Ayah 16:56وَیَجْعَلُوْنَ لِمَا لاَ یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰـھُمْ ط تَاللّٰہِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 56)
(اور مقرر کرتے ہیں حصہ ان کے لیے جن کو یہ جانتے ہی نہیں ان چیزوں میں سے جو ہم نے ان کو دیں، اللہ تعالیٰ کی قسم تم سے ضرور پوچھا جائے گا اس کے متعلق جو تم بہتان باندھا کرتے تھے۔ )
اللہ تعالیٰ پر افترا
آیتِ کریمہ میں لاَ یَعْلَمُوْنَ کا فعل استعمال ہوا ہے۔ اس کے فاعل دو طرح سے ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کا فاعل بت ہوں تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جن بتوں کو شریک کرتے ہیں ان بتوں کو خبر بھی نہیں کیونکہ وہ زندگی نہیں رکھتے تو کسی چیز کی خبر کیسے رکھ سکتے ہیں۔ یہ اپنے مال و دولت یا اپنے مویشیوں میں ان بتوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جیسے مسلمانوں کے مال میں اللہ تعالیٰ کے حصے کے طور پر زکوٰۃ فرض کی گئی ہے، لیکن ان بتوں کو پتھر اور مردہ ہونے کی وجہ سے کچھ خبر نہیں کہ کوئی ہمارا پجاری بھی ہے جو پوجا پاٹ کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی کمائی میں ہمارا حصہ مقرر کرتا ہے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کا فاعل خود مشرک ہو۔ پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ جن دیوی دیوتائوں یا اور قوتوں کو یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک سمجھنے کی وجہ سے اپنی کمائی میں ان کا حصہ مقرر کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ہماری کمائی میں برکت ہوتی ہے اور یہی قربانیاں قیامت کے دن ہماری نجات کا باعث ہوں گی۔ یہ بالکل نہیں جانتے کہ جن کا وہ حصہ مقرر کررہے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ انھوں نے کچھ لوگوں سے سن سنا کر دیوی دیوتائوں کا تصور دل و دماغ میں بٹھا لیا ہے، لیکن کیا ان کا کوئی وجود بھی ہے یا نہیں۔ اور کیا وہ انسانی معاملات میں دخیل بھی ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ اور کیا اس دنیا میں ان کے کچھ اختیارات بھی ہیں یا نہیں۔ اس بارے میں یہ کچھ نہیں جانتے۔ اسی طرح بعض لوگوں نے فرشتوں یا جنات کے بارے میں کچھ تصورات بنا رکھے ہیں۔ لیکن وہ اس بات سے بالکل بیخبر ہیں کہ جنات کی حقیقت کیا ہے۔ اور فرشتے انسانوں کے معاملات میں دخل دے سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن عجیب ستم ظریفی ہے کہ ان کے بارے میں کچھ نہ جاننے کے باوجود نہایت اخلاص کے ساتھ اپنی کمائی میں ان کا حصہ رکھتے ہیں۔ اور ان نعمتوں میں ان کا حصہ رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کر رکھی ہیں۔
شرک انتہائی گری ہوئی حرکت ہے
یوں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بجائے خود ایک بہت گری ہوئی حرکت ہے کیونکہ معمولی عقل کا آدمی بھی جو کچھ بھی قوت مشاہدہ رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی وسعتوں سے بیخبر نہیں ہوسکتا۔ وہ رات دن اسی کا دیا کھاتا ہے اور اسی کی نعمتوں سے متمتع ہوتا ہے۔ اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات کو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے بےبس دیکھتا ہے۔ اور ہر زندہ مخلوق کو وہ اسی کے دسترخوان سے پھلتا پھولتا دیکھتا ہے۔ اور اگر توہمات نے اس کی عقل کو مفلوج نہیں کردیا تو وہ کہیں بھی خدا کی خدائی میں کسی غیر خدا کا کوئی مقام نہیں پاتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کے باوجود بھی شرک کرتا ہے تو وہ یقینا ہوش و حواس کی سلامتی اور عقل و خرد کی اصابت سے تہی دامن ہے اور وہ ایک ایسا جرم کررہا ہے جس کی کسی انسان سے توقع نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ان کے جس جرم کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے وہ تو اس سے بھی اپنی سفاہت و شناعت میں کہیں بڑھا ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اگر مفلوج عقل کی حرکت ہے تو ان قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جن کے بارے میں شریک کرنے والا کچھ نہیں جانتا تو اس کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں کہ شریک کرنے والا شریک کی جانے والی قوتوں کے بارے میں بیخبر ہے بلکہ جن کو شریک کیا جارہا ہے وہ شریک کرنے والوں کی حرکتوں سے بھی بیخبر ہیں۔ وہ یا تو باخبر ہونے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور یا صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان دونوں کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ایسی نہیں جو اسباب سے ماورا ہو کر کسی دوسری مخلوق کے کام آسکے۔ اور نہ کسی مخلوق کی یہ حیثیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں عطا کرنے والے کے حصے کے ساتھ ساتھ اس کی اجازت کے بغیر کسی کا حصہ مقرر کر جاسکے۔
سب سے بڑھ کر جرم
مشرکین کے اس جرم کو دیکھ کر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ان کی یہ حرکتیں محض ان کی جہالت اور توہم پرستی کا نتیجہ ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) اور کتابیں بھیج کر چونکہ جہالت کو دور کرنے کا مکلف بنایا ہے اس لیے انھیں جہالت پر اڑے رہنے اور توہمات کا علاج نہ کرنے کی سزا ملے گی۔ لیکن گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان کا جرم اس سے بھی ایک قدم آگے ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح انھوں نے جہالت اور توہم پرستی سے شرک کا راستہ اختیار کیا جو بجائے خود ایک جرم ہے۔ اسی طرح اس سے بڑھ کر انھوں نے یہ حرکت کی کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں جن پر خدا کے سوا کسی اور کا حق نہیں کیونکہ وہی ان کا پیدا کرنے والا اور وہی ان کا مالک ہے۔ انھوں نے دھونس سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اپنی ملکیت جتائی اور پھر اپنی مرضی سے ان نعمتوں میں جس کے چاہے حصے مقرر کیے اور اس میں مزید افترا کرتے ہوئے یہ جسارت کی کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا۔ گویا جرم ایک نہیں بلکہ ردے پر ردہ چڑھتا گیا۔
جرائم کی اس فہرست کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے غضب کو حرکت ہوئی اور نہایت برہمی سے ارشاد فرمایا کہ تم ان جرائم کو معمولی سمجھتے ہو اور جن کے تم دامن گرفتہ ہو ان پر اعتماد کرکے یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ اپنی ذات ذوالجلال کی قسم کھا کے کہتا ہے کہ تم نے جس طرح اللہ تعالیٰ پر افترا باندھا ہے، تم سے اس کے بارے میں ضرور جواب طلب کیا جائے گا۔ اور چونکہ اس کا کوئی جواب ممکن ہی نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس پر سخت ترین سزا دی جائے گی۔
Ayah 16:57وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَہٗ لا وَلَھُمْ مَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 57)
