Ayah 16:110ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْ م بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰھَدُوْا وَصَبَرُوْٓا لا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ م بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 110)
(پھر یقینا آپ کا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے آزمائشوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی، پھر جہاد کیا اور ثابت قدمی دکھائی تو ان باتوں کے بعد بیشک آپ ﷺ کا رب بڑا ہی بخشنے والا اور رحمت والا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی تصویر
سابقہ آیات کریمہ میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا جنھوں نے حیات دنیا کو حیات آخرت پر ترجیح دی۔ وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ دنیا کی زندگی ان کا مقصود بن کر رہ گئی۔ دنیا کی دلچسپیاں اور دنیا کی بڑائیاں ان کا حاصل زندگی ٹھہریں۔ اولاً تو وہ ایمان کے قریب ہی نہیں آئے، اور اگر کبھی ایمان قبول کرکے مومنین کی صف میں شامل ہوگئے۔ تو جب بھی ایمان کی قیمت دینا پڑی اور اس راستے کی آزمائشوں سے واسطہ پڑا تو وہ ایمان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بدترینِ خلائق ہیں۔ ان کا انجام یقینا اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ وہ آخرت میں ناکامیوں اور حسرتوں کی تصویر ہوں گے۔ لیکن اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کے محبوب وہ لوگ ہیں کہ انھوں نے سوچ سمجھ کر ایمان قبول کیا اور پھر اس راہ میں آنے والی مشکلات کو اس راہ کی سنتیں سمجھ کر انگیخت کیا۔ بڑی سے بڑی آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا پیغام سمجھا۔ دشمن نے ہر موقع پر اذیتیں پہنچا کر حوصلوں کو شکست کرنا چاہا لیکن وہ کبھی کامیاب نہ ہوسکے۔ لیکن جب ان کی تکلیفیں جان کنی تک پہنچ گئیں تو پھر ہجرت کے جانگسل مراحل کو خندہ پیشانی سے قبول کیا تاکہ اسلامی زندگی کے اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ ہجرت کے لیے وطن چھوڑنا پڑا، مال و دولت کی قربانی دینی پڑی، پرائے دیس کا غیریقینی مستقبل اور ماحول اختیار کرنا پڑا۔ اجنبی لوگوں میں زندگی کے نئے امکانات تلاش کرنا پڑے۔ لیکن یہ سب کچھ نہایت خوشی سے برداشت کیا کیونکہ انھی قربانیوں کے صلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی امید کی جاسکتی ہے۔ پھر ایک وقت آیا جب حق و باطل کا معرکہ شروع ہوگیا۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے تعلق کی خاطر اور دین سے وابستگی کے لیے اپنا وطن چھوڑنے سے دریغ نہ کیا تھا اب یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ حق و باطل کی کشمکش میں حق کی سربلندی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے سے تأمل کرتے۔ چناچہ انھوں نے مال سے بھی جہاد کیا اور جان سے بھی جہاد کیا۔ اس راستے میں جس چیز کا بھی مطالبہ ہوا اسے پیش کرنے میں ذرا تأمل سے کام نہ لیا۔ اور اس راستے میں جو مصیبتیں آئیں نہایت خندہ پیشانی سے انھیں قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور دین کی سربلندی کے لیے یہی وہ سرمایہ ہے جو ہمیشہ مطلوب ہوتا ہے۔ جب یہ سرمایہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کردیا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت اور رحمت و مغفرت میں دیر نہیں ہوتی۔ چناچہ یہاں بھی آیت کریمہ کے آخر میں یہی فرمایا گیا کہ میرے بندوں نے چونکہ یہ سب کچھ میرے راستے میں جھونک ڈالا ہے، اب انھیں بتا دیجیے کہ آپ ﷺ کا رب ان کے لیے بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 16:111یَوْمَ تَاْتِیْ کُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا وَتُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 111)
(جس دن آئے گی ہر جان اپنی ہی مدافعت کرتی ہوئی اور ہر جان کو وہی پورا پورا بدلہ میں ملے گا جو اس نے کیا ہوگا اور ان کے ساتھ ذرا بھی ناانصافی نہیں کی جائے گی۔ )
آخرت کی یاددہانی
سابقہ آیات کریمہ میں دو طرح کے لوگوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے، ایک تو وہ لوگ ہیں جنھیں حُبِ دنیا نے اندھا کردیا ہے، ان کے یہاں آخرت کا تصور ایک بہلاوے کے سوا کچھ نہیں۔ وہ دنیا ہی کو اپنے ارمانوں کا مرکز سمجھتے ہیں اور یہیں کی خوشیاں اور غم ان کے لیے فیصلہ کن ہیں۔ اس بنا پر ان کی سوچ کا محور دنیا کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہوسکتا۔ جب کوئی شخص انھیں آخرت میں جواب دہی کے تصور سے ڈراتا ہے تو وہ اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہ ہے کہ آخرت کا تصور دنیا کے عیش و عشرت کے لیے دشمنی سے کم نہیں، جسے آخرت کی فکر لگ گئی وہ دنیا کے کام کا نہ رہا۔ اور جو دنیا میں گم ہوگیا وہ آخرت کے کام کا نہ رہا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے جب مشرکینِ مکہ کو زندگی کی حقیقت اور آخرت کا احساس دلانے کی کوشش کی تو وہ نہ صرف آنحضرت ﷺ کی دشمنی پر تل گئے بلکہ انھوں نے ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکا جو اسلام کی طرف مائل ہورہے تھے، اور انھوں نے مکہ میں ایک ایسا ہراس (Panic) طاری کردیا کہ مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا آسان نہ رہا۔ لیکن دوسری طرف ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے مردانہ وار حالات کا مقابلہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئے تو قدم قدم پر اس کی قیمت بھی ادا کی۔ انھیں اس راستے میں بڑی سے بڑی آزمائش سے دوچار ہونا پڑا لیکن انھوں نے شکایت تک نہ کی۔ جب اہل مکہ ان کی جان کے درپے ہوگئے تو انھوں نے وطن چھوڑ کر ہجرت کا سفر اختیار کرلیا۔ اس جانگسل سفر میں ہر طرح کی مشقت برداشت کی لیکن صبر کا دامن ہرگز ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹا اور کبھی ان کو یہ خیال نہ ہوا کہ ہم جو قربانیوں کی تاریخ رقم کر رہے ہیں اس کا کچھ صلہ بھی ملے گا یا نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دونوں کے حوالے سے ایک بات فرمائی جارہی ہے کہ لوگوں کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اس دنیا کو ایک روز ختم ہونا ہے اور پھر قیامت کو وقوع پذیر ہونا ہے۔ وہاں ظالم بھی پیش ہوں گے اور مظلوم بھی۔ ظالموں کو ظلم پر سزا ملے گی اور مظلوم اپنی مظلومیت کا صلہ پائیں گے۔ کفار کو یہ سمجھ کر دلیر نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں اور ہم ہمیشہ جو چاہیں سو کرتے رہیں گے۔ اور اہل حق کو کبھی یہ نہ سوچنا چاہیے کہ ہماری قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔ ان کا ایک ایک زخم وہاں پھول بن کر مہ کے گا۔ اور ان کا ایک ایک دکھ آرام و راحت کا ابدی پیغام ثابت ہوگا۔ اور مزید یہ فرمایا کہ ان کافروں نے جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اور سمجھتے ہیں کہ قیامت میں وہ ان کے کام آئیں گے، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت میں ہر حاضر ہونے والا شخص چاہے وہ کتنا عظیم کیوں نہ ہو، وہ نفسی نفسی پکار رہا ہوگا۔ کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ وہاں کسی نیکی کرنے والا کا اجر ادھورا نہیں رہے گا اور کسی برائی کرنے والے کی سزا ناتمام نہیں رہے گی۔ دنیا میں کتنے ایسے لوگ گزرے ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں دیں لیکن ان کی قربانیوں کا صلہ دنیا کیا دے سکتی ہے۔ قیامت میں ان کی ایک ایک قربانی رنگ لائے گی اور آدمی تمنا کرے گا کہ کاش اللہ تعالیٰ کے راستے میں میری کھال قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی تاکہ آج میں اس کا بیش از بیش صلہ پاتا۔ اور ہر برا آدمی جس نے بڑی سے بڑی برائی کی سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کا قاتل بنا، ہزاروں گھر اجاڑے، ہزاروں عزتوں کے فانوس گل کیے، لیکن دنیا میں کوئی عدالت اس کا جرم ثابت نہ کرسکی، اور اگر جرم ثابت ہوا بھی تو ایک جان رکھنے والا ہزاروں جانوں کا قصاص کیسے بن سکتا تھا۔ قیامت کے دن جس طرح اچھے لوگوں کو بہترین صلہ ملے گا، اسی طرح برے لوگ بھی اپنی مکمل سزا بھگتیں گے۔ ہزاروں لوگوں کا قاتل ہزار دفعہ پھانسی پر لٹکایا جائے گا، ہر دفعہ اسے نئی جان ملے گی جو قصاص میں چھین لی جائے گی اور کسی شخص سے ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے آج اللہ تعالیٰ کے راستے میں چلنے والوں کے لیے ناامیدی کا کوئی موقع نہیں۔ اور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والوں کو بھی ناروا جسارتیں بڑی مہنگی پڑیں گی۔
Ayah 16:112وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاْ تِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 112)
(اور اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی مثال بیان کی ہے جو امن والی تھی اور اطمینان کی حالت میں تھی، اس بستی میں اس کا رزق فراغت کے ساتھ ہر طرف سے آتا تھا، لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو بھوک کا مزا چکھایا اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ )
قریہ سے مراد ؟ اس میں تین آرا
قریشِ مکہ کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی مثال دی ہے، لیکن یہ بستی کون سی تھی، اس کے بارے میں نہ تو قرآن کریم نے کوئی وضاحت کی ہے اور نہ احادیث پاک میں اس کا ذکر آیا ہے۔ البتہ آیت کریمہ کے اندر کچھ اشارات موجود ہیں جس سے بعض چیزوں کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے، لیکن اس بات کا تعین نہیں ہوسکتا کہ وہ بستی کون سی تھی۔
آیتِ کریمہ سے جو اشارے ملتے ہیں ان میں پہلا اشارہ یہ ہے کہ قریہ کا لفظ عام طور پر ایسی مرکزی بستی پر بولا جاتا ہے جس کے دائیں بائیں اڑوس پڑوس میں چھوٹی بستیاں موجود ہوں، جن کی ضرورتیں اس بڑی بستی سے پوری ہوتی ہوں اور لوگ اپنے معاملات کے لیے بڑی بستی کی طرف رجوع کرتے ہوں۔ اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ یہ کسی ایسی بستی کا ذکر ہے جس کی حیثیت بڑے شہر کی تھی، ممکن ہے کہ یہ کسی ملک کا دارالحکومت ہو۔
دوسرا اشارہ یہ ملتا ہے کہ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس بستی میں ساری نعمتیں میسر تھیں لیکن جب اس نے کفرانِ نعمت کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک کا مزا چکھایا اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ الفاظ کے دروبست اور الفاظ کی ترتیب کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ عربیت کا ذوق اس کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ اصل عبارت اس طرح ہے فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ طُعْمَ الْجُوْعِ وَاَلْبَسَہَا لِبَاسَ الْخَوْفِ اس سے ہمیں یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس قوم پر جو عذاب آیا تھا وہ قوم عاد وثمود کی طرح کا نہیں تھا جس سے ان کی جڑ کاٹ دی گئی تھی بلکہ یہ ایک سخت قسم کی تنبیہ تھی جس سے انھیں سمجھانا مقصود تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بستی کوئی بھی ہو اس پر آنے والے عذاب نے نہ بستی کو بالکل تباہ کیا اور نہ اہل بستی کو ہلاک کیا۔
1 اب ہم دیکھتے ہیں کہ مفسرین نے جو بستیاں مراد لی ہیں کیا یہ یہ دونوں قسم کے اشارے اس کی تائید کرتے ہیں یا نہیں۔ مفسرین کی ایک رائے یہ ہے کہ اس سے مراد قریہ سبا ہے۔ اس میں یقینا بستی کے تمام لوازمات پائے جاتے تھے۔ قرآن کریم کی شہادت کے مطابق اس کے اردگرد دو رویہ سرسبز و شاداب باغوں کی قطاریں تھیں، جن میں نہریں بہتی تھیں، چشمے رواں تھے۔ اہل یمن نے ڈیم بنا کر آبیاری کا ایک مستقل سسٹم بنا رکھا تھا۔ چناچہ جب اس قوم نے اللہ تعالیٰ کی ان بیش بہا نعمتوں کی ناشکری کی تو اس بستی پر خدا کا عذاب آگیا۔ لیکن جب ہم اس بستی پر آنے والے عذاب کی تفصیلات کے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈیموں کے ٹوٹنے کے باعث یہ بستی بالکل تباہ ہوگئی۔ ہر چیز برباد کردی گئی۔ جو لوگ بچ گئے وہ دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرگئے اور یہ علاقہ مکمل طور پر بنجر ہوگیا اور یا ایسے درختوں کا ذخیرہ بن گیا جس میں انسانوں کی بجائے درندے رہ سکتے تھے۔ اس عذاب کو دیکھتے ہوئے یہ باور کرنا مشکل ہے کہ اس سے مراد قریہ سبا ہوسکتی ہے۔
2 بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ قریہ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ مکہ مکرمہ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ واقعی ایک مرکزی بستی کی حیثیت رکھتا تھا اور کعبۃ اللہ کا مقام ہونے کی وجہ سے اسے ایک مرکزیت حاصل تھی اور ہر طرح کا امن و اطمینان میسر تھا۔ اللہ تعالیٰ کے گھر کا ادب و احترام چونکہ تمام عرب کرتا تھا اس لیے کسی کی مجال نہ تھی کہ اس شہر پر حملہ کرتا جس میں اللہ تعالیٰ کا گھر موجود تھا اور اسی گھر کی وجہ سے ہر طرف سے اشیائے خوردونوش فراوانی سے اس میں پہنچتی تھی۔ ان کے تجارتی قافلوں کے لیے کوئی روک ٹوک نہ تھی، لیکن پھر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ شہر اور گردوپیش میں قحط پڑگیا اور مسلمانوں کے مدینہ منورہ چلے جانے کی وجہ سے ان کی تجارتی سرگرمیاں محدود ہوگئیں، امن وامان تباہ ہوگیا اور مسلمانوں کے ساتھ ہر وقت تصادم کی کیفیت طاری رہنے لگی۔ اس رائے میں اور تو کوئی سقم دکھائی نہیں دیتا، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور مفسرین کی اس رائے میں جس عذاب کا ذکر ہورہا ہے اس کا تعلق ہجرت کے بعد سے ہے۔ ایک ایسا عذاب جو ہجرت کے بعد آیا ہو اس کا مکی سورت میں ذکر کیسے ہوسکتا ہے۔
