں انسان زمین پر بس رہے ہیں اور ابھی مزید کروڑوں کی گنجائش باقی ہے۔ اتنی بڑی زمین اور اس پر انسانی آبادی کا اتنا بوجھ اندیشہ ہوسکتا ہے کہ یہ زمین کسی طرف لڑھک ہی نہ جائے۔ اس کا انتظام پروردگار نے یہ کیا ہے کہ بڑے بڑے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے جو اس کے اندر میخوں کی طرح گڑے ہوئے ہیں۔ زمین کی مجال نہیں کہ وہ کسی طرف جھک جائے اور انسانی آبادی ناممکن ہوجائے، پھر زمین کے ایک تہائی پر اللہ تعالیٰ نے سمندر بسارکھا ہے، لیکن سمندر کی مجال نہیں کہ وہ زمین پر چڑھ دوڑے۔ انسان نے کبھی غور نہیں کیا کہ سمندر کے کنارے کس نے باندھ رکھے ہیں۔ سمندر کے اندر اٹھتے ہوئے طوفانوں کو دیکھ کر آدمی خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ اگر ان کا رخ زمین کی طرف ہوجائے تو اہل زمین کو کون بچا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ انتظام ہے اور اس کی قدرت ہے کہ زمین کی وسعت اور انسان کی ضرورت میں کہیں تصادم نہیں ہوتا اور اگر کہیں ہوتا ہے تو وہ خود انسان کا پیدا کردہ ہوتا ہے اور یا وہ انسان کی عقل و دانش اور اس کے حوصلے کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔ چناچہ جب بھی انسان نے اس بات کو سمجھا اور اس چیلنج کو قبول کیا تو سمندر کو ہزاروں میل پیچھے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی ایک اہم نشانی آیت کے دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے ایک اور اہم نشان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا کی یا اگائی ہے اسے ایک اندازے اور ایک توازن کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ جتنی اس نے جاندار مخلوق پیدا فرمائی ہے یہ دیکھ کے حیرت ہوتی ہے کہ جیسا کسی مخلوق کا ماحول ہے ویسی اسے جسمانی ساخت عطا فرمائی ہے اور ویسی اسے جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں اور جیسا اس کا جسم اور اس کی صلاحیتیں ہیں ویسا اسے ماحول دیا گیا ہے۔ مچھلی کو پانی میں پیدا کیا تو اسے تیرنے کی صلاحیت عطا فرمائی اور پرندے کو خشکی میں پیدا فرمایا تو اسے اڑنا سکھایا گیا۔ اور پھر جن کو پَر دیے گئے انھیں قوت و مہارت پرواز دی گئی۔ اور جن کی روزی فضا میں بکھیری انھیں پر عطا کئے گئے، جنھیں جنگل میں پیدا کیا انھیں دوڑنا بھاگنا، شکار کرنا، اپنے نوکیلے دانتوں یا سینگوں سے دشمن کا مقابلہ کرنا سکھایا، بھٹ میں رہنا سکھایا اور بھٹ بنانا بھی سکھایا۔ پرندوں کو درختوں پر بٹھایا تو گھونسلا بنانے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی۔ گرم علاقوں کے جانور آپ دیکھیں گے کہ سرد علاقوں میں نہیں ہوتے اور سرد علاقوں کے گرم علاقوں میں نہیں پائے جاتے۔ منطقہ حارہ کا ریچھ منطقہ باردہ میں نہیں ہوتا اور منطقہ باردہ کا ریچھ منطقہ حارہ میں نہیں ہوتا۔ مزید ایک نشانی نباتات کی ہر نوع میں تناسل کی اس قدر طاقت ہے کہ اگر اس کے صرف ایک پودے ہی کی نسل کو زمین میں بڑھنے کا موقع دے دیا جائے تو چند سال کے اندر روئے زمین پر بس وہی نظر آئے، کسی دوسری قسم کی نباتات کے لیے کوئی جگہ نہ رہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کو دیکھئے کہ بےحساب نباتات اگ رہی ہیں اور ہر نبات کی ایک مقدار مقرر کردی ہے وہ اپنی مخصوص حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہر نبات اور ہر پودا اپنا جو مقصد رکھتا ہے اسے کبھی نہیں بھولتا۔ گندم کا پودا ہمیشہ گندم مہیا کرتا ہے، اسے کبھی انار کے دانے نہیں لگتے۔ اور آم کے درخت کو کبھی املی نہیں لگتی۔ ہر جانور کا جو قد و قامت مقرر کردیا گیا ہے، وہ اس سے کبھی تجاوز نہیں کرتا۔ شیر بڑھ کر ہاتھی کا حجم اختیار نہیں کرسکتا اور ہاتھی اپنے حجم کو گھٹا کر بلی کی شکل اختیار نہیں کرسکتا۔ اس حکیم مطلق کے توازن کے ایسے قوانین ہیں جنھیں کبھی ہم نے بدلتے ہوئے نہیں دیکھا۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں تمہاری معیشت کے سامان بھی رکھے اور ان کی معیشت کے بھی جن کے تم روزی دینے والے نہیں ہو۔

وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 20) (اور ہم نے اس میں تمہاری معیشت کے سامان بھی رکھے اور ان کی معیشت کے بھی جن کے تم روزی دینے والے نہیں ہو۔ ) وسائلِ رزق کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے معیشت کھانے پینے کی چیزوں اور وسائلِ معاش کو کہتے ہیں۔ اس زمین پر ہم نے تمہارے لیے وسائلِ رزق پیدا کئے اور ان کے لیے بھی پیدا کئے ہیں جنھیں تم رزق نہیں دیتے۔ انسان عموماً اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ میں جو کچھ کرتا ہوں اور جو میری ضروریات ہیں میں انھیں خود فراہم کرتا ہوں۔ میں جو کچھ کماتا ہوں اس سے میں اپنی مختلف اشیائے ضرورت خریدتا ہوں۔ اس طرح سے گویا میں آپ اپنا رازق ہوں حالانکہ آدمی اگر ذرا گہری نظر سے دیکھے تو اسے یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ تم جو پانی پیتے ہو اسے کس نے پیدا کیا ہے ؟ تم جو غلہ کھاتے ہو اسے پیدا کرنے والا کون ہے، ؟ جن پھلوں سے کام و دہن کو لذت دیتے ہو انھیں وجود کس نے بخشا ہے ؟ تم جو گوشت کھاتے ہو تو گوشت والے جانور کس کی مخلوق ہیں ؟ جس زمین پر چلتے ہو اور جس زمین کی قوت روئیدگی سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، یہ زمین کس نے پیدا کی ہے ؟ خود تمہاری اپنی توانائی اپنی صلاحیتیں، اپنی ذہانت اور قوت کارکردگی کس کی عطا کردہ ہے ؟ تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ تم اس کی دی ہوئی صلاحیتوں سے کام لیتے ہو، اس کی عطا کردہ نعمتوں کو کھالیتے ہو، اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہو۔ ظاہر ہے یہ چیز تو رزق رسانی نہیں کہلاتی۔ اسی طرح تمہارے قبضے میں جو جانور ہے انھیں بھی تم رزق مہیا نہیں کرتے بلکہ ان کا رزق بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ یہ ان گنت پرندے اور یہ جنگلی جانور، یہ سمندر میں بسنے والی بےانداز مخلوق، کیا ان کا کھانا تم مہیا کرتے ہو، انھیں بھی پروردگار ہی عطا کرتا ہے۔ البتہ تم ان سے فائدہ ضرور اٹھاتے ہو۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، لیکن ہم اس کو ایک معین اندازے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔

وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ ز وَمَا نُنَزِّلُہٗ ٓ اِلاَّ بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ (سورۃ الحجر : 21) (اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، لیکن ہم اس کو ایک معین اندازے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ ) توازن و تناسب کی طرف اشارہ ہم چونکہ تمام مخلوقات کے رازق ہیں اس لیے رزق کے حوالے سے جن جن نعمتوں کی ضرورت ہے ان کے خزانے ہمارے پاس ہیں۔ کسی مخلوق کو کبھی اس کا گمان نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے رزق میں کمی آجائے گی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی آبی مخلوق ہو یا جنگلوں کی مخلوق، کیڑے مکوڑے ہوں یا فضائی جانور، کبھی کسی کو یہ شکایت پیدا نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے رزق میں کمی کردی ہے یا اس کے خزانوں میں کوئی کمی آگئی ہے اور ہمیں مناسب رزق نہیں پہنچ رہا۔ البتہ جب بھی کبھی شکایت پیدا ہوتی ہے تو انسانوں کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایک تو انسان کی ناشکری اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی، دوسرا وہ اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا کہ زمین پر عدل و احسان کی حکومت قائم کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا نہیں بندوں کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کی حفاظت اس کے دیے ہوئے رزق کی منصفانہ تقسیم یہ انسانوں کے فرائض میں شامل ہے۔ جب انسان انھیں بجا لانے میں کوتاہی کرتا ہے تو وہیں انسان کے رزق میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ کسی کے گودام بھرے رہتے ہیں اور کوئی نان شبینہ کا محتاج ہوتا ہے ورنہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا تعلق ہے آپ دیکھ لیجئے کہ انسانی ضرورتوں میں جو ضرورت سب سے مقدم ہے اور سب سے زیادہ ہے اس کے خزانے بھی سب سے زیادہ ہیں۔ پانی انسانی کی پہلی ضرورت ہے تو کون سی جگہ ایسی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے پانی پیدا نہیں فرمایا۔ زمین کے نیچے پانی کے سوتے رواں ہیں، میدانی علاقوں میں دریا بہہ رہے ہیں، پہاڑی علاقوں میں چشمے ابلتے اور آبشاریں گرتی ہیں اور پھر مسلسل بارشوں سے ندی نالے بھی سیراب رہتے ہیں اور ہر جگہ کی ضرورتیں بھی پوری ہوتی ہیں۔ مزیدبراں یہ کہ پہاڑوں پر موسم سرما میں برف جما دی جاتی ہے جو موسم گرما میں پگھلتی ہے اور اس کا بہتا ہوا پانی ہر علاقے کی سیرابی کا کام کرتا ہے۔ انسان کی دوسری ضرورت اس کی خوراک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو جس پر انسان بستا ہے قوت روئیدگی سے معمور کر رکھا ہے۔ آپ اس کے پیٹ میں غلہ دفن کر کے دیکھئے، بجائے اس کو مارنے کے اسی سے زندگی اور روئیدگی کے آثار پیدا کردیتا ہے جو بڑھتے بڑھتے پودا اور تنا بنتا ہے۔ پھر اسے خوشے لگتے ہیں اور ایک ایک دانہ سات سات سو دانے تک بارآور ہوتا ہے اور پھر اس غلے کی بارآوری اور غذا کی بہم رسانی میں عناصرِ قدرت میں سے کون سا ایسا عنصر ہے جو شریک نہیں ہوتا۔ پانی، بادل، ہوا، سورج اور چاند، آسمان، زمین اور فضا کون سی چیز ہے جو اس خدمت میں لگی ہوئی نظر نہیں آتی تاکہ انسان کو اس کی روزی میسر آئے اور وہ زندگی کے فرائض ادا کرنے کے قابل ہوسکے۔ مختصر یہ کہ تمام مخلوقات کی روزی دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس کے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں۔ نہ کوئی چیز کم ہوتی ہے اور نہ کوئی زیادہ ہوتی ہے۔ جب کمی ہوتی ہے تو اسی کے حکم سے ہوتی ہے اور جب زیادتی ہوتی ہے تو تب بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ البتہ اس کے نتیجہ میں اس دنیا میں بڑی بڑی آفتیں برپا ہوجاتی ہیں۔ اور اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ دنیا نہ تو کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آگئی ہے اور نہ یہ مختلف دیویوں اور دیوتائوں کی بازی گاہ ہے۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

پس ہم بھیجتے ہیں ہَوائوں کو باردار بنا کر، پھر ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں، پھر ہم تمہیں اس سے سیراب کرتے ہیں، یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم اس کے ذخیرے جمع کرکے رکھتے۔

وَاَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَسْقَیْنٰـکُمُوْہُ ج وَمَآ اَنْتُمْ لَہٗ بِخٰزِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 22) (پس ہم بھیجتے ہیں ہَوائوں کو باردار بنا کر، پھر ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں، پھر ہم تمہیں اس سے سیراب کرتے ہیں، یہ تمہارے بس میں نہ تھا کہ تم اس کے ذخیرے جمع کرکے رکھتے۔ ) ربوبیت کا مزید تذکرہ اوپر چند آیات سے زمین پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بعض نشانیوں کو اس طرح بیان فرمایا جارہا ہے جس میں جابجا اس کی ربوبیت کی طرف اشارے بھی ہیں۔ اس آیت میں بھی اسی کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے۔ لیکن اس وضاحت کو عرض کرنے سے پہلے ایک لفظ کو واضح کرنا ضروری ہے تاکہ آیت کے مفہوم کو آسانی سے سمجھا جاسکے۔ آیت میں ہَوائوں کے لیے لَوَاقِحَکا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ہم نے باردار کیا ہے۔ عربی زبان میں نر اور مادہ کے ملاپ کی صورت میں جب نر مادہ میں مادہ تولید ڈالتا ہے تو اسے القاح یا تلقیح کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو حمل ٹھہرانا یا باردار کرنا کہتے ہیں۔ قدرت نے تمام مخلوقات میں نر اور مادہ پیدا کئے ہیں اور ان کے سلسلہ تناسل کے لیے اسی عمل کو ذریعہ بنایا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دنیا اس علمی تصور سے بالکل بیگانہ تھی۔ انسانوں اور حیوانوں کے بارے میں تو سب لوگ بچشم سر اسے دیکھتے تھے لیکن نباتات کے بارے میں افزائشِ نسل کا یہ طریقہ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھا۔ چناچہ قرآن کریم نے سب سے پہلے اسے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیا کے جوڑے پیدا فرمائے ہیں جنھیں زمین اگاتی ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ایسی چیزوں کے بھی جوڑے پیدا فرمائے گئے ہیں جنھیں تم آج نہیں جانتے۔ لیکن جدید دور کا انسان ان میں سے بہت سی چیزوں کو جانتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس نے نام ان کے الگ الگ رکھے ہیں۔ چناچہ نباتات میں آج ہر شخص جو زراعت کی ابجد سے بھی واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کسی پھلدار درخت کو پھل نہیں آسکتا تاوقتیکہ وہاں نر اور مادہ دونوں نہ ہوں۔ اور کوئی کھیتی بارآور نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ وہاں یہ پر اسس (Process) جاری نہ ہو۔ لیکن اس کا تصور تو آج بھی انسانوں کے لیے شاید اجنبی ہو کہ یہی پر اسس (Process) اور طریقہ اللہ تعالیٰ نے بارش کے لیے ہَوائوں میں بھی رکھا ہے۔ اس لیے ہَوائوں کو لَوَاقِحَکہا گیا ہے۔ علمائے تفسیر نے مختلف طریقوں سے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ ان ہَوائوں کو لَوَاقِحَ اس لیے کہا گیا کہ یہ ہَوائیں بارش کا پانی بادلوں کے مشکیزوں میں اٹھائے ہوئے آتی ہیں یا اس لیے کہ یہ بادلوں میں اس رطوبت کو ملاتی ہیں جس سے ان سے بارش ہونے لگتی ہے۔ اور یا اس لیے لَوَاقِحَ کہا گیا کہ یہ درختوں کو بارآور کرتی ہیں۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ پانی جو تمہاری ضرورت ہے اور تمہاری کھیتیوں کی سیرابی کا ذریعہ ہے اور تمہاری خوراک کا دارومدار بالواسطہ اسی پر ہے تو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی یہ کرم فرمائی ہے کہ اس نے حیرت انگیز طریقے سے سمندر سے پانی اٹھایا، فضا میں ابر کی چادریں پھیلائیں اور پھر ہَوائوں نے انھیں باردار کیا اور انھیں وہاں پہنچایا جہاں زمین کو پانی کی ضرورت تھی۔ اگر پروردگار یہ سارا پر اسس (Process) اپنی قدرت اور اپنی ربوبیت سے وجود میں نہ لاتا تو تمہاری کھیتیوں کی سیرابی کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ ہر جگہ زمین پانی نہیں دیتی یا بعض دفعہ پانی اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اس کا نکالنا آسان نہیں ہوتا۔ پانی نکل بھی آئے تو ضروری نہیں کہ وہ کھیتیوں کی سیرابی کے قابل بھی ہو۔ اور یہ بھی ممکن نہ تھا کہ تم اس پانی کے ذخیرے جمع کرکے رکھ چھوڑتے اور جب ضرورت پڑتی تو پانی برسا لیتے۔ یہ خدا ہی کا انتظام اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے یہ حیرت انگیز انتظام کر رکھا ہے۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بیشک ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہم ہی ان سب کے وارث ہیں۔

وَاِنَّا لَنَحْنُ تُحْیٖ وَنُمِیْتُ وَنَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 23) (اور بیشک ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہم ہی ان سب کے وارث ہیں۔ ) مذکورہ حقائق کا لازمی تقاضا گزشتہ آیات میں نظام ربوبیت کی جن جن باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان کو لپیٹ کر اس آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے اس لیے عطا فرمایا ہے کیونکہ زندگی اور موت کے ہم ہی مالک ہیں۔ زندگی بھی ہم دیتے ہیں اور موت بھی ہم ہی دیتے ہیں۔ اور جب کسی قوم کو دنیا میں ختم کردیا جاتا ہے تو اس کے وارث بھی ہم ہی ہیں۔ اسی طرح جب قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور ہر چیز ختم کردی جائے گی تب بھی اس کائنات کے وارث ہم ہی ہوں گے۔ کیونکہ ہر چیز کا مرجع و مولیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے اہل زمین کی وراثت کا حق کسی اور کو ہرگز نہیں۔ اور نہ کسی مخلوق کے لیے اور کوئی جائے پناہ ہے۔ اور اگر کسی نے کسی اور سے کوئی امید باندھ رکھی ہے تو یہ محض وہم ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