(وہ ٹھہراتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں، وہ ان چیزوں سے پاک ہے اور ان کے لیے تو وہ (بیٹے) ہیں جنھیں وہ پسند کرتے ہیں۔ )
شرک کا دہرا گھناؤنا پن
جو آدمی شرک جیسی گری ہوئی حرکت کرتا ہے وہ مسلسل نیچے گرتا ہی چلا جاتا ہے۔ توحید آدمی کو رفعت آشنا بناتی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑتی ہے اور صرف اسی کے آستانے کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور شرک انسان کو پستی کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ وہ ہر آستانے پر جھکنا سکھاتا ہے اور بالآخر انسانیت سے بھی گرا دیتا ہے۔ یہ بالکل دو انتہائیں ہیں جو انسان کا امتحان بن جاتی ہیں۔” جگر “ نے بالکل ٹھیک کہا :
گھٹے اگر تو بس ایک مشت خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعت کونین میں سما نہ سکے
یہ شرک کی انتہائی گراوٹ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ٹھہراتے اس کے لیے بیٹیاں ثابت کرنے لگتا ہے۔ کہاں کائنات کا خالق ومالک اور کہاں مخلوقات میں سے کوئی اس کا ہمسر اور پھر کہاں رب کائنات سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا اور کہاں احتیاج کی یہ انتہا کہ اسے اولاد کا محتاج بنادیا جائے۔ اور پھر اس کمینگی پر تو جتنی لعنت بھیجی جائے کم ہے کہ جو لوگ اپنے لیے بیٹیوں کو عار سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں ثابت کریں۔ چناچہ مشرکین کی اسی گراوٹ اور گمینگی کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا ان کا حال دیکھو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں اور خود اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں کیونکہ انھیں یہ گوارا نہیں کہ کوئی ان کا داماد بنے اور داماد بن کر گھر آئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے سب کچھ گوارا ہے۔
شرم سے گڑ جا اگر احساس تیرے دل میں ہے
قریش میں خزاعہ اور کنانہ کے قبیلوں کا یہ اعتقاد تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ سبحانہ کہہ کر اس کی تردید کردی گئی۔ اولاد تو انسان کے لیے ایک کمزوری ہے۔ کبھی احتیاج کی صورت میں اور کبھی محبت کی شکل میں، اور اللہ تعالیٰ ایسی ہر کمزوری سے پاک ہے۔ لیکن محولہ بالا قبیلے یہ سمجھتے تھے کہ بیٹیاں چونکہ باپ کی کمزوری ہوتی ہیں اور وہ ضد کرکے جو چاہیں منوا سکتی ہیں۔ اس لیے ہم فرشتوں کی پوجا کرتے ہیں اور ان کے نام کی قربانیاں دیتے ہیں تاکہ اگر کبھی اللہ تعالیٰ ہم سے غضبناک ہو تو بیٹیاں ہمیں اس کے غضب سے بچا لیں۔ قرآن کریم اس کی تردید میں جہاں اللہ تعالیٰ کے بےعیب ہونے کا حوالہ دیتا ہے وہیں قریش کے طرز عمل کو بھی دلیل بناتا ہے۔ اور اگلی آیت کریمہ میں اس طرز عمل کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 16:58–59وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَ کَظِیْمٌ۔ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓئِ مَابُشِّرَبِہٖ ط اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ط اَلاَسَآئَ مَایَحْکُمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 58۔ 59)
(اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہتا ہے۔ اور وہ لوگوں سے چھپا پھرتا ہے اس بری خبر کے بارے جو اسے دی گئی ہے، سوچتا ہے کہ اس کو ذلت کے ساتھ رکھ چھوڑے یا اسے مٹی میں گاڑ دے، آہ ! کتنا برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں۔ )
صنفِ نازک سے متعلق بعض قبائل کا رویہ
صنفِ نازک کو مرد کے مقابلے میں پورے جزیرہ عرب میں دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ عرب کے عام قبائل میں صنف نازک کے لیے حقوق کا کوئی تصور نہ تھا لیکن بعض قبیلوں میں تو اس کے وجود سے نفرت کی جاتی تھی۔ خاص طور پر مضر، خزاعہ اور تمیم کے قبائل اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب بچی 6 سال کی ہوجاتی تو باپ جنگل میں جا کر گڑھا کھودتا اور بچی کی ماں کو حکم دیتا کہ اسے غسل کرائو اور خوبصورت جوڑا پہنائو، پھر وہ اسے لے کر جنگل کی طرف چل پڑتا۔ گڑھے کے کنارے پہنچ کر نہایت سنگدلی سے بچی سے کہتا کہ اس گڑھے میں دیکھو۔ وہ جھک کر گڑھے میں دیکھنے کی کوشش کرتی تو وہ اسے دھکا دے کر اس میں گرا دیتا۔ وہ معصوم ابا ابا کہہ کر چلاتی رہتی، لیکن یہ سنگدل باپ ذرا رحم نہ کھاتا اور اس پر منوں مٹی ڈال کر دفن کردیتا۔ اور اس طرح سے اسے تسکین ہوجاتی کہ جس داغ نے میرا چہرہ سیاہ کردیا تھا، میں نے وہ داغ دھو ڈالا۔ اور جب تک بچی زندہ رہتی وہ اسی تصور میں گھٹا گھٹا رہتا کہ کب میں اس لعنت سے جان چھڑائوں اور کب اس عار سے میرا دامن پاک ہوگا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص نے جو اسلام قبول کرنے حاضر ہوا تھا، اپنی بچی کو زندہ درگور کرنے کا واقعہ حضور ﷺ کو سنایا اور کہا میرے کانوں میں ابھی تک یہ الفاظ گونجتے ہیں کہ ابا میں آپ سے کھانے سے کو نہیں مانگوں گی، آپ سے کپڑے طلب نہیں کروں گی، خدا کے لیے مجھے نہ مارو، مجھے اس گڑھے سے نکالیے۔ وہ چیختی رہی اور میں نہایت سنگدلی سے اس پر مٹی ڈالتا رہا، حتیٰ کہ اس کی آواز خاموش ہوگئی۔ آنحضرت ﷺ اس ظالمانہ واقعہ کو سن کر بےاختیار روئے، حتیٰ کہ آپ ﷺ کا دامن آنسوئوں سے بھیگ گیا اور آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے کہ اگر آدمی کے گناہوں سے زمین و آسمان بھی بھر جائیں لیکن اسلام قبول کرنے سے وہ سب معاف ہوجاتے ہیں۔ فرمایا تم ایک نئی زندگی شروع کرو اور پچھلی زندگی کو بھول جاؤ۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور آپ کا پیغام دنیا میں رحمت بن کر آیا اور قرآن کریم کی ایک آیت نے انسانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ لوگو ! کہ جب زندہ درگور کی جانے والی بچی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑی ہوگی تو پروردگار نہایت جلال کے ساتھ اس سے پوچھیں گے کہ تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا تھا۔ اس سوال نے پورے عرب کو ہلا کے رکھ دیا اور پھر نبی کریم ﷺ کی تعلیم نے صنف نازک کے ساتھ ہمدردی اور غمگساری کی وہ ترغیب دی کہ بچیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار پائیں اور ان کا وجود ماں باپ کے لیے جنت کی نوید بن گیا اور انھیں وہ حقوق دیے گئے جس نے انھیں بھائیوں کے برابر لا کھڑا کیا۔
اسلام نے صنف نازک کو لاوارث عورت کے تصور سے اٹھایا اور اسے مردوں کی خواہشاتِ نفس کی بھینٹ چڑھنے اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے شرفِ انسانیت کا سودا کرنے کے تصور سے اٹھا کر چار رشتوں کا تقدس بخشا۔
1 وہ ماں ہے، تو اس کی نافرمانی حرام قرار دی گئی اور اس کے قدموں میں اولاد کے لیے جنت رکھ دی گئی۔
2 وہ بہن ہے تو وہ بھائیوں کی عزت و حرمت کی علامت اور ان کی غیرت کی آزمائش ہے۔
