15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsروح القرآن

Ayahs 15:61–64

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

(جب فرستادے آل لوط کے پاس پہنچے۔

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو حضرت لوط نے کہا آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا ہم آپ کے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ شک کیا کرتے تھے۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

ہم آپ کے پاس حق لے کر آئے ہیں، اور ہم بلاشبہ سچ کہہ رہے ہیں۔

فَلَمَّا جَآئَ اٰلَ لُوْطِنِ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ قَالَ اِنُّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ ۔ قَالُوْا بَلْ جِئْنٰـکَ بِمَا کَانُوْا فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ ۔ وَاَتَیْنٰـک بِالْحَقِّ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 61۔ 62۔ 63۔ 64) (جب فرستادے آل لوط کے پاس پہنچے۔ تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا آپ لوگ تو اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ فرشتوں نے کہا ہم آپ ( علیہ السلام) کے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ شک کیا کرتے تھے۔ ہم آپ ( علیہ السلام) کے پاس حق لے کر آئے ہیں، اور ہم بلاشبہ سچ کہہ رہے ہیں۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) اور فرشتے جب یہ فرشتے قوم لوط کی بستی میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر پہنچے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو حضرت لوط (علیہ السلام) انھیں پہچان نہیں سکے۔ البتہ انھیں دیکھ کر کہا کہ تم تو اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہو کیونکہ تمہارا کوئی تعلق ان بستیوں سے معلوم نہیں ہوتا۔ فرشتوں نے کہا کہ آپ ( علیہ السلام) کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، ہم درحقیقت انسان نہیں، فرشتے ہیں۔ اور ہم اس قوم پر وہ چیز لے کے آئے ہیں جس سے انھیں ہمیشہ انکار رہا۔ یعنی ہم ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے کر آئے ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) انھیں عذاب سے ڈراتے رہے ہیں اور انھوں نے ہمیشہ آپ ( علیہ السلام) کا تمسخر اڑایا اور اب کسی کو اس میں شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم وہی حق یعنی عذاب لے کے آئے ہیں۔ اور ہم اس لحاظ سے بالکل سچے ہیں۔ اب آپ ( علیہ السلام) کو ہماری ان ہدایات پر عمل کرنا چاہیے جو اس عذاب سے بچنے کے لیے ضروری ہیں۔
Ayahs 15:65–67

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

تو چلے جائیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رات کے کسی حصے میں، اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ اور چلے جائیے جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے اپنے اس فیصلے سے حضرت لوط کو آگاہ کردیا ہے کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور اتنے میں شہر کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے آگئے۔

فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌوَّامْضُوْا حَیْثُ تُؤْمِرُوْنَ ۔ وَقَضَیْنَآ اِلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَھٰٓؤْلَآئِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 65۔ 66) (تو چلے جائیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رات کے کسی حصے میں، اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ اور چلے جائیے جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ہم نے اپنے اس فیصلے سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو آگاہ کردیا ہے کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایات عذاب کے آنے سے پہلے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو کچھ احیتاطی تدابیر بتائیں تاکہ آپ ( علیہ السلام) ، آپ ( علیہ السلام) کی آل عذاب کے اثرات سے محفوظ رہیں۔ ہم اسی ترتیب سے اسے ذکر کرتے ہیں۔ 1 رات کے کسی حصے میں اپنے اہل بیت کو لے کر نکل جائیے اور وہاں چلے جایئے جہاں جانے کا آپ ( علیہ السلام) کو حکم دیا گیا ہے۔ 2 آپ ( علیہ السلام) اپنے اہل و عیال کے پیچھے پیچھے جائیے، جس طرح راعی اپنے گلے کے پیچھے پیچھے چلتا ہے تاکہ کوئی بھیڑ ریوڑ سے الگ رہ کر بھیڑیئے کا شکار نہ ہوجائے۔ 3 بستی سے نکلنے کے بعد کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھئے۔ تورات میں ہے کہ یہ ہدایت اس لیے دی گئی تھی کہ تم میں سے اگر کوئی پیچھے پلٹ کر دیکھے گا تو وہ پتھر کا ہوجائے گا۔ لیکن قرآن کریم نے ایسی کسی بات کا تذکرہ نہیں فرمایا اور نہ یہ بات اسلامی مزاج کے مطابق معلوم ہوتی ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ ہدایت اس لیے کی گئی تھی تاکہ اس بستی سے نکلنے والے محض ہجرت الی اللہ تعالیٰ کے لیے نکلیں، پیچھے پلٹ کر دیکھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جانے والے ابھی تک اپنا دل و دماغ اس بستی میں رکھتے ہیں جو بستی چند ساعتوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہونے والی ہے۔ مومن کے ایمان کا تو تقاضا یہ ہے کہ جب بھی اسے اللہ تعالیٰ کا حکم مل جاتا ہے تو وہ اس کی تعمیل میں دامن جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو وحی الٰہی کے ذریعے بھی بتادیا گیا تھا کہ صبح ہونے تک اس بستی پر خدا کا عذاب آجائے گا اور یہ لوگ جو خودسری میں اپنی مثال آپ ہیں ایک ایسے عبرتناک انجام کو پہنچیں گے کہ لوگ ہمیشہ ان کے تذکرے سے عبرت پکڑیں گے۔
Ayahs 15:68–69

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

آپ نے کہا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں، تم لوگ مجھے رسوا نہ کرو۔

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔

قَالَ اِنَّ ھٰٓؤْلَآئِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ ۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَلاَ تُخْزُوْنِ ۔ (سورۃ الحجر : 68۔ 69) (آپ ( علیہ السلام) نے کہا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں، تم لوگ مجھے رسوا نہ کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔ ) بدمعاشوں کو سمجھانے کی انتہائی کوشش حضرت لوط (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ یہ بدمعاش لوگ اپنے ناپاک ارادے لے کر میرے گھر پہنچ گئے ہیں اور اپنے ناپاک ارادے میرے مہمانوں کے ساتھ پورا کرنا چاہتے ہیں تو آپ ( علیہ السلام) نے ہر ممکن طریقے سے انھیں روکنا چاہا اور سب سے پہلے وہ حوالہ دیا جو ہر قوم میں ہمیشہ قابل وقعت رہا ہے۔ عرب بھی اپنے مہمان کی عزت کی خاطر بڑے سے بڑے خطرے کو انگیخت کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں اور مہمان کی عزت میزبان کی عزت ہوتی ہے اور تم اچھی طرح مہمان کی عزت کی قدر و قیمت کو جانتے ہو۔ اس کے باوجود اگر تم نے میرے مہمانوں کی عزت پامال کردی تو ذرا سوچو کہ میں اپنے مہمانوں کو کیا منہ دکھائوں گا۔ اور اگر تمہیں مہمانوں کی عزت کا خیال نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی نہ تو کسی مہمان کی عزت سے کھیلنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ اس فعلِ بد کی اجازت دیتا ہے جس ارادے سے تم میرے گھر پہنچے ہو۔ اور اگر میرے گھر میں یہ کھیل، کھیلا گیا تو میں دنیا میں معلم اخلاق بن کے آیا ہوں، بتائو اہل دنیا کی نگاہ میں میری کیا وقعت رہے گی۔ میں تو ان کے سامنے ذلیل ہو کر رہ جاؤں گا۔ وہ بجائے اس کے کہ اپنی اس حرکت پر نادم ہوتے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی دردمندانہ اپیل کو درخورِاعتنا سمجھتے، وہ الٹا آپ پر معترض ہوئے۔
Ayah 15:70

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا ہم نے تمہیں دوسروں کے معاملات میں دخل دینے سے روکا نہ تھا۔

