Ayah 16:37اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی ھُدٰھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَیَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 37)
(آپ خواہ کتنے ہی حریص ہوں ان کے ہدایت یافتہ ہونے پر مگر اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا جنھیں وہ (پیہم سرکشی کے باعث) گمراہ کردیتا ہے اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والا نہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
قریشِ مکہ کے مسلسل طرز عمل سے یقینا آنحضرت ﷺ کو بہت آزردگی ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر نبی اپنی امت کی ہدایت کے لیے نہایت حریص ہوتا ہے اور آنحضرت ﷺ چونکہ آخری رسول تھے اس لیے ان کی ہدایت کے لیے آپ ﷺ کی حرص اور حد سے بڑھی ہوئی خواہش ایک مثال کی حیثیت رکھتی تھی۔ قریش مکہ ہر طرح کا لحاظ ختم کرچکے تھے اور ان کی اذیت رسانیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ اس کے جواب میں بجائے اس کے کہ حضور ﷺ ان سے منہ پھیر لیتے، ان کے لیے آپ کی دعائوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بعض دفعہ ساری ساری رات گزر جاتی۔ آنحضرت ﷺ کی اس دل گرفتگی کو دیکھتے ہوئے پروردگار تسلی دے رہے ہیں کہ آپ کا یہ جذبہ انتہائی قابل قدر ہے کہ سب لوگ ہدایت یافتہ ہوجائیں لیکن جو لوگ اپنی مسلسل سرکشی اور اپنی آزادی کو استعمال نہ کرنے کے باعث قانونِ ضلالت کی گرفت میں آچکے ہیں وہ کسی طرح بھی ہدایت قبول نہیں کرسکتے کیونکہ ان کی قبولیت کی استعداد ان سے چھن چکی ہے۔ وہ خواہشات میں ڈوب کر اور رؤسائے کفر کی پیروی میں اندھے ہو کر قبولیت کی استعداد سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس لیے اب انھیں دنیا کی کوئی طاقت ہدایت دے سکتی ہے نہ ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔
Ayah 16:38وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لا لاَ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَنْ یَّمُوْتُ ط بَلٰی وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا وَّ لٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 38)
(اور یہ پکی پکی اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو نہیں اٹھائے گا، ہاں ضرور زندہ کرے گا یہ اس کے اوپر ایک لازمی وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ )
وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لا اَیْ بَالَغُوْا فِی الْیَمِیْنِ وَاجْتَھَدُوْا
یعنی انھوں نے قسم کھانے میں مبالغہ کیا اور اپنا پورا زور لگایا۔
بگاڑ کا اصل سبب
نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت یوں تو ساری دنیا تعیشات اور گمراہیوں میں ڈوبی ہوئی تھی اور کسی کو اپنے انجام کے بارے میں سوچنے کی فکر نہ تھی لیکن خاص طور پر عرب کے رہنے والے اپنے بگاڑ میں انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ ان کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ان میں بیشتر لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ دوبارہ جی اٹھنا اور قیامت کا بپا ہونا اور اپنے اعمال کی اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی اس کا تصور بھی ان کے نزدیک ممنوع تھا۔ ان کے ذہنوں میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی تھی کہ قیامت کیسے وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔ جو شخص مرجاتا ہے اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے جسم کو مٹی کھا جاتی ہے۔ اور وہ مکمل طور پر فنا ہوجاتا ہے۔ اور پھر ایسے مرنے والوں کی تعداد ایک دو نہیں، سینکڑوں اور ہزاروں نہیں، اربوں کھربوں سے بھی متجاوز ہے۔ ایسی بیشمار مخلوق کو کہاں کہاں تلاش کیا جائے گا جبکہ ان کے نشانات بھی مٹ چکے ہوں گے۔ جہاں تک ان کے اعمال کی جوابدہی کا تعلق ہے یہ تو بالکل ناممکن سی بات ہے کہ ایک شخص زندگی میں اربوں اعمال کرتا ہے اور اگر اس کے ذہنی اعمال کو شمار کیا جائے تو وہ شاید شمار سے بھی باہر ہوں۔ جب ایک شخص کے اعمال کا حال یہ ہے تو تمام مخلوقات کے اعمال کا شمار کیا ہوگا۔ چناچہ وہ ان میں سے ایک ایک چیز کو سامنے لا تے اور پھر لوگوں کو یقین دلاتے کہ قیامت کا تصور ایک ایسا تصور ہے جس کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ تو ہم ایک ایسی چیز کے حوالے سے اپنی زندگیوں کو بدمزہ کیسے بنالیں جس کی حیثیت خواب و خیال سے زیادہ نہیں۔ چناچہ وہ پورے تحکم اور قطعیت کے ساتھ قسمیں کھا کھا کر لوگوں کو یقین دلاتے کہ قیامت نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی زور کے ساتھ قیامت کے آنے کا اثبات فرمایا کہ تم کہتے ہو قیامت نہیں آئے گی جبکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ تمہاری باتیں تمہارے توہمات ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ لیکن اکثر لوگ چونکہ ان حقائق سے جاہل ہیں اس لیے تم انھیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہو۔
Ayah 16:39لِیُبَیِّنَ لَھُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰذِبِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 39)
(یہ اس لیے ہے تاکہ وہ واضح کردے ان پر اس چیز کو جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں اور تاکہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ خوب جان لیں کہ بلاشبہ وہی جھوٹے تھے۔ )
قیامت کی عقلی و اخلاقی ضرورت
اس آیت کریمہ میں حیات بعدالموت اور قیام قیامت کی عقلی اور اخلاقی دلیلیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ عقل یہ جاننا چاہتی ہے کہ انسانوں نے ہر دور میں خیر و شر اور حق و باطل کے حوالے سے بیشمار نقطہ ہائے نگاہ اختیار کیے ہیں۔ ہر نقطہ نگاہ کی وکالت میں بیشمار شخصیتوں نے اپنا رول ادا کیا پھر اپنے اپنے مؤقف کی حمایت میں زوردار دلائل بھی دیے ہیں اور بعض دفعہ طاقت بھی استعمال کی ہے۔ اسی کشمکش میں کبھی دولت لٹی ہے، کبھی پسینہ بہا اور کبھی خونریزی تک نوبت پہنچی۔ اللہ تعالیٰ کے نبیوں نے اپنے اپنے وقتوں میں آکر صحیح صورتحال واضح کرنے کی کوشش فرمائی لیکن اہل دنیا نے عموماً ان کے مؤقف کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ عقل کا یہ تقاضا بالکل بجا ہے کہ جن باتوں پر اس حد تک کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے کبھی تو معلوم ہو کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے۔
اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ابھی تمہارے سامنے مکہ کی سرزمین میں کلمہ حق سربلند ہوا۔ ایک نہایت دلآویز شخصیت نے اپنے یقین و عمل کا پورا سرمایہ اس پر لگا دیا۔ نہایت اخلاص کے ساتھ ایک ایک کے سامنے وہ کلمہ حق رکھا گیا لیکن چند سعید لوگوں کے سوا بیشتر نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور پھر صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جس شخص نے بھی اسے قبول کیا اسے جینا دوبھر کردیا۔ اسے شہر میں رہنا ناممکن بنادیا۔ غریبوں کو غربت کی سزا دی گئی، غلاموں کو ادھیڑا کھدھیڑا گیا، عزت والوں کی عزتیں پامال ہوگئیں، کتنے لوگ جانیں بچانے کے لیے ہجرت کرگئے۔ کیا اخلاق یہ تقاضا نہیں کرتے کہ ظلم کے اس کاروبار کا کچھ تو نتیجہ سامنے آنا چاہیے۔ اگر ظالم ظلم کرتے رہیں اور مظلوم ظلم سہتے رہیں اور کچھ معلوم نہ ہو کہ ظلم اچھا ہے یا مظلومیت یا یہ دونوں برابر ہیں۔ ایک قربانی دیتا رہے اور دوسرا قربانی لیتا رہے اور کہیں بھی اس کا فیصلہ نہ ہو کہ ان دونوں رویوں میں کون سا رویہ صحیح ہے۔ تو پھر اس کے سوا کیا ہوگا کہ اس دنیا میں مظلوموں کی چیخوں اور آہوں کے سوا کچھ نہیں رہ جائے گا۔ طاقت کا بول بالا ہوگا، حقیقت سرنگوں ہوجائے گی، ظلم کے پھریرے لہرائیں گے، انسانی قدریں ایک ایک کرکے دم توڑ جائیں گی، لوگ اپنے جھونپڑوں میں پکار پکار کر تھک جائیں گے۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
حاصل کلام یہ کہ عقل کا تقاضا بھی ہے اور اخلاق کا بھی، کہ مختلف نقطہ ہائے نظر کے اختلاف کی حقیقت بھی کھلے اور اخلاق اور بداخلاقیوں کے رویئے میں کوئی حدِ فاصل بھی قائم ہو اور ایک دن ایسا آئے جب ان دونوں کو الگ الگ کھول دیا جائے اور یہ بات واضح ہوجائے کہ قریش کے وہ لوگ جنھوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور مسلمانوں پر مظالم توڑے وہ جھوٹے تھے۔
Ayah 16:40اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْ ئٍ اِذَآ اَرَدْنٰـہُ اَنْ نَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (سورۃ النحل : 40)
(جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو اتنا ہی ہمارا کہنا ہوتا ہے کہ ہم اس کو کہتے ہیں ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت
اس سے پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ مشرکینِ مکہ کے لیے قیامت کا ماننا اس لیے مشکل ہورہا تھا کہ وہ اسے ناممکن الوقوع سمجھتے تھے۔ ان کے تصور میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ تمام کائنات کا ایک دفعہ فنا ہوجانا پھر سب کا ازسرنو وجود میں آنا، صدیوں کے مرے ہوئے انسانوں کا اسی شکل و صورت میں اٹھ کھڑا ہونا اور پھر حشر برپا ہونا ان میں سے کوئی بات بھی وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نادانو ! تم اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو نہیں سمجھتے۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی قدرت کے سامنے کوئی چیز ناممکن نہیں۔ وہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس کی ضرورت نہیں ہوتی کہ پہلے وہ میٹریل فراہم کرے، پھر مزدور ڈھونڈے، پھر معمار تلاش کیے جائیں، اس کے لیے مناسب ماحول پیدا کیا جائے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جس چیز کو وہ پیدا کرنا چاہتا ہے اسے حکم دے کہ ہوجا، چناچہ ہو ہوجاتی ہے۔ پہلے بھی اس نے کائنات کی تمام مخلوقات کو اسی کلمہ کُن سے پیدا فرمایا۔ قیامت بھی اسی کلمہ کُن سے وجود میں آئے گی اور اس کا تمام پر اسس اسی حکم کے تحت جاری وساری ہوگا۔ رہی یہ بات کہ ایک کلمہ کُن سے ہر چیز پیدا کیسے ہوسکتی ہے تو اس کا سمجھنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر یقین پیدا نہ کرلے۔
Ayahs 16:41–42وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِمَا ظُلِمُوْٓا لَنُبَوِّئَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنۃً ط وَلَاَجْرُالْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 41۔ 42)
(اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے، ہم ضرور ان کو دنیا میں بھی بہتر ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے، کاش یہ جان لیتے۔ (یہ ان مہاجرین کے لیے ہے) جنھوں نے استقامت دکھائی اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ )
قیامت کے لیے ایک اخلاقی مثال
منکرینِ قیامت کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اسلام پر ایمان لائے پھر اسی کی پاداش میں مشرکینِ مکہ نے ان کا وطن میں رہنا مشکل کردیا۔ چناچہ وہ جان و تن کی حفاظت کے لیے وطن سے ہجرت کرگئے اور اب وہ مسافرت، اجنبیت اور پردیس کی صعوبتیں اٹھا رہے ہیں۔ ان کے ذکر سے سب سے پہلی بات مشرکینِ مکہ سے یہ کہنی ہے کہ تم نے جن لوگوں کو اس حد تک ظلم کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ تو کیا تمہارا یہ ظلم اپنی سزا کو کبھی نہیں پہنچے گا۔ اور تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ جفاکاریاں کبھی رنگ نہیں لائیں گی۔ تم قیامت کا انکار کرکے مزید کھل کھیلنا چاہتے ہو اور ہر طرح کی گرفت سے بےنیاز ہو کر مظلوموں کی زندگی اور عذاب بنانا چاہتے ہو۔
گزشتہ آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کا آنا انسانی زندگی کا اخلاقی تقاضا بھی ہے کیونکہ انسان کی اخلاقی حس یہ چاہتی ہے کہ کبھی تو ظالم کو ظلم کی سزا ملے اور کبھی تو مظلوم کے دن پھریں۔ ایک دن ایسا ہونا چاہیے کہ جہاں ہر ظلم اپنی سزا سے گزرے، ہر گناہ اپنے برے انجام کو دیکھے۔ اگر ایسے کسی دن کا آنا یقینی نہ ہو تو دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کو نہ ظلم سے روکا جاسکتا ہے اور نہ عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوب جانے سے منع کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر اس دن کا آنا یقینی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں حق کی سربلندی کے لیے کوئی کیوں گردن کٹوائے گا۔ خیر و بھلائی کے کام کے لیے کون اپنا وقت صرف کرے گا۔ غریب کی خاطر کون اپنے مال کی قربانی دے گا۔ اسی ایک دن کے اجر وثواب کی امید اور شوق میں نسلیں قربان ہوتی چلی آئی ہیں۔ قربانیوں کی داستانیں دہرائی جاتی رہی ہیں، کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ کل جب ہم اس کا اجر وثواب دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش ہماری کھالیں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں اور آج ہم اس کا بیش از بیش صلہ پاتے۔ چناچہ اسی اخلاقی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے قیامت کا آنا بےحد لازمی ہے تاکہ مشرکینِ مکہ اپنے ظلم کی سزا پائیں اور دربدر ہجرت کرنے والے لوگ بیش از بیش صلے سے ہمکنار ہوں۔
