Ayahs 16:15–16وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ وَاَنْھٰرًا وَّسُبُلاً لَّعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ وَعَلٰمٰتٍ ط وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 15۔ 16)
(اور اللہ تعالیٰ نے گاڑ دیے ہیں زمین میں اونچے اونچے پہاڑ تاکہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ پڑے اور دریا جاری کردیے اور راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل کی راہ پا سکو۔ اور راستوں پر علامتیں بنادی ہیں اور ستاروں کے ذریعہ سے وہ راہ یاب ہوتے ہیں۔ )
مزید نعمتوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر عموماً اور انسانوں پر خصوصاً مزید انعامات اور احسانات کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ زمین کو جب بچھایا گیا تو وہ دائیں بائیں جھکتی اور ڈولتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑ گاڑ دیے اور اس طرح سے زمین کی حرکت کو منظم کیا اور اس کو استحکام بخشا۔ پہاڑوں کے لیے اس آیت میں رَوَاسِیَکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ رسا کا معنی ہوتا ہے جم جانا۔ اس لیے بندرگاہ کو بھی مرسیٰ کہتے ہیں۔ پہاڑ بھی چونکہ ایک جگہ جم کے کھڑے رہتے ہیں اور حرکت نہیں کرتے اس سے ان کو بھی رَوَاسِیَکہا جاتا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ زمین کو جب پیدا کیا گیا تو وہ اضطراری طور پر کبھی دائیں اور کبھی بائیں ڈولتی رہتی تھی۔ اس پر پہاڑ گاڑ کر اس کا توازن برقرار کردیا۔
مزید فرمایا کہ ہم نے زمین میں دریا رواں کردیے اور دریائوں کے ساتھ ساتھ قدرتی راستے بھی بن جایا کرتے ہیں کیونکہ عموماً لوگ پہلے وقتوں میں پانی کے قریب رہنے کی کوشش کرتے تھے تو دریائوں کے کناروں پر لوگوں کی دلچسپیاں بھی ہوتی تھیں اور بہت سے مفادات بھی، تو اس کے ساتھ ساتھ آنے جانے کی وجہ سے راستوں کا بن جانا قرین قیاس ہے اور یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ دریائوں کے ساحل ہوں یا سمندروں کے ان کے قریب قریب ایسے راستے ضرور بن جاتے ہیں جو سراسر اللہ تعالیٰ کی عطا معلوم ہوتے ہیں اور پھر ان راستوں پر قدرتی طور پر کوئی نہ کوئی ایسی علامتیں نظر آتی ہیں جن کے حوالے سے راستوں کو یاد رکھنا آسان ہوجاتا ہے اور وہی سنگ میل کا کام بھی دیتے ہیں۔ لوگ انھیں کی مدد سے مسافت کا تعین بھی کرتے ہیں اور اس طرح انسان کو اپنی منزل کا تعین اور منزل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے اور جو لوگ رات کو سفر کرتے ہیں آج تو خیر رہنمائی کے لیے بہت سے نشانات موجود ہیں لیکن پرانے وقتوں میں لوگ ستاروں کی مدد سے اپنے راستے تلاش کرتے تھے۔ یہ چیزیں چونکہ ہمارے علم کا حصہ نہیں رہیں تو ہمیں آج ان کے سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے ورنہ پرانے بزرگ بالخصوص دیہات میں آج بھی ایسے مل جائیں گے جو ستاروں کو دیکھ کر منزل کا تعین بھی کرتے ہیں اور وقت بھی معلوم کرلیتے ہیں۔ ہم نے شماریات کے بعض اساتذہ کو دیکھا کہ وہ کبھی گھڑی اپنے پاس نہیں رکھتے تھے، اس کے باوجود وہ ٹھیک وقت بتاتے اور ٹھیک جہت کا تعین کرتے۔
Ayah 16:17اَفَمَنْ یَّخْلُقُ کَمَنْ لاَّ یَخْلُقُ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْن۔ (سورۃ النحل : 17)
(کیا وہ ذات جس نے سب کچھ پیدا فرمایا اس کی مانند ہوسکتی ہے جس نے کچھ بھی نہیں بنایا کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے۔ )
مذکورہ حقائق کے لازمی نتائج
گزشتہ آیات کریمہ میں مختلف مخلوقات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو پروردگار کی صفت تخلیق کا مظہر ہیں، جن میں سے خود انسان اس کی صفت تخلیق کا شاہکار ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ انسانوں نے مخلوقات میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے دیا ہے، بعض کے بارے میں یقین کرلیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک ہیں، بعض کو اللہ تعالیٰ کا اوتار بنادیا۔ مختلف طریقوں سے شرک کا یہ کاروبار آگے بڑھایا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان حماقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کررہا ہے کہ نادانو ! تم یہ بتائو کیا وہ پروردگار جس نے ساری کائنات کو خلق کیا وہ اس مخلوق کی طرح ہوسکتا ہے جس نے ایک مکھی تک پیدا نہیں کی۔ آخر ان دونوں میں کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ ایک کمزور اور طاقتور برابر نہیں ہوسکتے، ایک غریب اور مالدار یکساں نہیں کہے جاسکتے، ایک حاکم اور محکوم کو ہم پلہ نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ تو خالق اور مخلوق کو ایک جیسا کیسے قرار دیا جاسکتا ہے اور مخلوق کے بارے میں یہ کیسے فرض کیا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر خالق کی صفات آجائیں گی۔ ہدایت تو خیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن عقل اور سمجھ تو انسانی میراث ہے اور سب کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ اسی عقل سے فتویٰ لے کر دیکھ لو کہ کیا وہ خالق اور مخلوق اور فانی اور باقی کو ایک دوسرے کی صفات میں شریک ٹھہرانے کی اجازت دیتی ہے لیکن اہل دنیا عجیب ہیں کہ برتری ہمیشہ عقل کو دیتے ہیں لیکن عقیدت اور بندگی کے فیصلے بےوقوفی سے کرتے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ کیا تم ایسی موٹی بات بھی سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہو۔
Ayah 16:18وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْھَا ط اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 18)
(اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم انھیں شمار نہیں کرسکتے، بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں کی طرف اشارہ
