12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsروح القرآن

Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے انھیں حکم دیا تھا تو وہ اللہ تعالیٰ کے مقابل میں ان کے کچھ کام آنے والا نہ تھا، مگر (یہ احتیاطی تدبیر) یعقوب ( علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے پورا کرلیا۔ بیشک وہ اس علم سے بہرہ ور تھا جو ہم نے اس کو سکھایا لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ )

وَلَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَھُمْ اَبُوْھُمْ ط مَاکَانَ یُغْنِیْ عَنْھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ حَاجَۃً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰھَا ط وَاِنَّہٗ لَذُوْعِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰـہُ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 68) (اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے انھیں حکم دیا تھا تو وہ اللہ تعالیٰ کے مقابل میں ان کے کچھ کام آنے والا نہ تھا، مگر (یہ احتیاطی تدبیر) یعقوب ( علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے پورا کرلیا۔ بیشک وہ اس علم سے بہرہ ور تھا جو ہم نے اس کو سکھایا لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ ) تقدیر اور تدبیر کا باہمی تعلق بیٹے اسی طرح شہر میں داخل ہوئے جیسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو ہدایت کی تھی اور وہ یقینا ہر طرح کے شر سے محفوظ بھی رہے۔ اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ بیٹوں کا ہر طرح کے شر سے محفوظ رہنا شاید باپ کی احتیاط پر مبنی ہدایت کی وجہ سے تھا۔ اس لیے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا وہ محض حفاظت کے پہلو سے ایک تدبیر تھی جو ان کے دل میں آئی اور بیٹوں نے سعادت مندی دکھاتے ہوئے اس پر عمل کیا، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں بیٹوں کے لیے کوئی ناخوشگوار فیصلہ لکھا جا چکا تھا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تدبیر اسے روک سکتی تھی، ایسا ہرگز نہیں۔ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کتنا ہی مقرب کیوں نہ ہو اسے یہ اختیار ہرگز حاصل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے سامنے دم مار سکے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جتنا عظیم ہے اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کے فیصلوں پر مطمئن رہنے والا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تو گزشتہ آیت کریمہ میں اس عقدے کو کھول دیا تھا کہ حکم تو صرف اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے، ہر چیز کا اختیار اسے حاصل ہے لیکن ہمیں اس نے تدابیر اختیار کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ ہم اس بات کے پابند ٹھہرائے گئے ہیں کہ ہم اپنے امکانات کی حد تک ہر کام کے لیے تدبیر کریں لیکن بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکھیں، اپنے وسائل پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔ یہی وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دے رکھا تھا ورنہ دنیا میں ہمیشہ یک رخے لوگ بستے ہیں جو تدبیر ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے وہ تقدیر کو ایک واہمہ خیال کرتا ہے اور جو تقدیر ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے وہ ترک تدبیر پر عمل کرکے اپنے آپ کو عضو معطل بنا کے رکھ دیتا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی یہاں تعریف فرمائی گئی ہے کہ آپ ( علیہ السلام) اصل حقیقت سے باخبر تھے اس لیے اگر آپ نے ایک طرف تدبیر اختیار کرنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی توکل اور بھروسہ اللہ تعالیٰ پر کرنے کی تعلیم دی اور یہ یقین دلایا کہ آدمی کو اپنی تدبیر بروئے کار لاتے ہوئے اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں ہے کیونکہ اس کی تقدیر کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ البتہ وہ خود اپنی تقدیر کا پابند نہیں، تقدیر اس کی پابند ہے۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

(جب برادرانِ یوسف حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ فرمایا میں تمہارا بھائی ہوں، پس اب غمزدہ نہ ہو، ان حرکتوں پر جو یہ کیا کرتے تھے۔

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّیْ ٓ اَنَا اَخُوْکَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 69) (جب برادرانِ یوسف حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ فرمایا میں تمہارا بھائی ہوں، پس اب غمزدہ نہ ہو، ان حرکتوں پر جو یہ کیا کرتے تھے۔ ) بھائی پر افشائے راز برادرانِ یوسف جب اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انھیں بڑی عزت و احترام سے ٹھہرانے کا حکم دیا۔ ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو ٹھہرایا گیا۔ بن یامین اکیلے رہ گئے اور آپ کو تنہا ایک کمرے میں ٹھہرایا گیا۔ آپ تنہائی میں نہایت افسردہ بیٹھے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کی افسردگی کی اطلاع ملی تو آپ ( علیہ السلام) نے انھیں اپنے پاس بلا بھیجا اور ان سے ان کی افسردگی کا سبب پوچھا تو بن یامین نے بتایا کہ میرے تمام بھائی دو دو ایک کمرے میں ٹھہرے ہیں۔ میں افسردہ اس بات سے ہوں کہ کاش میرا بھائی یوسف ( علیہ السلام) زندہ ہوتا تو وہ آج میرے ساتھ ٹھہرتا، مجھے اپنے بھائی کی یاد کی وجہ سے تنہائی زیادہ افسردہ کررہی ہے۔ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں۔ اس پر انھیں جیسی خوشی ہوئی ہوگی اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ یقینا دونوں نے ساری رات گزرے وقتوں کی یادوں میں گزاری ہوگی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے دکھوں کی کہانی سنائی ہوگی اور بن یامین نے وہ سب کچھ بتایا ہوگا جو سوتیلے بھائی ان کے ساتھ کرتے رہے تھے۔ اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ برے دن گزر گئے، اب تمہیں افسردہ نہیں ہونا چاہیے، غموں کو دل سے نکال دو ، اب میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا اور تمہارے سوتیلے بھائی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور ممکن ہے اس موقع پر وہ تدبیر بھی بتادی گئی ہو جس پر عمل کرکے بن یامین کو اپنے پاس روکا جاسکتا تھا۔ چناچہ اگلی آیات میں اسی تدبیر کا ذکر ہے۔
Ayahs 12:70–76

