15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsروح القرآن

Ayahs 15:24–25

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور یقینا ہم جانتے ہیں ان کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کو بھی جانتے ہیں جو بعد میں آنے والے ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا پروردگار ہی ہے جو ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ اور بیشک وہ بڑا دانا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاخِرِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ ھُوَ یَحْشُرُھُمْ ط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ الحجر : 24۔ 25) (اور یقینا ہم جانتے ہیں ان کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کو بھی جانتے ہیں جو بعد میں آنے والے ہیں۔ اور بیشک تمہارا پروردگار ہی ہے جو ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ اور بیشک وہ بڑا دانا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ) صفتِ علم کا بیان اپنے کمال قدرت اور نظام ربوبیت کی بعض جہتوں کو بیان کرنے کے بعد اپنے علم کی وسعت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح ہماری قدرت کی کوئی انتہا نہیں، اسی طرح ہمارے علم کی بھی کوئی اتھاہ نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ اس وقت جو لوگ موجود ہیں اور زندگی کے فرائض ادا کررہے ہیں، ہم صرف انھیں کو جانتے ہیں اور انھیں کے اعمال سے آگاہ ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جس طرح ماضی کے لوگوں کو جانتے ہیں اسی طرح ہم مستقبل کے لوگوں سے بھی آگاہ ہیں۔ ہمارے علم میں کوئی تقسیم نہیں۔ ماضی، حال اور مستقبل یہ انسانی علم کی صفات ہیں۔ ہمارا علم محیط سب پر حاوی ہے۔ ہم جس طرح حال کو جانتے ہیں ہم اس سے بڑھ کر ماضی اور مستقبل سے آگاہ ہیں۔ ذرا غور فرمائیے کہ وہ ذات جس نے انسانوں کو فہم و شعور عطا فرمایا، پھر ان کی معنوی اور ذہنی تربیت فرمائی اور ان کی زندگی کی ہر ضرورت کو پورا فرمایا۔ خیر و شر کے ہر پہلو کو واضح کیا، نفع و ضرر کے پیمانے ان کے ہاتھوں میں دیے اور پھر ان کے اعمال کی حفاظت میں زمانوں کو حائل نہیں ہونے دیا۔ ان تمام باتوں کا فطری تقاضا ہے کہ وہ ایک دن تمام انسانوں کو جمع کرے گا اور ان سے ان کی زندگی کا حساب لے گا تاکہ کوئی شخص اپنی محرومیوں کی شکایت نہ کرے اور کسی شخص کو اپنی ناقدری کا گلہ نہ ہو۔ جن کے حقوق پامال کئے گئے وہ اپنی پامالی کا صلہ پائیں اور جنھوں نے قربانیاں دیں وہ قربانیوں کے اجر سے نوازے جائیں۔ ہر ظلم کی تلافی ہو، کوئی جرم کرنے والا سزا سے نہ بچ سکے۔ یہ اس زندگی کا لازمی اور فطری تقاضا ہے اس کے لیے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ بےپایاں علم کا مالک ہوتا، اس کی حکمت عدل و احسان کے امکانات کو بروئے کار لاتی۔ چناچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کہ ہمارا علم ناقص ہے اور ہم تمام انسانی نسلوں کے اعمال سے پوری طرح واقف نہیں، اور ہم سب کے احوال سے واقف نہیں ہوسکتے۔ انسانی جزاء و سزا کا اصول کس طرح بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تمہیں خاطرجمع رکھنی چاہیے کہ ہم سب کے حالات سے واقف ہیں۔ جب ہم بازپرس کریں گے تو ہم زندگی کے کسی گوشے سے بھی ناواقف نہیں ہوں گے۔ ہر شخص کے ساتھ پورا انصاف ہوگا اور اپنے عمل کے مطابق ہم سب سے حساب لیں گے۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

(بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا سڑے ہوئے بدبودار گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ (سورۃ الحجر : 26) (بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا سڑے ہوئے بدبودار گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح اس آیت کریمہ میں کچھ مشکل الفاظ آئے ہیں، پہلے ان کے معنی سمجھ لیجئے۔ صَلْصَالٍ : اس خشک شدہ کیچڑ کو کہتے ہیں جو خشک ہونے کے بعد بجنے لگے۔ حَمَأٍ: اس سیاہ کیچڑ کو کہتے ہیں جس کے اندر خمیر اٹھ جائے۔ مَّسْنُوْنٍ : بدبودار کیچڑجس میں چکنائی پیدا ہوگئی ہو۔ اس کے علاوہ اس کا اطلاق اس قالب پر بھی ہوتا ہے جسے ایک خاص صورت میں ڈھالا گیا ہو۔ اہلِ لغت کے نزدیک مختلف حالتوں میں مٹی کے مختلف نام ہیں۔ پانی میں بھگونے سے پہلے اسے ” تراب “ کہتے ہیں۔ پانی میں بھیگ جائے تو اسے ” طین “ یعنی کیچڑ بولتے ہیں اور جب اس میں بو پیدا ہوجائے یا اسے کوئی صورت دے دی جائے تو اسے ” مسنون “ کہتے ہیں۔ اور جب وہ خشک ہوجائے تو ” صلصال “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور جب اسے آگ میں پکا لیا جائے تو اسے ” فخار “ کہتے ہیں۔ دلائلِ آفاق کے بعد دلائلِ انفس سے استدلال گزشتہ رکوع میں پروردگار نے قریش کے روز روز کے نشانیوں کے مطالبے پر دلائلِ آفاق کا ذکر فرمایا جن میں سے آسمان کی چند مخلوقات کا ذکر فرمایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال علم کو واضح فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ ربوبیت کے بعض گوشوں کی بھی جھلک دکھائی گئی، پھر زمین اور اس سے متعلق نعمتوں کا ذکر فرمایا جس میں انسان کی غذا کا سازوسامان رکھا گیا ہے اور اس کے ایسے حیرت انگیزگوشوں کو واضح فرمایا جن پر انسان بہت کم غور کرتا ہے۔ اب اس رکوع میں دلائلِ انفس سے کام لیا جارہا ہے۔ انسان کے سامنے انسان کی اپنی تاریخ کو دہرایا جارہا ہے جس سے اس کی شخصیت کے بعض ایسے مخفی گوشے واشگاف کئے جارہے ہیں جو انسان کے لیے بیک وقت نصیحت اور عبرت کے بہت سے باب کھول دیتے ہیں۔ انہی ابواب میں سے ایک اہم ترین باب یہ ہے کہ قریش جس طرح تکبر اور نفرت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان لانے کی بجائے اس کا انکار کررہے ہیں، انھیں سوچنا چاہیے کہ یہ رویہ کس کے اثر سے ان کے اندر پیدا ہوا ہے، ورنہ جہاں تک ان کے اپنے جسم و جان اور صلاحیتوں کا تعلق ہے اور ان کے عمل پیدائش کا سوال ہے اور خاص طور پر ان کے جدِامجد کو جن عناصر سے پیدا کیا گیا ہے انھیں دیکھ کر اور غور کرکے تو ان کے اندر عاجزی ابھرنی چاہیے اور انھیں سوچنا چاہیے کہ ہم لوگ جس طرح ایک حقیر پانی کے قطرے سے پیدا کئے گئے ہیں اور ہمارے جدِ امجد کو جس طرح کھنکھناتے ہوئے گارے سے پیدا کیا گیا تھا اور پھر اپنی پیدائش کے بعد جس طرح وہ باقی تمام مخلوقات کے بچوں کی نسبت سے بےدست و پا اور سرتاپا احتیاج بن کر پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح قدم قدم پر اپنی صفت ربوبیت سے انھیں نوازا اور ان کے قدموں کے نیچے سے ان کے لیے غذا پیدا کی، ہر طرح کی زندگی کی آسائشوں سے انھیں بہرہ ور فرمایا کیا ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے کسی انسان کے لیے بھی اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بننے کی بجائے اس کے دین کی دعوت کے مقابلے میں صف آرا ہوجائے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اس کی پاداش میں اسے وہاں سے نکلنے کا حکم ہوا اور راندہ درگاہ کردیا گیا۔ اس نے اپنی اس بربادی اور ذلت کا سبب حضرت آدم (علیہ السلام) کو سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑی بےحیائی اور ڈھٹائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مہلت عمل مانگی اور اعلان کیا کہ میں سامنے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے انسانوں پر حملہ آور ہوں گا۔ اور تیرے قریب ترین بندوں کے سوا کسی کو تیری شکرگزاری پر قائم نہیں رہنے دوں گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت عمل دے دی اور جو اس نے قوت مانگی وہ بھی دے دی گئی۔ قریش کا یہ رویہ اور یہ عمل اس کے اسی اعلان کا نتیجہ ہے۔ اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی دنیا میں تشریف آوری سے لے کر قیامت تک آنے والے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ یہ جو کچھ آج قریش کہہ رہے ہیں، یہ اسی کی صدائے بازگشت ہے اور ان کا ہر عمل ابلیس کی خواہش کی تکمیل ہے۔ وہ خوش ہیں کہ ہمارے تکبر اور نخوت کو شاید غذا مل رہی ہے لیکن انھیں اندازہ نہیں کہ وہ ابلیس کے ارادوں کی تکمیل کررہے ہیں۔ اور جن معمولی باتوں سے انھوں نے اپنے آپ کو دین کی قبولیت سے محروم رکھا ہے، وہ شیطان ہی کے رویئے کا ثمر ہے۔ اس نے سب سے پہلے اپنے مادہ تخلیق کے حوالے سے اونچ نیچ کا سوال اٹھایا اور اسی کو عزت کا معیار بنا لیا۔ تم بھی غربت و امارت اور حسب و نسب کو فیصلہ کن کردار دے کر اپنے آپ کو خیر سے محروم کرچکے ہو۔ خود کہو کہ تمہارے اس رویئے کا جواز کیا ہے ؟ پیشِ نظر آیت کریمہ پر غور کیجئے، اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی ابتداء کیسے ہوئی ہے۔ اس کے الفاظ پر غور کرنے سے یہ تو ضرور مترشح ہوتا ہے کہ جس طرح باقی تمام جاندار پانی اور کیچڑ سے پیدا کئے گئے انسانی زندگی کی ابتداء بھی اسی سے ہوئی ہے۔ اور مزید یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اول وہلہ میں مٹی سے اٹھا نہیں کھڑا کیا گیا بلکہ ایک طویل پر اسس ہے جس سے اسے گزارا گیا۔ لیکن ہمیں اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ اس کا قوام مٹی اور پانی سے تیار ہوا۔ اور پھر یہ مٹی اور پانی نہ جانے کب تک تیاری کے مراحل سے گزرے اور پھر ایک وقت آیا کہ جب یہ قوام تیار ہوگیا تو اسے قالب میں ڈھالا گیا، پھر موسم کے اثرات سے اسے خشک ہونے کا موقع دیا گیا۔ اور پھر ایک وقت آیا کہ جب اسے حرارت سے پکایا گیا۔ فخار کے لفظ سے اسی کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے اور شاید انسان میں آتش غضب کا جو مادہ رکھا گیا ہے وہ اسی کا پرتو ہو۔ یہ تو وہ پر اسس ہے، ممکن ہے بعض اور مخلوقات بھی کم و بیش اسی طریقے سے وجود آشنا ہوئی ہوں۔ لیکن انسان اور باقی جانداروں میں جو ایک عظیم فرق محسوس ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ باقی تمام جانداروں کو ایک خاص سانچے میں ڈھالا گیا اور ایک خاص طریقے سے بنایا گیا لیکن کسی کے بارے میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ پروردگار نے اسے دست قدرت سے بنایا ہو جبکہ ہر چیز اس کے دست قدرت کی محتاج ہے۔ اور پھر اس کا تسویہ کیا گیا۔ تسویہ انسان کے لیے ایک ایسا اعزاز ہے جس میں اس کی خوبصورت شکل و صورت، اس کے اندرونی اور بیرونی خصائص، اس کے نازک احساسات، اس کی جمالی اور جلالی قوتیں، اس کی خواہشات، اس کے نفس کی مختلف حالتیں، اس کے دل کی وسیع دنیا، اس کے حواس خمسہ، پھر اس کا شعور اور اس کا جو ہر عقل یہ سب کچھ اس میں شامل ہے۔ اس کی بعض چیزیں جو حیوانیت کے لیے ضروری ہیں وہ حیوانوں کو ضرور عطا کی گئیں لیکن ان کا کمال اور باقی صفات صرف انسان کا خاصہ ہے اور وہ اسی تسویہ کا ثمر ہے۔ ایک اور چیز جس نے انسانوں کو مقام و مرتبہ میں کہیں کا کہیں پہنچا دیا وہ انسان کا اخلاقی کمال ہے۔ چناچہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے یہ فرمایا کہ ہم نے پھر اپنی روح کا پرتو اس پر ڈالا۔ چناچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا امین بن گیا اور اس کے اندر وہ صفات پیدا ہوئیں جس کے سامنے پوری کائنات کی رعنائیاں بھی ہیچ دکھائی دیتی ہیں۔ ان تمام گزارشات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کا اگرچہ اپنے مادہ تخلیق اور آغاز تخلیق کے اعتبار سے حیوانات کے ساتھ اشتراک پایا جاتا ہے لیکن اس بات کا تو دور دور تک امکان نہیں کہ انسان حیوانی منازل طے کرتا ہوا بشریت کی حدود میں داخل ہوا جیسا کہ ڈارون کی تھیوری ہمیں رہنمائی دیتی ہے۔ ڈارون کے نزدیک انسان بندر کی ترقی یافتہ صورت ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ انسان کی براہ ِ راست ابتداء ارضی مادوں سے ہوئی اور اس کے جدِ امجد کی تخلیق ایسی بجنے والی مٹی سے ہوئی جو پہلے بدبودار سیاہی مائل کیچڑ تھی۔ اس سے اس کا کالبد تیار ہوا پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے خاص روح پھونکی۔ اسی روح کی وجہ سے اس کے سر پر خلافتِ ارضی کا تاج رکھا گیا۔ اسی وجہ سے انسان مسجودِ ملائک بنا۔ ہم تفصیلات سے واقف نہیں لیکن انسانی تخلیق کے بارے میں قرآن کے اس نظریئے پر یقین رکھتے ہیں اور ہر مسلمان کو اسی پر یقین رکھنا چاہیے۔ ڈارون کا نظریہ اپنی موت مرچکا، کل تک اسے پوجنے والے آج علمی طور پر اسے متروک قرار دے چکے ہیں اور قرآن کریم کا نظریہ کل بھی روشن تھا، آج بھی روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہے گا۔
Ayah 15:27

