Ayahs 14:19–20اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط اِنْ یَّشَاْیُذْھِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ وَّمَاذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 19۔ 20)
(کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہلاک کردے اور ایک نئی مخلوق لابسائے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ )
قریش کو وارننگ
اس آیت کریمہ میں قریش مکہ کو غور و فکر کی دعوت بھی دی گئی ہے اور ساتھ ساتھ وارننگ بھی۔ غور و فکر کے قابل بات یہ ہے کہ یہ دنیا نہ تو خودبخود وجود میں آئی ہے اور نہ اس کی تخلیق بےمقصد ہے، نہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے، یہ ایک ایسی ذات کی تخلیق ہے جو حکیم ہے، جس کی حکمت کائنات کے ذرے ذرے سے عیاں ہے۔ اس نے کائنات کی بیشمار مخلوقات میں ایسے عوامل پیدا کردیے ہیں کہ جن سے ان کی حکمت و دانش کا ظہور بھی ہوتا ہے اور مقصد حق کی نمود بھی۔ اب اگر واقعی اس کائنات اور بالخصوص انسانوں کو پیدا کرنے کا کوئی مقصد حق بھی ہے اور تمہاری زندگی کا اس مقصد حق سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ تم ایک حیوانی زندگی گزار رہے ہو جنھیں کھانے پینے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے اور آرزوئوں میں بہلنے کے سوا اور کوئی کام نہیں، تو آخر اللہ تعالیٰ کو کیا پڑی ہے کہ ایسے انسان نما حیوانوں کو انسانوں کی سرزمین پر آباد رکھے۔ اس کی حکمت کا تقاضا تو یقینا یہ ہوگا کہ انھیں تباہ کرکے ایسے لوگوں کو یہاں بسائے جو اللہ تعالیٰ کے مقصد حق کو نہ صرف پورا کرنے والے ہوں بلکہ اسی کے لیے مرنا جینا حاصل زندگی سمجھتے ہوں۔ اور یہ بھی یقین رکھو کہ یہ محض مفروضہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بےمقصد لوگوں کو ہلاک کردے، بلکہ اس کی صفت عدل و قسط کا تقاضا بھی ہے۔ اس نے آج تک تمہیں سنبھلنے کا موقع دیا لیکن اب شاید وہ وقت دور نہیں جب تمہیں مٹا کر ایسے لوگوں کو بسایا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے عدل و قسط کو ہر شعبہ زندگی میں نافذ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے مقصد حق کا ظہور ہوگا۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ کسی قوم کو اس دھرتی پر ہلاک کردینا اور دوسری قوم کو اس کی جگہ بسا دینا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں، اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں جہاں عجز نام کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ اس کی مثالیں دیکھنی ہوں تو قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کو دیکھ لیجئے جن کے کھنڈرات پر تمہارے تجارتی قافلے گزرتے ہیں۔
Ayah 14:21وَبَرَزُوْالِلّٰہِ جَمِعْیًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓـؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْ ٓا اِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ ط قَالُوْا لَوْھَدٰنَا اللّٰہُ لَھَدَیْنٰـکُمْ ط سَوَآئٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَالَنَا مِنْ مَّحِیْص۔ (سورۃ ابراھیم : 21)
(اور ( قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کے سامنے سب حاضر ہوں گے۔ تو کمزور لوگ، ان لوگوں سے جو بڑے بنے رہے، کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع رہے ہیں تو کیا آج تم ہمیں بچا سکتے ہو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے۔ وہ جواب دیں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت کی راہ دکھاتے۔ اب ہمارے لیے یکساں ہے چیخیں، چلائیں یا صبر کریں، ہمارے لیے آج کوئی راہ فرار نہیں۔ )
ویسے تو ہر اجتماعیت کی یہ کمزوری ہے کہ کوشش کے باوجود بھی انسان طبقات کو ختم نہیں کرسکتا۔ اس لیے طبقہ ٔ امراء اور طبقہ غرباء اور آگے چلنے والوں اور پیروی کرنے والوں کے دو مستقل گروہ ہر جگہ موجود ہیں۔ لیکن قبائلی زندگی میں ان کا وجود ہمیشہ سے مستحکم رہا ہے۔ قبیلے کا سردار اور اس کے قرب و جوار کے لوگ ایک خاص امتیاز کے حامل ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
لیڈروں کا جواب
گزشتہ آیت کریمہ میں قریش کو وارننگ دی گئی کہ تم نے جس طرح اپنی خدائی کا صور پھونک رکھا ہے، تمہیں اندازہ نہیں کہ کسی وقت بھی تمہاری وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے اور اس آیت کریمہ میں ان کے پندار پر مزید چوٹ لگاتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی گرفت نے تمہیں دنیا میں مہلت دیے رکھی تو یہ مت بھولو کہ قیامت کے دن تم بہرصورت اس کے سامنے جوابدہی کے لیے لائے جاؤ گے۔ وہاں تم میں بڑے بھی موجود ہوں گے اور چھوٹے بھی۔ آگے چلنے والے بھی اور پیروکار بھی۔ یہاں تو کسی چھوٹے کو بڑے کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں ہوتی لیکن وہاں وہ لوگ جن کو تم نے کمزور بنا کے رکھا وہ اپنے نام نہاد عظمت کے دعویداروں کو جب میدانِ حشر میں اپنے سامنے دیکھیں گے تو وہ ان سے برملا کہیں گے کہ دنیا میں ہم نے ہر طرح سے تمہاری فرمانبرداری کی اور تمہارے اشاروں پر چلتے رہے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں (علیہم السلام) کی بات تمہارے مقابلے میں سننے سے انکار کردیا۔ تم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا مذاق اڑائو، ہم نے مذاق اڑایا۔ تم نے ہم سے کہا، ان پر پتھر برسائو، ہم نے پتھر برسائے۔ ایک سے ایک بڑھ کر کمینہ حرکت تمہارے حکم سے کی۔ آج اسی کی پاداش میں ہم سب پکڑے گئے ہیں۔ ہم پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ کیا تم ہمیں آج بچانے کے لیے کچھ کرو گے یا نہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھوٹنے کی کوئی صورت ممکن ہے ؟ تو وہ ان کے لیڈران کرام جواب دیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے۔ ہم نے ہدایت سے آزاد زندگی گزاری اور کسی کی پرواہ نہ کی اور تم نے بھی یہی کچھ کیا، سو آج ہم تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ اب ہمارے لیے رونا دھونا یا صبر کرنا برابر ہے۔ اب تو یہ جہنم ہمارا مقدر ہے جہاں صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور نہ یہاں کوئی راہ فرار اختیار کی جاسکتی ہے۔