گزشتہ آیات میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کردہ مخلوقات کا ذکر فرمایا اسی طرح اپنی بےپایاں نعمتوں کی طرف بھی اشارے فرمائے۔ قسم قسم کی نعمتوں کا ذکر کیا جن کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ گویا آسمان سے نعمتیں برس رہی ہیں، زمین سے ابل رہی ہیں اور سمندروں سے اچھل رہی ہیں اور انسان ان سے نوازا جارہا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی مخلوق ان نعمتوں سے فیض یاب ہورہی ہے۔ انھیں نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان نعمتوں کے علاوہ بھی تم بہت سی نعمتوں کو محسوس کرسکتے ہو۔ اور اگر تم کوشش کرو کہ ان نعمتوں کو شمار کرو تو تمہاری کوششیں جواب دے جائیں گی، تم ان نعمتوں کو شمار نہیں کرسکو گے۔ معمولی ہوش و خرد کا آدمی بھی نعمتوں کی قدر پہچانتا ہے اور وہ اپنے منعم اور محسن کے بار احسان سے کبھی غافل نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر ممکن طریقے سے نیکی کا بدلہ نیکی سے اور احسان کا بدلہ احسان سے دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نعمتیں چونکہ انسان کے پورے جسم، پوری زندگی، پورے حواس، پوری عقل اور پوری شخصیت پر حاوی ہیں، اس لیے وہ بجائے ایک ایک نیکی کا بدلہ دینے کے اپنی پوری شخصیت کو اللہ تعالیٰ کے سامنے ڈال دیتا ہے اور خود سپردگی سے کام لیتے ہوئے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کردیتا ہے تاکہ اس کی نعمتوں کا کچھ نہ کچھ حق ادا ہوسکے۔ اسی کو ایمان اور احسان کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ اپنی جان بھی اسی کی عظمت پر قربان کردیتا ہے، لیکن جو شخص اس کی نعمتوں سے تو ہر طرح فائدہ اٹھاتا ہے لیکن نہ اس کی عظمت کو تسلیم کرتا ہے، نہ اس کی کبریائی کو مانتا ہے۔ وہ ہر طرح کے شرک اور ہر طرح کی معصیت کا ارتکاب کرنے کے باوجود محسوس تک نہیں کرتا کہ میں کتنا بڑا جرم کررہا ہوں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا رسول اس کے کفرانِ نعمت پر اسے ملامت کرتا یا توجہ دلاتا ہے تو وہ اس کی جان کا دشمن ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص یا ایسی قوم کے لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑے اور اسے ہمیشہ کے لیے تباہ کردیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ غفور اور رحیم ہے اس لیے وہ عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا۔ وہ مہلت پہ مہلت دیتا ہے کہ شاید یہ نادان سنبھل جائے اور اپنی غلطیوں پر متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کرلے۔ چناچہ یہاں غفور اور رحیم اسی عنایت اور رحمت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آیا ہے۔
Ayah 16:19وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 19)
(اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ )
مشرکین کو وعید
یہ مشرکینِ مکہ کے لیے وعید ہے۔ انھیں تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہاری ساری نافرمانیوں اور اذیت رسانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کا تم پر عذاب نہیں آیا حالانکہ تم بار بار اس کا تمسخر بھی اڑا چکے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہاری یہ حرکتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں نہیں۔ جو کچھ تم ہمارے پیغمبر ﷺ کے ساتھ علانیہ کررہے ہو وہ تو سب کے سامنے ہے، اس سے تو مکہ کا بچہ بچہ واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ تو تمہارے منصوبوں سے بھی واقف ہے اور تمہاری سازشوں کو بھی جانتا ہے جو تم پیغمبر ﷺ اور اس کی پیش کردہ دعوت کو ناکام کرنے کے لیے کررہے ہو۔ اس نے اگر ابھی تک گرفت نہیں کی تو اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ ان باتوں سے بیخبر ہے اس کا سبب تو صرف یہ ہے کہ اس نے تمہیں مہلت دے رکھی ہے تاکہ تم اگر سنبھلنا چاہو تو سنبھل جاؤ، لیکن تمہاری کوئی حرکت اس کے علم سے باہر نہیں، اس کے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت آئے گا تو پھر اس کی گرفت میں تاخیر نہیں ہوگی۔
Ayahs 16:20–21وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لاَیَخْلُقُوْنَ شَـْیًٔاوَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ ۔ اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَآئٍ ج وَمَا یَشْعُرُوْنَ لا اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 20۔ 21)
(اور جن کو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، وہ تو خود مخلوق ہیں۔ وہ مردہ ہیں، وہ زندہ نہیں اور نہیں سمجھتے کہ کب انھیں اٹھایا جائے گا۔ )
یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جارہی ہے وہ فرشتے یا جن یا شیاطین یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں بلکہ اصحابِ قبور ہیں اس لیے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں، ان پراَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَآئٍ کے الفاظ کا اطلاق نہیں ہوسکتا اور لکڑی پتھر کی مورتیوں کے معاملہ میں بعث بعدالموت کا کوئی سوال نہیں ہے، اس لیے مَایَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ کے الفاظ انھیں بھی خارج از بحث کردیتے ہیں۔ اب لامحالہ اس آیت میں اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہدا، صالحین اور دوسرے غیرمعمولی انسان ہی ہیں جن کو غالی معتقدین داتا، مشکل کشا، فریاد رس، غریب نواز، گنج بخش اور نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لیے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے جواب میں اگر م کوئی یہ کہے کہ عرب میں اس نوعیت کے معبود نہیں پائے جاتے تھے تو ہم عرض کریں گے کہ یہ جاہلیتِ عرب کی تاریخ سے اس کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ کون پڑھا لکھا نہیں جانتا ہے کہ عرب کے متعدد قبائل، ربیعہ، کلب، تغلب، قضاعہ، کنانہ، احرث، کعب، کندہ وغیرہ میں کثرت سے عیسائی اور یہودی پائے جاتے تھے اور یہ دونوں مذاہب بری طرح انبیاء ( علیہ السلام) ، اولیا ( رح) اور شہداء ( رح) کی پرستش سے آلودہ تھے۔ پھر مشرکین عرب کے اکثر نہیں تو بہت سے معبود وہ گزرے ہوئے انسان ہی تھے جنھیں بعد کی نسلوں نے خدا بنا لیا تھا۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ( رض) کی روایت ہے کہ ود، سواع، یعوث، یعوق، نسر، یہ سب صالحین کے نام ہیں جنھیں بعد کے لوگ بت بنا بیٹھے ہیں۔ حضرت عائشہ ( رض) کی روایت ہے کہ اساف اور نائلہ دونوں انسان تھے۔ اسی طرح کی روایات لات اور مناۃ اور عزیٰ کے بارے میں بھی موجود ہیں اور مشرکین کا یہ عقیدہ بھی روایات میں آیا ہے کہ لات اور عزیٰ اللہ تعالیٰ کے ایسے پیارے تھے کہ اللہ تعالیٰ جاڑا لات کے ہاں اور گرمی عزیٰ کے ہاں بسر کرتے تھے، سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّایَصِفُوْنَ ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 16:22اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج فَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ مُّنْکِرَۃٌ وَّ ھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 22)
(تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، پر جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ مغرور ہیں۔ )
منکرین کے انکار کا سبب غرور ہے