اس آیت میں مزید فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کی ہے معلوم ہوتا ہے اس سے مراد ہجرت ِ حبشہ ہے۔ انھیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ عطا فرمائیں گے۔ چناچہ واقعات نے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو کے رہا۔ جو لوگ حبشہ ہجرت کرکے گئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا فرمائیں اور پھر جب سب کے لیے دارہجرت مدینہ کو قرار دیا گیا تو مدینہ ان کے لیے نہ صرف خیروبرکت کا مرکز بنا بلکہ وہ معمولی سا قصبہ جسے دنیا میں کوئی نہ جانتا تھا رفتہ رفتہ چند ہی سالوں میں عرب کا مرکزا عصاب بن گیا اور خلافتِ راشدہ میں تمام بڑی قوتوں کی قسمتوں کے فیصلے اسی شہر میں ہونے لگے اور یہاں کے درویش بڑے بڑے حکمرانوں کے تخت و تاج اچھالنے والے بنے اور مدینے کا قیام دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے خیر، شرافت، کرامت اور سرفرازی کی علامت بن گیا۔ وہ لوگ جو نان شبینہ کے محتاج تھے ان کے معاشرے میں زکوٰۃ وصول کرنے والا کوئی نہ ملتا تھا اور حکومت کی طرف سے ہر کس و نا کس کو سالانہ وظیفہ دیا جاتا تھا۔ حضرت فاروق اعظم ( رض) جب کسی مہاجر کو اس کا سالانہ وظیفہ دیتے تو فرماتے خُذْبَارَکَ اللّٰہُ فِیْہِ ھٰذَا مَا وَعَدَکَ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَمَا ذُخِرَلَکَ فیِ الْاٰخِرَۃِ اَفْضَلُ ثُمَّ تلَاَ ھٰذِہِ الْآیَۃ یعنی یہ لے لو اللہ تعالیٰ اسے بابرکت کرے، یہ تو وہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے تجھ سے دنیا میں دینے کا وعدہ کیا تھا اور جو چیز آخرت میں دی جائے گی وہ اس سے بہت افضل ہے، پھر آپ یہ آیت پڑھتے۔
دوسری آیت میں ان ہجرت کرنے والوں کی تعریف فرمائی گئی کہ یہ لوگ جب تک اپنے وطن میں رہے اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر ہر طرح کی اذیتیں برداشت کرتے رہے اور ممکن حد تک استقامت دکھائی، لیکن جب ظالموں کا ظلم حد سے گزر گیا تو پھر انھوں نے وطن چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کی ترجیح چونکہ اسلام تھا، وطن نہیں تھا اس لیے انھوں نے اسلام کی خاطر ہر اس تعلق کو توڑ دینے کا فیصلہ کیا جو اسلام کے راستے میں حائل ہوتا۔ بیوی بچے اگر مسلمان نہیں ہوئے تھے تو ان سے ترک تعلق کرلیا۔ اہل وطن چونکہ دشمنی پر اتر آئے تھے اس لیے وطن چھوڑا، راستے کی صعوبتیں برداشت کیں اور پردیس میں پہنچ کر محض اپنے دین کی حفاظت کے لیے شب و روز خدمت دین میں لگ گئے۔ انھیں کچھ معلوم نہ تھا کہ وطن سے نکل کر کیا گزرے گی۔ کوئی ٹھکانہ ملے گا بھی یا نہیں۔ محض اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر دامن جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ حق کے راستے پر استقامت اور حالات کی نامساعدت پر اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ یہی دو ہتھیار تھے جس سے انھوں نے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا۔ اس آیت میں اشارۃً یہ بھی بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی ہجرت قابل قبول ہے جس میں صبر یعنی استقامت اور توکل کی شان پائی جاتی ہو۔ اسی سے وہ استغناء اور بےنیازی پیدا ہوتی ہے جو انسان کو اندیشہ ہائے دوردراز سے مستغنی کردیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی عزت سے رکھتا ہے اور آخرت میں اعلیٰ مقامات پر سرفراز فرمائے گا۔
Ayahs 16:43–44وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْ ٓ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ ط وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 43۔ 44)
(اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ سے پہلے ( رسول بناکر) مگر مردوں کو، ہم ان کی طرف وحی بھیجتے ہیں، پس تم پوچھو اہل علم سے، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (پہلے رسولوں کو بھی ہم نے) روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا۔ اور اسی طرح ہم نے آپ ﷺ پر یہ ذکر نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ )
ایک اعتراض کا جواب
قریشِ مکہ نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ اعتراض کیا کہ نبوت اور رسالت ایک عظیم منصب ہے جس کی عظمت اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ اس کا حامل کوئی انسان ہو۔ انسان پستیوں میں بسنے والا، خواہشات کی پیروی کرنے والا اور گناہوں میں ڈوبا رہنے والا ایک مٹی کا پتلا ہے، اس کی یہ مجال کہاں کہ وہ اتنے عظیم منصب کی ذمہ داریاں ادا کرسکے۔ اس کا اگر کوئی اہل ہوسکتا ہے تو وہ فرشتے ہیں جو نور سے پیدا ہوئے، اس لیے اپنی ذات میں نورانیت رکھتے ہیں اور معصوم ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی آلائش سے پاک ہیں۔
چلیے بدرجہ آخر مان بھی لیا جائے کہ کوئی انسان اس کا رسول ( علیہ السلام) ہوسکتا ہے تو وہ بھی ایسا انسان ہونا چاہیے جو بڑا مالدار، ذی وجاہت اور کسی بڑے قبیلے کا سردار ہو۔ آخر تم میں ایسی کیا بات ہے کہ تم یہ دعویٰ کرتے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کے بھیجا ہے۔
پروردگار اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہارا یہ کہنا کہ انسانوں میں سے رسول نہیں ہوسکتا، یہ عقل کے بھی خلاف ہے اور تاریخ کے بھی۔ تمہارے پڑوس میں اہل کتاب رہتے ہیں، وہ صدیوں سے نبوت اور رسالت کی تاریخ بھی رکھتے ہیں اور اہل کتاب ہونے کا دعویٰ بھی۔ ان سے پوچھو کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انسان نہیں تھے، ان کے بعد حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت یوشع (علیہ السلام) ، پھر اپنے اپنے وقتوں میں حضرت دائود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت سموئیل (علیہ السلام) اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کیا یہ سب انسان نہیں تھے۔ اگر یہ سب انسان تھے اور یقینا تھے تو پھر تمہیں انسانیت اور نبوت میں تضاد کیوں نظر آتا ہے۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) اور رسولوں ( علیہ السلام) پر وحی لے کر اترتے ہیں، خود نبی ( علیہ السلام) یا رسول ( علیہ السلام) نہیں ہوتے۔ اور یا پھر بگڑی ہوئی قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے کر نازل ہوتے ہیں۔ تم اگر فرشتوں کا مطالبہ کرتے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر نہیں، اللہ تعالیٰ کا عذاب لے کر اتر سکتے ہیں اور اس کے بعد کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی۔