قَالُوْا اَوَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 70) (وہ کہنے لگے کیا ہم نے تمہیں دوسروں کے معاملات میں دخل دینے سے روکا نہ تھا۔ ) عذرِ گناہ بدتراز گناہ اس آیت کے دو مطلب لیے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ ہم نے تمہیں کیا اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تمہارے پاس ایسے مہمان نہیں آنے چاہئیں اور اگر آئیں گے اور وہ ہمارے لیے مفید مطلب ہوں گے تو ہم اپنی مطلب براری کے لیے ان سے ضرور تعرض کریں گے کیونکہ جس طرح پھول سے ہمیشہ خوشبو سونگھی جاتی ہے اور پانی سے ہمیشہ پیاس بجھائی جاتی ہے، اسی طرح حسین لوگوں سے جنسی جذبات کی تسکین کی جاتی ہے۔ انھیں قدرت نے اسی کام کے لیے پیدا کیا ہے، تم ہمیں اس سے روکنے والے کون ہوتے ہو۔ یہ عزت و ذلت کی باتیں سب جذباتی اور مصنوعی باتیں ہیں۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے تمہیں باہر کے لوگوں سے سازباز رکھنے سے منع کیا تھا، لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ باہر کے لوگ برابر تمہارے پاس آجا رہے ہیں اور تم ان سے راہ و رسم رکھتے ہو۔ نجانے تمہارے عزائم کیا ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تمہاری یہ روش ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ جنھیں تم اپنا مہمان کہتے ہو، یہ اجنبی لوگ ہمارے لیے کوئی مسئلہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے ہم ان سے ضرور تعرض کریں گے۔ حیرانی کی بات ہے کہ ان بدمعاشوں نے اپنی بدمعاشی کے لیے ایک ایسا عذر تلاش کرلیا جس کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کررہی اور جن رشتوں کی قدر و قیمت ہمیشہ قوموں میں مُسلّم رہی ہے یہ اسے بھی تباہ کرچکے ہیں۔ تو آپ ( علیہ السلام) نے اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے آخری بات کہی جو ایک پیغمبر ہی کہہ سکتا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اگر تم اپنے جنسی جذبات کے ہاتھوں ایسے ہی مغلوب ہوگئے ہو تو جنسی جذبات کی تسکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورتیں پیدا کی ہیں، مرد تو ان کاموں کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ تمہاری فطرت چونکہ اندھی ہوچکی ہے اس لیے تم خلاف فطرت افعال پر تل گئے ہو۔ تمہارے گھروں میں تمہاری بیویاں اس ضرورت کے لیے موجود ہیں۔ لیکن تمہاری بگڑی ہوئی فطرت تمہیں بیویوں سے تسکین دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہورہی اور تم ایک ایسا راستہ تلاش کرچکے ہو جس سے بڑھ کر اخلاقی تباہی کا کوئی راستہ نہیں ہوسکتا۔ میں تمہیں آخری حد تک روکنے کی کوشش کررہا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
Ayah 15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

حضرت لوط نے کہا کہ اگر تم کچھ کرنے ہی پر تلے ہوئے ہو تو یہ میری بیٹیاں ہیں۔

قَالَ ھٰٓؤْلَآئِ بَنٰتِیْ ٓ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 71) (حضرت لوط نے کہا کہ اگر تم کچھ کرنے ہی پر تلے ہوئے ہو تو یہ میری بیٹیاں ہیں۔ ) نازک جذبات کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش ان کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کے لیے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ایک ایسی بات کہی جو وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کا دل بری طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہو جو ایک طرف مہمانوں کی حرمت کو بچانے کی فکر میں ہو اور دوسری طرف اپنی قوم کے اخلاقی زوال کے انجام کو دیکھ رہا ہو۔ ان کے اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم اگر اپنے سفلی جذبات کے ہاتھوں ایسے ہی بےقابو ہوئے جاتے ہو تو میری بیٹیوں سے یہ آگ بجھالو، بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ جو کچھ تم کرنا چاہتے ہو وہ اس قدر برا ہے کہ ایک غیرت مند باپ اپنی بیٹیاں پیش کرکے بھی اگر اسے روک سکے تو اسے ایسا کر گزرنا چاہیے۔ یہ ان کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کے لیے ایک آخری کوشش تھی۔ لیکن انھوں نے صاف کہا کہ لوط تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں کیونکہ ہماری دلچسپیاں لڑکوں سے ہیں، لڑکیوں سے نہیں۔ آج سے نصف صدی پیشتر کا انسان جب اس واقعہ کو پڑھتا ہوگا تو اس کے لیے قوم لوط کی انتہائی گری ہوئی اخلاقی حالت کو دیکھ کر صرف دکھ ہی نہیں ہوتا ہوگا بلکہ حیرت بھی ہوتی ہوگی کہ کیا کوئی قوم اس حد تک بھی گر سکتی ہے، لیکن آج مغرب کی روشن خیالی نے دنیا کو جو دن دکھائے ہیں ان میں پوری روشنی میں جابجا ” گے سٹائل آف لائف “ (Gay style of life) نظر آرہا ہے۔ ان کے قانونی ادارے اس کو قانونی تحفظ دے چکے ہیں، ان کا لٹریچر اسے اپنے دامن میں جگہ دے چکا ہے۔ ان کی عائلی زندگی میں اسے ایک پیوند کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ ان کے بڑے بڑے معزز اداروں کے سربراہ تک اس ذلیل ترین عادت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور وہاں اسے کوئی ذلت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ قومِ لوط اگر دو خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر بےلگام ہوگئی تو کیا ہمارے تفریحی اداروں میں ان کے تفریحی پروگراموں کے دوران حملوں کا ہونا اور تفریحی کردار ادا کرنے والی خواتین کو اٹھا کرلے جانے کی کوشش کرنا کہاں اچنبھے کی بات سمجھی جاتی ہے۔ آج انسان اپنے اخلاقی بگاڑ میں مہذب قوموں کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے لیکن افسوس کہ ان سے روکنے والا کوئی لوط موجود نہیں۔ اور حضرت لوط جس اخلاقی قوت کے نمائندہ تھے وہ روز بروز کمزور پڑتی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک یہ ذمہ داری سونپی تھی لیکن عالم اسلام کے بیشتر حکمران اور ہمارا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ رفتہ رفتہ اس دلدل میں ڈوبتا جارہا ہے۔
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

