Ayah 16:1اَتٰٓی اَمْرُاللّٰہِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ ط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْن۔ (سورۃ النحل : 1)
(امرِالٰہی صادر ہوچکا ہے، پس اس کے لیے عجلت نہ کرو، وہ پاک ہے اور برتر ہے اس شرک سے جو وہ کر رہے ہیں۔ )
عذاب مانگنے والوں کو وعید
گزشتہ سورت میں یہ مضمون بار بار گزرا ہے کہ قریش کی سرکشی کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ انھیں ہر ممکن طریقے سے سمجھانے کی کوشش فرماتے اور جب دیکھتے کہ ان کی گردنیں کسی طرح خم نہیں ہو رہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لیے بالکل تیار نہیں بلکہ روز بروزوہ اپنی سرکشی اور دین دشمنی میں حدود سے تجاوز کرتے جارہے ہیں اور کوشش ان کی یہ ہے کہ دعوت اِلیٰ اللہ کے اس کام کو ہر ممکن طریقے سے ناممکن بنادیا جائے، تو آنحضرت ﷺ نے انھیں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو سابقہ معذب قوموں کی طرح ایک نہ ایک روز تم بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہو کے رہو گے۔ اتنی بڑی تنبیہ کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان پر ایک خوف طاری ہوتا اور وہ اپنے انجام کے بارے میں فکرمند ہوتے لیکن انھوں نے اس کے بالکل برعکس اس عذاب کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا۔ بار بار آنحضرت ﷺ سے پوچھتے کے اگر قوموں کے انکار اور ان کی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی کی وجہ سے خدا کا عذاب آتا ہے تو پھر ہم پر عذاب آنے میں تاخیر کیوں ہے۔ ہم تو کسی قیمت پر بھی تم پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہم مقدور بھر تمہاری دعوت کو ناکام کرنے کے لیے اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چناچہ ان کے اس رویے کا جواب دیتے ہوئے پروردگار نے اس سورت کا آغاز ہی اس حوالے سے فرمایا ہے۔ بغیر کسی تمہید کے فرمایا کہ تم عذاب مانگتے ہو، عذاب تو اپنے وقت پر آئے گا اور اس وقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اس بات کو یقینی سمجھو کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوچکا ہے۔ اس لیے بجائے اس کے کہ اسے مستقبل کے انداز میں ذکر کیا جاتا۔ ” اَتٰٓی “ فعل ماضی کی صورت میں لایا گیا ہے کہ اس حکم کا وقوع پذیر ہونا ایسا یقینی ہے کہ گویا کہ یہ حکم ماضی میں نافذ ہوچکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہاں عذاب کا لفظ لانے کی بجائے ” امر “ کا لفظ لایا گیا ہے۔ امر سے مراد کیا ہے ؟ معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ اس پر اسس کی طرف اشارہ ہے جس کے نتیجے میں کسی قوم کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔ پر اسس یہ ہے کہ جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے تو پیغمبر اپنی تمام ممکن صلاحیتوں سے انھیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب ان کی مخالفت اندھی دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور وہ پیغمبر کے قتل کے منصوبے باندھنے لگتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ہجرت کا حکم دیتا ہے۔ چناچہ پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے محفوظ جگہ پر پہنچا دیے جاتے ہیں اور اس کے بعد مخالفین کو دو طرح کی صورتحال سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آجاتا ہے۔ اس کے غیبی لشکر اس قوم پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اس کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہجرت کرنے والے پیغمبر اور اس کے متبعین کو اللہ تعالیٰ ایسی قوت عطا فرماتے ہیں کہ وہ مخالفین کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان سے دور رہ کر اپنے آپ کو روز بروز مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ ایک وقت آتا ہے کہ ان مسلمانوں کے ہاتھوں ان دین کے دشمنوں کہ تہہ تیغ کروایا جاتا ہے اور ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب مسلمانوں میں قبولیتِ حق کا سلسلہ بالکل مردہ نہیں ہونے پاتا۔ رسول اللہ ﷺ کو جب ہجرت کا حکم دیا گیا تو بظاہر یوں محسوس ہوتا تھا کہ مکہ کا ذرہ ذرہ آپ ﷺ کی دشمنی پر تلا ہوا ہے اور اہل مکہ نے آپ ﷺ کے قتل کے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں لیکن حقیقت میں اندر ہی اندر خفیہ طور پر دین کی قبولیت کا سلسلہ جاری تھا۔ حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابوجندل ( رض) کا حالت اسلام میں اچانک مسلمانوں کے سامنے آجانابجائے خود اس بات کی دلیل تھا کہ مکہ کے اندر دعوت و تبلیغ اور قبولیتِ اسلام کا سلسلہ جاری ہے اور پھر جب آنحضرت ﷺ کی ذاتی اپیل پر بھی حضرت ابوجندل ( رض) کے والد نے بیٹے کو چھوڑ کر جانے سے انکار کردیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند مہینوں کے بعدجب حضرت ابوبصیر ( رض) ساحلِ سمندر پر ٹھکانہ بنانے میں کامیاب ہوگئے تو حضرت ابوجندل ( رض) بھی چھپتے چھپاتے ان کے پاس جا پہنچے اور مکہ کے جو لوگ درپردہ ایمان لاکر اپنے اہل خانہ کے مظالم کا شکار ہورہے تھے وہ خفیہ طور پر آہستہ آہستہ ساحل سمندر پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں ٹھہر کر انھوں نے قریش کے تجارتی قافلوں پر حملے کرنے شروع کردیے۔ قریش نے جب یہ دیکھا کہ 70 کے قریب سر پھرے نوجوان جو کسی نظم کے پابند نہیں اور ایسی جگہ قبضہ کرچکے ہیں جہاں وہ کسی وقت بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انھوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی ہم اپنے معاہدے کی وہ شق واپس لیتے ہیں جس میں کسی نومسلم کو مدینہ طبیہ میں روکا نہیں جاسکتا بلکہ واپس کرنا ضروری ہے۔ آپ براہ کرم ان نوجوانوں کو مدینہ بلا لیجئے تاکہ ہمارے تجارتی راستے کھل سکیں۔
اگر دوسری قوموں کی طرح اہل مکہ پر عذاب آجاتا تو وہ تمام لوگ جو درپردہ ایمان لا چکے تھے جن میں آنحضرت ﷺ کے محترم چچا کا گھرانہ بھی شامل تھا، سب عذاب کا شکار ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ چھپی باتوں کا جاننے والا ہے اس لیے اس نے مکمل عذاب بھیجنے کی بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں ان لوگوں کو قتل کرانے کا انتظام کیا جو اسلام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ یہ بھی عذاب ہی کی ایک صورت تھی، لیکن اس عذاب کو چونکہ دھیرے دھیرے آنا تھا تاکہ نومسلموں کو اپنے حالات بہتر بنانے کا موقع ملتا رہے۔ یعنی اسلام کا قافلہ بھی بڑھتا رہے اور اسلام کے معاندین اپنے انجام کو بھی پہنچتے رہیں۔ چناچہ ان کو پہلا جھٹکا جنگ بدر میں لگا جبکہ ان کی پہلی صف 70 افراد کی صورت میں تہہ تیغ کردی گئی۔ ان کا ہر سربرآوردہ آدمی جو کفر کا ستون سمجھا جاتا تھا اور مسلمانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا وہ اس جنگ میں قتل ہوگیا۔ جو بدترین دشمن بچے رہے انھیں 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد چشم فلک نے اس حال میں دیکھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے سامنے کھڑے زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے۔ یہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کا حکم جس کا آغاز ہجرت سے ہوا اور چند ہی سالوں میں وہ اپنے فطری انجام کو پہنچ گیا۔ قوموں کی تاریخ میں 8 سال کا عرصہ نہایت ناقابلِ ذکر ہوتا ہے۔ کسی بھی مظلوم اور بےبس قوم کے لیے 8 سالوں میں اتنی طاقت حاصل کرلینا کہ وقت کے طاغوتوں کو شکست دے سکے اور ساڑھے 12 لاکھ مربع میل علاقے میں نہ صرف اللہ تعالیٰ کا دین بلند ہو بلکہ دورجاہلیت کا لادینی نظام مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔ اسباب کی دنیا میں اتنی محدود مدت میں اتنا بڑا انقلاب کبھی برپا نہیں ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا امر تھا جسے بہرحال ہو کے رہنا تھا۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے سے ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا جارہا ہے۔ انھیں غلط فہمی یہ تھی کہ اسلام بڑے شدومد سے شرک کی تردید کرتا ہے اور شرک کو ایک ایسی آلودگی قرار دیتا ہے جس میں آلودہ رہ کر کوئی آدمی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک ایسا آتش گیر مادہ ہے جس سے جہنم کی آگ دہکائی جائے گی۔ اور مزید فرمایا کہ دنیا میں شرک کی ہر نشانی کو مٹا دینے کے لیے رسول آتے رہے ہیں اور اس آخری رسول کی دعوت کا بھی اصل ہدف یہی نکتہ ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ ہم تو سرتاپا شرک میں دھنسے ہوئے ہیں اور توحید پر مبنی دعوت کو ہم کسی قیمت پر پنپنے کا موقع نہیں دے رہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آتا۔ اس کا تو بدیہی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شرک ایک حقیقت ہے، توحید محض ایک واہمہ ہے اور پیغمبر کی دعوت کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کے دعوے بےبنیاد ہیں۔ قرآن کریم اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے فرما رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کا کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ وہ ہر طرح اور ہر قسم کے شرک سے مبرا اور بلند ہے۔ تمہارے شرک میں ملوث ہونے کے باوجود جو اب تک عذاب نہیں آیا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ شرک اللہ تعالیٰ کو پسند ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ کے حکم کے بروئے کار آنے کا وقت نہیں آیا۔ وہ چونکہ اپنے بندوں کو پوری طرح سنبھلنے کا موقع دیتا ہے اور جب تک ان میں سمجھ بوجھ کی کچھ رمق باقی ہوتی ہے، اس وقت تک وہ عذاب نازل کرنے کی بجائے مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ تم بھی اسی مہلت کے دورانیے سے گزر رہے ہو۔ جلدی مت مچائو، اللہ تعالیٰ کے فیصلے اس کی مشیت اور حکمت کے مطابق ہوتے ہیں، بس اس کا انتظار کرو۔
Ayah 16:2یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْ ٓا اَنَّـہٗ لَآاِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ ۔ (سورۃ النحل : 2)
(وہ اتارتا ہے فرشتوں کو روح دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، اس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ ہی سے ڈرو۔ )
روح کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں روح کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ اور اسے روح کا نام شاید اس لیے دیا گیا ہے کہ جس طرح روح سے ہر جاندار زندہ اور طاقتور ہے اور اپنی زندگی کے معمولات انجام دیتا ہے، اسی طرح روحانی اور اخلاقی زندگی کے لیے بھی ایک روح کی ضرورت ہے جو اسے زندگی اور توانائی مہیا کرتی رہے اور وہ روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والی وحی ہے جس کی روشنی میں انسان زندگی کا سفر کرتا ہے اور تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے زندگی کے معمولات کو اس طرح انجام دیتا ہے جیسے روشنی میں چلنے والا ہر قدم دیکھ بھال کے رکھتا ہے۔ وہ ہر راستے کو پہچانتا ہے اور ہر سنگ میل سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وحیِ الٰہی سے سرشار آدمی نہ اپنی ذات کی خودفراموشیوں میں کھوتا ہے اور نہ گردوپیش کی دلفریبیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے بھی وحی کی ہدایت کے مطابق فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے جذبات اور توانائیوں کو ان حدود میں محدود رکھتا ہے جس کی طرف وحی الٰہی رہنمائی کرتی ہے۔ دوسرے انسانوں سے اس کے معاملات اور دوسری ہر مخلوق سے اس کا رویہ وحی الٰہی کی رہنمائی میں متعین ہوتا ہے اس لیے اس میں نہ الجھن ہوتی ہے اور نہ کوئی اڑچن پیش آتی ہے۔ زندگی کسی صحرا میں گم ہونے کی بجائے کسی دبستان میں مسکراتی اور اپنا فرض انجام دینے لگتی ہے۔
ایک اعتراض کا جواب
اس آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ کے ایک اعتراض کا جواب بھی ہے۔ مشرکین بڑی بلند آہنگی کے ساتھ آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ نبوت ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے کسی بندے کو عطا ہوتا ہے۔ اولاً تو ہونا یہ چاہیے کہ یہ اعزاز کسی انسان کو نہیں بلکہ فرشتوں جیسی کسی معصوم مخلوق کو دیا جاتا لیکن اگر انسان ہی کو یہ خلعت پہنانا تھا تو پھر کیا اس کے لیے محمد ﷺ ہی باقی رہ گئے تھے جو نہ کسی قبیلے کے سردار ہیں اور نہ مال و دولت کے حوالے سے کوئی خاص شہرت رکھتے ہیں۔ یتیمی کا داغ لے کر پیدا ہوئے اور نہایت کسمپرسی میں زندگی گزاری۔ اگر یہ اعزاز کسی کو دینا ہی تھا تو کیا طائف اور مکہ کے سردار اس کا زیادہ حق نہ رکھتے تھے۔ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ نبوت ایک اعزاز بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔ لیکن یہ کسے ملنی چاہیے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس کے اندر اس نے اس کٹھن ذمہ داری کے تحمل کی صلاحیت رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات جو اپنے علم محیط اور قدرت کاملہ کے باعث کسی کے مشورے کی محتاج نہیں۔ نبوت جیسے نازک کام کے لیے دنیوی آلودگیوں میں پلنے والی مخلوق کارآمد نہیں ہوسکتی، اس کے لیے وہ پاکیزہ روح، وہ معصوم فطرت، وہ خواہشوں سے مغلوب نہ ہونے والی عقل، وہ بلند اخلاق، وہ بےپایاں قوت پرواز درکار ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی نبوت دی ہے پہلے اس کے اندر سیرت و کردار کے یہ ہیرے کوٹ کوٹ کے بھرے ہیں۔ اس لیے تمہارا اس حوالے سے یہ خلط مبحث کوئی معنی نہیں رکھتا۔