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پس جب ان کا سامان تیار کرا دیا، پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے آواز دی کہ اے قافلہ والو ! تم لوگ چور ہو۔

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

برادرانِ یوسف نے ان کی طرف پلٹ کر پوچھا، تمہارے کیا چیز گم ہوئی ہے۔

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہم شاہی پیمانہ نہیں پا رہے اور جو اس کو لائے گا اس کے لیے ایک بار شتر غلہ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

انھوں نے کہا خدا کی قسم آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم اس ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ فساد برپا کریں اور ہم چوری کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

انھوں نے کہا اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس چوری کرنے والے کی کیا سزا ہے۔

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

وہ بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے کجاوے میں چیز ملے وہ اس کی سزا میں دھر لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پس اس نے ابتدا کی ان کے تھیلوں سے تفتیش کی اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے، پھر اس کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کرلیا۔ اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کے لیے تدبیر کی، اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو پکڑے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے سے بالاتر ایک علم والا ہے۔

فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ ا لسِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۔ قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیِھْمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ ۔ قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَجَزَآؤُہٗ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ فَبَدَاَبِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآئِ اَخِیْہِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِّعَآئِ اَخِیْہِ ط کَذٰلِکَ کِدْنَا لِیُوْسُفَ ط مَا کَانَ لِیَاْخُذَاَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُ ط وَفَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 70، 71، 72، 73، 74، 75، 76) (پس جب ان کا سامان تیار کرا دیا، پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا، پھر ایک منادی نے آواز دی کہ اے قافلہ والو ! تم لوگ چور ہو۔ برادرانِ یوسف نے ان کی طرف پلٹ کر پوچھا، تمہارے کیا چیز گم ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا ہم شاہی پیمانہ نہیں پا رہے اور جو اس کو لائے گا اس کے لیے ایک بار شتر غلہ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم اس ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ فساد برپا کریں اور ہم چوری کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس چوری کرنے والے کی کیا سزا ہے۔ وہ بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے کجاوے میں چیز ملے وہ اس کی سزا میں دھر لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ پس اس نے ابتدا کی ان کے تھیلوں سے تفتیش کی اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے، پھر اس کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کرلیا۔ اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کے لیے تدبیر کی، اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو پکڑے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے سے بالاتر ایک علم والا ہے۔ ) چند ابتدائی باتیں ان آیتوں کو سمجھنے سے پہلے چند باتوں کا ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ابھی اپنا معاملہ اپنے بھائیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے بلکہ انھیں ٹٹولنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کے اندر کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں اور دوسری یہ بات کہ آپ نے ایک ترکیب کے ذریعے اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے پاس بلا لیا۔ اب نہ تو بھائی واپس اپنے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ جانا چاہتا ہے اور نہ آپ اسے بھیجنے کے روادار ہیں کیونکہ آپ ( علیہ السلام) محسوس کررہے ہیں کہ یہ ظالم بھائی غلے کی حرص میں بن یامین کو ساتھ تو لے آئے ہیں لیکن واپس جاتے ہوئے اس کے ساتھ کیا سلوک کریں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ممکن ہے پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) والی کہانی دہرائیں۔ اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ بن یامین کو واپس نہ جانے دیا جائے لیکن بن یامین کو روکنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بادشاہ کا پیشتر سے رائج قانون ہے کہ کسی غیرملکی کو بغیر کسی جرم کے روکا نہیں جاسکتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس قانون کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔ ایک تو اس لیے کہ یہ بادشاہ کا نافذ کردہ قانون ہے اور دوسرا اس لیے کہ یہ سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور اگر بن یامین پر کوئی فرضی جرم عائد کردیا جائے جو اس کے روکنے میں معاون ہوسکے۔ اگرچہ اس میں بن یامین کا اعتماد بھی شامل ہو تو اس پر سزا بھی ہوسکتی ہے۔ سزا کی صورت میں بجائے اس کے کہ بن یامین حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہیں انھیں جیل میں رہنا پڑے گا۔ اور پھر ایسا الزام سراسر جھوٹ پر مبنی ہوگا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) ایسے کسی جھوٹ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے ایک ایسا راستہ نکالا جس میں آپ جھوٹ بولنے سے بھی بچ گئے، بادشاہ کا قانون بھی ٹوٹنے سے محفوظ رہا اور بن یامین کے روکنے کی صورت بھی نکل آئی۔ اس میں جس تدبیر سے کام لیا گیا اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا، گویا وہ اللہ تعالیٰ کا احسان تھا جس کا امکان یوسف (علیہ السلام) کے لیے پیدا کیا گیا۔ اب ان آیات کو دیکھئے : برادرانِ یوسف کے استحقاق کے مطابق ان کا سامان تیار کردیا گیا۔ گیارہ بھائیوں کے لیے الگ الگ سامان باندھ دیا گیا اور اونٹوں پر لاد دیا گیا۔ جب یہ اپنا قافلہ لے کر روانہ ہوئے تو اچانک پیچھے سے آواز دینے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! رک جاؤ، تم لوگ چور ہو۔ اس سے بظاہر ذہن اس طرف جاتا ہے کہ جو پیالہ مفقود ہوا تھا شاید اس کی چوری کا ان پر الزام لگایا جارہا ہے حالانکہ وہ پیالہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اشارے سے بن یامین کے سامان میں رکھا گیا تھا تو اسے چوری کہنا اور اس کا انتساب قافلے والوں کی طرف کرنا بجائے خود ایک جھوٹ ہے۔ اہل علم نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس کی توجیہ کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ ندا دینے والے نے ان سے یہ نہیں کہا کہ تم نے پیالہ چرایا ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ تم چور ہو اور کہا بھی یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کی طرف چوری کی نسبت پیالے کے حوالے سے نہیں کی گئی بلکہ جو کچھ انھوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا اس کی طرف کی گئی ہے کہ وہ اپنے والد گرامی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت کا وعدہ کرکے آپ ( علیہ السلام) کو ساتھ لے کر گئے وہاں حفاظت کرنے کی بجائے وعدے میں خیانت کرتے ہوئے انھیں کنویں میں پھینک دیا اور پھر جھوٹ موٹ آپ کا پیراہن کسی جانور کے خون میں رنگ کر آکر یہ بیان دیا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا گیا۔ یہ وہ چوری تھی جس کی وجہ سے انھیں چور کہا گیا۔ دراصل زبان کے اسلوب میں اظہار کا ایک ذریعہ ہے جسے توریہ کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کہنے والا ایک بات کہتا ہے جس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، کہنے والا اس کا مطلب اور لیتا اور سننے والا اور۔ اگر ایسی بات میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہو اور مقصود اس سے حق کی معاونت ہو تو یہ جائز ہے۔ اس کی چھوٹی سے مثال یوں سمجھئے کہ مولانا محمد قاسم ( رح) نانوتوی کی گرفتاری کے لیے 1857 ء میں پولیس جابجا چھاپے مار رہی تھی۔ کسی نے انھیں مخبری کی کہ وہ اس وقت فلاں مسجد میں تشریف رکھتے ہیں۔ پولیس نے وہاں آکر چھاپہ مارا۔ آپ سے ہی پوچھا کہ یہاں مولوی محمد قاسم صاحب بھی ہیں۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئے اور فرمانے لگے کہ ابھی تو یہاں تھے۔ پولیس فوراً باہر لپکی۔ وہ اس کا مطلب یہ سمجھے کہ وہ ابھی باہر نکلے ہیں اور مولانا کا مطلب یہ تھا کہ میں جن قدموں سے پیچھے ہٹا ہوں انھیں نشانات پر ابھی مولانا کھڑے تھے۔ اب مولانا کے کہنے کا مطلب اور تھا اور وہ بھی صحیح تھا اور جو سمجھنے والوں نے سمجھا وہ بھی صحیح تھا۔ اسی طرح کے توریہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی کام لیا۔ اس کا فائدہ صرف یہ ہوا کہ قافلہ رک گیا۔ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے پلٹ کر پوچھا کہ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے تو جواب دینے والوں نے یہ نہیں کہا کہ ہمارا پیالہ چوری ہوا ہے بلکہ یہ کہا کہ ہم پیالہ گم پا رہے ہیں۔ چناچہ جب ان کے سامان کی تلاشی لی گئی تو بن یامین کے سامان سے وہ پیالہ مل گیا۔ اس لحاظ سے برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے خود ہی سمجھ لیا اور تمام دیکھنے والے بھی یہ سمجھ گئے کہ یہ لڑکا اس پیالے کو چرانے کا مجرم ہے۔ چناچہ انھیں بھائیوں سے پوچھا گیا کہ تم بتائو کہ جو شخص کسی کی چیز چراتا ہے تم اسے کیا سزا دیتے ہو۔ انھوں نے کہا ہمارے قانون میں اس کی سزا یہ ہے کہ جس کی اس نے چوری کی ہے اسے اس کے حوالے کردیا جائے اور وہ غلام بن کے اس کے پاس رہے۔ اس طرح سے بن یامین کو اپنے پاس روکنے کی ایک صورت پیدا ہوگئی اور صورت ایسی پیدا ہوئی جسے خود برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے پیدا کیا۔ ان کی زبان سے ایک ایسی تدبیر کا ظاہر ہونا جو سراسر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے مفیدِ مطلب تھی اور جس پر عمل کرکے بادشاہ کا قانون بھی شکست نہیں ہوتا تھا اسے اللہ تعالیٰ نے وہ تدبیر قرار دیا ہے جسے خود پروردگار کی قدرت نے برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کی زبان سے ادا کرایا اور اسی کے مطابق بن یامین کو حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے پاس روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ آخر میں فرمایا کہ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔ اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مراتبِ بلند کی طرف بھی اشارہ ہے اور مشرکینِ مکہ پر ایک تعریض بھی ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے مقابلے میں اپنی عقل کے فیصلوں پر کلیۃً انحصار کررہے تھے اور اسی کو اپنی علم و دانش کا سرمایہ سمجھ رہے تھے۔ انھیں بتایا جارہا ہے کہ تمہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات سے اندازہ ہوجانا چاہیے کہ حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل کے پردوں میں کیا چھپا ہوا ہے۔ تم آج بظاہر اسلام کا مستقبل تاریک دیکھ رہے ہو لیکن تمہیں نہیں معلوم کہ اسی تاریکی سے روشنی پھوٹنے والی ہے۔ ان آیات کی ضروری وضاحت تو اس حد تک کافی ہے، تاہم بعض امور ایسے ہیں جو بعض ذہنوں میں خلجان کا باعث ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ہم ان کی وضاحت کے لیے صاحب تفہیم القرآن سے استفادہ کرتے ہیں۔ بعض ضروری امور کی وضاحت 1 عام طور پر اس آیت کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ ” یوسف ( علیہ السلام) بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتا تھا۔ “ یعنی مَاکَانَ لِیَأخُذُکو مترجمین و مفسرین عدم قدرت کے معنی میں لیتے ہیں نہ کہ عدم صحت اور عدم مناسبت کے معنی میں ہیں۔ لیکن اول تو یہ ترجمہ و تفسیر عربی محاورے اور قرآنی استعمالات دونوں کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ عربی میں عموماً مَاکَانَ لَہٗ بمعنی مَایَنْبَغِیْ لَہٗ ، مَاصَحَّ لَہٗ ، مَا اسْتَقَامَ لَہٗ ، وغیرہ آتا ہے اور قرآن میں بھی یہ زیادہ تر اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلاً مَاکَانَ اللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ ۔ مَاکَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلیَ الْغَیْبِ ۔ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَہُمْ ۔ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَالْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآاَنْتُمْ عَلَیْہِ ۔ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا۔ دوسرے اگر اس کے وہ معنی لیے جائیں جو مترجمین و مفسرین بالعموم بیان کرتے ہیں تو بات بالکل مہمل ہوجاتی ہے۔ بادشاہ کے قانون میں چور کو نہ پکڑ سکنے کی آخر وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ کیا دنیا میں کبھی کوئی سلطنت ایسی بھی رہی ہے جس کا قانون چور کو گرفتار کرنے کی اجازت نہ دیتا ہو ؟ 2 اللہ تعالیٰ نے شاہی قانون کے لیے ” دین الملک “ کا لفظ استعمال کرکے خود اس مطلب کی طرف اشارہ فرما دیا ہے جو مَاکَانَ لِیَأخُذُسے لیا جانا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغمبر زمین میں ” دین اللہ “ جاری کرنے کے لیے مبعوث ہوا تھا نہ کہ ” دین الملک “ جاری کرنے کے لیے۔ اگر حالات کی مجبوری سے اس کی حکومت میں اس وقت تک پوری طرح دین الملک کی جگہ دین اللہ تعالیٰ جاری نہ ہوسکا تھا۔ تب بھی کم از کم پیغمبر کا اپنا کام تو یہ نہ تھا کہ اپنے ایک شخصی معاملہ میں دین الملک پر عمل کرے۔ لہٰذا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دین الملک کے مطابق اپنے بھائی کو نہ پکڑنا اس بنا پر نہیں تھا کہ دین الملک میں ایسا کرنے کی گنجائش نہ تھی بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ پیغمبر ہونے کی حیثیت سے اپنی ذاتی حد تک دین اللہ تعالیٰ پر عمل کرنا ان کا فرض تھا اور دین الملک کی پیروی ان کے لیے قطعاً نامناسب تھی۔ 3 قانون ملکی (LAW OF THE LAND) کے لیے لفظ ” دین “ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے معنی دین کی وسعت پوری طرح واضح کردی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے تصور دین کی جڑ کٹ جاتی ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کو صرف عام مذہبی معنوں میں خدائے واحد کی پوجا کرانے اور محض چند مذہبی مراسم و عقائد کی پابندی کرا لینے تک محدود سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ انسان تمدن، سیاست، معیشت، عدالت، قانون اور ایسے ہی دوسرے دنیوی امور کا کوئی تعلق دین سے نہیں ہے، یا اگر ہے بھی تو ان امور کے بارے میں دین کی ہدایات محض اختیاری سفارشات ہیں جن پر اگر عمل ہوجائے تو اچھا ہے ورنہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے اصول و ضوابط قبول کرلینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ سراسر گمراہانہ تصور دین، جس کا ایک مدت سے مسلمانوں میں چرچا ہے، جو بہت بڑی حد تک مسلمانوں کو اسلامی نظام زندگی کے قیام کی سعی سے غافل کرنے کا ذمہ دار ہے، جس کی بدولت مسلمان کفر و جاہلیت کے نظام زندگی پر نہ صرف راضی ہوئے بلکہ ایک نبی کی سنت سمجھ کر اس نظام کے پرزے بننے اور اس کو خود چلانے کے لیے بھی آمادہ ہوگئے، اس آیت کی رو سے قطعاً غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ صاف بتارہا ہے کہ جس طرح نماز، روزہ اور حج دین ہے اسی طرح وہ قانون بھی دین ہے جس پر سوسائٹی کا نظام اور ملک کا انتظام چلایا جاتا ہے۔ لہٰذا اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلاَمُ اور وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مُنْہُوغیرہ آیات میں جس دین کی اطاعت کا مطالبہ کیا گیا ہے اس سے مراد صرف نماز، روزہ ہی نہیں ہے بلکہ اسلام کا اجتماعی نظام بھی ہے جس سے ہٹ کر کسی دوسرے نظام کی پیروی خدا کے ہاں ہرگز قبول نہیں ہوسکتی۔ 4 سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس سے کم از کم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تک مصر کی حکومت میں ” دین الملک “ ہی جاری تھا۔ اب اگر اس حکومت کے حاکم اعلیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی تھے، جیسا کہ تم خود پہلے ثابت کرچکے ہو، تو اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، خدا کے پیغمبر، خود اپنے ہاتھوں سے ملک میں ” دین الملک “ جاری کررہے تھے۔ اس کے بعد اگر اپنے ذاتی معاملہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ” دین الملک “ کی بجائے شریعت ابراہیمی پر عمل کیا بھی تو اس سے فرق کیا واقع ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مامور تو دین اللہ جاری کرنے ہی پر تھے اور یہی ان کا پیغمبرانہ مشن اور ان کی حکومت کا مقصد تھا، مگر ایک ملک کا نظام عملاً ایک دن کے اندر نہیں بدل جایا کرتا۔ آج اگر کوئی ملک بالکلیہ ہمارے اختیار میں ہو اور ہم اس میں اسلامی نظام قائم کرنے کی خالص نیت ہی سے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیں، تب بھی اس کے نظام تمدن، نظام معاشی، نظام سیاست اور نظام عدالت و قانون کو بالفعل بدلتے بدلتے برسوں لگ جائیں گے اور کچھ مدت تک ہم کو اپنے انتظام میں بھی سابق قوانین برقرار رکھنے پڑیں گے۔ کیا تاریخ اس بات پر شاہد نہیں ہے کہ خود نبی کریم ﷺ کو بھی عرب کے نظام زندگی میں پورا اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے نو دس سال لگے تھے ؟ اس دوران میں خاتم النبیین ﷺ کی اپنی حکومت میں چند سال شراب نوشی ہوتی رہی، سود لیا اور دیا جاتا رہا، جاہلیت کا قانونِ میراث جاری رہا، پرانے قوانینِ نکاح و طلاق برقرار رہے، بیوعِ فاسدہ کی بہت سی صورتیں عمل میں آتی رہیں اور اسلامی قوانین دیوانی و فوجداری بھی اول روز ہی بتمام و کمال نافذ نہیں ہوگئے۔ پس اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حکومت میں ابتدائی آٹھ نو سال تک سابق مصری بادشاہت کے کچھ قوانین چلتے رہے ہوں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اور اس سے یہ دلیل کیسے نکل آتی ہے کہ خدا کا پیغمبر مصر میں خدا کے دین کو نہیں بلکہ بادشاہ کے دین کو جاری کرنے پر مامور تھا۔ رہی یہ بات کہ جب ملک میں دین الملک جاری تھا ہی تو آخر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اپنی ذات کے لیے اس پر عمل کرنا کیوں شایانِ شان نہ تھا، تو یہ سوال بھی نبی کریم ﷺ کے طریقہ پر غور کرنے سے بآسانی حل ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حکومت کے ابتدائی دور میں جب تک قوانین اسلامی جاری نہ ہوئے تھے، لوگ پرانے طریقے کے مطابق شراب پیتے رہے مگر کیا حضور ﷺ نے بھی پی ؟ لوگ سود لیتے دیتے تھے، مگر کیا آپ نے بھی سودی لین دین کیا ؟ لوگ متعہ کرتے رہے اور جمع بین الاختین کرتے رہے مگر کیا حضور ﷺ نے بھی ایسا کیا ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی اسلام کا عملی مجبوریوں کی بنا پر احکام اسلامی کے اجراء میں تدریج سے کام لینا اور چیز ہے اور اس کا خود اس تدریج کے دور میں جاہلیت کے طریقوں پر عمل کرنا اور چیز۔ تدریج کی رخصتیں دوسروں کے لیے ہیں۔ داعی کا اپنا یہ کام نہیں ہے کہ خود ان طریقوں میں سے کسی پر عمل کرے جن کے مٹانے پر وہ مامور ہوا ہے۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

بھائیوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے ( تو کوئی تعجب کی بات نہیں) اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کرچکا ہے، پس اس بات کو یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے دل میں چھپالیا، اس کو ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا، دل میں کہا تم خود ہی بدقماش لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم بیان کررہے ہو۔

قَالُوْآ اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ ج فَاَسَرَّھَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِہٖ وَلَمْ یُبْدِھَا لَھُمْ ج قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّمَّکَانًا ج وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 77) (بھائیوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے ( تو کوئی تعجب کی بات نہیں) اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کرچکا ہے، پس اس بات کو یوسف ( علیہ السلام) نے اپنے دل میں چھپالیا، اس کو ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا، دل میں کہا تم خود ہی بدقماش لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم بیان کررہے ہو۔ ) اپنی صفائی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پر الزام برادرانِ یوسف نے جب دیکھا کہ بن یامین چوری کے جرم میں ماخوذ ہوگیا ہے تو انھیں خیال پیدا ہوا کہ عزیز مصر بن یامین کی چوری سے یقینا یہ تأثر لے گا کہ ہم سب بدقماش لوگ ہیں۔ ایک بھائی اگر چوری میں پکڑا جاتا ہے تو باقی بھائیوں کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح کی خصلتوں کے مالک ہیں۔ چناچہ انھوں نے اپنی براءت کرتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جو انتہائی غلط بھی تھی اور نازیبا بھی۔ کہا سرکار ! آپ ہمارے بارے میں بدگمانی نہ کیجیے، ہم خاندانی لوگ ہیں اور ہم اس طرح کی رذیل حرکت کبھی نہیں کرسکتے۔ یہ لڑکا ہمارا حقیقی بھائی نہیں ہے، اس لیے یہ خاندانی کردار کا حامل بھی نہیں ہے۔ یہ ہمارا سوتیلا بھائی ہے اس نے یہ خصلتیں اپنی ماں سے لی ہیں۔ اس کا ایک اور بھائی بھی اسی طرح چوری کے جرم میں پکڑا گیا تھا تو اس نے اگر یہ حرکت کی ہے تو یہ دودھ کا اثر ہے، کوئی نئی بات نہیں۔ البتہ آپ اسے ہمارا بھائی سمجھ کر ہمارے بارے میں کوئی بری رائے قائم نہ کیجیے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب سنا کہ وہ ان پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انھیں یقینا اس سے دلی اذیت ہوئی لیکن وہ اسے دل ہی میں پی گئے، کوئی ایسی بات زبان پہ لانا گوارا نہ کیا جس سے ان بھائیوں کو شبہ ہوتا کہ یہی یوسف ( علیہ السلام) ہے۔ البتہ اپنے جی میں یہ ضرور کہا کہ تم بہت بدقماش اور بدخصلت لوگ ہو۔ دوسروں پر بےسروپا بہتان باندھتے ہو، خود ظلم کرتے ہو لیکن اس کا احساس تک نہیں رکھتے۔ رہی یہ بات کہ جو تم کہہ رہے ہو اس کی حقیقت کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ کس نے چوری کی اور کون بہتان باندھ رہا ہے تو بجائے انھیں سرزنش کرنے کے انھیں عزت سے واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ظرف کی بلندی اور اعلیٰ اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے اے عزیز ! اس لڑکے کا باپ بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے، ہم آپ ( علیہ السلام) کو نہایت ہی محسن سمجھتے ہیں۔