Ayah 14:22وَقَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَالْحَقِّ وَوَعَدْتُکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ ط وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلاَّ ٓ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ ج فَلاَ تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُـْوٓٓا اَنْفُسَکُمْ ط مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ ط اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ط اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 22)
(جب معاملے کا فیصلہ ہوچکے گا شیطان بولے گا بیشک اللہ تعالیٰ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا۔ اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا، پس میں نے تم سے وعدہ خلافی کی۔ اور مجھے تم پر کوئی اختیار نہیں تھا، مگر یہ جو میں نے تم کو دعوت دی اور تم نے فوراً میری دعوت قبول کرلی۔ سو تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ تم نے جو مجھے شریک بنا لیا تو میں نے اس کا پہلے سے ہی انکار کردیا، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ )
محشر میں شیطان کا اعتراف
ہم گزشتہ آیت کریمہ میں پڑھ چکے ہیں کہ قیامت کے دن میدانِ حشر میں آئمہ کفر اور ان کے متبعین کے درمیان جب فیصلہ ہوچکے گا اور وہ اپنے اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے تو شیطان کو خیال ہوگا کہ یہ لوگ اپنے جھگڑے سے فارغ ہونے اور اپنے ہولناک انجام کو دیکھ لینے کے بعد یقینا میری طرف متوجہ ہوں گے کیونکہ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ بُرائی کا اصل سرچشمہ میں ہوں، میں ہی دلوں میں وسوسے ڈالتا ہوں اور میں ہر طبقہ ٔ خیال کے لوگوں میں گمراہی اور سرکشی کے جذبات پیدا کرتا ہوں۔ برے سے برے اعمال اور نہایت الجھے ہوئے افکار کو میں ہی دلوں میں مزین کرتا ہوں اور میری ہی کوششوں سے یہ لوگ ایسے افکار و اعمال کو اپنے لیے سرمایہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اب جب ان کے سامنے ایک ایک بات کھل جائے گی۔ تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر میرے پاس آئیں گے کہ تم نے ہماری آخرت تباہ کی اور دنیا میں کوئی صحیح فیصلہ ہمیں نہ کرنے دیا، اب تم بتائو کہ ہم اس مصیبت سے کیسے نجات پائیں، کیا تم ہماری اس سلسلے میں کوئی مدد کرسکتے ہو یا نہیں۔ اس سے پہلے کہ لوگ آگے بڑھ کر اس سے کچھ کہیں وہ خود ہی ان سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ میں تمہارے سامنے اعتراف کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تم سے وعدے کیے تھے کہ قیامت آئے گی، اعمال کا حساب کتاب ہوگا، نیکی پر جزاء ملے گی، بُرائی پر سزا ہوگی، صاحب ایمان جنت میں جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانیوں پر جہنم جانا پڑے گا۔ تم نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی تم سے کچھ بہکانے کے لیے وعدے کیے تھے، وہ سب جھوٹے تھے۔ سراسر اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ تم نے اپنی خواہشاتِ نفس کی تسکین کے لیے میری بات کو قبول کرلیا اور زندگی میں ان راہوں پر چلتے رہے جو تمہاری خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے والی تھیں۔ اب جبکہ انجام اس کا سامنے آیا ہے تو تم اس پر چیخ رہے ہو حالانکہ جب میں نے اپنی بات تمہارے سامنے رکھی تھی اور میں نے تم سے غلط وعدے کیے تھے تو تمہیں اس وقت سوچنا چاہیے تھا، اب مجھے ملامت کرنے کا کیا فائدہ۔ ملامت کا جواز جب پیدا ہوتا ہے جب میں نے تم پر زبردستی کی ہو۔ میرے پاس نہ کوئی زور تھا نہ کوئی حکومت۔ محض ایک دعوت تھی، ایک بلاوا تھا جسے تم نے خوشدلی سے قبول کیا۔ اب ہم دونوں ہی اس کی پاداش میں پکڑے گئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میرے لیے فریاد رس بن سکتے ہو۔ رہی یہ بات کہ تم نے بہت سارے معاملات میں مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا کہ تم میرے احکام کی ایسے ہی پیروی کرتے تھے جیسے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کی جاتی ہے حالانکہ میں نے پہلے دن اس سے انکار کردیا تھا اور میں آج بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ تم محض اپنی حماقت سے میرے اٹھائے ہوئے فتنوں کا ایندھن بنتے رہے ہو اور اپنے ہَوائے نفس کی پیروی میں ان راہوں پر چلتے رہے ہو جو میں نے تمہارے لیے کھولی تھیں تاکہ تم راہ ِراست سے دور نکل جاؤ۔ اس لیے آج اپنی بداعمالیوں اور بدکرداریوں کا بوجھ مجھ پر مت ڈالو۔
حقیقت یہ ہے کہ شیطان اپنے جس جرم کا قیامت کے دن اعتراف کرے گا وہ کوئی نئی بات نہیں، یہ انسان کی سادگی ہے کہ وہ اس کے جرم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ آج بھی اگر آپ بنظرغائر دیکھیں تو آپ کو جابجا شیطان کی یہی روش نظر آئے گی۔ وہ ایک نکمے اور نکھٹو نوجوان کو رہزنی یا نقب زنی کے ذریعے راتوں رات امیر بننے کی ترغیب دیتا ہے اور ایسا اس کے سامنے نقشہ کھینچتا ہے کہ وہ اسے زندگی کا نصب العین بنا لیتا ہے لیکن جب وہ اس جرم میں پکڑا جاتا ہے تو شیطان اس کی مدد تو کیا کرے گا، دور کھڑا ہو کر مسکراتا ہے۔ اسی طرح وہ بڑے سے بڑے جرم کے لیے آدمی کے اندر رغبت پیدا کرتا ہے، اسے ایسے ایسے سبزباغ دکھاتا ہے کہ جرم کرنے والا اس کے تاریک پہلو کو کبھی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ لیکن جب وہ تاریک پہلو ہولناک صورت میں اس کے سامنے آتا ہے تو وہ شیطان اور اس کے کارندوں کو گالیاں دیتا ہے لیکن شیطان خوش ہوتا ہے کہ میں نے وہ کام کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔
آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی فرمانبرداری کا راستہ چھوڑ کر کفر، شرک اور معصیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں، اپنے معاشرے پر ظلم کرتے ہیں، اپنے ماحول پر ظلم کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں عذاب الیم ہے کیونکہ وہ اسی کے مستحق ہیں۔
