Ayahs 16:120–122اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیْفًا ط وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ شَاکِرًالِّاَنْعُمِہٖ ط اِجْتَبٰـہُ وَھَدٰہُ اِلٰی صِرْاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ وَاٰ تَیْنٰـہُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً ط وَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 120۔ 121۔ 122)
(بیشک ابراہیم (علیہ السلام) ایک الگ امت تھے، اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار یکسوئی سے حق کی طرف مائل تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ وہ اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو چن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ اور ہم نے انھیں دنیا میں ہر طرح کی بھلائی عطا فرمائی اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف
یہودونصاریٰ اور مشرکین سب اپنی اپنی خرافات کی تائید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام استعمال کرتے تھے۔ یہود نے اپنے طور پر شریعت میں جو کمی بیشی کی تھی اسے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اور عیسائیوں نے تو شریعت کا حلیہ ہی بگاڑ ڈالا حتیٰ کہ لحم خنزیر کو بھی اپنے لیے حلال قرار دے دیا۔ اس شوخ چشمی کے باوجود سہارا وہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہی لیتے تھے اور مشرکینِ عرب تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنی اجارہ داری سمجھتے تھے۔ ان سب کی تردید کے لیے یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس طرح کیا جارہا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جتنے گمراہ فرقے اپنا انتساب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہی طرف کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اور وہ جو کچھ کہتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں کیونکہ ان کے دنیا سے تشریف لے جانے کے صدیوں بعد یہودیت اور نصرانیت پیدا ہوئی۔ اس لیے وہ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی۔ تویہودیت اور نصرانیت ان کی طرف اپنے آپ کو کیسے منسوب کرسکتی ہے اور یا انھیں اپنے میں سے کیسے قرار دے سکتی ہے۔ جہاں تک مشرکینِ عرب کا تعلق ہے ان میں قریش اگرچہ ان کی اولاد ہیں اور وہ انھیں کے بنائے ہوئے بیت اللہ کے متولی بھی ہیں لیکن انھوں نے جس طرح اللہ تعالیٰ کے گھر کو ایک تیرتھ بنا کے رکھ دیا ہے اور ایک خانہ ساز شریعت اپنی طرف سے گھڑ کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردی ہے۔ اس لحاظ سے ان کا بھی کوئی تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے نہیں ہے۔ یہ الگ الگ امتیں ہیں جنھوں نے اپنے لیے الگ الگ شریعتیں بنا رکھی ہیں۔ لیکن حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) وہ اپنی ذات میں خودایک الگ امت تھے۔ ان امتوں سے ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔ یہ ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کا نام ضرور لیتے ہیں لیکن یہ ملت ابراہیم ( علیہ السلام) سے بیگانہ ہوچکے ہیں۔ لغتِ عرب میں امت کا لفظ متعدد معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً 1 وہ انسان جو تمام خوبیوں کا جامع ہو، 2 امام اور پیشوا، 3 علمبردارِ حق و صداقت، 4 جو دنیا بھر سے الگ تھلگ ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان تمام اوصاف کے اعتبار سے امت کہے جانے کے مستحق ہیں۔ ان میں سے کون سی ایسی خوبی اور کمال ہے جس سے آپ ( علیہ السلام) متصف نہ تھے۔ آپ ( علیہ السلام) کی امامت کی گواہی خود قرآن کریم نے دی۔ آج تک تینوں آسمانی مذاہب آپ ( علیہ السلام) کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) اگرچہ فردِ واحد تھے لیکن آپ ( علیہ السلام) نے امتوں کی بنیادیں اٹھائیں۔ آپ ( علیہ السلام) نے ایک ایسا گھر بنایا جو تمام دنیا کا سجدہ گاہ بنا۔ آپ ( علیہ السلام) کی زندگی کے کارناموں اور قربانیوں نے وہ نقوش ثبت کیے جن سے امتوں نے استفادہ کیا ہے۔ جب دنیا میں کہیں بھی ہدایت کا نور موجود نہیں تھا اور دنیا کفر اور شرک کے اندھیروں میں غوطے کھا رہی تھی۔ تنہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کا چراغ روشن کیا اور اسے لے کر ملکوں ملکوں گھومے اور اپنی قربانیوں سے ہر جگہ توحید کے گہرے نقوش ثبت کیے۔ آپ ( علیہ السلام) کے جن اوصاف نے انسانیت کو روشنی بخشی ہے یوں تو ان کا شمار ممکن نہیں لیکن ان میں سے بعض کا ذکر پروردگار نے فرمایا ہے وہ یقینا انسانیت کا اثاثہ ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قانت تھے۔ اس کا معنی ہے اطاعت گزار اور فرمانبردار اور دوسری بات فرمائی کہ آپ ( علیہ السلام) حنیف تھے۔ یعنی ہر آستانے سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ کا ہوجانے والا۔ ان دونوں صفات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ایک ایسا نمونہ معلوم ہوتی ہے جس پر فخر تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا اتباع آسان نہیں۔ آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے آستانے پر سر جھکایا اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا عہد کیا تو مشیخیت کی گدی کو ٹھوکر مار دی۔ وقت کے اقتدار نے آپ ( علیہ السلام) کو جھکانا چاہا۔ آپ ( علیہ السلام) نے ان کے نام نہاد خدائوں کے سر پھوڑ ڈالے اور اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ میرا سر اس کے سامنے جھکتا ہے جس نے تجھے زندگی دی ہے اور جو تجھے موت دے گا۔ وقت کی منہ زور قوتوں نے جب آپ ( علیہ السلام) کی زندگی چھیننا چاہی تو آپ ( علیہ السلام) نے آگ کے الائو میں کود جانے میں بھی تأمل نہ کیا۔ شہروں سے منہ موڑا اور وادی ٔ غیرذی زرع کو اپنا مسکن بنایا۔ آپ ( علیہ السلام) کو دیکھ کر قدم قدم پر احساس ہوتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار کس طرح ہر آستانے سے بےنیاز ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے لو لگانے والا کس طرح دنیا سے کٹ کر بھی خوش و خرم رہتا ہے۔ مزید فرمایا کہ وہ مشرکین میں سے نہیں تھا جبکہ دنیا مشرکوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجالانے والا تھا۔ اہل دنیا میں سے کسی کا احسان لینا اسے گوارا نہ تھا۔ جب اس نے ثابت کردیا کہ اس کا سب کچھ اس کے خدا کا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے برگزیدہ کیا اور نبوت کے لیے چن لیا اور دنیا کی امامت کا تاج اس کے سر پر سجایا اور صراط مستقیم کی اس کو ہدایت بخشی۔ باوجود اس کے کہ کسی ملک کے اقتدار نے اسے برداشت نہ کیا تاہم ایک مخصوص علاقے میں اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی عزت اور وجاہت عطا کی کہ وہ اس علاقے کا رئیس سمجھا جانے لگا اور کنعان اور اس سے ملحقہ علاقہ اس کی عملداری میں دے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی صالح اولاد عطا فرمائی جن میں نبوت کا سلسلہ رواں دواں رہا، نئی نئی امتیں وجود میں آئیں، آپ ( علیہ السلام) ہی کی اولاد کو دنیا کی امامت دی گئی۔ حتیٰ کہ آخری تاجدارِ رسالت ﷺ بھی آپ ( علیہ السلام) کی اولاد میں سے آیا جس نے چند ہی سالوں میں جزیرہ عرب پر اللہ تعالیٰ کے دین کا پرچم لہرا دیا اور اس کے شاگردوں اور جانشینوں نے ایک محدود عرصے میں آدھی سے زیادہ زمین پر اللہ تعالیٰ اور اس کی حاکمیت کے نام کے ڈنکے بجا دیے۔ آخرت میں آپ ( علیہ السلام) کا شمار زمرہ صالحین میں ہوگا، یعنی وہ گروہ جس میں اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہوں گے جو امتوں پر اللہ تعالیٰ کے گواہ بنا کر اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 16:123ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا طوَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 123)
(پھر ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیروی کیجیے جو بالکل یکسو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ )
یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا غالباً سب سے بڑا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدالمرسلین ﷺ کو آپ ( علیہ السلام) کی ملت کے اتباع کا حکم دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور غیر اللہ سے یکسر لاتعلقی کا اعلیٰ معیار جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قائم کیا تھا اسے اگر آگے بڑھانا تھا تو یقینا اس کے لیے آنحضرت ﷺ کی ذات عزیز اور آپ ﷺ کی عظیم امت کی ضرورت تھی۔ صاحب تاج العروس نے ملت کے لفظ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا کہ صحت عقائد، مکارمِ اخلاق، دعوت و ارشاد کا حکیمانہ انداز، دلائل کی پختگی، بیان کی دلنشینی اور منکرین کے جور و جفا کے مقابلے میں حلم و بردباری یہ وہ ملت ابراہیمی ہے جس کے اتباع کا حکم اس آیت میں دیا جارہا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان اوصاف کو جس طرح نئے سے نئے معنی پہنائے اور جس طرح ان کی درخشندگی کو فزوں تر کیا اور جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کاوشوں کو دنیا کے بیشتر حصے میں کامیابی کی بنیاد بنایا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کا حکم دینے کا مقصود کیا تھا اور اس کے نتیجے میں دنیا میں کیا کچھ عطا کرنا مقصود تھا۔
Ayah 16:124اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ط وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 124)
(بلاشبہ سبت انھی لوگوں پر عائد کیا گیا تھا جنھوں نے اس کے باب میں اختلاف کیا، اور بیشک تمہارا رب ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ )
سبت کا ملت ابراہیم ( علیہ السلام) سے کوئی تعلق نہیں
اس آیت کریمہ میں یہود کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ وہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ آپ لوگ ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کے داعی ہیں جبکہ یہودیت ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کی نمائندہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہودیوں میں سبت کا کس قدر احترام تھا اور اس روز کے لیے خاص احکام تھے، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ سبت کا احترام نہیں کرتے اور اس کا اس طرح اہتمام نہیں کرتے جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہود کو حکم دیا تھا۔ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ اولاً تو یہود کا ملت ابراہیم ( علیہ السلام) سے کوئی تعلق نہیں اور مزید یہ کہ سبت کا تعلق یہود سے ہو تو ہو، ملتِ ابراہیم ( علیہ السلام) میں سے تو اس کا کوئی واسطہ نہیں رہا۔ اس لیے اس کے بارے میں احکام یہود ہی میں نازل کیے گئے اور انھیں کے ایک گروہ نے کھلم کھلا اس کی بےحرمتی کی تو وہ گروہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوا، لیکن جب معاملہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچا تو انھیں سبت کے بارے میں ایسے احکام نہیں دیے گئے۔ اب جبکہ دین کی تکمیل ہورہی ہے اور آخری رسول ﷺ تشریف لے آئے ہیں اور آخری کتاب نازل ہوگئی ہے تو اس امت کا سبت سے کیا تعلق۔ البتہ یہودیوں کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ انھیں چونکہ اس دن کے بارے میں خاص احکام دیے گئے تھے اور پھر انھوں نے ان احکام میں اختلافات پیدا کیے اور ہر گروہ نے اپنی بات پر اصرار کیا اور دوسرے کو گمراہ ٹھہرایا۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھاجائے گا تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے اور چونکہ وہ ان اختلافات میں کوئی کلمہ عادلہ نہیں پا سکے اور آج تک انھیں اختلافات کا شکار ہیں، اب قیامت کے دن ہی اللہ تعالیٰ ان کے ان جھگڑوں کا فیصلہ کرے گا۔ عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آخری رسول پر ایمان لائیں اور اپنی کوششوں سے اسلام میں اپنے لیے یہ مقام پیدا کریں۔