قَالُوْا یٰٓـاَیُّھَاالْعَزِیْزُ اِنَّ لَہٗٓ اَبًا شَیْخًا کَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ ج اِنَّا نَرٰکَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 78) (وہ کہنے لگے اے عزیز ! اس لڑکے کا باپ بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے، ہم آپ کو نہایت ہی محسن سمجھتے ہیں۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشامد برادرانِ یوسف نے جب دیکھا کہ معاملہ بہت بگڑ گیا ہے۔ بن یامین کے سامان سے پیالہ پکڑے جانے کے بعد صرف عزت ہی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ بن یامین کی واپسی بھی ناممکن ہوگئی ہے۔ ہم اپنے والد ماجد کو جس طرح پختہ عہد دے کر آئے تھے کہ ہم ہر صورت میں بھائی کو ساتھ لے کے آئیں گے تو اب ہم کس منہ سے ان کے پاس جائیں۔ ایک ہی راستہ نظر آیا کہ عزیز کی خوشامد کی جائے۔ چناچہ انھوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے عزیز ! یعنی سرکار، آپ ہمارے بھائی کو نہ روکیے کیونکہ اس کا باپ بےحد عمررسیدہ اور نہایت کمزور آدمی ہے۔ وہ جب دیکھے گا کہ میرا چھوٹا بیٹا واپس نہیں آیا تو وہ شاید اس صدمے کو برداشت نہ کرپائے۔ اس لیے آپ براہ کرم ہم میں سے کسی کو گرفتار کر لیجیے اور بن یامین کو ہمارے ساتھ جانے دیجیے۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

عزیزِ مصر نے کہا ! اللہ تعالیٰ کی پناہ، اس بات سے کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہو۔ اس صورت میں ہم نہایت ظالم ٹھہریں گے۔

قَالَ مَعَاذَاللّٰہِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلاَّ مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَہٗٓ لا اِنَّـآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 79) (عزیزِ مصر نے کہا ! اللہ تعالیٰ کی پناہ، اس بات سے کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہو۔ اس صورت میں ہم نہایت ظالم ٹھہریں گے۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب بھائیوں کی درخواست پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم کسی ایسے شخص کو پکڑیں جس سے ہمیں کوئی شکایت نہیں۔ ہم تو اس شخص کو پکڑیں گے جس سے ہمیں اپنا پیالہ ملا ہے، اگر ہم کسی اور کو اس کی جگہ گرفتار کریں تو یہ انصاف نہیں، ظلم ہوگا۔ تو ہم ظلم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی احتیاط ملاحظہ کیجیے، آپ یہ نہیں کہتے کہ ہم اس شخص کو کیسے چھوڑ دیں جس نے ہماری چوری کی ہے بلکہ اس کی بجائے آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس شخص کو نہیں چھوڑ سکتے جس کے سامان میں ہم نے اپنا پیالہ پایا ہے۔ اس طرح سے آپ نے بن یامین پر چوری کا الزام نہیں لگایا کیونکہ آپ حقیقتِ حال سے واقف تھے۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

