16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsروح القرآن

Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا اور پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں سے بعض ارذل عمر کی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں تاکہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے، بیشک اللہ ہی علم والا اور قدرت والا ہے۔ )

وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰکُمْ قف لا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِلِکَیْ لاَ یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۔ (سورۃ النحل : 70) (اور اللہ تعالیٰ ہی نے تم کو پیدا کیا اور پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں سے بعض ارذل عمر کی طرف لوٹا دیے جاتے ہیں تاکہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے، بیشک اللہ تعالیٰ ہی علم والا اور قدرت والا ہے۔ ) انسان کی ذات اور اس پر ہونے والی تبدیلیوں سے استدلال وہ رب کائنات جس نے انسانوں کی تربیت کے لیے قسم قسم کی نعمتیں پیدا فرمائیں اور انسانوں کو وہ کچھ عطا کیا جو نہ صرف ان کی ضرورت تھا بلکہ خالصتاً اس کی عطا اور اور اس کی رحمت کا ظہور تھا۔ ان میں سے بعض نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعدانسان کو جو سب سے بڑی نعمت دی گئی ہے اس کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں صرف نعمتیں ہی عطا نہیں فرمائیں بلکہ تمہیں زندگی بھی اسی نے بخشی اور تمہیں موت بھی وہی دے گا۔ آج تم جوانی کی سرمستیوں اور لن ترانیوں میں بالکل بھول چکے ہو کہ تمہیں زندگی دینے والا کون ہے اور ایک دن وہی تم سے زندگی چھین بھی لے گا۔ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری یہی حالت رہے گی، یہی جوانیوں کا لا ابالی پن، یہی شریانوں میں دوڑتا ہوا پارہ اور دماغ میں ابلتے ہوئے رنگا رنگ خیالات ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے۔ لیکن تم اپنے گردوپیش کو اگر غور سے دیکھو تو تمہیں نظر آئے گا کہ تم میں سے ایسے کتنے لوگ تھے جو علم کا حوالہ تھے اور جن کا علم و دانش تم سب کے لیے رہنما تھا اور آج وہ اپنی گزری ہوئی عمر کا نوحہ ہیں۔ انھیں کچھ معلوم نہیں کہ کل ہم کیا تھے اور آج کیا ہیں۔ انسانوں میں یہ تبدیلیاں پروردگار کی طرف سے صرف اس لیے آتی ہیں کہ انسان اپنے خالق کو پہچانے، وہ اس بات کو اچھی طرح مستحضر رکھے کہ میں جن نعمتوں پر اتراتا ہوں وہ اسی خالق کائنات کی دین ہیں اور اس کی قدرت کاملہ کا حال یہ ہے کہ وہ جب چاہے ان نعمتوں کو واپس لے سکتا ہے کیونکہ وہ علیم بھی ہے اور قدیر بھی ہے۔ اور میں محتاج بھی ہوں اور بیخبر اور جاہل بھی۔ اس کے باوجود ایسے جہلِ مرکب کا شکار ہوں کہ اپنی زندگی کے حقائق کا بھی ادراک کرنے سے قاصر ہوں۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

(اور اللہ نے تم کو رزق میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے تو جن کو برتری دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو نہیں دیتے کہ وہ اس میں برابر ہوجائیں تو کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔

وَاللّٰہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ج فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِھِمْ عَلٰی مٰا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَہُمْ فِیْہِ سَوَآئٌ ط اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 71) (اور اللہ تعالیٰ نے تم کو رزق میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے تو جن کو برتری دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو نہیں دیتے کہ وہ اس میں برابر ہوجائیں تو کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ ) انسان کے رویے سے استدلال سابقہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی جسم و جان اور عمر اور علم اللہ تعالیٰ ہی کا عطا کردہ ہے۔ اس لیے ہر نعمت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مزید یقین پیدا ہونا چاہیے، اب اس آیت کریمہ میں بتایا جارہا ہے کہ رزق بھی وہی دیتا ہے اور یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ اس نے رزق میں سب انسانوں کو برابر نہیں ٹھہرایا بلکہ کوئی امیر ہے اور کوئی غریب، کوئی حاکم ہے اور کوئی محکوم اور کوئی خدمت لینے والا ہے اور کوئی خدمت دینے والا۔ کیونکہ اگر وہ سب انسانوں کو رزق اور وسائلِ رزق میں برابر کردیتا تو دنیا کا نظام ابتر ہوجاتا۔ یہاں ہر شخص چاہے وہ کتنے ہی عظیم معاشرتی سٹیٹس کا مالک ہو، دوسرے کا محتاج ہے۔ امیر سے امیر آدمی حجام کے پاس اپنی وضع قطع درست کرانے کے لیے جاتا ہے۔ اسی طرح ہماری زندگی کی کتنی ضروریات ہیں کہ ہر شخص اپنے تئیں ان کا کفیل نہیں ہوسکتا۔ لباس کوئی تیار کرتا ہے اور کوئی پہنتا ہے، غلہ کوئی اگاتا ہے اور کوئی دوسرا کھاتا ہے۔ علیٰ ہٰذالقیاس ہر شخص کام لیتا بھی ہے اور کام دیتا بھی ہے۔ اور برابری اور ہر سطح کی مساوات فطرت کے خلاف بھی ہے اور حکمت کے بھی۔ یہ بات شاید اس لیے بھی فرمائی گئی ہے کہ قریش مکہ ہمیشہ اپنے برتر معاشی اور معاشرتی حالات کے حوالے سے مسلمانوں پر طنز کرتے تھے اور اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کا مقرب خیال کرتے تھے۔ بہرحال کہنا یہ ہے کہ رزق بھی اللہ تعالیٰ کی دین اور عطاء ہے اور رزق میں تفاوت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت اور احسان ہے۔ اگر کوئی شخص صرف انھیں نعمتوں کو دیکھتے ہوئے منعمِ حقیقی کو پہچان لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت میں کبھی دشواری پیش نہ آئے اور کبھی اس کی ذات وصفات میں شرک کا ارتکاب نہ کرے۔ لیکن یہ انسان کی کوتاہ فکری ہے کہ وہ ان سیدھی سادی باتوں سے شرک کے غلط ہونے پر یکسو نہیں ہوتا۔ اس لیے اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے رزق اور وسائلِ رزق میں انسانوں کے درمیان بہت تفاوت رکھا ہے۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنھیں اپنے مال و دولت کے وسعتوں کی خبر نہیں۔ اور ایسے بھی ہیں جو نان شبینہ کے محتاج ہیں۔ لیکن کیا آج تک مکہ کی سرزمین پر کوئی ایک واقعہ ایسا پیش آیا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے رئیس نے اپنی تمام دولت اپنے غلاموں، غریب رشتہ داروں اور نوکروں چاکروں کو برابر سطح پر اس لیے تقسیم کردی ہو کہ ہم سب آپس میں برابر ہوجائیں جبکہ ان کی دولت ان کی اپنی پیدا کردہ نہیں، اللہ تعالیٰ کی عطاء اور بخشش ہے۔ اور پھر اس کی پائیداری کی کوئی ضمانت نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آج ایک کے پاس ہو کل دوسرے کے پاس۔ لیکن وہ پروردگار جو خالق کائنات ہے اس کی تمام نعمتیں اس کی ذاتی ملکیت اور اس کی مخلوق ہیں جس پر کسی دوسرے کے حق کا وہم بھی نہیں ہوسکتا۔ تم اپنی دولت پر تو کسی دوسرے کی شرکت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اختیارات میں تمہارا اصرار ہے کہ دوسری ان قوتوں کو شریک کیا جائے جن کو تم شریک کرنا چاہتے ہو۔ تمہارا یہ رویہ بجائے خود اللہ تعالیٰ کے احسانات کا انکار ہے۔ اس لیے آخر میں فرمایا کہ یہ جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت یا احسان کا انکار کرتے ہیں، انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائیں تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں اور پیدا فرمائے تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور تمہیں پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا، کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔

وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً وَّرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ط اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللّٰہِ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 72) (اور اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائیں تمہارے لیے تمہاری جنس سے عورتیں اور پیدا فرمائے تمہارے لیے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے اور تمہیں پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا، کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ) بیوی بچوں کی نعمت بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اللہ تعالیٰ کی مزید مہربانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اس نے تمہیں فضل و کرم سے نوازا، اسی طرح اس نے تمہیں وجود بخشا، لیکن تمہیں تنہائی کی نذر نہیں ہونے دیا بلکہ تمہاری جنس سے تمہیں بیویاں بھی بخشیں۔ بیوی انسان کی رفیقہ حیات ہے، تنہائیوں کی امین ہے، دکھ درد کی ساتھی ہے، شوہر کے لیے بہترین لباس ہے، لیکن یہ سب کچھ اس صورت میں ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے شوہر کی جنس سے پیدا فرمایا۔ اگر وہ کسی اور جنس سے ہوتی تو اس کے احساسات، اس کے میلانات، اس کی خواہشیں، اس کی مسرتیں، اس کی توانائیاں، اس کی خوشی اور غضب کے امکانات سب شوہر سے مختلف ہوتے تو باہمی ہم آہنگی کی بجائے اختلافات کی آگ دونوں کو بھسم کر ڈالتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک جنس سے پیدا فرما کر ہم آہنگی کے امکانات کو مکمل فرمادیا۔ میاں بیوی یقینا ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ باہمی محبت ہو تو ایک دوسرے کے لیے سوچتے ہیں اور ہر دکھ درد میں ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں لیکن دونوں میں ایک دبی ہوئی خواہش انھیں کبھی کبھی پریشان کردیتی ہے، وہ اولاد کی خواہش ہے۔ ان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد کی صورت میں انھیں کھلونے دے جو زندگی کے لطف و لذت میں اضافہ کرے۔ اور گھر کی خاموشیوں کو مسرت کے گیتوں سے ہمکنار رکھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فضل فرمایا کہ اولاد بھی عطاء فرمائی، پھر بعض دفعہ زندگی میں بیٹوں کو اولاد دے کر پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے گھر کا آنگن سجا دیا۔ ان میں سے ایک ایک فرد خوشیوں کی علامت بن کے آتا ہے۔ ہر نیا آنے والا نئی خوشی کی نوید ہوتا ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب گھر کی ضروریات بھی میسر ہوں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ نعمتوں کا رزق بخشا۔ ان تمام نعمتوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں یا اپنے تصور میں لائیں پھر فیصلہ کرو کہ پروردگار کے سوا یہ نعمتیں دینے میں کسی اور کا ہاتھ بھی ہے یا اور کوئی اس قابل ہے کہ وہ ان نعمتوں میں سے کچھ بھی عطا کرسکے۔ جب ان میں سے کوئی بات ممکن نہیں اور عطاء کرنے والی ذات ایک ہی ہے تو پھر کس قدر دکھ کی بات ہے کہ تم باطل پر ایمان لاتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہو یعنی شیطان کی پیروی کرتے ہو اور نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہو۔ (مقاتل) نے باطل سے شیطان مراد لیا ہے اور نعمت اللہ تعالیٰ سے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی مراد لی ہے۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ان معبودوں کی بندگی کرتے ہیں جو انھیں آسمانوں اور زمین سے رزق دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ کچھ کرسکتے ہیں۔

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَمْلِکُ لَھُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَیْئًا وَّلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 73) (اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ان معبودوں کی بندگی کرتے ہیں جو انھیں آسمانوں اور زمین سے رزق دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ کچھ کرسکتے ہیں۔ ) ایمان بالباطل کی تفصیل یہ ایمان بالباطل اور ناشکری کی تفصیل ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ان قوتوں کی پرستش کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے۔ نہ انسانوں کے پیدا کرنے میں انھیں کوئی دخل ہے اور نہ رزق دینے میں۔ نہ آسمان سے کسی چیز کے اتارنے پر قادر ہیں اور نہ زمین سے کسی چیز کے برآمد کرنے پر۔ انسان کے دکھ سکھ میں وہ کسی طرح کی مدد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو ایسے بےصلاحیت اور بےطاقت فرضی معبودوں کو لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس (اے مشرکو ! ) اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ ط اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 74) (پس (اے مشرکو ! ) اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ) صفاتِ الٰہی کے باب میں تمثیل سے احتراز کی ہدایت ضرب المثل کا معنی ہے، ایک حال کو دوسرے حال سے تشبیہ دینا۔ اس آیت کریمہ میں شرک کا ایک بہت بڑا دروازہ بند کیا جارہا ہے۔ انسانوں نے جن راستوں سے شرک کے حوالے سے ٹھوکر کھائی ہے اور توحید کو نقصان پہنچایا ہے، ان میں ایک تشبیہ کا راستہ ہے۔ مثلاً کتنی مشرک قومیں ہیں جنھوں نے دنیوی بادشاہوں پر قیاس کرکے اللہ تعالیٰ کے لیے ان جیسی صفات تجویز کیں اور ان صفات سے اللہ تعالیٰ کو متصف ٹھہرایا۔ دنیوی حکمرانوں پر قیاس کرکے اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان وسیلے قائم کیے کہ جس طرح کوئی بڑے سے بڑا حکمران ساری رعایا کو اپنے طور سے نہیں دیکھتا اور ان کے حالات سے براہ راست واقف نہیں ہوتا، درمیان میں درجہ بدرجہ واسطے ہیں جو بادشاہ تک رعایا کی خبریں پہنچاتے اور رعایا پر بادشاہ کے احکام نافذ کرتے ہیں۔ اسی طرح بندوں اور ان کے خدا کے درمیان بھی کتنے واسطے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت میں شریک ہیں، انھیں بہت سے اختیارات حاصل ہیں۔ اس لیے ہمیں ان سے مانگنا چاہیے، ان کے نام کی قربانیاں دے کر انھیں خوش رکھنا چاہیے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کو ہم سے خوش رکھیں۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا یہ سارا شرک کا کاروبار تشبیہ کے تصور سے چلتا ہے۔ اس لیے یہاں انسانوں کو روک دیا گیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ اس کی نہ کوئی مثال ہے اور نہ شبیہ۔ ساری مخلوقات اس کی غلام ہے۔ بڑی سے بڑی ذات بھی اس کی مخلوق ہے۔ مخلوق کو خالق سے تشبیہ دینا کون سی عقل مندی کی بات ہے اور مزید یہ بات بھی کہ تم نہ خدا کی ذات سے کماحقہ واقف ہو اور نہ اس کی صفات کو جانتے ہو۔ نہ تم یہ جانتے ہو کہ وہ کن کمالات سے متصف ہے۔ اپنی لاعلمی اور بیخبر ی سے جب تم کسی کو اس سے تشبیہ دو گے تو یقینا گمراہی کا راستہ اختیار کرو گے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام مملوک کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اس کی جس کو ہم نے اپنی جانب سے اچھا رزق دے رکھا ہے جس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، (اب تم ہی بتائو) کیا یہ یکساں ہیں، شکر کا سزاوار اللہ ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لاَّیَقْدِرُعَلٰی شَیْ ئٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّارِزْقًا حَسَنًا فَھُوَا یُنْفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَّجَھْرًا ط ھَلْ یَسْتَوٗنَ ط اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَیَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 75) (اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام مملوک کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اس کی جس کو ہم نے اپنی جانب سے اچھا رزق دے رکھا ہے جس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے، (اب تم ہی بتائو) کیا یہ یکساں ہیں، شکر کا سزاوار اللہ تعالیٰ ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ) اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ تمثیل اگر مثال ہی سننا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ خود مثال بیان فرماتا ہے، اس کو سنو۔ ایک شخص ہے جو کسی کا زرخرید غلام ہے۔ وہ کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا، کسی بھوکے کو کھانا نہیں کھلا سکتا، کسی ننگے کو کپڑا نہیں پہنا سکتا، کوئی اس کے سامنے ٹھٹھر کر مرجائے وہ اس کی سردی کا علاج نہیں کرسکتا۔ کسی بیمار کے کام نہیں آسکتا، کیونکہ اس کے مالک نے اس کو کسی قسم کا نہ اختیار دیا ہے اور نہ حق ملکیت دیا ہے کہ وہ اپنی ملک سے کسی کی مدد کرسکے۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا شخص ہے جو آزاد ہے، جسے حق ملکیت حاصل ہے جو آزادانہ تصرف کا حق رکھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو رزق دے رکھا ہے جو صرف اس کی ضرورت کے لیے کافی نہیں بلکہ اس میں سے دونوں ہاتھوں سے محتاجوں اور ضرورتمندوں کی مدد کے لیے لٹاتا ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے بھی غریبوں کی مدد کرتا ہے کیونکہ کوئی اسے روکنے کا حق نہیں رکھتا اور وہ چھپ کر بھی بےکسوں کے کام آتا ہے کیونکہ وہ غریبوں کے ساتھ انتہا درجہ اخلاص رکھتا ہے۔ ان دونوں کی حالت کو غور سے دیکھو اور دونوں کے اعمال کا جائزہ لو، کیا تمہاری نگاہ میں دونوں برابر ہیں۔ تمہارے اندر اگر انصاف کی ذرا بھی رمق ہے تو تم یقینا یہ کہو گے کہ ایک بےاختیار غلام، ایک آزاد لوگوں سے اخلاص رکھنے والے ان داتا کے برابر کیسے ہوسکتا ہے۔ اگر تمہارے انصاف کا یہی فیصلہ ہے تو ہم ایک قدم آگے بڑھ کر تمہارے سامنے ایک اور معاملہ رکھتے ہیں کہ جن دو انسانوں کو تم آپس میں برابر قرار نہیں دے رہے ہو ان میں صرف فرق اختیارات کا ہے جبکہ وہ انسان ہونے اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ اور بہت سی باتوں میں بھی بطور مخلوق کے ان میں یکسانیت پائی جاتی ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ تم مخلوقات میں سے کتنی شخصیتوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہو، اس کے اختیارات میں انھیں شریک سمجھتے ہو جبکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی محتاج ہیں اور اپنی ضرورتیں بھی اللہ تعالیٰ ہی سے پوری کرتے ہیں، لیکن تم بجائے اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے ان سے مانگتے ہو۔ کہاں رب العرش العظیم اور کہاں زمین میں بسنے والی ایک ادنیٰ مخلوق جن میں سے بہت سوں کے تم بت بنا کے پوجتے ہو اور سمجھتے یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حق بندگی دے رکھا ہے۔ خدا لگتی کہو۔ اس کے بعد فرمایا، الحمدللہ ! کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس مثال نے توحید اور شرک کو واضح کردیا، خالق اور مخلوق کی حقیقت کھول دی اور جاننے والوں کے لیے علم کا یہ شعبہ آسان کردیا، لیکن کیا کیا جائے کہ اتنی سامنے کی بات کتنے لوگوں کی نگاہوں سے آج تک مخفی ہے۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ ایک اور مثال بیان کرتا ہے، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر قادر نہیں ہے۔ اور وہ اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے، جہاں کہیں بھی اس کو بھیجتا ہے، وہ کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا وہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے اور وہ ایک سیدھی راہ پر ہے، دونوں یکساں ہیں۔

وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً رَّجُلَیْنِ اَحَدُھُمَآ اَبْکَمُ لاَیَقْدِرُ عَلٰی شَیْ ئٍ وَّھُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰـہُ لا اَیْنَمَا یُوَجِّھْہُّ لاَیَاْتِ بِخَیْرٍ ط ھَلْ یَسْتَوِیْ ھُوَ لا وَمَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ لا وَھُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سورۃ النحل : 76) (اور اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان کرتا ہے، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر قادر نہیں ہے۔ اور وہ اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے، جہاں کہیں بھی اس کو بھیجتا ہے، وہ کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا وہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے اور وہ ایک سیدھی راہ پر ہے، دونوں یکساں ہیں۔ ) ایک دوسری تمثیل شرک کی مذمت اور اس کی حقیقت کھولنے کے لیے اللہ تعالیٰ ایک اور نہایت آسان مثال بیان فرماتے ہیں، مقصد صرف یہ ہے کہ اشرافِ قریش تو اپنی برتری کے زعم میں کسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو یا تو لوگوں تک پہنچنے نہ دیں اور یا وہ اس طرح پہنچے کہ جس میں خود ان نام نہاد بڑائی کے دعویداروں نے اس میں قسم قسم کی آمیزش کر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کی مثالوں کے ذریعے معمولی سے معمولی آدمی کے لیے بھی توحید کو سمجھنا آسان بنا رہے ہیں۔ مثال یہ بیان فرمائی ہے کہ دو آدمی ہیں جن میں سے ایک پیدائشی طور پر گونگابہرہ ہے، وہ کسی چیز پر قادر نہیں۔ نہ وہ سن سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے۔ حواس بھی معطل ہیں اور عقل سے بھی تہی دامن ہے۔ وہ اپنے آقا یا اپنے ساتھیوں پر بوجھ ہے کہ جو اپنے لیے بھی کمانے کے قابل نہیں، اس کا آقا اسے جہاں بھیجتا ہے کوئی نہ کوئی الزام اور طعن ہی لے کر لوٹتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص ہے جو حواس اور عقل میں کامل، معاملات میں نہایت گہری بصیرت رکھنے والا اور جب کہیں اسے معاملات میں فیصلہ کرنا پڑے تو نہایت منصف اور عادل اور زندگی کے رویئے میں صراط مستقیم پر چلنے والا، مکہ کے چھوٹے بڑے لوگو ! انصاف سے بتائو کہ کیا یہ دونوں برابر ہیں، حالانکہ دونوں مخلوق ہیں اور دونوں انسان ہیں۔ اس لحاظ سے بہت ساری چیزیں ان میں مشترک بھی ہیں، لیکن ان کی صفات میں فرق کتنا واضح ہے کہ تم انھیں یکساں قرار دینے کی جرأت نہیں کرسکتے، تو پھر خدا کے لیے بتائو کہ اللہ تعالیٰ جو کائنات کا خالق ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے اور جس کے تکوینی نظام میں اس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ تم نے اپنے بتوں اور اپنے دیوی دیوتائوں کو اس کے برابر اور اس کا شریک کیسے ٹھہرا رکھا ہے۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

(اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے لیے ہے اور قیامت کا معاملہ پس آنکھ جھپکنے کی طرح ہے یا اس سے بھی جلدی، بیشک اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔

وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَمَآ اَمْرُالسَّاعَۃِ اِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْھُوَ اَقْرَبُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (سورۃ النحل : 77) (اور آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے اور قیامت کا معاملہ پس آنکھ جھپکنے کی طرح ہے یا اس سے بھی جلدی، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے۔ ) مشرکینِ مکہ کی نارسائیوں پر تنبیہ معلوم ہوتا ہے کہ قریش مکہ نے اپنی عادت کے مطابق قیامت کو سوالات کا نشانہ بنایا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اصرار کیا ہے کہ اگر قیامت واقعی آنے والی ہے تو آپ اس کے دن کا تعین کریں۔ جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ کائنات جو ہمارے سامنے ہے انسانوں نے ہمیشہ اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ جاننے کی کوشش کی ہے، مگر آج تک اتنا بھی نہ جان سکے جتنا سمندر سے چڑیا اپنی چونچ میں پانی بھر لیتی ہے۔ نہ اس کی وسعت کا اندازہ ہوسکا ہے اور نہ اس کی ابتداء کی خبر ہوئی ہے۔ اسی طرح اس بات کی خبر انسانی علم سے ماورا ہے کہ اس کائنات کا خاتمہ کب ہوگا اور کب قیامت برپا ہوگی۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ کائنات کا نظام و انصرام جو اپنے اندر ان گنت مخلوقات کو سمیٹے ہوئے ہے اور جس کی وسعتوں میں بیشمار کُرّے محو پرواز ہیں، آج تک کبھی کسی خرابی کا شکار نہیں ہوا۔ اس کے قانونِ تکوین میں اس کی مخلوقات کا ایک ایک گوشہ اس طرح بندھا ہوا ہے کہ کسی کو بھی سرمو انحراف کرنے کی جرأت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم تو صرف ان چیزوں کو جانتے ہیں جنھیں ہمارے حواس محسوس کرتے اور ہماری عقل جانتی ہے۔ لیکن کائنات کے وہ گوشے جو ہماری حدود سے ماورا ہیں اور اس کی وہ حکمتیں جو ہمارے علم سے پوشیدہ ہیں اور اس کے وہ مقاصد جن کے حصول کے لیے کائنات رواں دواں ہے، ان میں عافیت اسی سچائی میں ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیا جائے اور یہی وہ بات ہے جس کی طرف آیت کے پہلے جملے میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کی کوئی اتھاہ نہیں اور اس کے کمال قدرت کی کوئی انتہا نہیں اور اس کی حکمت ہمیشہ نئے سے نئے رنگ میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ اور جو شخص اس بات کا بھی ادراک رکھتا ہے کہ انسان کو دنیا میں ایک امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس امتحان میں سرخرو ہونے کے لیے اسے عقل دی گئی ہے، قوت تمیز بخشی گئی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کی رہنمائی کے لیے کتابیں نازل کی گئی ہیں اور رسول مبعوث کیے گئے ہیں۔ چناچہ رسولوں کا آخری رسول آگیا ہے۔ اس طرح سے سلسلہ رسالت رک گیا۔ کتابوں کی آخری کتاب آگئی، اس طرح وحی الٰہی روک دی گئی۔ اس بات کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جس امتحان کے لیے انسان کو دنیا میں بھیجا گیا تھا اس کی صف لپیٹی جانے والی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ہر چیز کے خاتمے کا اعلان ہوگا اور پھر ایک وقت آئے گا جب تمام انسانوں اور جنوں کو زندگی دے کر حساب کتاب کے لیے محشر میں جمع کیا جائے گا، اسی کو قیامت کہتے ہیں۔ اگر ہر نیکی صلہ چاہتی ہے، ہر قربانی اگر اپنی قیمت مانگتی ہے، ہر ظلم اپنی تلافی چاہتا ہے، ہر زیادتی انصاف کا تقاضا کرتی ہے تو قیامت کا وقوع یقینا اخلاق کا تقاضا ہے۔ رہی یہ بات کہ اربوں کھربوں انسانوں کا دوبارہ زندہ کرنا، پھر ان کے تمام اعمال کا جائزہ لے کر عدل و احسان کی چھلنی سے گزارنا اتنا طویل عمل ہے جس کا وقوع پذیر ہونا خلاف عقل معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا سوچنے والا نہ تو اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعتوں کو جانتا ہے اور نہ اس کی بےانتہا قدرتوں کا ادراک رکھتا ہے۔ اس کے سامنے انسانی امکانات کا ایک نمونہ ہے۔ اس لیے اسی پر قیاس کرکے ہر چیز کو رد یا قبول کرتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے اس غلطی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم قیامت کے معاملے کو کیا جانو، تمہارے اندازے اپنی جگہ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حال یہ ہے کہ جب وہ اس کے برپا ہونے کا حکم دے گا تو وہ پلک جھپکنے سے بھی جلدی وقوع پذیر ہوجائے گی۔ دونوں دفعہ صور پھونکے جانے کے بعد اسی تیزی سے تبدیلی آئے گی، پھر حشر برپا ہونے کے بعد اسی سرعت سے حساب کتاب ہوگا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف کسی محدودیت یا کمزوری کو منسوب کرتا ہے وہ درحقیقت اس کے قادرمطلق ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ اس لیے آخر میں فرمایا کہ تمہارے ہر شبے کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور سوچنے والے دل بنائے تاکہ تم شکرگزار بنو۔

وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ م بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لا لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 78) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور سوچنے والے دل بنائے تاکہ تم شکرگزار بنو۔ ) الْاَفْئِدَۃَ فؤاد کی جمع ہے، جیسے غراب کی جمع اغربہ ہے۔ اُمَّھاتْام کی جمع ہے۔ قاعدے کے اعتبار سے اس کی جمع اُمَّات ہونی چاہیے لیکن تاکید کے لیے ھا بڑھا دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ادنیٰ سا اظہار انسان کا وجود ہے۔ انسان اس کائنات کا گل سرسبد ہے اور اس کے سر پر خلافت کا تاج رکھا گیا ہے۔ اسے فرشتوں کا مسجود ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کی قوت تسخیر کے سامنے ایک دنیا سپر ڈال چکی ہے، لیکن یہ جب دنیا میں آتا ہے تو صرف ایک مضغہ گوشت ہوتا ہے۔ بجزبھوک کے احساس کے ہر طرح کے احساس سے عاری، نادان اتنا کہ جس ماں کے پیٹ میں 9 ماہ گزار کے آیا ہے اس تک کو نہیں پہچانتا۔ باقی مخلوقات کے بچے پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو پہچانتے ہیں۔ بھینس کا بچہ لڑکھڑاتا ہوا چند گھنٹوں کے بعد ماں کا پستان چوسنے لگتا ہے، بلی کے بچوں کی جیسے ہی آنکھیں کھلتی ہیں، وہ ماں کا دودھ پینے لگتے ہیں۔ مرغی کڑ کڑ کرتی ہوتی چلتی ہے اور بچے اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور دانہ دنکا چگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن انسان کا بچہ چونکہ حواس سے بالکل محروم ہوتا ہے اس لیے وہ ہاتھ پائوں مارنے کے سوا اور کچھ نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو ربوبیت بن کے جھلکتا ہے، وہ یہ کہ ایک طرف تو ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ اپنی ماں تک کو نہیں پہچانتا اور کسی کھانے پینے کی چیز کا ادراک نہیں رکھتا، لیکن بھوک اسے اسی طرح پریشان کرتی ہے جیسے باقی مخلوقات کے بچوں کو، تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کیا کہنا کہ جیسے ہی ماں اس کی بھوک کو محسوس کرکے اسے اٹھا کر اپنے سینے سے لگاتی ہے اور اپنا پستان اس کے منہ میں ڈالتی ہے تو وہ اسے بالکل اسی طرح چوستا ہے جیسے اسے اس کی پوری ٹریننگ دی گئی ہو۔ یہ خوبصورت مضغہ گوشت جو ہر طرح کے علم سے نابلد ہے، آخر اسے دودھ پینا کس نے سکھایا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بےبسی بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہے۔ اور اس کا دودھ پینا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے۔ اور پھر یہی کچھ نہ جاننے والا بچہ عمر کے ساتھ ساتھ پہلے حواس سے نوازا جاتا ہے۔ جب حواس کے بعد دوسری رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ جوہرِعقل کا فانوس اس کے اندر جلا دیتا ہے۔ یہ حواس اور عقل بڑھتے بڑھتے انسان کو وہاں تک پہنچا دیتے ہیں جہاں انسان اپنی کمزوریاں بھول جاتا ہے۔ اس کے علم کے لیے ایک سے ایک بڑی مسند سجائی جاتی ہے اور اس کی عقل و دانش نہ جانے کس کس سے خراج تحسین حاصل کرتی ہے۔ جب وہ علم و دانش کی مختلف وادیوں میں ایک سند کی حیثیت حاصل کرلیتا ہے تو آخر عمر کی اس حد کو پہنچ جاتا ہے جس کو ارزل العمر کہا گیا ہے جس کے بعد انسان سب کچھ جان کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔ یہ علم کی دنیا کا امین اور رئیس عبرت کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بچپن سے لے کر آخر عمر تک انسان کا مطالعہ کرے تو اسے قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی قدرت یاد آتی ہے۔ اگر وہ کسی حد تک بھی عرفانِ ذات کی دولت سے بہرہ ور ہو تو وہ کبھی بھی قیامت کا انکار اس لیے نہیں کرسکتا کہ قیامت واقع کیسے ہوگی، یہ تو سراسر ناممکن بات معلوم ہوتی ہے۔ انسان کی ذات اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے۔ کسی مخلوق پر اتنے احسانات نہیں کیے گئے جتنے انسان پر کیے گئے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ہم نے یہ تمام احسانات اس لیے کیے تاکہ تم شکر ادا کرو کہ ہرحال میں اسی کی بندگی بجا لائو، اسی کے کلمے کو بالا کرو، اپنی تمام صلاحیتوں کو اسی کے دین کی سربلندی کے لیے قربان کردو۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا انھوں نے کبھی پرندوں کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ مطیع اور فرمانبردار بن کر اڑ رہے ہیں، ان کو بس اللہ ہی تھامے ہوئے ہوتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں۔

اَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّالسَّمَآئِ ط مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلاَّ اللّٰہُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 79) (کیا انھوں نے کبھی پرندوں کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ مطیع اور فرمانبردار بن کر اڑ رہے ہیں، ان کو بس اللہ تعالیٰ ہی تھامے ہوئے ہوتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی فضائی نعمتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنے کمال قدرت اور شان ربوبیت کی ایک اور نشانی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا انکار کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت پر ایمان نہ لانے والے کیا نہیں دیکھتے کہ زمین سے کوئی کنکری یا پتھر اٹھا کر آسمان کی طرف پھینکا جائے تو وہ فوراً پلٹ کر زمین پر آتا ہے، کیونکہ زمین کی کشش اسے اپنی طرف کھینچتی ہے، لیکن کس قدر عجیب بات ہے کہ پرندے فضاء میں پَر پھیلائے تیر رہے ہیں۔ کبھی پَر سمیٹ لیتے ہیں اور کبھی پھیلا دیتے ہیں لیکن کبھی زمین پر گرنے نہیں پاتے۔ سوال یہ ہے کہ انھیں گرنے سے کون روکتا ہے۔ نہ اسے فضا اپنے طور پر تھام سکتی ہے، نہ ہوا روک سکتی ہے۔ ممکن ہے آپ یہ کہیں کہ ان کے پروں کی ساخت ایسی بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ زمین پر گرنے سے محفوظ رہتے ہیں لیکن سوال پھر اپنی جگہ ہے کہ آخر ایسے پَر کس نے عطا کیے ہیں ؟ یہ اس کی قدرت کا کمال ہے کہ ہر مخلوق کو جیسا بناتا ہے ویسا ماحول دیتا ہے اور جس طرح کے ماحول میں اسے رکھتا ہے ویسی صلاحیتیں اسے عطا کرتا ہے۔ پرندے فضا میں اڑتے ہیں تو انھیں پَر عطا کیے۔ مچھلیاں پانی میں تیرتی ہیں تو انھیں تیرنا سکھایا۔ حشرات الارض کوڑے کرکٹ میں رینگتے پھرتے ہیں تو انھیں رینگنا سکھایا۔ منطقہ حارہ کا ریچھ منطقہ باردہ میں نہیں پایا جاتا اور منطقہ باردہ کا ریچھ منطقہ حارہ میں نہیں پایا جاتا۔ ہر مخلوق کو مناسب ماحول، مناسب فضا اور مناسب صلاحیتوں سے بہرہ ور فرمانا اس کی ربوبیت کا تقاضا اور اس کی کمال قدرت پر شاہد ہے اور اس میں ایک سے ایک بڑھ کر نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا چاہیں۔ لیکن جو شخص اندھے کی طرح بجائے عقل سے کام لینے کے دوسرے کی لاٹھی کا سہارا لیتا ہے بجائے حیرت انگیز مخلوق کو دیکھ کر خالق کائنات تک پہنچنے کے راستے ہی میں بسیرا کرلیتا ہے، ایسے شخص کا نہ دنیا میں اچھا انجام ہوتا ہے اور نہ آخرت میں ہوگا۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ نے بنایا تمہارے لیے تمہارے گھروں کو آرام و سکون کی جگہ، اور بنائے تمہارے لیے جانوروں کی کھالوں سے گھر (خیمے) ، جنھیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو، سفر کے دن بھی اور اقامت کے دن بھی اور اسی نے بنائے ہیں بھیڑوں کی صوف اور اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں سے مختلف گھریلو سامان اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک۔

وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ م بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَھَا یَوْمَ ظَعْنِکُمْ وَیَوْمَ اِقَامَتِکُمْ لا وَمِنْ اَصْوَافِھَا وَاَوْبَارِھَا وَ اَشْعَارِھَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ ۔ (سورۃ النحل : 80) (اور اللہ تعالیٰ نے بنایا تمہارے لیے تمہارے گھروں کو آرام و سکون کی جگہ، اور بنائے تمہارے لیے جانوروں کی کھالوں سے گھر (خیمے) ، جنھیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو، سفر کے دن بھی اور قیام کے دن بھی اور اسی نے بنائے ہیں بھیڑوں کی صوف اور اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں سے مختلف گھریلو سامان اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک۔ ) فیضانِ ربوبیت کا ذکر اس آیت کریمہ میں اپنی فیضانِ ربوبیت کا ذکر کرتے ہوئے ان چیزوں کا ذکر فرمایا ہے جو بظاہر عام سی چیزیں ہیں اور جن چیزوں سے انسان کو روز کا واسطہ ہے، لیکن ان میں ایک ایک چیز اپنے اندر افادیت کا جو پہلو رکھتی ہے اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ چھن جاتی ہے۔ یہ انسان کی فکری کمزوری ہے کہ جو نعمتیں اسے آسانی سے میسر آجاتی ہیں اور یا وہ انھیں ہمیشہ سے اپنے گردوپیش میں دیکھتا چلا آیا ہے وہ ان کی قدر نہیں کرتا، لیکن جب کبھی حالات کی ابتری یا کسی اور سبب سے وہی عام نعمتیں کمیاب ہوجاتی ہیں تو وہ پھر روتا اور چیختا ہے۔ اور ان نعمتوں کی قدر اسے اپنا احساس دلاتی ہیں۔ سب سے پہلے جس نعمت کا ذکر فرمایا، وہ گھر کا سکون ہے۔ پرندے بھی اپنا گھونسلہ بنا کے رہتے ہیں اور انسان بھی گھر کو اپنی بنیادی ضرورت سمجھتا ہے لیکن چونکہ عام طور پر یہ سہولت اور یہ ضرورت میسر رہتی ہے تو کوئی اس کا ذکر تک نہیں کرتا۔ لیکن اس کی قدر ان لوگوں سے پوچھئے جن کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ جس طرح افراد بےگھر ہوتے ہیں، اس طرح قومیں بھی بعض دفعہ بےگھر ہوتی ہیں، ان کا کوئی وطن نہیں ہوتا اور اگر وطن یا گھر ہو بھی تو وہ سکون کا باعث نہیں ہوتا۔ اس کی مثال دیکھنا ہو تو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو دیکھ لیجئے۔ وہ بظاہر اپنے گھر رکھتے ہیں لیکن گھروں کا سکون نصیب نہیں۔ انھیں کچھ خبر نہیں کب فوجی درندے ان کے گھروں کا سکون برباد کرتے ہوئے ان کے کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی کو اٹھا کرلے جائیں گے اور مدافعت کرنے پر گھر کو آگ لگا دیں گے۔ فلسطینیوں کو دیکھ لیجئے، جب سے ان کی زمین پر غاصبوں نے قبضہ کیا ہے گھروں کا سکون رخصت ہوگیا ہے۔ ان میں بڑی تعداد سالہا سال سے ملکوں ملکوں ماری پھر رہی ہے اور جو لوگ فلسطین میں بظاہر گھروں میں ہیں انھیں بھی اسرائیلی درندوں نے گھروں کے سکون سے محروم کردیا ہے۔ اور آج کا عراق اور افغانستان اس حقیقت کی منہ بولتی تصویر ہیں کہ گھر کا سکون کتنی بڑی نعمت ہے اور ظالم اگر اس سے بھی محروم کردے تو اس سے بڑی محرومی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ ہمارا یہ وطن جب وجود میں آیا، اب کسے یاد ہوگا کہ اس کے لیے کتنے گھر چھوڑے گئے، کتنی لاشیں راستے میں بچھائی گئیں، کتنا خون بہایا گیا اور کتنی عفتوں کے چراغ بجھے۔ اس کی ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک گھر عطا کیا، لیکن اب پھر وقت کی آندھیاں اس کی بنیادیں اکھاڑنے کے درپے ہیں۔ اپنے نادان دشمن اس کی جڑوں میں ڈائنامیٹ بچھا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر دماغ اور ہر دل میں یہ احساس روشن کیا جائے کہ ؎ کون اربابِ سیاست کو یہ سمجھائے ریاض یہ شکستہ سا مکاں جیسا بھی ہے اپنا تو ہے عرب میں چونکہ بارشیں بہت کم ہوتی تھیں اس لیے روز روز کی قحط سالی نے بیشتر عربوں کو خانہ بدوش بنادیا تھا۔ جب پانی کی قلت ہوتی اور جانور چارہ نہ ملنے سے مرنے لگتے تو وہ پانی اور چارے کی تلاش میں مسلسل سفر میں رہتے۔ جہاں یہ دونوں چیزیں میسر آتیں وہاں پڑائو ڈال دیتے۔ چونکہ یہ اکھاڑ بچھاڑ ان کا شب و روز کا معمول تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا یہ احسان یاد دلایا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں ایسے جانور عطا فرمائے جو تمہاری باربرداری کے کام بھی آتے ہیں۔ تم ان کا دودھ بھی پیتے ہو۔ اور جب وہ ان دونوں ضرورتوں کے قابل نہیں رہتے تو تم ان جانوروں کی کھالوں سے خیمے بناتے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کیسا کرم ہے کہ اس نے ان جانوروں کی کھالوں کو خیموں کے لیے موزوں بنادیا اور تمہیں اس ہنر سے بہرہ ور فرمایا۔ چناچہ سفر کے دوران کھالوں کے بنے ہوئے خیمے تمہیں ہر طرح کی سہولت تو مہیا کرتے ہیں، سایہ بھی دیتے ہیں، دھوپ سے بھی بچاتے ہیں، بارش کو بھی روکتے ہیں لیکن جب تم ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا ارادہ کرتے ہو تو بڑی آسانی سے اٹھائے بھی جاسکتے ہیں اور انھیں اکٹھا کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ اگر یہ تمہارے گھر جو تمہاری آسودگی کا باعث ہیں چمڑوں کی بجائے کسی بھاری بھرکم چیز کے ہوتے تو تمہارے لیے کس قدر مشکل کا باعث بنتے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھیڑیں عطا فرمائی ہیں جن پر صوف پیدا کیا گیا ہے اور اونٹوں کی کھالوں پر اون اگتا ہے۔ چناچہ ان سے تم مختلف قسم کے کپڑے بناتے ہو، بھیڑوں کی اون سے ہر طرح کا کپڑا عرب میں بنایا جاتا تھا۔ اسی طرح اونٹوں کی اون سے خاص قسم کا کپڑا بھی بنتا تھا اور بعض گھریلو قسم کی چیزیں بھی بنتی تھیں، بکریوں کے بال نسبتاً ملائم ہوتے ہیں، اس لیے ان سے گھر کی وہ چیزیں بنائی جاتی تھیں جن میں کھردراپن نہیں ہوتا۔ اندازہ کیجیے بدویت کا وہ زمانہ جب عرب میں تمدن نے خاطرخواہ ترقی نہیں کی تھی کس طرح اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ان کے لیے آسان کردیا تھا۔ انھیں محدود سطح پر زندگی کی وہ تمام سہولتیں میسر تھیں جو زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں لیکن اس کے لیے انھیں دوردراز ملکوں میں سفر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اپنے جانوروں ہی سے وہ ضرورتیں پوری ہوجاتی تھیں اور یہی وہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جس کا یہاں ذکر فرمایا جارہا ہے۔
Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کی ہیں تمہارے لیے سائے بنائے، اور تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور تمہارے لیے ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے لباس بنائے جو تمہاری جنگ میں تمہیں محفوظ رکھتے ہیں،

وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلاً وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَکْنَانًا وَّجَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّوَسَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ ط کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 81) (اور اللہ تعالیٰ ہی نے ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کی ہیں تمہارے لیے سائے بنائے، اور تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور تمہارے لیے ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے لباس بنائے جو تمہاری جنگ میں تمہیں محفوظ رکھتے ہیں، اسی طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔ ) مزید چند نعمتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو نعمتیں فرمائی ہیں ان میں سے مزید چند نعمتوں کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ گزشتہ آیت میں مذکورہ نعمتوں کی طرح یہ نعمتیں بھی انسانوں کے عام استعمال کی ہیں اور اکثر لوگوں کو میسر رہتی ہیں اور ان میں سے سب سے پہلے جس نعمت کا ذکر فرمایا ہے اسے تو عام طور پر نعمت سمجھا ہی نہیں جاتا۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں، انسان کی کمزوری یہ ہے کہ جو نعمتیں بڑی تگ و دو اور بہت کچھ خرچ کرنے کے بعد ملتی ہیں اسے تو انسان نعمت سمجھتا ہے، اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کا بار بار تذکرہ بھی کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نعمتیں دینے والے کا ذکر پھر بھی نہیں ہوتا، لیکن جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے نہایت سہل الحصول بنادی ہیں اس کا عام طور پر تذکرہ تک نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کیا کہنا ہے وہ تو وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں کے سائے بنائے۔ تم جب محنت و مشقت کرتے ہو اور اپنے گھر سے دور حصول رزق کے لیے تکلیفیں اٹھاتے ہو یا جب سفر کی حالت میں دھوپ کی تکلیف اٹھاتے ہو تو نہ تمہیں گھر میسر ہوتا ہے اور نہ گھر جیسی اور سہولت۔ اس دور میں آج کی طرح نہ بس سٹاپ تھے اور نہ کہیں آرام گاہیں۔ سرائے کا تصور بھی بہت دیر بعد ذہنوں میں آیا۔ تمدن سے بالکل آزاد زندگی میں موسم کی شدت اور چلچلاتی دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی ذریعہ اس کے سوا نہ تھا کہ انھیں ٹھنڈے سائے کی نعمت عطا کی گئی۔ پہاڑوں کے دامن اور درختوں کے سائے ان کے لیے راحت و آرام کی جگہ بن گئے۔ آرام دہ اور ٹھنڈے کمرے سے نکل کر کسی درخت کے نیچے جا بیٹھنا آج کے دور میں راحت بخش نہیں۔ لیکن آج بھی دیہاتیوں سے پوچھئے جہاں گرمی کے دنوں میں نہ بجلی کا پنکھا چلتا ہے اور ساون بھادوں میں نہ ہوا اپنا دامن کھولتی ہے۔ اس وقت عمارتوں اور درختوں کے سائے دیہاتیوں کے لیے زندگی سے کم نہیں اور وسیع و عریض بڑ کے درخت کے نیچے جھولتے ہوئے جھولے کسی تفریح سے کم نہیں۔ اور یہ ایسی نعمت ہے جس کے حصول کے لیے کوئی محنت بھی نہیں کرنا پڑتی۔ جس بدنصیب سے وطن چھوٹ جاتا ہے سایہ اس کے لیے بھی اپنا دامن پھیلائے رکھتا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے ؎ لیٹ جاتا ہوں جہاں چھائوں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے آیتِ کریمہ میں دوسری نعمت جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ پہاڑوں میں پناہ گاہیں ہیں۔ عرب کی نہایت سادہ فطری اور تمدن سے بیگانہ زندگی میں جن نعمتوں کی بڑی قدر تھی ان میں ایک پہاڑ اور اس میں پائی جانے والی پناہ گاہیں بھی تھیں۔ عرب چونکہ نہایت وحشی اور خونخوار قسم کی صفات کے حامل تھے۔ اپنی بات پر اڑ جانا اور بات بات پر لڑجانا ان کا معمول تھا۔ جس قبیلے کے پاس افرادی قوت کی فراوانی ہوتی وہ اپنی کثرت تعداد کے باعث دوسرے قبیلوں پر بھاری رہتا۔ عام طور پر چھوٹے قبیلے، بڑے قبیلوں سے حلیفانہ تعلقات قائم کرکے ان کی پناہ میں آجاتے۔ لیکن اگر کبھی کوئی بڑا قبیلہ کسی چھوٹے قبیلے کو ظلم کا نشانہ بناتا اور ان کے لیے آزادانہ زندگی گزارنا ناممکن بنا دیتا تو پھر ان کے لیے پہاڑوں پر چڑھ جانا اور اس کی پناہ گاہوں میں شب و روزبسر کرنا ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام تھا۔ پہاڑ کی بلندی پر پتھروں سے مسلح ہو کر بڑی قوت کا بھی راستہ روکا جاسکتا تھا اور پہاڑوں میں غاروں اور پناہ گاہوں میں ضروری صفائی کے بعد زندگی گزاری جاسکتی تھی اور موسم کے شدائد سے بچا جاسکتا تھا۔ اسی لیے پروردگار نے ان کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا۔ اس آیت میں جس تیسری نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایسا لباس اور ایسی پوشاک مہیا فرمائی جو گرمی سے تمہاری حفاظت کرتی ہے اور جنگ کی ہولناکی میں تلوار کی کاٹ کو روکتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پوشاک کے حوالے سے گرمی سے بچائو کا ذکر تو فرمایا لیکن سردی کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تمدن جس رفتار سے آگے بڑھا ہے اس میں سردی سے بچائو کا درجہ فروتر سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ کسی چیز میں بھی لپٹ کر سردی سے بچا جاسکتا ہے لیکن گرمی سے بچائو کے لیے لباس کا وجود میں آنا یہ تمدن کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ایک اہم درجے کی چیز کا ذکر کرنے کے بعد کم تر چیز کے ذکر کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عرب میں گرمیوں کے موسم میں سب سے خطرناک چیز باد سموم کا چلنا ہے۔ اس ہوا میں آگ کی تیزی ہوتی ہے۔ اس لیے یہ جسم کو جھلس کے رکھ دیتی ہے۔ عرب سفر کے دوران سب سے زیادہ اسی کے لیے فکرمند ہوتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے لباس میں اس سے بچائو کا انتظام کیا۔ تہمد اور لمبا کُرتا، سر پر بڑا رومال جسے وہ پھیلا کر اپنے سر، گردن اور چہرے پر لپیٹ لیتے تھے تاکہ ان جگہوں کو ہوا کے گرم تھپیڑوں سے محفوظ رکھا جاسکے اور سر کے اوپر رومال کو گرنے سے روکنے کے لیے ایک رسہ نما چیز سر پر باندھی جاتی تھی۔ رومال کو آج کل غترہ کہتے ہیں اور اس رسے کو عقال کہا جاتا ہے۔ عقال دراصل ایک موٹی رسی تھی جس سے اونٹ کا گھٹنا باندھا جاتا تھا تاکہ وہ باد صرصر کے تھپیڑوں سے تنگ آکر بھاگ نہ کھڑا ہو۔ جب باد صرصر چلنا شروع ہوتی تو عرب اپنے اونٹوں کو کسی پہاڑ یا ٹیلے کے دامن میں نشیبی جگہ میں ایک دائرے میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر بٹھاتے اور خود ان کے درمیان اپنے کپڑوں میں لپٹ کر لیٹ جاتے اور زائد کپڑے اونٹوں کے چہروں پر باندھ دیے جاتے۔ اس طرح سے موسم گرما میں باد صرصر سے بچائو کی تدبیر کی جاتی تھی۔ اور اسی تدبیر اور اسی ذریعے پر جسم اور جان کی بقا کا دارومدار اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ مزید فرمایا کہ ہم نے ایسا لباس بھی عطا فرمایا جو تمہاری جنگ کی ہولناکیوں میں حفاظت کرتا ہے۔ اس سے مراد زرہ بکتر ہے۔ عرب لوہے سے زرہ بنانے کی صنعت پر قابو پاچکے تھے۔ یہ صنعت اگرچہ حضرت ہود (علیہ السلام) کے زمانے سے بھی پہلے پائی جاتی تھی جسے دائود (علیہ السلام) نے بام عروج تک پہنچایا۔ عرب اس سے بخوبی واقف تھے۔ اکہری اور دوہری ہر طرح کی زرہ بنانے پر قادر تھے اور یہی زرہ تھی جو جنگ میں ان کے لیے سب سے بڑا بچائو کا ذریعہ تھی۔ تلوار کی کاٹ اس پر کند ہوجاتی تھی۔ اور بعض دفعہ تلوار کے کاری وار سے انسان محفوظ رہتا تھا۔ ان عمومی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ تم جس طرح درجہ بدرجہ تمدن کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل فرما رہا ہے۔ چناچہ نزول قرآن کے چند سال بعد جب عرب میں اسلام کی حکومت قائم ہوگئی اور پھر یہ قدوسی صفات انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت بن کر زمین کے بڑے حصے پر چھا گئے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں جو صرف سلاطین اور امراء کا حصہ تھیں، غریبوں کے گھروں میں بھی پہنچ گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسان آسودہ زندگی سے آراستہ ہوگیا اور نعمتوں کی جس تکمیل کی خبر دی گئی تھی وہ رفتہ رفتہ اپنے انجام کو پہنچ گئی لیکن اس کا جو نتیجہ سامنے آنا چاہیے تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اس طرح زندگی گزارنے لگے کہ جس میں وہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہو کر رہ جائے اس کے لیے انسان آج بھی چشم براہ ہے۔
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اسی طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔ پھر اگر وہ اعراض کریں تو آپ کی ذمہ داری صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (سورۃ النحل : 82) (پھر اگر وہ اعراض کریں تو آپ کی ذمہ داری صاف صاف پہنچا دینا ہے) پروردگار نے گزشتہ آیات میں جس جزرسی کے ساتھ انسانوں پر اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اس کے بعد اگر انسانوں سے پوچھا جائے کہ تم بتائو تمہارے خیال میں ان نعمتوں کا عطا کرنے والا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ہے۔ وہ یقینا اپنے کفر کے باوجود اعتراف کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان تمام نعمتوں کو پیدا فرمایا ہے۔ اس کے بعد برجستہ ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان تمام نعمتوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر تم نے دوسروں کو اس کا شریک کیوں بنا رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی تم پوجا کرتے ہو اس کا تمہارے یہاں کیا جواز ہے۔ لیکن اس سوال کے جواب میں بھی اگر وہ اپنے شرک پر اڑے رہیں اور وہ کسی طرح اپنے رویے کو بدلنے کے لیے تیار نہ ہوں تو پھر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے آپ کی ذمہ داری کی انتہا کو بیان فرمایا ہے جس کے بعد آپ ﷺ سے کسی قسم کی بازپرس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں اور اس طرح پہنچا دیں کہ کوئی بات ان کے لیے نہ مخفی رہے اور نہ مبہم رہے۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں۔

