Ayah 16:93وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰـکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 93)
(اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے راہ بھلا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا جو کام تم کرتے تھے۔ )
جس طرح باقی دنیا کی قومیں اپنی قومی برتری، قومی مفادات کے حصول یا سیاسی وسائل کی فراہمی کے لیے ہر طرح کے فریب ڈپلومیسی کے نام سے کرنا جائز سمجھتی ہیں بلکہ ان کا جو لیڈر غلط سے غلط طریقے سے اپنے ملک کے لیے مفادات کے راستے نکالتا ہے اس کی زیادہ تحسین ہوتی ہے۔ اسے نہایت دانشور اور دنیا کی نبضوں پر ہاتھ رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمان بھی دوسری قوموں کی ریس میں بعض دفعہ ایسی خرابیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ البتہ ان کے سامنے مفادات یا وسائل کا حصول نہیں ہوتا، وہ اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کی توانائی کے لیے بعض دفعہ غلط ذرائع بھی اختیار کرتے ہیں۔ آج ایک قوم سے معاہدہ کیا کل کو دیکھا یہ معاہدہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خاموشی سے کسی دوسرے ملک سے بالکل اس کے برعکس کوئی سا معاہدہ کرنے سے دریغ نہیں کرتے جسے وہ مسلمانوں کے لیے زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ اور دلیل ان کی یہ ہوتی ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں اپنی ذات کے لیے تو نہیں کررہے، پیش نظر صرف اسلام اور مسلمانوں کا مفاد ہے۔ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ ساری دنیا میں صرف امت مسلمہ رہے اور وہی سربلند ہو چاہے اس کے لیے کیسے ہی غلط طریقے اختیار کرنا پڑیں تو پھر یہ کام تم پر چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی، اللہ تعالیٰ خود یہ کام اپنی قدرت کاملہ سے انجام دے سکتے تھے اور ساری دنیا کی قوموں کے تشخصات کو توڑ کر ایک امت مسلمہ میں تبدیل کرسکتے تھے۔ لیکن یہ بات اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف ہے۔ اس نے زمین پر انسانوں کو بھیج کر ان کی عقل اور ان کی قوت تمیز کا امتحان لیا ہے۔ افراد اور قومیں اسی امتحان میں کامیابی یا ناکامی کے باعث گمراہ ہوتے یا ہدایت پاتے ہیں۔ اور اسی حوالے سے کل کو فیصلہ ہونے والا ہے۔ اور یہی وہ اصول ہے جس کے مطابق کل کو تم سے ضرور پوچھا جائے گا کہ تمہارا نامہ اعمال کیا ہے۔
Ayah 16:94وَلاَ تَتَّخِذُوْٓا اَیْمَانَکُمْ دَخَلاً م بَیْنَکُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ م بَعْدَثُبُوْتِھَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓئَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج وَلَکُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 94)
(اور نہ بنائو اپنی قسموں کو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور تم اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا برا نتیجہ دیکھو اور تمہارے لیے بڑا عذاب ہے)
مسلمانوں کو ایک اور بداخلاقی سے بچنے کی ہدایت
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو ایک اور بداخلاقی سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں قریش مکہ تو ہمیشہ سے مبتلا تھے، یہ دراصل انھیں کی کہانی بیان کی جارہی ہے اور اس کے پردے میں مسلمانوں کو ان کوتاہیوں سے بچنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ وہ بداخلاقی یہ ہے کہ بعض دفعہ مشرکین کسی شخص سے معاہدہ کرتے ہوئے یقین دلانے کے لیے قسم کھاتے۔ سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ اب تو اس معاہدے کے سچا اور مؤکد ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن قسم کھانے والا درحقیقت فریب دینے کی نیت سے قسم کھاتا۔ اس کے دل میں قسم کھاتے ہوئے وعدے کو پورا کرنے کا نہیں بلکہ پورا نہ کرنے کا عزم ہوتا تھا۔ وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ بظاہر مخاطب کو یقین دلاتا لیکن دل ہی دل میں وہ خوش ہوتا کہ میں نے جال پھینکا ہے بس تمہارے پھنسنے کی دیر ہے پھر دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ آیت کریمہ میں توجہ دلائی جارہی ہے کہ تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ تمہارے اس رویے کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔ دو نتیجوں میں سے ایک سے مفر نہیں۔ یا تو سننے والا وقتی طور پر ضرور کہنے والے کی بات سے متأثر ہوگا اور اس کے بارے میں ممکن ہے اچھی رائے بھی قائم کرے، لیکن جب اسے ایک عرصے کے بعد معلوم ہوگا کہ وہ قسم تو دھوکہ دہی کی ایک چال تھی تو وہ ضرور غور کرنے پر مجبور ہوگا کہ یہ مسلمان جو بلند اخلاقی اقدار کے دعویدار ہیں ان میں سے ایک آدمی اگر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دھوکہ دیتے ہوئے شرم نہیں کھاتا تو آپ ان لوگوں اور ان کے مذہب کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ یقینا جس کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے وہ اسلام اور مسلمان دونوں سے بیگانہ اور بدگمان ہوجائے گا۔ اور اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوسکتا ہے۔
دوسرا نتیجہ جس کا احتمال ہوسکتا ہے اور اس کی اس ترجمے میں گنجائش بھی موجود ہے، وہ یہ ہے کہ جو شخص ایسا کرے گا اس کا اپنا قدم ثبات قدم کے بعد بھی پھسل جانے کا اندیشہ ہے۔ یعنی اس کا خطرہ موجود ہے کہ وہ اسلام کے دائرے سے نکل جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو غور فرمایئے کہ اس نے قسم سے دھوکہ دے کر اپنے لیے اور اسلام کے لیے کیا کمایا۔ یقینا ایسے آدمی کے حصے میں بدترین عذاب آئے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کا مستحق ہوگا۔
Ayah 16:95وَلاَ تَشْتَرُوْا بِعَھْدِاللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلاً ط اِنَّمَا عِنْدَاللّٰہِ ھُوَ خَیْرٌلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 95)
(اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو متاع قلیل کے بدلے میں مت بیچو، جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اگر تم جانو۔ )
اشتراء اور ثمن قلیل کا مفہوم