جہاں تک عقلی دلیل کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول انسانوں کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوتے ہیں اور اصلاح کے لیے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب پہنچاتے اور پڑھاتے ہیں اسی طرح اس پر عمل کرکے بھی دکھاتے ہیں اور ان کا عمل ہی درحقیقت ان کی امت کی اصلاح کا اصل ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ انسان کتابوں سے اس قدر نہیں سیکھتا جس قدر انسانوں کی زندگی سے سیکھتا ہے۔ جس طرح دیا دِیئے سے جلتا ہے، اسی طرح انسانی زندگی، انسانی زندگی سے روشنی حاصل کرتی ہے۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق ہیں، انھیں بھوک نہیں لگتی۔ بھوک میں وہ انسانوں کی کوئی رہنمائی نہیں کرسکتے۔ روزہ ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کے اندر خواہشات کا مادہ نہیں رکھا گیا۔ درہم و دینار سے انھیں کوئی نسبت نہیں، تو وہ انسان کو زہد کی تعلیم کیا دیں گے۔ وہ کبھی زخمی نہیں ہوتے، کبھی انھیں جسمانی تکلیف نہیں پہنچتی، وہ کبھی قتل نہیں ہوتے، انھیں کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا، تو وہ صبر اور استقامت کا کیسے نمونہ پیش کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں انسان ان سے کیا حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے اندر جنسی خواہشات نہیں رکھی گئیں۔ اسی وجہ سے وہ شادی نہیں کرتے تو انسان ان سے جنسی خواہشات پر غلبہ پانے کا کیا نمونہ حاصل کرسکتے ہیں اور وہ انسانوں کو عملی طور پر کیا سکھا سکتے ہیں کہ بیوی کے حقوق کس طرح ادا ہوتے ہیں اور ایک اچھا شوہر کیسا ہوتا ہے، اولاد کی تربیت کیسے کی جاتی ہے، بہترین باپ کے اوصاف کیا ہوتے ہیں۔ علی ہٰذا القیاس آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے انسانوں کا آنا کس قدر ضروری اور کس قدر مفید ہے۔
اس آیت میں مزید یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ انبیا ( علیہ السلام) چونکہ انسانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے آتے ہیں تو ہم نے آپ ﷺ کو بھی اسی مقصد کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ ہم نے آپ پر قرآن کریم اتارا ہے، یہ زندگی کی گائیڈ بک ہے جسے آپ ﷺ کو اپنی امت کو سکھانا اور پڑھانا ہے۔ اس کے احکام کو عملی شکل دینی ہے۔ اس کے مجملات کو کھولنا ہے، اس کے مبہمات کو واضح کرنا ہے، اس کی تھیوری کو اپلائی کرکے پریکٹیکل شکل دینی ہے۔ اپنی عادات واطوار، اپنے میل جول، ایک تہذیب، ایک تمدن اور ایک ثقافت کو وجود بخشنا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ قطعہ زمین دے دے تو اس کتاب کی رہنمائی میں آپ نے اسے اسلامی ریاست کی شکل دینی ہے اور اس میں اسلام کو بطور آئین کے نافذ کرنا ہے۔ یہ تمام کام آپ نے اس لیے کرنے ہیں کہ آپ اس کتاب کے مبین ہیں۔ غور فرمائیے کہ کیا یہ فرائض انجام دینا کسی فرشتے کے بس کی بات ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ فرائض کو باحسن طریق انجام دے رہے ہیں، لیکن انسانی احساسات کو سمجھنا، انسانی ضروریات کو جاننا اور پھر ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کتاب کی روشنی میں ان کی رہنمائی کرنا، فرشتوں کی طبیعت اور ان کے مزاج سے بالکل الگ چیز ہے۔ اس لیے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ شاید یہ لوگ ان باتوں پر غور و فکر کریں اور اپنی غلطیوں کو سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف متوجہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی حیثیت مبین کی ہے
آیتِ کریمہ میں مزید تدبر کرنے سے ایک اور بات کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی حیثیت کتاب کے مبین کی ہوتی ہے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) کا کام صرف کتاب امت تک پہنچا دینا نہیں بلکہ اس کی تعلیم اور اس کے احکامات کا انطباق اور اجتماعی زندگی میں اس کا نفاذ اور ایک ایک ادارے کی عملی تشکیل بھی ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے پوری طرح ان تمام ضرورتوں کو پورا کرکے دکھایا۔ آپ نے عدالتیں قائم کیں اور انصاف کرنے کا طریقہ سکھایا۔ آپ نے حق و باطل کے معرکے سر کیے اور امت کو جنگ کی تہذیب دی۔ اس کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ ملٹری سپرٹ پیدا کی اور جنگ کو جہاد اور قتال فی سبیل اللہ تعالیٰ بنایا۔ حکومت کی اور اسے اللہ تعالیٰ کی امانت ثابت کیا۔ بندگی اور نیابتِ الٰہی کو اکٹھا کرکے دکھایا۔ امراء اور حاکموں کے فرائض اور آداب کو واضح فرمایا۔ غرض کہ عبادات سے لے کر زندگی کے تمام شعبوں تک آپ نے قرآن کریم کے ایک ایک حکم کو عملی تعبیر دی اور معاشرے پر اس کا انطباق کیا۔ یہ وہ چیز ہے جس کو سنت کہتے ہیں۔ جس طرح قرآن کریم کی آیات اسلامی قانون کی اساس ہو اسی طرح سنت رسول ﷺ بھی ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو تشکیل دینے والی ہے۔ دونوں میں سے کسی ایک سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ ٹیکسٹ بک اور استاد کے تشریحی نوٹس دونوں سلیبس کا حصہ ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دونوں ہی مل کر اصل ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ اقیموا الصلوۃ قرآنی حکم ہے لیکن اس پر عمل کی صورت آرائی سنت نے کی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز ویسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتا ہوا دیکھتے ہو۔ اس لیے جو شخص سنت کے بغیر قرآن کریم کو ماننے اور عمل کرنے پر اصرار کرتا ہے وہ درحقیقت قرآن کریم کو موم کی ناک بنادینا چاہتا ہے اور ایک ایسی کتاب بنادینا چاہتا ہے جس کے مکمل نظام کو کبھی اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ سنتِ رسول سے امت کا انقطاع دراصل امت کو محروم الارث اور منقطع الاصل کرنے کی سازش ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔
Ayahs 16:45–47اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الْاَرْضَ اَوْیَاْتِیَھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ اَوْ یَاْخُذَھُمْ فِیْ تَقَلُّبِھِمْ فَمَا ھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ اَوْ یَاْخُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ ط فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
(سورۃ النحل : 45۔ 46۔ 47)
(کیا وہ لوگ جو بری بری چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے سمیت زمین کو دھنسا دے یا ان پر عذاب وہاں سے آھمکے جہاں سے ان لوگوں کو گمان بھی نہ ہو۔ یا انھیں چلتے پھرتے پکڑ لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں ہیں یا انھیں پکڑ لے جبکہ وہ خوفزدہ ہوچکے ہوں، پس تمہارا پروردگار بڑا ہی شفیق اور رحیم ہے۔ )
عذاب سے بےفکری پر اظہارتعجب
مشرکین کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد ان کے عام حالت پر اظہارِ تعجب کرتے ہوئے پروردگار فرماتا ہے کہ ایک طرف سے دعوت اسلامی کو روکنے کے لیے یہ لوگ قسم قسم کے اعتراضات کرتے ہیں، بال کی کھال اتارتے اور میں میخ نکالتے ہیں اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے بدترین سازشوں میں لگے رہتے ہیں حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے ایسی نشانیاں دیکھ چکے ہیں جس کے بعد نبی کریم ﷺ کی رسالت سے انکار کرنا انتہائی ڈھٹائی کی بات ہے اور سوچنے والوں کے لیے تو یہی بات کفایت کرتی ہے کہ اس دعوت کو ایک ایسی شخصیت پیش کررہی ہے جس کی سیرت اور کردار انتہائی اجلا اور جھوٹ اور خیانت کے ہر عیب سے پاک ہے اور مزید یہ کہ جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا ان کی استقامت یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اگر اسلام میں کوئی کجی ہوتی تو وہ لوگ اسلام پر قائم نہ رہ سکتے جن کو کفار نے ہر طرح کی اذیتیں پہنچا کر دیکھ لیا لیکن ان کے اخلاص اور وفاداری میں کوئی کمی نہ آئی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرکینِ مکہ ان تمام شواہد کو دیکھنے کے باوجود اگر اپنی ہٹ سے باز نہیں آتے تو وہ شاید اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بےفکر ہوچکے ہیں۔ ان کو کوئی ایسی جائے پناہ میسر آچکی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی عذاب ان کا کوئی نقصان نہیں کرسکتا حالانکہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بعید نہیں۔ وہ جب چاہے ان کی آبادیوں سمیت انھیں زمین میں غرق کرسکتا ہے اور یا ان پر اس طرح عذاب لاسکتا ہے کہ انھیں اس کا شعور بھی نہ ہونے پائے یا اچانک اللہ تعالیٰ کی گرفت آجائے اس حال میں کہ وہ اپنی روا روی اور زندگی کی ہمہ ہمی میں مصروف ہوں۔ وہ زندگی کے معمولات اور سوشل تقریبات میں کھوئے ہوئے ہوں اور یا وہ خطرے کو محسوس کرتے ہوئے بچائو کی تدبیریں کررہے ہو کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس طرح آپکڑے کہ ان کی سب تدبیریں دھری رہ جائیں۔
خطرے اور تخوّف کی دو صورتیں ممکن ہیں اور یہ دونوں ہی اس کے معنی میں شامل سمجھی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ پہلے عذاب کی نشانیاں نمودار ہوں جس سے انھیں یہ گمان ہو کہ شاید اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مسلسل کاروبار میں نقصان ہوتا جائے، کھیتیاں ویران ہونے لگیں، پیداوار گھٹنی شروع ہوجائے، ہر چیز میں ابتری پھیل جائے، معیشت کا پہیہ جام ہونے لگے، اسے عربی زبان میں تنقض کہا جاتا ہے۔ حضرت عمرفاروق ( رض) کا ایک واقعہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ آپ ( رض) نے ایک دن برسرممبر لوگوں سے پوچھا کہ لوگو ! اَوْ یَاْخُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍط کا کیا مطلب ہے ؟ سب خاموش ہوگئے۔
بنی ہذیل کا ایک بوڑھا اٹھا اور اس نے عرض کی اے امیرالمومنین، یہ ہماری لغت ہے یہاں التخوّف کا معنی التنقص ہے یعنی آہستہ آہستہ کسی چیز کا گھٹتے چلے جانا۔ آپ نے پوچھا کیا یہ لفظ اس معنی میں عرب کے شعراء نے بھی استعمال کیا ہے۔ وہ بولا جی ہاں ہمارا شاعر ابوکبیر ہذلی اپنی اونٹنی کے متعلق کہتا ہے جس کی اونچی کوہان کو سفر کی طوالت نے لاغر کردیا تھا ؎
تخوّف الرحل تامکاً قرداً ٭ کما تخوّف عودالنبعۃ السفن ‘
کہ کجاوے نے میری اونٹنی کی موٹی تازہ اونچی کوہان کو گھسا کر کم کردیا ہے جس طرح نبعہ درخت کی لکڑی گھسانے والا آلہ گھسا کر چھوٹا کردیتا ہے۔ یہ شعر سن کر حضرت عمرفاروق ( رض) نے فرمایا، لوگو ! جاہلیت کے اشعار یاد کیا کرو۔ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر اور تمہارے کلام کے معانی ہیں۔ (قرطبی)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر طرح عذاب دینے پر قادر ہے اور مشرکین کی حالت اس عذاب کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اس لیے پروردگار نے ان کی لاپرواہی اور جسارت پر تعجب کا اظہار بھی کیا۔ بایں ہمہ وہ لوگ اپنے معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے عیش و عشرت میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ قدرت رکھنے کے باوجود ان پر گرفت نہیں فرماتا، تو آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ آیت کریمہ کے آخر میں اس کا جواب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہارا رب رئوف اور رحیم ہے۔ وہ نہایت مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ تمہیں زیادہ سے زیادہ مہلت دی جائے۔ شاید کسی وقت تم ہدایت کی طرف پلٹ جاؤ، کوئی نصیحت تم پر اثر کرجائے۔ عذاب میں تاخیر اس کی رحمت کی دلیل ہے ورنہ کسی کام کو کرگزرنا اس کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، وہ ایک لمحے میں ساری دنیا کو تباہ کرسکتا ہے لیکن قوموں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس نے اس وقت تک کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جب تک کہ قبولیتِ ہدایت کے تمام سوتے خشک نہیں ہوگئے اور ہر طرح کی امید مرجھا نہیں گئی۔