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا وَاَکْثَرُھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 83) (یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر ناشکرے ہیں۔ ) یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خوب پہچانتے ہیں، وہ ایسے بیوقوف اور کو دن نہیں کہ یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ ان نعمتوں کا دینے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہے۔ البتہ یہ بات تعجب خیز ضرور ہے کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ انکار دراصل اس بات کا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں پیدا فرمائی ہیں اور وہی ان کا عطا کرنے والا بھی ہے۔ انکار اس بات کا ہے کہ نعمتوں کا عطا کرنے والا تنہا اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ درمیان میں کچھ واسطے ہیں جن کی مدد سے ہم تک ان نعمتوں کا پہنچنا ممکن ہوا ہے کیونکہ ہم نے جن کو آج تک پکارا اور جن کی ہم پوجا کرتے رہے ان بزرگوں اور دیوتائوں کے کرم سے یہ نعمتیں ہم تک پہنچیں۔ اگر وہ اس میں مداخلت نہ کرتے تو ممکن تھا کہ ہم ان نعمتوں سے نوازے نہ جاتے۔ اس لیے جہاں ہم پر ان نعمتوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا شکر لازم ہے اس سے بڑھ کر ان بزرگوں اور دیوتائوں کا شکر لازم ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ انسان جب بگڑ جاتا ہے تو کس طرح سامنے کی چیز کا بھی انکار کردیتا ہے۔ کفار جانتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہاں سے آئی ہیں لیکن اس کے باوجود درمیانی واسطوں کو دخیل مان کر اپنے شرک کا جواز پیدا کرلیا۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ اٹھائیں گے، پھر جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا انھیں عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔

وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ثُمَّ لاَ یُـؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَلاَھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 84) (اور یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ اٹھائیں گے، پھر جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا انھیں عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ) اس آیت کریمہ میں تذکرہ اگرچہ دوسری امتوں کا ہورہا ہے لیکن درحقیقت روئے سخن کفار مکہ ہی کی طرف ہے اور یہاں جس امت کا ذکر کیا جارہا ہے جس پر ہر رسول کو بطور گواہ اٹھایا جائے گا اس سے مراد امت دعوت ہے، امت استجابت نہیں۔ یعنی اس سے وہ امت مراد ہے جس کی طرف رسول مبعوث ہوتا ہے اور اس کی ہدایت اور اصلاح کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ رسول ( علیہ السلام) اتمامِ حجت کا آخری ذریعہ ہے اس آیت میں کہنا یہ مقصود ہے کہ اے مشرکینِ مکہ تم جو سابقہ بگڑی ہوئی امتوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے نبی کی دعوت پر کان دھرنے کی بجائے ہر طرح کی مخالفت پر اتر آئے ہو اور اب تمہاری مخالفت اذیت رسانی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ کاش تم چشم تصور سے دیکھ سکو کہ قیامت کے دن جب تمہیں اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونا پڑے گا اور تم دیکھو کے کہ امتیں الگ الگ اپنے اپنے مواخذے کے لیے کھڑی ہوں گی تو اللہ تعالیٰ ہر اس امت کو جس نے رسول کی بات ماننے سے انکار کیا اپنے سامنے جوابدہی کے لیے بلائے گا اور ان سے پوچھے گا کہ بتائو تم نے میرے رسولوں کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیوں کیا، تو وہ جواب میں ہزار طرح کے عذر پیش کریں گے۔ کہیں انکار سے کام لیں گے، کہیں پس و پیش سے، کہیں جھوٹ بولیں گے ہر ممکن طریقے سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعذار کو غلط ثابت کرنے کے لیے ان کی طرف بھیجے ہوئے رسولوں کو بطور گواہ اٹھائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ اب بتائیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا دین اور اس کا پیغام ان لوگوں تک پہنچایا تھا یا نہیں۔ چناچہ رسول کی گواہی پر ان کا مقدمہ فیصل ہوجائے گا۔ اب وہ اس پر کچھ چیخ و پکار کرنا چاہیں گے۔ ہوسکتا ہے رحم و مروت کی بھیک مانگیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسول کی گواہی چونکہ آخری اور حتمی ہوگی اور اسی پر فیصلے کا انحصار ہوگا تو انھیں اس گواہی کے بعد ہر طرح کی زبان کھولنے سے روک دیا جائے گا۔ پھر آخری کوشش ان کی یہ ہوگی کہ ہمیں شاید معافی مانگنے کا موقع دے دیا جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے یہ فرمائش بھی نہیں کی جائے گی کہ تم اپنے جرائم کا اعتراف کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرو۔ اسی کو عربی زبان میں استعتاب کہتے ہیں۔ مشرکینِ مکہ کو اس منظرکشی سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تم حد سے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔ جو کچھ دوسری امتوں کے ساتھ پیش آنے والا ہے تمہارے ساتھ بھی وہی پیش آئے گا۔ تمہارا فیصلہ بھی نبی کریم ﷺ کی گواہی پر ہوگا۔ آج تم بڑھ چڑھ کر باتیں بنانے کی کوشش کررہے ہو لیکن وہاں تمہاری یہ ساری کوششیں بیکار ثابت ہوں گی۔
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ہوگا عذاب کو دیکھ لیں گے تو نہ وہ عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے۔

وَاِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلاَ یُخَفَّفُ عَنْھُمْ وَ لاَھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 85) (اور جب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ہوگا عذاب کو دیکھ لیں گے تو نہ وہ عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے۔ ) خودسروں کا انجام یہ آج کے خودسر اور سرکش لوگ جو رسول کی دعوت کا نام سننے کے بھی روادار نہیں قیامت کو جب اپنے سامنے بھڑکتا ہوا جہنم دیکھیں گے تو ان کے پِتّے پانی ہونے لگیں گے۔ وہ کوشش کریں گے کہ عذاب اگر ٹل نہیں سکتا تو کسی طرح اس میں تخفیف ہوجائے تو کسی طرح کی تخفیف نہیں ہونے پائے گی حالانکہ دنیا کا کوئی عذاب ایسا نہیں جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تخفیف نہ ہوتی ہو۔ تخفیف کمیت میں بھی ہوتی ہے اور کیفیت میں بھی۔ جو دن گزرتا جاتا ہے وہ عذاب سے منہا ہوتا جاتا ہے۔ اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت میں بھی کمی آتی جاتی ہے لیکن یہ عجیب عذاب ہوگا کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا عذاب کے ماہ و سال میں اضافہ ہوتا جائے گا اور شدت میں اور شدت آتی جائے گی۔ اور یہ بھی نہیں ہوسکے گا کہ انھیں تھوڑی بہت مہلت دے دی جائے۔ فیصلہ ہوتے ہی یہ لوگ اپنے انجام کے حوالے کردیے جائیں گے اور پھر وہاں کے سخت گیر نگرانوں سے ان کو کبھی کوئی رعایت نہیں ملے گی۔