زمانہ قدیم میں بیع شراء یا خریدوفروخت عموماً اجناس کی صورت میں ہوتی تھی جس میں ہر ایک چیز مبیع بھی بن سکتی تھی اور ثمن بھی۔ اس لحاظ سے شراء کا معنی حقیقت میں مبادلہ ہوتا تھا یعنی دو چیزوں کا آپس میں تبادلہ اور پھر اسی سے آگے بڑھ کر یہ ترجیح کے معنی میں بولا جانے لگا کیونکہ خریدار ایک چیز لیتا ہے اور بیچنے والا ایک چیز دیتا ہے اور دونوں آپس میں دو چیزوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے جو جذبہ کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ لینے والا اپنے ثمن پر مبیع کو ترجیح دے رہا ہے اور بیچنے والا مبیع پر ثمن کو ترجیح دے رہا ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک جس چیز کو ترجیح دے رہا ہے وہ اسے حاصل کرلیتا ہے، اسے اشتراء یا شراء کہتے ہیں۔ آیت کریمہ میں یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے عہد کو ثمن قلیل کے بدلے میں مت بیچو۔ مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ دین کی پابندی کا جو عہد کرچکے ہو اور جس کی تفصیلات کتاب اللہ میں موجود ہیں یہی درحقیقت تمہاری زندگی ہے۔ لیکن جب یہ کتاب اور اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد تمہاری زندگیوں میں اپنا وزن کھو دیتا ہے اور مادی زندگی تم پر غالب آجاتی ہے اور روحانی اور اخروی زندگی قصہ پارینہ بن جاتی ہے تو پھر تم مادی زندگی کی ایک ایک بات کے بدلے میں روحانی اور اخروی زندگی یا دینی زندگی کی ایک ایک قدر کو چھوڑتے جاتے ہو۔ یہی دراصل اللہ تعالیٰ کے عہد کو ثمن قلیل کے بدلے میں بیچنا ہے۔ اور اس ثمن کو ثمن قلیل اس لیے کہا گیا ہے کہ تم روحانی اور اخروی زندگی کے مقابلے میں جس مادی زندگی کو پیش کرتے ہو وہ تمہارے نزدیک کتنی بھی قیمتی ہو لیکن حقیقت میں وہ آخرت کے مقابلے میں ثمن قلیل کہلانے کی بھی مستحق نہیں کیونکہ دنیا اور آخرت کا کیا مقابلہ۔ ایک باقی دوسری فانی۔ ایک کی عمر چند سال، دوسری کو زوال ہی نہیں۔ ایک کی نعمتیں بےمثال اور دوسرے کی نعمتوں کا کوئی بھروسہ ہی نہیں۔ تو جو شخص دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ دراصل بیشمار خزانوں کے بدلے میں چند دمڑیاں وصول کرتا ہے۔
تفسیر بحر محیط کے مصنف ابن عطیہ نے ایک اور بات فرمائی اور خوب فرمائی کہ اس آیت کریمہ میں ہر طرح کی رشوت کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ اس طرح کہ ابن عطیہ کے نزدیک رشوت کی تعریف یہ ہے کہ اخذالاموال علی فعل ما یجب علی الاخذفعلہ اوفعل مایجب علیہ ترکہ ” اس کام پر معاوضہ دینا جس کا کرنا لینے والے پر واجب ہو اور اس کام کے چھوڑنے پر معاوضہ دینا جس کا چھوڑنا اس کے ذمہ لازم ہو، یہ رشوت ہے۔ “ (تفسیر بحرمحیط : ص 533 ج 5) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کسی ذمہ داری کو قبول کرتا ہے تو کچھ فرائض اس پر عائد ہوتے ہیں جنھیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ان فرائض کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے تو بندوں کے حقوق کی ادائیگی اس کے ذمہ لازم ہے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ کا عہد کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر صاحب منصب کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ آپ فلاں فلاں کام نہ کرنے کے پابند ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا ایک عہد ہے۔ چناچہ جب ایک صاحب منصب کے پاس کوئی حق لینے والا اپنے حق کا مطالبہ لے کر آتا ہے جبکہ یہ مطالبہ پورا کرنا اس صاحب منصب کی ذمہ داری ہے اور یہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد میں شامل ہے۔ لیکن صاحب منصب یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا حق تمہیں نہیں دلائوں گا جب تک تم مجھے اس کا معاوضہ نہ دو ، یہ رشوت ہے۔ اسی طرح اگر وہ صاحب منصب اپنے محکمے کی کوئی چیز معاوضہ لے کر کسی شخص کو دے دیتا ہے جبکہ وہ اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے تو یہ بھی رشوت ہے۔ اور یہاں رشوت اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ کر ثمن قلیل کی صورت میں وصول کی گئی ہے۔ چناچہ اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عہد کو ثمن قلیل کے بدلے میں نہ بیچو کہ تم جو رشوت کا مال لے رہے ہو اور ایسے کام کے بدلے میں لے رہے ہو جو تمہاری ذمہ داری تھی۔ یہ تمہارا اپنے اللہ تعالیٰ سے عہد تھا۔ سوچو تم نے ایک حقیر معاوضے کے بدلے میں کتنی بڑی متاع کو برباد کردیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حلال پر اکتفا کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر صبر کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے ساتھ بہت سے وعدے کر رکھے ہیں۔ ان وعدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے عطایا اور بخششیں ہیں آج تم جس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اگر تم ان کے بارے میں کچھ بھی جانتے ہوتے یعنی یقین سے جانتے ہوتے تو کبھی تم میں یہ کمزوریاں پیدا نہ ہوتیں۔
Ayah 16:96مَاعِنْدَکُمْ یَنْفَدُوَمَا عِنْدَاللّٰہِ بَاقٍ ط وَلَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 96)
(جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔ )
اہلِ ایمان کے لیے بشارت
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کے عہد کے مقام و مرتبہ کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھنا کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے دین کی کسی بات کو دنیا کے خزف ریزوں کے بدلے میں بدلنے کی کوشش نہ کرنا۔ ساری دنیا کی دولت بھی اس کی ایک ایک آیت کے مقابلے میں ثمن قلیل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ پھر اسی مضمون کو مزید واضح کرنے کے لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ تمہیں اگر ساری دنیا کے وسائل بھی میسر آجائیں وہ بہرحال فنا ہونے والے ہیں، لیکن تمہاری قربانیوں اور تمہارے اعمال کے بدلے میں جو کچھ تمہیں میسر آنے والا ہے وہ فانی نہیں، باقی اور ابدی ہے۔ خود غور کرو کہ ختم ہونے والی چیز اور باقی رہنے والی چیز کا کیا مقابلہ ہے۔ اور اگر اسے لینے کا اختیار دیا جائے تو دونوں میں سے کس کا انتخاب قرین عقل ہوگا ؟ اور مزید یہ بات فرما کر اس مضمون کی قدر و قیمت میں ناقابلِ بیان اضافہ فرمادیا ہے کہ بلاشبہ دنیا میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کے احکام کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور شرک کے مقابلے میں توحید کا رویہ اپناتے ہیں انھیں قسم قسم کی تکلیفوں سے واسطہ پڑتا ہے، لیکن جو لوگ دنیا کے مصائب پر صبر اختیار کرتے ہیں اور قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم ان کے اس صبر اور ثبات قدم کا قیامت کے دن جو اجروثواب دیں گے وہ ان کے بہترین اعمال کے مطابق ہوگا۔ ممکن ہے ثابت قدمی اور استقلال میں وہ کہیں کمزوری دکھا جائیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اجر وثواب میں کوئی کمی نہیں رہنے دے گا بلکہ اجروثواب پانے والے اپنے اعمال کی کم مائیگی اور اجروثواب کی بڑھوتری کو اللہ تعالیٰ کے شکرو امتنان کے اظہار میں رطب اللسان ہوجائیں گے۔
Ayah 16:97مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ج وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 97)
(جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان ہے تو ہم اس کو ایک پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ہم ان کو ان کے بہترین اعمال کا صلہ دیں گے۔ )
غلط فہمیوں کا ازالہ