مشرکینِ مکہ کبھی ترنگ میں آکر یہ بات بھی کہتے کہ محمد ﷺ کہتے ہیں کہ مجھ پر فرشتے اترتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ فرشتے ہمیں نظر کیوں نہیں آتے ؟ اور وہ ہم پر کیوں نہیں اترتے ؟ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتے یا تو وحی الٰہی لے کر اترتے ہیں اور یا عذاب لے کر نازل ہوتے ہیں۔ وحی تو تم پر اترنے سے رہی کیونکہ تم پیغمبر نہیں ہو۔ رہا عذاب تو وہ تو اپنے وقت پر آئے گا۔ اور اللہ تعالیٰ ہی کو منظور ہے وہ وقت کب آئے گا۔ اسے یقینا فرشتے لے کر اتریں گے، لیکن اس وقت فرشتوں کو دیکھنا تمہارے لیے سود مند نہیں ہوگا، کیونکہ عذاب سے دوچار ہونے والا چیخ و پکار تو سن سکتا ہے، دیکھ کسی چیز کو نہیں سکتا۔
ایک لطیف نکتہ
آیت کے دوسرے حصے میں ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ فرمایا، وہ یہ کہ مشرکینِ مکہ کو نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے جو عناد پیدا ہوگیا تھا حالانکہ آپ بعثت سے پہلے مکہ کی سب سے زیادہ ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ آپ ﷺ انھیں اللہ تعالیٰ کی الوہیت کی دعوت کیوں دعوت کیوں دیتے تھے۔ ہر طرح کے شرک کی تردید کیوں کرتے تھے۔ اس سے چڑ کر وہ بار بار آنحضرت ﷺ سے کسی نہ کسی نشانی دکھانے کا مطالبہ کرتے اور کبھی عذاب کی وعید کا تمسخر اڑاتے۔ چناچہ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ فرشتے ہمیشہ نبیوں پر وحی لے کے اترتے ہیں اور وہ اپنی مرضی سے نہیں اترتے اور نہ انسانوں کے مشورے سے اترتے ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اترتے ہیں اور اس پر اترتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نبوت عطا فرماتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ وہ جب بھی کسی نبی پر وحی الٰہی لے کر نازل ہوتے ہیں تو انھیں صرف یہ پیغام دیتے ہیں کہ اب آپ کا کام انسانوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرانا اور خبردار کرنا ہے۔ اور یہ بنیادی بات ان کے دل و دماغ میں اتارنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں، کوئی غیرمشروط اطاعت کا مستحق نہیں، کوئی بےپناہ طاقتوں کا مالک نہیں، وہی سب کا مسجود اور وہی سب کا معبود ہے، اس کے سوا کوئی حاکم حقیقی نہیں، اس کے احکام کی بجاآوری سب کے لیے لازمی ہے، اس کا دیا ہوا دستور سب کی زندگی کا دستور ہے۔ تمہیں اسی کی اطاعت کرنی ہے اور اگر اطاعت میں کمی کرو گے یا اس کے احکام سے سرتابی کرو گے تو یہاں بھی اس کی گرفت آسکتی ہے اور قیامت کے دن تو وہ ایک ایک بات کا حساب لے گا۔ اس لیے ہر رسول اپنی امت سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ تمہیں صرف مجھ ہی سے ڈرنا ہے، میرا ہی تقویٰ اختیار کرنا ہے، ظاہر و باطن میری ہی اطاعت کے نور سے منور کرنا ہے۔
Ayah 16:3خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 3)
(اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہ ڈرنے کی دلیل
گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو باخبر کردیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہ ڈرا جائے اور اس کے سوا کئی اور کو اِلٰہ نہ مانا جائے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کی دلیل بیان فرمائی کہ تم یہ تو مانتے ہو کہ آسمان و زمین کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ اس نے ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد اور غایت کے لیے خلق کیا۔ وہ ایک حکیم ذات ہے۔ اس کی حکمت سے یہ بات بعید ہے کہ وہ بےمقصد کسی چیز کی تخلیق کرے۔ اسی طرح اس نے تمہاری تخلیق بھی کی ہے اور تمہاری تخلیق کا مقصد اپنے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعے بار بار واشگاف فرمایا۔ اپنی آخری کتاب میں بھی صاف صاف فرمایا کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری بندگی کریں۔ پہلی بات جو اس سے مترشح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب میں زمین و آسمان اور تمہارا خالق ہوں تو پھر بجا طور پر مجھے حق پہنچتا ہے کہ میں تم سے اپنی بندگی کرائوں، تم سے اطاعت کا خراج وصول کروں، کیونکہ جو ذات کسی کو وجود دیتی ہے وہی اس سے اطاعت لینے کا حق بھی رکھتی ہے۔ اس پر اسے حکم چلانے کا بھی حق مل جاتا ہے۔ اسی حق کے پیش نظر وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اِلٰہ مت مانو اور اسی سے ڈرو تاکہ اس کی معصیت اور نافرمانی نہ کرسکو۔ اور دوسری جو بات اس سے خودبخود نکلتی ہے وہ یہ کہ اس نے ہر چیز کو ایک مقصد دے کر پیدا کیا۔ انسانوں کا بھی ایک مقصد ہے جیسے میں عرض کرچکا ہوں تو اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ایک دن سب کو اٹھا کھڑا کرے اور اپنے دربار میں بلا کے پوچھے کہ بتائو تم نے زندگی میرے احکام کے مطابق گزا ری یا اپنی خواہشات کی پیروی میں گزاری، کیونکہ مخلوق کو پیدا کرنا اور پھر اس سے کبھی جواب نہ مانگنا اور زندگی کا حساب نہ لینا اس کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ پیدا کرنے والے نے پیدا کرکے ایک عبث کام کیا اور اللہ تعالیٰ جیسی حکیم ذات سے یہ توقع کرنا بجائے خود کفر ہے۔ اس لیے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لاَ تُرْجَعُوْنَ (23: 115) کیا تم نے گمان کرلیا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے کیونکہ جس تخلیق کے مقاصد کا لحاظ نہ کیا جائے اور اگر وہ مخلوق زندہ اور مکلف ہے تو اس کے اعمال کا حساب نہ لیا جائے اور اسے بالکل نہ پوچھا جائے کہ تو نے خدا کی عطا کردہ نعمتوں کا کیا حق ادا کیا اور زندگی کو کہاں خرچ کیا، جوانی کہاں کھودی، مال کیسے کمایا اور کہاں اڑایا، علم حاصل کیا یا نہیں، اور کیا تو اس کا کیا حق ادا کیا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پیدا کرنے والے نے اسے عبث پیدا کیا۔ اس کا پیدا کرنے والا کوئی کھلنڈرا ہے جس نے محض کھیل کود کے لیے اس کی تخلیق کی ہے حالانکہ پروردگار فرماتا ہے وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمُا لاَعِبِیْنَ ہم نے آسمانوں اور زمین کو کھیلتے ہوئے پیدا نہیں فرمایا بلکہ ایک مقصد کے ساتھ پیدا فرمایا۔
آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا کہ مشرکینِ عرب عموماً قیامت کے آنے کا یقین نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی یہاں مٹی ہو کر ختم ہوجائیں گے اور ہمارے اعمال بھی اور کہیں ان کی بازپرس نہیں ہوگی۔ لیکن اگر بفرض محال ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہی پڑا تو جن قوتوں کو ہم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ یقینا ہمیں اللہ تعالیٰ کی بازپرس سے بچا لیں گی۔ ان کو توجہ دلانے کے لیے فرمایا کہ تم کیسے احمق ہو تم مانتے ہو کہ زمین و آسمان اور اس کے اندر کی تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمایا اور جن کو تم شریک کرتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ تو کہاں اللہ تعالیٰ کی ذات اور کہاں تمہارے یہ شرکاء، کہاں خالق اور کہاں مخلوق۔ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ نے پکڑ لیا تو یہ تمہیں کیسے چھڑا لیں گے۔ وہ تو خود اللہ تعالیٰ کے عذاب سے لرزاں و ترساں ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر لحاظ سے بالا اور بلند ہے ان تمام قوتوں سے جنھیں لوگ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 16:4خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ النحل : 4)