3 مفسرین کی تیسری رائے یہ ہے کہ بستی سے مراد تو مکہ معظمہ ہی ہے۔ یہی حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا بھی کہنا ہے۔ اور جس عذاب کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے وہ عذاب وہ ہے جو نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ کی دعا کے نتیجہ میں قحط کی صورت میں اہل مکہ پر مسلط ہوا تھا اور اس سے تمام اہل مکہ چیخ اٹھے تھے۔ قحط کی شدت کا عالم یہ تھا کہ لوگ اپنے جوتوں کے چمڑے تک کھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ چناچہ اشرافِ قریش نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ یہ عذاب ٹل جائے تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ آپ ﷺ کی دعا سے وہ عذاب ٹل گیا، لیکن اشرافِ قریش کا رویہ نہ بدلا۔
Ayah 16:113وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْھُمْ فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابُ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 113)
(اور ان ہی میں سے ایک رسول ( علیہ السلام) ان کے پاس آیا، پس انھوں نے اسے جھٹلایا، تو انھیں عذاب نے پکڑ لیا اور وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ )
سابقہ مضمون کی تائید
یہ آیت بجائے خود اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ یہ بستی مکہ مکرمہ تھی اور ان پر عذاب نبی کریم ﷺ کی تکذیب کے نتیجہ میں آیا تھا اور عذاب وہ نہیں تھا جس سے بستیاں تباہ کردی جاتی ہیں بلکہ عذاب آزمائش بن کر آیا تھا اور اس لیے آیا تھا کہ عذاب کے مصائب کی وجہ سے اشرافِ قریش کی گردنیں جھک جائیں۔ عام لوگوں کے دلوں میں ایک خوف پیدا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئیں۔ چناچہ جب اشرافِ قریش نے نہایت عاجزی سے آپ ﷺ سے درخواست کی تو آپ ﷺ نے ان کی خواہش کے مطابق دعا کی اور عذاب دور ہوگیا، مگر ان کی سرکشی اپنی جگہ پر قائم رہی۔
Ayah 16:114فَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًا ص وَّاشْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 114)
(تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو چیزیں جائز و پاکیزہ دے رکھی ہیں، ان میں سے کھائو اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگر تم اسی کی پرستش کرتے ہو۔ )
قریشِ مکہ سے فرمایا جارہا ہے کہ جن بستیوں کے رہنے والوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت تحلیل و تحریم پر قبضہ کرلیا اور قانون سازی میں اس کے شریک بن گئے اور ایک خانہ ساز شریعت بنا ڈالی ان کا انجام تم نے دیکھ لیا۔ ابھی چند سال جس طرح قحط سالی کے تم پر گزرے ہیں تمہیں یہ بات یاد دلانے کے لیے کافی تھے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کتنی شدید ہوتی ہے۔ اب یہ قحط تم سے ٹل چکا ہے تو اللہ تعالیٰ نے جو رزق تمہیں دیا ہے اسے حلال اور طیب سمجھ کر کھائو، اس میں اپنی مرضی سے تحلیل و تحریم کا حق استعمال نہ کرو۔ اور ایک ایک نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو۔ جن قوتوں کو تم نے اس کا شریک بنا رکھا ہے، اس سے توبہ کرو۔ اور بالخصوص اس جسارت سے ہزار دفعہ پناہ مانگو کہ تم اپنی مرضی سے کچھ چیزوں کو حلال یا حرام ٹھہراتے ہو لیکن جب تم پر تنقید کی جاتی ہے تو تم اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہو، یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تحلیل و تحریم کے حق کو خود استعمال کرنا شرک ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کہ اس نے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دی ہے یہ تہمت ہے۔ شرک جیسا جرم اور پھر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ایک ایسی ہولناک جسارت ہے جس کی قباحت اور شناعت کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 16:115اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ بِہٖ ج فَمَنِ اضْطُرَّغَیْرَبَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 115)
(اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس نے تم پر حرام کیا ہے، مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، پھر جو کوئی مجبور ہوجائے اور وہ خواہش مند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اس کے لیے کوئی گناہ نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ )
اس آیت کریمہ کی تشریح میں ہم نے سورة البقرہ آیت 173 میں جو کچھ عرض کیا ہے، اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔
ملتِ ابراہیم ( علیہ السلام) میں حلال و حرام
روئے سخن مشرکین کی طرف ہے کہ تم نے جس طرح تحلیل و تحریم کا حق جو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اپنے لیے مباح کرلیا ہے اور اس کے نتیجے میں تم نے کتنی حلال نعمتیں ہیں جو حرام کر ڈالی ہیں اور کتنی حرام چیزیں ہیں جو اپنے لیے حلال کرلی ہیں اور اس پر طرہ یہ ہے کہ تم اپنی اس خانہ ساز شریعت کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہو اور تم بات بات پر ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہو حالانکہ ملت ابراہیمی میں جو چیزیں حرام کی گئی تھیں وہ صرف وہ تھیں جو پیش نظر آیت میں ذکر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جتنی چیزیں تم نے خود حرام کر ڈالی ہیں اس کا ملت ابراہیم سے تو کوئی تعلق نہیں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
اس آیت کریمہ اور بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے اور یا وہ خواہشاتِ نفس کے تحت اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام میں جو چیزیں حرام کی گئی ہیں وہ صرف وہ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے یا سورة انعام کی ایک آیت میں اس سے بھی زیادہ وضاحت سے ذکر فرمایا گیا ہے۔
قُلْ لَّااَجِدُ فِیْ مَا اُوْحِیَ اِلیَّ مُحَرَّماً عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَماً مَّسْفُوْحاً اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقاً اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ (145)
(کہہ دو ! مجھے جو وحی کی گئی ہے اس میں تو کسی کھانے والے کے لیے بجز اس کے کسی چیز کو حرام نہیں پاتا کہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سور کا گوشت یہ چیزیں ناپاک ہیں یا پھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی چیز کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کردیاجائے۔ )