Ayah 14:23وَاُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ ط تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 23)
(اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے بھلے کام کیے ایسے باغوں میں جن کے نیچے ندیاں رواں ہوں گی ان میں وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی دعا اس جنت میں ایک دوسرے پر سلام ہوگی۔ )
مومن کا انجام
قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق پہلے کفار، مشرکین اور معصیت کاروں کا انجام بیان فرمایا۔ اب ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جارہا ہے جنھوں نے دنیا میں ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور آخرت پر ایمان لائے۔ اور ہر اس بنیادی عقیدے کو مانا جسے ماننے کا اسلام حکم دیتا ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر پوری طرح عمل کرکے دکھا یا اور اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کی بجائے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کو ہمیشہ اپنا مقصد جانا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کو اپنا آئیڈل اور اپنا محبوب سمجھا اور دنیا کی ہزاروں ترغیبات کے باوجود کبھی اسلامی شریعت سے سرمو ہٹنا پسند نہ کیا۔ ان کے لیے قیامت کے دن ایسے محلات ہوں گے جو باغوں میں گھرے ہوئے اور جن کے نیچے سے ندیاں بہتی ہوں گی۔ اور جس کی خوش عیشی، خوش باشی اور سرسبزی کا تصور بھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ وہاں وہ چند روز کے لیے نہیں جائیں گے بلکہ وہ ان کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کی قیام گاہ ہوگی جہاں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے شاہی مہمان کی طرح ٹھہریں گے اور وہاں ان تمام نعمتوں سے شادکام ہونے والے وہ تنہا نہیں ہوں گے بلکہ اور بھی بیشمار افراد ہوں گے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود ہر ایک کے دل میں دوسروں کے لیے درازیٔ عمر اور سلامتی کی دعائیں ہوں گی۔ جب وہ بھی ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو بےساختہ ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے اللہ تعالیٰ سے درخواست گزار ہوں گے۔
Ayahs 14:24–26اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآء۔ تُؤْتِیْ ٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ م بِاِذْنِ رَبِّھَا ط وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ تَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ نِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْارْضِ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 24۔ 25۔ 26)
(کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ کس طرح تمثیل بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک شجرہ طیبہ کے مانند ہے جس کی جڑ زمین میں اتری ہوئی ہے اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اپنا پھل ہر فصل میں اپنے رب کے حکم سے دیتا ہے اور بیان فرماتا ہے اللہ تعالیٰ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔ اور مثال کلمہ ٔ خبیثہ کی ایسی ہے جیسے ایک ناپاک درخت، اسے اکھاڑ لیا جائے زمین کے اوپر سے اور اس سے کچھ بھی قرارنہ ہو۔ )
اس آیت کریمہ میں نہایت محکم انداز میں انسانی ہدایت کے لیے چند بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ہم ان باتوں کو ایک ترتیب سے عرض کرتے ہیں۔
کلمہ طیبہ کی وضاحت
1 کلمہ طیبہ کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے لا الہ الا اللہ کو کبھی کلمہ طیبہ سے یاد فرمایا ہے اور کبھی اسے الکلمۃ الجامعۃ کہا ہے۔ یعنی وہ کلمہ جسے پڑھ کر آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے، جو ایمان کی بنیاد اور ایمان کی علامت ہے۔ آپ ﷺ نے اسی کلمہ کے بارے میں مختلف باتیں ارشاد فرمائیں۔ قبائل کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتے ہوئے اسی کلمے کو پیش فرمایا اور یہ کہا کہ اگر تم اسے قبول کرلو فَہُوَ حَظُکُمْ فِی الدُّنِیَا وَفِی الْآخِرَۃِ تو یہی تمہاری دنیوی قسمت ہے اور یہی اخروی۔ یعنی اسی کلمے کی بدولت تمہیں دنیا میں عزت حاصل ہوگی اور اسی کی بدولت آخرت میں سرخروئی نصیب ہوگی۔ بعض دوسرے مواقع پر لوگوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم یہ کلمہ مجھے قبول کرکے دے دو تو اسی سے تم عربوں کے مالک بن جاؤ گے اور اسی سے عجم تمہارے سامنے جھک جائیں گے۔ یعنی عرب و عجم کی حکمرانی تمہارے قدموں میں ہوگی، اگر تم نے اس کلمے کا حق ادا کردیا۔ اسی کو کلمہ توحید بھی کہا جاتا ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کلمے سے مراد تو لا الہ الا اللہ ہے یعنی یہ بنیادی عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں کہ جس کے سامنے سر جھکایا جاسکے۔ جس سے علی الاطلاق مرادیں مانگی جاسکیں جس کی محبت اور نفرت انسانی تعلقات کا حوالہ ہو، جس کی غیرمشروط اطاعت واجب ہو، جو حاکمیت مطلقہ کا حق رکھتا ہو، جس کے مقابلے میں کسی کو قانون سازی کا حق نہ ہو۔ یہ وہ بنیادی تصورات ہیں جو اس کلمے کی صفات ہیں یا اس کے بنیادی اجزاء۔
2 اس کلمہ کی جلالتِ قدر اور تاثیر کلی میں کوئی شبہ نہیں، لیکن اس کے ساتھ شرط یہ ہے کہ اس کلمہ کو شجرہ طیبہ کی حیثیت حاصل ہے۔ شجرہ طیبہ کی دو صفات ہیں۔ اس کی جڑیں پاتال میں اتری ہوئی ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں فضائے آسمانی میں لہراتی ہیں۔ وہ زمین سے بھی غذا لیتا ہے اور آسمان سے بھی۔ نظریات فاسدہ کا کوئی طوفان اس کی جڑیں نہیں ہلا سکتا۔ اور خواہشات کا کوئی ہیجان اس کی بلندیوں پر غالب نہیں آسکتا۔ یہ کلمہ ایک مومن کے دل کی آواز ہے، اس کے دل کی دھڑکن ہے اور اس کے جسم کی روح ہے۔ حضرت بلال ( رض) کی طرح اگر کوئی دشمنِ حق کسی مومن کے سینے پر سل رکھ کر اس کلمے کو اس کے سینے سے نکال نہیں سکتا۔ جیسے جیسے اسے اذیت دی جائے گی اس سے نکلنے والی آواز اللہ تعالیٰ احد کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ حضرت عمر ( رض) کی بہن کی طرح عمر ( رض) جیسے پرہیبت آدمی کے سامنے کسی کمزوری کے اظہار کی بجائے یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتی کہ :