3 وہ بیٹی ہے تو ماں باپ کی شفقت اور محبت کی بھائیوں سے بڑھ کر مستحق اور وراثت میں برابر کی حقدار ہے۔
4 بیوی ہے تو وہ ویسے ہی حقوق رکھتی ہے جیسا شوہر حقوق رکھتا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کے حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! اگر تم نے اپنی بیویوں پر ظلم کیا جنھیں تم نے اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنی امان میں لیا ہے تو میں قیامت کے دن ان کی طرف سے تمہارے خلاف استغاثہ دائر کروں گا۔
Ayah 16:60لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْئِ ج وَلِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (سورۃ النحل : 60)
(ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، بری تمثیل ہے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے اچھی صفتیں ہیں اور وہی سب پر غالب بڑا دانا ہے۔ )
مشرکین کا ایک اور جرم
مثل کا معنی تمثیل بھی ہوتا ہے اور صفت بھی۔ مشرکینِ مکہ بعض دفعہ پروردگار کے لیے تمثیل ایسی پیش کرتے تھے جو خالق کو نہیں مخلوق کو زیب دیتی ہے۔ اور صفات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف وہ منسوب کرتے تھے جو انسانوں کی بھی گری ہوئی صفات ہیں۔ اس آیت میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ان کے کس کس جرم کا ذکر کیا جائے، وہ کسی جرم سے رکتے نہیں ہیں۔ ان کی جسارتوں کا سبب یہ ہے کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر انھیں اس بات پر یقین ہو کہ قیامت آئے گی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی ہوگی اور ہمیں اپنے اعمال کے بارے میں جواب دہی کرنا پڑے گی تو وہ کوئی بات کہنے اور کوئی کام کرنے سے سو دفعہ پہلے سوچیں۔ لیکن انھوں نے چونکہ ایسا ہر اندیشہ دل سے نکال رکھا ہے اس لیے جو جی میں آتا ہے کہہ گزرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیوں کا انتساب اور خود اپنے لیے بیٹیوں کو باعث عار سمجھنا یہ دونوں باتیں بجائے خود کس قدر غلط ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کا انتساب کیا جارہا ہے، خود ان کی اپنی صفات کا عالم یہ ہے کہ اس اندیشے سے کہ بچوں کو کہاں سے کھلائیں پلائیں گے، بیدردی سے گڑھے میں پھینک دینا اور قتل کردینا یہ ان کی وہ صفت ہے جس پر سنگدلی بھی شرماتی ہے۔ حیوانات بھی اس سے گھن کھاتے ہیں کیونکہ وہ بھی اپنے بچوں کو محبت سے پالتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی صفات یہ ہیں کہ وہ نہ اولاد کا محتاج ہے اور نہ وہ کسی پر ظلم کرتا ہے۔ کافر اور مشرک بھی اسی کے دسترخوانِ کرم پر پلتے ہیں۔ وہ سب کو زندگی دیتا اور زندگی کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ اس کا کمال علم، کمالِ قدرت، کمالِ حکمت، غناء مطلق اور ربوبیتِ کاملہ جیسی صفات انسان خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنے تجربات سے یقین رکھتے ہیں لیکن ان ظالموں نے اس کی طرف اگر کوئی چیز منسوب کی ہے تو وہ بھی ایسی اولاد جسے خود بھی پسند نہیں کرتے۔ وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ مَایَکْرَھُوْنَ وَتَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ اَنَّ لَھُمُ الْحُسْنٰی ط (اور وہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ چیزیں قرار دیتے ہیں جن کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے لیے اچھا انجام ہے) ۔
Ayah 16:61وَلَوْیُؤَاخِذُاللّٰہُ النَّاسَ بِظُلْمِھِمْ مَّا تَرَکَ عَلَیْھَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰـکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ لاَ یَسْتَاخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَیَسْتَقْدِمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 61)
(اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی حق تلفی پر فوراً پکڑ لیا کرتا تو زمین پر کسی جاندار کو نہیں چھوڑتا لیکن وہ انھیں ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے اور جب ان کا مقرر وقت آجائے گا تو وہ ایک لمحہ پیچھے ہوسکتے ہیں اور نہ آگے ہوسکتے ہیں۔ )
مطالبہ عذاب کا جواب اور آنحضرت ﷺ کو تسلی
سیاقِ کلام سے یہ بات واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب قریش مکہ کو دیکھا کہ وہ کسی طرح بھی آپ کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہر ممکن طریقے سے اس کا راستہ روک دینا چاہتے ہیں تو انھیں ان کی جسارتوں پر متوجہ کرنے کے لیے انھیں بتایا کہ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول آتا ہے اور قوم اس کی دعوت کو رد کردینے کا فیصلہ کرلیتی ہے تو پھر عموماً ایسی قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔ تم بھی آہستہ آہستہ اسی انجام کی طرف بڑھ رہے ہو۔ میں تمہاری بھلائی کے لیے تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ اپنا طرز عمل بدلو ورنہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا تم پر بھی برس سکتا ہے۔ چناچہ آپ کی اس وارننگ اور خبردار کرنے پر جب چند سال کا عرصہ گزر گیا تو قوم نے آپ کو تنگ کرنے کے لیے بار بار عذاب کا مطالبہ شروع کردیا۔ اور وہ زچ کرنے کے لیے پوچھتے کہ اگر واقعی نافرمانوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا کرتا ہے تو ہماری نافرمانیاں تو واقعی اس قابل ہیں کہ ان پر عذاب آئے، تو وہ عذاب آخر کہاں رک گیا ہے، پہنچ کیوں نہیں پا رہا۔ چناچہ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ کسی فرد یا کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی گرفت یا اس کے عذاب کا ایک قانون ہے۔ عذاب ہمیشہ اس قانون کے مطابق آتا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہر اہم کام کے لیے ایک معین وقت طے کر رکھا ہے جب تک وہ معین وقت نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس فیصلے کے نفاذ میں مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ عذاب مانگنے والے چاہے کتنی جلدی مچائیں، معین اور مقرر وقت آنے سے پہلے وہ عذاب کبھی نہیں آتا۔ اس معین وقت کو قرآن کریم کی زبان میں اجل مسمیٰ کہا گیا ہے۔ یہ اجل مسمیٰ کب آتا ہے اور اس کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ کلی کب چٹکتی ہے، پھول کب کھلتا ہے، دانے سے سوئی کب نکلتی ہے، شگوفہ کب پھوٹتا ہے، ان میں سے ہر ایک کی ایک اجل ہے اس سے پہلے اس کا ظہور نہیں ہوتا۔ اس طرح دانہ کب پکتا ہے، پھل میں کب مٹھاس پیدا ہوتی ہے، چولہے پر دیگچی میں کب ابال آتا ہے، آتش فشاں کب لاوا اگلنے لگتا ہے، ان سب کی ایک اجل ہے، تو دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی اجل مقرر نہ کی ہو۔ اسی طرح قوموں میں اصلاح کا عمل کب شروع ہوتا ہے اور کب برگ و بار لاتا ہے، اس کے لیے بھی کچھ اسباب مقرر ہیں اور ایک اجل معین ہے۔ یہاں بھی یہی فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اس وقت آتا ہے جب قوم کا ایک ایک فرد ہدایت قبول نہ کرنے میں یکسو ہوجاتا ہے اور ان کی قبولیت کے سوتے مردہ ہوجاتے ہیں۔ اگر اس سے پہلے عذاب آئے تو یہ اس قوم پر ظلم ہوگا کیونکہ ان میں وہ چند لوگ بھی شامل ہوں گے جن میں ابھی صلاحیت باقی تھی کہ وہ ایمان قبول کرلیتے لیکن ان کی مہلت عمل مکمل ہونے سے پہلے انھیں پکڑ لیا گیا۔ اہل مکہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اشرافِ مکہ نے اگرچہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا لیکن مکہ کے بعض گھرانوں میں ابھی تک قبولیتِ ایمان کے امکانات باقی تھے۔ چناچہ حالات نے بھی اس بات کی شہادت دی کہ 6 ہجری میں جس طرح حالات نے ابوبصیر ( رض) اور ان کے ساتھیوں کو ساحل سمندر پر پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا اور چند ہی مہینوں میں ان کی تعداد 70 تک پہنچ گئی اور یہ تمام وہ لوگ تھے جو مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے درپردہ مسلمان ہوچکے تھے لیکن ہجرت کے لیے انھیں مناسب موقع نہ مل سکا تھا۔ اگر ان جلد بازوں کی بات مان کر مکہ پر عذاب نازل کردیا جاتا تو ایسے تمام لوگ مارے جاتے جو درپردہ مسلمان ہو کر مکہ معظمہ میں قیام پذیر تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ انسانوں کو پوری طرح سنبھلنے اور فیصلہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔ لیکن وقت مقرر سے پہلے وہ کبھی انھیں سزا نہیں دیتا۔ اور جب وہ وقت آجاتا ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے تو پھر اس کے نفاذ میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔
آیتِ کریمہ میں دو باتیں مزید ارشاد فرمائی گئی ہیں جن کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت جس چیز پر آتی ہے اس کا نام اللہ تعالیٰ نے ظلم رکھا ہے۔ ظلم کہتے ہیں کسی چیز سے وہ کام لینا جس کے لیے وہ بنائی نہیں گئی۔ ہر چیز کو اس کے جائز مصرف سے ہٹا کر غلط مصرف میں صرف کرنا اس کے ساتھ ظلم ہے۔ انسان کے جسم کا اصل مصرف یہ ہے کہ اسے اس کے خالق ومالک کے سامنے جھکایا جائے۔ انسان کی صلاحیتوں اور اس کی قوت ارادہ پر ظلم یہ ہے کہ اسے غیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مجبور کیا جائے۔ ایسے کسی بھی ظلم پر اگر اللہ تعالیٰ گرفت فرمانے لگتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا۔ کیونکہ کوئی جانداز ایسا نہیں جس سے کبھی نہ کبھی کسی کوتاہی کا صدور نہیں ہوتا۔ یہ پروردگار کا اتنا بڑا کرم ہے کہ وہ ہر کوتاہی پر پکڑنے کی بجائے سنبھلنے کا اور اپنی اصلاح کرنے کا موقع دیتا ہے اور ہر کوتاہی پر پکڑنے کی بجائے وہ اس وقت پکڑتا ہے جب کو تاہیاں انحراف کا راستہ اختیار کرکے سرکشی اور بغاوت کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ اور یہی وہ اجل مسمیٰ ہے جس کے بعد مہلت ختم کردی جاتی ہے۔
Ayah 16:62وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ مَایَکْرَھُوْنَ وَتَصِفُ اَلْسِنَتُھُمُ الْکَذِبَ اَنَّ لَھُمُ الْحُسْنٰی ط لاَجَرَمَ اَنَّ لَھُمُ النَّارَ وَاَنَّـھُمْ مُّفْرَطُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 62)
(اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جو خود اپنی لیے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ ان کے لیے اچھا انجام ہے، یقینا ان کے لیے آتش جہنم ہے اور انھیں دوزخ میں پہلے بھیجا جائے گا۔ )
مشرکین کی حماقتیں اور خوش فہمیاں
اس آیت کریمہ میں مشرکین کے چند ایسے اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے ایک ایک اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کرم اور مہربانی ہے کہ انھیں بجائے عذاب کی نذر کرنے کے سنبھلنے کا موقع دیا گیا ہے۔ ان کے اعمال میں سب سے پہلا عمل جس کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اولاً تو اللہ تعالیٰ کو کسی کا شریک بنانا بجائے خود ایسا جرم ہے جو اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور پھر اسی پر بس نہیں، وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرنا دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات کو بھی اپنی طرح محتاج اور فانی سمجھتے ہیں کیونکہ اولاد بجائے خود باپ کی احتیاج اور فنا پر دلیل ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور مبرا ہے۔ اور دوسری جسارت ان کی یہ ہے کہ اولاد میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف مذکر اور مونث میں سے اسے منسوب کرتے ہیں جسے اپنے لیے عار اور شرم کا باعث سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں ثابت کرتے ہیں اور اپنے لیے بیٹے۔ اور تیسرا ان کا کارنامہ یہ ہے کہ اپنی تمام تر بداعمالیوں اور بداندیشیوں کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ دنیا میں ہمیں عزت حاصل ہے، ہمارے گھروں میں دولت کی ریل پیل ہے، ہمارے شب و روز عیش و عشرت میں گزرتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش اور راضی ہے۔ اس نے خوش ہو کر ہمیں دولت دنیا دی ہے، جنت بھی ہمیں ہی عطا کرے گا اور یہ مسلمان جو بیچارے نان شبینہ کے محتاج، چیتھڑوں میں ملبوس اور جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں، یہ دنیا میں ان کے افکار و اعمال کی سزا ہے اور آخرت میں بھی یہ ایسی ہی سزا سے گزریں گے جبکہ ہم یہاں بھی عیش کررہے ہیں اور وہاں بھی عیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انھیں ان خوش فہمیوں سے نکل آنا چاہیے یقینا ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ ہے اور انھیں جہنم میں ایسا پھینکا جائے گا کہ پھر کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی طرف التفات نہیں فرمائے گی۔
مُّفْرَطُوْنَ افرط سے ہے۔ اس کے دو معنی ہوتے ہیں۔
1 کسی کو کسی حالت میں چھوڑ دینا اور پھر پلٹ کر اس کی خبر نہ لینا۔
2 کسی جگہ پہلے پہنچا دینا۔ یہاں دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں کہ انھیں جہنم میں سب سے پہلے بھیجا جائے گا اور پھر پلٹ کر کبھی نہ دیکھا جائے گا کہ وہ کس حال میں ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
Ayah 16:63تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ فَھُوَ وَلِیُّھُمُ الْیَوْمَ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 63)