آپ کی جان کی قسم ! یہ لوگ اپنی سرمستی میں اندھے ہوئے ہیں۔

لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِہِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 72) (آپ کی جان کی قسم ! یہ لوگ اپنی سرمستی میں اندھے ہوئے ہیں۔ ) گناہ کا نشہ ہر چیز پر غالب آجاتا ہے حضرت لوط (علیہ السلام) کی کسی دلیل نے ان بدبختوں پر اثر نہیں کیا۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنا خون جگر نچوڑ ڈالا لیکن ان کی بدبختی میں شگاف نہ پڑ سکا۔ پروردگار ان کی اس کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ سے فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر ! آپ کی عمر کی قسم، وہ لوگ ایک سرمستی کے نشے میں اندھے ہوچکے تھے۔ ان پر جنسی خواہشات اور سفلی جذبات اس حد تک غالب آچکے تھے کہ کوئی نصیحت کی بات ان پر اثرانداز نہیں ہوتی تھی۔ جس طرح شراب میں مخمور شخص ایک سے ایک بڑھ کر مضبوط دلیل پر ہنستا اور اس کا مذاق اڑاتا ہے، اس لیے کہ اس کا نشہ اس کی عقل پر غالب آچکا ہے۔ جنسی ہیجان اور بداخلاقی کا سرطان بھی ایسے ہی نشے ہیں جو قوموں کو اصابتِ فکر اور آخرت کے خیال سے بےنیاز کردیتے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا اپنا گردوپیش اور ہماری اپنی قوم کے حکمران اور دانشور جس صورتحال سے دوچار ہیں وہ اس کی وضاحت کے لیے کافی ہیں۔ ہم کئی سالوں سے بسنت کے سرطان کا شکار ہوچکے ہیں۔ ہم تہذیبی اور سیاسی طور پر اسے نہ صرف قبول کرچکے بلکہ اس کے زیادہ سے زیادہ اظہار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے نتیجے میں گلیوں میں خون بہتا ہے، سڑکوں پر قتل عام ہوتا ہے، اندھی گولیاں نجانے کتنے خاندانوں کو ہمیشہ کی محرومیاں دے جاتی ہیں۔ چھتوں پر اسلامی غیرت ماتم کرتی ہے۔ اور غیرت کے فانوس جلتے بجھتے ہیں۔ ٹرانسفارمر اڑتے ہیں، کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔ ہر سال یہ سب کچھ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور سمجھانے والے ہمیں سمجھاتے ہیں، رونے والوں کی آہیں ہمارے کانوں تک پہنچتی ہیں، احتجاج کرنے والوں کی چیخیں ہمیں دور دور تک سنائی دیتی ہیں، اس کے باوجود بسنت اور عیاشی کا ایک نشہ ہے جو ہمیں کوئی بات نہ سننے دیتا ہے اور نہ سمجھنے دیتا ہے۔ ایسے ہی نشے میں وہ بھی مبتلا تھے۔ یہاں ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ یہ کہ قومیں جب اخلاقی زوال کا شکار ہوتی ہیں تو ان کا زوال اور انحطاط ہمہ جہتی ہوتی ہے بالخصوص جنسی آوارگی جب جوع البقر کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو پھر زندگی کا کوئی شعبہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہتا۔ قوم لوط بھی اسی ہمہ جہتی انحطاط کا شکار تھی۔ تلمود میں اس قوم کے جو حالات لکھے گئے ہیں ان کا ایک خلاصہ ہم یہاں تفہیم القرآن سے نقل کرتے ہیں جس سے کچھ زیادہ تفصیل کے ساتھ معلوم ہوگا کہ یہ قوم اخلاقی فساد کی کس انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اس میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک عیلامی مسافر ان کے علاقے سے گزر رہا تھا۔ راستہ میں شام ہوگئی اور اسے مجبوراً ان کے شہر سدوم میں ٹھہرنا پڑا۔ اس کے ساتھ اپنا زاد راہ تھا۔ کسی سے اس نے میزبانی کی درخواست نہ کی۔ بس ایک درخت کے نیچے اتر گیا۔ مگر ایک سدومی اصرار کے ساتھ اٹھا کر اسے اپنے گھر لے گیا۔ رات اسے اپنے ہاں رکھا اور صبح ہونے سے پہلے اس کا گدھا، اس کے زین اور مال تجارت سمیت اڑا دیا۔ اس نے شور مچایا مگر کسی نے اس کی فریاد نہ سنی بلکہ بستی کے لوگوں نے اس کا رہاسہا مال بھی لوٹ کر اسے نکال باہر کیا۔ ایک مرتبہ حضرت سارہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھروالوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اپنے غلام الیعزر کو سدوم بھیجا۔ الیعزر جب شہر میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ایک سدومی ایک اجنبی کو مار رہا ہے۔ الیعزر نے اسے شرم دلائی کہ تم بیکس مسافروں سے یہ سلوک کرتے ہو مگر جواب میں سربازار الیعزر کا سر پھاڑ دیا گیا۔ ایک مرتبہ ایک غریب آدمی کہیں سے ان کے شہر میں آیا اور کسی نے اسے کھانے کو کچھ نہ دیا۔ وہ فاقے سے بدحال ہو کر ایک جگہ گرپڑا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی نے اسے دیکھ لیا اور اس کے لیے کھانا پہنچایا۔ اس پر حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹی کو سخت ملامت کی گئی اور انھیں دھمکیاں دی گئیں کہ ان حرکتوں کے ساتھ تم لوگ ہماری بستی میں نہیں رہ سکتے۔ اس طرح کے متعدد واقعات بیان کرنے کے بعد تلمود کا مصنف لکھتا ہے کہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ لوگ سخت ظالم، دھوکہ باز اور بدمعاملہ تھے۔ کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہ گزر سکتا تھا۔ کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پاسکتا تھا۔ بارہا ایسا ہوتا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مرجاتا اور یہ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کردیتے۔ بیرونی تاجر اگر شامت کے مارے وہاں چلے جاتے تو برسرعام لوٹ لیے جاتے اور ان کی فریاد کو ٹھٹھوں میں اڑا دیا جاتا۔ اپنی وادی کو انھوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اس باغ میں وہ انتہائی بےحیائی کے ساتھ علانیہ بدکاریاں کرتے تھے اور ایک لوط کی زبان کے سوا کوئی زبان ان کو ٹوکنے والی نہ تھی۔ قرآن مجید میں اس پوری داستان کو سمیٹ کر صرف دو فقروں میں بیان کردیا گیا ہے کہ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ (وہ پہلے سے برے برے کام کررہے تھے) اور اَأِنَّکُمْ لَتَاْ تُوْنَ الرِّجَاَلَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ ( تم مردوں سے خواہش نفس پوری کرتے ہو، مسافروں کی راہ مارتے ہو اور اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا بدکاریاں کرتے ہو ؟ )
Ayahs 15:73–77

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

پس آلیا ان کو ایک سخت کڑک نے جب سورج نکل رہا تھا۔

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پس ہم نے ان کی بستی کو زیروزبر کردیا اور ہم نے ان پر برسائے کھنگر کے پتھر۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس سرگزشت میں بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور یہ بستی ایک شاہراہِ عام پر ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

بیشک اس سرگزشت کے اندر اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی ہے۔

فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ ۔ فَجَعَلْنَا عَلِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ۔ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ ۔ وَاِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 73۔ 74۔ 75۔ 76۔ 77) (پس آلیا ان کو ایک سخت کڑک نے جب سورج نکل رہا تھا۔ پس ہم نے ان کی بستی کو زیروزبر کردیا اور ہم نے ان پر برسائے کھنگر کے پتھر۔ بیشک اس سرگزشت میں بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ اور یہ بستی ایک شاہراہِ عام پر ہے بیشک اس سرگزشت کے اندر اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی ہے۔ ) نزولِ عذاب قومِ لوط ( علیہ السلام) نے جب ہر طرح کی نصیحت سے منہ پھیرا اور اخلاقی انحطاط کی انتہا کو پہنچ گئی تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آیا۔ ایک سخت کڑک اور ڈانٹ کی آواز نے پوری بستی کو کھیل کھیل کردیا۔ جگر پھٹ گئے اور اس کے بعد اس عذاب نے کیا کیا صورت اختیار کی، وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن اس کا انجام یہ ہوا کہ اس بستی کو تہہ وبالا کردیا گیا۔ یعنی اس دھرتی کو الٹ دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر پتھروں کی بارش فرمائی۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو بصیرت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کسی عبرت انگیز چیز سے عبرت حاصل کرنا ان کی روش ہے۔ لیکن جو لوگ تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات پر تفریح کے لیے جاتے ہیں ان کے لیے تو یہ محض قصے ہیں اور یا وہ اس لیے جاتے ہیں تاکہ وہاں کلچر تلاش کریں۔ ایسے لوگ اپنی پہلی بصیرت بھی گم کر بیٹھتے ہیں وہ جیسے جیسے کلچر کی تلاش میں آگے بڑھتے ہیں ویسے ویسے ایمان کی روشنی سے محروم ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ اے قریش کے لوگو ! اگر آج بھی تم اس قوم کی تاریخ سے عبرت حاصل کرنا چاہو تو ان کی اجڑی ہوئی بستیاں شاہراہِ عام پر ہیں جہاں سے تمہارے قافلہ ہائے تجارت گزرتے ہیں۔ اس کے ایک ایک ذرے میں نشانیاں پنہاں ہیں لیکن اس شخص کے لیے جو ایمان لانا چاہتا ہو۔
Ayahs 15:78–79

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

بیشک ایکہ کے باشندے بھی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے بھی انتقام لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔

وَاِنْ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ لَظٰلِمِیْنَ ۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ م وَاِنَّھُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ الحجر : 78۔ 79) (بیشک ایکہ کے باشندے بھی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ تو ہم نے ان سے بھی انتقام لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔ ) قوم لوط کے بعد دوسری معذب قوموں کا اجمالی تذکرہ قومِ لوط کی تباہی کے تذکرے کے بعد بعض دوسری قوموں کا اجمالی تذکرہ اور ان کی تکذیب کے انجام کو بیان کیا جارہا ہے اور اس طرح سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں، ہر پیغمبر ( علیہ السلام) کے ساتھ اس کی قوم نے ہمیشہ یہی کچھ کیا ہے لیکن انجام کار وہ قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئی۔ اصحاب الایکہ سے مراد اصحاب ِمدین ہیں۔ اس قوم کا نام بنی مدیان تھا۔ ان کے مرکزی شہرکو مدین کہتے تھے اور ان کے پورے علاقے کو بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ لوگ اصحابِ مدین کہلائے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ انھیں اصحاب الایکہ اس لیے کہا گیا کیونکہ ایکہ کا معنی جھاڑ ی اور بُن کے ہوتے ہیں۔ مدین کے پاس ایک بہت بڑا بُن بھی تھا۔ اس وجہ سے یہ لوگ اس نام سے معروف ہوگئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ تبوک کا قدیم نام تھا اور آج کل ایک پہاڑی نالے کا نام ہے جو جبل اللوز سے وادیٔ افل میں آکر گرتا ہے۔ ان کا علاقہ قوم لوط کی بستیوں سے بہت دور نہیں اور قوم لوط ( علیہ السلام) ہی کی طرح حجاز سے فلسطین و شام جاتے ہوئے شاہراہِ عام پر پڑتا تھا۔ عربوں کے تجارتی قافلے ان قوموں کے کھنڈرات سے برابر گزرتے رہتے تھے۔ اس لیے قریش کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ جس طرح قوم لوط ( علیہ السلام) اور قوم شعیب ( علیہ السلام) کی قوم اور ان کی بستیاں اس وجہ سے تباہ کردی گئیں کہ انھوں نے اپنے نبیوں ( علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور بجائے اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈر کے دعوت قبول کرنے کے انھوں نے مطالبہ عذاب کو ایک مذاق بنا لیا تھا۔ بالآخر اسی عذاب نے انھیں آپکڑا۔ تو تم بھی اگر یہی رویہ جاری رکھو کے تو تمہارا انجام بھی ان معذّب قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔ آیتِ کریمہ میں اِمَامٍ مُّبِیْنٍ کا لفظ آیا ہے اس کا معنی بھی سَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ کی طرح کھلی شاہراہ، عام گزرگاہ اور چلتا راستہ ہے۔ راستہ چونکہ رہنما ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے امام کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
Ayah 15:80

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

(اور حجر والوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی۔

وَلَقَدْ کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِالْمُرْسَلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 80) (اور حجر والوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی۔ ) اصحاب الحجر سے مراد ” حجر “ شمالی عرب اور شام کے درمیانی علاقہ کو کہتے ہیں۔ یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر ” العلا “ سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ یہ علاقہ قوم ثمود کا مسکن تھا جن کے اندر حضرت صالح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہِ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں، مگر نبی کریم ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں ہمارا گزر حجر کے علاقہ سے ہوا۔ ہم وہاں اترے، وہاں کے کنوئوں سے لوگوں نے پانی بھرا اور اسی کے ساتھ آٹا گوندھا تو حضور ﷺ نے حکم دیا کہ اس پانی کو انڈیل دو ، جو آٹا اس پانی کے ساتھ گوندھا ہے اسے اونٹوں کے سامنے ڈال دو اور اس کنویں سے پانی لو جہاں سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ حضرت ابن عمر ( رض) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ہمیں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے مکانوں میں جب تم داخل ہو جنھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے داخل ہو، ایسا نہ ہو کہ وہی عذاب تم پر بھی نازل ہو۔ حضور ﷺ کے اس ارشاد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کے آثار و دیار کو نہ پسند کرنا چاہیے اور اگر کبھی وہاں سے گزرنا پڑے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہوئے گزرنا چاہیے۔ ایک سوال کا جواب اس آیت کریمہ میں مرسلین کا لفظ استعمال ہوا ہے جو مرسل کی جمع ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ حجر نے کئی رسولوں ( علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی حالانکہ ان کی طرف صرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے اور آپ کی تکذیب تو صرف ایک رسول کی تکذیب ہے۔ اس میں جمع کا صیغہ لانے سے کیا مراد ہے ؟ معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہاں شاید اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے رسول ( علیہ السلام) بھی آئے ہیں ان سب کی دعوت ایک تھی۔ وہ سب ایک ہی ذات کے فرستادہ اور نمائندہ تھے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی جس طرح اللہ تعالیٰ کا انکار ہے، اسی طرح سب رسولوں کا انکار بھی ہے۔ اس سے جہاں رسولوں میں وحدت فکر اور وحدت عمل کا اندازہ ہوتا ہے وہیں اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی ایک رسول ( علیہ السلام) کی تکذیب اپنے اندرکس قدر شدت رکھتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کتنا بڑا جرم ہے۔ اس سے قریش کو شاید یہ اشارہ دینا بھی مقصود ہو کہ اگر ہر رسول کا انکار اپنے اندر یہ معنی رکھتا ہے کہ گویا وہ سارے رسولوں کا انکار ہے تو نبی کریم ﷺ تو آخری رسول اور سیدالرسل ہیں، ان کی تکذیب جرم ہونے کے حوالے سے کس قدر شدید ہوگی۔ تمہیں ایک لمحہ اس پر بھی سوچ لینا چاہیے۔
Ayah 15:81

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں، مگر وہ ان سے روگردانی ہی کرتے رہے۔

وَاٰتَیْنٰہُمْ اٰیٰـتِنَا فَکَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 81) (اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں، مگر وہ ان سے روگردانی ہی کرتے رہے۔ ) آیات سے مراد اس آیت کریمہ میں قوم ثمود کے جرمِ تکذیب کی شناعت کو بیان کیا جارہا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یہ مت سمجھو کہ ہم نے قوم ثمود کو محض تکذیب کے پہلے مرحلے ہی میں عذاب کا شکار کردیا، ایسا ہرگز نہیں۔ ہمارے پیغمبر نے تو مسلسل انھیں سمجھایا عقلی اور فکری دلائل سے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی اور ان میں سادہ لوح عوام کو حسی معجزات دکھا کر بھی ہر طرح سے یقین دلایا کہ دیکھو اس پیغمبر کے یہ معجزات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے عظیم منصب کے لیے سند ماموریت کی حیثیت رکھتے ہیں تاکہ بطور رسول ان کی پہچان میں تمہیں غلطی نہ لگے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے پہاڑ سے اونٹنی نکالی گئی جس کے پیچھے اس کا بچہ بھی تھا۔ پھر قوم کے ساتھ اس اونٹنی کے ایک ہی کنویں پر پانی پینے کی باریاں مقرر کی گئیں اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ اونٹنی غیرمعمولی پانی کی مقدار پی جاتی ہے اور بھی اس کے علاوہ یقینا معجزات دکھائے گئے ہوں گے۔ ممکن ہے کچھ صحیفے بھی حضرت صالح (علیہ السلام) پر نازل کئے گئے ہوں، لیکن وہ قوم یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اپنی اعراض کی عادت سے باز نہ آئی۔ وہ اپنے دنیوی مشاغل اور دنیوی دلچسپیوں میں اس حد تک غرق ہوچکے تھے کہ اس کے علاوہ کوئی اور دلچسپی انھیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی تھی۔ یہ انسان کی کمزوری ہے وہ جیسے جیسے خواہشاتِ نفس میں ڈوبتا جاتا اور اتباع ہویٰ میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے اس کے لیے آخرت کی باتیں موت کا تصور اور اخلاقی اقدار قصہ پارینہ بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی آنکھوں سے دنیا سے جانے والوں کو دیکھتا ہے لیکن اسے اپنے انجام کی کبھی فکر نہیں ہوتی۔ وہ جب بھی سوچتا ہے دنیا کے عیش و عشرت کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس کے اسباب میں ترقی کے بارے میں سوچتا ہے۔ یہ قوم بھی بری طرح اس گمراہی کا شکار ہوچکی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نشانی دیکھ کر بھی بجائے اس کے کہ ایمان کا راستہ اختیار کرتی ان کے اعراض میں اور اضافہ ہوگیا۔
Ayah 15:82