(اس نے انسان کو ایک ذراسی بوند سے پیدا کیا اور وہ دیکھتے دیکھتے ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا۔ )
اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت اور انسان کی بےبضاعتی
گزشتہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے جسے بھی اپنا رسول بنا کے بھیجا اسے یہ حکم دیا کہ لوگوں پر جا کے یہ بات اچھی طرح واضح کردو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الوہیت کا سزاوار نہیں۔ اور یہ بات بھی کہ اِلٰہ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہے اور تم اس کے بندے اور غلام ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے ڈرنے اور کسی اور کے سامنے جھکنے کا کوئی جواز نہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اس سے ڈرتا ہے جس کی قوتیں بےپناہ ہوں۔ اور جس سے آدمی کی احتیاج وابستہ ہو یعنی اس کے سامنے سر اٹھانے کی اس لیے مجال نہ ہو کہ وہ بہت قوتوں والا ہے۔ اور اس سے تعلق توڑنے کی اس لیے ہمت نہ ہو کہ تمام احتیاجات اسی سے پوری ہوتی ہیں۔ چنانحہ اسی پہلو کو سامنے رکھ کر پروردگار نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرتوں کا عالم یہ ہے کہ اس نے ارض و سما پیدا کیے۔ اور ان میں بسنے والی مخلوق اسی کے دسترخوانِ نعمت سے ریزہ چینی کررہی ہیں۔ اس طرح اپنی کمال قدرت اور کمال ربوبیت کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا کہ انسانو ! تم ایک مشت استخوان ہو۔ اس کائنات میں تمہاری حیثیت کوئی قابل ذکر بھی نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی قوتوں کے مقابلے میں تم ذرہ ناچیز سے بھی کم ہو۔ اور اس کی ربوبیت کا ذرا سا تغافل تمہاری موت کے لیے کافی ہے۔ اور پھر یہ دیکھو کیونکہ اس سے تمہاری بےبضاعتی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا بھی کہ اس نے تمہیں پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور وہ بوند بھی ایسی جسے ناپاک کہا جاتا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسی بوند سے پیدا ہونے والا انسان جب خوبصورت شکل و صورت لے کر دنیا میں آتا اور پھر پروان چڑھتا ہے حتیٰ کہ بلوغ کی عمر کو پہنچ کر شعور سے بہرہ ور ہوتا اور صلاحیتوں سے بھرپور ہوجاتا ہے تو اپنے ہی مالک کے سامنے حریف اور جھگڑالو بن کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اپنے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کے مقابل دلائل دیتا اور اپنی بات پر اصرار کرتا ہے۔ اس طرح سے اس کا حجت بازیاں کرنا اور اپنی غیرمعمولی قوتوں کا اظہار کرنا ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا اس کی ناپاک جسارت پر کہ جس نے اس کو سب کچھ دیا ہے اور پانی کی بوند سے پیدا کرکے ایسی صلاحیتوں کا پیکر بنایا ہے کہ اب کائنات کا گل سرسبد اسے ہی کہا جاتا ہے، لیکن اسی عطا کرنے والے کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ تصور کیجیے کہ وہ غلام جسے عزت و طاقت مل جائے اور وہ اپنے آقا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی کوشش کرے تو دنیا میں اگر شرافت مٹ نہیں گئی تو ہر شریف آدمی اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا۔ اور انسان کا معاملہ اپنے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تو اس سے بھی بڑھ کر سنگین ہے۔ نہ اسے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا احساس ہے، نہ اس کے احسانات کا پاس ہے اور نہ اپنی حدود کا شعور ہے۔ وہ سب کچھ بھول کر سرکشی اور طغیانی کے راستے پر چل نکلا ہے۔ لیکن یہ بھی امرواقع ہے کہ سب انسان یکساں نہیں ہیں۔ اس لیے جن کے اندر انسانیت بالکل دم نہیں توڑ گئی اور قبولیت کی استعداد کی کچھ رمق بھی باقی ہے ان کے سامنے پروردگار اپنی ان نعمتوں کا ذکر فرماتا ہے جنھیں محسوس کرنا ان کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں۔
Ayah 16:5وَالْاَنْعَامَ خَلَقَھَا ج لَکُمْ فِیْھَا دِفْ ٌٔوَّ مَنَافِعُ وَمِنْھَا تَاْکُلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 5)
(اور چوپائے بھی اس نے تمہارے لیے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ )
آیاتِ الٰہی کی طرف اشارہ
آیتِ کریمہ میں دِفٌْ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو چوپایوں کے بال اور اون وغیرہ پر بولا جاتا ہے۔ اس سے عام طور پر عرب سردیوں سے بچنے کے لیے گرم لباس بناتے تھے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ پوشاک کیا ہے۔ اون سے تو ظاہر ہے کہ کپڑا بنتا تھا۔ البتہ بعض جانوروں کے بالوں سے خیمے وغیرہ بھی بنتے تھے۔ اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے کرشمے اور اس کے احسانات ہیں جن کی طرف انسان کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ تمہارا مالک اور محسن تو وہ ہے جس نے تمہیں دیگر ہزاروں نعمتوں کے ساتھ ساتھ چوپایوں جیسی نعمت بھی عطا فرمائی کہ عرب جیسی سرزمین میں جہاں زندگی کے امکانات بہت کم ہیں جہاں صنعت نہ ہونے کے برابر ہے اور زراعت بھی بڑے محدود علاقوں تک محدود ہے۔ عام انسانوں کی گزر بسر کا ذریعہ چوپائے ہیں جن کے اون سے کپڑا بنتا ہے اور جن کے بالوں سے عرب کی چلچلاتی دھوپ سے بچنے کے لیے کھلے آسمان کے نیچے موسم کی شدت سے حفاظت کے لیے بالوں سے خیمے بنائے جاتے ہیں جو نہایت مضبوط ہوتے تھے اور پھر سفر و حضر میں انھیں جانوروں کے گوشت سے پیٹ کی آگ بجھائی جاتی ہے اور بھی نہ جانے کتنے فائدے ہیں جو ان سے اٹھائے جاتے ہیں۔
Ayah 16:6وَلَکُمْ فِیْھَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 6)
(ان میں تمہارے لیے جمال ہے جبکہ تم ان کو شام کو گھر واپس لاتے ہو اور جس وقت کہ ان کو چرنے کو چھوڑتے ہو۔ )
اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں کا ذکر
انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے مختلف احساسات رکھے ہیں، کبھی اس کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ میرے پاس اس قدر طاقت کا سامان ہونا چاہیے کہ لوگ میری طاقت کے سامان کو دیکھ کر مجھ سے خوف کھائیں۔ اور کبھی اس کے نازک جذبات کو جنبش ہوتی ہے تو وہ اپنے جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے کچھ چیزوں کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ چناچہ سابقہ آیت کریمہ میں جہاں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار ہے وہیں یہ بات بھی ہے کہ تم میں سے کتنے لوگ ہیں جن کے بڑے بڑے اصطبل مختلف قسم کے جانوروں سے معمور ہیں۔ یہی ان کی قوت کے سامان بھی ہیں اور اسی سے ان کی غذائی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔ اب ان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کے لیے فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کو مختلف قسم کے چوپائے دیے ہیں اور بعض لوگوں کے پاس وہ اس قدر فراوانی کے ساتھ ہیں کہ جب وہ صبح و شام چراگاہ جاتے ہوئے اور واپس آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو عجیب خوبصورتی کا منظر ہوتا ہے۔ کیونکہ جس طرح مختلف اشیاء میں حسن ہے، اس طرح چوپایوں میں بھی تو حسن ہے۔ اگر چوپایوں میں حسن نہ ہوتا تو لوگ کبھی مختلف جانور شوق سے نہ پالتے۔ حتیٰ کہ انسانوں نے تو درندے تک پال کر اپنے شوق کو تسکین دی ہے۔ پنجاب کی دیہاتی زندگی میں خوبصورت بیل بڑے زمینداروں کی خوشحالی اور دولت کی علامت بھی تھے اور ان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا باعث بھی۔ اس طرح عربوں میں ہر طرح کے جانور ان کے لیے باعث فکر بھی تھا اور باعث تسکین بھی۔ بعض جانوروں کے بڑے بڑے ریوڑ جہاں ان کی خوشحالی کا منہ بولتا ثبوت تھے وہیں پوری آبادی ان کے حسن میں ڈوب جاتی تھی۔ اسی طرح گھوڑوں کی بڑی تعداد ان کے رعب اور دبدبے اور قوت کی علامت تھی کیونکہ جس کے اصطبل گھوڑوں سے بھرے ہوئے ہوں اس کے سپاہیوں کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی تو عام قبیلہ ایسے قبیلے کیخلاف کسی اقدام کی جرأت کیسے کرسکتا ہے۔
اِ راحۃ کا معنی شام کو گلے کو چراگاہ سے گھر واپس لانے کے ہیں۔ اور سرح کہ معنی اس کو چرنے چکنے کے لیے صبح کو چھوڑنے کے ہیں۔ اندازِ بیان میں عام طور پر صبح کا ذکر پہلے ہوتا ہے اور شام کا بعد میں۔ لیکن اس آیت کریمہ میں شام کو گلے کے چراگاہ جانے کا ذکر پہلے ہے اور صبح کو گلے کے چراگاہ جانے کا ذکر بعد میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں جمالیاتی پہلو کے اظہار کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شام کو جب جانور گھر واپس آتے ہیں تو چونکہ پیٹ بھر کے لوٹتے ہیں اس لیے تازہ دم ہوتے ہیں اور ان کی خوبصورتی اور رعنائی میں صبح کی نسبت اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے شام کو لوٹنے کا ذکر پہلے کیا اور صبح کو جانے کا ذکر بعد میں فرمایا۔
Ayah 16:7وَتَحْمِلُ اَثْقَا لَکُمْ اِلٰی بَلَدٍلَّمْ تَکُوْنُوْا بٰلِغِیْہِ اِلاَّ بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ط اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 7)
(اور وہ تمہارے بوجھ ایسے جگہوں پر پہنچاتے ہیں جہاں تم شدید مشقت کے بغیر پہنچنے والے نہیں بن سکتے، بیشک تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔ )
اپنے فیضانِ ربوبیت کو مزید نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جانور تمہارے جلال و جمال کے اظہار کا ذریعہ بنائے اسی طرح اس کا یہ بھی فضل و کرم ہے کہ اس نے ایسے جانور بھی پیدا فرمائے ہیں جو تمہارے لیے بار برداری کا کام کرتے ہیں۔ تمہاری سواری کے لیے اور تمہاری باربرداری کے لیے اونٹ جیسا جانور پیدا فرمایا کہ صحرا اور ریگستان میں جہاز کی طرح چلتا ہے کہ تین تین چار چار دنوں کے لیے بغیر کھائے پیئے سفر جاری رکھتا ہے۔ ایک دفعہ دیکھا ہوا راستہ بہت کم بھولتا ہے۔ ٹنڈ منڈ درخت بھی مل جائے تو اس کی سوکھی ٹہنیاں چبا جاتا ہے۔ جس طرح اس کے جبڑوں میں قدرت نے غیرمعمولی طاقت رکھی ہے، اسی طرح اس کے معدے میں بھی حیرت انگیز قوت ہاضمہ رکھی گئی ہے۔ اس کا جسم بظاہر دیکھنے کو بےجوڑ سا معلوم ہوتا ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ اونٹ سے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ لیکن افادیت کے اعتبار سے اس کی جسمانی صلاحیتیں حیرت انگیز طور پر انسانوں کے لیے مفید بنائی گئی ہیں۔ عرب کے ریگستان میں اگر اونٹ جیسا کوئی جانور پیدا نہ کیا جاتا تو عربوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی۔ ان کے تجارتی قافلے بےبس ہوجاتے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ موسم تو پہلے ہی ان سے ناراض رہتا تھا اور راستے بھی بند ہوجاتے تو ان کی بربادی خطرناک حد تک گہری ہوجاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہمیشہ ہی مہربان رہا ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبوں میں اس طرح آسانیاں پیدا کی ہیں کہ انسان اپنی غفلت کے باعث عموماً اس کے شعور سے محروم رہتا ہے۔
Ayah 16:8وَّالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَزِیْنَۃً ط وَیَخْلُقُ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 8)
(اور ( اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ زینت بھی ہیں اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے۔ )
ایک اور پہلو سے چوپایوں کا ذکر
اب تک جتنی نعمتوں اور جتنے جانوروں کا ذکر ہوا وہ انسان کی ضرورت بھی ہیں اور ضرورتوں کی ادائیگی کا ذریعہ بھی۔ لیکن اب جن دو جانوروں کا ذکر کیا جارہا ہے یہ انسان کے لیے سواری بھی ہیں اور باعث زینت بھی۔ عرب میں عام طور پر سواری اور جنگی ضرورتوں کے لیے گھوڑے استعمال ہوتے تھے۔ اور یہی دونوں کام خچروں سے بھی لیے جاتے تھے کیونکہ خچر اور گھوڑے میں بہت تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ عرب اگرچہ ان دونوں نسلوں کی خصوصیات تک پر نگاہ رکھتے تھے لیکن عام حوالوں سے یہ دونوں کام ان سے لیے جاتے تھے۔ اسی طرح یہ بڑے لوگوں کے لیے زینت کا باعث بھی تھے۔ ایک اچھی نسل کا صحت مند گھوڑا ایسے آدمی کو بھی اچھا لگتا ہے جو گھوڑوں سے زیادہ سروکار نہ رکھتا ہو۔ چہ جائیکہ عرب وہ تو گھوڑوں پر جان دیتے تھے۔ ان کی پرورش اور پرداخت میں بچوں کو بھوکا رکھ کر بھی انھیں کھلانا ضروری سمجھتے تھے۔ آج جس طرح ہمارا طبقہ امراء گاڑیوں کے بیڑے پر فخر کرتا ہے اور کوٹھیوں کے بڑے بڑے پورچ میں لگی ہوئی گاڑیاں ان کا سر اونچا رکھ کر چلنے کا باعث بنتی ہیں۔ یہی حال عرب امراء کا بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے اسے زینت کا باعث قرار دیا۔ اور مزید فرمایا کہ افادیت، ضرورت، اہمیت، سواری اور زینت کے لیے ہم نے مختلف جانوروں کا ذکر کیا ہے جنھیں تم جانتے ہو اور جن پر تمہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن کچھ چیزیں یا کچھ جانور انھی ضرورتوں کے لیے ایسے بھی ہیں جو دنیا کے دیگر علاقوں میں اللہ تعالیٰ پیدا فرماتا ہے لیکن تم ان سے واقف نہیں ہو۔ وہ رب العالمین ہیں اس کی ربوبیت کا فیضان سب کے لیے ہے۔