وحیِ الٰہی یا دین کی رہنمائی کے بارے میں دنیا میں دو طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک غلط فہمی تو یہ ہے کہ اہل دنیا یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انسان زندگی ان ہدایات کے مطابق گزارے جیسے اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) کہتے ہیں تو پھر انسان ایک کامیاب زندگی نہیں گزار سکتا۔ قدم قدم پر شرعی اور اخلاقی رکاوٹیں انسان کے قدم روکتی ہیں۔ اسے جہاں بھی زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کا موقع ملتا ہے تو شریعت اس کے سامنے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی زنجیریں لے کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ دنیا میں بہتر زندگی کے لیے دنیا طلبی کو مقصد زندگی بنانا پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں ( علیہ السلام) کی ہدایت اس سے ابا کرتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ مجھے زندگی میں خوشیاں نصیب ہوں، مجھے کھل کھیلنے کا موقع ملے۔ میری خواہشات کے بروئے کار آنے کے مواقع پیدا ہوں۔ لیکن ایسے کتنے مواقع ہیں جن پر شریعت قدغن عائد کرتی ہے۔ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے دنیا کے سطحیت پسندوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر زندگی میں عیش کرنے ہیں تو پھر دین پر چلنے سے انکار کردو۔ اور اگر دین اور اخلاق کے مطابق زندگی گزارنی ہے تو پھر اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دو ۔ یہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر تم اسلامی شریعت کے اصولوں کے مطابق کاروبار کرتے ہو تو تمہارے گھر میں دولت کی ریل پیل کبھی نہیں ہوسکتی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس تصور کی اصلاح فرمائی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جسے ہم کامیابی کہتے ہیں وہ اپنے اختیار کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اسلام سب سے پہلے ہمیں زندگی کی حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اہداف مقرر کرتا ہے، پھر زندگی کے ان راستوں کو کھولتا ہے جن پر چل کر اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ آدمی جیسے جیسے ان اہداف کے اصول میں آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی زندگی میں آسودگی آتی جاتی ہے۔ وہ انسان کی اجتماعی زندگی میں اپنی بھلائی کے ساتھ دوسروں کی بھلائی بھی چاہتا ہے۔ وہ تجارت و صنعت میں اپنے اوقات کی قیمت کا تعین کرتا ہے، پھر دیانت و امانت کی اخلاق قدروں کو زندگی کا رہنما بنا کر تجارت و صنعت کو پھیلاتا چلا جاتا ہے اور زندگی کے فرائض کی پاسداری کو ذہن سے کبھی محو نہیں ہونے دیتا۔ اس فریم ورک میں جو زندگی گزرتی ہے اس میں خوشیاں پوری آب و تاب سے موجود رہتی ہیں۔ ترقی کے تمام امکانات اپنی جائز حدود میں ہر طرح انسان کی گرفت میں ہوتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کی حقیقت کو جاننے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ مجھ سے زیادہ خوش قسمت شاید ہی دنیا میں کوئی ہو۔ وہ اپنی خوش قسمتی، دولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ ادائے حقوق کی توفیق میں سمجھتا ہے۔ وہ انسانی آبادی کو جنگل میں منتشر درندوں کی بھیڑ نہیں سمجھتا بلکہ تمام انسانوں کو ایک اکائی اور ایک باپ کی اولاد اور ایک رب کے بندے سمجھتا ہے جو اپنے نفع و نقصان میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہیں جن کی خوشیاں سب کی مشترک خوشیاں ہیں اور جن کے غم سب کے سانجھے غم ہیں۔ اس کے یہاں انفرادیت کا ایک خاص دائرہ ہے جس کے بعد وہ اجتماعیت میں گم ہوجاتا ہے۔ مسلمانوں کی آبادیاں جزیروں میں بٹی ہوئی آبادیاں نہیں بلکہ رواں دواں ندی کی طرح ہیں۔ اس کا مالدار بےپایاں لوگوں کے لیے کفالت کا ٹھنڈا سایہ ہے اور اس کا مزدور اور غریب شخص مالداروں کے لیے دعا گو ہے۔ غریب مالداروں سے حسد نہیں کرتا اور امیر اپنے آپ کو مالک نہیں بلکہ امین سمجھتا ہے۔ اگر شہر میں غلے کی کمی واقع ہوجاتی ہے تو حضرت عبدالرحمن ابن عوف ( رض) اپنے غلے کا تجارتی قافلہ روک لیتے ہیں۔ تاجر یکے بعد دیگرے آکر بھائو چکانے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ ( رض) یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ اس سے زیادہ بھائو لگ چکا ہے۔ اچانک آپ ( رض) اعلان کرتے ہیں کہ تمام ضرورت مند اپنی ضرورتوں کے مطابق آکر غلہ لے جائیں اور کسی سے قیمت وصول نہیں کی جائے گی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جو قیمت اس پر خرچ آئی ہے اللہ تعالیٰ مجھے اسے کئی گنا بڑھا کر لوٹائے گا۔
آنحضرت ﷺ نے جو اسلامی معاشرہ تیار کیا تھا یہ اس کی واحد مثال نہیں بلکہ اس میں سے ایک ایک شخص اپنے وسائل اور ہمت کے مطابق حضرت عبدالرحمن ابن عوف ( رض) جیسا جذبہ رکھتا ہے۔ اور یہ حیات طیبہ ہے جو پروردگار اپنے اوپر ایمان لانے والوں کو عطا کرتا ہے بشرطیکہ دل ایمان کی روشنی سے تابندہ ہوں اور عمل قدم قدم پر اسلامی شریعت کی ترجمانی کرتا ہو۔
دوسری غلط فہمی جس کا ازالہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی ہے کہ دنیوی اور اخروی تمام تر سعادتیں مردوں کے لیے ہیں عورتوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ چناچہ ایسے ہی احساس کے ساتھ حضرت ام سلمہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے اسی سے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دونوں کے لیے ہر سعادت کا دروازہ کھلا ہے۔ انھوں نے کہا حضور ﷺ ! مرد دولت کماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں لٹا کر درجات حاصل کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے انھیں جو کچھ فرمایا، اس کا مفہوم یہ تھا کہ عورتیں بھی حق ملکیت رکھتی ہیں اور شرعی حدود میں رہ کر اس میں اضافہ بھی کرسکتی ہیں۔ حضرت ام سلمہ ( رض) نے مزید پوچھا کہ مردوں کے لیے تو سب سے بڑی سعادت کا راستہ یہ ہے کہ وہ جہاد کریں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کام آئیں جبکہ عورتیں اس سے محروم ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت کا جہاد حج ہے اور شاید ایک موقع پر یہ بھی فرمایا کہ عورت کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ وہ اپنی گود میں مجاہدین کو تیار کرتی ہے۔ ایک اچھی نسل، اچھی ماں کی گود میں پرورش پاتی ہے۔ تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جو قوم اچھی مائیں پیدا نہیں کرسکتی، وہ اچھے جانشینوں سے محروم رہتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ایسی ہی ہدایات ہیں جس نے مسلمان عورت کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دیا۔ اس کی نظریں گھر سے باہر نہیں گھر کے اندر قوم کی تقدیر تیار کرنے لگیں۔ اس کے شب و روز نے اپنا موضوع اپنے بچوں کو بنایا۔ اس نے اس طرح بچوں کی تربیت کی کہ وہ بڑے ہو کر اپنی ذات کو موضوع بنانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کو اور انسانی زندگی کی آسودگی کو اپنا ہدف بنایا۔ وہ جب تک زندہ رہے اسلام اور مسلمانوں کی قوت بن کے زندہ رہے اور جب کبھی اسلام یا مسلمانوں پر نازک وقت آیا تو انھوں نے اس کی جڑوں میں خون دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ حضرت خنساء ( رض) اپنے دور کی عظیم شاعرہ اور مسلمان معاشرے کے لیے نمونے کی ماں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں چار بیٹے دیے۔ جب جنگ قادسیہ میں حق و باطل کا معرکہ برپا ہوا تو آپ نے اپنے چاروں بیٹوں کو بلا کر فرمایا کہ بیٹو ! میں نے آج ہی کے دن کے لیے تمہیں پالا تھا۔ تم اپنے حسب و نسب میں نہایت پاکیزہ ہو۔ میں نے تمہارے ماموئوں کے دامن پر کوئی دھبہ نہیں لگایا۔ میری آرزو ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے ایک ایک کرکے اس طرح جان دو کہ تم ہر لگنے والا زخم اپنے سینے پر کھائو تاکہ قیامت کے دن میں تم پر فخر کرسکوں۔ چناچہ یہ چاروں بیٹے میدانِ قادسیہ میں جہاد میں شریک ہوئے اور ایک ایک کرکے مردانہ وار اسلام کی عزت و حرمت پر نثار ہوگئے۔ جب ان میں سے ایک بھائی زخم کھا کر گرنے لگتا تو دوسرے بھائی کو آواز دے کر کہتا کہ اماں سے کہنا کہ میں نے سینے پر زخم کھا کر جان دی تھی۔ قاصد جب ان کی شہادت کی خبر لے کر ان کے گھر پہنچا، ماں کو اطلاع ہوئی، فرمایا قاصد کو ذرا روکو۔ چناچہ دو نفل نماز پڑھی پھر قاصد سے ملیں۔ اس نے بتایا کہ آپ کے بیٹوں نے مردانہ وار سینے پر زخم کھا کر موت کا سامنا کیا۔ آپ کو مبارک ہو۔ فرمانے لگیں جب تم پہنچے تھے میں سمجھ گئی تھی کہ تم میرے بچوں کی شہادت کی خبر لائے ہو۔ لیکن میں نے منت مانی تھی کہ بچوں کی شہادت کی خبر سن کر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دو رکعت نمازشکرانہ پڑھوں گی۔ اس لیے میں نے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور پھر تم سے خبر وصول کی۔
یہی مائیں تھیں جن کی گود میں اسلام پلتا تھا
دونوں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے بعد مزید فرمایا کہ ہم مسلمانوں کو دنیا میں بھی سربلند کریں گے اور آخرت میں ہم ان کے بہترین اعمال کے مطابق تمام اعمال کا اجروثواب دیں گے۔
Ayah 16:98فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ (سورۃ النحل : 98)
(پس جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ )
شیطانی فتنوں سے پناہ مانگنے کی ہدایت
یہ آیت کریمہ دراصل تمہید ہے ان اعتراضات کے جواب کی جو دشمنانِ دین نے دین اور قرآن کے حوالے سے اٹھائے اور اگلی آیتوں میں ان کا جواب دیا جارہا ہے لیکن ان سے پہلے قرآن کریم کے بارے میں ضروری ہدایت دی جارہی ہے، وہ یہ کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو یا دوسرے لوگوں کے سامنے قرآن پڑھ کر سنانے لگو تو سب سے پہلے شیطانِ رجیم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ، کیونکہ شیطان کا کام ہی یہ ہے کہ وہ قرآن پڑھنے والے کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جسے قرآن پاک پڑھ کر سنایا جاتا ہے اسے بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلے تو قرآن پاک پڑھنے والے کے دل میں عجیب و غریب وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تم اس کتاب کی تلاوت کررہے ہو پہلے اس بات کا یقین تو پیدا کرو کہ یہ کتاب فی الواقع اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور واقعی نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ اور پھر اس کی کیا ضمانت کہ یہ کتاب واقعی اسے طرح محفوظ رہی جیسے نازل ہوئی تھی۔ اسے دنیا میں آئے ہوئے صدیاں گزر گئیں، یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس میں دیا ہوا نظام زندگی آج بھی قابل عمل ہے۔ خود مسلمانوں کو موجودہ رویہ اس کتاب کے بارے میں سب سے بڑا سوال ہے۔ پوری امت مسلمہ میں کہیں بھی اس کا نظام مکمل طور پر نافذ نہیں۔ اگر یہ آج کے دور میں کام دے سکتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ مسلمان اسے ماننے اور اس سے عقیدت رکھنے کے باوجود کسی مسلمان ملک میں اس کا تجربہ کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ ایسے ہی کتنے سوالات ہیں جو پڑھنے والوں اور سننے والوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور انھیں قرآن کریم کی طرف لانے کی بجائے اور دور کردیتے ہیں۔ اس کے علاج کے طور پر سب سے پہلے یہ حکم دیا کہ اس سے پہلے کہ شیطان کوئی وسوسہ اندازی کرے اور ہر ممکن طریقے سے اس کے پڑھنے والوں کو اس سے دور کردے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ ہمیں اس کے شرور اور اس کے وساوس سے محفوظ فرما اور اس کی شیطنت کے غلبے سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں اپنی پناہ عطا فرما۔
Ayahs 16:99–100اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْن۔ اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْن یَتَوَلَّوْنَہٗ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 99۔ 100)
(بیشک اس کا ان لوگوں پر کچھ بھی زور نہیں چلتا جو ایمان لائے ہوئے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا زور صرف انھیں پر چلتا ہے جو اسے دوست رکھتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرانے والے ہیں۔ )
مومنوں پر شیطان کا اثر نہیں ہوتا
یوں تو یہ سابقہ آیت کے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے، لیکن بالواسطہ طور پر قرآن پر ایمان لانے والوں کے لیے ضمانت اور ایک وعدہ بھی ہے۔ اور دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک تسلی بھی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شیطان کے وساوس اور اس کے چرتر بہت شدید ہیں۔ وہ بڑے بڑوں کو چکرا دیتا ہے۔ اس کے الجھاو وں سے بچنا آسان نہیں۔ لیکن صاحب ایمان لوگوں کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ جن کے پاس حقیقی ایمان کی قوت ہے اور وہ یقین کی قوت سے اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں اور کوئی شک و ارتیاب کا کانٹا ان کے یقین میں سوراخ نہیں کرسکتا۔ اور مزید یہ کہ وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرتے ہیں۔ ان کی فکر کو بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہوتا ہے اور ان کا عمل بھی اسی کے سہارے پروان چڑھتا ہے۔ شیطان اپنی ساری کوششوں کے باوجود ان پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ ہاں جو لوگ دعویٰ ایمان کا کرتے ہیں لیکن بھروسہ انھیں شیطان پر ہے۔ ان کے قلبی رشتے شیطانی قوتوں سے استوار رہتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کی بجائے نہ جانے کس کس کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی پناہ نصیب ہوگی یا نہیں، کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین کے بارے میں یکسو نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی اس کے لیے اپنا دروازہ نہیں کھولتی۔