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جان کو ہم نے پیدا فرمایا اس سے پہلے آگ کی لپٹ سے۔

وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ۔ (سورۃ الحجر : 27) (اور جان کو ہم نے پیدا فرمایا اس سے پہلے آگ کی لپٹ سے۔ ) جنات کی خلقت کا آغاز ” السَّمُوْمِ “ گرم ہوا کو کہتے ہیں جس میں دھواں نہیں ہوتا۔ اس کی نسبت چونکہ نار کی طرف کی گئی ہے اس لیے اس کا ترجمہ آگ کی لپٹ کیا گیا ہے۔ یعنی یہ نار سموم ہے یعنی آگ کی لپٹ۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ کی لپٹ یا لو کی لپٹ یا ہَوائے گرم سے پیدا کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنات کو براہ راست آگ سے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے عنصر لطیف یعنی گرم ہوا سے پیدا کیا گیا۔ اس سے پہلے کی آیت میں انسان کے مادہ تخلیق کو بیان فرمایا گیا اور اس آیت میں جنوں کے مادہ تخلیق کو۔ دونوں میں واضح فرق ہے۔ ایک نرا کثافت ہے اور دوسرا نرا لطافت۔ سڑا ہوا کھنکھناتا گارا ظاہر ہے ایک کثیف چیز ہے۔ آگ بجائے خود ایک لطیف چیز ہے لیکن پروردگار نے جنوں کو اس سے ایک عنصر لطیف نکال کر یعنی گرم ہوا سے پیدا فرمایا۔ آگ اپنی فطرت میں رفعت رکھتی ہے۔ وہ ہمیشہ اوپر کو جاتی ہے اور اس کی لپٹ میں تو اس سے بڑھ کر رفعت ہوگی اور مٹی کی فطرت میں قدرت نے پستی کی طرف گرنا لکھا ہے۔ اسے آپ جب بھی اچھالیں وہ زمین کی طرف گرتی ہے اور پستی میں اترتی ہے۔ چناچہ آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ مادہ تخلیق کا یہی فرق گمراہی کا سبب بن گیا۔
Ayahs 15:28–29

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

تو جب میں اس کو مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک لوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرپڑنا۔

وَاِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّن حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 28۔ 29) (اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ تو جب میں اس کو مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک لوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرپڑنا۔ ) فرشتوں سے سجدہ کرانے کا مقصد اور سجدہ کا مفہوم ملائکہ یعنی فرشتے چونکہ کائنات کا نظام چلا رہے ہیں اور پروردگار نے مختلف ذمہ داریوں پر انھیں فائز کر رکھا ہے۔ وہی کارکنانِ قضا و قدر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کائنات کے تکوینی نظام کا بیشتر حصہ ان کے ذمہ داریوں سے چل رہا ہے۔ پروردگار نے جب یہ ارادہ فرمایا کہ میں زمین میں ایک بشر اور انسان کے نام سے ایک نئی مخلوق پیدا کررہا ہوں اور اس کے سر پر خلافتِ ارضی کا تاج بھی رکھنے والا ہوں تو ایسا کرنے سے پہلے ضروری تھا کہ جو پاکیزہ مخلوق اور مقربینِ بارگاہِ الٰہی اس سے پہلے کائنات کا نظام چلا رہے تھے وہ اس نئی مخلوق کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہوجائیں کہ وہ اپنے مادہ تخلیق کے اعتبار سے کس قسم کی فطرت لے کر زمین پر جارہا ہے۔ اور پھر اس مادہ تخلیق کی کثافت کے باوجود میں جس طرح اس کا تسویہ کر رہا ہوں اور جن کمالات سے اسے نوازرہا ہوں انھیں بھی وہ اچھی طرح ملاحظہ کرلیں اور پھر انھیں یہ بھی معلوم ہو کہ میں اپنی خاص روح اس میں پھونک رہا ہوں۔ یعنی صفاتِ الٰہی کا ایک عکس یا پرتو اس پر ڈالنے والا ہوں۔ حیات، علم، قدرت، ارادہ، اختیار اور دوسری جتنی صفات انسان میں پائی جاتی ہیں جن کے مجموعہ ہی کا نام روح ہے یہ دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا ایک ہلکا سا پرتو ہے جو اس کالبدِ خاکی پر ڈالا گیا ہے۔ ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھیں تاکہ جب انھیں حضرت آدم ( علیہ السلام) کے سامنے جھکنے اور سجدہ کرنے کا حکم دیا جائے تو انھیں تأمل نہ ہو۔ آدم ( علیہ السلام) کے سامنے ان کے سجدہ ریزہونے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ وہ اسے اپنا مسجود سمجھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا نظام چلانے اور اپنی خلافت کی ذمہ داریاں احسن طریق سے انجام دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کائنات کے کارکنان اس کے احکام کی تعمیل کریں۔ وہ جو کرنا چاہیں اس کے لیے آسانیاں مہیا کریں۔ اسی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ فرشتوں کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا دراصل ان کی جانب سے اس بات کا اظہار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو زمین کی خلافت دے کر جس منصب پر فائز کیا ہے ہم نہ صرف اسے تسلیم کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہم ہر ممکن طریق سے اس میں تعاون کریں گے۔ تو اس سے خودبخود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انھیں حضرت آدم (علیہ السلام) کو مسجود بنانے کا حکم نہیں دیا جارہا ہے بلکہ احترام اور ان کی سرکاری حیثیت کو تسلیم کرانے کا ایک ذریعہ تھا۔ اس کے لیے صرف یہی کافی تھا کہ ان کے سامنے سر جھکا لیا جائے۔ اس لیے بہت سے مفسرین کی یہ رائے ہے کہ یہاں سجدے سے مراد زمین پر سر رکھنا نہیں بلکہ احترام، عقیدت اور منصب کے تسلیم کے لیے سر جھکانا ہے اور اگر اس سے مراد زمین پر سر رکھنا ہی لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سجدہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہوگا لیکن حضرت آدم قبلہ کی طرح فرشتوں کے سامنے ہوں گے۔ ان کی حیثیت صرف جہت اور سمت کی ہوگی لیکن مسجود اللہ تعالیٰ کی ذات ہوگی۔ جیسے آج ہم نماز میں کعبۃ اللہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ کعبۃ اللہ، اللہ تعالیٰ کے انوار کا مرکز ہے اس لیے وہ حد درجہ مسلمانوں کے نزدیک محترم ہے۔ لیکن سجدہ مسلمان اسے نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کو کرتے ہیں۔
Ayahs 15:30–38

