16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsروح القرآن

Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا ہے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب یہی ہمارے وہ شرکاء ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے رہے تو وہ شریک انھیں جواب دیں گے یقینا تم جھوٹ بول رہے ہو۔

وَاِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شُرَکَآئَ ھُمْ قَالُوْا رَبَّنَا ھٰٓؤْلَآئِ شُرَکَآؤْنَا الَّذِیْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ ج فَاَلْقَوْا اِلَیْھِمُ الْقَوْلَ اِنَّکُمْ لَکٰذِبُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 86) (اور جب وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا ہے اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب یہی ہمارے وہ شرکاء ہیں جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے رہے تو وہ شریک انھیں جواب دیں گے یقینا تم جھوٹ بول رہے ہو۔ ) مشرکین اور شریکوں میں توتکار اس آیت کریمہ میں مشرکین سے ایک ایسی بات کہی جارہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مشرکین پر جو مصیبت پڑنے والی ہے وہ صرف عذاب ہی کی شکل میں نہیں ہوگی بلکہ جگ ہنسائی اور رسوائی کی شکل میں بھی ہوگی۔ جب وہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہوں گے تو اچانک ان کی نظر پڑے گی کہ ایک طرف سے ان لوگوں کو ہانکتے ہوئے لایا جارہا ہے جو دنیا میں انھیں اطمینان دلاتے رہے کہ تمہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے، ہم آخرت کی ضمانت دیتے ہیں۔ ہمارا کوئی دامن گرفتہ آخرت میں پکڑا نہیں جائے گا۔ ہمارا نام اور ہماری ذات آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ چناچہ مشرکین نے یہ سمجھ کر کہ ہماری دنیوی اور اخروی کامیابیاں صرف ان شریکوں کے دم قدم سے ہیں تو زندگی بھر ان کی پوجا کی، ان کی اطاعت کی، ان کے پیچھے چلتے رہے اور انھی کی خدمت بجالاتے رہے۔ چناچہ جیسے ہی ان کو دیکھیں گے کہ وہ بھی ہماری طرح اپنے گناہوں کی شامت میں پکڑے ہوئے ہیں تو چیختے ہوئے اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ! یہی ہیں وہ لوگ جن کو ہم دنیا میں تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ انھیں کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ ہماری گمراہی کا اصل سبب یہ ہیں۔ انھوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکائے رکھا۔ ہم ان پر اعتماد کرتے رہے اور یہ ہمیں گمراہ کرتے رہے۔ لیکن جیسے ہی وہ شرکاء ان کے الزامات کو سنیں گے تو وہ سختی سے ان کی باتوں کو جھٹک دیں گے اور صاف صاف کہیں گے کہ ہم نے تمہیں بالکل نہیں بہکایا، تم جھوٹ بولتے ہو۔ اس تردید کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کے شرک سے انکار کریں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمیں شریک ٹھہرایا تو وہ ہمارے کہنے پر نہیں بلکہ یہ سب کچھ تمہارے اپنے خیالات کا فساد ہے، ہم نے تمہیں دیکھا تک نہیں لیکن تم نے نہ جانے کس طرح ہمیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا ہے۔
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

وہ اس دن اللہ کے آگے سپر ڈال دیں گے اور جو کچھ وہ افترا کرتے رہے تھے وہ سب ہوا ہوجائے گا۔

وَاَلْقَوْا اِلَی اللّٰہِ یَوْمَئِذِ نِ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 87) (وہ اس دن اللہ تعالیٰ کے آگے سپر ڈال دیں گے اور جو کچھ وہ افترا کرتے رہے تھے وہ سب ہوا ہوجائے گا۔ ) غور فرمایئے، مشرکین کا معاملہ آخرت میں عجیب صورت اختیار کرجائے گا۔ ان لوگوں نے زندگی بھر جن کے سہارے پر شرک کیا اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کو درخورِاعتنا نہ سمجھا اور اپنی ہر مشکل میں انھیں دیویوں اور دیوتائوں کو پکارا اور زندگی بھر اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ہمیں جو ملتا ہے انھیں بتوں یا انھیں دیوتائوں کے توسل سے ملتا ہے لیکن اب جبکہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے عجیب منظر دیکھیں گے جسے ہلکے سے ہلکے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے ؎ توقع تھی وہ جن سے خستگی میں داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہ تیغ ستم نکلے انھوں نے صاف کہہ دیا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، ہم نے تم سے کب کہا تھا کہ تم ہماری پوجا کیا کرو۔ اور ہم قیامت کے دن تمہیں بچا لیں گے۔ اس پر مزید ستم یہ ہوگا کہ ان کے انکار سے ان کے عقیدے کا بھرم بھی کھل جائے گا جو انھیں اپنے آبائواجداد سے ورثے میں ملا تھا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی پوجا شروع کر رکھی ہے یا جن کو ہم مصیبتوں میں پکارتے ہیں یہ ہمارا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے اختیارات میں شریک کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے ہمیں اس کی اجازت دے رکھی ہے لیکن اب جبکہ یہ سارے پردے اٹھ جائیں گے تو وہ بازی ہارے ہوئے جو اریے کی طرح اپنے حواس کھو بیٹھیں گے اور ہر طرح کی امید کا دامن چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سپر ڈال دیں گے اور ہر سہارا پادرہَوا ہو کر رہ جائے گا۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا ہم ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے، اس وجہ سے کہ وہ فتنہ و فساد برپا کیا کرتے تھے۔

اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰـہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 88) (جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا ہم ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے، اس وجہ سے کہ وہ فتنہ و فساد برپا کیا کرتے تھے۔ ) مشرکوں کے لیڈروں کے لیے مزید عذاب جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا اور اسی کفر کی حالت میں آخرت کو سدھار گئے انھیں تو اپنے کفر کی سزا ملے گی اور وہ سزا بھی پِتّہ کو پانی کردینے والی ہے، لیکن جن لوگوں نے نہ صرف کہ اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اپنی امکانی حد تک دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی اور ہر ممکن طریقے سے انھیں اسلام کی طرف آنے سے روکا۔ غلط فہمیاں پیدا کیں، الزامات کی دھول اڑائی، اپنا اثرورسوخ استعمال کیا، مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا کر دوسروں کو ہراساں کردیا۔ یہ وہ کفار کے لیڈر ہیں جنھیں ان کے جرائم کے مطابق دوہری سزا ملے گی۔ کفر کی سزا تو دوسرے کفار کی طرح ہوگی لیکن دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے کی سزا اس سزا سے زائد ہوگی۔ کفر کی سزا ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے اور اس سے زائد سزا کیا ہوگی یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ابدی جہنم سب کے لیے یکساں ہوگا۔ البتہ یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ ایسے لوگوں کو عذاب بھی ملے اور ساتھ ساتھ رسوائی بھی ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ عذاب میں شدت دوسرے لوگوں سے کہیں زیادہ ہو اور یہ دونوں صورتیں ایک ساتھ بھی ممکن ہیں۔ جہاں تک عذاب کی شدت کا تعلق ہے حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کی ہر وادی کا عذاب شدت کے اعتبار سے دوسری وادی سے مختلف ہے۔ اسی طرح بظاہر تو اس میں آگ بھڑکتی ہے لیکن جہنم کی آگ اپنی تپش اور حدت میں یکساں نہیں۔ جہنم میں ایسی وادیاں بھی ہیں جن سے دوسری وادیاں پناہ مانگتی ہیں۔ اور ایسی آگ بھی ہے کہ جس کی ایک لپٹ سمندروں کا پانی بھاپ میں تبدیل کر دے۔ صورت کچھ بھی ہو یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف سے کام لے گا۔ جو کافروں کو عذاب دیا جائے گا وہ یقینا ان کے سرداروں کو دیے جانے والے عذاب سے بہت ہلکا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے۔ اس آیت کے آخر میں سردارانِ کفار کی ایک خاص خصلت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کے مستحق ٹھہرے ہیں کہ انھیں عام کفار کی نسبت کہیں زیادہ سزا دی جائے۔ اس خصلت کو یہاں فساد سے تعبیر فرمایا ہے۔ یوں تو کفر بجائے خود فساد ہے، فساد کی علامت ہے اور فساد کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ ماننا بجائے خود اس کے خلاف بغاوت اور سرکشی ہے لیکن اس کے متوازی کسی اور کے احکام کو منوانا اور لوگوں پر اسے نافذ کرنا یہ اس سے بڑھ کر فساد کی شکل ہے۔ سردارانِ قریش صرف اسی بات پر مصر نہیں ہوتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی دعوت کو نہ مانا جائے بلکہ ان کا اصرار یہ بھی تھا کہ ہم جو اپنی ایک خانہ ساز شریعت بنا چکے ہیں۔ تحلیل و تحریم کا حق وہ اللہ تعالیٰ سے چھین کر دوسری قوتوں کو الاٹ کرچکے ہیں۔ قربانیوں تک میں دوسری قوتیں شریک ہوچکی ہیں۔ یہی وہ فساد کی چنددر چند شکلیں ہیں جس نے انسانیت کی قسمت کو ایک سوالیہ نشان بنادیا تھا۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ ان پر انہی میں سے اٹھائیں گے اور آپ ﷺ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ ﷺ پر کتاب اتاری ہے ہر چیز کو کھول دینے کے لیے اور وہ ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرمانبرداروں کے لیے۔

وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا عَلَیْھِمْ مِّنْ اَنْفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیْدًا عَلٰی ھٰٓؤْلَآئِ ط وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْ ئٍ وَّھُدًے وَّرَحْمَۃً وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 89) (اور یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ ان پر انہی میں سے اٹھائیں گے اور آپ ﷺ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ ﷺ پر کتاب اتاری ہے ہر چیز کو کھول دینے کے لیے اور وہ ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرمانبرداروں کے لیے۔ ) اس آیت میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ اس سے پہلے آیت نمبر 84 میں گزر چکا ہے۔ البتہ فرق دونوں میں یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں ذکردوسری امتوں اور ان کی طرف مبعوث کیے جانے والے رسولوں کا تھا۔ خطاب بظاہر انھیں سے تھا لیکن روئے سخن قریش مکہ کی طرف تھا۔ گویا قریش مکہ کو درحدیثِ دیگراں کے انداز میں بات سمجھائی جارہی تھی۔ اب اس آیت کریمہ میں براہ راست آنحضرت ﷺ سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ جس وقت ہم دوسری امتوں پر گواہی کے لیے رسولوں کو کھڑا کریں گے اسی وقت آپ ﷺ کو ہم اس امت پر گواہ کے طور پر لائیں گے۔ آپ ﷺ براہ راست چونکہ اہل عرب کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اس لیے آپ ﷺ کی گواہی اہل عرب پر ہوگی کہ میں نے ان تک اللہ تعالیٰ کا دین بےکم وکاست پہنچا دیا ہے اور میں نے امانت کا حق ادا کردیا ہے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں، میں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے۔ اس گواہی کے بعد جو لوگ اہل عرب میں سے ایمان نہیں لائے وہ پکڑے جائیں گے اور جو ایمان لا چکے اور دین کا حق ادا کیا وہ اپنے بہتر انجام کو پہنچیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے شادکام ہوں گے۔ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت نہ وقتی ہے نہ محدود۔ یعنی نہ تو آپ ﷺ کسی خاص قوم کی طرف آئے ہیں اور نہ آپ ﷺ ایک وقت کے لیے نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں بلکہ آپ ﷺ کی رسالت تمام نوع انسانی کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کی گواہی اہل عرب تک تو معاملے کو صاف کردے گی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تمام کردے گی لیکن وہ لوگ جو جزیرہ عرب سے باہر رہتے ہیں یا جو اگلی نسلوں میں پیدا ہوں گے ان کے بارے میں گواہی کون دے گا کیونکہ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ رسول آئے گا۔ چناچہ اس ذمہ داری کا بار اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی امت پر ڈالا اور انھیں شہداء علی الناس قرار دیا۔ چناچہ اس پر ہم سورة البقرہ میں جو نوٹ لکھ چکے ہیں اس کا اعادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ امت وسط کا فریضہ منصبی شہادتِ حق لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ” امت محمدیہ کو ایک معتدل اور بہترین امت اس لیے بنایا ہے تاکہ وہ لوگوں پر حق کے گواہ بنیں۔ “ یہ اس امت کا فریضہ منصبی اور اس کے قیام کی ضرورت کا بیان ہے۔ اسی منصب پر بنی اسرائیل کو فائز کیا گیا تھا۔ انھوں نے مسلسل اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہدوپیمان توڑے۔ اس کی شریعت میں تبدیلیاں کیں، اس کی طراط مستقیم گم کردی اور اس کے مقرر کیے ہوئے قبلہ سے منحرف ہوگئے اور جن شہادتوں کے وہ امین بنائے گئے تھے ان شہادتوں کا حق ادا کرنے سے منحرف ہوگئے۔ ایسی صورتحال میں نوع انسانی کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی ضرورت اگر کوئی ہوسکتی تھی تو وہ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی امت برپا کرے جو اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ پر قائم ہو جو خود عدل کی تصویر ہو، اور دنیا میں عدل قائم کرنے کے لیے اٹھے۔ اسی عدل و احسان کو قائم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو دین بھیجا ہے اس دین کی خود بھی عامل بنے اور قیامت تک لوگوں کے سامنے اس دین کی گواہی بھی دے۔ سب سے پہلے اسی گواہی کے منصب پر اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو کھڑا کیا گیا تھا کہ ان کا طریقہ اور عمل امت کے لیے نمونہ بھی ٹھہرے اور سنت بھی بنے۔ آیئے اب دیکھتے ہیں کہ انھوں نے دنیا میں دین کی اس گواہی کا فرض کیسے انجام دیا۔ جب آپ ﷺ دنیا میں نبوت دے کر مبعوث کیے گئے تو پوری دنیا میں ایک شخص بھی اللہ تعالیٰ کو ماننے والا، اس کی اطاعت کرنے والا اور اپنی زندگی کو اس کے احکام کے مطابق گزارنے والا موجود نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے جب لوگوں کے سامنے گواہی کا حق ادا کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی حاکم حقیقی اس کائنات اور تم سب کا اصل مالک اور آقا ہے۔ تم اسی کا رزق کھاتے ہو، اسی نے تمہیں زندگی دی ہے، وہی تمہیں زندگی کی تمام نعمتیں عطا کرتا ہے، اسی نے تمہیں عقل و شعور سے بہرہ ور کیا ہے لیکن یہ عقل و شعور سے بہرہ ور زندگی اور یہ نعمتوں سے گراں بار زندگی اس لیے تو نہیں دی کہ ایک دن وجود میں آئے اور پھر خود رو پودے کی طرح مل دل کر ختم ہوجائے۔ اس نے ہر دور میں زندگی گزارنے کے لیے رہنما کتابیں بھیجیں، معلم اور مربی بنا کر رسولوں کو مبعوث کیا تاکہ وہ تمہیں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھائیں اور یہ بتائیں کہ تمہارا آقا کن باتوں سے راضی ہوتا ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ میں بھی اسی لیے بھیجا گیا ہوں اور مجھ پر ایک کتاب اتاری گئی ہے اور میں اپنی سچائی اور کتاب کے برحق ہونے کی گواہی دیتا ہوں۔ میری زندگی کا ایک ایک لمحہ، میری دل آویز شخصیت، میری بےداغ سیرت و کردار، دیانت اور امانت سے بھرپور میرے معاملات اور مکارمِ اخلاق سے روشن میرے طوراطوار تمہارے سامنے ہیں، میری زندگی کا ایک ایک لمحہ تمہارے سامنے گزرا ہے۔ ان میں کہیں بھی جھوٹ اور شک کا شائبہ نہیں، یہ وہ سچی گواہی ہے جو میں تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں۔ ہم سب کی زندگی کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ ہمارا کوئی عمل بھی ہمارے خالق ومالک کے علم سے باہر نہیں۔ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ ہم سب کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ہمارے اعمال کا حساب لے گا۔ سوچ لو اس وقت تمہارا جواب کیا ہوگا۔ میں نہایت ہمدردی اور خیرخواہی سے تمہارے سامنے وہ نسخہء شفا پیش کررہا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتارا ہے اور جس پر عمل کرکے تم اپنی زندگی اور آخرت کو سنوار سکتے ہو۔ لیکن اس کے جواب میں قوم نے وہی کیا جو ہر قوم اپنے پیغمبروں سے کرتی آئی ہے۔ زندگی کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو آپ ﷺ کو نہ پہنچایا گیا ہو۔ نماز پڑھتے ہوئے آپ ﷺ کے سر پر اونٹ کی اوجھ ڈالی گئی جسے حضرت فاطمہ ( رض) نے کسی کی مدد سے بڑی مشکل سے آپ ﷺ کے سر سے اتارا اور آپ ﷺ سر اٹھانے کے قابل ہوسکے۔ آپ ﷺ کے گلے میں پٹکا ڈال کر آپ ﷺ کی جان لینے کی کوشش کی گئی۔ آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپ ﷺ کے سر مبارک پر راکھ ڈالی گئی، لیکن آپ ﷺ نے ہر تکلیف اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچایا۔ وہ گالیاں دیتے رہے، آپ ﷺ دعائیں دیتے رہیں۔ انھوں نے آپ ﷺ کے لیے زندگی دشوارتر کردی، آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے رحمتیں مانگتے رہے۔ مکہ نے جب بری طرح آپ ﷺ کی طرف سے اپنے دل و دماغ بند کرلیے تو آپ ﷺ نے طائف کا رخ کیا۔ لیکن طائف کے اوباشوں نے آپ ﷺ کی دعوت کے جواب میں ظلم و بربریت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ طائف کا کوئی پتھر ایسا نہیں جس نے آپ ﷺ کے جسم مبارک کے کسی نہ کسی حصے کو زخمی نہ کیا ہو۔ آپ ﷺ کا وہ خون جس کا جواب کوثر و تسنیم میں بھی نہیں، آپ ﷺ کے زخموں سے بہتا رہا۔ آپ ﷺ کا وہ جسمِ اطہر جس کا ایک ایک رونگٹا عرش معلی سے بھی افضل ہے، وہ زخموں سے خونچگاں ہوتا رہا۔ آپ ﷺ کی وہ عزت و حرمت جس کے دامن میں فرشتے نماز پڑھنا فخر محسوس کریں ان اوباشوں کی زبانوں سے گھائل ہوتی رہی۔ آپ ﷺ کی وہ شخصیت جس کا جواب پوری کائنات میں نہیں، اسے طائف میں بری طرح ہلکا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھر آخر ایک وقت آیا کہ آپ ﷺ کو وطن بھی چھوڑتا پڑا۔ اللہ تعالیٰ کا گھر جو آپ ﷺ کو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز تھا اس سے بھی جدائی برداشت کرنا پڑی۔ مدینہ کی سرزمین نے آپ ﷺ کی قدم بوسی کی لیکن دشمن نے یہاں بھی چین نہ لینے دیا۔ مسلسل آپ ﷺ کو لڑائیوں میں جانے پر مجبور کیا گیا۔ آپ ﷺ کے عزیزوں کے لاشے اٹھے، آپ ﷺ خود میدانِ جنگ میں زخمی ہوئے، وہ دندانِ مبارک شہید ہوئے، جن سے قرآن پاک کی شعاعیں پھوٹا کرتی تھیں اس دہن سے خون بہا جس کا لعاب بیماروں کی شفا اور کڑوے پانی کو میٹھا کردیتا تھا۔ سالوں تک جاں سپاری اور جاں فروشی کے جاں گسل لمحات سے گزرنے کے بعد وہ معاشرہ وجود میں آیا جو اس کائنات کا حاصل تھا۔ اس انسان نے جنم لیا صدیوں سے زندگی جس کی راہ تک رہی تھی۔ وہ عدالتیں وجود میں آئیں جہاں صرف اللہ تعالیٰ کا قانون فیصلے کرتا تھا۔ وہ بازار اور منڈیاں بنیں جہاں پر کاروبار کرنے والے اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھنے والے تھے۔ وہ گلی کو چے وجود میں آئے جن میں جرم کا کوئی تصور نہیں تھا۔ شہروں کے شہر ایسے لوگوں سے معمور ہوئے جیسے لوگوں کو چشم فلک نے آج تک نہ دیکھا تھا۔ رت بدل گئی، موسم تبدیل ہوگیا، انسانیت کی قسمت سنور گئی۔ انسانی کو ایک ایسی بہار نصیب ہوئی جس میں صرف خدا خوفی، راست بازی، انسان دوستی، علم پروری اور آخرت کی جستجو کے پھول کھلتے تھے۔ 12 لاکھ مربع میل علاقے پر اس انقلاب کی ٹھنڈی چھائوں پھیل گئی اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب ایسے انسانوں کی ایک مضبوط قوم تیار ہوگئی جو حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتی تھی۔ تب آپ ﷺ نے آخری حج میں لوگوں سے پوچھا کہ لوگو ! ہوسکتا ہے اگلے سال تم مجھے نہ دیکھو۔ قیامت کے دن تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا کہ جس شہادتِ حق کے منصب پر مجھے فائز کیا گیا تھا اس منصب کی ذمہ داریوں کو میں نے ادا کیا یا نہیں ؟ کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا دین تم تک پہنچایا ؟ کیا میں نے امانت کا حق ادا کیا ؟ میں نے تمہارے ساتھ خیرخواہی کی ؟ ایک ایک سوال پر لوگ چیخ رہے تھے کہ یارسول اللہ تعالیٰ ! آپ ﷺ نے اپنی ذمہ داری کا پورا حق ادا کردیا۔ آپ ﷺ نے تین دفعہ آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر فرمایا کہ یا اللہ ! تو گواہ رہ تیری مخلوق میرے بارے میں گواہی دے رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ ہمیشہ کی عمر لے کر نہیں آئے تھے۔ 63 سالہ عمر طبعی اور 23 سالہ عمر رسالت گزار کر آپ ﷺ اپنے اللہ تعالیٰ سے جا ملے لیکن ووہ شہادتِ حق جس کی ذمہ داری آپ ﷺ نے ادا کی تھی اسے بعد کی نسلوں کے لیے اس امت کے سپرد کرگئے جسے آپ ﷺ نے تربیت کیا تھا اور آپ ﷺ نے مختلف وقتوں میں یہ بات سمجھائی کہ لوگو ! تم میں سے ہر نسل اس امانت کی ادائیگی کی ذمہ دار ہے۔ کل کو تم سے پوچھا جائے گا کہ جس طرح میں نے یہ حقِ امانت ادا کیا تھا کیا تم نے بھی ایسا ہی کیا ؟ کیا تم نے ویسے ہی دکھ اٹھائے جیسے میں نے اٹھائے تھے ؟ کیا تم نے اسی احساسِ ذمہ داری کا ثبوت دیاجی سے میں نے دیا تھا ؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کے دین کو گھر سے لے کر ایوانِ حکومت تک نافذ اور برپا کرکے یہ ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا دین اب بھی قابل عمل ہے ؟ جس طرح آپ ﷺ نے صحابہ ( رض) کے سپرد یہ ذمہ داری کی اور انھیں بار بار اس کا احساس بھی دلایا۔ اسی طرح قرآن کریم کی یہ آیت قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو یہ احساس دلاتی رہے گی کہ کل کو تم سے اسی ذمہ داری کے حوالے سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی اگلی نسل تک یہ امانت پہنچائی یا نہیں پہنچائی ؟ کیا تم نے یہ ثابت کیا کہ ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہیے ؟ بھروسے کے قابل صرف وہی ذات ہے، سرصرف اسی کے سامنے جھکنا چاہیے، امیدیں صرف اسی سے باندھنی چاہییں، آئین اسی کا واجب الاطاعت ہے۔ وہی ہے جو مطاع مطلق ہے۔ اس کے سوا کسی کی غیرمشروط اطاعت نہیں ہوسکتی۔ اس کے حکم کے مقابلے میں کسی کا حکم نہیں چل سکتا۔ اس کی اطاعت کا وہ طریقہ معتبر ہوگا جو طریقہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے چھوڑا ہے، جسے ہم سنت رسول ﷺ کہتے ہیں۔ قرآن بار بار پوچھتا ہے کہ لوگو ! بتائو جو امانت حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ( رض) چھوڑ گئے، وہ کہاں ہے ؟ وہ ایثار، وہ استقامت، وہ ذات رسالتِ مآب ﷺ سے بےپناہ محبت، جو حضرت ابوبکر صدیق ( رض) ہمارے حوالے کرگئے تھے، ووہ کہاں ہے ؟ حضرت فاروقِ اعظم ( رض) کا وہ عدل کہاں ہے ؟ جو وہ دنیا کو دے کر گئے تھے اور حضرت عثمان غنی ( رض) کی وہ شرم و حیا جو ان کی شناخت بن گئی تھی، کہاں ہے ؟ اور کہاں ہے وہ حضرت علی ( رض) کا فقر، جس پر انھیں فخر تھا اور جس کی انھوں نے وراثت چھوڑی تھی ؟ اسلام کا وہ پورا نظام زندگی جو صحابہ ( رض) کے گھروں سے لے کر ان کے معاشرے کے ایک ایک ادارے اور ان کی ریاست کے ایک ایک شعبے اور ان کی حکومت کے ایک ایک ایوان میں برسراقتدار تھا۔ وہ ہم نے کہاں کھودیا ؟ ہمارے گھروں میں فقر نہیں سرمایہ داری ہے، ہمارے پاس عدل نہیں جانب داری ہے، ہمارے پاس رحم و مرومت نہیں ظلم اور جہالت ہے، ہمارے پاس شرم و حیا نہیں ہر چورا ہے پر ہم نے حوا کی بیٹیوں کو بےحیائی کی تصویر بنا کر اس طرح آویزاں کردیا ہے کہ حیا کا جنازہ نکل گیا ہے۔ ہمارے نصاب تعلیم سے قرآن کریم کی آیات کھرچی جارہی ہیں۔ جہاد جسے اسلام کی چوٹی کہا گیا ہے وہ ایک گالی بن کر رہ گیا ہے۔ حکومت کے ایوانوں سے اللہ تعالیٰ کے دین کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور طاقتور حکمرانوں کا کلمہ پڑھا جارہا ہے لیکن قرآن کریم ہم سے بار بار کہہ رہا ہے کہ سوچو ! کل کو حق شہادت کے حوالہ سے تم سے پوچھا جائے گا، کیا جواب دو گے ؟
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

(بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور اہل قرابت کو دیتے رہنے کا اور روکتا ہے بےحیائی، برائی اور سرکشی سے۔ تو وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ ج یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 90) (بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور اہل قرابت کو دیتے رہنے کا اور روکتا ہے بےحیائی، برائی اور سرکشی سے۔ تو وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ ) سابقہ آیات سے ربط ہم جانتے ہیں کہ سورة النحل مکی سورت ہے اور مکی سورتوں کا اصل موضوع عقائد کی اصلاح ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام مکی سورتوں میں توحید، رسالت اور آخرت پر مختلف اسالیب سے اس طرح زور دیا جاتا ہے کہ وہ دل و دماغ میں اترنے لگتے ہیں اور پھر مشرکین کی جانب سے اعتراضات کیے جاتے ہیں یا سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو ان کا جواب دیا جاتا ہے۔ چناچہ اس سورت میں بھی انہی موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ البتہ گزشتہ رکوع کے آخر میں قریش مکہ کو ایک چونکا دینے والی بات کہی گئی ہے۔ وہ یہ کہ قیامت کے دن جب تمام امتوں کا فیصلہ کیا جارہا ہوگا تو فیصلے کا دارومدار اس بات پر آکر ٹھہرے گا کہ جو رسول ( علیہ السلام) ان امتوں کی طرف بھیجے گئے تھے، انھیں گواہی کے لیے بلایا جائے تاکہ معلوم ہو کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی امتوں تک پہنچایا تھا یا نہیں، پھر اسی گواہی پر امتیں اپنے انجام کو پہنچ جائیں گی۔ چناچہ قریش مکہ سے یہ کہا گیا کہ تمہارے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کو بطور گواہ اٹھایا جائے گا اور آپ ﷺ سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ ﷺ نے تبلیغ و دعوت کا حق ادا کیا۔ ادائے امانت میں کوئی کمی تو نہیں چھوڑی اور اپنی خیرخواہی میں کوئی دقیقہ چھوٹنے تو نہیں پایا۔ چناچہ جب آپ ﷺ پوری طرح گواہی دے چکیں گے تو تب اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم میں بھیجنے کا حکم دے گا۔ سوچ لو، کہ آج جس کی بات تمہیں سننا گوارا نہیں اور جس کے لیے تم نے مکہ کی سرزمین کو ایذارسانی کی بھٹی میں تبدیل کردیا ہے۔ قیامت کے دن اسی پیغمبر کی گواہی پر تمہارے فیصلے کا دارومدار ہے اور مزید یہ بھی فرمایا کہ پیغمبر جو دعوت لے کے آتا ہے اس کی سند اور اس کی تفصیل کے طور پر اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں بھی اتارتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ پر ایک ایسی کتاب اتاری گئی ہے جس میں ہر دینی ضرورت کا بیان اور زندگی کے ہر شعبے میں ہدایت کا سامان اور اس کے نتیجے میں ایمان لانے والوں کے لیے رحمت اور بشارت بنا کے بھیجی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ جب یہ آیت اتری ہے تو قرآن کریم کامل شکل میں نازل ہوچکا تھا کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن کی تکمیل تو 23 سالوں میں ہوئی ہے جس کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کی بھی تکمیل ہوگئی۔ البتہ اس وقت قرآن کریم مکی زندگی کی ضرورتوں کے مطابق نازل ہوچکا تھا اور عقائد کی ایک ایک ضرورت کو پورا کیا جارہا تھا۔ انفرادی اور اجتماعی خیالات میں جہاں جہاں دراڑیں پڑ سکتی ہیں ان کے بارے میں بھی ہدایات دی جارہی تھیں بلکہ میں یہ عرض کروں گا کہ اگرچہ مکی سورتوں میں ہمیں احکام نظر نہیں آتے۔ البتہ جہاں تک مکارمِ اخلاق کا تعلق ہے اس کا نزول تو نزول وحی کے فوراً بعد شروع ہوگیا تھا۔ چناچہ ہجرتِ حبشہ کے موقع پر حضرت جعفر طیار ( رض) نے جو نجاشی کے سامنے تقریر کی ہے اس میں بتایا ہے کہ حضور ﷺ ہمیں مکارمِ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ آپ ﷺ اجتماعی زندگی کا قانون تو انھیں نہیں دے رہے تھے کہ ابھی ریاست قائم نہیں ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ اسلامی معاشرہ بھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ لیکن افرادِ انسانی کے طور اطوار کی درستی کے لیے جس اخلاقی تعلیم کی ضرورت تھی اور دماغوں اور دلوں کے تزکیہ کے لیے جن آداب کی ضرورت تھی وہ یقینا مہیا کیے جارہے تھے۔ قرآن کریم کی اس ترتیب اور اس اسلوب کو اگر سامنے رکھا جائے تو پھر یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا کہ پیش نظر آیت کریمہ میں جن اخلاقی اقدار کا ذکر کیا جارہا ہے اس کا ربط سابقہ آیات سے کیا ہے۔ اور مزید یہ بتلانا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ﷺ آخری دین کی جس دعوت کو تمہارے سامنے پیش کررہا ہے وہ محض چند اصول اور نظریات کا نام نہیں بلکہ وہ ایک ایسی تربیت گاہ ہے جس میں ہر بات واضح کی جاتی ہے کہ ان اصولوں کی بنیاد پر تیار ہونے والا انسان، انسانی معاشرہ اور اسلامی ریاست کو چلانے والے افراد کس مزاج، کن عادات اور کونسی کی خوبیوں کا مرقع ہیں تاکہ اس سے تمہیں اندازہ کرنے میں آسانی ہو کہ انسانوں کے جس معاشرے میں آپ رہ رہے ہیں اور جس میں سوائے نفرتوں کے کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی اس معاشرے میں اور اس معاشرے میں جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے بنیادی اخلاق اس آیت میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان دونوں معاشروں میں آخر کیا فرق ہے ؟ اس آیت کی اہمیت آیتِ کریمہ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے کہ اور تین باتوں سے روکا گیا ہے، لیکن اخلاقی ستاروں کی اس کہکشاں پر جتنا آدمی غور کرتا ہے، حیرت میں ڈوبتا چلا جاتا ہے کہ جن بنیادی اخلاقیات کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام اخلاق کی اساس معلوم ہوتے ہیں اور جن باتوں سے روکا گیا ہے وہ تمام منکرات کی جڑ معلوم ہوتے ہیں۔ اسلام کا تمام تر اخلاقی نظام انھیں اوامرو نواہی سے پھوٹتا ہے۔ اور پھر یہ کہ جس اعجاز اور جامعیت کے ساتھ ان 6 باتوں کو بیان فرمایا گیا ہے وہ بجائے خود حیران کردینے والی بات ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے کے بڑے بڑے کافر جو اپنی فصاحت و بلاغت میں عرب بھر میں سند کی حیثیت رکھتے تھے، جب ان میں سے کسی کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو وہ حیران اور گنگ ہو کر رہ گیا۔ حضرت عکرمہ ( رض) کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ آیت ولید بن مغیرہ کو پڑھ کر سنائی تو اس نے کہا یَااِبْنَ اَخِیْ اَعِدْ ، میرے بھتیجے ایک بار پھر پڑھ کر سنائو۔ آپ ﷺ نے پھر اسے پڑھا، تو وہ کٹر دشمن ہونے کے باوجود کہنے لگا واللہ ان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلاوۃ وان اصلہ لمورق واعلاہ لمثمروماہو بقول بشربخدا یہ تو بڑی شیریں ہے، اس کا ظاہر بڑا رنگین ہے، اس کا تنا پتوں والا ہے اور اس کی شاخیں پھلوں سے لدی ہیں، بخدا یہ کسی بشر کا کلام نہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) نے فرمایا، یہ قرآن کی جامع ترین آیت ہے۔ اس میں ہر وہ اچھی چیز مذکور ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ بری چیز موجود ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔ اب ہم اس آیت میں مذکور اوصاف میں سے ایک ایک وصف کو ذکر کرتے ہیں۔ عدل کا مفہوم 1 سب سے پہلے جس بات کا حکم دیا گیا ہے، وہ ہے عدل۔ اس کا مفہوم سمجھنے میں بعض دفعہ کوتاہی کی جاتی ہے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے، انصاف اور برابری۔ پھر اسی سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ انصاف کا معنی ہوتا ہے، لین دین میں نصف نصف کردینا۔ اس معنی سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہے کہ دو آدمی ہوں یا دو گروہ، ان کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہونی چاہیے حالانکہ ہر عقل رکھنے والا آدمی جانتا ہے کہ حقوق ہمیشہ نصف نصف کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتے۔ اگر اس اصول کو تسلیم کرلیا جائے تو زندگی کے بیشتر شعبے فساد کا شکار ہوجائیں۔ اسی طرح اس سے یہ بات بھی اخذ کی گئی ہے کہ عدل کا معنی ہے مساویانہ تقسیمِ حقوق، حالانکہ یہ بات بھی سراسر فطرت کیخلاف ہے۔ مثلاً والدین اور اساتذہ کے درمیان معاشرتی اور اخلاقی مساوات، اسی طرح اعلیٰ درجے کی خدمات سرانجام دینے والوں اور کم تر درجے کی خدمت ادا کرنیوالوں کے درمیان معاوضوں کی مساوات کو کون مبنی برحق کہہ سکتا ہے۔ اس لیے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ عدل کا مفہوم نہ انصاف ہے اور نہ برابری بلکہ عدل دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو اور دوسرا یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بےلاگ طریقے سے دیا جائے۔ قرآن کریم اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ہر شخص کو اس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کیے جائیں۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے اس حوالے سے ایسی روشن مثالیں چھوڑی ہیں جس پر بجا طور پر مسلمان فخر کرسکتے ہیں۔ اسلامی شریعت نے جس طرح انسانوں میں حقوق کی تقسیم کی ہے اور حقوق میں جو توازن اور تناسب ملحوظ رکھا ہے، جدید دنیا آج تک اس کا صحیح ادراک نہیں کرسکی۔ اور پھر جس بےلاگ طریقے سے اسلامی عدالتیں عام انسانوں کو عدل مہیا کرتی رہی ہیں، وہ بجائے خود مسلمانوں کے لیے بہت بڑا سرمایہ ہے۔ آج کون سا ملک ہے جس میں حکمرانوں کو عموماً عدالتوں میں حاضری سے مستثنیٰ نہ رکھا گیا ہو اور کتنے ملک ہیں جہاں غریب کے دعوے پر کسی امیر یا حکمران کو سمن جاری کیے جاتے ہیں۔ اب تو اندھیر نگری کا عالم یہ ہے کہ بڑی قومیں جو دنیا کو اپنے طریقے سے چلانا چاہتی ہیں انھوں نے اپنے لیے زبردستی کچھ حقوق خاص کرلیے ہیں۔ جس ملک کے وسائلِ دولت پر چاہیں قبضہ کرلیں۔ اگر کوئی قوم مدافعت کے لیے کھڑی ہوجائے تو ان کا خون خاک کا رزق بنادیا جاتا ہے۔ آج مسلمان ہونا سب سے بڑا جرم کہلاتا ہے جبکہ مسلمانوں نے عدل کے ہر راستے میں ایسی ہر تقسیم کو مٹا ڈالا تھا۔ حضرت عمرفاروق ( رض) کی عدالت میں ایک یہودی نے حضرت علی ( رض) کے خلاف کیس کیا۔ حضرت علی ( رض) نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کیا کہ امیرالمومنین ( رض) نے مجھے تو کنیت سے پکارا اور یہودی کا نام لے کر۔ اس سے یقینا یہودی کو یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ اسلام شاید یہودی کو عدالتی معاملے میں مسلمان کے برابر نہیں سمجھتا۔ اگر آپ ( رض) نے مجھے کنیت سے پکارا تھا تو اسے بھی کنیت سے پکارنا چاہیے تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ( رح) نے ترکستان کے گورنر کو حکم دیا کہ تم نے چونکہ اسلامی احکام کے مطابق یہ علاقہ فتح نہیں کیا اور غیرمسلموں کے سامنے باقاعدہ اسلام پیش نہیں کیا گیا، اس لیے جتنا علاقہ فتح ہوچکا ہے وہ سب خالی کردیا جائے۔ چناچہ اس حکم کی تعمیل کی گئی۔ ازسرِنو مسلمانوں نے اس علاقے کے غیرمسلموں کے سامنے اسلام پیش کیا اور یہ صاف صاف کہا کہ اگر تم اسلام قبول کرلیتے ہو تو تم ہمارے بھائی ہو اور یہ ریاست تمہارے پاس رہے گی۔ بصورت دیگر ہم تم پر چڑھائی کریں گے اور پھر جو تلوار فیصلہ کرے گی، اس پر عمل ہوگا۔ اس طرح کے عدل کے واقعات مسلمانوں کے علاوہ دنیا کی تاریخ میں تلاش نہیں کیے جاسکتے۔ احسان کا مفہوم 2 دوسری چیز جس کا حکم دیا گیا ہے، وہ احسان ہے۔ احسان کا معنی ہے، کسی چیز کو بہتر سے بہتر صورت دینا، خوبصورت سے خوبصورت تر بنانا، خوب تر کی تلاش میں ہمیشہ مدارج ہوتے ہیں۔ آخری درجے تک کسی بھی چیز کو پہنچانے کی کوشش کرنا، یہ احسان ہے۔ عدل تو صرف حقوق میں توازن اور تناسب کو کہتے ہیں، لیکن اس سے آگے بڑھ کر حقوق کی ادائیگی میں حسن پیدا کرنا، دوسرے کے جذبات کا زیادہ سے زیادہ لحاظ کرنا، خیرخواہی اور مروت کے جذبات کو حقوق کا لازمی حصہ بنادینا اور معاملات کی دنیا میں فیاضی اور حُسنِ سلوک کو لازمی ٹھہرانا یہ سب احسان کے اجزا ہیں۔ اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں جو آسودگی پیدا کی ہے اس کا اصل حسن احسان سے پیدا کیا ہے اور صحابہ ( رض) نے اس کے لیے نہایت درخشاں مثالیں بھی چھوڑی ہیں۔ مثلاً عبادت کے حوالے سے جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ احسان کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ تو واقعہ ہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ عبادت کی آخری حد ایک انسان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ عبادت کرتا ہوا خدا کو دیکھے اور یا اس بات پر یقین رکھے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ معاملات کی دنیا کا احسان کیا ہے اور معاملات میں حسن کس چیز سے پیدا ہوتا ہے۔ سیدنا حضرت حسن ( رض) کے یہاں مہمان آئے ہوئے تھے اور ان کا غلام دسترخوان پر مہمانوں کے لیے کھانا چن رہا تھا۔ حضرت حسن ( رض) تشریف فرما تھے۔ نہ جانے اس کا پائوں کس طرح الجھا کہ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا گرم شوربے کا پیالہ اچھلا اور حضرت حسن ( رض) کی کمر پر آکر گرا۔ شوربے کی حدت سے یقینا ناقابلِ بیان تکلیف ہوئی ہوگی۔ آپ ( رض) نے نہایت غصے سے اس کی طرف دیکھا، وہ غلام بھی خاندانِ نبوت میں پلا ہوا نوجوان تھا۔ اس نے فوراً ایک آیت کا ایک جملہ پڑھا وَالْکَاظِمِیْنَ الْغِیْظَ کہ جو متقی لوگ ہیں، ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ غصہ پی جایا کرتے ہیں۔ حضرت حسن ( رض) نے فوراً نگاہیں جھکا لیں۔ اس نے دوسراجملہ پڑھا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِاور وہ لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں۔ آپ ( رض) نے فوراً فرمایا کہ جا میں نے تجھے معاف کیا۔ غلام نے دیکھا کہ لوہا گرم ہے بس ایک اور چوٹ لگانے کی ضرورت ہے۔ اس نے آیت کا آخری جملہ پڑھا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَاور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ آپ ( رض) نے فرمایا کہ جا میں نے تجھے آزاد کیا۔ ہزارہا روپے قیمت رکھنے والا غلام ایک لمحے میں آزاد ہوگیا۔ یہ ہے معاملات کی دنیا کا احسان، کہ خطا کرنے والا نوازا جارہا ہے، صرف اس لیے کہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ سے ہمیں ایک اور حیرت انگیز مثال ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے یہودی سے جَو کی ایک مقدار قرض لی اور واپسی کا وقت مقرر ہوگیا۔ یہودی واپسی کے وقت سے بہت پہلے مطالبے کے لیے آپہنچا۔ آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا کہ ابھی تو ادائیگی کا وقت نہیں آیا، لیکن وہ اپنے مطالبے پر اڑا رہا، حتیٰ کہ اس نے بدتمیزی شروع کردی۔ لیکن آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا، سر جھکا کے بیٹھے رہے۔ صحابہ ( رض) بھی دم بخود دیکھ رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں اور ہمارا ازخود بولنا کہیں گستاخی نہ سمجھا جائے۔ وہ ظالم اس سے اور دلیر ہوا اور یہاں تک کہہ گزرا کہ تم جو آل عبدالمطلب ہو، تم تو سدا کے نادہند ہو، تم قرض لینا جانتے ہو لیکن تمہیں واپسی کی فکر نہیں ہوتی۔ اس پر حضرت عمرفاروق ( رض) ضبط نہ کر پائے، آپ ( رض) نے اس یہودی کا گریبان پکڑ لیا اور نہایت برہمی سے اس کو ڈانٹا۔ اب آنحضرت ﷺ نے سر اٹھایا، بجائے یہودی کو کچھ کہنے کے حضرت عمر فاروق ( رض) کو سختی سے کہا کہ اسے چھوڑ دو ۔ تم نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، تمہیں چاہیے تھا کہ اسے بھی سمجھاتے اور مجھے بھی سمجھاتے کہ آپ ﷺ نے اگر قرض لیا تھا تو آپ کو ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے تھی۔ تم نے جو سختی کی ہے اب اس کا تدارک اس طرح ہوسکتا ہے کہ جتنا غلہ ہم نے اس سے قرض لیا ہے، اس کا ایک چوتھائی اسے زائد ادا کرو۔ اصل غلہ قرض کا بدلہ ہوگا اور زائد احسان ہوگا۔ یہودی وہاں سے اٹھا کسی چشمے پر غسل کیا اور واپس آکر کہنے لگا کہ محمد ﷺ مجھے کلمہ پڑھائو، میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ میں کتاب کا عالم ہوں، ہماری کتاب میں نبی ﷺ آخرالزماں کی جو علامتیں لکھی گئی ہیں، وہ سب میں آپ ﷺ میں اب تک دیکھ چکا تھا، صرف ایک علامت باقی تھی کہ نبی ﷺ آخرالزماں کا حلم اور بردباری گستاخیاں کرنے والوں کو شکست دے دے گی۔ آج میں نے یہ علامت بھی دیکھ لی۔ اس لیے مسلمان ہوتا ہوں۔ مثالیں بہت ہیں سمجھنے کے لیے یہ بھی کافی ہیں۔ اس سے اندازہ کرلینا مشکل نہیں رہتا کہ ادائے حقوق کے علاوہ معاشرے کو خوبصورت بنانے اور افرادِ معاشرہ میں محبت اور آشتی کے پھول اگانے کے لیے ضروری ہے کہ عدل کے ساتھ ساتھ احسان پر بھی عمل کیا جائے۔ اہلِ قرابت کو دینے کا حکم 3 اس آیت کریمہ میں تیسری جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ غریب اہل قرابت کی مدد کرنے کا ہے۔ قرآن کریم کا اگر گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک انسانی اصلاح کا دارومدار دو باتوں کی اصلاح پر ہے۔ ایک تو یہ کہ انسان کا تعلق اپنے اللہ تعالیٰ سے درست ہوجائے۔ اس کا سر اس کے آستانے کے سوا کسی اور آستانے پر نہ جھکے۔ وہ اس کی ذات وصفات پر ایسا یقین رکھے کہ اس کا دل صرف اسی کی محبت سے معمور ہو، وہ اسی کے خوف سے لرزے، اسی کا تقویٰ اختیار کرے، اسی پر بھروسہ رکھے اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور اسی کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق زندگی گزارے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ انسان کا انسان سے تعلق درست ہو۔ وہ دوسرے انسان کے بارے میں اسی ہمدردی اور فکرمندی کے ساتھ سوچے جیسے اپنی ذات کے بارے میں سوچتا ہے۔ انسانی رشتوں کی عظمت کا لحاظ کرے اور قدرت نے مختلف ذمہ داریوں کے حوالے سے انسانوں میں جو واحدے (یونٹ) قائم کیے ہیں ان کی پاسداری کرے۔ انسانوں میں سب سے پہلا واحدہ آدمی کا اپنا گھر ہے جس میں اس کے بیوی بچے اور اس کے والدین ہیں یہ حقیقی اور مکمل طور پر اس واحدے کے تمام افراد کی ضرورتوں کا ذمہ دار ہے۔ اس کے بعد دوسرا واحدہ اہل قرابت کا ہے۔ ان میں مختلف درجات ہیں جو شخص قرابت کے اعتبار سے قریب ہے وہ ذمہ داری کے اعتبار سے بھی قریب ہے۔ اور جو قرابت کے اعتبار سے دور ہے، وہ ذمہ داری کے اعتبار سے بھی دور ہے۔ ماں باپ اور بیوی بچوں کے بعد سب سے پہلا تعلق اہل قرابت کا ہے، اس لیے انھیں دوسرے واحدے کا درجہ دیا گیا ہے اور ان کی ذمہ داریوں کو پہلے واحدے کے بعد سب سے اہم تر قرار دے کر یہاں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اہل قرابت کے تعلق ہی کو صلہ رحمی کہتے ہیں اور اس کی تاکید جس طرح قرآن و سنت میں کی گئی ہے وہ قرآن و سنت کے ہر طالب علم پر پوری طرح عیاں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہاں تک فرمایا لایدخل الجنۃ قاطع ” قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ “ اور مزید یہ بات کہ اہل قرابت کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے صرف نصیحت پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ یہ تاکید فرمائی کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے۔ ہر خوشحال آدمی اس بات کا پابند ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں میں برابر نظر رکھے کہ ان میں کوئی شخص بنیادی ضروریات سے تہی دامن تو نہیں۔ اس کے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسندیدہ ہے کہ خوشحال افراد تو عیش و عشرت کی زندگی گزاریں اور غریب اہل قرابت نان شبینہ کے بھی محتاج ہوں۔ قرابت داری چونکہ ایک واحدہ ہے، اس لیے اس واحدے کی ہر کڑی دوسری کڑیوں سے پیوست رہنی چاہیے اور کہیں بھی شکست و ریخت کا عمل سب کے لیے فکرمندی کا باعث ہونا چاہیے۔ اسلامی احکام کی روح کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ خاندان کے غریب افراد کو سنبھالا دینا، خاندان کے خوشحال افراد کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی حکومت اس بات کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی ہے کہ وہ مسلمان معاشرے کے عناصرِ ترکیبی پر نظر رکھے اور ہر عنصر کو اپنے حقوق ادا کرنے کا پابند بنائے۔ اسلام میں جس طرح میراث میں صرف بیوی بچوں اور والدین ہی کو شامل نہیں کیا بلکہ ذوی الارحام کو بھی شامل فرمایا ہے۔ اسی طرح ذوی الارحام کی ذمہ داریاں بھی ان پر ڈالی ہیں۔ خلفائے راشدین نے آنحضرت ﷺ کے ایسے ہی ارشادات سے ان ذمہ داریوں کو سمجھا اور اس کے مطابق فیصلے فرمائے۔ حضرت عمرفاروق ( رض) نے ایک یتیم بچے کے چچازاد بھائیوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی پرورش کے ذمہ دار بنیں۔ اور ایک دوسرے یتیم کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے آپ ( رض) نے فرمایا کہ اگر اس کا کوئی بعید ترین رشتہ دار بھی موجود ہوتا تو میں اس پر اس کی پرورش لازم کردیتا۔ غور فرمائیے، جس معاشرے میں عدل کی کارفرمائی ہو اور کسی حق تلفی اور حق شکنی کو برداشت نہ کیا جاتاہو بلکہ معاشرے کا ہر فرد آگے بڑھ کر اس طرح دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی فکر میں ہو کہ جس سے ایثار کی روح جھلکتی دکھائی دیتی ہو، اور احسان کا جذبہ مہکتا ہو اور تمام افرادِ معاشرہ اپنے اہل قرابت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوں اور ہر غم اور خوشی میں چھوٹے بڑے برابر ایک ہی جذبہ سے شریک ہوتے ہوں تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ اس معاشرے میں محبت اور آشتی کے کیسے پھول کھلتے ہوں گے۔ اور کس قدر خوشحالی، آسودگی اور اطمینان کی گھٹا ان کے سروں پر سایہ کناں رہتی ہوگی۔ فحشآئکا مفہوم اوپر کی تین بھلائیوں کے مقابلے میں تین بُرائیوں سے روکا گیا ہے۔ یعنی تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے، جس سے اسلامی معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔ اور تین باتوں سے روکا گیا ہے، جن سے رکنے میں اسلامی معاشرے کے لیے عافیت کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ ان تین میں سے پہلی بُرائی فحشآء ہے۔ کل قبیح من قول و فعلہر وہ کام اور ہر وہ بات جو قبیح ہو اسے فحشآئکہتے ہیں۔ اس کا اطلاق تمام بےہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ ہر وہ بُرائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو اسے فحش یا فحشآئکہتے ہیں۔ مثلاً بخل، زنا، برہنگی، عریانی، عمل قوم لوط، محرمات سے نکاح کرنا، چوری، شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا اور بدکلامی کرنا وغیرہ۔ اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور بُرائیوں کا پھیلانا بھی فحش ہے۔ مثلاً جھوٹا پروپیگنڈا، تہمت تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم اور عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کر منظرعام پر آنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا اور سٹیج پر عورتوں کا ناچنا اور تھرکنا اور نازوانداز کی نمائش کرنا وغیرہ۔ (تفہیم القرآن) قومیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو ان کے زوال کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ بےحیائی کے کاموں پر اس قدر دلیر ہوجاتے ہیں کہ انھیں نہ اللہ تعالیٰ کا خوف رہتا ہے اور نہ بندوں سے حیا رہتی ہے بلکہ وہ اپنی بےحیائی پر اتراتے اور اسے اپنی ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔ حضرت علی ( رض) کا مشہور قول ہے کہ ہماری عید اس دن ہوتی ہے جس دن ہم گناہ کے ہر تصور سے محفوظ ر ہیں، لیکن ان لوگوں کے لیے وہ گھڑی، وہ وقت، وہ دن اور وہ رات انتہائی اذیت ناک ہوتی ہے جب ان کے سفلی جذبات کی تسکین کا سامان نہیں ہوتا۔ اور بیشتر لوگ وہ ہوتے ہیں جنھیں حیا اور بےحیائی اور نیکی اور بُرائی کی علامت بھول جاتی ہے۔ اور ان کے اندر سے یہ احساس مرجاتا ہے کہ ان دونوں میں کوئی فرق ہے بھی یا نہیں۔ وہ گناہ کو صواب اور صواب کو گناہ سمجھتے ہیں۔ انھیں اچھائی سے خوشی نہیں ہوتی اور بُرائی سے افسوس نہیں ہوتا۔ ان کے اندر ایک نیا معدہ اور نیا دل وجود میں آتا ہے جس سے ان کی ساری زندگی متأثر ہوتی ہے۔ آج جب ہم اپنی اجتماعی اور ملکی زندگی کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم زوال کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کل تک جو چیز گناہ تھی اور شریف گھرانوں میں جس کا تصور بھی داخل نہیں ہوسکتا تھا، آج وہ ہر گھر کی زینت بن چکا ہے۔ بےحیائی ہماری خواب گاہوں تک پہنچ گئی ہے۔ مردوزن کا اختلاط اب بُرائی نہیں فیشن بن گیا ہے۔ والی اللہ المشتکیٰ ۔ منکر کا مفہوم دوسری چیز جس سے منع کیا گیا ہے وہ منکر ہے۔ منکر کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ معروف کا ضد ہے۔ معروف ان تمام اچھی باتوں کو کہتے ہیں جس کا ہر اچھی سوسائٹی میں چلن ہو۔ اور عقل سلیم جس کے صحیح ہونے پر ناطق ہو۔ وہ مزاج جو شریعت کے سانچے میں ڈھلا ہو وہ اسے قبول کرنے سے انکار نہ کرے۔ اس کے مقابلے میں منکر وہ ہوگا جو کسی اچھی سوسائٹی کا چلن نہ بن سکے، جسے عقل سلیم قبول کرنے سے انکار کرے۔ اور شریعت کے سانچے میں ڈھلا ہوا مزاج اس سے کراہت محسوس کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ منکر وہ ہے جسے تمام سابقہ شریعتوں نے ناپسند کیا اور یا ماانکرہ الشرع بالنہی عنہ جس چیز کو شریعت اسلامی نے ناپسند بھی کیا ہو اور اس سے روکا بھی ہو۔ اس میں وہ تمام مکروہ چیزیں آجاتی ہیں جن سے آنحضرت ﷺ نے روکا یا آپ ﷺ نے انھیں ناپسند فرمایا۔ چاہے آپ ﷺ کی ناپسندیدگی نص صریح سے ثابت ہو یا دلالت و اقتضا سے۔ بغی کا مفہوم تیسری چیز جس سے روکا گیا ہے، وہ ہے بغی۔ جس کے معنی سرکشی، تعدی، اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی طاقت اور اپنے زور واثر سے ناجائز فائدہ اٹھا کر دوسروں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کا تعلق حقوق العباد سے ہوگا۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی حدود کو نہیں پہچانتا اور اپنی بندگی کی حد کو پھلانگتا ہوا الوہیت کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور شرعی احکام کی پابندی کی بجائے اپنے احکام چلانے کی کوشش کرتا ہے یا ہَوائے نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ یہ تمام سرکشی کی صورتیں ہیں جس سے بندگی کا تصور پامال ہوجاتا ہے۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

(اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو، جب تم نے اس سے عہد کرلیا اور اپنی قسمیں نہ توڑو، انھیں پختہ کرنے کے بعد حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰہَدْتُّمْ وَلاَ تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَتَوْکِیْدِھَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلاً ط اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 91) (اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو، جب تم نے اس سے عہد کرلیا اور اپنی قسمیں نہ توڑو، انھیں پختہ کرنے کے بعد حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ ) ایفائے عہد پر زور گزشتہ آیت کریمہ میں کچھ اوامرونواہی دیے گئے ہیں جن کی اصل روح مکارمِ اخلاق اور اخلاقی قدروں کی ہے۔ چناچہ اب اسی سلسلے کی ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جس پر صرف اخلاقی قدروں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی کی فلاح کا دارومدار ہے اور وہ ہے عہد کی پابندی۔ حکم دیا جارہا ہے کہ جب ایک شخص اسلام قبول کرتا ہے تو وہ کلمے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے کچھ عہد کرتا ہے جسے مختصر لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ میں عہد کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اِلٰہ نہیں بنائوں گا، کسی کو معبود نہیں سجھوں گا، کسی کو حاکم حقیقی نہیں جانوں گا، کسی کے سامنے سر نہیں جھکائوں گا، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا خوف دل میں نہیں آنے دوں گا، حقیقی محبت اسی سے کروں گا اور نفرت بھی ہر اس شخص سے کروں گا جو اللہ تعالیٰ کا دشمن ہوگا اور میں یہ عہد بھی کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ہدایت کا ذریعہ محمد ﷺ کو جانوں گا، انھیں کو اپنا آئیڈیل بنائوں گا، انھیں کی زندگی کو اپنارہنما سمجھوں گا، انھیں کا اسوہ حسنہ میرے لیے قانون ہوگا۔ اس عہد کے بعد ایک مسلمان کی زندگی یکسر دوسروں سے مختلف ہوجاتی ہے۔ وہ ایک خاص قانون کا پابند اور ایک خاص راستے کا مسافر بن جاتا ہے۔ اس کے اہداف بدل جاتے ہیں، اس کی منزل متعین ہوجاتی ہے۔ اس میں ذراسی کمزوری اسلامی رشتے کی شکست و ریخت کا سبب بنتی ہے اور دنیا و آخرت کا تصور بگڑ جاتا ہے۔ ایک شخص معاملات کی دنیا میں بہت دفعہ دوسروں سے معاہدے کرتا ہے اور ان معاہدوں کی توثیق کے لیے باہمی قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں اور اسے مزید مؤکد بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو گواہ بھی بنایا جاتا ہے۔ یہ ساری کاوشیں عہد کو پختہ کرنے کے لیے ہوتی ہیں کیونکہ اگر ایفائے عہد کا جذبہ مرجائے اور معاہدوں کا احترام باقی نہ رہے تو زندگی کے بیشتر معاملات ابتر ہو کے رہ جائیں۔ اس لیے یہاں بھی حکم دیا گیا ہے کہ جب آپس کے معاہدات کرو تو انھیں توڑنے کی غلطی نہ کرنا۔ ایک تو وعدہ شکنی اور معاہدہ شکنی بجائے خود جرم ہے اور مزید اس پر قسموں کو توڑنا اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اس کی مخالفت کرنا بہت بڑی جسارت ہے۔ ایسا کرنے کی کبھی کوشش نہ کرنا اور اگر ایسا کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے واقف ہے۔ وہ ایک ایک عمل کو جانتا ہے اور اس کے مطابق سلوک کرے گا۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

(اس عورت کی طرح نہ ہوجائو جس نے توڑ ڈالا اپنے سوت کو مضبوط کاتنے کے بعد اور تارتار کر ڈالا، تم اپنی قسموں کو ایک دوسرے کو فریب دینے کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ اس طرح ہوجائے ایک گروہ زیادہ فائدہ اٹھانے والا دوسرے گروہ سے، اللہ تعالیٰ تمہیں ان قسموں کے ذریعے آزماتا ہے اور وہ قیامت کے دن تم پر واضح کردے گا ان باتوں کو جن میں تم اختلافات کیا کرتے تھے۔

وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ م بَعْدِقُوَّۃٍ اَنْکَاثًا ط تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلاً م بَیْنَکُمْ اَنْ تَکُوْنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ ط اِنَّمَا یَبْلُوْکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ط وَلَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 92) (اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے توڑ ڈالا اپنے سوت کو مضبوط کاتنے کے بعد اور تارتار کر ڈالا، تم اپنی قسموں کو ایک دوسرے کو فریب دینے کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ اس طرح ہوجائے ایک گروہ زیادہ فائدہ اٹھانے والا دوسرے گروہ سے، اللہ تعالیٰ تمہیں ان قسموں کے ذریعے آزماتا ہے اور وہ قیامت کے دن تم پر واضح کردے گا ان باتوں کو جن میں تم اختلافات کیا کرتے تھے۔ ) قریش کے معاہدوں کی ایک بری مثال اس آیت کریمہ میں خطاب تو مسلمانوں سے ہے لیکن اشارہ مشرکینِ عرب کے سیاسی چلن کی طرف ہے جسے وہ اپنے تئیں بڑی دور اندیشی اور سیاسی دانش کا مظہر سمجھتے تھے۔ مشرکینِ مکہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے قبائل کی ضرورتوں کے تحت قبائل سے معاہدات کرتے رہتے تھے اور یہ معاہدے دراصل ان کے آپس کی قوت کا مظہر ہوتے تھے۔ ایک چھوٹا قبیلہ اگر کسی بڑے قبیلے سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا تو وہ اسے بہت بڑی کامیابی سمجھتا کیونکہ اب کسی دوسرے قبیلے کے لیے اس قبیلے پر حملہ کرنا آسان نہ تھا۔ باہمی معاہدہ کرنے والے قبیلے چونکہ ایک دوسرے کی قوت کا ذریعہ تھے، اس لیے ہر قبیلے کی خواہش ہوتی کہ میں کسی کمزور قبیلے سے معاہدہ کرنے کی بجائے کسی طاقتور قبیلے سے معاہدہ کروں۔ چناچہ جب کبھی ایسا کوئی موقع پیدا ہوتا تو وہ فوراً اس موقعہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے۔ چاہے یہ نیا قبیلہ پہلے حلیف قبیلے کا دشمن ہی کیوں نہ ہو، حالانکہ معمولی عقل اور اخلاق کا آدمی بھی اس بات کو سمجھتا تھا کہ تم پہلے ایک قبیلے سے معاہدہ کرچکے ہو اب اس کی اجازت کے بغیر اس کے دشمن قبیلے سے معاہدہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن عرب ایسی باتوں کو ڈپلومیسی سمجھتے تھے جس میں کامیابی ان کے لیے بڑی عزت کی بات تھی اور یہ بالکل وہی سیاست ہے جو آج دنیا کا چلن ہے کہ تمہیں اپنے قومی مفادات اور قومی تحفظات کے لیے چاہے کیسا ہی جھوٹ بولنا پڑے اس کی پروا نہ کرو۔ اس لیے کہ اخلاقی باتوں کا تعلق انسانوں کی انفرادی زندگی سے ہے۔ اجتماعی زندگی میں صرف مفادات پیش نظر رہنے چاہئیں، اخلاقیات کی پروا نہیں ہونی چاہیے۔ چناچہ قرآن کریم مشرکین کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دلا رہا ہے کہ تم نئے نئے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہو اور تم اس سے پہلے اسی دائرے میں زندگی گزار چکے ہو جس میں اخلاقیات کا گزر نہیں۔ لہٰذا اب تمہیں نہایت احتیاط سے زندگی گزارنا ہے۔ معاہدوں کی دنیا میں افراد اور اقوام کی پہچان ایفائے عہد سے ہوتی ہے۔ مفادات کو دیکھ کر کسی ایک قبیلے سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دینا بدترین عہد شکنی ہے۔ جو بندوں سے عہد نہیں نبھاتا وہ اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد بھی پورا نہیں کرسکتا۔ ایسے ہی مواقع امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں کہ معاہدے میں شریک اخلاقی اعتبار سے کس قدر بلند ہیں۔ اس لیے تم اخلاقی اعتبار سے جائزہ لیتے رہنا۔ کہیں تم میں بھی مفادات سے وابستگی اور ایفائے عہد سے بےپروائی پیدا تو نہیں ہورہی۔ اور ان لوگوں کی طرح بننے کی کوشش نہ کرنا جن سے نکلنے کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق بخشی ہے ورنہ تمہارا حال اس بڑھیا کا ہوگا جو دن بھر بڑی محنت سے سوت کا تتی ہے اور شام کو اسے تار تار کرکے پھینک دیتی ہے۔ تو ایسی بےسود محنت خسارے کے سوا اور کیا ہے۔ دنیا میں ہر طرح کے انسان ہیں جنھوں نے مختلف طریقے اختیار کر رکھے ہیں۔ تو اسی میں انسانوں کی آزمائش ہے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش میں سرخرو ہونے کا موقع دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ کرے کہ اس میں کہیں دراڑ پڑے۔