اس کا ایک دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے وہ یہ کہ آج تو تمہاری ضرورتوں اور زینت آرائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ جانور پیدا کر رکھے ہیں لیکن تمہیں کیا خبر کہ مستقبل میں انھیں ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کیا کچھ پیدا فرمائے گا۔ آج ہم سواری، باربرداری اور زینت کے لیے وہ چیزیں اپنے پاس رکھتے ہیں کہ جن کا گزشتہ زمانے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ انھیں تو انسان نے تخلیق کیا تھا، ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا بلکہ انسان نے بنایا لیکن یہ خودفریبی ہے کیونکہ کسی بھی ایجاد اچانک آنے والا خیال وہ سائنسدان کا کمال نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کی عطا اور دین ہوتا ہے۔ نیوٹن نے باغ میں سیب گرتے نہ جانے کتنی دفعہ دیکھا ہوگا لیکن کبھی اس کے ذہن میں کشش ثقل کا تصور نہیں آیا۔ اور جب آیا اور اس نے سائنس کے سامنے ترقی کے لامتناہی راستے کھول دیے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آیا۔ جب اسے منظور ہوا کہ انسانی عقل پر اس عقدے کو واشگاف ہونا چاہیے تو اس نے نیوٹن کے دماغ میں اس کا القا کردیا۔ اس طرح سے دنیا میں کوئی ایجاد بھی انسان کی نہیں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کہی جاسکتی ہے۔
Ayah 16:9وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُالسَّبِیْلِ وَمِنْھَا جَآئِرٌ ط وَلَوْشَآئَ لَھَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 9)
(اور اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں اگر وہ چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا۔ )
مزید ایک عظیم نعمت اور احسان کا ذکر
قَصْدُکا معنی ہے سیدھا اور قَصْدُالسَّبِیْلِمیں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہوگئی ہے۔ اس کا معنی ہے سیدھا راستہ۔ اور جَآئِرٌ کا معنی ہے ٹیڑھا میڑھا۔ گزشتہ آیات کریمہ میں انسان کی تخلیق پھر اس کی عطا کی جانے والی صلاحیتوں اور پھر اس پر کیا جانے والا فیضانِ ربوبیت اور ہر دور میں اسے لاحق ہونے والی ضرورتوں کا مہیا کیا جانا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ انسانوں کو زندگی گزارنے کے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت تھی اور زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے جن ذرائع کی حاجت تھی اس کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ ان میں سے ایک ایک چیز انسان کو مہیا کی جائے۔ چناچہ یہاں ایک سوال پیدا ہوا کہ اگر انسان کو دل و دماغ اور جسم وہ عطا ہوا جو اس کی ضرورت کے مطابق تھا اور نعمتیں وہ دی گئیں جو اس کے جسم کا تقاضا تھیں اور اس طرح وہ سب کچھ عطا کیا گیا جو اس کے احساسات کی مانگ اور ضرورت تھی۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ پروردگار اسے یہ نہ بتاتا کہ تیرے پروردگار نے تیری زندگی کا مقصد کیا رکھا ہے اور اپنے پروردگار تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کی رضا کے حصول کے لیے تمہیں کیا کرنا چاہیے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ عقل کو غلط راستے پر ڈالنے کے لیے بہت سے اسباب موجود ہیں۔ ہدایت کے سیدھے راستے کو گم کرنے کے لیے بہت سے ٹیڑھے میڑھے راستے بھی پیدا کیے گئے ہیں۔ شیطانی قوتیں انسان کو بہکانے کے لیے ہر وقت کوشاں ہیں۔ تو اس کا تو لازمی تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا محفوظ راستہ انسانوں کے لیے مہیا کردیتا جس سے انسان آسانی سے صراط مستقیم پر چل سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ بات بہت بعید تھی کہ وہ جسمانی ضرورتوں کو تو پورا کرے لیکن اخلاقی اور روحانی ضرورتوں کی طرف توجہ نہ دے۔ وہ فانی ضرورتوں کو تو سامنے رکھے لیکن اخروی ضرورتوں کو نظرانداز کردے۔ وہ زندگی کے اسباب کے لیے تو راستے کھولے لیکن اپنی ذات تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہ بتائے۔ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ یہ اس کی شان سے بہت بعید بات تھی۔ چناچہ اس کے اپنے ذمہ یہ لازم کرلیا کہ وہ سیدھا راستہ یعنی صراط مستقیم انسان کے لیے کھولے گا۔ وہ اپنے پیغمبر بھیج کر انسانوں کو بتائے گا کہ تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے اور اسے حاصل کرنے کے صحیح طریقے کیا ہیں۔
کوئی شخص اس کے جواب میں یہ کہہ سکتا ہے کہ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ پیدائشی طور پر انسان کے اندر ایک دیپ جلا دیتا جس سے انسان کبھی بگاڑ کے راستے پر نہ پڑتا۔ اسے پیدائشی طور پر ہدایت یافتہ اور سیدھی راہ پر چلنے والا بنادیا جاتا۔ تو حق و باطل کی کشمکش جس میں کوئی کامیاب ہوتا ہے اور کوئی ناکام۔ انسان اس امتحان سے بچ جاتا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ زمین پر انسان کو بھیجنا پھر اسے خلافت ارضی سے نوازنا، شیطانی قوتوں سے اسے باخبر کرنا اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو بھیجنا اور آسمانوں سے کتابوں کا اتارنا اور اس طرح صراط مستقیم سے انسان کو باخبر کردینا تاکہ وہ اپنی عقل، فہم اور شعور سے صحیح فیصلہ کرنے کی کوشش کرے اور اس امتحان میں پورا اترے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کھول دیا ہے کہ اگر اس نے وحی الٰہی کی رہنمائی کو قبول کیا اور اس کے مطابق زندگی گزاری تو اللہ تعالیٰ نجات عطا فرمائے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر جزاء و سزا کے قانون کے تحت وہ اپنی بداعمالیوں کے باعث سزا میں گرفتار ہوگا۔ یہ وہ سکیم ہے جو پروردگار نے انسان کو پیدا کرنے سے پہلے منظور فرمائی اور اسے نافذ کردیا۔ اور اگر سب کو ہدایت سے نواز دیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کی یہ سکیم ناکام ہوجاتی۔
Ayah 16:10ھُوَالَّذِیْ ٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً لَّـکُمْ مِّنْہُ شَرَابٌ وَّمِنْہُ شَجَرٌ فِیْہِ تُسِیْمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 10)
(وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا جس میں سے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے وہ نباتات بھی اگتی ہیں جس میں تم مویشیوں کو چراتے ہو۔ )
فیضانِ ربوبیت
گزشتہ چند آیات سے اللہ تعالیٰ انسانوں پر اپنے احسانات کا ذکر فرما رہا ہے جن کا زیادہ تر تعلق اس کی شان ربوبیت سے ہے۔ اس کی تخلیقی صفات کا کمال یہ ہے کہ اس نے انسان کو گندے پانی کی ذراسی بوند سے پیدا فرمایا اور پھر اسے وہ کمالات عطا فرمائے کہ اس کی ذہنی صلاحیتوں کے سامنے دنیا انگشت بدنداں ہے۔ ایسی مفید اور عظیم تخلیق کے بعد اس کی بقا کے اسباب پیدا نہ کیے جاتے تو وہ ہلاکت کے گھاٹ اتر جاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے قسم قسم کی نعمتیں پیدا فرمائیں اور پھر نعمتوں کا حوالہ دے کر اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جس طرح ہم تمہاری غذائی ضرورتوں کے کفیل ہیں اسی طرح تمہاری ذہنی اور قلبی آسودگی کے لیے اسباب پیدا کرنا یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ تمہاری تخلیق اور پھر تمہاری بقا کے اسباب کے لیے اس نے آسمان سے پانی نازل فرمایا اور پھر ہر قسم کی حیات کے لیے پانی کو ذریعہ بنادیا۔ اسی کو پی کر انسان اور حیوان زندہ ہیں اور اسی کی سیرابی سے تمام نباتات پیدا ہورہی ہیں۔ اور پھر اسی کے فیضان سے انسانوں اور حیوانوں کی غذائی ضروریات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ غلے کا ذکر تو اگلی آیات میں کیا جارہا ہے یہاں فرمایا کہ اسی زمین اور اسی پانی سے وہ چیزیں اگتی ہیں جنھیں جانور کھاتے اور چرتے ہیں۔ بعض اہل علم نے شجر سے گھاس مراد لی ہے۔ اور اگر اس سے کھجور کا درخت مراد لے لیا جائے تو تب بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اور اسی سے جنگل اور جھاڑیاں بھی مراد لی جاسکتی ہے اور وہ بھی مویشیوں کے چرنے کے کام آتی ہے۔