(اللہ تعالیٰ کی قسم ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف قوموں کی طرف رسول بھیجے تو شیطانوں نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں آراستہ کردیے تو اب وہی ان کا ولی ہے اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو مزید تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے کیونکہ قریش مکہ کی مخالفتوں اور ان کی ہدایت کو قبول نہ کرنے کے رویئے نے آنحضرت ﷺ کو بہت آزردہ کر رکھا تھا، تو آپ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ تاریخ مذہب کا پہلا واقعہ نہیں ہے، ہر دور میں بگڑی ہوئی امتوں نے ہمارے رسولوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ لیکن نتیجہ سب کو معلوم ہے کہ رسولوں کی دعوت غالب آئی اور کفر شکست کھا گیا یا کافر عذاب کا شکار ہوئے تو آپ کی دعوت اور مشن کو بہرحال غالب آنا ہے۔ یہ مشکلات وقتی ہیں، گزر جائیں گی اور اس کے بعد کامیابیوں کا سورج طلوع ہوگا۔
ان کے کفر پر اڑنے کا سبب شیطان کا تزئینِ اعمال ہے
دوسری بات یہ فرمائی جارہی ہے کہ آپ جس طرح انھیں سمجھانے بجھانے کی کوشش فرما رہے ہیں اور جس طرح قرآن کریم ان کی ایک ایک بات کا جواب دے رہا ہے اور ان کے تمام اعتراضات کو دور کیا جارہا ہے اس کے بعد انھیں ہدایت قبول کرنے میں کوئی تأمل نہیں ہونا چاہیے، لیکن قریش مکہ کا رویہ کہیں بھی تبدیل ہوتا نظر نہیں آتا۔ دور دور تک ان کے اندر قبولیت کے آثار نہیں ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کی اپنی دلآویزی آپ کی زبان کی تاثیر قرآن کریم کا اعجاز کیا یہ سب کچھ ان کی ضد اور انکار کے سامنے بےبس ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ جو روگ انھیں لگا ہے وہ کوئی نیا نہیں، ہر قوم اسی روگ میں مبتلا ہو کر برباد ہوتی رہی ہے۔ وہ روگ یہ ہے کہ ہر قوم اپنے اعتقادات میں ہمیشہ جامد ہوتی ہے۔ بالخصوص ایسی قوم جس کے پاس وحی الٰہی کی روشنی نہ پہنچی ہو اور جہالت نے علم پر غلبہ حاصل کر رکھا ہو، انھیں کوئی نئی بات سمجھانا اور ان کے اعتقادات کی اصلاح کرنا ہمیشہ مشکل ترین کام رہا ہے۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا :
آئینِ نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
لیکن مزید اس کے ساتھ مشکل یہ پیش آتی ہے کہ شیطان کا ایک نہایت خطرناک حربہ جو ہمیشہ وہ جامد اور جاہل قسم کے جہلاء پر استعمال کرتا ہے وہی اس نے ان قوموں پر بھی کیا اور قریش مکہ پر بھی کر رہا ہے۔ وہ حربہ اس کا یہ ہے کہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو ان کے اعتقادات نہایت خوبصورت، نہایت قابل قبول اور نہایت مفادات کی پاسبانی کرنے والے بنا کر وہ پیش کرتا ہے اور انھیں یقین دلا دیتا ہے کہ یہی تمہارے اعتقادات ہیں جن سے تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں استحکام بھی ہے اور حسن بھی۔ اگر تم نے انھیں چھوڑ دیا اور پیغمبر کی دعوت کے مطابق نئے خیالات اختیار کرلیے تو تم بےدین ہوجاؤ گے۔ اپنی آبائواجداد کے دین سے بیگانہ ہوجاؤ گے۔ تمہاری قوم میں انتشار پیدا ہوجائے گا۔ چناچہ یہی حربہ وہ پہلے بھی کامیابی سے استعمال کرتا رہا اور اب بھی وہ استعمال کررہا ہے۔ انسان نئی بات قبول کرتے ہوئے اور نئی دلیل اختیار کرتے ہوئے مشکل محسوس کرتا ہے۔ لیکن پرانے جمے ہوئے خیالات اور ان کے حق میں دلائل بڑی آسانی سے قبول کرتا ہے۔ تو سابقہ امتوں نے اسی تزیین اعمال کے فتنے سے ٹھوکر کھائی اور اب یہ قریش مکہ بھی اسی فتنے کی زد میں ہیں اور شیطان سابقہ امتوں کی طرح آج ان کا بھی ولی ہے۔ لیکن آپ اطمینان رکھئے، کامیابی انشاء اللہ تعالیٰ آپ کا مقدر ہے۔ یہ لوگ یہاں بھی ناکام ہوں گے اور قیامت کے دن ان کے لیے عذاب الیم ہے۔
Ayah 16:64وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اَلاَّ لِتُبَیِّنَ لَھُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لا وَھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْن۔ (سورۃ النحل : 64)
(اور ہم نے آپ ﷺ پر کتاب صرف اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ ﷺ ان پر اچھی طرح اس چیز کو واضح کردیں جس میں وہ مختلف ہوگئے اور یہ کتاب سراپا ہدایت و رحمت ہے، ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لائے۔ )
آنحضرت ﷺ کی منصبی ذمہ داری
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی منصبی حیثیت کو دو حوالوں سے واضح کرنا مقصود ہے۔ ایک حیثیت یہ کہ آپ ﷺ یقینا اللہ تعالیٰ کے رسول بن کے آئے ہیں اور آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب اتاری ہے جو کتاب ہدایت ہے۔ اور یہ ایسی کتاب ہے جو زمین و آسمان کے درمیان آخری رابطہ ہے۔ اس کے بعد کوئی کتاب آکر انسانوں کو یہ نہیں بتائے گی کہ اللہ تعالیٰ تم سے کیا چاہتا ہے، وہ کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں پر ناراض ہوجاتا ہے۔ آپ چونکہ اس کتاب کے پیغمبر، رسول، مناد اور مبلغ ہیں تو آپ کا کام صرف یہ ہے کہ آپ یہ کتاب انسانوں تک پہنچا دیں۔ اس کی تعلیم دیں، اسے سمجھا دیں، اس کے مبہمات کو کھولیں، اس کے اجمالات کی وضاحت کریں، اس کی مشکلات کو آسان کریں، اس کی تھیوری کو عملی شکل میں ڈھال دیں، اس کے بعد آپ ﷺ کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ رہی یہی بات کہ لوگ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں، وہ ایمان لاتے ہیں یا انکار کرتے ہیں، آپ کا اس سے کوئی سروکار نہیں، آپ ﷺ سے ہرگز یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ لوگ اس پر ایمان کیوں نہیں لائے، یہ سراسر بندوں کی ذمہ داری ہے۔
آپ ﷺ کی منصبی ذمہ داریوں کے حوالے سے دوسری آپ کی حیثیت یہ واضح کی جارہی ہے کہ قریش مکہ کو اچھی طرح اس بات کا یقین کرلینا چاہیے کہ محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بن کے آئے ہیں ان کی حیثیت صرف یہ نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو کتاب پڑھ کر سنا دیں اور دین کی نصیحت کردیں بلکہ آپ کی یہ حیثیت بھی ہے کہ اس کتاب کے متن کی تعلیم اور اس کے لیے ضروری تشریحات اور اس حوالے سے پیدا ہونے والے اعتراضات کا جواب اور لوگوں کے اختلافی امور کا حل اور اس میں قول فیصل اور صراط مستقیم کا تعین یہ صرف اور صرف آپ کی ذات سے متعلق ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی کتاب اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کی وجہ سے حرف آخر ہے، اسی طرح آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے کی وجہ سے دین کا آخری نمونہ اور اسوہ حسنہ ہے۔ آپ ﷺ کا ہر فیصلہ آخری فیصلہ ہے اور آپ کا ہر قول، قولِ فیصل اور قول محکم ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی کتاب سے انحراف کفر اور گمراہی ہے اسی طرح آپ ﷺ کی ذات سے انحراف بھی گمراہی ہے۔ ہدایت آپ ﷺ کی ذات اور قرآن سے ملے گی، کیونکہ آپ کی ہی ذات سرتاپا ہدایت ہے۔ اس ہدایت کو قبول کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اترتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ہدایت اسی کو ملے گی جو اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب پر ایمان لائے گا اور وہی شخص ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہوگا۔
