15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsروح القرآن

Ayahs 15:92–93

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

پس آپ کے رب کی قسم، ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

ان اعمال سے متعلق جو وہ کیا کرتے تھے۔

فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 92۔ 93) (پس آپ کے رب کی قسم، ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ ان اعمال سے متعلق جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) اگر یہ باور کرلیا جائے کہ پہلی دونوں آیتیں یہود یا اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تو پھر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ آیتیں بھی یہود یا اہل کتاب ہی سے متعلق ہیں کیونکہ انھوں نے کتاب اللہ تعالیٰ کے احکام کی تقسیم کرکے اللہ تعالیٰ کی توہین کی ہے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم اس قابل نہیں کہ اسے درخورِ اعتنا سمجھا جائے۔ اصل اتباع کے لائق تو ہماری خواہشِ نفس ہے، اللہ تعالیٰ کا جو حکم اس کے مطابق ہوگا اسے تسلیم کریں گے اور جو مطابق نہیں ہوگا اس کا انکار کردیں گے یا اس پر عمل کرنے سے گریز کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے یہاں انتہائی قابل گرفت ہے۔ چناچہ نہایت زوردار الفاظ میں فرمایا کہ جو لوگ بھی اس رویئے کے مرتکب ہوئے ہیں ہم ان سے ضرور پوچھیں گے۔ اور انھوں نے جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے استخفاف میں حرکتیں کی ہیں وہ اللہ تعالیٰ ے مخفی نہیں۔ ہم ایک ایک حرکت کا حساب لیں گے اور اس پر انھیں سزا دیں گے۔ ہم یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ اہل کتاب کا زمانہ تو بہت مدت ہوئی گزر گیا، آج ہر آنے والا دن اس امت کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے : یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے گزشتہ ڈیڑھ ہزار سال سے قیامت تک یہ امت جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑی ہے۔ ہر دور کے مسلمانوں کو اپنے متعلق یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کی شریعت کے احکام کو ملک کا آئین و قانون بنا کر نافذ کرچکے ہیں یا نہیں اور اگر ہمارا رویہ بھی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل، نماز روزے سے متعلق احکام کی تعمیل سے آگے نہیں بڑھتی تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے اور اس کے سامنے کیسے جوابدہی کرسکیں گے۔
Ayah 15:94

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

آپ کھول کر بیان کیجئے اس کو جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے۔

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُوَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 94) (آپ کھول کر بیان کیجئے اس کو جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے۔ ) تبلیغ میں تیزی اور صراحت پیدا کرنے کا حکم فَاصْدَعْ صدع سے ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے چیرنا۔ تو فَاصْدَعْکا معنی ہے کھول کر، آشکارہ کرکے، اعلان کرکے بیان کیجئے۔ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ چونکہ نذیر مبین بن کے آئے ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ ان کی ساری مخالفتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے دین کو کھول کھول کر بیان کیجئے۔ ان کی مخالفتوں کو خاطر میں نہ لایئے۔ یہ مکہ کے مشرک جو منصوبہ بندیاں کررہے ہیں انھیں کرنے دیجئے۔ آپ ﷺ ان سے اعراض کیجئے اور یکسر لاتعلق ہوجائیے کیونکہ اب دھیمے لہجے میں تبلیغ کرنے کا وقت گزر گیا۔ دلائل وبراہین سے آپ اپنی بات کو پوری طرح واضح کرچکے اب تو انھیں آخری تنبیہ کی ضرورت ہے۔ اس لیے آپ ﷺ پوری طرح اس تنبیہ کو واشگاف انداز میں ان کے کانوں تک پہنچا دیجئے۔
Ayahs 15:95–96

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم کافی ہیں آپ کو مذاق اڑانے والوں کے شر سے بچانے کے لیے۔

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود شریک کرتے ہیں۔ سو وہ عنقریب جان لیں گے۔