Ayah 16:101وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ لا وَّاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 101)
(اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ اتارتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تم تو اپنے جی سے گھڑ لینے والے ہو بلکہ ان میں کے اکثر علم نہیں رکھتے۔ )
ایک اعتراض اور اس کا جواب
مشرکینِ مکہ قرآن کریم کے حوالے سے نبی کریم ﷺ پر جو اعتراضات کرتے تھے ان میں سے ایک اعتراض کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ مشرکینِ مکہ کا بنیادی طور پر اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہے اور ایک مقرب فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے پیغمبر ﷺ کے سینے پر اسے نازل کرتا ہے تو ہونا یہ چاہیے کہ ایسے کلام میں کبھی تبدیلی نہ آئے، کبھی اس میں کسی قسم کا نسخ نہ ہونے پائے۔ نہ الفاظ کے حوالے سے اور نہ مفہوم کے حوالے سے۔ اس آیت کریمہ میں چونکہ لفظ آیت کا آیا ہے اور آیت کا مفہوم عام طور پر حکم سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جب ہم کوئی نیا حکم نازل کرتے ہیں اور پہلے نازل کردہ حکم کو بدل دیتے ہیں تو کفار یہ اعتراض کرتے ہیں، لیکن کفار کے اعتراض پر بحث کرنے سے پہلے توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ آیت مکی سورت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہجرت سے پہلے جو سورتیں نازل ہوئی ہیں ان میں احکام کا نزول نہیں ہوا۔ احکام تو مدنی دور میں نازل ہوئے، تو پھر مکی دور میں آیات کے بدلنے کا کیا مفہوم ہے۔ اس سلسلے میں دو باتیں پیش نظر رہنی چاہئیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مکی زندگی میں اگرچہ عام احکام نازل نہیں ہوئے لیکن اخلاق سے متعلق ہدایات اور احکام تو نازل ہوئے ہیں۔ ایک سے زیادہ صحابہ ( رض) سے یہ روایت موجود ہے کہ آپ ﷺ مکارمِ اخلاق کا حکم دیا کرتے تھے۔ کیا ان احکام میں تدریج کے حوالے سے نسخ نہیں ہوسکتا ؟ لیکن ایک صورت یہ ہے کہ آیت سے مراد حکم نہ لیا جائے بلکہ اس سے مضمون مراد لیا جائے۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ قرآن کریم کوئی مضمون سمجھانے کے لیے کبھی ایک مثال سے کام لیتا ہے اور کبھی دوسری مثال سے کام لیتا ہے۔ کبھی اسے ریشمی لباس میں ادا کرتا ہے اور کبھی اسی کو سلگتے ہوئے الفاظ کا جامہ پہنا دیتا ہے اور انسانی شخصیت کی تعمیر میں کبھی وہ ایک ہدایت دیتا ہے اور کبھی دوسری ہدایت دیتا ہے۔ ایک معاملہ کا کبھی ایک پہلو پیش کیا گیا ہے اور کبھی اسی معاملے کا دوسرا پہلو سامنے لایا گیا ہے۔ ایک بات کے لیے کبھی ایک دلیل پیش کی گئی ہے اور کبھی دوسری دلیل، کہیں کسی جگہ ایک بات مجمل طور پر کہی گئی ہے اور دوسرے وقت میں اسی کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان میں بلاشبہ بعض دفعہ ایک بات کو بالکل بدل ڈالا گیا ہے لیکن عموماً اجمال اور تفصیل یا سادگی اور تاکیداسلوبِ کلام کا تقاضا ہوتا ہے جس شخص سے پہلی دفعہ بات کرنے کا موقع ملا ہے لیکن اس سے بات کرنے کا انداز نہایت ہموار اور رواں ہوگا کبھی شخصیت کی تعمیر کے لیے گفتگو میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے جس طرح ایک طبیب اپنے نسخے کے اجزا میں تبدیلی کرتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار، بہار کے بعد خزاں۔ ربیع کے بعد خریف اور خریف کے بعد ربیع۔ گرمی کے بعد سردی اور سردی کے بعد گرمی، یہ دنیا کے وہ حقائق ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کائنات کا حسن ہیں اور انسانی زندگی نہ صرف اس سے متأثر ہوتی ہے بلکہ محظوظ بھی ہوتی ہے۔ قرآن کریم بھی انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ایک نسخہء کیمیا ہے جو انسانی ضرورتوں کے مطابق پروردگار نازل فرماتا ہے اور اس کے سامنے جس طرح ضرورتیں واضح ہیں اسی طرح اس کے مواقع بھی واضح ہیں۔ ہمارا علم چونکہ نارسا ہے ہمیں اس میں دشواری پیش آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسی کوئی دشواری نہیں۔ یہ اہل مکہ کی کو تاہی فکر تھی کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے کی بجائے حضور ﷺ کو الزام دیتے اور آپ ﷺ کو مفتر گردانتے تھے۔ بےعلمی نے ہمیشہ ایسے ہی گل کھلائے ہیں۔
Ayah 16:102قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 102)
(کہہ دیجیے کہ اس قرآن کریم کو روح القدس نے تمہارے رب کی جانب سے حق کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ان لوگوں کو جمائے رکھے جو ایمان لائے ہیں، اور یہ ہدایت و بشارت ہو خدا کے فرمانبرداروں کے لیے۔ )
قرآن ایک ہی مرتبہ نازل کیوں نہیں ہوا ؟
مشرکینِ مکہ ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو اسے ایک ہی دفعہ نازل کردیا جاتاکیون کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کی احتیاج نہیں کہ وہ پہلے سوچ کر ایک مضمون تیار کرے، پھر اسے الفاظ کا جامہ پہنائے، پھر اس کی نوک پلک سنوارے۔ یہ قرآن پاک تھوڑا تھوڑا دھیرے دھیرے اترنا۔ یہ تو انسانی کمزوری ہے کہ وہ ایک کتاب کی تیاری میں مدتوں صرف کردیتا ہے۔ پروردگار نے نہایت قطعیت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے کہ قرآن کریم میری تیار کردہ کتاب نہیں جسے روح القدس نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے میرے سینے میں اتارا ہے۔ روح القدس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو تمام فرشتوں کے سردار ہیں ان کا نام لینے کی بجائے روح القدس کا لفظ استعمال کرکے اہل مکہ کو توجہ دلائی ہے کہ جس عزیز ذات کے واسطے سے یہ قرآن اتار گیا ہے وہ ایک پاکیزہ روح ہے جس سے کسی خیانت کا تصور بھی ناممکن ہے۔ رہی یہ بات کہ قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کرکے کیوں نازل کیا گیا ہے۔ اس کی حکمت اتنی واضح ہے کہ صرف وہی شخص اس کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے جو اسلام دشمنی میں اندھا ہوچکا ہو۔
ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے کہ عرب قوم، اُمّی قوم تھی جو نہ لکھنا جانتے تھے اور نہ پڑھنا جانتے تھے۔ شہربھر میں چند آدمیوں کا لکھا پڑھنا ہونا بھی تعجب خیز تھا اور پھر ان کی بھی لکھنے پڑھنے کی استطاعت ایک پرائمری لڑکے سے زیادہ نہیں تھی۔ ایسی قوم کے افراد کے سامنے اگر قرآن کریم جیسی علمی اور ادبی کتاب نازل کردی جاتی تو اولاً تو وہ اسے پڑھ ہی نہیں سکتے تھے اور اگر پڑھ لیتے تو اس کا مفہوم سمجھنا ان کے بس کی بات نہ تھی کیونکہ قرآن کریم ادبیاتِ عالیہ کی بلند ترین کتاب تسلیم کی جاتی ہے اور ان میں فکری گہرائی ایسی ہے کہ بعض دفعہ اسے سمجھنے کے لیے اس کے ایک ایک لفظ پر اعتکاف کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک ایک جملہ اپنی معنویت میں گہرے سمندر سے کم نہیں، اس کے الفاظ کا حسن تراشیدہ ہیروں کی طرح حیرت میں ڈبو دیتا ہے اور الفاظ کا دروبست بعض دفعہ نئے فکری پیمانوں کی بنیاد بن جاتا ہے۔ کتاب میں احکام اگرچہ بکھرے ہوئے ہیں لیکن ان کے اندر ایک ایسی تدریج اور ایک ایسا نظم و ضبط پایا جاتا ہے جسے سمجھنے کے لیے ابوحنیفہ ( رح) جیسے لوگ بھی عاجزی سے سر جھکاتے ہیں۔ ایسی کتاب اگر ایک قوم کی تعمیر کے لیے نازل کی جارہی تھی تو انتہائی ضروری تھا کہ وہ تھوڑی تھوڑی کرکے نازل کی جاتی تاکہ اس کا ایک ایک لفظ، ایک ایک جملہ اور ایک ایک مفہوم دلوں میں اتارا جاتا، پھر عملی زندگی پر اس کا انطباق ہوتا۔ اور اس طرح سے وہ قومی زندگی میں ایک روح کی مانند سرایت کرتا۔ یہی وہ چیز ہے جسے تثبیت کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اور اجتماعی زندگی میں اسی سے ہدایت کا سامان کیا گیا ہے اور پھر یہی چیز مسلمانوں کے لیے بشارت بن گئی۔