قرآن کریم نے گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر متعدد دلائل ذکر کرنے کے بعدآخری فیصلہ کن بات فرمائی ہے کہ انسانو ! تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے مظاہر دیکھ چکے ہو۔ تم اس کے بےپناہ علم کی وسعتوں کا نظارہ کرچکے۔ زمین و آسمان میں اس کی لامحدود حاکمیت کا نفاذ بھی دیکھ چکے، کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی تمام مخلوقات کو اس کے سامنے سر جھکائے ہوئے بھی دیکھ چکے۔ اس کے بعد تمہیں اس کی الوہیت میں کیا شبہ ہے۔ اس کے علاوہ کون ہے جو اس کی خدائی میں شریک ہوسکتا ہے۔ تمہیں اسی نے مسجودِ ملائک بنایا، اسی نے مہر و مہ کو تمہاری خدمت میں لگایا، اسی نے عناصرفطرت کو تمہارے لیے مسخر کیا، تم اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو تو کیا سمجھتے اپنی عظمت کو بھی نہ جان سکے۔ جنھوں نے تمہیں سجدہ کیا انھیں کے سامنے تم سجدہ ریز ہوگئے، جو تمہاری خدمت پر لگائے گئے تم انھیں کے سامنے دست سوال دراز کرنے لگے، تم میں اگر کچھ بھی فہم و شعور ہے تو اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرو کہ تمہارا اِلٰہ ایک ہی اِلٰہ ہے اور وہ، وہ ہے جس نے تمام کائنات کو پیدا فرمایا۔ مزید فرمایا کہ یہ بات ایسی ناقابلِ فہم نہیں اور نہ اسے سمجھنے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ان کے انکار کا سبب یہ نہیں کہ ان کا دماغ اسے قبول نہیں کرسکتا بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کے آنے پر یقین نہیں رکھتے۔ انھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کا یقین نہیں۔ وہ اسی دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اس دنیا میں ان کی دولت اور افرادی قوت نے انھیں مغرور بنادیا ہے اور غرور ایک ایسی بیماری ہے یہ جس سر میں بھی داخل ہوجاتی ہے اس کی غور و فکر کرنے کی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ وہ ہر چیز کی عظمت اور صداقت کو دولت و شہرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
Ayah 16:23لاَجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ط اِنَّہٗ لاَیُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 23)
(یقینا اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ )
منکرین کو تہدید
اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول نہ کرنے کے ان کے پاس بیسیوں بہانے ہیں، کبھی کسی بات پر اعتراض کرتے ہیں اور کبھی کسی بات میں میں میخ نکالتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ یقینی طور پر اس بات کو جانتا ہے کہ وہ کیا چھپا رہے ہیں اور کیا ظاہر کررہے ہیں۔ وہ دل سے دین کی صداقت اور آنحضرت ﷺ کی سچائی پر یقین رکھتے ہیں لیکن ان کا غرور اور تکبر ان کے راستے میں حائل ہوجاتا ہے۔ وہ بار بار ان کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری قوتوں کو شریک کرنا صرف تمہارا گناہ تو نہیں، تمہارے آبائواجداد بھی تو یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ یہ تمہارے لیے کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کے کہنے پر ان تمام قوتوں کو ماننے سے انکار کردیا جائے جنھیں تمہارے آبائواجداد مانتے چلے آئے ہیں۔ ان کے سامنے سوال کسی چیز کے حق یا باطل ہونے کا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اپنے آبائواجداد کے عقیدے اور ان کے چلن کو ایک شخص کے کہنے پر کیسے چھوڑ دیا جائے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم بھی گمراہ ہیں اور ہمارے آبائواجداد بھی گمراہ تھے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو ان کے اندر کا کبر اس کے ماننے پر آمادہ نہیں ہونے دیتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ متکبر لوگ جو حق کو صرف اس لیے قبول نہ کریں اور باطل کو اس لیے باطل نہ کہیں کہ اس سے ان کے آبائواجداد گمراہ ٹھہرتے ہیں اور ان کے تکبر پر چوٹ پڑتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے، یعنی ان سے نفرت کرتے ہیں اور انھیں سزا دیں گے۔
Ayahs 16:24–25وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ لا قَالُوْ ٓا اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ ۔ لِیَحْمِلُوْ ٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ لا وَمِنْ اَوْزَارِالَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِعِلْمٍ ط اَلاَسَآئَ مَا یَزِرُوْنَ ۔
( سورة النحل : 24۔ 25)
(اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ہیں۔ تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی حصہ بٹائیں جن کو یہ بغیر کسی علم کے گمراہ کررہے ہیں۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ جو یہ اٹھائیں گے۔ )
آیتِ کریمہ میں اَسَاطِیْرُ (Mythology) کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اسطورہ کی جمع ہے۔ بےاصل اور بےحقیقت بات کو کہتے ہیں، جیسے ہم کسی ناقابلِ اعتبار بات کو افسانہ قرار دے دیتے ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی حقیقت میں کوئی حیثیت نہیں۔
قرآن کریم کے اثرات روکنے کے لیے قریش کی تدبیر
اس آیت کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت نے جب مکہ سے باہر بھی اپنے اثرات پیدا کرنے شروع کیے اور خواص سے نکل کر عوام میں بھی اس کے چرچے ہونے لگے تو ایک نئی صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ عوام نے خواص سے اس دعوت کی حقیقت کو جاننے کی کوشش شروع کردی۔ جب بھی انھیں موقع ملتا وہ کسی اپنے و ڈیرے یا کسی دولت مند سے پوچھتے کہ محمد ﷺ جس بات کی دعوت دیتے ہیں، آخر اس کی حقیقت کیا ہے۔ اسی طرح وہ امم ماضیہ میں سے جن امتوں پر عذاب آنے کا ذکر کرتے ہیں اور جن اسباب کی وجہ سے کرتے ہیں ان میں کہاں تک سچائی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی اسی خطرناک انجام کی طرف بڑھ رہے ہوں۔ اسی طرح جب حج کے موقع پر باہر سے لوگ آتے تو وہ بھی لوگوں سے سنی سنائی باتوں کی تحقیق کرنے کی کوشش کرتے اور وہ بھی اسی طرح کے سوالات کرتے۔ اشرافِ قریش نے محسوس کیا کہ یہ تو ہمارے لیے ایک مشکل پیدا ہوگئی ہے۔ چناچہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جب کبھی اس طرح کا کوئی سوال نبی اور اس کی دعوت کے بارے میں پوچھا جائے تو انھیں یقین دلانے کی کوشش کرو کہ اس دعوت کی کوئی حقیقت نہیں اور اس نبوت کا بھی کوئی اعتبار نہیں اور ماضی کے جن واقعات کو یہ پیغمبر بیان کرتا ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں، وہ سینہ بہ سینہ پھیلنے والی ایسی کہانیاں ہیں جنھیں زیادہ سے زیادہ افسانہ کہا جاسکتا ہے۔ نہ ایسی کوئی قوم گزری اور نہ کسی پر عذاب آیا اور نہ اس نبوت اور نہ اس پر اترنے والی کتاب کی کوئی حقیقت ہے۔