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کردیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

پروردگار نے پوچھا، اے ابلیس ! تیرا کیا معاملہ ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دے۔

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

وہ بولا کہ میں ایک ایسے بشر کو سجدہ کرنے کو تیار نہیں جس کو تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ نکل جا یہاں سے تو مردود ہے۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

بیشک تجھ پر لعنت ہے روزجزا تک۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

کہنے لگا کہ اے میرے رب پھر مہلت دے مجھے اس دن تک جب مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا بیشک تو مہلت دیے ہوئے گروہوں میں سے ہے۔

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

جنھیں وقت مقرر کے دن تک مہلت دی گئی ہے۔

فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلاَّ ٓاِبْلِیْسَ ط اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ یٰٓاِبْلِیْسَ مَالَکَ اَلاَّ تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ ٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (سورۃ الحجر : 30 تا 38) (تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کردیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو۔ پروردگار نے پوچھا، اے ابلیس ! تیرا کیا معاملہ ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دے۔ وہ بولا کہ میں ایک ایسے بشر کو سجدہ کرنے کو تیار نہیں جس کو تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ نکل جا یہاں سے تو مردود ہے۔ بیشک تجھ پر لعنت ہے روزجزا تک۔ کہنے لگا کہ اے میرے رب پھر مہلت دے مجھے اس دن تک جب مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا بیشک تو مہلت دیے ہوئے گروہوں میں سے ہے۔ جنھیں وقت مقرر کے دن تک مہلت دی گئی ہے۔ ) آدم و ابلیس کی سرگزشت قصہ آدم و ابلیس کی چونکہ پوری تفصیلات پر ہم سورة بقرہ اور بعض دوسرے مواقع پر بھی بحث کرچکے ہیں۔ اس لیے یہاں تفصیلات سے گریز کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سجدہ پر تمام فرشتے سجدہ ریز ہوگئے مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا حالانکہ اس نے آج تک اللہ تعالیٰ کے کسی حکم سے کبھی سرتابی نہ کی تھی بلکہ کثرت عبادت کی وجہ سے تمام فرشتوں میں اس کی شہرت تھی۔ لیکن آج جب اسے امتحان پیش آیا جس میں اسے اپنی ذات اور اپنی نام نہاد عزت کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر قربان کرنا تھا تو وہ اس میں بری طرح ناکام ہوا۔ چناچہ جب اس سے پوچھا گیا کہ تو نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کیوں نہیں کیا تو اس نے صاف کہا کہ میں ایسے بشر کے سامنے نہیں جھک سکتا جسے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا گیا ہو جبکہ کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا۔ آگ میں رفعت ہے اور مٹی میں پستی۔ رفعت پستی کے سامنے کیسے جھک سکتی ہے۔ قریش کے لیے بھی یہی بڑا امتحان تھا۔ ان کے و ڈیرے اور ان کے رئیس آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ یہ تو ایک یتیم اور غریب آدمی کے سامنے جھکنے والی بات ہے بلکہ اسی پر بس نہیں، آپ جو تعلیمات لے کے آئے ہیں اس کے نتیجے میں تمام چھوٹے بڑے، غریب اور امیر حتیٰ کہ آقا اور غلام بھی ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قریش اپنیے تمام امتیازات سے دستبردار ہوجائیں گے اور ان کی حیثیت ایک عام عرب سے زیادہ نہیں ہوگی۔ یہ بات ان کے لیے قابل قبول نہ تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو درحقیقت سب سے بڑی بارگاہ ہے وہاں یہ مصنوعی بڑائیوں کے دعوے برداشت نہیں ہوتے۔ اس لیے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا، اس لیے کہ تو آج سے راندہ درگاہ ہے کہ کہاں تو تیرا یہ مقام کہ تو مقرب فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا، لیکن اب تیری حیثیت یہ ہے کہ تو اگر خاص حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کرے گا تو شہابوں کے پتھر تجھے سنگسار کردیں گے۔ اور قیامت تک تجھ پر لعنت برسے گی یعنی تو رحمت کی ہر بات سے محروم کردیا گیا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے کا نتیجہ ہر طرح کی خیر سے محرومی ہے تو اس کے اندر کی شیطنت اور بھڑکی تو بجائے معافی مانگنے کے کہنے لگا کہ پروردگار مجھے قیامت تک کے لیے مہلت دے دیجئے یعنی میری زندگی اتنی طویل فرما دیجئے تاکہ میں تیرے بندوں کو گمراہ کرسکوں۔ پروردگار نے ارشاد فرمایا : کہ میں تجھے مہلت دیتا ہوں ایک ایسے دن تک جس کا ایک معین وقت ہے۔
Ayahs 15:39–40