(جب وہ یوسف ( علیہ السلام) سے مایوس ہوگئے تو آپس میں مشورہ کرنے الگ ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی نے کہا، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے اللہ تعالیٰ کے نام پر تم سے مضبوط قول وقرار لیا ہے۔ اور اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں جو تقصیر تم کرچکے ہو (وہ بھی تمہارے علم میں ہے) سو میں تو نہیں چھوڑوں کو اس زمین کو جب تک مجھے میرے والد اجازت نہ دیں، یا اللہ تعالیٰ میرے لیے کوئی فیصلہ نہ فرمائے اور وہی بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْہُ خَلَصُوْا نَجِیًّا ط قَالَ کَبِیْرُھُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاکُمْ قَدْاَخَذَعَلَیْکُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ وَمِنْ قَبْلُ مَافَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ ج فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰی یَاْذَنَ لِیْ ٓ اَبِیْ ٓ اَوْیَحْکُمَ اللّٰہُ لِیْ ج وَھُوَ خَیْرُالْحٰکِمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 80) (جب وہ یوسف ( علیہ السلام) سے مایوس ہوگئے تو آپس میں مشورہ کرنے الگ ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی نے کہا، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے اللہ تعالیٰ کے نام پر تم سے مضبوط قول وقرار لیا ہے۔ اور اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں جو تقصیر تم کرچکے ہو (وہ بھی تمہارے علم میں ہے) سو میں تو نہیں چھوڑوں کو اس زمین کو جب تک مجھے میرے والد اجازت نہ دیں، یا اللہ تعالیٰ میرے لیے کوئی فیصلہ نہ فرمائے اور وہی بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ ) بھائیوں کی مشاورت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جواب سے مایوس ہو کر بھائی ایک طرف مشورے کے لیے بیٹھ گئے۔ ان کے بڑے بھائی نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تمہارے والد کسی قیمت پر بن یامین کو بھیجنے کے لیے تیار نہ تھے، انھیں ہم پر بالکل بھروسہ نہ تھا لیکن حالات سے مجبور ہو کر انھوں نے اس شرط پر چھوٹے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجا کہ تم میرے ساتھ ایک مضبوط عہد کرو کہ تم ہر قیمت پر اپنے بھائی کی حفاظت کرو گے اور جب تک تم میں زندگی اور آزادی ہے تم اپنے بھائی کو پیچھے چھوڑ کے نہیں آئو گے۔ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تم اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام) کے بارے میں بھی عہدشکنی کرچکے ہو اور آج تک تمہارا باپ کے سامنے اعتماد بحال نہیں ہوسکا۔ اس لیے مجھ میں تو ہمت نہیں ہے کہ میں اپنے باپ کا سامنا کرسکوں۔ چناچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ بن یامین کی رہائی تک میں سرزمینِ مصر کو نہیں چھوڑوں گا۔ الا یہ کہ میرے والد مجھے واپس بلا لیں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فیصلہ ہوجائے۔ قرآن کریم نے ان کے بڑے بھائی کے لیے کبیر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے کہ اس کبیر سے مراد عمر میں بڑا ہے یا کہ عقل و رائے میں بڑا۔ عمر میں بڑا تو روبیل تھا اور عقل و رائے میں یہوذا کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی۔ بعض اہل علم نے کبیر کے لفظ سے استدلال کرتے ہوئے یہ رائے دی ہے کہ اگر یہاں مجرد عمر کی بڑائی کا اظہار مقصود ہوتا تو اس کے لیے کبیر کی بجائے اکبر کا لفظ زیادہ موزوں تھا۔ اس لیے ان کا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد روبیل نہیں بلکہ یہوذا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس بھائی کے دل میں یوسف ( علیہ السلام) کے لیے شروع سے نرم گوشہ پایا جاتا تھا۔ چناچہ جب بھائیوں نے یوسف ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے مخالفت کرتے ہوئے یہ رائے دی کہ اسے قتل مت کرو، البتہ کنویں میں ڈال دو ، کوئی گزرنے والا قافلہ انھیں نکال کرلے جائے گا۔
Ayahs 12:81–82

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم لوٹ جائو اپنے باپ کی طرف پھر عرض کرو اے ہمارے محترم باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں۔

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور آپ اس بستی کے لوگوں سے بھی پوچھ لیجیے جس میں ہم رہے ہیں اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں۔