اشرافِ قریش کی اس سازش اور کاوش کے جواب میں قرآن کریم انھیں ان کے انجام سے آگاہ کرتا ہے کہ انھیں شاید اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانا اور اس طرح لوگوں کو حقیقت سے گمراہ کرنا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک جرم ہے۔ قیامت کے دن جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوں گے تو جہاں انھیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اس کی سزا بھگتنا ہوگی وہیں وہ ان لوگوں کی پاداش میں بھی پکڑے جائیں گے جنھیں انھوں نے گمراہ کیا تھا۔ اپنے بےایمانی اور بدعملی کی سزا تو مکمل طور پر بھگتیں گے لیکن دوسروں کی بداعمالیوں کی سزا میں سے اتنا حصہ انھیں پہنچے گا جتنا ان کی گمراہی میں ان کی کوششیں شامل رہی ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل کسی کے ساتھ بےانصافی نہیں کرتا۔ اپنے اعمال کا تو پوری طرح ہر فرد ذمہ دار ہے لیکن دوسرے کے اعمال کا وہ اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا اس کی گمراہی میں اس کا حصہ ہے اور رہا وہ شخص جو کسی کے کہنے پر گمراہ ہوا وہ اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکے گا، گمراہ کرنے والے کو بھی سزا ملے گی لیکن گمراہ ہونے والا بھی اس لیے اپنی سزا میں پکڑا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل دی، فیصلے کی آزادی بخشی اور پیغمبر نے براہ راست اسے دعوت دی۔ صحیح فیصلہ تک پہنچنے کے تمام امکانات اسے میسر تھے لیکن اس نے اپنی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی بجائے دوسروں کا سہارا لیا تو یہ بجائے خود جرم ہے۔ اس لیے یہ اپنی ذمہ داری میں پکڑا جائے گا اور گمراہ کرنے والے اپنے جرم میں پکڑے جائیں گے۔ آخر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کاش یہ لوگ اس وقت غور کریں کہ جب یہ لوگ اپنے اپنے جرم میں پکڑے جائیں گے اور ان پر ان کے جرائم اور ان کی سزائوں کا بوجھ لادا جائے گا تو کس قدر برا بوجھ ہوگا جسے آج یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
Ayah 16:26قَدْمَکَرَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَہُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّعَلَیْھِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَاَتٰـہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 26)
(دعوتِ حق کے خلاف) ان لوگوں نے بھی مکر و فریب کیا جو ان سے پہلے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عمارت جڑوں سے اکھاڑ دی، پس ان کے اوپر سے ان پر چھت آپڑی اور ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا۔ )
مکر، سازش اور چال کو بھی کہتے ہیں اور خفیہ تدبیر کو بھی۔
گزشتہ قوموں کے احوال سے مشرکین کو وارننگ
اشرارِ قریش کو سنا کر یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم سابقہ امتوں کے واقعات کو قصہ کہانیاں سمجھتے ہو اور انھیں افسانہ قرار دے کر بےاصل اور بےاعتبار ٹھہراتے ہو، تمہارا یہ رویہ کوئی نیا رویہ نہیں۔ جن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا ان کا رویہ بالکل یہی تھا۔ وہ بھی دعوت حق کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) کو ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کے مکر و فریب سے کام لیتے تھے اور وہ اس انتظار میں رہتے تھے کہ انھیں موقع ملے تو وہ پیغمبر ﷺ اور اس پر ایمان لانے والوں کو نیست و نابود کردیں۔ پیغمبر ﷺ ان کی روزافزوں مخالفت کو دیکھ کر انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے، حتیٰ کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تاکہ وہ اپنی سازشوں سے باز آجائیں لیکن وہ بجائے رکنے یا سمجھنے کے ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے اور عذاب کو بھی ایک کھیل سمجھتے۔ اور جب بھی پیغمبر ﷺ یا کسی مسلمان سے سامنا ہوتا تو انھیں چھیڑتے ہوئے کہتے کہ کہاں ہے وہ تمہارا عذاب، وہ پہنچ کیوں نہیں پاتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ اسی طرح کھیل اور تماشے میں لگے رہے اور پیغمبر ﷺ کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آگیا اور وہ عذاب اس شان سے آیا کہ اپنے جن مضبوط مکانوں پر انھیں بہت ناز تھا ان کی بنیادیں جڑوں سے اکھاڑ دی گئیں اور پھر ان کی چھتیں ان کے سروں پر آپڑیں۔ عام طور پر معذب قوموں پر جو عذاب آئے ہیں ان کی شکل یہی رہی کہ شدید زلزلے سے ان کی بنیادیں ہلائی گئیں جس سے دیواریں ڈھے گئیں اور پھر چھتیں ان کے سروں پر آپڑیں کیونکہ زلزلوں کے ساتھ عام طور پر تیز آندھیاں بھی آئیں۔ اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ اس پورے پر اسس کے نتیجے میں شہروں اور بستیوں کی شکل ایسے ویرانوں کی ہوگئی جیسے یہاں کبھی کوئی آباد نہیں رہا۔ یہ تو وہ عذاب ہے جو دنیا میں ان پر آیا لیکن وہ بڑا عذاب جو قیامت کو آئے گا وہ تو ابھی ان کے انتظار میں ہے۔
Ayahs 16:27–28ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیْہِمْ وَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْھِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیٓ الْیَوْمَ وَالسُّوْ ٓئَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْ ٓ اَنْفُسِہِمْ ص فَاَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓ ئٍ ط بَلٰٓی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 27۔ 28)
(پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے، جن کو علم عطا ہوا وہ پکار اٹھیں گے، آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے۔ ہاں انھی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو ( سرکشی چھوڑ کر) فوراً سِپرڈال دیتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کررہے تھے، ہاں بیشک اللہ تعالیٰ اچھی طرح باخبر ہے اس سے جو تم کرتے رہے ہو۔ )
قیامت کے دن مشرکین کی رسوائی
کافر قوموں کے بڑے بڑے سردار اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کی دعوت سے صرف اس لیے محروم رہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہر لحاظ سے نبی ( علیہ السلام) سے فائق اور بلند سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات بہت مشکل ہے کہ اپنے سے کم مرتبہ شخص کی رہنمائی قبول کرکے اپنے آپ کو اس کے اتباع میں دے دیں۔ چناچہ ان کی نخوت اور تکبر کی پہلی سزا تو عذاب کی شکل میں آتی ہے جب ان کی بستیاں تباہ و برباد کردی جاتی ہیں اور وہ اس طرح لقمہ اجل ہوجاتے ہیں کہ زمین پر ان کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ اور دوسری سزا جس میں ان کے تکبر کو پوری طرح کچل دیا جاتا ہے وہ قیامت کو دی جائے گی جب اللہ تعالیٰ انھیں یہ کہہ کر ذلیل و رسوا کرے گا کہ بتائو کہاں ہیں میرے وہ شرکاء جن کی حمایت میں تم بات بات پر آستینیں چڑھا لیتے تھے اور تم ہر ایک سے ان سے لڑنے کے لیے تیار رہتے تھے آج وہ تمہاری مدد کے لیے کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں ایک سناٹا طاری ہوجائے گا۔ وہ لوگ جو دنیا میں علم سے نوازے گئے یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان کی دولت بخشی وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آج کا دن کفار کے لیے رسوائی کا دن ہے۔ وہ اپنے تئیں نہ جانے دنیا میں کیا سمجھتے تھے لیکن آج کفر نے ان کی زبانوں پر مہر لگا دی ہے۔ آج وہ زبان کھولیں تو کس برتے پر، اور منہ کھولیں تو کس کے اعتماد پر۔