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

وہ بولا ! اے میرے رب، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں زمین میں دنیا کو ان کی نگاہوں میں ضرور خوشنما بنا دوں گا اور میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے تیرے ان بندوں کے جنھیں ان میں سے چن لیا گیا ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اَلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 39۔ 40) (وہ بولا ! اے میرے رب، چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں زمین میں دنیا کو ان کی نگاہوں میں ضرور خوشنما بنا دوں گا اور میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ سوائے تیرے ان بندوں کے جنھیں ان میں سے چن لیا گیا ہے۔ ) ابلیس کی گمراہی کا سبب اور اس کا ہدف اگر اللہ تعالیٰ کی بندگی کسی شخص میں عاجزی اور فروتنی پیدا نہیں کرتی تو پھر اس کی انا عام بگڑے ہوئے لوگوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ ابلیس نے اللہ تعالیٰ جانے کتنے سالوں تک اللہ تعالیٰ کی بندگی کی اور عبادت میں مثال بن گیا، لیکن اس عبادت اور بندگی نے اس کے اندر بندوں جیسی صفات پیدا کرنے کی بجائے اس کی انانیت میں اضافہ کیا۔ وہ اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھنے لگا۔ چناچہ جیسے ہی ارضی اجزاء سے پیدا کی جانے والی ایک مخلوق کے سامنے اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس کے اندر کی انا ایک طوفان بن کے اٹھی اور اس کے ہر نیک جذبے کو جلا کر رکھ دیا۔ وہ بھول گیا کہ میں اس سے پہلے کیا تھا۔ اب اس کے سامنے ایک ہی مقصد تھا کہ جس شخص کی وجہ سے مجھے یہ دن دیکھنا پڑا ہے، میں ہر ممکن طریقے سے اسے اور اس کی اولاد کو نقصان پہنچا کر اپنی تسکین کا سامان کروں۔ چناچہ انانیت کی اسی آگ میں جلتے ہوئے اس نے اللہ تعالیٰ برحق کے سامنے بھی گستاخانہ رویہ اختیار کیا اور نہایت گستاخی سے بولا کہ میں جس گمراہی کے راستے پر پڑگیا ہوں اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں بلکہ پروردگار آپ پر ہے۔ کیونکہ آپ نے مجھے ایک ایسی مخلوق کو سجدہ کرنے کا حکم دیا جو اپنے مادہ تخلیق کے اعتبار سے مجھ سے نہایت فروتر تھی۔ مجھے آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا جس کی فطرت اور جس کی ماہیت میں ایک پاکیزگی بھی ہے اور ایک برتری بھی۔ اور مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم دیا گیا جو سرتاپا کثافت اور فروتنی کا نام ہے۔ چناچہ میں اس کا انتقام لینے کے لیے جو کرنا چاہتا ہوں، میں اسے چھپا کر نہیں رکھ سکتا کیونکہ میرے اندر ایک آگ لگی ہوئی ہے اور چھپا کر رکھوں بھی تو آپ سے کیا چھپایا جاسکتا ہے۔ میرا طریق واردات یہ ہوگا کہ میں دنیا میں جو کچھ ہے اسے آخرت کے مقابلے میں نہایت مزین کرکے دکھائوں گا تاکہ انسان دنیا پر ریجھ جائے اور آخرت پر اسے ترجیح دے۔ اس کی ایک ایک نعمت پر جان دے اور اسی کو بنانے سنوارنے اور اسی کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے میں اپنی زندگی کھپا دے اور اس کے مقابلے میں آخرت کو محض ایک بہلاوا سمجھے۔ اور مزید یہ بھی کروں گا کہ انسان کے ہر عمل کو اس کے دل میں مزین کردوں گا۔ وہ برائی کرے گا، میں اسے نیکی بنا کے دکھائوں گا۔ اور اس کی ہر غلط بات کو بھی میں دلائل کے انبار میں دبا دوں گا۔ اس کی ذات اس قدر میں اسے عزیز بنا دوں گا کہ اس کی تعمیرو ترقی کے لیے وہ انسانی آبادیوں کو تباہ کرنے، بچوں کو نیزوں پر اچھالنے اور ہر بڑے سے بڑے ظلم سے دریغ نہیں کرے گا اور اس طرح سے میں تمام انسانوں کو گمراہ کرکے رکھ دوں گا اور اس کے لیے میں جو محنت کروں گا (اس کی تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ ) اس کی کوئی انتہاء نہیں ہوگی۔ البتہ میں یہ جانتا ہوں کہ میری یہ ساری کاوشیں تیرے مخلص بندوں پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔ وہ میرے ہر حملے سے محفوظ رہیں گے اور میرے بڑے سے بڑے چرتر کا مقابلہ ان کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔
Ayahs 15:41–42

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سیدھا راستہ ہے جو میری طرف آتا ہے۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا، مگر وہ جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کرتے ہیں۔

قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلاَّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 41۔ 42) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سیدھا راستہ ہے جو میری طرف آتا ہے۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا، مگر وہ جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کرتے ہیں۔ ) صراطِ مستقیم سے مراد ؟ اور ابلیس کی مہلت کی حد ؟ پہلی آیت کریمہ میں فرمایا کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے اور سابقہ آیت کے مفہوم پر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں دراصل یہ فرمایا جارہا ہے کہ میرے ساتھ مکمل اخلاص کے ساتھ بغیر شرک کے اور بغیر ریا کے بندگی کی زندگی گزارنا یہ صراط مستقیم ہے۔ اور جو میرے بندے اس صراط مستقیم پر قائم رہتے ہیں ان پر شیطان کا کبھی غلبہ نہیں ہوتا۔ وہ میری شریعت سے انحراف نہیں کرتے تو شیطان کو حکم چلانے کا موقع نہیں ملتا۔ وہ اپنے دل میں میری محبت اور میرے خوف کے سوا کسی دوسرے کا تصور داخل نہیں ہونے دیتے تو شیطان کو ان کے نازک جذبات تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ اور ویسے بھی دوسری آیت میں یہ اشارہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ شیطان سے یہ کہا جارہا ہے کہ ہم نے تجھے قیامت تک کے لیے زندگی دے دی اور گمراہ کرنے کے لیے مہلت دے دی اور کسی حد تک اس کے وسائل بھی دے دیے۔ البتہ میرے جو بندے اخلاص کے ساتھ مجھ سے وابستہ رہیں گے تمہیں اس بات کا اختیار نہیں دیا کہ تم ان پر غلبہ پانے کی کوشش کرو۔ وہ تمہاری دسترس سے آزاد ہوں گے۔ تیری دسترس میں صرف وہ لوگ آئیں گے جو اللہ تعالیٰ کے راستے کو چھوڑ کر اس کے اخلاص کے رشتے کو توڑ کر گمراہی کی زندگی گزار رہے ہوں گے۔
Ayahs 15:43–44

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

بیشک جہنم ان سب کے لیے وعدہ کی جگہ ہے۔

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مخصوص ہے۔

وَاِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُ ھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ط لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْئٌ مَّقْسُوْمٌ۔ (سورۃ الحجر : 43۔ 44) (بیشک جہنم ان سب کے لیے وعدہ کی جگہ ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مخصوص ہے۔ ) جہنم کی وسعت اور اس میں لے جانے والے مہلکات گزشتہ آیات میں ابلیس نے نہایت جسارت کے ساتھ پروردگار کے حضور میں کہا کہ میں تیرے بندوں کو ہر ممکن طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ پروردگار نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کے لیے مہلت دے چکا ہوں، تمہارے جو جی میں آئے کرو، لیکن یہ یاد رکھو میرے مخلص بندوں پر تمہارا بس نہیں چلے گا۔ صرف وہ گمراہ لوگ ہوں گے جو تیرے دائو و فریب کا شکار ہوں گے۔ لیکن تمہیں اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ میں نے تم سب کے لیے جہنم تیار کر رکھا ہے۔ تم اور تمہارے متبعین چاہے کتنی تعداد میں بھی ہوئے جہنم ان سب کے لیے کافی ہوگا۔ اس کے سات دروازے ہیں اور بعض علماء کے نزدیک اس کے سات طبقے ہیں اور ہر طبقے کا ایک الگ دروازہ ہے۔ ان سات طبقوں کے نام یہ ہیں جہنم، لظیٰ ، الحطمہ، السعیر، السقر، الجحیم الہاویہ۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہونے والوں کی ایک خاص تعداد ہوگی اور تعداد کا تعین اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان میں کوئی نہ کوئی درجہ بندی بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس درجہ بندی کی بنیاد کس چیز پر ہوگی ؟ اس سلسلے میں کوئی حتمی بات کہنا تو ممکن نہیں، کیونکہ جہنم مفسدین کا مرکز ہے اور فساد کی کوئی ایک قسم نہیں۔ فساد عقیدے میں بھی ہوتا ہے اور عمل میں بھی۔ اور اگر بڑے بڑے فسادات کو شمار کرلیا جائے اور انھیں کو بنیاد بنایا جائے اس درجہ بندی کے لیے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ عقیدے کا سب سے بڑا فساد شرک ہے۔ اور اعمال میں قطع رحم ہے، قتل ہے، زنا ہے، جھوٹی شہادت ہے، کمزوروں پر ظلم ہے اور بغی ہے۔ اس طرح سے بڑے بڑے فسادات کی تعداد سات تک پہنچتی ہے۔ ممکن ہے انھیں کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے ان کی درجہ بندی کی ہو۔ حقیقت بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے جہنم کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور ابلیس کی امت کے انجام کی بھی خبر ہوجاتی ہے۔
Ayahs 15:45–48

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

(بیشک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

انھیں کہا جائے گا) تم داخل ہوجائو ان جنتوں میں سلامتی کے ساتھ بےخوف ہوکر۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے وہ آمنے سامنے بھائی بھائی کی طرح تختوں پر براجمان ہوں گے

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

اس میں نہ تو کوئی ان کو تکان لاحق ہوگی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ اُدْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ ۔ وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ لاَیَمَسُّہُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 45۔ 46۔ 47۔ 48) (بیشک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (انھیں کہا جائے گا) تم داخل ہوجاؤ ان جنتوں میں سلامتی کے ساتھ بےخوف ہوکر۔ ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے وہ آمنے سامنے بھائی بھائی کی طرح تختوں پر براجمان ہوں گے اس میں نہ تو کوئی ان کو تکان لاحق ہوگی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ ) متقین کا انجام ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کا انجام بیان کرنے کے بعد اب ان لوگوں کے احوال کا ذکر ہورہا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے، خواہشات کی پیروی سے بچنے والے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ ہی کے راستے پر ڈال دینے والے لوگ ہوں گے۔ یہ لوگ باغات میں اور چشموں میں ہوں گے، ان کی ایسی بستیاں بسائی جائیں گی جس میں باغوں کا گھنا سایہ اور رسیلے خوشبودار پھلوں کی جھکی ہوئی شاخیں کام و دہن کو لذت دینے کے ساتھ ساتھ مشام جان کو بھی معطر کررہی ہوں گی۔ ان کے دائیں بائیں اور نیچے سے ندیاں رواں ہوں گی۔ مسرتوں کی گھٹائیں ان کے سر پر تلی کھڑی رہیں گی۔ انھیں کہا جائے گا ان بستیوں میں داخل ہوجاؤ، سلامتی تمہاری بلائیں لے گی اور تمہیں کسی قسم کا کوئی کھٹکا نہیں ہوگا۔ دنیا میں بڑی سے بڑی خوشی کو بھی زوال لاحق ہوتا ہے۔ اور بڑے سے بڑا آدمی بھی ایک دن فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے، لیکن جنت ایک ایسا مقام ہوگا جس میں طبیعت کے ناموافق کسی چیز کا ظہور نہیں ہوگا۔ خوشیوں کے چشمے ابلیں گے اور ہر خوشی اور راحت ابدی ہوگی۔ ٹھیک کہا کسی نے : بہشت آنجا کہ آزارے نہ باشد کسے را باک سے کارے نہ باشد انسانوں کے مزاج کا اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ مہذب ترین لوگوں میں بھی مکمل ہم آہنگی کبھی نہیں ہوتی۔ نہایت شائستہ مجالس میں بھی شکررنجی اور مزاج کی ناموافقت کا کوئی نہ کوئی سبب پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ جنت میں رہنے والے ایسے نادر روزگار لوگ ہوں گے کہ جن کے درمیان ناموافقت کی کوئی صورت نہیں رہے گی اور اگر دنیا میں کوئی ایسی بات طبیعتوں میں رہی بھی ہوگی تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں بھیجنے سے پہلے ان کے دلوں سے ایسی ہر کدوت کو نکال باہر کریں گے۔ مختلف مزاج کے لوگ کبھی اگر اکٹھے ہو بھی جائیں تو ایک دوسرے سے دور یا منہ پھیر کر بیٹھتے ہیں لیکن یہ لوگ آمنے سامنے تختوں پر بھائیوں کی طرح براجمان ہوں گے۔ حضرت علی ( رض) کی طرف یہ قول منسوب ہے۔ آپ ( رض) نے فرمایا : ارجو ان اکون انا و عثمان و طلحہ و زبیر منہم میں امید کرتا ہوں کہ میں، عثمان، طلحہ، زبیر انھیں لوگوں میں سے ہوں۔ مزید فرمایا کہ آدمی کے ساتھ جو ضرورتیں لگی ہیں اور کوئی تکلیف بھی نہ ہو تو ضرورتوں کی فراہمی بجائے خود ایک تھکا دینے والی چیز ہے اور اگر یہ خیال بھی دامن گیر رہے کہ انسانوں کو کبھی کوئی نعمت ہمیشہ کے لیے نہیں ملتی تو یہ خیال ہی بجائے خود ایک عذاب سے کم نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ وہاں انھیں نہ کسی مشقت سے واسطہ پڑے گا، نہ کسی طرح کی تکلیف سے، اور نہ انھیں اس جنت سے کبھی نکالا جائے گا بلکہ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : یُقَالُ لاھل الجنۃ ان لکم ان تصحوا ولاتمرضوا ابدا وان لکم ان تعیشوا فلا تموتوا ابدا و ان لکم ان تشبوا ولا تھرموا ابدا وان لکم ان تقیموا فلا تضعنوا ابدا اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے اور اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی موت تم کو نہ آئے گی اور اب تم ہمیشہ جواں رہو گے، کبھی بڑھاپا تم پر نہ آئے گا۔ اب تم ہمیشہ مقیم رہو گے، کبھی کوچ کرنے کی تمہیں ضرورت نہ ہوگی۔
Ayahs 15:49–50