Ayah 16:125اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَا اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 125)
(دعوت دو اپنی رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ، اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو پسندیدہ ہو، بیشک آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پانے والے ہیں۔ )
اس آیت کا پس منظر
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اور اس کے بعد کی آیات اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حالات میں دو تبدیلیاں محسوس کی جارہی تھیں، ایک یہ کہ قریش مکہ کی جانب سے مسلمانوں پر اذیت رسانی کا عمل انتہائوں کو چھونے لگا تھا۔ ان کے راستے میں کوئی روک باقی نہیں تھیں اور کسی رشتے کا پاس ان کے یہاں بےمعنی ہو کر رہ گیا تھا۔ اندیشہ پیدا ہورہا تھا کہ مسلمانوں میں اس بےپناہ اذیت رسانی کیخلاف کوئی ردعمل پیدا نہ ہوجائے کیونکہ مسلمانوں کے حالات اب ایسے نہیں رہے تھے کہ وہ خاموشی سے مار کھاتے رہیں، لیکن مسلمانوں کی طرف سے ردعمل کی صورت میں چونکہ دعوت الی اللہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوسکتا تھا اس لیے پروردگار نے ضروری سمجھا کہ دعوت کے بنیادی اصول واضح کیے جائیں۔
دوسری تبدیلی یہ محسوس کی جارہی تھی کہ اب شاید ہجرت کا زمانہ دور نہیں، وہاں مسلمانوں کو ایسے لوگوں میں دعوت کا کام کرنا ہوگا جو قریش مکہ سے مختلف مزاج کے حامل تھے۔ اوس و خزرج اگرچہ قحطانی عرب تھے لیکن عدنانی عربوں سے بہت مختلف مزاج رکھتے تھے۔ پھر وہاں تین قبیلے یہود کے بھی آباد تھے، ان کا مزاج یکسر الگ اور ان کے تحفظات دعوت الی اللہ کے بالکل معارض۔ ایسے حالات میں ضرورت محسوس ہوئی کہ تبلیغ و دعوت کے آداب تفصیل سے واضح کردیے جائیں۔
اس آیت کریمہ میں جو آداب ذکر فرمائے گئے ہیں ان کے دو عنوانات ہیں، دعوت بالحکمت اور موعظہ حسنہ، لیکن کبھی کبھی بحث اور جدال تک بھی نوبت پہنچ سکتی ہے۔ وہ اگرچہ دعوت کا لازمی تقاضا نہیں لیکن ضرورت بلاشبہ ہے۔ اس لیے بعد کی آیات میں صبر کے عنوان سے اس کے بارے میں ہدایات دی گئیں۔ عام طور پر حکمت سے مراد دلائل وبراہین لیے جاتے ہیں اور موعظت حسنہ سے مخلصانہ اور خیرخواہانہ انداز میں تذکیر و تنبیہ مراد لی جاتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ دانائی کے ساتھ مخاطب کی ذہنیت، استعداد اور حالات کو سمجھ کر نیز موقع و محل دیکھ کر بات کی جائے۔ اور عمدہ نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ صرف دلائل پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ مخاطب کے جذبات کو بھی اپیل کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ان دونوں اصطلاحات کو کوئی سا بھی لفظی معنی پہنا لیجئے، مقصود تو صرف یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے لیے جن جن نزاکتوں کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور جیسے کچھ اس کے آداب ہونے چاہئیں اور داعی کو جیسا ہمدرد اور یقین کا حامل ہونا چاہیے اور اسلوب جیسا کچھ دلآویز ہونا چاہیے اور موقع و محل کی سمجھ اور گفتگو کے موضوع پر دلائل کا جیسا استحضار ہونا چاہیے، یہ سب چیزیں جمع ہوں تو تبلیغ و دعوت کی وہ صورت وجود میں آتی ہے جس کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں اور نبی کریم ﷺ جس کے عملی نمائندہ تھے۔ چناچہ اس لحاظ سے جب ہم اس موضوع پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سید المر سلین خاتم النبین ﷺ کی عظیم اور تابناک زندگی کا ہر عمل اپنی جگہ پر ایک معجزہ ہے۔ مگر بالخضوص تبلیغ آپ کا ایک ایسا عمل ہے کہ جس کی کا میابیوں کو دیکھ کر یقین کرنا پڑتا ہے کہ یقینا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول تھے ورنہ تبلیغ و دعوت کے لیے یہ جانفشانی اور پھر اس میں ہر ہر قدم پر حکمت ِ تبلیغ کا لحاظ اور پھر ہر موقع کی منا سبت سے افراد اور قوموں کے مزاج کے اعتبار سے اس حکمت میں نئے نئے پہلو ؤں کا اضافہ یہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کے رسول ہی کی صفات ہوسکتی ہیں۔ وہی ذات والا صفات ایسی ہوسکتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے علم نبوت سے نئے نئے گوشوں کو کھولتی ہے اور تبلیغ و دعوت کے ہر میدان میں حکمت کے نئے پہلو اجاگر کرتی ہے۔
حکمت کا ایک پہلو