Ayah 16:48اَوَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَاخَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ یَّتَفَیَّؤْا ظِلٰـلُہٓ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَھُمْ دٰخِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 48)
(کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے داہنی طرف اور بائیں طرف جھکتے ہیں۔ تابع ہیں اللہ تعالیٰ کے اور اللہ تعالیٰ کے روبرو عاجز ہیں۔ )
توحید پر ایک تکوینی دلیل
گزشتہ آیات میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہمہ گیری کا عالم یہ ہے کہ وہ اس بستی ہوئی دنیا کو جب چاہیے تہہ وبالا کردے، دھرتی کو الٹ دے یا اور مختلف طریقوں سے اہل زمین کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اب اس آیت میں مشرکین کو مزید توجہ دلاتے ہوئے ایک تکوینی دلیل ارشاد فرمائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف زمین پر بستے ہوئے انسانوں ہی پر قادر نہیں بلکہ کائنات کی کوئی چیز بھی جو اس نے پیدا فرمائی ہے یہاں تک کہ سایہ دار چیزوں کے سائے بھی حکم الٰہی کے مطیع و منقاد ہیں۔ ہر چیز کا سایہ زمین پر بچھا رہتا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ خدا کے آگے سجدہ ریز ہے۔ پھر وہ آہستہ آہستہ اٹھنا شروع ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج سمت راس میں آتا ہے تو سایہ بالکل کھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر جب سورج جھکنا شروع ہوتا ہے تو سایہ دوسری سمت میں زمین پر بچھنا شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح ہر سایہ کے 24 گھنٹے رکوع و سجود میں گزرتے ہیں اور یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ سایہ کا یہ سجدہ سورج کی بالکل مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ سورج اگر پورب کی طرف ہے تو سایہ پچھم کی طرف پھیلے گا۔ اور اگر سورج پچھم کی طرف ہے تو سایہ کا پھیلائو پورب کی طرف ہوگا۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ سایہ کی فطرت ابراہیمی ہے، آفتاب پرستی سے اس کو عار ہے۔
مشرک جاہلی قوموں میں سایہ کے متعلق بھی عجیب عجیب توہمات پائے جاتے ہیں۔ قرآن مجید ان سب کا قلع قمع کرکے بتاتا ہے کہ سارے سائے اور سایہ دار چیزیں قانونِ الٰہی کی محکوم ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ سایہ کے موجبات و مسببات حرکت سایہ کے اسباب اس سایہ کے خواص، یہ سب حکم الٰہی سے ہیں۔
اس سے اس جانب بھی اشارہ ہے کہ تمام جسمانی اشیاء چھوٹی ہوں یا بڑی، جاندار ہوں یا بےجان سب ایک ہمہ گیر قانون کی گرفت میں جکڑی ہوئی ہیں۔ کسی چیز کا سایہ ہونا اس کے مادی ہونے کی دلیل ہے اور مادی ہونا بندہ اور مخلوق ہونے کی علامت ہے اور کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کی پیشانی پر بندگی کا داغ لگا ہوا نہیں۔ ہر مخلوق اپنے خالق کے سامنے محتاج بھی ہے اور سجدہ ریز بھی۔ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں اس کا کوئی ادنیٰ حصہ بھی نہیں۔ اس پروردگار کے سامنے بڑی سے بڑی مخلوق بھی سر ڈالے ہوئے عجز کی تصویر بنی رہتی ہے کیونکہ ایک مخلوق کے لیے عاجزی ہی اس کا اصل جوہر ہے۔
Ayahs 16:49–50وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ وَّالْمَلٰٓئِکَۃُ وَھُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ مِّنْ فَوْقِھِمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْن۔
(سورۃ النحل : 49۔ 50)
(اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں جاندار ہیں اور فرشتے بھی۔ وہ سرتابی نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ملتا ہے۔ )
توحید پر مزید زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی جاندار ہیں سب اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرتے ہیں حتیٰ کہ فرشتے بھی جن کو مشرکینِ عرب نے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا رکھا تھا اور انھیں اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دینا چاہے اور بیٹیاں اڑ جائیں تو وہ اپنے باپ کو مجبور کردیں گی۔ اس طرح لوگ سزا سے بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا کہ زمین و آسمان میں کوئی مخلوق بھی ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کرسکے۔ فرشتے تو ہمہ وقت ہاتھ باندھے احکام کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں، جو حکم ملتا ہے بجا آوری کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم یا اس کے منشا کی مخالفت کی جاسکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی تو دور کی بات ہے، فرشتے اور دوسری مخلوقات تو ہر دم لرزاں و ترساں رہتی ہیں کہ کوئی بات منشائِ ایزدی کیخلاف ان سے سرزد نہ ہوجائے۔ اس لیے وہ صرف ایک ہی بات کے پابند ہیں کہ ہر وہ کام کریں جس کا ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی یہ شان نہیں کہ اس کی غیرمشروط اطاعت کی جائے اور اس کے سامنے سجدہ کیا جائے کیونکہ یہ حقوق صرف اس کے ہیں جو کائنات کا خالق ہے اور اس کے ہیں جو تمام مخلوقات کا اِلٰہ ہے۔ اگر کوئی اپنے طور پر اس کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دعویٰ آذری ہے۔
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری
Ayah 16:51وَقَالَ اللّٰہُ لاَ تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـھَیْنِ اثْنَیْنِ ج اِنَّمَا ھُوَاِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج فَاِیَّایَ فَارْھَبُوْن۔
(سورۃ النحل : 51)
(اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو معبود مت بنائو، وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، پس فقط مجھ ہی سے ڈرو۔ )
توحید ایک حقیقت ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی شہادت