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا مہربان ہوں۔

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

(اور یہ بھی بتادو) کہ بیشک میرا عذاب بھی بڑا ہی دردناک ہے۔

نَبِّیْٔ عِبَادِیْ ٓ اَنِّیْ ٓ اَنَا الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ وَاَنَّ عَذَابِیْ ھُوَالْعَذَابُ الْاَلِیْمُ ۔ (سورۃ الحجر : 49۔ 50) (میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا مہربان ہوں۔ (اور یہ بھی بتادو) کہ بیشک میرا عذاب بھی بڑا ہی دردناک ہے) اللہ تعالیٰ کی رحیمی سے متعلق غلط فہمی کا ازالہ قریش کو خصوصاً اور باقی نوع انسانی کو عموماً یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دو صفات ہیں جو برابر برابر چلتی ہیں۔ ایک اس کی صفت رحم اور دوسری صفت سزا دینا اور عذاب نازل کرنا ہے۔ وہ اپنے فرمانبردار بندوں پر ہمیشہ رحم فرماتا ہے اور جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول ( علیہ السلام) ہدایت لے کر آتا ہے اس رسول ( علیہ السلام) کی مخاطب قوم کو اگر وہ ایمان نہیں لاتی تو ڈھیل پر ڈھیل دینا بھی اس کی صفت رحمت کا ظہور ہے۔ انسانوں کی سرکشی کا تقاضا تو یہ ہے کہ جب وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں تو انھیں تباہ کردیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت انھیں بجائے تباہ کرنے کے سنبھلنے کے لیے مہلت دیتی ہے۔ وہ اپنی حماقت کے باعث ہمیشہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انھیں زیادہ سے زیادہ سنبھلنے اور غور و فکر کرنے کا موقع مہیا کرتا ہے۔ لیکن جب تمام تر رحمت کے باوجود وہ لوگ راہ راست پر آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو پھر آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب ان کی کمر توڑ دیتا ہے۔ اس لیے اہل مکہ کو یہ بتایا جارہا ہے کہ تم نے آج تک اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کو دیکھا ہے۔ اس بےآب وگیاہ وادی میں قسم قسم کی نعمتوں کا ظہور اور پھلوں کے رزق کی بہم رسانی اور بیت اللہ تعالیٰ کو مرجع خلائق بنادینا اور اسی گھرکے زیراثر پورا جزیرہ عرب جو نفرتوں کا مرکز بن چکا ہے اس میں حرم کو دارالامن کی حیثیت دے دینا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کا ظہور ہے۔ اور اب سالوں سے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ( علیہ السلام) کے خلاف جو رویہ انھوں نے اختیار کر رکھا ہے، اس پر خدا کا عذاب نہ آنا یہ بھی اسی کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہ مہلت ہمیشہ کے لیے نہیں، ایک دن ختم ہوجائے گی۔ اس کے بعد کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب آسکتا ہے۔ تم نے آج تک اس کی رحمت کے مزے لوٹے ہیں، آنے والے دنوں کی فکر کرو اور اپنا رویہ بدلو۔ اور اگر تم نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی دعوت کو قبول نہ کیا تو پھر تمہیں اس عذاب الیم سے کوئی نہ بچا سکے گا۔
Ayahs 15:51–53

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انھیں ابراہیم ( علیہ السلام) کے مہمانوں سے متعلق بھی آگاہ کردو۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب وہ آپ ( علیہ السلام) کے پاس آئے تو انھوں نے کہا آپ ( علیہ السلام) پر سلام ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہم تو آپ لوگوں سے اندیشہ ناک ہیں۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

مہمانوں نے کہا آپ ( علیہ السلام) کوئی اندیشہ نہ کریں، ہم آپ ( علیہ السلام) کو مژدہ سنانے آئے ہیں، ایک ذی علم بچے کی پیدائش کا

وَنَبِّئْھُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰھِیْمَ ۔ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْہِ فَقَالُوْا سَلٰمًا ط قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ ۔ قَالُوْا لاَ تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ ۔ (سورۃ الحجر : 51۔ 52۔ 53) (اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں سے متعلق بھی آگاہ کردو۔ جب وہ آپ کے پاس آئے تو انھوں نے کہا آپ پر سلام ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہم تو آپ لوگوں سے اندیشہ ناک ہیں۔ مہمانوں نے کہا آپ کوئی اندیشہ نہ کریں، ہم آپ کو مژدہ سنانے آئے ہیں، ایک ذی علم بچے کی پیدائش کا۔ ) تاریخ کی شہادت سابقہ دو آیتوں میں ہم نے پڑھا کہ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ اس کا عذاب، عذاب الیم ہے۔ اب ان دونوں باتوں کی تائید میں تاریخ سے دو اہم واقعات بیان کئے جارہے ہیں۔ ایک واقعہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دلیل ہے اور دوسرا اس کے عذاب الیم کا۔ رحمت کی دلیل کے طور پر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی۔ اور عذاب الیم کی دلیل کے طور پر اگلوں آیتوں میں قوم لوط پر عذاب کی تفصیل بیان کی ہے۔ پیش نظر آیتوں میں صرف پہلے واقعہ کا ذکر ہے اور وہ بھی نہایت اختصار سے۔ اس کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے کہ دو خوبصورت نوجوان مہمان بن کر اچانک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر پر تشریف لائے۔ انھوں نے آکر آپ ( علیہ السلام) کو سلام کہا، یہ گویا اس بات کی علامت تھی کہ ہم آپ ( علیہ السلام) کے لیے سلامتی کا پیغام لائے ہیں، ہم آپ ( علیہ السلام) کے دشمن نہیں۔ آپ ( علیہ السلام) اگرچہ انھیں پہچان نہیں سکے کیونکہ ان کی شکلیں بالکل اجنبی لوگوں کی تھیں۔ لیکن یہ سمجھ کر کہ وہ شریف مہمان ہیں جلدی سے ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ جب کھانا ان کے سامنے چنا گیا تو انھوں نے ہاتھ بڑھانے سے گریز کیا۔ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تشویش پیدا ہوئی کیونکہ اس زمانے میں اگر کوئی مہمان میزبان کی ضیافت قبول نہیں کرتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ مہمان نہیں بلکہ دشمن ہے اور وہ کسی انتقام کے لیے آیا ہے۔ اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مہمان سے کہا کہ ہم آپ کی اجنبیت اور آپ کے گریز سے آپ کی طرف سے اندیشوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ آنے والوں نے کہا کہ آپ ( علیہ السلام) ہماری طرف سے پریشان نہ ہوں، ہم تو آپ ( علیہ السلام) کے لیے خوشخبری لے کر آئے ہیں اور وہ خوشخبری یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ اس بڑھاپے میں ایک نہایت سمجھدار اور ذی علم بچہ عطا فرمائے گا۔ غلام کے ساتھ علیم کی صفت سے اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جو بیٹا آپ ( علیہ السلام) کو عطا فرما رہا ہے وہ صرف فرزند ہی نہیں ہوگا بلکہ وہ علم نبوت سے بھی سرفراز ہوگا۔ اس بات نے اس خوشخبری کی قدر و قیمت میں نجانے کتنا اضافہ کردیا۔ بیٹا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے لیکن یہ تو ساری دنیا کو ملتے ہیں لیکن بیٹے کا پیغمبر ہونا ایک ایسی نعمت ہے جس سے کوئی کوئی سرفراز ہوتا رہا ہے۔
Ayah 15:54