اِنَّا کَفَیْنٰـکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ ج فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 95۔ 96) (ہم کافی ہیں آپ کو مذاق اڑانے والوں کے شر سے بچانے کے لیے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود شریک کرتے ہیں۔ سو وہ عنقریب جان لیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا وعدہ گزشتہ آیت کریمہ میں برملا تبلیغ کرنے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت کو ہر کس و ناکس ہر چھوٹی بڑی مجلس اور ہر رئیس کے دربار تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے کام میں کچھ مزید تیزی اور مزید جرأت و جسارت پیدا کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے جبکہ اس سے پہلے کی تبلیغ کا نتیجہ مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جارہا تھا اور مخالفین اس دعوت کو کچل دینے کے منصوبے باندھ رہے تھے اور اب جب اس میں مزید تیزی آئے گی تو یقینا دوسری طرف سے ردعمل بھی شدید ہوگا۔ پہلے جو لوگ اس دعوت کا مذاق اڑاتے تھے اب نہ جانے وہ کیا کر گزریں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو بطور خاص تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آپ اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ مخالفین آپ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے اور یا وہ آپ کو کیا سے کیا نقصان پہنچا دیں گے۔ تمسخر کی حد تک ہم برداشت کرتے رہے ہیں، اب اگر ان تمسخر کرنے والوں نے قدم آگے بڑھایا تو وہ قدم کاٹ دیا جائے گا۔ آپ کو اپنی مدافعت خود کرنے کی ضرورت نہیں، یہ ذمہ داری ہماری ہے اور ہم اس کو ادا کریں گے۔ آپ کو جس بات کی سزا دی جارہی ہے وہ صرف یہ ہے کہ آپ توحید کی دعوت کیوں دیتے ہیں اور ایک اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کو ضروری کیوں قرار دیتے ہیں اور ان کے مصنوعی شرکاء کو قبول کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں۔ اس صورت میں ہمارے لیے تو اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم آپ کا تحفظ کریں کیونکہ آپ کو ہماری وجہ سے یہ سارے مصائب برداشت کرنا پڑ رہے ہیں اور مزید یہ بات بھی کہ مشرکین جو نہ جانے کس کس کو اِلٰہ بنا چکے ہیں، وہ اپنے شرک کی حفاظت اور اپنے مزعومہ شرکاء کی عزت کے بچائو کے لیے آپ کے درپے آزار ہیں تو ہمارے لیے بھی لازم ہے کہ ہم اپنے پیغمبر کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لیے ان لوگوں کو سبق سکھائیں۔ چناچہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی کافر نے زبانی ایذا دہی سے آگے بڑھ کر آپ ﷺ پر حملہ کیا اور آپ ﷺ کی جان لینے کی کوشش کی تو فرشتوں نے آپ ﷺ کی حفاظت کی۔ ابوجہل نے جب ایک دفعہ آپ ﷺ کے سر کچلنے کی قسم کھالی کہ اگر محمد ﷺ نے آج کے بعد میرے سامنے سجدہ کیا تو میں فلاں فلاں بت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس کا سر کچل دوں گا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ صحنِ حرم میں نماز پڑھتے ہوئے جب سجدے میں گئے تو وہ ملعون جلدی سے پتھر اٹھا کر آپ کے سر پر مارنے کے لیے بڑھا لیکن پھر فوراً ہی پتھر اس کے ہاتھ سے گرگیا اور وہ دونوں ہاتھ مارتا ہوا جیسے اپنے آپ کو کسی چیز سے بچا رہا ہو چیختا ہوا پیچھے ہٹا۔ جب اشرافِ قریش نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا تو اس نے بتایا کہ میں جیسے ہی محمد ﷺ کے قریب پہنچا تو میں نے محسوس کیا کہ کچھ برچھے میری طرف بڑھ رہے ہیں، آگ زبانیں نکالے میری طرف آرہی ہے اور کوئی اونٹ ہے جو مجھے نگل جانا چاہتا ہے۔ اگر میں فوراً پیچھے نہ ہٹتا تو نہ جانے میرے ساتھ کیا ہوجاتا۔ جب آنحضرت ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے جو میری حفاظت کرتے ہیں۔ اگر وہ ایک قدم بھی آگے بڑھتا تو اس کے پرزے اڑا دیے جاتے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان کی طرف سے بالکل یکسو رہیں، یہ آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، البتہ ان کے ساتھ جو گزرنے والی ہے ابھی اس کے بتانے کا وقت نہیں آیا، یہ عنقریب خود جان لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ چناچہ وقت نے زیادہ دیر انتظار نہیں کرایا۔ ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوگیا اور اس سے پہلے ہجرت کے دوسرے سال ہی جنگ بدر میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور جو باقی بچ گئے ان میں بیشتر فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوگئے اور چند ایک ملک سے بھاگ گئے۔
Ayahs 15:97–99