اس آیت کریمہ کے اگر سیاق وسباق کو سامنے رکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں یہ نہیں بتایا جارہا کہ اسلامی شریعت میں کیا چیزیں حلال ہیں اور کیا حرام ہیں ؟ بلکہ صرف یہ بات واضح کی جارہی ہے کہ تم نے ملت ابراہیم کا نام لے لے کر جن چیزوں کو حرام کررکھا ہے ان کا ملت ابراہیم سے تو کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملتِ ابراہیم میں اگر کوئی چیزیں حرام تھیں تو وہ صرف چار چیزیں ہیں، جن کا ان دونوں آیتوں میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اگر ان آیات کو شریعتِ اسلامی کے حوالے سے دیکھا جائے کہ یہی چار چیزیں اسلامی شریعت میں حرام ہیں اور اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ تو یہ بات قرآن کریم کی دوسری آیات کے صریحاً خلاف ہے۔ مثال کے طور پر دیکھئے ! ان دونوں آیتوں میں میتۃ یعنی مردار کو حرام کیا گیا ہے۔ اور اس کی جو تفصیل سورة مائدہ میں بیان کی گئی ہے اس میں مزید سات چیزیں بیان کی گئی ہیں۔
اَلْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَآ اَکَلَ السَّبْعُ اِلَّامَا ذَکَّیْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِط
بعض دوسری آیات میں اور بھی بعض چیزوں کو حرام کیا گیا ہے۔ اس لیے ان آیات سے یہ سمجھنا کہ اسلامی شریعت میں صرف یہی چیزیں حرام ہیں سراسر قرآن کریم کی وضاحتوں کے خلاف ہے۔ ان آیات کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم نے عرض کیا کہ مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ ملت ابراہیم میں تو صرف یہ چیزیں حرام ہیں باقی چیزوں کو تم نے کیسے حرام کرڈالا ؟ جب کہ تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور تم نے اپنے آپ کو اور یا اپنے بتوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے متصف کرڈالا۔ اس سے بڑا شرک اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اب ہم ان چیزوں کی تفصیل بیان کرتے ہیں جنھیں اس آیت کریمہ میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ وہ چار چیزیں ہیں۔
1: میتہ ” مردار “۔ 2: خون۔ 3: لحم خنزیز۔ 4: وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
ان چاروں چیزوں کی جو تشریحات قرآن و سنت میں دی گئی ہیں ہم نہایت اجمال سے ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔
میتہ : اس سے مراد ہر وہ مردہ جانور ہے جس کے حلال ہونے کے لیے شریعت نے ذبح کرنے کی شرط لگائی ہے۔ جتنے بھی حلال جانور ہیں ہم انھیں اسلامی طریقے سے اگر ذبح کرلیں تو ہمارے لیے حلال ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر یہ ذبح کے بغیر طبعی یا غیر طبعی موت مرجائیں تو وہ مردار کہلاتے ہیں۔ البتہ دو طرح کے مردار ہیں جو اسلامی شریعت نے ہمارے لیے حلال ٹھہرائے ہیں۔ وہ تمام آبی جانور جنھیں شریعت نے حلال ٹھہرایا ہے ان کا مردار بھی ہمارے لیے حلال ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے : اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ ” تمہارے لیے سمندر کا شکار حلال کردیا گیا ہے “۔ اس کے لیے ذبح کرنا کوئی ضروری نہیں۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ہمارے لیے دو مردار حلال کردیے گئے ہیں ایک مچھلی دوسرا ٹڈی “۔ مچھلی تو خشکی پر آکر تھوڑی دیر کے بعد مرجاتی ہے۔ ٹڈی اگرچہ خشکی پر مرتی نہیں لیکن اسے بھی بغیر ذبح کیے آپ پکا کر یا بھون کر کھاسکتے ہیں۔ ہاں ! البتہ مچھلی سڑکر پانی کے اوپر آجائے تو پھر وہ حرام ہوجاتی ہے۔
مردار کا جس طرح گوشت کھانا حرام ہے اسی طرح اس کی خریدوفروخت بھی حرام ہے۔ یہی حال تمام نجاستوں کا ہے۔ جس طرح ان کا استعمال حرام ہے اسی طرح ان کی خریدوفروخت اور ان سے نفع اٹھانا بھی حرام ہے۔ فقہا نے لکھا ہے کہ مردار جانور یا کوئی بھی ناپاک چیز خود تو مسلمان استعمال کر ہی نہیں سکتا، البتہ اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کسی جانور کو کھلائے۔ جانور اپنے طور پر گندگی کھالیں جیسے مرغیاں نالیوں سے گندگی کھاتی رہتی ہیں، لیکن کسی مسلمان کے لیے اپنے اختیار سے کسی جانور کو گندگی کھلانا جائز نہیں۔ مجھے اس بات سے خیال گزرتا ہے کہ ہم جن مرغیوں کا گوشت کھاتے ہیں انھیں جو خوراک بڑے اہتمام سے ڈربوں میں بند رکھ کر کھلائی جاتی ہے، اس میں تو نہ جانے کتنی گندگیاں شامل ہوتی ہیں اور مردار کی کیا کیا آلودگیاں اس میں شامل کی جاتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم اس بارے میں ہمارے فقہاء ِکرام کیا فتویٰ دیتے ہیں۔ وہ مرغی جو آزادانہ باہر گھوم پھر کر ہر اچھی اور گندی چیز غذا کے طور پر کھاتی ہے اس کے لیے علماء کرام یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کا گوشت کھانے کا ارادہ ہو تو اسے ایک دو دن گھر میں بند رکھنا چاہیے۔ تاکہ اس کی گندی غذا کا اثر دو رہوجائے۔ لیکن جو مرغیاں نہائت گندی خوراک سے پالی جاتی ہیں ان کے لیے کیا احتیاط کی جائے ؟
میتہ سے متعلق احکام کی وضاحت
اس آیت کریمہ میں میتہ کے حرام ہونے کا حکم عموم کے ساتھ دیا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میتۃ کے تمام اجزا کا استعمال حرام ہے۔ لیکن دوسری آیت کریمہ کے ایک جملے نے اس کی وضاحت فرمادی ہے یا اس عموم میں خصوص پیدا کردیا ہے۔ دوسری آیت میں عَلَی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہ ٗکا جملہ شامل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردار جانور کے وہ اجزا حرام ہیں جو کھانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے مردار جانور کی ہڈی، بال، اون، جو کھانے کی چیزیں نہیں، یہ سب پاک ہیں اور ان کا استعمال بھی جائز ہے۔ قرآن کریم نے ایک اور جگہ جانوروں کے بال اور ان کے اون کو مطلقاً حلال اور جائز الانتفاع ٹھہرایا ہے۔ اون اور بالوں کی طرح ہڈی سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن اسے کھانے میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ممکن ہے آپ کو تعجب ہو کہ ہڈی کو کھانے میں کون استعمال کرسکتا ہے۔ لیکن آپ کے علم میں یہ بات ہونی چاہیے کہ ہڈی کا برادہ اور اس کا پوڈر مختلف غذائوں میں استعمال ہورہا ہے اور یہ جیلی نام کی چیزجو گھروں میں بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے، اس کے استعمال میں مردار کی ہڈیاں تک استعمال ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ ! آج کے دور میں حلال و حرام کی پہچان کس قدر مشکل ہوگئی ہے۔ کھال میں چونکہ خون وغیرہ کی نجاست شامل ہوتی ہے اس لیے اسے دباغت سے پہلے حرام قرار دیا گیا ہے اور دباغت دینے کے بعد وہ حلال اور جائز ہے۔ اسی طرح مردار جانور کی چربی اور اس سے بنائی ہوئی چیزیں بھی حرام ہیں، ان کا استعمال یکسر ممنوع ہے اور خریدوفروخت بھی حرام ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت ابوسعید خدری، حضرت عبداللہ ابن عمرؓ اجمعین اور بعض دوسرے صحابہ ( رض) نے مردار کی چربی کو صرف کھانے کے لیے حرام قرار دیا ہے، خارجی استعمال کے لیے اس کی اجازت دی ہے۔ اس لیے اس کی خریدوفروخت کو بھی جائز رکھا ہے۔ (جصاص) لیکن احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ ایسی چیزوں سے پرہیز کیا جائے۔