اس حوالے سے سب سے پہلے جو چیز سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے پیغام کی تبلیغ اور اس کی دعوت کے لیے جس قوم سے واسطہ پڑا اس سے زیادہ جاہل، اجڈ، اپنی بات پر اڑنے والی، اپنے آبائو اجداد کی روایات کی پاس داری کرنے والی اور اپنے باطل خیالات پر ہر طرح کی قربانی دینے والی اور پھر علم کی ہر شاخ سے تہی دامن قانون اور اخلاق کے الفاظ تک سے نا بلد۔ خاص طور پر دینی اصطلا حات اور دینی مز اج سے کوسوں دور شاید ہی کوئی قوم گزری ہو۔ صدیاں بیت گئیں تھیں کہ اس خطے میں کوئی رسول مبعوث نہیں ہوا تھا۔ اس لیے توحید اور آخرت کا تصور ان کے لیے بالکل ایک اجنبی بات تھی۔ اس سخت صورت حال کو جب رسول اللہ ﷺ نے ملاحظہ فرمایا تو حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے آغاز ہی میں دعوت و تبلیغ کے لیے جن حکمتوں کو ملحوظ رکھا اس کی گہرائی اور گیرائی پر جب نظر ڈالی جاتی ہے تو سوائے حیرت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ آپ نے اس قوم کی تمام منفی خصو صیات کو یکسر ایک طرف رکھ کر ان کی مثبت خصو صیات کو تلاش کیا اور آپ چونکہ خود عرب تھے اس لیے عربوں کی نفسیات کو پہچانتے ہوئے اس کا پورا لحاظ رکھا۔ آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ دینی اصطلا حات اور لاہوتی مسائل سے تو واقف نہیں لیکن بات کی تہہ تک پہنچ جانے اور جلد سے جلد کسی حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد اس کا اعتراف کرلینے میں ان کو امتیاز حاصل ہے اسی طرح وہ قوت ِ مشاہدہ اور عقل عام سے بہت حد تک بہرہ ور تھے۔ وہ عالم ِ غیب اور اس کی نفسیات کو تو نہیں جانتے تھے لیکن فطری ماحول کی نزاکتوں کو خوب سمجھتے تھے چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنی دعوت کے آغاز میں ان کی انہی خصوصیات کا سہارا لیا۔ آپ ﷺ نے اپنی قوم کو اپنی بات سنانے کی خاطر جمع کرنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا جو عربوں میں رائج تھا۔ عربوں کا قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص کوئی خطرہ محسوس کرتا یا اسے کسی دشمن کا خوف ہوتا تو وہ کسی پہاڑ کی چوٹی یا ٹیلے پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارتا، یا صبا حاہ، یا وا صبا حاہ…
لوگ اس کی آواز کو سن کر دوڑ پڑتے اور اپنے کام چھوڑ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے نکل پڑتے۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی کوہ صفا پر کھڑے ہو کر یہ طریقہ اختیار فرمایا۔ یہ پہاڑ قریش کی آبادی سے قریب تر تھا۔ آپ نے وہاں سے آواز دی یا صبا حاہ، لوگوں نے خطرے کی اس گھنٹی کو سنکر اس کی طرف دوڑنا شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اہل مکہ میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو یہ آواز سن کر نہ آیا ہوا اور جو خود نہ آسکا اس نے اپنے نمائندے یا قائم مقام کو بھیجا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عملی طور پر حضور ﷺ نے پہاڑ پر کھڑے ہو کر اپنے منصب کی حقیقت واضح کی۔
نبوت جو سراسر ایک علمی مو ضوع ہے آپ نے اس کو علمی اند از میں سمجھانے کی بجائے وہ اند از اختیار فرمایا جس سے عرب استفادہ کرسکتے تھے آپ نے انہیں پہاڑ پر کھڑے ہو کر عملاً یہ بات سمجھائی کہ تم پہاڑ کے دامن میں ہو۔ ظاہر ہے کہ صرف پہاڑ کے سامنے دیکھ سکتے ہو اس کے پیچھے نہیں دیکھ سکتے اور وہ خطرہ جو تمہارے لیے وبال جان بن سکتا ہے وہ پہاڑ کے پیچھے اور تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہے اس کو وہ شخص دیکھ سکتا ہے جو پہاڑ کے اوپر کھڑا ہو کیونکہ اس کی نظر سامنے اور پیچھے دونوں طرف ہے۔ میری حیثیت یہ ہے کہ میں نوع انسانی کے مسائل ضروریات احساسات اور انفعالات کے ایک بلند وبالا پہاڑ پر کھڑا ہوں۔ اس کی زندگی کے بارے میں جو نقصانات پیش آسکتے ہیں وہ اس پہاڑ کے پیچھے ہیں۔ پوری نوع انسانی صرف پہاڑ کو دیکھ سکتی ہے لیکن اس کے عقب کو نہیں دیکھ سکتی۔ اس کو وہ دیکھے گا جو پہاڑ کے اوپر کھڑا ہو۔ وہ دنیا جس کو تم دیکھتے ہو وہ ظاہری دنیا ہے اور اس ظاہری دنیا کا انجام تو اس عالم غیب کے پہاڑ کے پیچھے ہے اور میں اوپر کھڑا دونوں کو دیکھ رہا ہوں اگر تم میری اس حیثیت کا اعتراف کرسکو تو میں تمہیں آنے والے خطرے سے آگاہ کرسکتا ہوں۔ اس طرح آپ نے وہ قوم جو صرف پیکر محسوس کو ماننے کی خوگر تھی اس کو مخصوص مثال کے ذریعے اپنی حیثیت سے آگاہ فرمایا۔ چناچہ جب ان کو نبوت کی اصل حیثیت کا احساس ہوگیا تو اب اس کے بعد دوسری بات یہ تھی کہ ایسے بلند وبالا منصب پر کون فائز ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے وہی فائز ہوسکتا ہے جو اس بگڑے ہوئے معاشرے میں 40 سال گزار کر بھی سچائی کا مینار ثابت ہوا ہو۔ جس نے گندگی میں رہ کر بھی کبھی دامن کو گندہ نہ ہونے دیا ہو۔ جو اندھیروں میں رہ کر بھی دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو چناچہ آپ نے نہایت حکمت و دانش سے سب سے پہلے یہی سوال کیا کہ لوگو بتلائو تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو۔ کیا تم نے کبھی مجھے جھوٹ بولتے سنا ہے میں نے کبھی کسی معاملے میں خیانت کی ہے۔ تمہیں کبھی مجھ سے کسی ناحق بات کا تجربہ ہوا ہے تو پورے مجمع نے بیک زبان یہ اعتراف کیا۔
کہا سب نے قول آج تک کوئی تیرا
کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا
اس اعتراف حقیقت کا نتیجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کا پیغام ماننے سے انکار کیا اور آپ کی دعوت کو جھٹلایا وہ بھی ہمیشہ اپنی اس کمزوری کو محسوس کرتے رہے اور آپس میں جب انھیں باتیں کرنے کا موقع ملتا تو ایک دوسرے سے کہتے کہ بھائیوعجیب بات ہے کہ جس شخص نے لڑکپن کا زمانہ اور جوانی کے ایام ہم میں گزارے ہیں اور اس پورے چالیس سالہ دور میں ہمیں کبھی اس سے جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا اور بندوں کے معاملات میں کبھی اس نے خیانت نہیں کی تو کیا اب اس عمر میں پہنچ کر جب کہ اس کی جوانی ڈھل رہی ہے تو کیا وہ اللہ پر بہتان باندھے گا یعنی آپ کی حکمت تبلیغ نے جس طرح اپنے منصب اور اپنی حقیقت کو تسلیم کروایا اس سے ہمیشہ کے لیے آپ کے مخالفین اخلاقی طور پر آپ کے سامنے کمزور ہوگئے۔