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے متنوع دلائل سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ توحید اس کائنات کی اصل حقیقت ہے۔ شرک ایک عارضہ ہے جو کم علمی، کم عقلی یا دل و دماغ کے بگاڑ سے پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر اس کی تائید میں کائنات کی ایک ایک چیز کا حوالہ دیا کہ دیکھو وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اِلٰہ ہوتا یا کوئی اور خدا ہوتا تو کائنات میں کہیں اس کی بندگی ہوتی ہوئی نظر آتی۔ مخلوقات میں سے کوئی مخلوق اس کے سامنے بھی جھکتی اور سجدہ ریز ہوتی۔ عقل، نقل اور مشاہدہ تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں۔ چناچہ اس حقیقت کو واضح کردینے کے بعد پروردگار فرماتا ہے اور حاکمانہ شان سے حکم دیتا ہے کہ خبردار اب دو اِلٰہ یا دو خدا مت بنانا۔ جب تم نے دلائل سے یہ بات سمجھ لی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں تو پھر کسی دوسرے اِلٰہ کا تصور اور عقیدہ انتہائی حماقت ہے، تو اس حماقت سے رک جاؤ اور پھر اس حکم کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی شہادت بھی ریکارڈ کروائی ہے کہ یاد رکھو اور اس میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ایک اِلٰہ ہے۔ اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں اور اللہ تعالیٰ کی یہ شہادت ہر دور میں دو طریقوں سے انسانوں تک پہنچتی رہی ہے۔ ایک تو انبیاء کرام کی معرفت کیونکہ جتنے نبی دنیا میں آئے ہیں چاہے وہ دنیا کے کسی خطے میں ہوں اور بیشک انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تک نہ ہو، ان کے زمانے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں، ان کے بعثت کے مقام میں بیشک لمبی مسافت حائل ہو لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے ہرحال میں اور ہر جگہ ایک ہی شہادت دی کہ کائنات کا اِلٰہ اور خدا ایک ہے، اس کے سوا کسی اور کی ہرگز گنجائش نہیں۔ تم ایک ہی خدا کی عبادت کرو، وہی ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہم نبی ہوتے ہوئے بھی اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور تم بھی اسی کے سامنے سر جھکائو۔
دوسری شہادت اس نے ہر دور میں گردوپیش پھیلی ہوئی اور خود انسان کے اندر پنہاں نشانیوں کے ذریعے دی اور جابجا فرمایا کہ تم اپنی ذات کو دیکھو، تمہارے نفسوں میں جو حیرت انگیز صلاحیتیں، احساسات اور انفعالات پائے جاتے ہیں، تمہارا جسم جن عناصر سے وجود پذیر ہوا ہے، تمہیں جس طرح خوراک مہیا کی جارہی ہے اور جس طرح تمہاری شریانوں میں خون دوڑتا ہے اور پھر تمہارے دل و دماغ کی رعنائیاں جو بجائے خود جہانِ اصغر ہیں اور پھر تمہارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی دنیا جو زمین پر بھی ہے اور آسمانوں پر بھی اور ان کے درمیان بھی۔ آسمان کے بیشمار کُرّے اور ان کی گردش، سورج اور چاند کی منزلیں اور ان کے متعین مشاغل پھر تمام عناصر کا باہم متخالف ہونے کے باوجود نہایت اتحاد اور توافق کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا اور انسانی زندگی کے لیے سہولتیں بہم پہنچانا ان میں ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ گواہی ہے جو کائنات کے وجود میں آنے سے لے کر آج تک دی جارہی ہے۔ اس شہادت نے باقی شہادات کی توثیق کی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔ اس کے بعد فرمایا کہ جب حقیقتِ ثابتہ یہ ہے تو پھر تمہیں یہ بات زیب نہیں دیتی کہ تم میرے سوا کسی اور سے ڈرو۔
اس آیت کریمہ میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ دو اِلٰہ مت بنائو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تین چار بیشک بنا لو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحدہی نہیں یکتا ہے۔ اس کی صفت احد ہونا ہے۔ احد کے ساتھ کوئی دوسرا عدد نہیں لگ سکتا۔ جب آپ کسی کو واحد کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز دو بھی ہوسکتی ہے لیکن جب آپ احد کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ دوئی یا ثنویت کا تصور ناقابلِ قبول ہے۔ اس لیے اگر تم اللہ تعالیٰ کو مانتے ہو تو اس کی خدائی میں کسی دوسرے کا شریک کرنا ناممکن ہے۔
Ayah 16:52وَلَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہٗ الدِّیْنُ وَاصِبًا ط اَفَغَیْرَاللّٰہِ تَتَّقُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 52)
(اور اسی کا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہمیشہ لازم ہے، تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا غیروں سے ڈرتے ہو۔ )
وَاصِبکا معنی
آیت میں وَاصِبًا کا لفظ آیا ہے، اس کا معنی ہے ہمیشہ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی کام کو ہمیشہ کیا جاتا ہے تو وہ لازمی ہوجاتا ہے ورنہ ہمیشہ کرنے کا کوئی مفہوم ہی نہیں۔ اس لیے اس کا ترجمہ لازم سے بھی کیا جاتا ہے۔
توحید پر دلیل
سابقہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جس بات پر گواہی دی ہے یہ اس کی دلیل ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملک ہے یعنی سب اس کے مملوک ہیں اور وہ سب کا آقا ہے۔ اسی طرح دنیا میں ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ وہ سب کا خالق ہے۔ جب دنیا کی ہر چیز اس کی مملوک اور اس کی مخلوق ٹھہری تو یہ بات خودبخود اس سے نکلی کہ دنیا کی ہر چیز پر اس کی اطاعت لازم ہے۔ وہ مخلوق کیا ہوئی جو اپنے خالق کی اطاعت نہ کرے اور وہ مملوک کیسا ہوا جو اپنے آقا کا حکم نہ مانے۔ مخلوق اور مملوک کے لیے اطاعت ایک لازمی امر اور ان کی حیثیت کا لازمی نتیجہ ہے۔ لیکن یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ انسان کی عقل کا تو یہ فیصلہ ہے کہ مملوک کو اپنے آقا اور اپنے مالک اور مخلوق کو اپنے خالق کی اطاعت کرنا لازمی ہے۔ لیکن انسان کا طرز عمل اس کے باکل برعکس ہے۔ وہ اطاعت کے بجائے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ اس کے احکام سے بغاوت کارویہ اختیار کرتا ہے اور اس پر بھی مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ بجائے اللہ تعالیٰ کے ڈرنے کے وہ ان سے ڈرتا ہے جس کا نہ وہ مملوک ہے اور نہ مخلوق ہے۔ اور ان کی مصنوعی قوتوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور ان کے خانہ ساز اقتدار کو اللہ تعالیٰ کے اقتدار سے بڑھ کر سمجھتا ہے۔ جن کی گرفت سے بچنے کے سو طریقے ہیں ان کے سامنے جھکتا ہے اور ان کے احکام بجالاتا ہے لیکن جس کی گرفت بےپناہ اور بےڈھب ہے اور جو پکڑنے پہ آئے تو کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ اس کی گرفت سے بےنیاز ہو کر من مانی زندگی گزارتا ہے۔ اس حماقت پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 16:53وَمَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّفَاِلَیْہِ تَجْـَٔرُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 53)
(اور تمہارے پاس جو نعمت بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے تم فریاد کرتے ہو۔ )