یہ بات یاد رہے کہ یہ جو کچھ کہا جارہا ہے یہ ان حلال جانوروں کے بارے میں ہے جو بغیر ذبح کے کسی دوسرے طریقے سے مرجانے کی وجہ سے حرام ہوئے ہیں۔ رہے وہ جانور جو اپنی ذات میں حرام ہیں جیسے تمام درندے، تمام شکاری جانور، تمام مکروہ جانور، یا وہ جانور جن کو نجس العین قرار دیا گیا ہے جیسے کتا یا خنزیر وغیرہ ان کی کوئی چیز بھی حلال نہیں۔ ان کی ہر طرح کی خریدوفروخت ناجائز ہے۔ ان کی حرمت کا تعلق صرف کھانے پینے سے نہیں بلکہ ہر طرح کے استعمال سے بھی ہے۔
اَلدَّم : دوسری چیز جس کو حرام کیا گیا ہے، وہ دم ” خون “ ہے۔ اس آیت کریمہ میں دم کا لفظ مطلق استعمال ہوا ہے۔ لیکن سورة انعام میں اس کے ساتھ مسفوح کا لفظ بھی آیا ہے۔ دمامسفوحا کا معنی ہے ” بہتا ہوا خون “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پر وہ خون حرام کیا گیا ہے جس میں بہنے کی صلاحیت ہو، جو جانور کے ذبح ہونے کے بعد خود بخود نکلتا ہے۔ لیکن جو خون جانور کے بعض حصوں سے الگ نہیں ہوتا یا دھونے سے ختم نہیں ہوتاوہ حرام نہیں۔ خرگوش کا گوشت دھوتے رہئے پانی میں اس کے خون کی آمیزش ختم نہیں ہوگی۔ اس لیے ایک حد تک دھونے کے بعد اسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر اس کے اندر کوئی خون رہ جاتا ہے تو وہ حلال ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے فرمایا :” ہمارے لیے دو خون حلال کردیے گئے ہیں، جگر اور طحال یعنی تلی “۔ اسی طرح مچھر، مکھی، کھٹمل وغیرہ کا خون بھی ناپاک نہیں۔ کھایا تو نہیں جاتا لیکن اس سے کپڑا پلید نہیں ہوتا۔ ہاں اگر مقدار بڑھ جائے تو اسے دھونا چاہیے۔
جس طرح خون کا کھانا پیناحرام ہے اسی طرح اس کا خارجی استعمال بھی حرام ہے۔ جس طرح تمام نجاسات کی خریدوفروخت اور اس سے نفع اٹھانا حرام ہے اسی طرح خون کی خریدوفروخت بھی حرام ہے اور اس سے حاصل کی گئی آمدنی بھی حرام ہے۔
انسان کی اصل تربیت اللہ تعالیٰ سے تعلق اور شرعی احکام کی پابندی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں مذہب بےاثر ہوگیا ہے اور انسان نے اپنی ذات یا اپنے مفادات کو خدا کی طرح پوجنا شروع کردیا ہے اور اس کے ذہن سے یہ بات نکل گئی ہے کہ میں اپنی ذات کو بھی اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے شعور سے ہٹ کر سمجھنے پر قادر نہیں ہوں وہیں وہیں ہم دیکھتے ہیں کہ معیارات بدل گئے ہیں غور و فکر کے انداز بگڑ گئے ہیں، حتی کہ انسانی ذوق تک بہک گیا ہے۔ انسان کی فطرتِ سلیمہ ہمیشہ طیبات کی طرف مائل ہوتی ہے۔ ہرگندی چیز سے اسے گھن آتی ہے اسی لیے اسلامی شریعت نے خبائث کو حرام قرار دیا ہے۔ لیکن تعجب ہوتا ہے کہ دنیا میں ایسے مہذب لوگ جو مدبر بھی مانے جاتے ہیں اور انھیں اپنی تہذیب پر بڑ افخر ہے۔ وہ اپنا پیشاب تک پیتے ہیں۔ ہندوستان کا ایک وزیراعظم بڑے شوق سے یہ حرکت کرتا تھا اور اخباری نمائندوں کو ترغیب دیتا تھا۔ انتڑیاں اور خون جو خبائث میں شامل تھے کتنے مہذب ملک ہیں جن کے نہائیت تعلیم یافتہ لوگ ان دونوں کو اپنی غذا میں شامل کرچکے ہیں۔ انتڑیوں میں خون بھر کر انھیں روسٹ کرلیا جاتا ہے اور پھر کاٹ کاٹ کر بڑے مزے سے کھایا جاتا ہے۔ زندہ جانوروں کے بھیجے تک اس طرح کھائے جاتے ہیں کہ جانور شکنجے میں جکڑا ہوا نیچے تڑپ رہا ہوتا ہے اور صاحب بہادر بڑے شوق سے اسے تناول فرما رہے ہوتے ہیں۔
لحم الخنزیر : تیسری چیز جو اس آیت میں حرام کی گئی ہے وہ لحم خنزیر ہے۔ آیت میں حرمت خنزیر کے ساتھ لحم کی قید ذکر کی گئی ہے۔ امامِ قرطبی نے فرمایا کہ اس سے مقصودگوشت کی تخصیص نہیں بلکہ اس کے تمام اجزا ہڈی کھال، بال، پٹھے سب ہی باجماع امت حرام ہیں۔ لیکن لحم کا لفظ بڑھاکر اشارہ اس طرف ہے کہ خنزیر دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ وہ ذبح کرنے سے پاک ہوسکتا ہے۔ اگرچہ کھانا حرام ہی رہے کیونکہ خنزیر کا گوشت ذبح کرنے سے بھی پاک نہیں ہوتاکیون کہ نجس العین بھی ہے اور حرام بھی ہے۔ صرف چمڑا سینے کے لیے اس کے بال کا استعمال حدیث میں جائز قرار دیا گیا ہے۔
مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ : چوتھی چیز جو حرام کی گئی ہے وہ مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ ” وہ جانور جو غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو “ جس کی تین صورتیں متعارف ہیں۔ ہم اس کی تفصیل معارف القرآن سے نقل کرتے ہیں۔
غیر اللہ کے لیے نامزدگی کی تین صورتیں
اول یہ کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے تقرب کے لیے ذبح کیا جائے اور بوقت ذبح اس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے۔ یہ صورت باتفاق وباجماع امت حرام ہے اور یہ جانور میتۃ ہے۔ اس کے کسی جز سے انتفاع جائز نہیں کیونکہ یہ صورت آیت مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ کا مدلول صریح ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کو تقرب الیٰ غیر اللہ کے لیے ذبح کیا جائے یعنی اس کا خون بہانے سے تقرب الیٰ غیر اللہ مقصود ہو لیکن بوقت ذبح اس پر نام اللہ تعالیٰ ہی کا لیا جائے جیسے بہت سے ناواقف مسلمان بزرگوں، پیروں کے نام پر ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بکرے، مرغے وغیرہ ذبح کرتے ہیں لیکن ذبح کے وقت نام اس پر نام اللہ تعالیٰ ہی کا پکارتے ہیں یہ صورت بھی باتفاق فقہا حرام اور مذبوحہ مردار ہے۔
مگر تخریج دلیل میں کچھ اختلاف ہے، بعض حضرات مفسرین وفقہا نے اس کو بھی مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ کا مدلول صریح قرار دیا ہے، جیسا کہ حواشی بیضاوی میں ہے :
فکل مانودی علیہ بغیراسم اللہ فھوحرام وان ذبح باسم اللہ تعالیٰ حیث اجمع العلماء لو ان مسلما ذبح ذبیحۃ وقصد بذبحہ التقرب الی غیر اللہ صار مرتدا وذبیحتہ ذبیحۃ مرتد
ہر وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام پر کردیا گیا وہ حرام ہے۔ اگرچہ بوقت ذبح اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیا ہو۔ اس لیے علماء وفقہاء کا اتفاق ہے کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے تقرب کے لیے اگر کوئی مسلمان ذبح کرے تو وہ مرتد ہوجاوے گا اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ کہلائے گا۔
نیز درمختار کتاب الذبائح میں ہے۔
ذبح لقدوم الامیر ونحوہ کو احد من العظماء یحرم لانہ اھل بہ لغیر اللہ ولو ذکراسم اللہ واقرہ ( الشامی ص 214 ج 5)
کسی امیریا بڑے کے آنے پر جانور ذبح کیا تو وہ حرام ہوگا کیونکہ وہ مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہمیں داخل ہے اگرچہ بوقت ذبح اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیا ہو اور شامی نے اس کی تائید کی ہے۔
بعض حضرات نے اس صورت کو مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ کا مدلول صریح تو نہیں بنایا کیونکہ وہ بحیثیت عربیت تکلف سے خالی نہیں، مگر بوجہ اشتراک علت یعنی تقرب الی غیر اللہ کی نیت کے اس کو بھی ما اہل بہ لغیر اللہ کے ساتھ ملحق کرکے حرام قرار دیا ہے۔ احقر کے نزدیک یہی وجہ احوط اور اسلم ہے۔