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

وہ پہاڑوں کو کھود کر اپنے گھر بناتے تھے ( اور) بےخوف و خطر رہا کرتے تھے۔

وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 82) (وہ پہاڑوں کو کھود کر اپنے گھر بناتے تھے ( اور) بےخوف و خطر رہا کرتے تھے۔ ) قومِ ثمود کا فنِ تعمیر اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے تصور نے انھیں یہ راستہ دکھایا تھا کہ پہاڑوں کو کھود کر گھر بنائے جائیں کیونکہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے سب سے مضبوط کوئی مکان اگر تعمیر کیا ہے تو وہ پہاڑ ہیں جنھیں ان کی جگہ سے ہلانا آسان نہیں۔ صدیوں سے اپنی جگہ ایستادہ ہیں۔ مضبوط سے مضبوط مادہ تعمیر سے بنے ہوئے مکانات بھی کہنگی یا حوادث شکار ہو کر زمین بوس ہوجاتے ہیں لیکن جب تک پہاڑ قائم ہیں اس میں کھدا ہوا گھر بھی قائم ہے کیونکہ دونوں کی استواری ایک دوسرے کے ساتھ قائم ہے اور انھیں اپنے اس فنِ تعمیر پر بےحد ناز تھا۔ قرآن کریم نے شایدان کے اس فن کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج پر جاتے ہوئے یہاں سے گزرا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انھوں نے چٹانوں کو تراش خراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں کہ جیسے آج بنائے گئے ہوں۔
Ayahs 15:83–84

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

پس پکڑ لیا انھیں ایک خوفناک چنگھاڑ نے، جب وہ صبح اٹھ رہے تھے۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

پس ان کے کام نہ آیا جو کچھ وہ کررہے تھے۔

فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُصْبِحِیْنَ ۔ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 83۔ 84) (پس پکڑ لیا انھیں ایک خوفناک چنگھاڑ نے، جب وہ صبح اٹھ رہے تھے۔ پس ان کے کام نہ آیا جو کچھ وہ کررہے تھے۔ ) مضبوط مکان بھی انھیں نہ بچا سکے انھیں اپنے پہاڑوں میں تراشیدہ مکانوں پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ کسی حادثے کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھے۔ نہایت بےخوف زندگی گزار رہے تھے کہ دنیا کا کوئی خطرہ ہمارے لیے خطرہ نہیں ہوسکتا کہ اچانک انھیں ایک چنگھاڑ نے آپکڑا یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ عذاب چاہے زلزلے کی صورت میں آئے یا تیز آندھی کی شکل میں، ہمیشہ ایک چنگھاڑ ضرور سنائی دیتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھرکے حوادث نے ان پر حملہ کردیا ہے۔ نہ ان میں کوئی نفس زندہ رہا نہ متاع حیات میں سے کوئی چیز سالم رہی، سب کچھ تباہ کردیا گیا۔ جن گھروں پر انھیں اعتماد تھا کوئی ان کے لیے جائے پناہ نہ بن سکا۔ ان معذب قوموں کے تذکرے سے پروردگار بار بار انسانوں کو یاد دہانی کرتا ہے کہ اپنے انجام سے بےفکر نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو معمولی نہ سمجھیں، وہ بہت بردبار اور حلیم ہے۔ اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے لیکن جب انسانی بگاڑ اس کی کھینچی ہوئی حدود سے آگے نکلنے لگتا ہے تو پھر وہ کبھی معاف نہیں کرتا۔ پھر اس قوم کی کوئی صبح، صبح نہیں ہوتی بلکہ ہر صبح شام میں ڈوب جاتی ہے۔
Ayah 15:85

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے غایت کے ساتھ ہی پیدا کیا، بیشک قیامت آنے والی ہے، آپ ان سے خوبصورتی سے درگزر کریں۔

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلاَّ بِالْحَقِّ ط وَ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰ تِیَۃٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ ۔ (سورۃ الحجر : 85) (اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے غایت کے ساتھ ہی پیدا کیا، بیشک قیامت آنے والی ہے، آپ ان سے خوبصورتی سے درگزر کریں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اب یہاں سے نبی کریم ﷺ کی طرف براہ راست التفات ہے۔ یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اس کی تمہید یوں اٹھائی جارہی ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اس کو بےمقصد اور بےغایت پیدا نہیں کیا۔ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں کہ اس نے محض تفریح کے لیے یہ کائنات پیدا کی ہو اور تفریح کے مکمل ہوجانے کے بعد اسے توڑ پھوڑ کر پھینک دے گا۔ یہ کسی بچے کا بنایا ہوا گھروندا نہیں کہ جیسے ہی اس کا دل بھر جاتا ہے وہ گھروندا توڑ دیتا ہے۔ یہ تو ایک حکیم ذات کا بنایا ہوا کارخانہ ہے جس نے ہر چیز کو احسن طریق سے پیدا فرمایا اور اس کا کوئی نہ کوئی مقصد متعین فرمایا۔ ہم اپنے گردوپیش میں عناصرِ قدرت اور عناصرِ فطرت کو کام کرتا ہوا دیکھتے ہیں، کوئی عنصر ایسا نہیں جس کے فرائض متعین نہ ہوں، جس کی حرکت کی کوئی جہت نہ ہو، جو اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند نہ ہو اور کوئی عنصر دوسرے عنصر کے کام میں دخل نہیں دیتا۔ ہر طرف خالق کائنات کی اطاعت نے ایک نظم و نسق، ایک ترتیب اور یکسانی و یک رنگی پیدا کر رکھی ہے اور یہ تمام عناصر کہیں الگ الگ اور کہیں مل کر کسی نہ کسی مقصد کی تعمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ کائنات کی مقصد کے ساتھ یہ یکسانی اور یک رنگی اور خالق کائنات کے عائد کردہ فرائض کی تعمیل سے یہ بات بتانا مقصود ہے کہ انسان تو اس کائنات کا گل سرسبد ہے، اس کے سر پر خلافتِ ارضی کا تاج رکھا گیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو اور وہ یونہی بےہنگم زندگی گزار کر دنیا سے واپس چلا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی زندگی کا بھی ایک مقصد ہے جسے واضح اور برپا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) تشریف لاتے ہیں۔ وہ مسلسل انھیں اس مقصد کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں دکھ اٹھاتے ہیں لیکن ان کے مقصد سے انھیں آگاہ کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔ لیکن جب لوگ پیغمبر ( علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے کو قبول کرنے کی بجائے اس کی دشمنی پر تل جاتے ہیں اور اسی کو اذیتیں پہنچانا شروع کردیتے ہیں تو اب ضابطے کے طور پر تو ضروری ہوجاتا ہے کہ انھیں سزا دی جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ اپنی رحمت سے انھیں اس وقت تک ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے جب تک ان میں ایک آدمی بھی اس قابل رہتا ہے کہ اس سے حق کی قبولیت کی امید کی جائے۔ رہی ان کی اذیتیں اور ان کی گستاخیاں تو اس کے لیے اپنے پیغمبر کو پروردگار برابر درگزر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ جب تبلیغ و دعوت اس مرحلے تک پہنچتی ہے کہ ایک طرف کفر پیغمبر کے مقابلے میں اپنے سارے تیر آزما ڈالنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اہل حق ان کی اذیت رسانیوں کے باعث مظلومیت کی آخرت حد کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پھر بھی عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا، وہ اپنے پیغمبر کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ ہم نے اس کائنات کو بےمقصد پیدا نہیں کیا، یہاں ہر کام کرنے والے کی محنت کا صلہ ہے اور ہر بدچلن اور مفسد کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔ لیکن اس کے لیے دنیا میں ہم جلد بازی نہیں کرتے، ہم ڈھیل دیتے ہیں۔ لیکن آخرت میں ہر ایک کو اپنے اعمال کی پاداش بھگتنا ہوگی۔ آخرت اس دنیا کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ یہاں کے خیر و شر کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس لیے آپ ان کی اذیت رسانیوں کے مقابلے میں انتہائی شریفانہ درگزر سے کام لیجئے۔ اور اس بات کا ایمان لانے والوں کو یقین دلایئے کہ مقصد حق کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ اپنے انکار کی پاداش میں عذاب کا شکار ہوں گے چاہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عذاب نازل کیا جائے اور چاہے مسلمانوں کے ہاتھوں ان کا خاتمہ کرا دیا جائے۔
Ayah 15:86