Ayah 16:11یُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُوْنَ وَالنَّخِیْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 11)
(وہی تمہارے لیے اسی زمین سے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے، یقینا ان تمام چیزوں میں قدرت الٰہی کی نشانی ہے اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہے۔ )
اس نے جس طرح حیوانوں کے کھانے اور چرنے کے لیے گھاس اور مختلف قسم کی جھاڑیاں پیدا فرمائیں اسی طرح اس نے انسانوں کے لیے ان کی طبیعت اور ضرورت کے مطابق غلہ پیدا فرمایا اور غلے میں بھی تنوع پیدا فرمایا۔ کھانے کے لوازمات کے لیے زیتون جیسی نعمت پیدا فرمائی۔ اور لذت کام و دہن کے لیے کھجور اور انگور جیسے پھل پیدا فرمائے اور بھی قسم قسم کے پھل پیدا کیے تاکہ اگر طبیعت ایک دو پھلوں سے ابا کرتی ہے تو پھلوں سے خوان نعمت سجا دیا جائے اور ہر علاقے میں ان کی موسمی ضروریات کے مطابق پھل عطا فرمائے اور پھر مواصلات کا ایک نظام دے کر ملکوں ملکوں کا سفر آسان فرما دیا تاکہ ایک ملک کے پھل دوسرے ملک میں پہنچ سکیں۔ اس طرح سے ایک ایسا خوان نعمت سجا دیا گیا کہ جس میں تنوع بھی ہے اور تفکہ بھی۔ ان میں گوں ناگوں رنگ بھی ہیں اور بو قلموں مزے بھی، تاکہ ہر مزاج اور ہر طبیعت کی ضرورت پوری ہوسکے اور ان کی طبعی اور جسمانی تربیت میں کوئی کمزوری نہ رہنے پائے۔
Ayah 16:12وَسَخَّرَلَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط وَالنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌ م بِاَمْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 12)
(اور اس نے رات اور دن سورج اور چاند کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے، اور تمام ستارے بھی اسی کے حکم کے پابند ہیں، بیشک ان تمام چیزوں میں قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو عقل رکھتی ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے فیضانِ ربوبیت کی کیا انتہا ہے کہ اس نے جس طرح زمین پر انسانی غذائوں اور تفکہات کا دسترخوان بچھا رکھا ہے اور حیوانوں کی ضروریات کے لیے بھی کوئی کمی نہیں رہنے دی۔ اسی طرح اس نے آسمانی مخلوقات کو بھی تمہاری ضرورتیں بہم پہنچانے میں لگا رکھا ہے۔ رات انسان کے سکون کے لیے اور دن اس کی سرگرمیوں کے لیے بنایا گیا۔ اور سورج اور چاند کو دن اور رات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لگایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں کو انسانی ضروریات میں اپنا کردارادا کرنے کا پابند ٹھہرایا ہے۔ سورج صرف روشنی ہی مہیا نہیں کرتا بلکہ سمندر سے بھاپ اٹھا کر ابر کی چادریں بھی بچھاتا ہے اور آسمان پر ستاروں کے جلتے بجھتے دیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف آسمانوں میں خوبصورتی میں اضافہ کا کام دے رہے ہیں۔ لیکن سائنس کی ترقیات نے اجرامِ فلکی کے بارے میں جو تفصیلات مہیا کی ہیں اس سے جہاں ان کے بےپناہ حجم اور بےپناہ طاقت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں آسمانوں کی وسعتوں میں ان کی گردشوں اور اور حرکتوں سے زمین پر ان کے اثرات کا بھی اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور پھر جس طرح سے یہ تمام چھوٹے بڑے سیارے، ستارے اور ثوابت اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں لگے ہوئے ہیں کہ ہزارہا برسوں میں کبھی ان کی طرف سے معمولی کوتاہی بھی سرزد نہیں ہوئی۔ اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے کس قدر نشانیاں ہیں۔
Ayah 16:13وَمَا ذَرَاَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 13)
(اور زمین میں جو چیزیں تمہارے لیے گونا گوں قسموں کی پھیلائیں بیشک اس میں بھی بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ )
نسخے سے فائدہ کون اٹھاتا ہے
اس کا عطف سخرلکم کے نیچے ہے۔ ذراَ کا معنیخَلَقَ (پیدا کیا ہے) اس ارشاد ربانی کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور ستاروں کو تمہاری خدمت کے لیے مسخر کردیا ہے۔ اسی طرح اس سطح زمین پر جن چیزوں کو پیدا فرمایا، حیوانات، نباتات، معدنیات انھیں بھی تمہارے لیے مسخر فرما دیا لیکن ان سے فائدہ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو عقل و فہم سے کام لینا جانتے ہیں ہوں۔ بےعلموں اور بےفکروں کے لیے تو یہ انمول خزانے بےمصرف ہیں۔ پانی میں بجلی کی حیرت انگیز قوت پہلے دن سے موجود تھی، کُرّہ ہَوائی کی موجیں تیری آوازکو آناً فاناً دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچانے کی اہلیت رکھتی تھیں۔ تیرے ریگستانوں کے نیچے پٹرول کے سمندر موجزن تھے لیکن ان سے فائدہ اٹھانا تیراکام تھا۔ اغیار نے اپنی انتھک کوششوں اور جانفشانیوں سے ان پنہاں قوتوں کا سراغ لگالیا اور ان سے خوب خدمت لی، لیکن اے حامل قرآن، تیری سہل انگاری نے تجھے مہلت نہ دی کہ تو اپنی اس کتاب کا مطالعہ کرے، جس نے سب سے پہلے ان قوتوں کی تسخیر کی دعوت دی۔ تیرے فقیر حال مست اور تیرے امیرمال مست رہے۔ تیرے بلند ہمت اسلاف نے علم و حکمت کی جو چمن بندی کی تھی اس میں بہار آنے کا وقت آیا تو، تو اس سے غافل ہوگیا اور اس پر اغیار نے تسلط جما لیا۔ اہل ہمت ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں اور تجھے پتنگ بازی سے فرصت نہیں۔ کمرہمت باندھ مستقل مزاجی سے محنت اور جفاکشی کو اپنا شعار بنا اور آگے بڑھ کر علم و دانش اور فن و حکمت کے کاروانوں کی قیادت سنبھال۔ موجودہ بےدین قیادت انسانیت کو اپنے رب سے دور کررہی ہے اور اسے ہلاکت کی طرف لے جارہی ہے۔ تیری مومنانہ قیادت جہاں جہاں انسانیت کے لیے امن و عافیت کی ضامن ہوگی وہاں بندے کا رشتہ اپنے رب سے استوار کرنے کا بھی باعث بنے گی۔ (ضیاء القرآن)
دلیلِ تخالف
مندرجہ بالا آیات میں جس طرح اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے اسے پڑھنے کے بعد ذہن میں فوراً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ان نعمتوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ان میں بیشتر نعمتیں آپس میں تخالف کی نسبت رکھتی ہیں باہمی ان میں تضاد پایا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم ان کو کائنات کی ذمہ داریاں نبھاتے اور انسانی کی خدمت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ کہیں بھی ان میں تخالف نہیں پایا جاتا۔ ہر کُرّہ اور ہر مخلوق نہایت سعادت مندی کے ساتھ اسی خدمت پر لگی ہوئی ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ آگ اور پانی میں آپس میں تضاد سہی لیکن اپنی ذمہ داریاں کو ادا کرنے میں یہ تضاد کہیں نظر نہیں آتا۔ زمین اور آسمان باہمی متضاد ہیں لیکن انسان کے لیے غلہ اگانے کی دونوں یکساں خدمت انجام دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کائنات اور اس کی ایک ایک مخلوق ایک اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری میں جتی ہوئی ہے اور انھیں ایک ہی ذات کی طرف سے احکام ملتے ہیں اور ایک ہی بندگی بجالانا ان کی زندگی کا مقصد ہے۔ اس میں کسی دوسرے خدا یا کسی دیوتا کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ یہ کائنات دیوتائوں کی رزم گاہ نہیں بلکہ ایک اللہ تعالیٰ قادر و حکیم کی سلطنت ہے جس میں کسی دوسرے کو دم مارنے کی مجال نہیں۔