بہن بولی عمر ؓ ہم کو اگر تو مار بھی ڈالے
شکنجوں میں کسے یا بوٹیاں کتوں سے نچوالے
مگر اس دین حق سے ہم تو ہرگز پھر نہیں سکتے
بلندی معرفت کی مل گئی ہے گر نہیں سکتے
جب یہ کلمہ دل میں اتر جاتا ہے تو سمجھئے کہ ایک شجرہ طیبہ ہے جو زمین کی پاتال میں اتر گیا۔ اب عقل اور فطرت سے اس کا رشتہ قائم ہوگیا۔ وہ برابر ان سے غذا بھی حاصل کرتا ہے اور ان میں پختگی کا باعث بھی بنتا ہے۔
3 شجرہ طیبہ کی مانند اس کی اڑان اور اس کی پرواز وسعت آسمانی تک ہوتی ہے۔ آسمان سے برابر ترشحات نازل ہوتے ہیں۔ قدرت کا فیضان اس کے اندر وہ سوز و گداز پیدا کرتا ہے جسے خشیت الٰہی اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ فلسفے کی اڑان گھائیاں اور شیطنت کی کہانت سامانیاں اس پر اثرانداز ہونے سے قاصر ہوجاتی ہیں۔
4 شجرہ طیبہ کی مانند اس کا سایہ گھٹنے میں نہیں آتا، اس کے پھلوں کی مٹھاس کبھی بگڑنے نہیں پاتی، اس کے پھلوں کا رسیلا پن کبھی گدلا نہیں ہونے پاتا، اس پر کبھی خزاں اثرانداز نہیں ہوتی، اس کے اثرات اور اس کے نتائج ابدی اور دائمی ہیں جس پر طبائع کے موسم بھی اثر نہیں ڈال سکتے۔
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
گوشت پوست کا انسان اسی کلمہ طیبہ سے پہاڑوں جیسا استقلال سیکھتا ہے۔ اس کی اشک سحرگاہی سے عبادت میں نور پیدا ہوتا ہے، شیطانی قوتوں کے مقابلے میں اس کا ذکرشمشیر برہنہ بن کے ابھرتا ہے جو باطل کی قوتوں کو تار تار کر کے رکھ دیتا ہے۔ چناچہ یہی وہ کلمہ طیبہ آنحضرت ﷺ لے کر آئے اور چند ہی سالوں میں جاہلیت کی دھوپ کے جلے ہوئے لوگ اس کے گھنے سائے میں پناہ لینے لگے۔ دکھوں کے ستائے ہوئے لوگوں کو اسی کلمہ طیبہ کے حامل دلوں نے آسودگی مہیا کی، اسی کا فیضانِ رحمت دیکھتے ہی دیکھتے جزیرہ عرب پر گھنگور گھٹا کی طرح چھا گیا، انسانیت کے مقدر کی وہ سحر طلوع ہوئی جس کی امید میں انسانیت نے صدیاں گزاری تھیں۔ جب تک مسلمان کا اصل سرمایہ یہی کلمہ طیبہ رہا تو وہ باطل کے مقابلے میں سب سے بڑی قوت اور دکھوں کے مقابلے میں سب سے بڑی رحمت تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ سب سے بڑی نعمت ہے جو کل بھی انسان کی ضرورت تھی اور آج بھی انسان کی ضرورت ہے۔
نثار سَیّدِ کونین ﷺ پر مرے ماں باپ
سبق دیا بھی تو کیا لا الہ الا اللہ
کلمہ خبیثہ کی وضاحت
اس کے مقابلے میں وہ کلمہ خبیثہ جس کے پھل کفر، شرک اور ان پر مبنی عقائد و نظریات ہیں۔ اس کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی طرح ہے جس میں نہ پھول ہے، نہ پھل، نہ سایہ نہ غذا۔ ہاتھ لگایئے تو اس کے کانٹے ہاتھوں کو زخمی کرتے ہیں اور چکھئے تو زبان زہرآلود ہوجائے۔ اس کے قرب سے وہ بو اٹھے جس سے قوت شامہ مائوف ہو کر رہ جائے۔ ایسے کلمات مختلف ادوار میں سر اٹھاتے رہے، ایسے جھاڑ جھنکار نہ جانے کتنی دفعہ انسانیت کی منزل کھوٹی کرچکے۔ تاریخ میں ان کے بیشمار نام ہیں، لیکن آج انھیں کی ترقی یافتہ شکل ہے جو انسانیت کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہورہی ہے، لیکن پر اپیگنڈا اور ذرائع ابلاغ کا طلسم ایک ایسی مصیبت ہے جس نے ذہنوں کو پراگندہ بھی کیا ہے اور مائوف بھی۔ لیکن ان سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس طرح مزدکیت اپنی موت مرگئی اسی طرح اشتمالیت اور اشتراکیت بھی دم توڑتی جارہی ہے اور جس طرح ساہوکاری نظام گالی بن چکا ہے اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام بھی اپنی جگہ چھوڑتا نظر آتا ہے کیونکہ یہ وہ شجراتِ خبیثہ ہیں جنھوں نے زمین کے اوپر ایک ہنگامہ مچا رکھا ہے لیکن ان کی جڑیں گہری نہیں۔ انتظار اس کا ہے کہ کب ان کو اکھاڑنے والے ہاتھ تیار ہوتے ہیں، کب وہ نسل اٹھتی ہے جو کلمہ طیبہ کے سوز سے بہرہ ور ہو کر انسانوں کی بھلائی کے لیے ان کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اٹھے گی۔ اس وقت دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ اس سراب کی فی الحقیقت کوئی حقیقت نہ تھی اور یہ درختوں کا رس چوسنے والی وہ خوبصورت آکاس بیل تھی جس کی زمین پر کوئی جڑ نہ تھی۔
Ayah 14:27یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ج وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ قف لا وَیَفْعَلُ اللّٰہُ مَایَشَآئُ ۔ (سورۃ ابراھیم : 27)
(اللہ تعالیٰ ثباتِ قدم عطا فرمائے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اس پختہ قول کی برکت سے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے اعمال رائیگاں کردے گا۔ اور اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔ )
کلمہ طیبہ مومن کے لیے ثبات قدم کا باعث ہے
مذکورہ بالا آیات میں جس کلمہ طیبہ کا ذکر ہوا ہے وہی کلمہ ہے جو ایک مومن کے ایمان کا ذریعہ اور اس کی سیرت صالح کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی کی برکت سے ہر مومن کو ثبات و استقامت بخشتا ہے۔ اس پر یقین و ایمان جس درجے کا ہوگا اسی درجے کی نصرت و اعانت آزمائشوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے میسر آئے گی۔ جس خوش نصیب کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا استحضار نصیب ہوجاتا ہے، شیطان کا کوئی پھندا اس پر کارگر نہیں ہوتا۔ اور نبی کریم ﷺ کی سنت اس کے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتی۔ حتیٰ کہ قبر اور حشر میں بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق دستگیری فرمائے گی۔ قبر ایک مومن کے لیے پہلا مرحلہ ہے اور نہایت نازک مرحلہ ہے۔ چناچہ وہاں بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی ایک مومن کے کام آئے گی اور حدیث شریف میں اسی آیت کے حوالے سے اسے بیان فرمایا گیا ہے۔ حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا المسلم اذا سئل فی القیر یشھدان لا الہ الا اللہ وان محمد الرسول اللہ فذلک قول اللہ تعالیٰ یثبت اللہ الذین امنوا لایۃ یعنی قبر میں جب ایک مسلمان سے اس کے رب اور اس کے رسول اور اس کے دین کے متعلق سوال کیا جائے گا تو وہ جواب میں کہے گا اشھدان لا الہ الا اللہ وان محمد الرسول اللہ اور یہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا یثبت اللہ الذین امنو الایۃ اور حضرت عثمان ( رض) سے مروی ہے قال کان النبی صل اللہ علیہ وسلم اذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال استغفروا لاخیکم ثم سلوالہ التثبت فانہ الآن یسئال یعنی حضور ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب میت کو دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو اس کے قریب کھڑے ہوجاتے اور سب کو فرماتے، اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا مانگو کیونکہ اب اس سے پوچھا جارہا ہے۔ حضرت سہل بن عمار فرماتے ہیں کہ میں نے یزید بن ہارون کو ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا۔ میں نے پوچھا سنایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ انھوں نے کہا قبر میں میرے پاس دو بڑے خوفناک اور سخت فرشتے آئے اور مجھ سے دریافت کیا مادینک و من ربک ومن نبیک تیرا دین کیا ہے، تیرا رب کون ہے ہے اور تیرا نبی کون ہے ؟ فاخذت بلحیتی البیضاء وقلت المثلی یقال ھذا وقدعلمت الناس جو ابکما ثمانین سنۃ میں نے اپنی سفید داڑھی کو پکڑ کر کہا کیا میرے جیسے شخص سے تم اس قسم کے سوالات پوچھتے ہو۔ 80 سال تک لوگوں کو تمہارے انھیں سوالات کے جوابات پڑھاتا رہا ہوں۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جن دلوں میں کلمہ طیبہ اتر چکا ہے اللہ تعالیٰ کس طرح اس کلمہ طیبہ کے ذریعے قبر میں بھی انھیں ثابت قدمی عطا فرماتا ہے اور اسی طرح آخرت میں بھی اسی کلمے کی برکت سے ثبات قدم اور استقامت عطا فرمائے گا۔
Ayahs 14:28–30اَلَمْ تَرَا اِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ کُفْرًاوََّاَحَلُّوْا قَوْمَھُمْ دَارَالْبَوَارِ ۔ جَھَنَّمَ ج یَصْلَوْنَھَا ط وَبِئْسَ الْقَرَارُ ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ ط قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 28۔ 29۔ 30)
(کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر غور نہیں کیا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم میں لا اتارا، جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرائے تاکہ اس کے راستہ سے لوگوں کو گمراہ کرکے ہٹائیں۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے چند دن لطف اٹھا لو، بالآخر تمہاری ٹھکانہ جہنم ہے۔ )
اَلَمْ تَرَکا مخاطب اور قریش کو تنبیہ
اس آیت کریمہ کے آغاز میں ہر اس شخص سے خطاب ہے جو حق و باطل کی اس کشمکش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایک طرف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور مسلمان ہیں، دوسری طرف قریش اور مکہ کے عام لوگ۔ ان میں سے ہر ایک فرد کو متوجہ کرکے کہا جارہا ہے کہ ذرا ان قریش کے طوراطوار کو دیکھو، یہ خود کو بہت سمجھدار سمجھتے ہیں اور ان کی نخوت اور تکبر کسی دوسرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بایں ہمہ حال ان کا یہ ہے کہ ان کے اس حال پر جتنا بھی تعجب کیا جائے کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس سرزمین مکہ میں کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائیں اور پھر ان ہی میں سے آخری پیغمبر کو اٹھایا جو ان کے پاس ایک ایسا کلمہ طیبہ لے کے آئے جس میں ان کے لیے دل و دماغ کی بالیدگی بھی ہے، احساسات کی آسودگی بھی ہے، اخلاق کی توانائی بھی ہے، معاملات کی پاکیزگی بھی ہے، ایک دوسرے سے ہمدردی و خیرخواہی بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اس کا احساسِ بندگی بھی ہے اور جس کے نتیجے میں تمام دنیا پر اثرونفوذ کے امکانات بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے وعدے بھی ہیں اور دنیا و آخرت میں استقامت اور استقلال کے نشانات بھی ہیں۔ ایک نئی زندگی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہے۔ لیکن ان بدنصیبوں نے اس نعمت عظمیٰ کی قدر کرنے کی بجائے اسے کفرانِ نعمت سے بدل ڈالا۔ قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی، آنحضرت ﷺ کی دعوت کا راستہ روکا، مسلمانوں کو اذیتیں پہنچائیں اور اپنی قوم کو ایک ایسے راستے پر لے چلے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں دارالبوار یعنی ہلاکت کے گھر میں جا اتارا۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ( علیہ السلام) نے انھیں دنیوی اور اخری کامیابیوں کے نہ صرف مژدے سنائے بلکہ خلافتِ ارضی کا انھیں مستحق بنایا اور جنت کی نعمتوں کا انھیں وارث ٹھہرایا۔ لیکن ان بدبختوں نے اللہ تعالیٰ کی یکتائی کو شرک سے ملوث کر ڈالا۔ اس کی وحدانیت کے مقابلے میں کئی کئی ہمسر لا کھڑے کیے۔ اور اس طرح سے ان کے لیے گمراہی اور بربادی کا ایک ایسا راستہ کھولا جس میں نہ فطرت کی آواز شامل ہے نہ عقل و دانش کی تائید۔ انسانیت کی اکائی کو نہ جانے کہاں کہاں تقسیم کر ڈالا۔ اپنے جیسی مخلوقات کو انسانوں کا معبود ٹھہرا کر انسان کی ایسی تذلیل کی کہ نہ اس کے اندر بلند عزمی باقی رہی اور نہ منزل کا شعور باقی رہا۔
Ayah 14:31قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ سِرًّاوَّعَلاَنِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْمٌ لاَّبَیْعٌ فِیْہِ وَلاَ خِلٰلٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 31)
(آپ ﷺ فرما دیجئے میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز کا اہتمام رکھیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کریں۔ اس سے پیشتر کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدوفروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی۔ )
مسلمانوں کو پیغام