اس پر اللہ تعالیٰ مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ یہ کافر تو وہ شخصیتیں ہیں کہ جب اپنے کفر میں گم اور نخوت میں پھنکارتے ہوئے حق کو ناکام کرنے کے لیے ہر ممکن تدبیر بروئے کار لارہے تھے تو فرشتوں نے انھیں آپکڑا اور ان پر ہنٹر برساتے ہوئے ان کی جانیں نکالیں اور ساتھ ہی پوچھتے جارہے تھے کہ بتائو کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن پر تمہیں بہت بھروسہ تھا کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے تو اس وقت ان متکبرین کا حال یہ ہوگا کہ ہر طرح کی نخوت اور کروفر ان کے دماغوں سے نکل جائے گا اور یہ فوراً ڈگیں ڈال دیں گے اور پھر اپنے بچائو کی کوئی تدبیرنہ پا کر جھوٹ بولنے کی کوشش کریں گے کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے، نہ جانے آپ ہم پر ایسی سختی کیوں کررہے ہیں تو فرشتے جواب دیں گے کہ تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ تمہارا جھوٹ تمہیں بچا لے گا اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوتوں سے پوری طرح باخبر ہے اس لیے جھوٹ بول کر تم اصل حقیقت کو چھپا نہیں سکتے۔
Ayah 16:29فَادْخُلُوْ ٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 29)
(پس اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اسی میں ہمیشہ رہنے والے بن کر۔ بیشک برا ٹھکانہ ہے
غرور وتکبر کرنے والوں کے لیے۔ )
کافروں کی جب جان نکالی جائے گی اور جس طرح ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک ہوگا اسی وقت ان کو یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اب تمہارے مقدر میں جہنم ہے، بس اب اسی کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ جہنم میں داخلہ اگرچہ قیامت کے دن ہوگا لیکن اس کی خبر انھیں قبض روح کے ساتھ ہی دے دی جائے گی۔ پھر جہنم کے دروازوں کا بھی ذکر فرمایا تاکہ کافروں کو اس کی وسعت کا اندازہ ہوجائے اور یہ بھی بتادیا جائے گا کہ ہمارے یہاں عزت ان کو ملتی ہے جو ہمارے سامنے جھکتے ہیں، لیکن جو تکبر اختیار کرتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
ان آیتوں میں چونکہ قبض روح کے بعد ملائکہ اور مرنے والوں کی گفتگو کا ذکر ہے جس سے عذاب و ثوابِ قبر کا تأثر ملتا ہے۔ اس پر صاحب تفہیم القرآن نے ایک مفصل نوٹ لکھا ہے، اسے ہم شکریہ کے ساتھ یہاں نقل کررہے ہیں۔
عذابِ قبر
یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت جس میں قبض روح کے بعد متقیوں اور ملائکہ کی گفتگو کا ذکر ہے، قرآن مجید کی ان متعدد آیات میں سے ہے جو صریح طور پر عذاب و ثوابِ قبر کا ثبوت دیتی ہیں۔ حدیث میں ” قبر “ کا لفظ مجازاً عالم برزخ کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد وہ عالم ہے جس میں موت کی آخری ہچکی سے لے کر بعث بعدالموت کے پہلے جھٹکے تک انسانی ارواح رہیں گی۔ منکرین حدیث کو اس پر اصرار ہے کہ یہ عالم بالکل عدم محض کا عالم ہے جس میں کوئی احساس اور شعور نہ ہوگا اور کسی قسم کا عذاب یا ثواب نہ ہوگا لیکن یہاں دیکھئے کہ کفار کی روحیں جب قبض کی جاتی ہیں تو وہ موت کی سرحد کے پار کا حال بالکل اپنی توقعات کے خلاف پا کر سراسیمہ ہوجاتی ہیں اور فوراً سلام ٹھونک کر ملائکہ کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کررہے تھے۔ جواب میں ملائکہ ان کو ڈانٹ بتاتے ہیں اور جہنم واصل ہونے کی پیشگی خبر دیتے ہیں۔ دوسری طرف اتقیاء کی روحیں جب قبض کی جاتی ہیں تو ملائکہ ان کو سلام بجا لاتے ہیں اور جنتی ہونے کی پیشگی مبارکباد دیتے ہیں۔ کیا برزخ کی زندگی، احساس، شعور، عذاب اور ثواب کا اس سے بھی زیادہ کھلا ہوا کوئی ثبوت درکار ہے ؟ اسی سے ملتا جلتا مضمون سورة نساء آیت نمبر 97 میں گزر چکا ہے جہاں ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں سے قبض روح کے بعد ملائکہ کی گفتگو کا ذکر آیا ہے اور ان سب سے زیادہ صاف الفاظ میں عذاب برزخ کی تصریح سورة مومن آیت 45، 46 میں کی گئی ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرعون اور آل فرعون کے متعلق فرماتا ہے کہ ” ایک سخت عذاب ان کو گھیرے ہوئے ہے، یعنی صبح و شام وہ آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، پھر جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم دیا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔ “
حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث، دونوں سے موت اور قیامت کے درمیان کی حالت کا ایک ہی نقشہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ موت محض جسم و روح کی علیحدگی کا نام ہے نہ کہ بالکل معدوم ہوجانے کا۔ جسم علیحدہ ہوجانے کے بعد روح معدوم نہیں ہوجاتی بلکہ اس پوری شخصیت کے ساتھ زندہ رہتی ہے جو دنیا کی زندگی کے تجربات اور ذہنی و اخلاقی اکتسابات سے بنی تھی۔ اس حالت میں روح کے شعور، احساس، مشاہدات اور تجربات کی کیفیت خواب سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ ایک مجرم روح سے فرشتوں کی بازپرس اور پھر اس کا عذاب اور اذیت میں مبتلا ہونا اور دوزخ کے سامنے پیش کیا جانا، سب کچھ اس کی کیفیت سے مشابہ ہوتا ہے جو ایک قتل کے مجرم پر پھانسی کی تاریخ سے ایک دن پہلے ایک ڈرائونے خواب کی شکل میں گزرتی ہوگی۔ اسی طرح ایک پاکیزہ روح کا استقبال اور پھر اس کا جنت کی بشارت سننا، اور اس کا جنت کی ہَوائوں اور خوشبوئوں سے متمتع ہونا، یہ سب بھی اس ملازم کے خواب سے ملتا جلتا ہوگا جو حُسنِ کارکردگی کے بعد سرکاری بلاوے پر ہیڈ کو ارٹر میں حاضر ہوا اور وہ وعدہ ملاقات کی تاریخ سے ایک دن پہلے آئندہ انعامات کی امیدوں سے لبریز ایک سہانا خواب دیکھ رہا ہو۔ یہ خواب یک لخت نفخ صور دوم سے ٹوٹ جائے گا اور یکایک میدانِ حشر میں اپنے آپ کو جسم و روح کے ساتھ زندہ پا کر مجرمین حیرت سے کہیں گے کہ یٰوَیْلَنَا مِنْ م بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا (ارے یہ کون ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھالایا ؟ ) (36: 52) مگر اہل ایمان پورے اطمینان سے کہیں گے کہ ہٰذَا مَا وَعَدَالرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ (36: 52) (یہ وہی چیز ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کا بیان سچا تھا۔ ) مجرمین کا فوری احساس اس وقت یہ ہوگا کہ وہ اپنی خواب گاہ میں (جہاں بستر موت پر انھوں نے دنیا میں جان دی تھی شاید کوئی ایک گھنٹہ بھر سوئے ہوں گے اور اب اچانک اس حادثہ سے آنکھ کھلتے ہی کہیں بھاگے چلے جارہے ہیں مگر اہل ایمان پورے ثبات قلب کے ساتھ کہیں گے کہلَقَدْ لَبِثْـتُمْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِ فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰـکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ (اللہ تعالیٰ کے دفتر میں تم روزحشر تک ٹھہرے رہے ہو اور یہی روزحشر ہے مگر تم اس چیز کو جانتے نہ تھے۔ )