Ayah 16:65وَاللّٰہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 65)
(اور اللہ تعالیٰ ہی نے آسمان سے پانی اتارا، پس اس سے زمین کو زندہ کیا، اس کے مرجانے ( خشک ہوجانے) کے بعد، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو بات کو سنتے ہیں۔ )
توحید کی دلیل تخالف
آنحضرت ﷺ کی دعوت تین اساسی باتوں پر مشتمل تھی جن کے قبول کرلینے پر ایمان کا دارومدار تھا۔ ان تین باتوں میں پہلی بات ہے توحید، اور دوسری بات آخرت اور تیسری رسالت ہے۔ اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی دعوت کے ان تینوں اساسی اصولوں کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کی صورت میں پانی نازل فرماتا ہے۔ بارش کے نازل ہونے کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ زمین فوری طور پر اس کا اثر قبول کرتی ہے اور جو لمبی قحط سالی کے نتیجے میں بالکل مردہ ہوچکی تھی اس میں تیزی سے زندگی کے آثار ابھرتے ہیں۔ عرب میں چونکہ بارشیں بہت کم ہوتی تھیں اور بعض دفعہ کئی کئی سال تک بارش نہیں ہوتی تھی۔ ہم اس خشک سالی کا صحیح طور سے تصور نہیں کرسکتے، ممکن ہے تھر کے علاقوں میں اس کا تصور پایا جاتا ہو کیونکہ وہاں بھی بعض دفعہ عرصے تک بارشیں اترنے کا نام نہیں لیتیں اور ویرانی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ پانی کے ذخیرے ختم ہوجاتے ہیں اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن اتنی گہری خشک سالی کے بعد جب بارش نازل ہوتی ہے تو حیرت انگیز بات یہ ہوتی ہے کہ وہ زمین جس میں کل تک ریت اڑتی تھی اور ویرانیوں کا پہرہ تھا چند ہی دنوں میں وہ زمین مخملی لباس پہن لیتی ہے اور ہر طرف ہریاول نظر آتی ہے۔ نباتات کی وہ جڑیں جو زمین کی تہوں میں کہیں خشک سو رہی تھیں ان میں زندگی انگڑائی لے کے اٹھتی ہے۔ اس میں سب سے پہلی بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ذرا غور کیجیے کہ زمین اور آسمان میں آپس میں تخالف کی نسبت پانی اور مٹی آپس میں متضاد ہیں۔ اور بھی کتنے عناصر ہیں جو باہمی ایک دوسرے کے متخالف ہیں، لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ یہ سب مل کر وہ فریضہ انجام دے رہے ہیں جس کی انجام دہی پر انھیں لگایا گیا ہے۔ زمین اپنی زرخیزی بروئے کار لانے سے انکار نہیں کرتی، سورج اپنی کرنیں بکھیرنے سے انکار نہیں کرتا، پانی اپنے جو دو کرام میں بخل سے کام نہیں لیتا، ہوا اپنی لوریوں میں کمی نہیں کرتی، سب مل کر انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنا اپنا فرض انجام دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آسمان اور زمین دونوں میں ایک ہی خدائے حکیم و قدیر کا ارادہ کارفرما ہے۔ اگر یہاں مختلف دیوتائوں اور مختلف خدائوں کی حکومت ہوتی اور یہاں مختلف ارادے کارفرما ہوتے تو متخالف اور متضاد عناصر مل کر ایک خیر مطلوب کو کبھی بروئے کار لانے کے لیے مجبور نہ ہوتے۔ ان میں یہ توافق اور مقصد کے شعور میں ہم آہنگی یقینا اس لیے ہے کہ یہ سب ایک ارادے کے تحت کام کررہے ہیں اور ایک ہی خدا ان پر حکمران ہے۔
جنت بعدالموت پر دلیل
دوسری بات یہ ثابت کی جارہی ہے کہ دیکھو مردہ زمین پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا تو اس میں زندگی لہلہانے لگی، خشک اور چٹیل میدان بارش کے چند چھینٹوں سے حیات تازہ سے بہرہ ور ہوگئے، تو جس پروردگار کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ اس کی بارش کے چند چھینٹے مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں تو کیا اس کی قدرت سے یہ بات بعید ہے کہ وہ مردہ مخلوق کو ازسرنو زندہ کرے اور تمام لوگوں کو قیامت کے دن قبروں سے اٹھا کھڑا کرے اور حشر بپا کردے۔
وحیِ الٰہی حیات بخش ہے
تیسری بات جس کی طرح توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کی زندگی کے لیے بارش نازل فرماتا ہے اور اس سے ہر طرف زندگی کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں، اسی طرح جب قومیں زندگی کے شعور سے بےبہرہ ہوجاتی ہیں اور وہ اپنے اللہ تعالیٰ کو بھول کر کفر کی موت قبول کرلیتی ہیں اور ہر طرف دلوں پر موت کے پہرے گہرے ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وحیِ الٰہی کی بارش نازل فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی زبان سے ایک حیات بخش پیغام لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں امکان پیدا ہوجاتا ہے کہ دلوں میں زندگی کے سوتے پھوٹنے لگیں لیکن اس کے لیے ایک شرط رکھی گئی ہے جسے اس آیت کے آخر میں بیان فرمایا گیا ہے۔ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ کہ جس طرح زمین پر زندگی کے آثار پیدا نہیں ہوتے تاوقتیکہ وہ بارش کو اپنے اندر جذب ہونے کا موقع نہ دے، اسی طرح انسانوں میں بھی وحی الٰہی سے وہ زندگی پیدا نہیں ہوتی جب تک لوگ اسے غور سے سننے اور قبول کرنے کی شرط پوری نہ کریں۔ اگر اسے غور سے سنیں گے تو یقینا اس سے اثر قبول کریں گے۔ پھر یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہ فرمائے۔
Ayah 16:66وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْ م بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبْنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلْشّٰرِبِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 66)
(اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں ایک عبرت ہے، ہم ان کے پیٹوں کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو نہایت خوشگوار ہے پینے والوں کے لیے۔ )
ربوبیت کا فیضان دودھ کی صورت میں
آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت انسان چونکہ اللہ تعالیٰ سے برگشتہ ہوچکا تھا، وہ اس کے ایک آستانے کو چھوڑ کر ہر آستانے پر ذلیل ہورہا تھا۔ پروردگار ان نعمتوں کا ذکر فرما کر جو روزانہ انسان کے استعمال میں آتی ہیں اسے سوچنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اس سے پہلے پانی کا ذکر فرمایا کیونکہ پانی انسانی ضرورتوں میں ہوا کے بعد سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے حوالے سے بعض حکمتوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ اب دودھ جیسی نعمت کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جو عرب قوم کی غذا کا ایک لازمی جز تھا اور عرب کی سرزمین پر اس سے بہتر کسی نعمت کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ کھجور اور دودھ ان کے لیے مکمل غذا تھی۔ وہاں کے گرم موسم کی تمازت کے مقابلے اور عرب جیسے وسائلِ رزق کی کمیابی کے شکار ملک کو فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے اس سے بہتر غذا کے بارے میں سوچنا بھی ممکن نہ تھا۔ اور پھر اس آیت کریمہ میں صرف دودھ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ خود چارپایوں کو اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت قرار دیا ہے جن کے اندر قدرت نے عبرت کا سامان رکھا ہے۔ عبرت کا معنی ہے، ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک پہنچ جانا۔ چارپایوں کی افادیت اور تخلیق کے بارے میں آدمی جتنا غور کرتا ہے اتنا ہی عبرت کا دروازہ کھلتا جاتا ہے۔ انھی چارپایوں میں ایک قسم ان جانوروں کی ہے جو سواری کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور دودھ کے لیے بھی۔ جب آدمی پر اسس پر غور کرتا ہے جس کے نتیجے میں دودھ وجود میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت یاد آتی ہے۔ پروردگار نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح تم نباتاتی نعمتوں پر پلتے ہو، اسی طرح دودھ دینے والے جانور بھی چارہ کھا کے پلتے ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان کی صِنفِ اناث میں قدرت نے یہ حیرت انگیز نظام رکھا ہے کہ اس کی غذا ایک طرف گوبر کی شکل اختیار کرتی ہے اور دوسری طرف خون میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ جتنا خون ان کے جسم کی طاقت کے لیے ضروری ہے وہ ان کی شریانوں میں بھیج دیا جاتا ہے اور باقی کو دودھ کی شکل دے کر گوبر اور خون کے درمیان سے انسانی غذا کے لیے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ اگرچہ خون اور گوبر کے درمیان سے گزر کے آتا ہے لیکن اس میں ان دونوں کی کوئی خصوصیت منتقل نہیں ہوتی۔ اس کا رنگ و بو، اس کی خاصیتیں اور اس کے مقاصد بالکل ان دونوں سے جدا ہوتے ہیں اور ایسا خوش ذائقہ کہ ہر پینے والا اس کو اپنے لیے خوشگوار محسوس کرتا ہے۔ یہ مشروب بھی ہے اور غذا بھی۔ اور کھجور کے ساتھ مل کر مکمل اور بہترین غذا وجود میں آتی ہے کہ صحت کے نقطہ نگاہ سے شاید اس سے بہتر کوئی دوسری غذا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ذرا غور کرو کہ اگر دودھ جیسی خوشگوار چیز پیدا کرنے میں مختلف ارادے کارفرما ہوتے اور مختلف دیوتا ہر چیز کے تخلیقی عمل میں شریک ہوتے تو کیا خون اور گوبر کے اندر سے دودھ جیسی صاف اور پاکیزہ نعمت کا نکلنا ممکن تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی الوہیت اور اس کی حاکمیتِ مطلقہ کی کس قدر محکم لیکن سامنے کی مثال ہے۔
Ayah 16:67وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّرِزْقًا حَسَنًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 67)
(اور ہم کھلاتے ہیں کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی، تم ان سے نشہ کی چیزیں بھی بناتے ہو اور کھانے کی خوش ذائقہ اور عمدہ چیزیں بھی، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ سے کام لیتے ہیں۔ )
ربوبیت کے کچھ اور مظاہر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے پانی کو زندگی کا ذریعہ بنایا اور غذا کے لیے دودھ جیسی نعمت عطا فرمائی، اسی طرح ہم نے نباتات میں سے کھجور اور انگور جیسے پھل بخشے۔ یہ دونوں اپنے لطف و لذت اور تاثیر اور افادیت میں اپنی نظیر آپ ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے دو خوبیاں رکھی ہیں جو بجائے خود انسان کا امتحان بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ انسان کے لیے نہایت عمدہ رزق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس کے اندر شراب بن جانے کی صلاحیت بھی موجود ہے جس سے انسان کو اپنی سرمستیوں کا سامان ملتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے برگشتگی کے راستے پر پڑجاتا ہے کیونکہ سکر عربی زبان میں خمر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن رزق حسن سے اس طرف اشارہ کردیا کہ ہم نے یہ نعمتیں تمہیں رزق حسن کے طور پر دی ہیں لیکن ان کے اندر ہم نے خمر بننے کی بھی صلاحیت رکھی ہے۔ اس کا فیصلہ انسانوں کی عقل پر ہے کہ وہ ان نعمتوں سے جسم کی افزائش اور روح کی آسودگی کا کام لیتے ہیں یا ہوش و خرد کے بگاڑ کا سامان کرتے ہیں۔ انسانیت کا راستہ کیا ہے، اس کا فیصلہ خود انسان کو کرنا چاہیے۔
مزید اس کی طرف بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ انسان کی غذائی ضرورت کے لیے شاید پانی اور دودھ کافی ہوتا اور اگر مزید غذا کی ضرورت ہوتی تو نہایت سادہ اور بےرنگ صورت میں غذا مہیا کردی جاتی، لیکن یہ کھجور کے قدآور درخت، اس کی روپہلی شاخیں اور انگوروں کی شاخوں کا گھنا اور ٹھنڈا سایہ اور پھر اس کا کھلتا ہوا حسن بجائے خود انسان کی عقل کو دعوت دینے کے لیے کافی ہے کہ تم ان میں سے ایک ایک بات پر غور کرو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا تصور ذہن میں لائو کہ وہ ایک ایسی خوش جمال، خوش خصال اور خوش نہال ذات ہے کہ جس سے جمال چھن چھن کے نکلتا ہے اور جودوکرم کی بارش ہوتی ہے لیکن کس قدر ستم ظریفی ہے کہ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی شرک کا کاروبار جاری ہے۔
Ayahs 16:68–69وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلیَ النَّحْلِ اَنِ اتَّحِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوْنَ ۔ ثُّمَ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکَ ذُلُلاً ط یَخْرُجُ مِنْ م بُطُوْنِھَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ فِیْہِ شِفَآئٌ لِّلْنَّاسِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 68۔ 69)
(اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تو پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو چھتیں اٹھاتے ہیں، ان میں چھتے بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں سے رس چوس، پھر اپنے پروردگار کے ہموار راستوں پر چل، یوں نکلتا ہے ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کا مشروب، اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے، بیشک اس کے اندر بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔ )
وحی کا مفہوم