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

بیشک تیرا رب وہ بڑا پیدا کرنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔

اِنَّ رَبَّکَ ھُوَالْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ۔ (سورۃ الحجر : 86) (بیشک تیرا رب وہ بڑا پیدا کرنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔ ) دو اعتراضوں کا جواب اس آیت میں دو اعتراضوں کا جواب دیا گیا ہے۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصدوغایت کے ساتھ کائنات کو پیدا کیا ہے اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک نہ ایک دن قیامت آئے تاکہ اہل خیر کو خیر کا صلہ ملے اور اہل شر کو شر کی سزا ملے۔ مجرم اپنے جرائم کی سزا کو پہنچیں اور قربانی دینے والے اپنی قربانیوں کا صلہ پائیں۔ اس پر اعتراض کرنے والوں نے یہ اعتراض کیا کہ آپ ہمیں جس قیامت سے ڈراتے رہتے ہیں اس قیامت کا آنا کیسے ممکن ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے آج تک اربوں کھربوں مخلوق پیدا کی ہے اور ابھی مزید قیامت تک نہ جانے کتنی اور پیدا ہوگی۔ اس مخلوق کی پیدائش میں تو ہزاروں سال صرف ہوئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی دن میں قیامت کا صور پھونک دیا جائے اور تمام لوگ جو قیامت تک پیدا ہوچکے اور مرچکے وہ ازسرنو زندہ ہو کر محشر میں پہنچ جائیں۔ چند ہزار آدمی ہوتے تو ہم پھر بھی یقین کرلیتے۔ بیشمار مخلوق کو ازسر نو ایک ہی دن میں پیدا کردینا، یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔ اور دوسرا اعتراض یہ کیا کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ ہر شخص زندہ کیا جائے گا لیکن یہ کیسے باور کرلیا جائے کہ تمام انسانوں کے افکار و اعمال کا حساب بھی ہوگا کیونکہ افکار و اعمال کے حساب کے لیے ضروری ہے کہ ہر فکر اور ہر عمل کی تفصیلات سے آگاہی ہو۔ ایک انسان روزانہ ہزاروں اعمال کرتا ہے۔ اس کے زندگی بھر کے اعمال کا کون محاسبہ کرسکتا ہے۔ جب ایک آدمی کے اعمال کا یہ حال ہے تو تمام نوع انسانی کے اعمال کا کون تصور کرسکتا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ یہ تو تم تسلیم کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور اس نے کائنات کی بیشمار مخلوق کو پیدا فرمایا لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ خلاق ہے۔ خالق اگر اربوں کھربوں مخلوق پیدا کرسکتا ہے تو خلاق کے لیے اس سے کئی گنا زیادہ مخلوق پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے۔ وہ ہر انسان کے ایک ایک قول و فعل سے واقف ہے۔ انسان کیا وہ تو جنگل میں گرنے والے ایک ایک پتے سے بھی واقف ہے۔ سمندر میں حرکت کرنے والی ایک ایک مخلوق کی حرکت کو دیکھتا ہے۔ ویسے بھی سامنے کی بات ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو کسی چیز کو خلق کرے وہ اس سے پوری طرح آگاہ نہ ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اَلاَیَعْلَمُ مَنْ خَلَقْ کیا جس نے سب کو پیدا کیا، وہ ان سے بیخبر ہوسکتا ہے۔
Ayah 15:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

ہم نے عطا فرمائی ہیں آپ کو سات آیتیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم بھی۔

وَلَقَدْ اٰ تَیْنٰـکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ۔ (سورۃ الحجر : 87) (ہم نے عطا فرمائی ہیں آپ کو سات آیتیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم بھی۔ ) سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ سے کیا مراد ہے گزشتہ سے پیوستہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس بات سے تسلی دی کہ بظاہر حالات آپ ﷺ یہ دیکھتے ہیں کہ کفر کی سرکشی میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی بےبسی اور مظلومیت بڑھتی جارہی ہے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں کیونکہ زمین و آسمان کی پیدائش میں ایک مقصد حق کے ساتھ وابستگی شامل ہے اور یہی وابستگی اس کی زندگی میں طوالت کا باعث ہے۔ وقتی طور پر باطل ترقی کرتا نظر آتا ہے لیکن انجام کار باطل سرنگوں ہوتا ہے اور حق سرفراز ہوتا ہے۔ اس اصول کے تحت وہ وقت جلد آنے والا ہے جب آپ سرفراز ہوں گے اور آپ کے دشمن سرنگوں ہوں گے۔ اس وقت تک آپ ان کی زیادتیوں سے درگزر کیجئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم عطا فرمایا ہے۔ وہی آپ ﷺ کی اصل قوت ہے۔ آپ ﷺ اس سے کام لیجئے۔ ان کی اذیتوں کے جواب میں دعائیں دیجئے۔ مزید فرمایا کہ اس لیے اس کے ازالے کے لیے ہم نے آپ ﷺ کو ایک عظیم دولت عطا فرمائی ہے جو اہل کفر میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہم نے آپ کو سات بار بار پڑھی جانے والی چیزیں عطا فرمائیں اور قرآن کریم عطا کیا۔ یہ وہ گنج شائیگان ہے جس کی موجودگی میں دنیا کے مال و دولت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی اس نعمت کی ناقدری کے مترادف ہے کیونکہ دنیا کی ہر نعمت فانی ہے جبکہ یہ نعمت باقی رہنے والی ہے۔ دنیا کی ہر نعمت کی ایک قیمت ہے اور اس نعمت کو کسی قیمت پر خریدا نہیں جاسکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سے مراد کون سی نعمت ہے ؟ بعض اہل علم نے اس سے قرآن کریم کی وہ سات بڑی بڑی سورتیں مراد لی ہیں جن کی آیات کی تعداد 200 کے لگ بھگ ہے، یعنی قرآن کریم کی پہلی سات سورتیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے کیونکہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کا یہی قول ہے۔ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ( رض) کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، الحمدللہ ام القرآن و ام الکتاب و سبع المثانی۔ امام بخاری نے بھی آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد نقل کیا ہے۔ ام القرآنھی السبع المثانی والقرن العظیم۔ حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) نے اس کی وجہ تسمیہ یہ بتائی ہے کہ اسے ہر نماز میں دہرایا جاتا ہے اور ہر رکعت میں پڑھا جاتا ہے۔ اور قرآن عظیم سے مراد باقی سارا قرآن کریم ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ السبع المثانی سے مراد پورا قرآن کریم ہے اور دلیل ان کی یہ ہے کہ ” مثانی “ کا معنی دوہرایا جانے والا نہیں ہوتا بلکہ ان چیزوں کو کہتے ہیں جو دو دو کرکے آتی ہیں اور قرآن کریم میں سورة زمر کی آیت نمبر 23 میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک متشابہ مثانی کتاب کی صورت میں، یعنی اس کی تمام سورتیں جوڑا جوڑا ہیں اور ہر سورت اپنا ایک مثنیٰ بھی رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے اس سے سورة فاتحہ مراد لینا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ مزید ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں قرآن کریم نے سات کا ذکر کیا ہے تو اس سے یہ تو مراد ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم کو سات حصوں میں تقسیم کیا جائے لیکن اس سے سورة فاتحہ مراد لینا اس لیے صحیح نہیں کیونکہ اس کی آیتیں سات نہیں بلکہ چھ ہیں۔ سات جب بنتی ہیں جبکہ بسم اللہ کو سورت کا جز قرار دیا جائے حالانکہ قرآن کا رسم الخط اس بات پر دلیل ہے کہ بسم اللہ سورت کا جز نہیں بلکہ الگ آیت ہے۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ امام ترمذی کی صحیح روایت اور امام بخاری کی دو مرفوع احادیث کے بعد کسی اور بات کا قائل ہونا اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب حدیث کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جائے اور یا ان احادیث کو ناقابلِ تسلیم قرار دیا جائے جبکہ صحیحین کی کسی روایت کے بارے میں ایسی کسی بات کا قائل ہونے کے لیے بڑی مضبوط دلیل کی ضرورت ہے۔ رہی یہ بات کہ مثانی دو دو والی چیزوں کو کہتے ہیں اس کا معنی دوہرائی جانے والی نہیں ہوتا تو اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ تفسیر مظہری نے حضرت ابن عباس ( رض) کا ایک قول نقل کیا ہے جس میں انھوں نے مثانی کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ لانھا تثنی فی الصلوۃ فیقرأ فی کل رکعۃ اس لیے کہ اسے نماز میں دوہرایا جاتا ہے اور ہر رکعت میں پڑھا جاتا ہے۔ ابن عباس ( رض) اس کا ترجمہ دوہرائی جانے والی کرتے ہیں حالانکہ وہ نہ صرف اہل زبان نہیں بلکہ ادب عربی کے شن اور بھی ہیں۔ البتہ اس بات سے انکار نہیں کہ اسے مثنیٰ کی جمع قرار دیا جاسکتا ہے اور سورة زمر کی آیت میں قرآن کریم کی تعریف میں اگر اس معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہو تو انکار نہیں۔ لیکن اس سے صرف یہ ثابت ہوگا کہ جس طرح قرآن کریم کی یہ صفت ہے کہ اس کی سورتیں جڑواں بن کے آئی ہیں اور دوسری سورت پہلی سورت کا مثنیٰ بن کے آئی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی صحیح ہے کہ مثانی سے مراد سورة فاتحہ بھی ہے اور وہاں اس کا معنی دوہرائی جانے والی ہے۔ سورة فاتحہ قرآن کریم کا دیباچہ ہے۔ اس میں اصولی طور پر ان تمام مضامین کی طرف اشارے ہیں جنھیں تفصیل سے قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا بیج ہے کہ دل و دماغ میں اگر صحیح طریقے سے اسے بو دیا جائے تو اس سے قرآن کریم کی فصل بارآور ہوتی ہے۔ اور اگر پورے قرآن پاک کے مضامین کو سمیٹ دیا جائے تو وہ سورة فاتحہ کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ اس لیے اس کو سب سے بڑی سورت قرار دیا گیا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے اسے شفا فرمایا ہے۔
Ayah 15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