(تفہیم القرآن)
Ayahs 16:30–32وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ ط قَالُوْا خَیْرًا ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّّنْیَا حَسَنَۃٌ ط وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ ط وَلَنِعْمَ دَارُالْمُتَّقِیْنَ ۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ لَہُمْ فِیْھَا مَایَشَآئُ وْنَ ط کَذٰلِکَ یَجْزِی اللّٰہُ الْمُتَّقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ لا یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْکُمُ لا ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 30۔ 31۔ 32)
(اور یوں ہی پوچھا گیا ان سے جو متقی تھے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ جواب دیتے ہیں، سراپا خیر۔ جن لوگوں نے بھلائی کی راہ اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور دارآخرت تو اس سے کہیں بہتر ہے۔ اور کیا ہی خوب ہے پرہیزگاروں کا گھر۔ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کے لیے ان میں وہ سب کچھ ہوگا جو چاہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو اسی طرح صلہ دے گا۔ وہ متقی جن کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ خوش ہوتے ہیں، اس وقت فرشتے کہتے ہیں، آپ لوگوں پر سلامتی ہو، جنت میں داخل ہوجائیے، اپنے اعمال کے صلہ میں۔ )
متقین کا رویہ
پیچھے گزر چکا ہے کہ عوام جب خواص سے یا باہر سے آنے والے اہل مکہ سے پوچھتے تھے کہ جس نبی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اس پر وحی اترتی ہے، وہ کیا چیز ہے اور اس کی وہ تعلیم کیا ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے، تو کفار اسے اگلے لوگوں کے قصے کہانیاں کہہ کر بےاعتبار ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں بتلایا گیا ہے کہ باہر سے آنے والے بعض دفعہ کسی مسلمان سے پوچھ بیٹھتے تو وہ جواب میں نہایت عمدہ طریقے سے اس تعلیم کا لب لباب بیان کرتے اور ان کی خوبیاں پوچھنے والے کے سامنے واضح کرتے تھے۔ اور اس میں یہ بات خاص طور سے کہتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی یہ ہدایت ہمارے لیے سرتا پا خیر ہی خیر ہے۔ اس میں انسانوں کے لیے بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔ اور یہ بات بھی واضح کرتے کہ اس تعلیم نے اگرچہ انسان کے لیے جو منزل مقرر کی ہے وہ آخرت ہے لیکن وہ دنیوی ذمہ داریوں سے انسانوں کو فارغ قرار نہیں دیتا۔ اس لیے وہ اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ جس شخص نے دنیا میں بھلائی کی یعنی دنیوی زندگی اس طرح گزاری جس طرح اللہ تعالیٰ کے پیغمبر نے تعلیم دی ہے تو اسے دنیا میں عزت و سرفرازی کی زندگی ملے گی۔ وہ نہایت آسودگی سے اپنی زندگی بسر کرے گا۔ اگر وہاں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو حکومت قائم کرنے کا موقع مل گیا تو وہ حکومت اہل زمین کے لیے رحمت ثابت ہوگی۔ غرض یہ تعلیم اور یہ ہدایت انفرادی زندگی کے لیے بھی سرتاپا رحمت ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی کامیابیوں کی نوید ہے اور بالآخر آخرت کا گھر اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی متقی لوگوں کے لیے رکھا ہے جنھوں نے زندگی اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت میں گزاری اور ہر طرح کی آلودگیوں سے محفوظ رہے۔ قیامت کے بعد ان کا ٹھکانہ ایسے باغات ہوں گے جنھیں کبھی زوال نہیں ہوگا۔ ان کے نیچے سے ندیاں رواں ہوں گی اور حیران کن بات یہ کہ اہل جنت کو وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے جبکہ دنیا میں بڑے سے بڑا حکمران بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کو وہ سب کچھ مل گیا جس کی اس نے خواہش کی۔ یہاں سے سکندر بھی خالی ہاتھ جاتے ہیں اور سپرپاور کہلانے والے بھی اپنی ناپاک امیدوں سمیت ہلاکت کے گڑھے میں اتر جاتے ہیں۔
مزید فرمایا کہ اہل تقویٰ کو دنیا میں بھی کامیابیاں ملیں گی اور آخرت میں بھی لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کی موت اسی طرح آئے گی جیسے کافر کو آتی ہے۔ اس لیے یہ بات واضح کردی گئی کہ فرشتے جب ان کی روح قبض کریں گے تو وہ نہایت خوش و خرم اور موت کی ادنیٰ آلودگی سے بھی پاکیزہ ہوں گے۔ روح قبض کرنے والے فرشتے جب ان کے سامنے آئیں گے تو انھیں سلامتی کا مژدہ سنائیں گے اور اس میں یہ کہہ کر ان کی خوشیوں میں اضافہ کردیں گے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ ملنے والا ہے یہ یقینا اس کی عطا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ تمہارے اعمال کا صلہ بھی ہے۔
Ayahs 16:33–34ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآاَنْ تَاتِیَھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْیَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ ط کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ط وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (سورۃ النحل : 33۔ 34)
(یہ لوگ تو بس اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا آپ کے رب کا (اٹل) حکم آجائے۔ یوں ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان کے پیشرو تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔ تو ان کو ان کے کیے کی سزائیں پہنچیں اور گھیر لیا انھیں اس عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ )
تاریخ سے سبق لینے کی دعوت
اچھے اور برے لوگوں کے طوراطوار اور ان کے انجام کا ذکر کردینے کے بعد یہ آخری نصیحت ہے جو نہایت ہمدردی سے کی جارہی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جہاں تک سمجھانے بجھانے اور دلائل سے قائل کرنے کا تعلق تھا اس میں تو کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی۔ اس کے باوجود بھی اگر اہل مکہ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں صرف اس بات کا انتظار ہے کہ کب روح قبض کرنے والے فرشتے ان کے سروں پر آکھڑے ہوں اور یا اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک موت کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیں گے یا عذاب کا ایک جھٹکا انھیں ہلا نہیں ڈالے گا اس وقت تک وہ اپنا رویہ بدلنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ مزید فرمایا کہ دنیا میں بدنصیب لوگ صرف یہی نہیں ہیں اس سے پہلے بھی ایسے لوگ گزر چکے ہیں۔ ان کا رویہ بھی ایسا ہی تھا۔ انھیں بھی ہرچند نصیحت کی گئی لیکن انھوں نے کسی نصیحت سے اثر قبول نہیں کیا۔ آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آدھمکا اور ان کے کرتوتوں کی سزائوں نے انھیں آپکڑا اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اسی عذاب نے انھیں گھیر لیا اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے تو پھر اس سے کوئی مفر باقی نہیں رہتا۔