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

آپ ( علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تم مجھے اس وقت خوشخبری دے رہے ہو جبکہ بڑھاپا مجھے لاحق ہوچکا ہے۔ تو کس بل پر بشارت دے رہے ہو۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰٓی اَنْ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُفَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 54) (آپ نے کہا کہ کیا تم مجھے اس وقت خوشخبری دے رہے ہو جبکہ بڑھاپا مجھے لاحق ہوچکا ہے۔ تو کس بل پر بشارت دے رہے ہو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حُسنِ طلب بیٹے کی خوشخبری سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت مسرور ہوئے لیکن ساتھ ہی متعجب بھی، کہ کیا اس عمر میں مجھے اس نعمت سے نوازا جائے گا جبکہ میں بڈھا کھوسٹ ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہیں۔ بظاہر اسباب تو اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن آپ کہتے ہیں تو یقینا صحیح ہوگا لیکن یہ آپ کس بل پر کہہ رہے ہیں ؟ ایک طرف خوشی اور دوسری طرف تعجب جس میں انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ اس بات کی طلب ضرور ہے کہ اس خبر کو پھر دہرایا جائے تاکہ تعجب دور ہو۔
Ayah 15:55

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہم نے آپ (علیہ السلام) کو ایک امرواقعی کی بشارت دی ہے تو آپ ( علیہ السلام) ناامید ہونے والوں میں سے نہ ہوں۔

قَالُوْا بَشَّرْنٰـکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 55) (انھوں نے کہا ہم نے آپ کو ایک امرواقعی کی بشارت دی ہے تو آپ ناامید ہونے والوں میں سے نہ ہوں۔ ) فرشتوں کی یقین دہانی فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہارتعجب کو بھی مایوسی پر محمول کیا۔ اس لیے کہ فرشتوں کے یہاں یقین اور اطاعت کے سوا اور کسی جذبے کا گزر نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نبی وہ کامل ہوتے ہوئے بھی اسباب کی دنیا سے یکسر لاتعلق نہیں ہوسکتے۔ شاہ عبدالقادر صاحب ( رح) نے ٹھیک فرمایا کہ کاملین بھی اسباب کی کسی نہ کسی حد تک پرواہ کرتے ہیں تو فرشتوں نے کہا کہ ہم نے آپ ( علیہ السلام) کو جس بات کی خبر دی ہے وہ امر واقعی ہے۔ مستقبل میں اس کا ظہور ہو کے رہے گا۔ اس کے وقوع پذیر ہونے میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) کو اس کے بارے میں مایوسی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
Ayah 15:56

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : کہ اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون ناامید ہوسکتا ہے ؟

قَالَ وَمَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖ اِلاَّ الضَّآلُّوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 56) (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : کہ اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون ناامید ہوسکتا ہے ؟ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اظہارِ حقیقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے خیال کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کا یہ سمجھنا کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوں، یہ بالکل غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو صرف گمراہ لوگ ہوتے ہیں اور میں بفضلہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کا رسول ( علیہ السلام) ہوں، گمراہ کیسے ہوسکتا ہوں۔ البتہ ازراہِ تعجب کسی بات کا اظہار یا کوئی سوال یہ انسانی صفات کا تقاضا ہے۔
Ayah 15:57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے فرستادگانِ الٰہی ! تمہاری مہم کیا ہے ؟

قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَاالْمُرْسَلُوْن۔ (سورۃ الحجر : 57) (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے فرستادگانِ الٰہی ! تمہاری مہم کیا ہے ؟ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اندیشہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیٹے کی خوشخبری سن کر اپنے تئیں مطمئن بھی ہوئے اور مسرور بھی۔ لیکن ایک بات مسلسل ان کے دل میں کھٹک رہی تھی کہ اگر آپ صرف بیٹے کی خوشخبری کے لیے آئے ہیں تو اس کے لیے انسانی شکلوں میں باجماعت آنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ان کے سامنے کوئی مہم ہے۔
Ayahs 15:58–60

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا : ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے گھر والے ہم ان سب کو بچا لیں گے۔

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

بجز اس کی بیوی کے، ہم نے اس کو تاک رکھا ہے، وہ بیشک پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔

قَالُـْوٓ ا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ ۔ اِلاَّ ٓ اٰلَ لُوْطٍ ط اِنَّا لَمُنَجُّوْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلاَّ امْرَاَتَہٗ قَدَّرْنَآ لااِنَّھَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 58۔ 59۔ 60) (فرشتوں نے کہا : ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ مگر لوط کے گھر والے ہم ان سب کو بچا لیں گے۔ بجز اس کی بیوی کے، ہم نے اس کو تاک رکھا ہے، وہ بیشک پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔ ) فرشتوں کا جواب فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ یہ نہایت مختصر ساجواب ہے۔ اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس قوم کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ قوم لوط سے واقف تھے اور اس وقت کی دنیا کے مذہبی حالات سے بیخبر نہیں تھے۔ اس لیے وہ خوب جانتے تھے کہ اس مجرم قوم سے مراد قوم لوط ہے جس نے جرائم کی انتہا کر رکھی ہے اور جس میں اب اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ اس لیے صرف مجرمین کے لفظ سے آپ ( علیہ السلام) اس جواب کو پوری طرح سمجھ گئے۔ البتہ انھیں اس بات کی فکر ہوئی کہ وہاں تو حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے بچے بھی ہیں۔ ممکن ہے کچھ لوگ ان پر ایمان بھی لائے ہوں، وہ بھی آل میں شامل ہوں۔ اس لیے فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے فوراً کہا کہ آپ فکر نہ کیجئے، آل لوط کی ہمیں بھی فکر ہے، لیکن آپ اطمینان رکھئے ہم ان سب کو بچا لیں گے۔ البتہ آل لوط میں چونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی شامل ہے اور وہ آپ ( علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہم اس کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہیں کہ اسے باقی مجرم قوم کے ساتھ آل لوط سے الگ اسی بستی میں رہنا ہے اور جو عذاب قوم لوط پر آرہا ہے اسے بھی اسی عذاب کا شکار ہونا ہے۔ ایک دفعہ پھر فرشتوں کے جواب پر نظر ڈالیے اور ان کے الفاظ پر غور کیجئے تو آپ محسوس کریں گے کہ ان کے لہجے کے تیور بہت تیکھے ہیں۔ وہ ان کے جرائم کی وجہ سے سخت غصے میں ہیں۔ اس لیے بجائے ان کا نام لینے کے صرف مجرم قوم کہہ کر بات کو ختم کردیتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کے نزدیک ان کا حسب و نسب اس کے سوا کوئی اور باقی نہیں رہ گیا اور ان کی شناخت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مجرم قوم ہیں۔ اب ان کو اس دھرتی پر باقی نہیں رہنا چاہیے۔ ان الفاظ پر غور کرنے سے دوسری بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو سنبھلنے کے لیے مہلت پہ مہلت دیتا ہے۔ لیکن جب مہلت کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو پھر انھیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آتا ہے تو وہ کسی کو معاف نہیں کرتا۔ وہ اس طرح بےلاگ ہوتا ہے کہ نہ اس سے پیغمبر ( علیہ السلام) کا بیٹا بچتا ہے اور نہ پیغمبر ( علیہ السلام) کی بیوی چھوڑی جاتی ہے۔