اس کائنات میں تفکر کرنے سے ایک دوسری بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق میں جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کی کارفرمائی نظر آتی ہے اسی طرح قدم قدم پر اس کی حکمت سے بھی واسطہ پڑتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کائنات ایک حکیم کی مخلوق ہے اور ساتھ ہی یہ آواز بھی سنائی دیتی ہے رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلا اے ہمارے رب تو نے کوئی چیز باطل پیدا نہیں کی۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان جیسی مخلوق جو تمام کائنات کی گل سرسبد ہے اسے بیکار پیدا کیا جاتا اور اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ یقینا اسے ایک مقصد حق دے کر پیدا کیا ہے۔ ایک دن آئے گا جب وہ اس سے اسی مقصد کے حوالے سے بازپرس کرے گا۔
Ayah 16:14وَھُوَالَّذِیْ سَخَّرَالْبَحْرَلِتَاکُلُوْا مِنْہُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْا مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا ج وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَفِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 14)
(اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھائو اور اس سے وہ زیور نکالو جو تم پہنتے ہو، اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو کہ موجوں کو سمندر میں چیر کر جارہی ہیں اور تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل کو اور تاکہ اس کے شکرگزار بنو۔ )
سمندر کی نعمتوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے زمین پر جس طرح اپنا خوان نعمت سجارکھا ہے اور آسمان سے جس طرح اہل زمین کے لیے خدمات مہیا کی جارہی ہیں ان کا ذکر فرمانے کے بعد اب پروردگار اپنی مملکت کی ایک اور جلوہ گاہ کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ جس طرح میں زمین و آسمان کا خالق ہوں اور ان دونوں کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمہارے لیے فیض رسانی میں کمی نہیں کررہے اسی طرح سمندر بھی اس کی مخلوق اور اس کی مملکت کا ایک حصہ ہے۔ اور اسے بھی اس نے تمہاری خدمت اور فیض رسانی کے لیے پابند بنا رکھا ہے۔ سمندر کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سمندر میں اٹھنے والے طوفان بےپناہ قوتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ اس میں بننے والے بھنور اپنی گرفت میں اپنا جواب نہیں رکھتے اور اس میں اٹھنے والی موجیں بحری جہازوں تک کو اچھال دیتی ہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس کی تمام قہرمانیوں اور قوتوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ جس طرح تم زمین کے غذائی خزانوں سے بہرہ ور ہوتے ہو اسی طرح سمندر کی تازہ غذا یعنی مچھلی کے گوشت سے بھی فائدہ اٹھائو۔ جس طرح جی چاہے ان کا شکار کرو۔ اور اس طرح سے اپنی ضروریات کا سامان کرو۔ اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم نے اس میں تمہاری زینت کے لیے کچھ چیزیں بھی پیدا کر رکھی ہیں۔ انھیں اپنی کوشش سے حاصل کرو۔ عام طور پر تو یہ ہوتا ہے کہ سمندر کی موجیں خود موتیوں کو باہر اگل دیتی ہیں۔ اور سمندر کے کنارے سے لوگ ان موتیوں کو حاصل کرلیتے ہیں جو اپنی خوبی اور رعنائی کی وجہ سے انسانوں کی نگاہ میں بہت قیمت رکھتے ہیں۔
ذرا تفکر کی نگاہ سے دیکھئے کہ یہ مچھلی سمندر کے جس پانی میں جنم لیتی اور پروان چڑھتی ہے اور وہیں اس کی خوراک بھی ہے وہ پانی اتنا کھاری اور کڑوا ہے کہ ہونٹوں پر نہیں لگایا جاسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ مچھلی کے گوشت میں اس کا ذائقہ اور بدبو تک داخل نہیں ہونے پاتی۔ اور پھر سمندر بعض دفعہ جن موتیوں کو اچھالتا ہے کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کس طرح بارش کا ایک قطرہ سیپ کے پیٹ میں اترتا ہے وہ کس طرح اس کو لے کر سمندر کی تہہ میں چلی جاتی ہے۔ اور وہ بظاہر بےجان سے اس پانی کے ایک قطرے میں کیا عمل کرتی ہے کہ اس سے ایک چمکتا ہوا موتی برآمد ہوتا ہے جس سے سورج کی چمک بھی شرماتی ہے۔
مزید فرمایا کہ سمندر کی بےکرانی سے کون واقف نہیں، اس کی گہرائی سے کسے خوف نہیں آتا، اس میں اٹھنے والے طوفانوں کی تندی کا کون مقابلہ کرسکتا ہے، لیکن اس سب کے باوجود اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اس بات کا حکم دے رکھا ہے کہ وہ انسانوں کی کشتیاں اور جہاز اس طرح اپنے سینے پر اٹھا کے رکھے کہ وہ اس کی موجوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں، لیکن ڈوبنے نہ پائیں۔ جس زمانے میں لکڑی کے ایک تختے پر انسان سفر کرتا تھا سمندر اس وقت بھی آمادہ خدمت تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پابند کر رکھا ہے۔ اور آج جبکہ بادبانی کشتیوں سے بھی آگے بڑھ کر بڑے بڑے بحری جہاز اپنی مشینوں کی قوت سے سمندر کو چیرتے ہوئے سفر کرتے ہیں تو تب بھی قرآن کریم کی یہی تعلیم ہے کہ ان مشینوں کی قوت پہ مت جاؤ اللہ تعالیٰ نے اگر تمہارے لیے سمندر کو مسخر نہ کر رکھا ہوتا تو سمندر کے سینے پر تمہاری مشینیں کبھی سفر کرنے کے قابل نہ ہوتیں۔ قرآن پاک کی شاید اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں نے عرصہ دراز تک سمندر کے بیشتر حصے پر حکومت کی۔ ترکوں کے بحری بیڑے کے سامنے کسی اور کا چراغ نہیں جلتا تھا۔ اسی کی طرف اقبال نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا :
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
اب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ کو لمبس کے جہاز کا ملاح بھی احمدنامی ایک مسلمان تھا۔ ان تمام نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد قرآن کریم کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ان تمام نعمتوں سے تمتع حاصل کرو، جی بھر کے فائدہ اٹھائو لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا مت بھولو۔ اور یہی وہ بات ہے جو انسانیت کا سرمایہ افتخار ہے۔ انسان جیسے جیسے فطرت کی قوتوں پر قابض ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کے اندر سرکشی اور طغیانی آتی جاتی ہے۔ اس سرکشی کو روکنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ اسے بندگی اور شکر کی زنجیر پہنائی جائے۔