Ayah 16:35وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآئَ اللّٰہُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْ ئٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَآؤْنَا وَلاَحَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْ ئٍ ط کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ج فَھَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (سورۃ النحل : 35)
(اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے شرک کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کو نہ پوجتے اور نہ ہمارے آبائواجداد اور نہ ہم اس کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے، ایسی ہی (بےسروپا) باتیں کیا کرتے تھے، ان کے پیشرو بھی۔ تو رسولوں پر واضح طور پہنچادینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں۔ )
مشرکینِ مکہ کے اعتراض کا جواب
اس آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ کے اعتراض کو ذکر کیا گیا ہے اور اس کا جواب دیا گیا ہے۔ سورة الانعام میں بھی یہی سوال و جواب مختلف الفاظ اور مختلف اسلوب میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کا بنیادی نقطہ، نقطہ توحید ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جس سے باقی سارے دائرے نکلتے ہیں اور اسی میں آکر جمع ہوجاتے ہیں۔ ہر رسول نے اس بات پر سب سے زیادہ زور دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنی صفات، اپنے حقوق اور اپنے اختیارات میں بےمثال ہے۔ کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں۔ اسی طرح تحلیل اور تحریم چونکہ آئین سازی کا دوسرا نام ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہوسکتا، جسے وہ حلال ٹھہرا دے اسے کوئی حرام نہیں کرسکتا اور جسے وہ حرام کردے اسے کوئی حلال نہیں کرسکتا۔ اسی نکتے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اہل زمین پر اپنی شریعت نازل کرے اور انھیں اس کا پابند بنائے۔ قیامت کے دن نجات کا تمام تر دارومدار انھیں دونوں باتوں پر ہے جس نے اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک سمجھا اور اس کی ذات، صفات، حقوق اور اختیارات میں کسی کو شریک نہ کیا اور اسی کی شریعت کو حرف آخر جانا، نہ اس میں کوئی تحریف کی نہ ترمیم۔ ساری زندگی اسی کے اتباع میں گزاری، وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نجات پائے گا اور سرخرو ہوگا۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اور اپنی خانہ ساز شریعت تیار کی اور جس چیز کو چاہا حلال ٹھہرایا اور جس کو چاہا حرام کردیا، وہ قیامت کے دن ناکام و نامراد ہوگا اور ہمیشہ کے لیے جہنم کی نذر کردیا جائے گا۔ مشرکینِ مکہ نے پیغمبر کی اس دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری دعوت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں شرک سب سے بڑا جرم ہے وہ ایسا کرنے والے کو معاف نہیں کرے گا۔ اور جس نے تحلیل اور تحریم کو خود اوڑ ھ کر خدائی مسند پر بیٹھنے کی کوشش کی وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین عذاب کا شکار ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم تو صدیوں سے اس شرک کا ارتکاب کرتے چلے آرہے ہیں، آج جو ہمارا رویہ ہے یہی رویہ ہمارے آبائواجداد کا بھی تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی ناپسند ہے تو اس نے ہمارے آبائواجداد اور ہمیں زبردستی روک کیوں نہیں دیا۔ باوجود طاقت وقدرت رکھنے کے اسے ہمیں نہ روکنا اور ہمارے طرزعمل کو باقی رہنے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہمارے طرز عمل سے خوش ہے اور جس طرح ہم زندگی گزار رہے ہیں وہ اس سے راضی ہے اور تم جو کچھ کہہ رہے ہو یہ تمہاری اپنے منہ کی باتیں ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
مشرکینِ مکہ کو دراصل ایک بڑی غلط فہمی نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسانوں کو جس طرز عمل سے زبردستی روکا نہیں جاتا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ طرز عمل ہے۔ گویا ان کے نزدیک مشیت اور رضا دونوں ایک چیز ہیں۔ اور پھر روکنا ان کے نزدیک وہ قابل اعتبار ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے طاقت شامل ہو۔ اس آیت کریمہ میں جواب دیتے ہوئے پروردگار نے پہلی یہ بات ارشاد فرمائی کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ تم سے پہلی قومیں بھی جو اپنے بدترین انجام کو پہنچ چکی ہیں وہ بھی یہی بات کہتی تھیں۔ ایک طرف تو تمہارا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر جو عظیم کتاب اتاری ہے اسے تم اس لیے قابل قبول نہیں سمجھتے کہ اس میں پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ پہلی گزری ہوئی امتیں جن پر عذاب آچکا ہے اور پہلے گزرے ہوئے رسول اور ان پر ایمان لانے والے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے مستحق ٹھہرے ان کے واقعات تمہاری نگاہ میں گزشتہ لوگوں کے افسانے ہیں جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ تمہاری جدت پسند طبیعت میں قیمتی سے قیمتی بات اور عظیم سے عظیم حوالہ جس پر قدامت کی مہر لگ چکی ہے وہ قبول کرنے کے لائق نہیں لیکن خود تمہارا رویہ کیا ہے، تم کون سے ماڈرن ثابت ہوئے ہو، تم وہی باتیں کہہ رہے ہو جن پر صرف قدامت کی نہیں بلکہ ضلالت کی بھی مہر ثبت ہوچکی ہے۔