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو کچھ وہ کہتے ہیں

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

تو آپ اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں یہاں تک کہ آپ کے پاس یقین آجائے۔

وَلَقَدْنَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْ تِیَکَ الْیَقِیْنُ ۔ (سورۃ الحجر : 97۔ 98۔ 99) (اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو کچھ وہ کہتے ہیں تو آپ ﷺ اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔ اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس یقین آجائے۔ ) کفار کی بدگوئی کے مقابلہ میں تسبیح تحمید اور نماز کا حکم آنحضرت ﷺ جب مشرکین کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے اور اس کی توحید کی دعوت دیتے تو وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں جو منہ میں آتا کہہ گزرتے۔ اپنے بتوں کی حمایت میں اللہ تعالیٰ کی شان میں بھی گستاخی کرتے اور دین کے بنیادی عقائد کے بارے میں عجیب و غریب ہفوات بکتے۔ آنحضرت ﷺ کو اس سے حددرجہ تکلیف ہوتی۔ آپ ﷺ کا سینہ صدمے سے بھر جاتا۔ چناچہ اس صدمے کی شدت سے نکلنے اور دل کے اطمینان کے لیے آپ ﷺ کو تدبیر بتائی جارہی ہے کہ وہ جیسے ہی آپ کا دل دکھانے کی باتیں کریں آپ اس ذات بابرکات کی حمد و ثنا کی تسبیح میں لگ جائیں جس کا نام دلوں کے لیے باعث سکون اور جس کی یاد دکھی دلوں کا مرہم ہے۔ اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ جب طبیعت پر ایسے خیالات کا ہجوم ہو جو طبیعت کو اچاٹ کردینے والے اور دل کو زخمی کردینے والے ہوں تو پھر دل کو محبوب کی یاد میں مصروف کردینا چاہیے کیونکہ محبوب کی یاد اور محبوب کا وصل ایک ایسا نشہ ہے جس کے سامنے زندگی کا کوئی خیال یا دکھ ٹھہر نہیں سکتا اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا سب سے عظیم محبوب اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی نہیں ہوتا۔ اس لیے حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں دنیا میں اگر کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ( رض) کو بناتا، لیکن میرا خلیل صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ایسے تکلیف دہ مراحل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد ہی کام آسکتی ہے۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے کہ جب کبھی آپ ﷺ غمگین ہوتے تو آپ حضرت بلال ( رض) سے فرماتے اَرِحْنِیْ یَا بِلاَلْاے بلال ( رض) مجھے آرام پہنچائو۔ بلال ( رض) کہتے حضور ﷺ کیسے آرام پہنچائوں۔ آپ ﷺ فرماتے، آذان کہو، تاکہ نماز پڑھوں، کیونکہ میرے دل کی راحت نماز میں ہے۔ شاید اس لیے فرمایا گیا کہ آپ نہ صرف کہ خود نماز کی طرف متوجہ ہوں بلکہ اپنے خادموں کے ساتھ نماز کا اہتمام فرمائیں تاکہ جب ادھر سے راحت و اطمینان کی شبنم برسے تو آپ کے خادم بھی اس سے محروم نہ رہیں۔ مزید فرمایا کہ آپ بندگی اور عبادت اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ یقین کا وقت نہیں آجاتا، یعنی جب تک آنکھوں میں نم یا روشنی ہے اور نبض میں جنبش ہے، اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی یاد جاری رہنی چاہیے کیونکہ اللہ والوں کی تو حقیقی زندگی یہی ہے اور موت اسی صورت میں آنی چاہیے کہ دل میں اللہ تعالیٰ سے ملنے کا شوق اور زبان پر اس کی رفاقت کا تذکرہ ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جب یقین کا معنی موت کیا جائے۔ لیکن بعض اہل علم نے یقین سے مراد وہ وقت لیا ہے جب اسلام کو غلبہ عمومی ملے گا، مکہ فتح ہوجائے گا اور کفر اور شرک کی قوتیں آنحضرت ﷺ کے سامنے ہاتھ باندھیں کھڑی ہوں گی اور لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ آنحضرت ﷺ نے جن جن باتوں کی خبر دی تھی ان میں سے ایک ایک بات حقیقت کے روپ میں جلوہ گر ہو کر لوگوں کے سامنے کھڑی ہے۔