آپ ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے ان کے مختلف طبقوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے اور ان کے حال پر رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں اور اپنی شفقت کے بازو اہل ایمان پر جھکائے رکھیں۔

لاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَامَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 88) (آپ ﷺ ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے ان کے مختلف طبقوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے اور ان کے حال پر رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں اور اپنی شفقت کے بازو اہل ایمان پر جھکائے رکھیں۔ ) آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو مزید تسلی دی گئی ہے کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی بہت تلخ انداز میں حالات کی سنگینی کا شکار تھے۔ مشرکینِ مکہ کی اندھی مخالفت نے آپ ﷺ کی زندگی دشوار کردی تھی۔ تین سالہ مقاطعہ نے آپ ﷺ لوگوں کے کاروبار بالکل تباہ کردیے۔ آنحضرت ﷺ کا کاروبار تو کارنبوت کی انجام دہی میں ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ( رض) کا اثاثہ بھی اسی عظیم خدمت کی نذر ہوچکا تھا۔ معاشرتی مقاطعہ نے صنعت و حرفت اور دستکاری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بھرکس نکال کے رکھ دیا تھا۔ خوشحال صحابہ ( رض) بھی بدحالی کا شکار ہوچکے تھے۔ اور مزید تکلیف دہ قریش کا رویہ تھا کہ ان کی ایذا دہی سے کوئی چھوٹا بڑا بچا ہوا نہیں تھا اور ان کی زبانوں کے نشتر ہر ایک دل کو زخمی کئے دے رہے تھے۔ کسی کی عزت نفس سلامت نہیں تھی۔ ان حالات میں تسلی اور اطمینان کا امرت عطا کیا جارہا ہے اور دلوں پر محبت کی شبنم برسائی جارہی ہے کہ تمہارا اصل رابطہ قرآن کریم کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے ہونا چاہیے۔ وہ قدرتوں کا مالک ہے، خزانے اس کے قبضے میں ہیں، عزتیں وہی دینے والا ہے۔ اس نے تمہیں قرآن کریم کی شکل میں وہ دولت عطا فرمائی ہے جس سے آج پوری دنیا بےبہرہ ہے۔ اصل قدر و قیمت اس نعمت کی ہے جو تمہارا ہاتھوں میں ہے۔ رہی وہ چیزیں جن سے قریش اور دوسرے لوگ بہرہ ور ہیں ان کی حیثیت اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ جسے ہیروں کا خزانہ مل جائے وہ کبھی کوڑیوں کے ڈھیر کی طرف نہیں دیکھتا۔ قرآن کی صورت میں تمہارے پاس ہیروں کی کان موجود ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب اسی قرآن کی بدولت تم خشکی اور تری پر غالب آجاؤ گے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی ( رض) نے خوب فرمایا کہ جس شخص کو دولت قرآن بخشی گئی اور اس نے کسی دنیادار کو دیکھا اور اس کے سیم و زر کو نعمت قرآن سے افضل خیال کیا تو اس نے بڑی بےانصافی کی۔ اس نے عظیم المرتبت چیز کو حقیر جانا اور حقیر چیز کو بڑا خیال کیا۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے اپنے دورخلافت میں اس سے بھی بڑھ کر بات ارشاد فرمائی۔ ان اللہ یرفع بھذا الکتاب اقواماً ویضع بہ آخرین اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے قوموں کو اٹھائے گا اور اسی کے چھوڑنے کے نتیجے میں قوموں کو گرائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عزت و ذلت کا سررشتہ اسی کتاب سے باندھ دیا گیا ہے۔ اس کتاب سے وفاداری اور اس کے حق کو ادا کرنا مسلمانوں کی عظمت کا ضامن ہے اور اس کی قدر و منزلت سے ناشناسی اور اس کے حقوق کی طرف سے تغافل مسلمانوں کے زوال اور ذلت کا باعث ہے۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اس پر از حکمت قول پر شاہد ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ جو اس آیت کریمہ کے فہم میں معاون ہوسکتی ہے۔ ارشاد نبوی ہے ازھدفی الدنیا یحبک اللہ وازھذ فی ما ایدی الناس یحبک الناس دنیا سے بےرغبت ہوجا، اللہ تعالیٰ تجھ سے پیار کرے گا۔ اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بےنیاز ہوجا۔ دنیا تیرا احترام کرے گی۔ اس آیت میں مزید فرمایا گیا وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْآپ ﷺ ان کے حال پر دل گرفتہ نہ ہوں، ہم جانتے ہیں کہ ان کا کفر اور جہنم کی طرف تیز رفتاری سے ان کا سفر تمہیں خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ان کی گالیوں کے جواب میں آپ ﷺ دعائیں دیتے ہیں۔ وہ آپ ﷺ زندگی دشوار کررہے ہیں اور آپ ﷺ ان کی آخرت سنوارنے کے لیے راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں۔ اس طرزعمل نے آپ ﷺ کی صحت کو بھی متاثر کیا ہے۔ اب آپ ﷺ ان کی طرف سے کڑھنا اور پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ یہ لوگ اس قابل نہیں۔ البتہ آپ ﷺ اپنی تمام تر توجہات اور شفقتیں اپنے صاحب ایمان ساتھیوں کے لیے وقف کردیں۔ انھیں دنیا نے ادھیڑ ڈالا ہے اور امرائے قریش کے طعنوں نے بری طرح ان کے دل زخمی کردیے ہیں۔ اب آپ ﷺ کی نگاہ کرم ان کے دلوں کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ انھیں اس طرح اپنے قریب رکھئے جیسے بچے اپنی ماں کی آغوش کے قریب ہوتے ہیں۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ کا عذاب زیادہ دور نہ ہو اور قریش اس کا ہدف بننے والے ہوں تو آپ ﷺ اپنے جاں نثاروں کو اس طرح اپنے دامن کی چھائوں میں رکھئے جس طرح مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا کے رکھتی ہے تاکہ آپ ﷺ کے خادموں اور جاں نثاروں کو کوئی دکھ نہ پہنچے اور وہ محسوس کریں کہ جب ہمارے آقا اور ہمارے ماویٰ وملجا ہمارے حال پر مہربان ہیں تو پھر ہمیں کس بات کی پروا ہے۔
Ayah 15:89