نیز اس صورت کی حرمت کے لیے ایک مستقل آیت بھی دلیل ہے، یعنی وَمَاذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ ، نصب ان تمام چیزوں کو کہا جاتا ہے جن کی باطل طور پر پرستش کی جاتی ہے معنی یہ ہیں کہ وہ جانور جس کو معبودات باطلہ کے لیے ذبح کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے وَمَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ما اھل کا مدلول صریح تو وہی جانور ہے جس پر بوقت ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا اور ذُبِحَ عَلَی النُّصُباس کے بالمقابل آیا ہے جس میں غیر اللہ کے نام لینے کا ذکر نہیں صرف بتوں وغیرہ کی خوشنودی کی نیت سے ذبح کرنا مراد ہے۔ اس میں وہ جانور بھی داخل ہیں جن کی ذبح تو کیا گیا ہے غیر اللہ کے تقرب کے لیے مگر بوقت ذبح اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔
(افادہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی )
امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کیا ہے، ان کی عبارت یہ ہے :
وجرت عادۃ العرب بالصیاح باسم المقصود بالذبیحۃ وغلب ذلک فی استعمالھم حتی عَبَّربہ عن النیۃ اللتیھی علۃ التحریم
(تفیسر قرطبی ص 207 ج 2)
عرب کی عادت تھی کہ جس کے لیے ذبح کرنا مقصود ہوتاذبح کرنے کے وقت اس کا نام بلند آواز سے پکارتے اور یہ رواج ان میں عام تھا یہاں تک کہ اس آیت میں تقرب الی غیر اللہ کو جو کہ اصل علت تحریم ہے اہلال کے لفظ سے تعبیر کردیا۔
امام قرطبی نے اپنی اس تحقیق کی بنیاد صحابہ کرام میں سے دو حضرات حضرت علی المرتضیٰ ( رض) اور حضرت صدیقہ عائشہ ( رض) کے فتاویٰ پر رکھی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ کے زمانہ میں فرزدق شاعر کے باپ غالب نے ایک اونٹ ذبح کیا تھا جس پر کسی غیر اللہ کا نام لینے کا کوئی ذکر نہیں۔ مگر حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اس کو بھی مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ میں داخل قراردے کر حرام فرمایا اور سب صحابہ کرام ( رض) نے اس کو قبول کیا، اسی طرح امام مسلم ( رح) کے شیخ یحییٰ بن یحییٰ ( رح) کی سند سے صدیقہ عائشہ ( رض) کی ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس کے آخر میں ہے کہ ایک عورت نے حضرت صدیقہ سے سوال کیا کہ ام المومنین : ہمارے کچھ رضاعی رشتہ دار عجمی لوگوں میں سے ہیں اور ان کے یہاں تو روز بروز کوئی نہ کوئی تہوار ہوتا رہتا ہے۔ یہ اپنے تہواروں کے دن کچھ ہدیہ تحفہ ہمارے پاس بھی بھیج دیتے ہیں، ہم اس کو کھائیں یا نہیں ؟ اس پر صدیقہ عائشہ ؓ نے فرمایا :
اماماذبح لذلک الیوم فلا تاکلوا ولکن کلوا من اشجارھم
(تفسیر قرطبی ص 207 ج 2)
جو جانور اس عید کے دن ذبح کیا گیا ہو وہ نہ کھائو لیکن ان کے درختوں کے پھل وغیرہ کھاسکتے ہو۔
الغرض یہ صورت ثانیہ جس میں نیت تو تقرب الیٰ غیر اللہ کی ہو مگر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔ اول تو اشتراکِ علت یعنی نیت تقرب الی غیر اللہ کی وجہ سے مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ کے حکم میں ہے دوسرے وَمَاذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ کا بھی مدلول ہے اس لیے یہ بھی حرام ہے۔
تیسری صورت یہ ہے کہ کسی جانور کے کان کاٹ کر یا کوئی دوسری علامت لگا کر تقرب الی غیر اللہ اور تعظیم لغیر اللہ کے لیے چھوڑ دیاجائے، نہ اس سے کام لیں اور نہ اس کے ذبح کرنے کا قصد ہو بلکہ اس کے ذبح کرنے کو حرام جانیں یہ جانور مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ اور وَمَاذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ دونوں میں داخل نہیں بلکہ اس قسم کے جانور کو بحیرہ یا سائبہ وغیرہ کہا جاتا ہے اور حکم ان کا یہ ہے کہ یہ فعل تو بنص قرآن حرام ہے، جیسا کہ آیت مَاجَعَلَ اللُّہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّلَاسَآئِبَۃٍمیں انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا۔
مگر ان کے اس حرام عمل سے اور اس جانور کو حرام سمجھنے کے عقیدہ سے یہ جانور حرام نہیں ہوجاتا بلکہ اس کو حرام سمجھنے میں تو ان کے عقیدہ باطلہ کی تائید وتقویت ہوتی ہے، اس لیے یہ جانور عام جانوروں کی طرح حلال ہے۔
مگر شرعی اصول کے مطابق یہ جانور اپنے مالک کی ملک سے خارج نہیں ہوا اس کا مملوک ہے اگرچہ وہ اپنے غلط عقیدہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میری ملک سے نکل کر غیر اللہ کے لیے وقف ہوگیا، مگر شرعاً اس کا یہ عقیدہ باطل ہے۔ وہ جانور بدستور اس کی ملک میں ہے۔
اب اگر وہ شخص خود اس جانور کو کسی کے ہاتھ فروخت کردے یا ہبہ کردے تو اس کے لیے یہ جانور حلال ہے۔ جیسا کہ بکثرت ہندو اپنے دیوتائوں کے نام پر بکری یا گائے وغیرہ کو اپنے نزدیک وقف کرکے چھوڑ دیتے ہیں، مندروں کے پجاریوں جو گیوں کو اختیار دیتے ہیں وہ جو چاہیں کریں، یہ مندروں کے پجاری ان کو مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں۔
یا اسی طرح بعض جاہل مسلمان بھی بعض مزارات پر ایسا ہی عمل کرتے ہیں کہ بکرا یا مرغا چھوڑ دیتے ہیں اور مزارات کے مجاورین کو اختیار دیتے ہیں وہ ان کو فروخت کردیتے ہیں تو جو لوگ ان جانوروں کو ان لوگوں سے خرید لیں جن کو اصل مالک نے اختیار دیا ہے ان کے لیے یہ خریدنا اور ذبح کرکے کھانا اور فروخت کرنا سب حلال ہے۔
نذر لغیر اللہ کا مسئلہ
یہاں ایک چوتھی صورت اور ہے جس کا تعلق حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں سے ہے، مثلاً مٹھائی کھانا وغیرہ جن کو غیر اللہ کے نام پر نذر (منت) کے طور سے، ہندو لوگ بتوں پر اور جاہل مسلمان بزرگوں کے مزارات پر چڑھاتے ہیں۔ حضرات فقہا نے اس کو بھی ........... اشتراک علت یعنی تقرب الیٰ غیر اللہ کی وجہ سے مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ کے حکم سے قرار دے کر حرام کہا ہے اور اس کے کھانے پینے دوسروں کو کھلانے اور بیچنے خریدنے سب کو حرام کہا ہے، کتب فقہ بحرالرائق وغیرہ میں اس کی تفصیلات مذکورہ ہیں۔ یہ مسئلہ قیاسی ہے جس کو بنص قرآنی متعلقہ حیوانات پر قیاس کیا گیا ہے، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
Ayahs 16:116–117وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُوْن۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ص وَّلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 116۔ 117)
(اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائو، جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائیں گے وہ ہرگز فلاح نہیں پلائیں گے۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور دردناک عذاب ہے۔ )
تحلیل و تحریم کا حق صرف خدا کا ہے