اپنے منصب کی عظمت اور اپنی اخلاقی بلندیوں کا اعتراف کروانے کے بعد آپ کے جس عمل نے سب سے زیادہ لوگوں پر اثر ڈالا اور جسے حکمت تبلیغ کی جان کہنا چاہیے وہ تین چیزیں تھیں۔
حکمتِ تبلیغ کی جان تین چیزیں
آپ نے مشرکین مکہ کے سامنے جب اپنی دعوت رکھی تو انھوں نے اس دعوت کا راستہ روکنے کے لیے جو ہتھکنڈے اختیار کیے اور جس طرح آپ کا تمسخر اڑایا گیا آپ پر عجیب و غریب پھبتیاں کسی گئیں۔ آپ پر الز امات اور اتہامات کا ایک طوفان اٹھایا گیا۔ حتی کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ راستوں میں آپ کے لیے چلنا گھر میں قیام کرنا اور کعبتہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل بنادیا گیا۔ بالاخر آپ کے قتل کے منصوبے باندھے جانے لگے۔ آپ کو وطن سے نکالنے کے لیے تدبیریں ہونے لگیں لیکن یہ ساری بد تمیزیوں کے طوفان میں ہمیں کوئی ایک ایسا واقعہ بھی نہیں ملتا کہ حضور اکرم ﷺ کی استقامت میں اپنے مو قف پر یقین و اطمینان میں اللہ پر توکل اور اعتماد میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی کمی آئی ہو۔ حتیٰ کہ جب بھی آپ کے ماننے والوں میں سے کسی نے پریشان ہو کر مخالفین کے لیے بد دعا کی درخواست کی تو آپ نے اس پر خفگی کا اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم سے پہلے گزرنے والی قوموں میں جن لوگوں نے دعوت کا کام کیا وہ اس سے زیادہ سخت حالات سے دو چارہو چکے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اس دعوت کا انجام کیا ہوگا تو تم اپنی زندگی میں اس کے غلبہ عمومی کو دیکھو گے اور صرف یہ مکہ ہی نہیں بلکہ قیصر و کسریٰ کی عظمتیں بھی تمہارے سامنے خم ہوں گی اور آج جبکہ راہ چلتے قافلے لوٹ لیے جاتے ہیں تم دیکھو گے کہ یہ خطہ امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ آج جبکہ تمہیں کھانے کو نصیب نہیں ہوتا تم دیکھو گے کہ لوگ زکوٰۃ کے مستحقین کو ڈھو نڈیں گے لیکن انھیں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ملے گا۔ اپنی دعوت اپنی بات اپنے رویئے اور اپنی پیش کردہ صداقت پر یہ بےپناہ اطمینان اور یہ حد درجہ استقامت بالا خر مخالفین کو سوچنے پر مجبور کردیتی تھی کہ اگر اس دعوت میں کوئی نفسانی خواہش شامل ہوتی تو اس کے داعی اور اس کے پیرو کار کبھی تو اس میں کوئی تر میم کوئی سمجھوتہ اور کسی کمزوری کو قبول کرلیتے چناچہ یہ استقامت کتنے لوگوں کے دل کھولنے کا باعث ہوگئی۔
اسی طرح دوسری چیز جسے حکمت تبلیغ کی جان کہنا چاہیے وہ یہ ہے کہ دشمنانِ حق کی طرف سے جیسے ابھی عرض کیا گیا کوئی ایسی اذیت کوئی ایسی مصیبت اور کوئی ایسا دکھ نہیں جو حضور اکرم ﷺ کی ذات والا صفات کو بر داشت نہ کرنا پڑا ہو۔ مگر اس کے باوجود آپ کے دل میں کبھی ان کی طرف تنفر انتقام یا اشتعال کا کوئی ایک لمحہ بھی تلاش کرنے سے نہیں ملتا بلکہ اس کے بر عکس ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ گالیاں دیتے ہیں۔ حضور ﷺ دعائیں دیتے ہیں وہ پتھر مارتے ہیں حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ان کے لیے پھول جھڑتے ہیں۔ وہ آپ کی جان لینے کے درپے ہیں اور حضور ﷺ کو ان کی زندگیاں سنوانے کی فکر ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ بد سے بدتر دشمن بھی ہمد ردی اور خیر خواہی کے مقابلے میں دیر تک کھڑا نہیں رہ سکتا اور جس کی خیر خواہی کا عالم یہ ہے کہ طائف میں اس پر پتھروں کی بارش کی جائے اور وہ زخموں سے نڈھال ہو کر باربار غش کھا کر گرے۔ حتیٰ کہ جان بچانے کے لیے ایک باغ کی پناہ لینے پر مجبور ہوجائے اور جب اس کسمپرسی، بےبسی اور اذیت کے دوران پہاڑوں کا فرشتہ آکر یہ کہے کہ حضور ﷺ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اگر آپ حکم دیں تو میں طائف کے دونوں پہاڑوں سے اس آبادی کو پیس ڈالوں تو حضور ﷺ فرمائیں کہ نہیں میں ان کے لیے بد دعا نہیں کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ یہ لوگ اگر خود نہیں تو ان کی اولاد سے خدا کے نام لیوا اٹھیں گے۔ چناچہ یہ دنیا والوں کی عجیب و غریب خیر خواہی اور ہمد ردی تھی جس نے آخر ان لوگوں کو بھی قدموں میں جھکنے پر مجبور کردیا جو آپ کے بد ترین دشمن تھے۔
تیسری چیز جسے آپ کی حکمت تبلیغ میں بڑی اہم حیثیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے جس بات کا حکم دیا اور جس بات کی تبلیغ فرمائی خود سب سے پہلے اس پر عمل کر کے دکھایا بلکہ اس سے بڑھ کر اس پر عمل کر کے دکھایا۔ لوگوں کو اگر آپ نے مال کا چالیس واں حصہ راہ خدا میں دینے کا حکم دیا تو خود اپنے ساری پونجی پیش کردی۔ دوسروں کے چھوڑے ہوئے مال میں اگر آپ نے قانون وراثت کے مطابق تقسیم کا حکم دیا تو خود اپنے پیچھے کوئی ترکہ تک نہیں چھوڑا۔ لوگوں کو اگر پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا تو خود آٹھ نمازیں پڑھیں اور تہجد آپ کے لیے فرض قرار دے دی گئی۔ اگر آپ نے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ زندگی میں حقیقی اہمیت آخرت کو ہے دنیا ایک ضرورت ہے مقصود نہیں۔ تمہیں دنیا اور متاع دنیا سے دل لگانے کی بجائے بےرغبتی کا ثبوت دینا ہوگا تو خود آپ نے دنیا سے بےرغبتی کا ایسا اعلی نمونہ پیش فرمایا کہ مولانا ظفر علی خان مرحوم کے الفاظ میں۔
قدموں میں ڈھیر اشرفیوں کا لگا ہوا
اور تین دن سے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا
ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گہر