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

اور کہہ دیجئے ! کہ میں تو بلاشبہ کھلا ڈرانے والا ہوں۔

وَقُلْ اِنِّیْ ٓ اَنَا النَّذِیْرُالْمُبِیْنُ ۔ (سورۃ الحجر : 89) (اور کہہ دیجئے ! کہ میں تو بلاشبہ کھلا ڈرانے والا ہوں۔ ) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کا وقت شاید قریب آرہا ہے۔ جب کافر اور مسلمان دونوں کے راستے الگ ہوجائیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کا ماویٰ وملجا صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہوگی۔ اس لیے یہ حکم دینے کے بعد کہ اب آپ ﷺ کا سایہ رحمت ان پر جھکا رہنا چاہیے، کافروں کے حوالے سے یہ حکم دیا کہ اب آپ صاف صاف ان سے کہہ دیجئے کہ میں نے ہر ممکن طریقے سے تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلایا ہے۔ اپنی ہمت سے بڑھ کر تمہاری دنیا اور آخرت سنوارنے کی کوشش کی لیکن تم نے قدم قدم پر میری مخالفت کی۔ میرا ایک ایک احساس تمہاری مخالفت کی وجہ سے زخمی ہے۔ اب میں تمہارے لیے صرف ڈرانے والا اور آگاہ کرنے والا ہوں کیونکہ تم نے سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں تو کھو دی ہیں، اب میں دیکھ رہا ہوں کہ تم تباہی اور خطرے کے آخری کنارے پر ہو، اب میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ میں خطرہ خطرہ پکاروں اور تباہی کی دہائی دوں، شاید تم اسی سے متاثر ہو کر اپنا راستہ بدلنے کے بارے میں سوچ سکو۔
Ayahs 15:90–91

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے اتارا تھا ان تقسیم کرلینے والوں پر۔

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

جنھوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔

کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 90۔ 91) (اسی طرح ہم نے اتارا تھا ان تقسیم کرلینے والوں پر۔ جنھوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔ ) مقتسمین سے کیا مراد ہے مفسرین نے ان آیتوں کے مختلف مطالب بیان کئے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد اشرافِ قریش ہیں۔ انھوں نے قرآن کریم کا راستہ روکنے اور لوگوں کو انحضرت ﷺ سے بدگمان کرنے کے لیے عجیب طریقہ اختیار کیا۔ ولید بن مغیرہ کو اس سازش کا سرغنہ ٹھہرایا گیا۔ اس نے ایک اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کی ڈیوٹیاں لگائیں اور ان کو مکہ کی مختلف وادیوں میں پھیلا دیا۔ ممکن ہے یہ انتظام حج کے دنوں میں کیا گیا ہو۔ ہر شخص کو ہدایت کی گئی کہ اس کی ملاقات جس اجنبی سے ہو اسے نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ پر جو قرآن اترتا ہے دونوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا کیا جائے۔ کوئی یہ کہے کہ محمد ﷺ دیوانے ہوگئے ہیں، کوئی انھیں مجنون قرار دے، کوئی انھیں شاعر کہے، کوئی انھیں کاہن کے طور پر متعارف کرائے۔ اس طرح سے ہر شخص کوئی ایسی بات لوگوں کے ذہنوں میں ڈالے جس سے لوگ بدگمان ہو کر اس کے قریب جانے سے بھی گریز کریں۔ یہ انھوں نے جس طرح علاقے تقسیم کرکے مختلف عنوانات سے آنحضرت کی مخالفت کا کام اپنے اپنے ذمہ لیا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ انھوں نے اپنے تئیں قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ علامہ قرطبی کے خیال میں مقتسمین سے مراد یہ لوگ ہیں، عاص بن وائل، عتبہ، شیبہ، ابوجہل، ابوالبختری، نضربن حارث، امیہ بن خلف اور منبہ بن الحجاج۔ بعض دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ہم نے یہ قرآن کریم اسی طرح آنحضرت ﷺ پر نازل کیا ہے جس طرح ہم اس سے پہلے اہل کتاب پر ان کی کی کتابیں نازل کرچکے ہیں۔ ہر امت کی طرف اترنے والی کتاب ان کا قرآن ہی تھی۔ چناچہ انھوں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ اہل تورات نے تورات کے ٹکڑے کئے اور اہل انجیل نے انجیل کے ٹکڑے کئے۔ ٹکڑے کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی کسی آیت کو مانا اور کسی کا انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی کتاب اترتی ہے وہ مکمل انسانی زندگی کی رہنما بن کے آتی ہے۔ اس میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں، لیکن قومیں جب بگڑتی ہیں تو وہ ان ہدایات کو قبول کرتی ہیں جو ان کے لیے مفید مطلب ہوتی ہیں اور جن کے لیے کوئی بڑی قربانی نہ دینا پڑے اور باقی کتاب کو ماننے سے انکار کردیتی ہیں۔ یہود نے کسی حد تک عبادات اور کسی حد تک عائلی قوانین کو تسلیم کیا، لیکن حدود اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہی حال اہل انجیل کا بھی تھا اور آج مسلمانوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مکمل دین عطا فرمایا۔ قرآن و سنت کی شکل میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ہدایات عطا فرمائیں۔ عبادات کا ایک نظام بخشا۔ شخصی قوانین بھی دیے اور پبلک قوانین بھی۔ اسلامی معاشرتی اصول بھی سکھائے اور اسلامی معیشت کی بنیادیں بھی فراہم کیں۔ انسانوں میں مختلف انواع کو حقوق و فرائض سے بہرہ ور کیا۔ تمدنی اور تہذیبی مسائل کو سلجھایا۔ سیاست کے طوراطوار سکھائے، نظام عدل دیا اور اس کے تمام شعبے قائم کرکے دکھائے۔ حکومت اور ریاست کی صحیح تعریف کی اور اس کے قیام کے طریقے سکھائے۔ سیاست کے آداب واضح کئے اور تعلیم کا منہج اور مقصد واضح کیا۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا باقی نہیں رہا جس کے لیے رہنمائی نہ دی ہو۔ لیکن مسلمانوں نے اسلام سے نظام عبادت، شخصی قوانین اور بعض معاشرتی قوانین کے سوا قرآن و سنت کی ہر طرح کی رہنمائی کا بائیکاٹ کردیا۔ حدود اللہ تعالیٰ پامال ہو کے رہ گئے۔ زندگی کا ہر شعبہ اسلام کی روشنی سے محروم ہو کر تاریکیوں میں ڈوب گیا۔ وہ امت مسلمہ جو کبھی تاریخ کی سب سے بڑی قوت تھی آج ایک تماشا بن کے رہ گئی ہے۔ چناچہ اہل کتاب کے اسی رویئے کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی تھی اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابْ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضِ کیا تم کتاب کے اس ایک حصے کو مانتے ہو اور کتاب کے دوسرے حصے کا انکار کردیتے ہو، جو قوم بھی ایسا کرتی ہے وہ دنیا میں رسوا ہوتی ہے اور آخرت میں بدترین عذاب میں ڈالی جائے گی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی ممکن ہے مسلمانوں کو اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہو۔