Ayah 16:103وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ط لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ النحل : 103)
(ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے اس آدمی کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں، عجمی ہے، اور یہ فصیح عربی زبان ہے۔ )
آنحضرت ﷺ پر الزام کا جواب
دشمنی میں لوگ کیسے کیسے اعتراض اٹھاتے اور کیسی کیسی یا وہ گوئی کرتے ہیں، یہ اس کی ایک بدترین مثال ہے۔ قریش مکہ نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں اور عام انسانوں کو اس سے بدگمان کرنے کے لیے یہ کہا گیا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے کہاں اتری ہے، یہ تو مکہ میں ایک غلام ہے جو پڑھا لکھا ہے اور پہلی آسمانی کتابیں جانتا ہے، وہ آنحضرت ﷺ کو سکھاتا پڑھاتا ہے۔ چناچہ اس کی مدد سے حضور ﷺ کچھ عربی عبارت تیار کرتے ہیں اور اسے قرآن کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔ اس غلام کا نام کہیں جبر بیان کیا گیا ہے جو عامر بن الحضرمی کا ایک رومی غلام تھا۔ بعض لوگ خویطب بن عبدالعزیٰ کے غلام کا نام لیتے ہیں۔ ایک روایت میں یسار کا نام لیا گیا ہے جس کی کنیت ابوفکیہ تھی۔ بعض لوگ حضرت سلمان فارسی ( رض) کا نام لیتے ہیں۔ نام کچھ بھی ہو مقصود تو صرف یہ ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے کی بجائے کسی ایسے غلام کی طرف منسوب کرتے تھے جس کا آنا جانا آنحضرت ﷺ کے پاس تھا جو تورات اور انجیل پڑھنا جانتا تھا۔ قرآن کریم نے اس آیت کے پہلے ہی لفظ سے اس اعتراض کی لغویت کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اس اعتراض کو ایک عرصے سے سنتے رہے ہیں لیکن اس کا جواب دینا اس لیے پسند نہیں کیا کہ لوگ اس کی لغویت کو خود محسوس کرلیں گے۔ لیکن جب ہم نے محسوس کیا کہ اندھی دشمنی نے ہر نامعقول بات کو قبول کرنا شروع کردیا ہے تو اس کا جواب دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
جس شخص نے بھی قرآن کریم کی چند آیات سنی ہیں وہ چاہے اللہ تعالیٰ کے دین کا کیسا ہی دشمن کیوں نہ ہو، عرب ہونے کی وجہ سے اور عربی زبان جاننے کی وجہ سے اس سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ قرآن کریم کی زبان کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد بھی اسے کسی ایسے غلام کا کلام سمجھ لیں جو غلام عربی نہیں بلکہ عجمی ہے۔ وہ شہر مکہ میں رہنے کی وجہ سے ممکن ہے عربی بول لیتا ہو لیکن قرآن کریم کی زبان صرف عربی نہیں بلکہ عربی مبین ہے جس کی مثال لانے سے عرب بھر کے فصحا عاجز ہیں۔ قریش مکہ نے اسلام دشمنی میں ہر پاپڑ بیل کے دیکھ لیا اور دشمنی کا ہر طریقہ آزما لیا حتیٰ کہ حرب و ضرب تک نوبت پہنچی لیکن وہ اس بات کے لیے کبھی تیار نہ ہوئے کہ قرآن کریم جیسی ایک سورت ہی بنا کے لے آئیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی فکری گہرائی کو تو وہ کیا پاسکیں گے وہ اس کے الفاظ اور جملوں کی دلآویزی تک بھی اپنی رسائی ممکن نہیں سمجھتے۔ اپنی اس کم مائیگی کو تسلیم کرنے کی بجائے انھوں نے قرآن کریم کو بےاعتبار کرنے کے لیے ایک ایسی بات کہی ہے کہ جو ان کے اپنے لیے الزام بن کر رہ گئی اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو لوگ دشمنی میں اندھے ہوجاتے ہیں ان سے بدتر سے بدتر کمینگی کی بھی توقع رکھی جاسکتی ہے۔
Ayahs 16:104–105اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لا لاَ یَھْدِیْھِمُ اللّٰہُ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 104۔ 105)
(بیشک جو لوگ ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ وہی لوگ جھوٹ تراشا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں۔ )
ہدایت سے متعلق اللہ تعالیٰ کا قانون
آنحضرت ﷺ کی دعوت دین کی غیرمعمولی مساعی کو دیکھ کر ہمیشہ یہ خیال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف آنحضرت ﷺ کی انتہائی دلآویز شخصیت دوسری طرف قرآن کریم جیسی اعجازی شان رکھنے والی کتاب اور تیسری طرف لوگوں سے آپ کی انتہا درجہ ہمدردی و غمگساری اور چوتھی طرف ان کے ایمان کے لیے آپ ﷺ کی غیرمعمولی مساعی کو دیکھتے ہوئے یہ باور کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آپ ﷺ کے مخاطب آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ ﷺ کی دعوت کا راستہ روکنے اور ہر ممکن طریقے سے آپ ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے پر اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر سالوں تک یہ کشمکش جاری رہی تاآنکہ آپ ﷺ نے ہجرت فرمائی اور مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ اس نکتہ کو کھولا، اس کا حاصل یہ ہے کہ ہدایت کے جتنے ممکن ذرائع ہیں ہم ان تمام ذرائع کو بروئے کار لا کر انسانوں کے لیے ہدایت قبول کرنا آسان بنا دیتے ہیں۔ لیکن جب وہ بجائے قبول کرنے کے اس کا راستہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو پھر ہم انھیں ہدایت نہ دینے کا فیصلہ کردیتے ہیں اور یہی وہ موقع ہے جب ان کی محرومی کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کے دل و دماغ پر مہریں لگا دیتے ہیں۔ اب ان کی زندگی کذب اور جھوٹ کی تصویر بن جاتی ہے۔ جب تک انھیں موقع رہتا ہے وہ حق و باطل کی اس کشمکش میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کہتے رہتے ہیں۔ اس سے اگلی آیت میں اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بدبخت خود تو جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر آنحضرت ﷺ کے لیے الزامات واتہامات ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کا دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب منزل من اللہ نہیں بلکہ نہ جانے اس میں کس کس کی قلمکاریاں شامل ہیں اور کتنے احکام ہیں جنھیں محض آنحضرت ﷺ نے خود گھڑا ہے۔ ایسی باتیں کرنا ان کا معمول بن گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر یقین کرتا ہے اور اسے اس بارے میں بھی کوئی شبہ نہیں ہوا کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ ایسے شخص سے کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ زندگی کے کسی معاملے میں جھوٹ بولے۔ چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ تو حق کا ترجمان، حق کی برہان اور منارہ نور بن کر آتا ہے۔ اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کے بارے میں جھوٹ کا تصور کیا جائے۔ جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ان کی شان بھی یہ ہے جسے آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہ ِﷺ اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ جُبَاناً قَالَ نَعَمْ فَقِیْلَ لَہٗ اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ بَخِیَلاً قَالَ نَعَمْ فَقِیْلَ لَہٗ اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ کَذَّابًا قَالَ لاَ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کیا مومن بزدل ہوتا ہے ؟ فرمایا، ہاں۔ (ہوسکتا ہے) پھر پوچھا گیا کیا مومن بخیل ہوتا ہے ؟ فرمایا، ہاں۔ پھر پوچھا گیا کیا مومن جھوٹا ہوتا ہے ؟ فرمایا نہیں۔
Ayah 16:106مَنْ کَفَرَبِاللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ اِلاَّ مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ م بِالْاِیْمَانِ وَلٰـکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہِ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔
(سورۃ النحل : 106)
(جو اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو، لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دے گا تو ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔ )
ارتداد اور عزیمت و رخصت
یہ آیت کریمہ اس وقت نازل ہوئی ہے جب مکہ مکرمہ میں ظلم اور اذیت کی چکی پورے زوروں سے چل رہی تھی۔ ایک طرف نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی نبوت پر اعتراضات کی بارش کی جارہی تھی اور قرآن کریم کے بارے میں عجیب و غریب اشتباہات پیدا کیے جارہے تھے اور دوسری طرف غریب اور بےسہارا مسلمانوں کے لیے زندگی دشوار سے دشوار تر بنائی جارہی تھی۔ چناچہ ان بڑھتے ہوئے مظالم کی وجہ سے اس بات کا امکان پیدا ہورہا تھا کہ مسلمانوں کو تشدد اور ظلم کے ذریعے ارتداد کے راستے پر نہ ڈال دیا جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بروقت اس کا نوٹس لیا اور ان لوگوں کے حوصلے بڑھائے جو اس راستے میں ہمت سے بڑھ کر صبر کا ثبوت دے رہے تھے اور وہ لوگ جن پر ظلم تمام انسانی پیمانوں کو توڑتا ہوا آگے بڑھتا جارہا تھا ان کے لیے کسی حد تک سانس لینے کا موقع پیدا کیا گیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر اس میں ذرا سی بھی کوتاہی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بہت عظیم ہے، اس میں گرفت ہوتے دیر نہیں لگتی۔
مسلمانوں نے اس راستے میں جو نقوش قدم چھوڑے ہیں وہ اس قدر درخشاں اور تاباں ہیں کہ قیامت تک قربانی و ایثار کی تاریخ اس سے روشن رہے گی۔ کون نہیں جانتا کہ حضرت بلال ( رض) کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا یہاں تک کہ ان کی چربی پگھلنے سے آگ بجھتی۔ مگر ان کے ایمان میں کوئی تزلزل نہ آیا۔ حضرت خباب ( رض) کو بھی بارہا ایسے ہی مراحل سے گزرنا پڑا لیکن کیا مجال جو ان کی استقامت میں فرق آیا ہو۔ حضرت حبیب بن زید بن عاصم ( رض) جن کے بدن کا ایک ایک عضو مسیلمہ کذاب کے حکم سے کاٹا جاتا تھا اور پھر مطالبہ کیا جاتا تھا کہ مسیلمہ کو نبی مان لیں مگر ہر مرتبہ وہ اس کے دعویٰ رسالت کی شہادت دینے سے انکار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں کٹ کٹ کر انھوں نے جان دے دی۔ عمار بن یاسر ( رض) ہیں جن کی والدہ حضرت سمیہ ( رض) کو اس طرح شہید کیا گیا کہ ان کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے باندھ دی اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے اور پھر دونوں اونٹوں کو مختلف سمتوں میں ہانک دیا۔ اور ابوجہل نے ان کے اندامِ نہانی میں نیزہ مارا۔ آپ کا جسم دو حصوں میں چر گیا لیکن آپ کی زبان سے کلمہ طیبہ کے سوا اور کچھ نہ نکلا۔ اس کے بعد آپ کے والد گرامی حضرت یاسر ( رض) کو بڑی اذیتیں دے کر شہید کیا گیا۔ پھر حضرت عمار ( رض) کو پکڑا اور ایسی ناقابلِ برداشت اذیتیں انھیں پہنچائی گئیں کہ ان کے ہاتھ سے برداشت کا دامن چھوٹ گیا اور آپ ( رض) نے جان بچانے کے لیے وہ سب کچھ کہہ دیا جو کفار ان سے کہلوانا چاہتے تھے۔ پھر وہ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! مجھے اس وقت تک کافروں نے نہ چھوڑاجب تک میں نے آپ ﷺ کو برا اور ان کے معبودوں کو اچھا نہ کہہ دیا۔ حضور ﷺ نے پوچھا کہ تم اپنے دل کی کیفیت کیا پاتے ہو۔ حضرت عمار ( رض) نے کہا مطمئنا بالایمان یعنی ایمان پر پوری طرح مطمئن۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے اطمینان کا اظہار فرمایا اور یہ رخصت دی کہ اگر پھر بھی وہ کافر کبھی ایسی ناقابلِ برداشت تکلیفیں پہنچائیں اور تم سے کسی کلمہ کفر کا مطالبہ کریں تو تم وہی کچھ کہہ دو جو وہ کہلانا چاہیں بشرطیکہ دل ایمان پر مطمئن ہو اور ایسی باتوں کی کراہت پوری طرح دل میں موجود ہو ؟
حقیقت میں یہ بہت نازک معاملہ ہے۔ ایک طرف جان کو خطرہ ہے جسے کفار ترازو کے پلڑے میں رکھ کر مومن کا امتحان لے رہے ہیں اور دوسری طرف ایمان کی جان کنی ہے۔ ایذا رسانی کا عمل یقینا ناقابلِ برداشت ہورہا ہے، لیکن کیا ایسا ناقابلِ برداشت ہے جس کے لیے ایمان کو دائو پر لگا دیا جائے۔ اس میں ذراسی کوتاہی آخرت کی کھیتی کو اجاڑ سکتی ہے۔ جس شخص کو دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا ہے اس کے لیے اس سے بڑھ کر تکلیف اور کیا ہوسکتی ہے۔ اور اگر وہ کافروں کی ایذائوں سے ڈر کر وہ کچھ کہہ دیتا ہے جو وہ کہلوانا چاہتے ہیں تو اس کا بھی اندیشہ ہے کہ دل میں اپنی جان کے بچانے کا جذبہ ایمان پر غالب آجائے۔ ترازو کے دو پلڑوں میں ایک طرف ایمان اور اس کے مقتضیات ہیں اور دوسری طرف جان کو بچانے کی فکر ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تقاضا ہے کہ جان بچانے کی اجازت ضرور ہے بشرطیکہ حوصلے جواب دے رہے ہوں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ روش نہیں، وہ اہل عزیمت کو پسند کرتا ہے، اہل رخصت کو نہیں، البتہ رخصت کی اجازت دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ مسلمانوں نے نہایت خطرناک حالات میں بھی عزیمت پر عمل کرنا ضروری سمجھا۔
جس طرح بیشتر صحابہ کرام ( رض) نے اپنی جان دے دی لیکن تختہ دار پر بھی اپنے اسلام کا اعلان کرتے رہے۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن حذیفہ ( رض) کا ایک ایمان افروز واقعہ لکھا ہے۔ آپ بھی پڑھئے اور غلامان مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنائ کی جان بازی اور سرفروشی کی داد دیجیے۔