تمہارے نزدیک روکنا وہ معتبر ہے جس میں جبر کا عنصر شامل ہو۔ رہا وہ طریقہ جو اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے کہ اس نے انسانوں کو عقل عطا کی، شعور بخشا اور فی الجملہ آزادی سے نوازا، پھر اللہ تعالیٰ کے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں اور خیر و شر کو ان کے سامنے کھول دیا۔ بینات کے ساتھ حق و باطل میں فرق واضح کردیا۔ ہدایت اور گمراہی میں کوئی اشتباہ باقی نہیں رہنے دیا تاکہ جو خیر کو اختیار کرے پورے اطمینان کے ساتھ اور پوری روشنی میں اختیار کرے۔ اب جو شخص بھی اپنی آزادی اور اختیار سے جو راستہ بھی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بروئے کار آنے کے اسباب اور امکانات پیدا فرما دیتا ہے۔ نہ وہ زبردستی کسی کو نیک بناتا ہے اور نہ وہ بالجبر کسی کو برائی پر لگاتا ہے۔ اپنی مرضی سے جو شخص جس راستوں پر چل نکلتا ہے وہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور یہ اس کی مشیت ہے، لیکن یہ بتانا اور واضح کرنا کہ وہ کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں میں ناراض، اس کی وضاحت وہ اپنے پیغمبروں اور کتابوں سے کرتا ہے۔ پیغمبر ہر اس کام کی دنیا کو ہدایت کرتے ہیں جس کام میں اللہ تعالیٰ راضی ہو اور جس پر وہ قیامت کے دن جزاء دے گا اور ہر اس کام سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے اور وہ قیامت کے دن اس کی سزا دے گا۔ رسولوں کا کام انھیں دونوں فرائض کو پوری تندہی، اخلاص اور جانکاہی سے انجام دینا ہے۔ ہم نے جتنے رسول بھیجے انھوں نے اس میں کوتاہی نہیں کی بلکہ بلاغ مبین سے کام لیا یعنی کھلم کھلا ہر بات کو واضح کیا اور اب جو آخری رسول اے مشرکینِ مکہ تمہاری طرف مبعوث ہوئے ہیں وہ بھی اسی فرض کو انجام دے رہے ہیں لیکن تمہاری سرکشی اور ہٹ دھرمی اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور تم مشیت کا سہارا لے کر اس پر قائم رہنا چاہتے ہو۔
Ayah 16:36وَلَقَدْبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلاً اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ ھَدَی اللّٰہُ وَمِنْھُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰـلَۃُ ط فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 36)
(اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے دور رہو، سو ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن پر گمراہی مسلط ہو کے رہی، تم ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ )
ہر رسول کی دعوت اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی ہے
یہ بات ثابت کرنے کے بعد کہ انسانوں کو ہدایت کا یہ طریقہ نہیں کہ انھیں زبردستی نیک یا بد بنایا جائے، یہ تو انسان کے فہم ور شعور کی توہین ہے۔ ان کی ہدایت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ رسولوں کی معرفت ہدایت اور گمراہی کو الگ الگ کردیا جائے کہ لوگ آزادانہ مرضی سے جسے چاہیں اختیار کریں، اب اسی دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم مذہب اور ہدایت کی تاریخ سے کچھ بھی واقف ہو تو تمہارے لیے یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی رسولِ ہدایت بھیجا۔ جہاں تک دھرتی پانی دیتی ہے اور انسانوں کی آبادیاں موجود ہیں وہیں وہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت دینے والے آئے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان میں بیشتر ایک دوسرے سے ناواقف تھے۔ ان کا زمانہ بھی الگ الگ تھا اور علاقہ بھی مختلف تھا۔ بایں ہمہ کس قدر حیرانی کی بات ہے کہ ہر آنے والے رسول نے ایک ہی بات کہی کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ اور انھوں نے پوری طرح عبادت کا مفہوم بھی واضح کیا اور طاغوت کی بھی تعریف کی کہ عبادت اس بندگی کا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور شریک نہ ہو، جس میں تحلیل و تحریم صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہو، کوئی اس کی نہ صفات میں شریک ہو، نہ اس کے حقوق میں، اور نہ اس کے اختیارات میں۔ ہر شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا غلام سمجھے اور اس کی آقائی اور کبریائی میں کسی کو شریک نہ کرے۔ اور طاغوت ہر وہ سرکش قوت ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنی بندگی کروانے کی کوشش کرے۔ چاہے وہ کوئی شخص ہو یا کوئی ظالمانہ نظام ہو۔ ایسے جابر حکمرانوں اور ایسے استبدادی نظاموں کی بندگی سے اجتناب اور اللہ تعالیٰ کی ہی بندگی پر اصرار یہ ہر رسول کی دعوت کے بنیادی نکات رہے ہیں۔ انصاف کی بات کہئے کہ اس دعوت کی موجودگی میں کیا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ شرک اور غلط لوگوں اور غلط نظاموں کی بندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس سے زیادہ غلط بات دنیا میں شاید اور کوئی نہ ہو۔
قانونِ ضلالت
مشیت اور رضا میں فرق واضح کردینے کے بعد مزید ایک اہم حقیقت کا انکشاف فرمایا جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک قانونِ ضلالت بھی ہے جو اس کی گرفت میں آجاتا ہے اسے ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ وہ قانونِ ضلالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کو سمجھنے کے لیے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے، فہم و شعور دیا ہے اور خود فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے۔ جو شخص خواہشات کے اتباع میں اندھا بنا رہتا ہے اور اپنی عقل کو عقل خالص بنا کر استعمال نہیں کرتا اور یا بعض نام نہاد بڑے لوگوں کی پیروی میں اپنے آزادی کے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے پھر انھی کی آنکھوں سے دیکھتا اور انھی کے دماغوں سے سوچتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ ایسے شخص کے سامنے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تبلیغ و دعوت بھی اپنا اثر دکھانے سے قاصر رہتی ہے۔ وہ بظاہر دعوت کا ہدف ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا دل و دماغ کسی اور کی گرفت میں ہوتا ہے۔ اس کی کیفیت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے :
میں خیال ہوں کسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئنہ مرا عکس ہے، پسِ آئنہ کوئی اور ہے
جب وہ مسلسل اپنی اس روش کو قائم رکھتا ہے اور پیغمبر کی دعوت سر پٹخ کے رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانونِ ضلالت حرکت میں آتا ہے اور ہدایت سے اس کی محرومی کا فیصلہ کردیا جاتا ہے، لیکن جو شخص کھلے دل و دماغ سے خالص ارادہ لے کر پیغمبر کی دعوت کی طرف بڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا فرماتے ہیں۔
آخر میں ایک فیصلہ کن بات ارشاد فرمائی کہ مشرکینِ مکہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ہٹ دھرمی اور جاہلیتِ قدیمہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی دلیل ہے اور ان کا پیغمبر کی دعوت کو قبول نہ کرنا صحیح طرز عمل ہے تو پھر وہ زمین میں چل پھر کے دیکھیں یعنی ان علاقوں کو دیکھیں جہاں سے ان کے قافلہ ہائے تجارت گزرتے ہیں جہاں قوم عاد اور قوم ثمود کی بستیاں ہیں جن کے کھنڈرات آج تک ان کی کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کھنڈرات سے پوچھیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب کیوں ٹوٹا ؟ کیونکہ ان کے طرز عمل اور قریش کے طرز عمل میں کوئی فرق نہ تھا۔ وہ بھی اپنے رسولوں کے ساتھ وہی کچھ کررہے تھے جو قریش کررہے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا تھا تو پھر ان پر عذاب کا کوڑا کیوں برسا ؟ اس سوال کا جواب ان کی گمراہیوں کے مفہوم کو ان پر کھول دینے کے لیے کافی ہے۔