اور اپنا یہ حال کہ ہے چولہا بجھا ہوا
بےرغبتی کی انتہا یہ ہے کہ آپ نے اپنی اولاد کے لیے زکوۃ تک کو حرام کر ڈالا اور حکومت اور ریاست امت مسلمہ کے پاس امانت چھوڑ گئے۔ آپ کی زندگی کا یہ رویہ وہ عملی تبلیغ ہے کہ جس کے بارے میں صحابہ کہتے تھے کہ ہم نے احکام تو قرآن حکیم سے سیکھے لیکن اس کی حقیقت حضور ﷺ کے اعمال سے سیکھی۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں کہ نماز میں خشوع و خضوع کیا ہوتا ہے یہ اس وقت معلوم ہوا جب رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ کے سینے سے ایسی آواز آتی تھی کہ جیسے ہنڈیا ابلنے سے یا چکی کے چلنے سے آتی ہے۔ بڑے سے بڑا دشمن بھی جب حضور ﷺ کی زندگی کی اس عملی تصویر کو دیکھتا تھا تو عبد اللہ بن سلام جو یہودی عالم تھے ان کی طرح پکار اٹھتا تھا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں ہوسکتا۔ مختصر یہ کہ آپ کے اعمال حقیقت میں آپ کی تبلیغ کی وہ حکمت ہے جس سے بڑھ کر کوئی تبلیغ موثر نہیں ہوسکتی۔
حکمتِ تبلیغ کا ایک اور پہلو
رسول اللہ ﷺ کی حکمت تبلیغ کا تعلق دو چیزوں سے ہے۔ ایک آپ کی دعوت، منصب ِ دعوت اور داعی کی حیثیت اور دوسری چیز ہے اسلوبِ دعوت۔ جس طرح آپ نے اپنی عملی زندگی اپنی خیر خواہی اپنی گہری دلسوزی، اللہ تعالیٰ پر بےپناہ یقین اور اعتماد اور مصائب کے مقابلے میں برداشت اور صبر اور ہر طرح کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک جیسی حکمتوں سے اپنی دعوت و تبلیغ کو آگے بڑھایا۔ اسی طرح اس تبلیغ و دعوت کے موثر ہونے میں حکمت کے ایک دوسرے پہلوکا بھی دخل ہے جس کا تعلق اسلوبِ دعوت سے ہے اس میں جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں چند حکمتیں بہت نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ سب سے پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں ہر شخص کی ذہنی سطح اور اس کے مدارج ِ عقلی کا پورا پورا خیال فرماتے تھے۔ شہری لوگوں سے ان کے اند از اور معیار کے مطابق گفتگو فرماتے اور دیہاتی اور بدوی لوگوں سے ان کی ذہنیت کے مطابق بات کرتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس سلسلے میں بنی فزارہ کے ایک شخص کا ذکر کیا ہے جو بدوی تھا۔ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے جو سیاہ رنگ کا ہے میں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے کیونکہ ہم میاں بیوی میں سے کوئی بھی سیاہ رنگ کا نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی سمجھ اور پیشہ کے مطابق جواب مرحمت فرمایا۔ اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ اس نے کہا جی ہیں۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا وہ کس رنگ کے ہیں۔ اس نے کہا سرخ رنگ کے۔ آپ نے اس پر سوال کیا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا یا کم سیاہ رنگ کا کوئی اونٹ بھی ہے اس نے کہا ہاں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب تم ہی بتائو کہ سرخ رنگ کے اونٹوں میں یہ سیاہی کیسے آگئی۔ اس نے اس کے جواب میں کہا ممکن ہے کہ اس کی نسل میں کوئی اونٹ خاکستری یا سیاہ رنگ کا ہو اور یہ اس کی جھلک آگئی ہو۔ جب بات یہاں تک پہنچی تو آپ نے یہ فرما کر اس کے شک کو دور کردیا کہ تمہارے بیٹے کے معاملے میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ یہ نسب کا کرشمہ ہے اور اس میں تمہاری بیوی کا کوئی قصور نہیں ہے اس طرح طبرانی کی روایت ہے کہ قریش کا ایک نوجوان جو حیو انیت کے جذبات سے مغلوب تھا۔ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے بدکاری کی اجازت فرما دیجیے۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ حاضرین اس پر لپکے اور اس گستاخی پر اس کو خوب ڈانٹا۔ آپ نے یہ دیکھا تو فرمایا کہ اس سے تعرض نہ کرو اور اس کو اپنے قریب بلا کر پوچھا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ جن رشتوں کا تم احترام کرتے ہو ان میں سے کسی کے ساتھ کوئی یہ بری حرکت کرے اس نے کہا میں تو ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ نے فرمایا کہ تم جس برائی کا ارادہ کر رہے ہو وہ برائی بھی تو آخر کسی کی بہن اور بیٹی کے ساتھ ہی ہوگی اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ وہ اس سادہ تفہیم کے اند از سے جو اس کی ذہنی سطح کے عین مطابق تھی اس قدر متاثر ہوا کہ ہمیشہ کے لیے اس سے تائب ہوگیا۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ حضور اپنی دعوت میں آسانی، تیسیر اور تدریج کو ملحوظ رکھتے تھے۔ آپ کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ احکام اور مسائل میں تنگی پیدا نہ ہونے پائے اور اس کی خاطر اپنے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی فرماتے تھے اور جب دوسرے لوگوں کو کہیں تعلیم یا تبلیغ کے لیے بھیجتے تو ان کو بھی حکم دیتے کہ لوگوں کو تعلیم دو اور آسانی پیدا کرو اور مشکلات سے پرہیز کرو۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ اغلو طات سے منع فرمایا کرتے تھے۔ امام اوزاعی ( رح) کہتے ہیں کہ اس سے مقصود یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے مشکل و پیچیدہ مسائل بیان نہ کیے جائیں جن سے وہ کچھ اخذ نہ کرسکیں بلکہ صرف وہ باتیں بیان کی جائیں جن کو وہ آسانی سے سمجھ سکیں۔ بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ حکمت ِ تبلیغ کا دارومد ارچون کہ اس بات پر تھا کہ اپنی دعوت کو لوگوں کے دماغوں میں اتارا جائے۔ اس لیے آپ ﷺ بعض دفعہ حسب ضرورت گفتگو میں اپنے مخاطب کے لب و لہجہ کا بھی خیال رکھتے اور یہ بھی دیکھتے کہ اس کا تعلق کس قبیلے سے ہے اور اس قبیلے میں کس نوعیت کی زبان رائج ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے عاصم الاشعری سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔ لیس من امبرامصبیام فی امسفر (لیس من البرالصیام فی السفر) کہ سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں۔ لیکن چونکہ عاصم قبیلہ اشعر سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی عادت یہ تھی کہ اکثر لام کو م کے ساتھ بدل دیتے تھے۔ چناچہ آپ نے انہی کے لب و لہجہ میں بات فرمائی اور مقصود صرف یہ تھا کہ مخاطب بات کو پوری طرح سمجھ سکے۔ صحابہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی عادت میں یہ بات بھی تھی کہ جب کسی اہم دینی بات کو دل و دماغ میں اتارنا چاہتے تو عموماً اسے تین مرتبہ دہراتے تاکہ بات دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔ اس معاملے میں آپ کی احتیاط کا عالم یہ تھا کہ جس طرح آپ لوگوں کے لب و لہجہ اور احساسات کا خیال فرماتے تھے اسی طرح ان کی نفسیات کا بھی خیال فرماتے۔ انسانی فطرت ہے کہ آدمی ہر وقت بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور اگر موقع بےموقع اسے بات سننے پر مجبور کیا جائے تو اس کا ذہن اس کا دل اسے قبول نہیں کرتا۔ حضرت علی ؓ اسی حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دلوں میں خواہشات اور میلانات ہوتے ہیں اور کسی وقت وہ بات سننے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور کسی وقت وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ لوگوں کے دلوں میں ان میلانات کے اندر داخل ہو کر اس وقت بات کہنی چاہیے جب وہ سننے کے لیے تیار ہوں۔ اس لیے کہ دل کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کسی بات پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ اندھا ہوجاتا ہے اور بات قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اس کا ہمیشہ لحاظ رکھتے تھے اور ہر وقت اور موقع بےموقع وعظ و نصیحت سے احتراز فرماتے تھے۔ حضرت ابن مسعود ( رض) کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ وعظ و نصیحت میں تخول سے کام لیتے تھے۔ یعنی وقفہ دے کر بات کرتے تھے تاکہ روزانہ اور ہر وقت کی نصیحت سے طبیعتیں اکتا نہ جائیں۔
مختصر یہ کہ تبلیغ و دعوت چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی اس کا تعلق دعوت اسلام سے ہو یا دعوت اصلاح سے، سامعین شہری ہوں یا دیہاتی مخاطب پیروکار ہو یا بد ترین دشمن ہرحال میں آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت اپنے اند رایسی حکمت و دانش اور حکیمانہ اسلوب رکھتی ہے کہ جس کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ایک زندگی چاہیے اور اس کو بیان کرنے کے لیے ایک سفینہ چاہیے اور یہی وہ حکمت و دانش ہی تھی جس کے نتیجے میں تبلیغ و دعوت کی کامیابی اور کامرانی کی وہ شکل آج ہمارے سامنے ہے کہ بڑے سے بڑا دشمن بھی اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ جو پذیرائی جو وسعت اور جو قبول ِ عام حضور ﷺ کی تبلیغ و دعوت کو مختصر عرصے میں نصیب ہوا اور پھر جس طرح اس نے دماغوں اور دلوں میں نفوذ حاصل کیا اور پھر جس کی وسعتوں کے سامنے ملکوں بلکہ براعظموں کی وسعتیں سمٹ گئیں وہ کسی اور دعوت کو آج تک نصیب نہیں ہوسکا مگر آہ اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے کہ جس دعوت کی بنیاد حکمت و دانش اور جس طریقہ دعوت کی بنیاد حکیمانہ اسلوب پر رکھی گئی تھی آج یہ دعوت بہت حد تک اس سے محروم ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دوسرے مذاہب اور دوسری قوموں کو ہمارے اندر داخل ہو کر ارتداد اور الحاد کے لیے کام کرنے کے مواقع میسر ہیں۔ ہم دوسروں کو اس دعوت سے تو کیا متأثر کرتے اپنے گھر میں لگی ہوئی آگ کو بجھانا بھی ہمارے بس سے باہر ہورہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوبارہ اپنی اس کھوئی ہوئی میراث کو پانے کی کوشش کریں اور وہی حکیمانہ اسلوب وہی حکمت و دانش وہی خیر خواہی وہی اعتماد و توکل کی بےپنا ہی وہی برائی کے مقابلے میں نیکی کارویہ، الزامات اور اتہامات کے مقابلے میں اسی موعظہ حسنہ کا اند از اختیار کر کے ایک دفعہ پھر اتمام حجت اور شہادت حق کا فرض انجام دیں کیونکہ :
ہم کو بخشی ہیں خدا نے دہری دہری خدمتیں
خود تڑپنا ہی نہیں اوروں کو تڑپانا بھی ہے
خود سراپا نور بن جانے سے کب چلتا ہے کام
ہم کو اس ظلمت کدے میں نور پھیلانا بھی ہے
Ayah 16:126وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَاعُوْقِبْتُمْ بِہٖ ط وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَخَیْرٌلِّلصّٰبِرِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 126)
(اگر تم انھیں سزا دینا چاہو تو انھیں سزا دو ، لیکن اس قدر جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے، اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ )
مکارمِ اخلاق کی تعلیم
ایک عام مسلمان کو بالعموم اور داعی الی اللہ کو بالخصوص جن مکارمِ اخلاق کا حامل ہونا چاہیے یہاں اس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ عام ہموار زندگی میں تو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، لیکن جب مسلمان طاقتور دشمنوں میں گھرے ہوئے ہوں تو ہر وقت ایسی صورتحال پیدا ہونے کا موقع ہوتا ہے کہ کوئی مخالف اٹھ کر بلاوجہ کسی مسلمان کو ظلم کا نشانہ بنائے۔ ایسی صورت میں ایک مسلمان کو کیا کرنا چاہیے۔ اگر حالات اس بات کی اجازت دیں تو پروردگار اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جس نے تم پر زیادتی کی ہے تم ٹھیک ٹھیک اس زیادتی کا بدلہ لے لو۔ لیکن اس میں جو احتیاط لازم ہے وہ یہ ہے کہ تمہارے ساتھ جیسی زیادتی ہوئی ہے، ویسا ہی بدلہ لو۔ یہ مت کرو کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے تیارہوجاؤ۔ اگر کسی شخص نے انگلی کاٹی ہے تو اس کے بدلے میں انگلی کاٹی جائے، اس کا ہاتھ نہ کاٹ دیا جائے۔ یہ بدلہ لینا انسان کا فطری حق ہے اور انسانی اجتماعی زندگی کا تقاضا بھی، کیونکہ اگر ظلم کرنے والوں کو یہ یقین ہوجائے کہ ہم سے کوئی بدلہ لینے والا نہیں تو وہ کبھی بھی ظلم سے ہاتھ روکنے والے نہیں۔ لیکن یہاں مشکل یہ ہے کہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ بدلہ لیتے ہوئے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر ذرا سی بھی بےاحتیاطی ہوگئی تو وہ شخص جو داعی حق بن کر اٹھا ہے اس کے لیے جواب دینا مشکل ہوجاتا ہے اور لوگ اس معمولی بات کو ایک الزام بنا دیتے ہیں۔ اس لیے احتیاط اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ سرے سے بدلہ لینے کا تصور ہی دماغ سے نکال دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ ظالم کا ظلم پھر ٹیس دینے لگتا ہے اور آدمی کو کسی کل قرار نہیں آتا۔ اس لیے یہ بات بےحد ضروری ہے کہ ایک مومن کو یہ تربیت دی جائے کہ بدلہ لینا تیرا حق ہے لیکن بدلہ چھوڑ دینا ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت اجر وثواب رکھا ہے۔ امام ترمذی نے اپنی کتاب میں حضرت ِ حذیفہ ( رض) کی روایت سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ اے اہل ایمان بےسوچے سمجھے لوگوں کی پیروی کرنے والے نہ بنو، کہ تم یہ کہو جیسے عام کہا جاتا ہے کہ اگر ہمارے ساتھ لوگوں نے اچھا برتائو کیا تو ہم بھی اچھا برتائو کریں گے بلکہ اپنے آپ کو اس بات کا خوگر بنا لو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئیں تو تم بھی حُسنِ سلوک سے پیش آئو۔ اور اگر لوگ تمہارے ساتھ برا اور نارواسلوک کریں تو تم پھر بھی ان پر ظلم و زیادتی نہ کرو۔
Ayah 16:127وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلاَّ بِاللّٰہِ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَلاَ تَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 127)
(اور آپ ﷺ صبر کیجیے اور نہیں ہے آپ ﷺ کا صبر مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، آپ ﷺ نہ تو ان پر رنجیدہ ہوں اور نہ ان کی چالوں سے جو یہ چلتے رہتے ہیں، پریشانی میں مبتلا ہوں۔ )
صبر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے
اس آیت میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن روئے سخن عام مسلمانوں کی طرف ہے۔ مکہ معظمہ کی صورتحال کے پیش نظر یقینا آپ ﷺ کے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہرحال میں اور ہر اذیت پر صبر کرنا بعض دفعہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ عزت نفس، ضمیر کی آواز، بےبسی کا احساس بعض دفعہ انسان کو کچھ نہ کچھ کر گزرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ایسی صورت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا، اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وہ صبر ہے جسے نماز کے ذریعے حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب آدمی پر ایسی کیفیت ہو تو اسے چاہیے کہ نماز کی نیت باندھ کر کھڑا ہوجائے۔ اپنی بےبسی کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کو آواز دے۔ ہر طرح کی حالت پر دل کا مضبوطی سے قائم رہنا صرف اسی کے ہمت دلانے سے ممکن ہے۔ جب اس کی طرف سے توفیق آجاتی ہے تو پھر ممولے میں بھی شہباز سے لڑنے کی طاقت آجاتی ہے اور پھر 313 میدانِ بدر میں ایک ہزار بہادروں کا بھرکس نکال دیتے ہیں۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کر
Ayah 16:128اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 128)
(بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور جو نیک کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔ )
غلبے کی نوید
مسلمانوں کو عموماً اور داعیانِ حق کو خصوصاً اس بات کو اپنے دل میں بٹھا لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت اور اس کی توفیق ان لوگوں کو میسر آتی ہے جو اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ پیدا کرتے ہیں، یعنی جن کے دلوں کا میلان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف ہوتا ہے جن کے دل ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار رہتے ہیں۔ ان کا ہر قدم نیکی کی طرف اٹھتا ہے اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچتے ہیں کہ اس میں میرے پروردگار کا حکم کیا ہے اور میرے رسول ﷺ کی سنت کیا کہتی ہے۔ اور مزید یہ کہ وہ اپنے اعمال میں اس طرح تقویٰ کی روح بسائے ہوئے ہیں کہ وہ اپنی عبادات، اپنے معاملات اور آداب زندگی میں ہمیشہ اس تصور کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ میں اپنے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں اور اگر یہ نہیں تو میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس شخص کے ہر عمل میں یہ روح کارفرما ہو اس سے کسی برائی کا تصور ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں تیار کرنا اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے پیش نظر تھا اور آپ ﷺ اس میں کامیاب رہے، اس پر تاریخ کا ایک ایک لفظ گواہ ہے۔ اور اگر تدبر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں اسلام اور مسلمانوں کے غلبے کی نوید سنائی گئی ہے۔