آیت کے شروع میں اَوْحٰیکا لفظ آیا ہے جس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکھی کی طرف وحی کی، اس سے ایک کھٹک سی پیدا ہوتی ہے کہ وحی تو انبیا کرام پر اترتی ہے، مکھی کی طرف وحی ہونے کا کیا مطلب۔ تو معلوم ہونا چاہیے کہ وحی کا ایک لغوی معنی ہے اور ایک اصطلاحی۔ لغت میں وحی خفیہ اور لطیف اشارے کو کہتے ہیں، اسی مناسبت سے یہ لفظ القاء اور الہام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کے دل میں بھلائی کی کوئی مناسب بات اچانک ڈال دیتا ہے اور لغت میں اسے وحی کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کی تمام ایجادات، ماہرین زراعت کے تمام فارمولے کسی بھی شعبہ زندگی سے متعلق لوگوں کے ذہن میں اچانک آنے والا خیال فطری رہنمائی کی مختلف شکلیں، یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اچانک دل میں ڈالی جاتی ہیں اور اسے وحی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی بعض مخلوقات کو تکوینی طور پر جو احکام دیتا ہے اسے بھی وحی ہی سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی اسی معنی میں وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ مکھی جس طرح شہد تیار کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی سجھائی ہوئی سوچ ہے جو اس کے دل میں ڈالی گئی ہے۔ وحی جو انبیاء کرام پر اترتی ہے وہ وحی اپنی خصوصیات میں دوسری تمام اقسام سے مختلف ہوتی ہے۔ اس میں وحی کیے جانے والے کو پورا شعور ہوتا ہے کہ یہ وحی خدا کی طرف سے آرہی ہے۔ اسے اس کا من جانب اللہ تعالیٰ ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے، وہ عقائد اور احکام، قوانین اور ہدایت پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور اسے نازل کرنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ نبی اس کے ذریعہ نوع انسانی کی رہنمائی کرے۔
اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور وحدانیت کی دلیل
کائنات کی بڑی بڑی چیزیں اپنے جمال و جلال اور اپنی نفع رسانی کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہیں لیکن عام طور پر چھوٹی چیزوں کو حقیر سمجھ کر لائق التفات خیال نہیں کیا جاتا۔ اور پھر مکھی جیسی چھوٹی سی چیز کے لیے کس کو فرصت ہے کہ اس میں سوچ بچار کرنے بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری حکمت وقدرت کے جلوے صرف پہاڑوں، سمندروں، مویشیوں اور بلندوبالا درختوں میں ہی نظر نہیں آتے بلکہ ایک چھوٹی سی شہد کی مکھی بھی میری حکمتوں کی تجلی گاہ ہے۔ اس کے مختصر سے چھتے میں بھی ہمارے کرشموں کا مینا بازار لگا ہوا ہے۔ ذرا اس چھتہ کو دیکھو کس مہارت سے اس کو مسدس خانوں میں تقسیم کردیا گیا ہے جن کے تمام اضلاع اور سارے زاویئے مساوی ہیں۔ تمہارا کوئی ماہر انجینئر بھی مسطر اور پرکار کے بغیر ایسے مسدس خانے نہ بنا سکے پھر اس کے مختلف حصوں پر نظر ڈالو۔ کہیں تو نوزائیدہ بچوں کی قیام گاہ ہے، کہیں شہد کا ذخیرہ کیا جارہا ہے، کہیں موم تیار ہورہا ہے، کہیں خوراک کا گودام ہے پھر اس حیران کن نظم و نسق کو دیکھو جس کے ماتحت یہ کثیر التعداد مکھیاں یہاں آباد ہیں کسی متمدن ملک کی بہترین تربیت یافتہ فوج بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ان میں ایک مکھی سب کی سردار ہے۔ دوسری مکھیاں اس کی فرمانبردار ہیں اور اس کے حکم بجا لانے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتیں، بعض خوراک لانے کے لیے متعین ہیں، بعض پہریدار ہیں، کیا مجال کہ کوئی اجنبی اندر قدم بھی رکھ سکے جو خوراک لانے پر مقرر ہیں۔ وہ اپنے چھتہ سے دوردراز مقامات پر اڑ کر جاتی ہیں۔ وہاں سے مختلف پھولوں، کلیوں، کونپلوں اور پتوں کا رس دن بھر چوستی رہتی ہیں اور پھر طویل مسافت طے کرکے اپنے چھتہ میں واپس آجاتی ہیں نہ وہ راستہ بھولتی ہیں نہ لیٹ ہوتی ہیں اور نہ اپنے فرض کو انجام دینے میں کسی کاہلی کی روادار ہیں پھر جس حکمت و خوبی سے پھلوں کے چوسے ہوئے اس رس کو شہد بنانے کا عمل تکمیل پاتا ہے۔ وہ تو اتنا حیرت انگیز ہے کہ عقل ونگ رہ جاتی ہے۔ انسان اتنے علمی کمال اور صنعتی ترقی کے باوجود کوئی ایسی مشینری تیار نہیں کرسکا جس کے ذریعہ وہ پھلوں وغیرہ کے رس سے شہدجیسا جوہر کشید کرسکے۔ غور طلب یہ امر ہے کہ اس چھوٹی سی مکھی کو یہ مہارت اور یہ کمال کس نے سکھایا۔ یہ باقاعدگی، نظم و نسق کی پابندی، اپنے فرائض کی ادائیگی، اپنے امیر کی اطاعت، یہ فنی نزاکتیں اور اس پیچیدہ کام کو انجام دینے میں اتنی نفاستیں یہ سب چیزیں اس حیوان کو کس نے تعلیم کیں۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ اے محبوب کائنات ﷺ یہ تیرے رب کی تعلیم ہے۔ اسی نے یہ سارے گر یہ سارے قاعدے اور یہ طریق کار اس مکھی کو سکھایا ہے اور اس کی دی ہوئی سمجھ سے وہ شہد جیسی نعمت بنا کر انسان کی خدمت میں پیش کرتی ہے۔ اس آیت میں وحی سے مراد الہام ہے یعنی وہ سمجھ جو اللہ تعالیٰ حیوانات وغیرہ کو عطا کرتا ہے جس سے وہ اپنے نفع و نقصان کو سمجھ سکتے ہیں اور اپنے طبعی فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرسکتے ہیں۔ (ضیاء القرآن)
شہد سے متعلق بعض غور طلب نکات
شہد کا استعمال تو تمام دنیا میں ہوتا ہے، یہ ایک نہایت لذیذ، خوش رنگ اور خوش ذائقہ مشروب ہے جس سے عرب بھی بتمام و کمال واقف تھے اور وہ پہاڑوں میں مکھیوں سے اپنی نگرانی میں شہد تیار کرواتے تھے۔ اس کے لطف و لذت سے کیونکہ سب واقف ہیں اس لیے قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ البتہ اس کا ایک مخفی جوہر وہ اس کا شفا ہونا ہے اور عام طور پر لوگ اس سے واقف نہیں تھے اس لیے قرآن کریم نے اس کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ آج کی جدید دنیا کا بھی یہ تجربہ ہے کہ شہد بہت سے امراض میں شفا ہے۔ لیکن اس میں مشکل یہ پیش آرہی ہے کہ عرب میں تو یہ شہد مختلف قسم کی بوٹیوں اور پھولوں سے بنایا جاتا تھا۔ مکھیاں ان کا رس چوستی تھیں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیت سے کام لے کر اس کو شہد میں تبدیل کردیتی تھیں۔ لیکن جن ملکوں اور جن علاقوں میں پھول اور بوٹیاں نسبتاً کم ہیں اور کماد کے بڑے بڑے کھیت یا چوقندر کی بہتات ہے وہاں مکھیوں کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ وہ دور دور سے پھلوں اور پھولوں کا رس چوستی پھریں۔ ایسی صورت میں ان کا بنایا ہوا شہد شاید شفا نہ بن سکے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اسے بطور ایک صنعت کے اختیار کریں۔ جدید سائنٹیفک انداز میں مکھیوں کی پرورش کی جائے۔ اپنے اپنے ملک اور علاقوں میں جن دوائیوں کی ضرورت ہو اور وہ جڑی بوٹیاں اپنے ہاں پائی جاتی ہوں انھیں باقاعدہ کاشت کیا جائے اور مکھیوں کو ان کا رس چوسنے کی آسانی مہیا کی جائے۔ چناچہ وہ ان جڑی بوٹیوں اور پھلوں پھولوں سے رس چوس کر جو جوس نکالیں گی اس میں خالص گلوکوز ہوگا اور جو شہد تیار کریں گی وہ بغیر کسی آمیزش کے براہ راست مطلوبہ بیماری پر اثر کرے گی اور یہ ایسی موثر دوا ہوگا کہ دنیا کی کوئی لیبارٹری بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ شہد کا خاصہ یہ ہے کہ وہ خود بھی نہیں سڑتا اور دوسری چیزوں کو بھی اپنے اندر ایک مدت تک محفوظ رکھتا ہے اور اسے اس قابل بنا دیتا ہے کہ دوائیں تیار کرنے میں اس سے مدد لی جائے۔ آج دوائیوں کی حفاظت کے لیے الکحل استعمال کی جاتی ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ صدیوں تک شہد کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے تو آج جبکہ وسائل پہلے سے بہتر موجود ہیں تو ہم شہد سے یہ کام کیوں نہیں لیتے اور ناپاک الکحل کو اپنی دوائیوں میں داخل ہونے کا موقع کیوں دیتے ہیں۔ ہماری میڈیکل یونیورسٹیوں میں ایسے تجربات ہونے چاہییں جس سے ہم شہد سے مطلوبہ کام لینے میں کامیاب ہوسکیں۔