گزشتہ آیات میں ہم تفصیل سے دیکھ چکے ہیں کہ تحلیل و تحریم کا حق صرف اللہ کریم کو حاصل ہے۔ اسی پر انسان کی تمدنی زندگی کا انحصار ہے۔ حکومتوں کو نہج اور جہت اسی سے ملتی ہے۔ منتخب ایوان اسی کی رہنمائی میں اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس حق میں اگر کسی کو شریک کردیا جائے تو پوری تمدنی اور سیاسی زندگی تلپٹ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں زور دے کر یہ بات کہی گئی ہے کہ تمہاری زبانیں جس طرح بغیر کسی روک کے حلال و حرام کا ذکر کرتی رہتی ہیں، اپنی زبانوں کو لگام دو ۔ تمہارے کہہ دینے یا تمہارے بڑوں کے فیصلہ کرلینے سے حرام حلال کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ اگر تم ایسا کرتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہو اور اس پر تہمت لگاتے ہو کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کی اجازت تمہیں اللہ تعالیٰ نے دی ہے، حالانکہ تم بھی جانتے ہو کہ تمہاری شریعت، تمہاری خانہ زاد ہے، تمہارے پاس اس کے لیے کوئی آسمانی سند نہیں۔ تم ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کا راستہ چھوڑ چکے ہو۔ تم نام اس کا لیتے ہو، لیکن عمل اپنی بدعات و خرافات پر کرتے ہو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے، یعنی ایسی کامیابی انھیں نصیب نہیں ہوسکتی جو زندگی میں انھیں آسودگی دے سکے اور آخرت میں ان کے انجام کو اچھا کرسکے۔
بدنصیبی یہ ہے کہ لوگوں نے جس چیز کو فلاح سمجھا ہے وہ دنیا میں چند ٹکوں کا حصول ہے۔ انھیں اگر دولت کے نام سے کچھ خزف ریزے مل جاتے ہیں یا عیش و عشرت کے نام سے سفلی جذبات کی تسکین کا سامان مل جاتا ہے تو وہ انھیں اپنے لیے زندگی کی کامیابی سمجھتے ہیں، حالانکہ دنیا بھر کی کامیابیاں متاع قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں لا الہ الا اللہ
کاش اس فریب میں مبتلا ہونے والے یہ سوچتے کہ آخرت میں اس کا انجام عذاب الیم کے سوا کچھ نہیں۔
Ayah 16:118وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا مَاقَصَصْنَا عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ ج وَمَا ظَلَمْنٰـھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 118)
(اور جو یہودی ہوئے ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کی ہیں جو ہم اس سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے بیان کرچکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔ )
اعتراض کا جواب
اس آیت کریمہ میں ان اعتراضات کا جواب دیا جارہا ہے جو سابقہ آیات میں بیان کردہ حلال و حرام کے حوالے سے بنی اسرائیل کی شریعت کی نسبت سے کیے جارہے تھے کہ تم کہتے ہو کہ ملت ابراہیمی میں صرف یہی چیزیں حرام تھیں جن کا ذکر محولہ بالا آیات میں ہوا جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہودی شریعت میں اور بھی بہت ساری چیزیں حرام تھیں جنھیں اس شریعت میں حلال کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں اس آیت میں سورة الانعام کی آیت 146 کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو بہتر ہوگا کہ اس آیت کے بارے میں کوئی تفصیل جاننے کی کوشش کریں۔ جس آیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے
وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ج وَمِن الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُوْمَھُمَا اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُھُوْرُھُمَآ اَوْ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ط ذٰلِکَ جَزَیْنٰـھُمْ بِبَغْیِھِمْ ز صلے وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (134)
(اور جو یہودی ہوئے ان پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کیے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے وابستہ یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی ہو یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی اور ہم بالکل سچے ہیں۔ )
یہود پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بعض جانور حرام کردیے گئے
تورات کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہود کی قوم تاریخ کے مختلف ادوار اور مختلف انبیاء و رسل کی بعثت کے زمانے میں مختلف حالات سے گزری ہے اور اس نے زمانے کے تلخ اور شیریں گھونٹ برابر پیئے ہیں اور ان کی تاریخ عروج وزوال کی ایک عبرت خیز اور دلچسپ داستان ہے۔ لیکن ایک بات جو برابر ان کی زندگی کے حالات سے سامنے آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے سلسلے میں ان کی سرکشی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر ایمان بھی لاتے رہے لیکن جب بھی انکو موقع ملا بار بار ان سے سرکشی کا اظہار ہوا اسلیے قدرت کی طرف سے وہ متعدد دفعہ جزوی عذابوں کا شکار ہوئے۔ کئی دفعہ اللہ تعالیٰ کا عتاب ان پر برسا اور انکو راہ راست پر چلانے کے لیے بعض دفعہ انھیں سخت احکام بھی دیے گئے۔ انہی احکام کے سلسلے میں اس آیت میں ان محرمات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بطور خاص یہود پر حرام تھے۔ لیکن آیت کے آخری حصے میں صاف بتلا دیا گیا ہے کہ یہ احکام ان کی اصل شریعت کا حصہ نہیں تھے بلکہ انکی اصل شریعت تو شریعت محمدی ہی کا عکس تھی۔ البتہ یہ جو سخت احکام ان میں آئے یہ انکی سرکشی کو کنٹرول کرنے کے لیے تھے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں ان پر حرام کی گئیں۔ وہ اس وجہ سے نہیں تھیں کہ فی نفسہ ان چیزوں کے اندر حرمت کی کوئی علت موجود تھی بلکہ انکی حرمت میں اصل دخل بنی اسرائیل کے فسادِ مزاج کو تھا جسطرح ایک طبیب بسا اوقات کسی مریض کو ایک جائز و طیب چیز کے استعمال سے بھی روک دیتا ہے کہ اس سے اسکی صحت جسمانی کو ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اخلاقی فساد کے سبب سے سزا کے طور پر بہت سی جائز چیزیں بھی ان پر حرام ٹھہرا دی تھیں۔ اس اخلاقی فساد کو قرآن کریم نے اس آیت میں بغی کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جسکے معنی سرکشی کے ہیں بنی اسرائیل کی اس سرکشی کا ذکر تورات اور انبیا کے صحیفوں میں اس کثرت سے آیا ہے کہ آدمی پڑھتے پڑھتے اکتا جاتا ہے۔ شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جسکو انھوں نے بخوشی قبول کیا ہو جو حکم بھی انکو دیا گیا اول تو انھوں نے اپنے سوالات کی کثرت ہی سے اس کو نہایت بوجھل بنادیا جس کی ایک مثال سورة البقرہ میں گائے کی قصے میں گزر چکی ہے۔ پھر اسکو مانا بھی تو اس سے گریز و فرار کی اتنی راہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے نکال لیں کہ عملاً وہ حکم ان کے لیے بالکل بےاثر ہو کر رہ گیا۔ ان کے اس فرار پسندانہ اور باغیانہ مزاج کا اثرقدرتی طور پر ان کی شریعت پر بھی پڑا جس طرح کسی سرکش جانور کا مالک اس کو سخت بندھنوں کے اندر رکھنے پر مجبور ہوتا ہے یا سرکش رعایا کا حکمران سخت قوانین نافذ کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں کو نہایت سخت قوانین میں باندھا۔ جن کو قرآن میں اصر و اغلال یعنی بندھن اور طوق سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ تورات میں اسرائیلی شریعت کے احکام پڑھیے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دوسری چیزوں سے قطع نظر صرف طہارت ہی کے احکام پڑھیے اور دیکھئے کہ حیض ‘ نفاس ‘ جنابت اور بعض بیماریاں مثلاً جریان اور برص وغیرہ لاحق ہوجانے کی صورت میں ان کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے۔ تو آدمی کا رواں رواں اس رب کا شکر گزار ہوتا ہے جس نے ہمیں ملت اسلام کی ہدایت بخشی جو ان تمام غیر فطری بندشوں اور پابندیوں سے پاک ہے۔ کھانے پینے کے باب میں بھی صرف وہی بندشیں نہیں تھیں جو بیان ہوئیں یہ بندشیں تو صرف چوپایوں کی حلت و حرمت کے متعلق بیان ہوئی ہیں اس سے زیادہ پابندی ان پر دریائی جانوروں کے معاملے میں تھی۔ احبار ‘ باب 11 سے معلوم ہوتا ہے کہ دریائی جانوروں میں سے جن کے پر اور چھلکے ہیں وہ ان کے ہاں جائز تھے باقی سب حرام تھے۔ اسی طرح پرندوں میں سے صرف شکاری پرندے ہی حرام نہیں تھے بلکہ قازیں ‘ بط اور بگلے وغیرہ بھی حرام تھے۔
اس آیت کریمہ میں چند ان محرمات کا ذکر کیا گیا ہے جو یہود پر بطور خاص حرام کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک تو ایسے جانور ہیں جو ناخن رکھتے ہیں اور دوسری چیز جانوروں کی چربی۔ جہاں تک تعلق ہے ناخن والے جانوروں کا اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے تورات کی تصریحات کو دیکھنا ضروری ہے۔ انھیں سامنے رکھیں تو اس کا مفہوم متعین کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے ہاں چوپایوں میں سے صرف وہ چوپائے حلال تھے جن کے پائوں چرے ہوئے ہوں اور وہ جگالی بھی کرتے ہوں۔ اس روشنی میں ذِیْ ظُفُرٍ یعنی ناخن والے جانور کا مفہوم متعین کیا جائے تو اس سے مراد وہ جانور ہوں گے جن کے پائوں چرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ سُم کی شکل میں بالکل بند البتہ ان کے سامنے کے حصے پر ناخن ہیں۔ یہود پر اس طرح کے تمام جانور جیسا کہ کُل کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے علی الاطلاق حرام تھے۔ اس وجہ سے ان پر بعض وہ جانور بھی حرام ہوگئے جو ملت ابراہیمی میں جائز تھے مثلاً اونٹ اور خرگوش وغیرہ۔ دوسری چیز جو ان پر حرام کی گئی وہ ناخن والے جانوروں کی چربی تھی تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ہر قسم کی چربی مراد ہے لیکن تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو چربی گوشت کے جز کی حیثیت رکھتی ہو۔ کمر ‘ آنتوں یا ہڈیوں میں اس طرح شامل ہو کہ اس کو باآسانی الگ نہ کیا جاسکے اس کا کھانے والوں پر حرام کرنا یقینا ایک ایسی سختی ہے جس کا انسانوں کے لیے تحمل بہت مشکل ہے اور عقل سے بھی بعید ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے احکام نہیں دیے ہوں گے یہ تشدد یہود کے کاہنوں اور فقیہوں نے اپنی طرف سے بڑھایا ہوگا اور یہ اس تشدد پر ایک مزید اضافہ ہے، جو ان کی شریعت میں پہلے بھی کچھ کم نہ تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کی اصلاح کرتے ہوئے اور اصل حکم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان پر ہم نے جو چربی حرام کی تھی وہ، وہ نہیں تھی جو کمر، آنتوں یا ہڈیوں میں اس طرح لگی ہوئی ہو کہ باآسانی ان کو الگ نہ کیا جاسکے۔
Ayah 16:119ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْٓا لا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ م بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 119)
(پھر بیشک آپ ﷺ کا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نادانی سے برائی کا ارتکاب کیا پھر اس کے بعد انھوں نے توبہ کرلی اور اپنے آپ کو سنوار لیا، بیشک آپ ﷺ کا پروردگار اس کے بعد بہت بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے)
رحمت کا دریچہ
گزشتہ آیات کریمہ میں پروردگار نے مشرکینِ مکہ کے مختلف اعتراضات کا جواب دیا اور ان کے مشرکانہ رویئے پر تنقید بھی کی اور انھیں ان کے انجام سے بھی ڈرایا۔ اب اس آیت کریمہ میں اچانک ایک بشارت کے ذریعے رحمت کا روزن کھولا جارہا ہے اور ان لوگوں کو بہتر زندگی کی بشارت دی جارہی ہے جنھوں نے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں پر ظلم توڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ایسی ہی باتوں کو دیکھ کر آدمی کو بےساختہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوئی ہے ورنہ کسی انسان میں یہ حوصلہ کہاں کہ وہ ان لوگوں کے لیے رحمت کے دروازے کھولے جو اس کے خون کے پیاسے ہوں اور وہ اس اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نوید دے جس کی وحدانیت بھی انھیں گوارا نہیں۔ وہ ان کی تمام تر دشمنی اور اذیت رسانی کے باوجود انھیں یہ خبر دے رہا ہے کہ تم نے اپنی حماقت سے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو اپنا حریف سمجھ لیا ہے اور ہر ممکن طریقے سے انھیں نقصان پہنچانے میں لگے رہتے ہو اور جو آب حیات وہ تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں تم اسے زہرقاتل سمجھتے ہو۔ وہ تمہیں دعائیں دیتے ہیں اور تم انھیں گالیاں دیتے ہو، ان کو اور ان کے خدا کو ازاول تا آخر تمہاری بہتری منظور ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ اے پیغمبر ﷺ تیرا راب اپنی ربوبیت کا حوالہ دے کر ان نادانوں سے یہ کہتا ہے کہ جس طرح تمہارے رب نے تمہاری ہر طرح کی سرکشی کے باوجود تمہاری روزی بند نہیں کی اور اس کے ربوبیت کے فیضان میں کوئی کمی نہیں آئی، اسی طرح تم اب تک اپنی زندگی میں جو کچھ بھی برائیاں اختیار کرچکے ہو اور تم نے اپنی ہمہ گیر جہالت کے باعث نہ جانے کیسے کیسے تعصبات پال رکھے ہیں اور انھیں تعصبات کے نتیجے میں تم ہمارے پیغمبر پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو حالانکہ وہ راتوں کو تمہاری ہدایت کے لیے دعائیں مانگتا ہے اور تم اس کے راستے میں کانٹے بچھاتے ہو۔ ہر طرح کا دکھ پہنچانے میں تمہیں دریغ نہیں لیکن یاد رکھو تم جو کچھ بھی کرچکے ہو بظاہر وہ ناقابلِ معافی دکھائی دیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے التفات کو پھیرا نہیں۔ اس کا گوشہ التفات برابر کھلا ہے۔ ادھر سے برابر آواز آرہی ہے کہ تم یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد بھی اگر توبہ کرلو، آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئو اور اپنی زندگی کی اصلاح کا عزم کرلو تو یقین جانواس کی طرف سے مغفرت فرمانے میں دیر نہیں کیونکہ وہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