حضرت عبداللہ بن حذیفہ ( رض) کو رومیوں نے قید کرلیا اور اپنے سردار کے پاس لے آئے۔ اس نے آپ ( رض) کو کہا عیسائی بن جاؤ، میں تمہیں اپنی حکومت میں سے بھی حصہ دوں گا اور اپنی بیٹی کا رشتہ بھی دوں گا۔ آپ ( رض) نے فرمایا لواعطیتنی جمیع ماتملک و جمیع ماتمل کہ العرب علی ان ارجع عن دین محمد ﷺ طرفۃ عین ماقبلت یعنی تو مجھے اپنی ساری دولت اور جائیداد اور سارے اہل عرب کی دولت اس شرط پردے کہ میں ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے نبی کریم ﷺ کے دین سے دست کش ہوجاؤں تو پھر بھی میں قبول نہیں کروں گا۔ اس نے دھمکی دی کہ میں تمہیں قتل کردوں گا۔ آپ ( رض) نے فرمایا بصد خوشی۔ اس نے آپ ( رض) کو سولی پر لٹکانے کا حکم دیا اور تیراندازوں کو کہا کہ ان کے ہاتھ اور پائوں پر آہستہ آہستہ چوٹیں لگائو۔ انھوں نے ایسا کرنا شروع کیا اور اس نے پھر عیسائیت قبول کرنے کی پیشکش کی۔ آپ ( رض) نے انکار کردیا۔ پھر اس نے سولی سے اتارنے کا حکم دیا۔ پھر ایک تابنے کی دیگ کو آگ پر تپایا گیا اور ایک مسلمان قیدی کو حضرت عبداللہ کے سامنے اس میں پھینک دیا گیا اور اس نے وہیں تڑپ کر جان دے دی۔ اس دھمکی کے بعد پھر اس نے کوشش کی کہ یہ عیسائیت کو قبول کریں۔ آپ ( رض) انکار کرتے رہے۔ آخر انھیں دیگ میں پھینکنے کا حکم دیا۔ جب جلاد انھیں اٹھا کر اس تپتی ہوئی دیگ کی طرف لے جارہا تھا تو ثبات و استقامت کے اس پہاڑ میں اضطراب کی ہلکی سے جھلک نہ تھی۔ جب دیگ کے کنارے تک پہنچے تو آپ ( رض) کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ بادشاہ کو خیال آیا کہ شاید اب اسلام کو چھوڑ کر میرا مذہب قبول کرلیں گے۔ اس لیے واپس لانے کا حکم دیا۔ رونے کی وجہ پوچھی۔ آپ ( رض) نے فرمایا کہ میں اس لیے رو پڑا تھا کہ میری ایک جان ہے جسے رضائے الٰہی کے لیے اس دیگ میں ڈالا جارہا ہے۔ کاش میرے پاس اتنی جانیں ہوتیں جتنے میرے جسم پر بال ہیں اور میں سب کو اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس عذاب میں ڈال دیتا۔ بادشاہ نے آپ ( رض) کو قید کردیا اور کھانا پینا بند کردیا۔ کافی دن بھوکا اور پیاسا رکھنے کے بعد کچھ شراب اور کچھ خنزیر کا گوشت ان کی طرف بھیجا لیکن آپ ( رض) نے ہاتھ نہ لگایا۔ بادشاہ نے پھر اپنے دربار میں طلب کیا اور نہ کھانے کی وجہ پوچھی، آپ ( رض) نے فرمایا حالت اضطرار میں اگرچہ اس کا استعمال حرام نہیں لیکن میں تجھے یہ موقع نہیں دینا چاہتا تھا کہ تو میرے ایمان کی کمزوری کے باعث اظہارِخوشی کرے۔ بادشاہ نے کہا اس طرح کرو کہ میرے سر کو بوسہ دو اور میں تمہیں آزاد کردوں گا۔ آپ ( رض) نے فرمایا کہ میرے ساتھ سارے مسلمان اسیروں کو آزاد کردو گے۔ اس نے کہا ہاں۔ چناچہ آپ ( رض) نے اس کے سر کو چوما۔ اس نے آپ ( رض) کو اور تمام مسلمان قیدیوں کو آزاد کردیا۔ جب یہ سب حضرت فاروق اعظم ( رض) کے پاس پہنچے اور آپ ( رض) کو یہ ماجرا سنایا تو آپ ( رض) نے فرمایا حق علی کل مسلم ان یقبل راس عبداللہ بن حذیفۃ وانا ابدأ فقام فقبل راسہ ؓ کہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ عبداللہ کا سر چومے اور ابتدا میں کرتا ہوں۔ چناچہ آپ ( رض) نے کھڑے ہو کر ان کے سر کو بوسہ دیا۔
Ayah 16:107ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ لا وَاَنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 107)
(یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اللہ تعالیٰ کفر اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ )
ارتداد کا سبب اور اس کا انجام
گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جس نے ایمان لانے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کیا اور پھر کفر کے لیے اس نے پوری طرح اپنا سینہ کھول دیا اور اس طرح سے اس نے مکمل طور پر اپنے آپ کو کفر کے حوالے کرکے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خود کو محروم کرلیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار کیوں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ انسان کے سامنے دو ہی راستے ہیں ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت جو پیغمبروں کے واسطے سے آتی ہے اسے قبول کرکے زندگی کا وہ رویہ اپنا لے جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور بندے کی بندگی سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا ملتی ہے اور اسی سے آخرت کی کامیابیاں نصیب ہوں گی۔ اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ آدمی حیات دنیا کو اپنی منزل بنا لے، اپنی خواہشات کو اپنا رہنما بنا لے، ضروریاتِ زندگی کو مقاصدِ حیات ٹھہرا لے اور ساری زندگی کو لہو کے بیل کی طرح انہی ضروریات کے حصول میں کھپادے۔ اسی میں ترقی اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش کو اپنا منتہائے مقصود سمجھے اور وہ کبھی بھول کر بھی یاد نہ کرے کہ کبھی آخرت بھی آنی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب بھی دینا ہے۔ ان دو راستوں میں سے پہلا راستہ ایمان کا راستہ ہے اور دوسرا راستہ ارتداد اور کفر کا راستہ ہے۔ جو شخص پہلا راستہ اختیار کرتا ہے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مستحق ٹھہرتا ہے اور جو شخص دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب برستا ہے کیونکہ اس راستے پر وہ لوگ چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی ہدایت کا راستہ نہیں دکھاتا۔
Ayahs 16:108–109اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَسَمْعِہِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اَجَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 108۔ 109)
(یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور کے سمع و بصر پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی اور یہی لوگ ہیں جو آخرت سے غافل ہیں۔ لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں ناکام و نامراد ہوں گے۔ )
جو لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ درحقیقت روشنی کے بعد اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں۔ ان کی آنکھوں نے حقائق کو دیکھا لیکن انھوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ ان کے کانوں نے نغمہ ہائے سرمدی سنے لیکن انھوں نے اپنے کان بند کرلیے۔ ان کے دلوں نے انوارِ الٰہی کے جلوے دیکھے لیکن ان کی بصارت نے عبرت نہ پکڑی۔ ہر طرف سے کٹ کر صرف خواہشِ نفس کے راستے پر بڑھتے چلے گئے۔ ایسے لوگوں کی سزا اس سے مختلف کیا ہوگی کہ جن نعمتوں کی انھوں نے قدر نہیں کی وہ ان سے چھین لی جائیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے قانون نے ان کی ناقدری کی انھیں سزا دی اور آنکھ اور کان اور دل جو ہدایت کو اختیار کرنے کا ذریعہ ہیں ان سے انھیں محروم کردیا۔ اور ان کو اس زندگی کے حوالے کردیا جس میں زندگی سانس کی آمدوشد کا نام تو ہے لیکن ہدایت کا کوئی گزر وہاں نہیں ہوتا۔ وہ زندگی صرف غافل لوگ گزارتے ہیں، وہ اپنی ضروریاتِ زندگی کو مقصد زندگی سمجھ کر اس میں کھوئے رہتے ہیں۔