توحید پر انفسی دلیل
اس آیت کریمہ کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں مشرکین کی بےعقلی اور حماقت پر تعریض کی گئی ہے اور دوسرے جملے میں توحید پر انفسی دلیل قائم کی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم اگر اپنی عقل پر تھوڑا سا زور دو تو باور کرلو گے کہ تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ تمہارا اپنا جسم اور اس کی توانائی، تمہارا دماغ اور اس کی رعنائی، تمہارا دل اور اس کی پنہائی، تمہارے حواس اور ان کی وسعت، تمہاری عقل اور اس کی گیرائی، تمہاری دولت اور اس کی پذیرائی، غرضیکہ کوئی نعمت ایسی نہیں جسے تمہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے عطا کیا ہو۔ تم تسلیم کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی تمہارا خالق ہے تو ان میں سے کتنی نعمتیں ہیں جو تخلیق کے ساتھ عمل میں آئی ہیں اور پھر کتنی ایسی نعمتیں ہیں جو تمہاری قوت اکتساب کے برگ و بار ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے کہ یہ اسی قوت کے نتائج ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ لیکن یہ بات کس قدر ستم ظریفی کی ہے کہ تم انھیں نعمتوں کی عطا میں نہ جانے کس کس کو شریک سمجھتے ہو۔ اور پھر نہ جانے کس کس کا تم نے حصہ مقرر کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں ایسی پہیلی ہے جو عقل دقت سے بوجھتی ہے کہ اسے یہ تسلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی شرک کا عقیدہ بھی چھوٹنے نہیں پاتا۔ آخر اس دو عملی کا کیا جواز ہے۔ کسی نے سچ کہا کہ انسان عجیب واقعہ ہوا ہے کہ اکڑنے پہ آتا ہے تو احکم الحاکمین کے سامنے اکڑ جاتا ہے اور جھکنے پہ آتا ہے تو پتھر کے گھڑے ہوئے خدائوں کے سامنے جھک جاتا ہے۔
انسانی خرد کی تنگ دامانیوں کی داستان اپنی جگہ لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو فطرتِ سلیمہ عطا کررکھی ہے انسان کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ اس کا بگاڑ بھی بڑھتا رہتا ہے لیکن جب کبھی ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جس میں مجبوراً اسے اپنی اصل حالت پر لوٹ کر کام کرنا پڑتا ہے تو وہ ٹھیک وہی کام کرتی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ مثلاً ان لوگوں کی بگڑی ہوئی فطرت ہمیشہ ان کو شرک کے راستے پر چلاتی رہتی ہے۔ یہ کسی کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو سواری سے پہلے بھی جل دیوتا کی نذر گزارتے ہیں اور پھر دورانِ سفر نہ جانے کس کس دیوتا، اوتار اور مظہر قدرت کی دہائی دیتے جاتے ہیں اور ان سے سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ لیکن جب کشتی کسی طوفان کی گرفت میں آجاتی ہے تو پھر کشتی کے تمام مسافر بیک زبان پکار اٹھتے ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور سننے والا نہیں، اس کے شریکوں کو پکار کے دیکھ لیا، کسی نے ہماری بات نہیں سنی، اب ایک ہی بارگاہ ہے، اسے پکارو، وہ یقینا ہماری مدد کو پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم تمام شریکوں کو پکارتے ہو اور کہیں بھی شرک سے رکنے کا نام نہیں لیتے، لیکن جب ہر سہارا ناکام ہوجاتا ہے اور ہر طرف سے مایوس ہوجاتے ہو پھر تم اللہ تعالیٰ کو کیوں پکارتے ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اصل فطرت کے اندر صرف ایک ہی خدا کا شعور ہے۔ یہ دوسرے دیوی دیوتا جو تم نے بنا رکھے ہیں اصل فطرت کے اندر ان کی کوئی جگہ نہیں۔ چناچہ جب بھی فطرت کو صحیح کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو یہ سب مصنوعی دیوی دیوتا غائب ہوجاتے ہیں اور صرف ایک ہی خدا باقی رہ جاتا ہے جس کا اعتقاد اصل فطرت کے اندر ودیعت ہے۔
Ayahs 16:54–55ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّعَنْکُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْکُمْ بِرَبِّہِمِ یُشْرِکُوْنَ ۔ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰـھُمْ ط فَتَمَتَّـعُوْا قف فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 54۔ 55)
(پھر جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شریک کرنے لگتا ہے۔ تاکہ ناشکری کرے اس چیز کی جو ہم نے ان کو بخشی ہے، پس اے ناشکرو لطف اٹھالو چند روز، تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا۔ )
جب اللہ تعالیٰ تمہارے دعائیں مانگنے اور آہ وزاری کرنے پر تمہاری مصیبت اور مشکل کو دور کردیتا ہے تو کچھ زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ تم میں سے ایک گروہ پھر اپنی ڈگر پر لوٹ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیوی دیوتائوں کو شریک کرنے لگتا ہے اور وہی پہلی کیفیت پھر لوٹ آتی ہے۔ یہ درست ہے کہ بعض دفعہ ایسے جھٹکے بعض انسانوں کو راہ راست پر بھی لے آتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ حالات کے درست ہوجانے پر پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی توجہ دلاتا ہے کہ دیکھو تمہیں اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی افتاد سے نکالا ہے، تم کتنی بڑی مصیبت میں گھر گئے تھے اور تمہارے تمام سہارے جواب دے گئے تھے، لیکن تم بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے اس کی کوئی نہ کوئی توجیہ تلاش کرلیتے ہو کہ یہ صحیح ہے کہ ہم نے اس مصیبت میں اللہ تعالیٰ کو بھی پکارا تھا لیکن یہ بھی امر واقعہ ہے کہ ہم نے فلاں فلاں کے نام کی دہائی دی تھی، ہم نے فلاں فلاں کی منت مانی تھی، ان ہی کی دستگیری ہمارے کام آئی۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر کرم بھی فرمایا تو انھیں کے کہنے پر فرمایا۔ اس طرح ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اس کا وہ انکار کردے۔ بجائے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے کفرانِ نعمت کرے۔ پروردگار اس پر برہم ہو کر انھیں تنبیہ فرماتا ہے کہ نادانو ! اور احسان فراموشو ! تم اگر اپنا رویہ بدلنا نہیں چاہتے اور ناشکری سے باز نہیں آنا چاہتے تو ٹھیک ہے تمہارے پاس چند روزہ مہلت ہے۔ ان نعمتوں سے خوب فائدہ اٹھائو۔ لیکن عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہیں کیسے برے انجام سے واسطہ پڑتا ہے۔ جب جہنم کی ہولناکیاں تمہیں اپنے اندر کھینچ رہی ہوں گی تو اس وقت کوئی بچانے والا ہاتھ تمہیں بچانے کے لیے آگے نہیں بڑھے گا۔