قریش کو تنبیہ اور انذار کے بعد مسلمانوں کو نصیحت کی جارہی ہے اور بالواسطہ یہ بتانا مقصود ہے کہ قریش کے دن گنے جا چکے ہیں، یہ گرتی ہوئی دیوار کے نیچے بیٹھے ہیں جو کسی وقت بھی ان کو لے بیٹھے گی۔ مستقبل کے امین مسلمان ہیں۔ اس دھرتی کا اصل نمک یہی ہیں۔ مستقبل کا بوجھ اٹھانا ہے اور اسلام کا ہر اول دستہ بن کر دنیا کو اسلام کی روشنی سے بہرہ ور کرنا ہے، تو انھیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ان کے اندر معمولی کمزوری بھی تاریخ میں حوادث کا شگاف کھول دے گی، چونکہ آئندہ نسلوں کا دارومدار انھی پر ہے اس لیے وہ اپنا اچھی طرح جائزہ لیں کہ ان میں ایمان و عمل اور سیرت و کردار کا کوئی سقم باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے ان کے تعلق کی استواری اور پائیداری کے لیے نماز کا اہتمام بےحد ضروری ہے۔ یہی وہ عبادت ہے جو بندے اور معبود میں حقیقی تعلق پیدا کرتی ہے۔ انسان کو اپنی حقیقت سے بھی آشنا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی سے بھی بہرہ ور رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے باعث وہ کسی کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ سے ربط و ضبط مضبوط ہونے کے باعث وہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا۔ وہ حق اور اپنے جیسوں کے سامنے ایک عاجز بندہ ہوتا ہے، لیکن باطل اور اہل کفر کے سامنے ایک طوفان ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا۔ ایک فولاد ہے جس کو نگلا نہیں جاسکتا۔ اس کی شخصیت دلآویز ہونے کے باوجود اپنے اندر وہ استقامت، وہ استقلال اور وہ عظمت رکھتی ہے جس کے سامنے بڑی سے بڑی بلندی ہیچ ہوجاتی ہے۔
دوسرا حکم دیا کہ مسلمان انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ کو زندگی کا ایک لازمی سامان سمجھیں۔ بظاہر مال و دولت انسانی ضرورتوں کا ضامن ہے لیکن حقیقت میں حق و باطل کی سربلندی جس طرح ایمان کا مطالبہ کرتی ہے اسی طرح انفاق کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ حق و باطل کی کشمکش میں افراد جانیں دے سکتے ہیں لیکن اسلحہ جنگ مہیا نہیں کرسکتے۔ دفاع کے لیے قلعے وجود میں نہیں آسکتے تاوقتیکہ صاحب ایمان لوگوں کے دل انفاق کے لیے کھلے نہ ہوں۔ جذبہ ایمان اور جذبہ انفاق دونوں مل کر ایک ایسی قوت بنتے ہیں جس سے اسلام کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے راستے میں انفاق وہ معتبر ہے جس کے پیچھے اخلاص کی قوت ہو۔ اگر اخلاص کا مطالبہ یہ ہو کہ اسے سراً دیا جائے تو اس پر عمل ضروری ہے۔ اور اگر مطالبہ یہ ہو کہ دوسروں کی ترغیب کے لیے علانیۃً دیا جائے تو پھر سب کے سامنے دینا اخلاص کی دلیل ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ نماز کا اہتمام اور انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ کو یہ نہ سمجھو کہ یہ اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے اور تمہاری طاقت کا راز اس میں ہے بلکہ عنداللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہی توشہ اخرت بھی ہے، جس دن کمائی کے تمام ذرائع ختم ہوجائیں گے، نہ کوئی کاروبار کام آئے گا اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی اس دن یہی نماز اور یہی انفاق سرخروئی کا کام دیں گے اور جنت میں بلندی ٔ درجات کا باعث ہوں گے۔
Ayahs 14:32–34اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّـکُمْ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الْاَنْھٰرَ ۔ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ ۔ ج وَاٰتٰـکُمْ مِّنْ کُلِّ مَاسَاَلْتُمُوْہُ ط وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْھَا ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ۔
(سورۃ ابراھیم : 32۔ 33۔ 34)
(اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور بلندی سے پانی اتارا، پھر نکالے اس پانی سے تمہارے رزق کے لیے مختلف قسم کے پھل۔ اور اس نے مسخر کردیا تمہارے لیے کشتی کو تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور تابع فرمان بنادیا تمہارے لیے دریائوں کو اور سورج اور چاند کو تمہاری نفع رسانی میں لگا دیا۔ دونوں ایک ہی انداز پر گردش میں ہیں اور مسخر کردیا تمہارے لیے رات اور دن اور تمہیں اس نے ہر اس چیز سے عطا فرمایا جس کا تم نے اس سے سوال کیا اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو اس کو شمار نہ کرپائو۔ بیشک انسان بڑا ہی حق تلف، ازحد ناشکرا ہے۔ )
انسانوں پر مزید احسانات
انسانی زندگی میں صحیح فیصلے کا دارومدار صرف اس بات میں ہے کہ آدمی اس کائنات میں اپنی حیثیت کا کیا تعین کرتا ہے، کائنات کے خالق ومالک کو کیا حیثیت دیتا ہے اور کس کی کبریائی کا حق تسلیم کرتا ہے اور کسے اس قابل سمجھتا ہے کہ علی الاطلاق قانون سازی کا حق کس کو ہے۔ جو شخص یہ سارے حقوق اللہ تعالیٰ کے لیے تسلیم کرلیتا ہے تو وہ صراط مستقیم کا مسافر بن جاتا ہے اور اس کی زندگی صحیح رخ اختیار کرلیتی ہے۔ لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نعمتوں سے متمتع ہوتا ہے۔ لیکن اس کی ملکیت، اس کے حقوق اور اس کی کبریائی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا بلکہ مختلف شرکاء کو مختلف نعمتوں پر تصرف کا حق دے دیتا ہے اور ان کے بہت سارے اختیارات کو جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اختیارات ہیں ان کے ساتھ خاص کردیتا ہے۔ اس طرح سے کائنات کی حاکمیت میں ایک ثنویت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی حاکمیت میں اور حکمرانوں کا جواز پیدا ہوجاتا ہے۔ اور ایک ایسی صورتحال جنم لیتی ہے جو کسی معمولی ادارے میں بھی قابل قبول نہیں، چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ اور اس کی کائنات اور اس کی مخلوقات کے بارے میں قابل قبول ہو۔ چناچہ اس اہم ترین نکتہ کو واضح کرنے کے لیے اور قریش کی گمراہیوں کی بنیاد کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہایت سادہ انداز میں پروردگار نے ان حقائق کو واشگاف بھی فرمایا اور نہایت پیار سے اپنی نعمتوں کا تذکرہ بھی کیا۔ ارشاد فرمایا، ذرا غور کرو تمہاری زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک گھر بنایا ہے جس میں زمین کا بچھونا بچھایا اور آسمان کی چھت تانی، پھر تمہاری غذا کی بہم رسانی کے لیے زمین کو قوت روئیدگی سے مالامال کردیا اور آسمان سے آبیاری کے لیے پانی اتارا، پھر پانی کو سیلان اور بہائوبخشا تاکہ وہ آبیاری بھی کرے، پیاس بھی بجھائے، کپڑے دھونے کا کام بھی دے اور ندی نالوں کو بھی سیراب رکھے، پھر اسی زمین کی قوت روئیدگی سے کام لے کر اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے تمہارے لیے پھل پیدا کیے۔ زمین پر مختلف قسم کے غلے اگائے اور تفکہ کے لیے مختلف قسم کے پھل پیدا فرمائے، سبزیوں کے لیے زمین پر بیلیں پھیلا دیں، مزید ضرورتوں کے لیے دریائوں کی روانی انسانوں کے ہاتھ میں دے دی۔ تم لکڑی کے چند تختوں کو جوڑ کر دریا میں اتارتے ہو اور دریا کا پانی اپنی تمام تر طاقتوں کے باوجودتختے کا بوجھ اٹھانے سے انکار نہیں کرتا۔ پھر زندگی کی یکسانی کو رنگا رنگی میں تبدیل کرنے کے لیے شب و روز کا سلسلہ چلایا۔ سورج کی کرنیں دن کی ہمہ ہمی اور سرگرمی کا باعث بنتی ہیں اور رات کو چاند کی حلاوت سکون کا سبب بنتی ہے۔ سورج کی گرمی زندگی کے تنور کو روشن رکھتی ہے۔ اور چاند کا نور اور حسن دلوں کو ارمانوں سے معمور کردیتا ہے اور ان دونوں کو اس طرح بندوں کی نفع رسانی کے لیے انسانوں کی خدمت پہ لگارکھا ہے۔ صرف اتنی سے بات کے لیے کہ انسان کی غذا کا سامان ہونا چاہیے کتنے مظاہر قدرت ہیں جو شب و روز اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔
ابرو باد و مہ و خورشید و فلک درکار اند
تاتونانے بکف آری و بغفلت نخوری
(بادل، ہَوا، چاند، سورج اور آسمان خدمت میں لگے ہوئے ہیں تاکہ تیری غذا تیرے ہاتھ میں آئے اور تو غفلت سے نہ کھائے۔ )
مختصر یہ کہ انسانوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی ضرورتوں کے لیے جو کچھ مانگا اس نے عطا فرمایا اور مزید بھی اس قدر نعمتیں عطا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کو گننا چاہو تو کبھی شمار نہ کرسکو گے، لیکن کس قدر دکھ کی بات ہے کہ انسان ایک سے ایک نعمت سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن نہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی سے دریغ کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور کفران سے باز آتا ہے اور یہی وہ طرزفکر اور طرز عمل ہے جس نے اس کو ایمان کی دولت سے محروم رکھا، حُسنِ عمل سے بیگانہ کردیا اور اپنے اور اپنے مالک اور کائنات کے بارے میں ایسے غلط فیصلے کیے جنھوں نے زمین کو فساد سے بھر دیا اور انسان کی منزل کھوٹی کردی۔
Ayahs 14:35–36وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَالْاَصْنَامَ ۔ رَبِّ اِنَّھُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ ج فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ج وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 35۔ 36)
(یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو بچالے اس بات سے کہ ہم بتوں کی پوجا کریں۔ اے ہمارے پروردگار ان بتوں نیبہت سے لوگوں کو گمراہی میں ڈالا ہے۔ اور جو کوئی میرے پیچھے چلاتو وہ میرا ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی (تو اس کا معاملہ تیرے سپرد ہے) بیشک تو غفورورحیم ہے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے چند نکات
اس آیت کریمہ میں چند باتوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔
1 گزشتہ آیات میں پروردگار نے ان عام احسانات کا ذکر کیا ہے جن سے انسانوں کو نوازا گیا ہے۔ اور اگر ان احسانات پر انسان کو غور کرنے کا موقع نصیب ہوجائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کرتے ہوئے ہزار دفعہ شرم آئے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال تو مکمل ڈھٹائی سے کرتا ہے لیکن اسے ان پر غور کرنے کی فرصت بہت کم نصیب ہوتی ہے۔ چناچہ اسی سوچ کو اجاگر کرنے کے لیے جو انسان کی اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اب ان خصوصی احسانات کا ذکر کیا جارہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی معرفت قریش پر کیے ہیں۔ قریش کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم میرے احسانات میں سے ایک ایک احسان کو مستحضر کرکے دیکھو تب شاید تمہیں اندازہ ہوسکے کہ تمہاری یہ رویہ کس قدر کفرانِ نعمت کا غماز ہے۔ ممکن ہے کہ اس توجہ دلانے سے قریش کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے جو ان کی ہدایت کا سبب بنے۔
2 قریش میں عقیدے اور عمل کی جو خرابیاں پیدا ہوئیں اس کا بیشتر سبب ان کا اپنے آبائواجداد کی اندھی تقلید پر اصرار تھا۔ ان کا گمان کیا بلکہ یقین تھا کہ ان کے آبائواجداد نے جو عقائد اور شریعت ہمارے سپرد کی ہے وہ ٹھیک ٹھیک ملت ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھی بنیادوں پر وہ امت اٹھائی تھی جسے قرآن کریم میں امت مسلمہ کہا گیا ہے اور ہم چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس لیے ہم سے بڑھ کر ان کی روایات، ان کے طوراطوار اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تعلیمات کا محافظ اور کون ہوسکتا ہے۔ ہمارے آبائواجداد نے یقینا جان دے کر ان کی حفاظت کی ہوگی۔ اس لیے عقیدہ اور عمل کی شکل میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں یہ ملت ابراہیم کی صحیح تصویر ہے۔ پروردگار نے قرآن پاک کی اس آیت میں ان کے سامنے ملت ابراہیم کی صحیح تصویر کھینچی ہے تاکہ انھیں اپنی گمراہیوں کا اندازہ ہوسکے۔
3 گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کا ذکر فرمانے کے بعد آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا کوئی شمار نہیں۔ اس نے انسان کی ہر ضرورت پوری کی اور اس کو وہ سب کچھ عطا کیا جو اس نے مانگا۔ لیکن اس کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ انتہائی ناشکرا اور ظالم ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ناشکرے انسانوں کے مقابلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے جنھوں نے زندگی کا ہر دکھ اٹھایا، ہر تکلیف برداشت کی، لیکن اپنی عبودیت پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ آپ نے محض اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور بندگی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے نوزائیدہ بچے اور اپنی بیوی (جو شاہ مصر کی شہزادی تھیں) کو ایک ایسی وادی میں منتقل کردیا جس میں نہ سبزے کا نشان تھا اور نہ پانی کا۔ ہر طرف ویرانی اور موت کا پہرہ تھا جس میں بظاہر زندگی کا باقی رہنا محال نظر آتا تھا۔ لیکن جب آپ ( علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) ایسی بن کھیتی کی وادی میں اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کریں اور وہیں اپنی اولاد کو آباد کریں تو آپ کی دوررس نگاہوں نے دیکھ لیا کہ اس وقت تو یہاں نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی مکین، صرف ایک میں ہوں، میری اہلیہ اور اسماعیل ( علیہ السلام) ۔ لیکن میری دعائیں یقینا رائیگاں نہیں جائیں گی، اللہ تعالیٰ کا گھر بےآباد اور بےوقار نہیں رہے گا۔ یہاں یقینا ایک شہر آباد ہوگا۔ اس لیے آج کے دور میں جبکہ انسانیت حالت نزع میں ہے مجھے اس شہر کی آبادی کے لیے وہ کچھ مانگنا چاہیے جس کے بغیر شہر آباد نہیں ہوسکتے اور ہوجائیں تو رہ نہیں سکتے۔ اس لیے سب سے پہلی دعا یہ فرمائی کہ پروردگار اس شہر کو امن کا شہر بنا دے۔ آج دنیا میں اگر کوئی جنس کمیاب ہے تو وہ امن ہے۔ درندے بھی جنگل میں اس حد تک بےقابو نہیں ہیں جس حد تک انسان بےقابو ہوچکا ہے۔ انسانی جان نہایت غیرمحفوظ ہوچکی ہے۔ مال اور آبرو غیروں کا مال بن چکے ہیں۔ نیا شہر بھی ایسے ہی انسانوں سے آباد ہوگا، وہاں بھی سب سے کمیاب جنس یقینا امن کی ہوگی۔ اس لیے پروردگار ! میں جس شہر کی بنیاد رکھ رہا ہوں اسے امن کی دولت سے بہرہ ور فرما اور اس شہر کے باسیوں میں ایسا تعلق پیدا فرما کہ یہ ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار ہوں اور اس شہر میں ایک ایسی فضا پیدا فرما کہ بڑے سے بڑا دشمن بھی ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ اور دوسری دعا یہ فرمائی کہ پروردگار مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے محفوظ فرمانا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ( علیہ السلام) بت شکنی کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ وہ خدا پرستی کی علامت ہوتے ہیں۔ ان سے کبھی کسی ایسی بات کا ظہور نہیں ہوتا جسے بت پرستی کہا جاسکے۔ بایں ہمہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے لیے بھی یہ دعا فرمانا درحقیقت اس بات کا اظہار ہے کہ بت پرستی نے پوری دنیا کو اپنے دائرہ اثر میں لے رکھا ہے۔ کوئی شخص بھی اس سے محفوظ نظر نہیں آتا۔ اس لیے مجھے بھی اس سے محفوظ رکھ اور میری اولاد کو بھی اس سے بچا۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صرف اپنی اولاد کو بت پرستی سے بچانا چاہتے ہیں۔ اولاد کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ اس شہر کا ایک ایک فرد میری امت دعوت میں ہونے کی وجہ سے مجھے ایسا ہی عزیز ہے جیسے اپنی اولاد عزیز ہوتی ہے۔ وہ گویا میری اولاد ہی میں سے ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس شہر میں غالب گمان یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوں گے۔ کیونکہ اس وقت وہی اس شہر کے باسی ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی اولاد پھیلے گی۔ ایک وقت آئے گا جب ان کی اولاد قبائل کی شکل اختیار کرجائے گی۔ انسانی پھیلائو کے ساتھ ساتھ یقینا ان میں عقیدہ و عمل کی خرابیاں بھی آئیں گی۔ ایسے بھی بدنصیب ہوں گے جو میرے طریقے سے ہٹ کے چلیں گے۔ اس لیے پروردگار میری دعا ہے کہ جو لوگ میری پیروی کریں وہ لوگ تو میرے ہیں ان کے ساتھ وہی سلوک فرما جو تو اپنے خاص بندوں کے ساتھ کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ میری نافرمانی کریں ان کی نافرمانی کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ تیری رحمت سے دور ہوں۔ لیکن میں انسانوں کی کمزوریوں اور تیری رحمتوں کو دیکھ کر یہ امید رکھتا ہوں کہ تو ان کو اپنی رحمت سے دور نہیں کرے گا۔
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے دلوں کو نجانے محبت، مؤدت اور رحمت کے کن سانچوں میں ڈھالتا ہے کہ وہ اپنی قوم کی طرف سے ہر طرح کی بےاعتدالیوں کو دیکھتے ہیں لیکن حتی الامکان یہ گوارا نہیں کرتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی سزا کے مستحق ٹھہریں۔ ان سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ کافر کے لیے رحمت اور بخشش کی دعا نہیں کی جاسکتی۔ بایں ہمہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنی کافر قوم کے لیے بھی کوئی اگر نرم گوشہ ممکن ہوسکتا ہے تو اس کی سفارش ضرور کردیں۔
قرآن کریم (سورۃ المآئدہ آیت 116) میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا وہ مکالمہ جو قیامت کے دن آپ ( علیہ السلام) کے اور پروردگار کے درمیان قوم کے حوالے سے ہوگا تفصیل سے دیا گیا ہے۔ جب انھیں معلوم ہوجائے گا کہ میری بدبخت قوم نے میرے دنیا سے اٹھائے جانے کے بعد مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لیا اور اس طرح سے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ناقابلِ معافی ہے۔ ایسی صورت میں آپ ( علیہ السلام) کے لیے ممکن نہیں رہا کہ آپ ( علیہ السلام) اپنی قوم کے لیے کوئی سفارش فرما سکیں۔ تو آپ ( علیہ السلام) نہایت احتیاط سے عرض کریں گے کہ اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادِکَ وَاَنْ تَغْفِرْلَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُاگر آپ ان کو عذاب دیں تو پروردگار وہ تیرے بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو غالب حکمت والا ہے۔ بیشک ان کا عقیدہ و عمل اس قابل نہیں۔ لیکن تیری قدرت کو کون روک سکتا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دفعہ ساری رات یہ دعا پڑھتے رہے اور امت کے غم میں روتے رہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں وہ انبیاء کرام کے اسی ورثہ کے وارث ہیں۔ اسی لیے جو لوگ آپ کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک میں ملوث ہیں ان کے لیے بھی عذاب کی دعا نہیں فرماتے بلکہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ درخواست ضرور کرتے ہیں کہ پروردگار آپ بخشنے والے ہیں، آپ رحم فرمانے والے ہیں۔ کیا بڑی بات ہے اگر ان نافرمانوں کے ساتھ بھی رحم کا سلوک فرمائیں۔