اِرْجِعُوْ ٓا اِلٰٓی اَبِیْکُمْ فَقُوْلُوْا یٰٓـاَبَانَـآ اِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ ج وَمَا شَھِدْنَـآ اِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ ۔ وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ الَّتِیْ کُنَّا فِیْھَا وَالْعِیْرَالَّتِیْ ٓ اَقْبَلْنَا فِیْھَا ط وَاِنَّا لَصٰدِقُوْن۔ (سورۃ یوسف : 81، 82) (تم لوٹ جاؤ اپنے باپ کی طرف پھر عرض کرو اے ہمارے محترم باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں۔ اور آپ اس بستی کے لوگوں سے بھی پوچھ لیجیے جس میں ہم رہے ہیں اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں۔ ) یہوذا نے بھائیوں کو مشورہ دیا کہ میں تو یہاں سے کسی قیمت پر نہیں جاؤں گا۔ البتہ تم اپنے باپ کے پاس لوٹ جاؤ اور انھیں جا کے صاف صاف بتائو کہ آپ کے صاحبزادے نے وہاں یہ گل کھلایا ہے، وہ چوری کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔ حقیقت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کیونکہ اس نے ہمارے سامنے چوری نہیں کی البتہ پیالہ اس کے سامان سے برآمد ہوا اس ثبوت کی موجودگی میں ہم اس کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ منت سماجت کی، آپ کے بڑھاپے کا واسطہ دیا لیکن عزیز مصر نے ہماری کوئی بات قبول نہیں کی۔ ہمیں گمان ہے کہ آپ کو ہماری بات کا اعتبار نہیں آئے گا کہ ہم نے شاید اپنی طرف سے کوئی جھوٹ گھڑ لیا ہو تو آپ تحقیق کرلیجیے ان بستی والوں سے پوچھئے جس بستی میں ہماری رہائش رہی ہے۔ ان قافلے والوں سے معلوم کرلیجیے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ بستی والے اور قافلے والے دونوں گواہی دیں گے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں اس لیے آپ ہمیں معذور سمجھئے اور ہمارا عذر قبول فرمائے۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سن کر کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے یہ بات آراستہ کردی ہے، اب صبر ہی زیبا ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس لائے گا، بیشک وہی علیم و حکیم ہے۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ط فَصَبْرٌجَمِیْلٌ ط عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْ تِیْنِیْ بِہِمْ جَمِعْیًا ط اِنَّہٗ ھُوَالْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۔ (سورۃ یوسف : 83) (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سن کر کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے یہ بات آراستہ کردی ہے، اب صبر ہی زیبا ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس لائے گا، بیشک وہی علیم و حکیم ہے۔ ) تسویل کا مفہوم سَوَّلَتکا مصدر تسویل ہے۔ یہ تزیین اور تسہیل کے لیے بولا جاتا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ ایک بہت بڑی بات کو تمہارے نفسوں نے اس قدر آراستہ کیا کہ تم کس آسانی سے اسے اپنی زبانوں پر لے آئے۔ تم جانتے ہو کہ بن یامین کس حُسنِ کردار کا مالک ہے۔ اس کی تربیت کیسے پاکیزہ ماحول میں ہوئی ہے۔ وہ کبھی چوری کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود تم کس آسانی سے اس کی طرف چوری کے جرم کو منسوب کررہے ہو۔ حقیقت کچھ بھی ہو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یوسف ( علیہ السلام) کے بعد بن یامین کا غلام بنا لیا جانا میرے لیے بہت بڑا صدمہ ہے اور پھر یہوذا کا اس کی وجہ سے پردیس میں رک جانا مزید صدمے کی بات ہے۔ یوسف ( علیہ السلام) کا صدمہ ہی کیا کم تھا کہ ان صدموں نے پرانے زخموں میں ٹیس پیدا کردی ہے۔ لیکن مجھے کسی سے شکایت نہیں، میرے لیے تو صبرجمیل سب سے بہتر ہے۔ یہاں نکرہ موصوف مبتدا کی جگہ آیا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ صبرجمیل اس کیفیت کو کہتے ہیں جس میں غم اور صدمے سے دل کے بیشک ٹکڑے ہوجائیں اور بیشک آنکھوں سے آنسو رکنے نہ پائیں لیکن اظہارِغم میں بےصبری کو راستہ نہ ملے۔ دل کا اطمینان ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی شکایت پیدا نہ ہو۔ آدمی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان صدمات کو برداشت کرنے کی کوشش کرے بلکہ برداشت بھی اللہ تعالیٰ ہی سے مانگے اور اچھے دنوں کی امید اپنے اللہ تعالیٰ سے اور توانا کردے۔ چناچہ اسی صبرجمیل کا شاید نتیجہ ہے کہ اتنے بےپناہ صدموں کے حملے کے باوجود یاس اور ناامیدی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے قریب نہیں آنے پائے۔ آپ چونکہ محرم اسرارالٰہی ہیں اس لیے آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کبھی آزمائشوں کا اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جو ان کے لیے ناقابل برداشت ہو۔ پے در پے صدموں نے میری کمر توڑ دی ہے۔ نئے صدمے میری ہمت کے لیے بہت بڑا امتحان ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کی سنت سے آگاہی کے باعث یہ امید رکھتا ہوں کہ اب آزمائشوں کی رات کٹنے والی ہے۔ امید کی صبح طلوع ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں۔ مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ نہ صرف یہوذا اور بن یامین کو میرے پاس لائے گا بلکہ یوسف ( علیہ السلام) بھی ایک دن میرے سامنے ہوں گے۔ علم و حکمت کا مالک تو وہی ہے لیکن جس طرح ہر رات کی ایک صبح ضرور ہوتی ہے اسی طرح ہر صدمے کی ایک امید ہوتی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ صبح امید اب طلوع ہوا ہی چاہتی ہے۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے منہ پھیرا اور کہا، ہائے یوسف ( علیہ السلام) ۔ اور غم سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور آپ غم کی وجہ سے گھٹے گھٹے رہنے لگے۔

وَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰٓـاَسَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنٰـہُ مِنَ الْحُزْنِ فَھُوَ کَظِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 84) (اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے منہ پھیرا اور کہا، ہائے یوسف ( علیہ السلام) ۔ اور غم سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور آپ غم کی وجہ سے گھٹے گھٹے رہنے لگے۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غم میں شدت کی وجہ بیٹوں سے یہ باتیں کرنے کے بعد آپ ( علیہ السلام) نے ان سے پشت پھیری اور تخلیہ میں جا بیٹھے۔ اس نئے صدمے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غم کو بھی تازہ کردیا۔ صدمہ تو بن یامین کا بھی بہت تھا لیکن اس کی نوعیت دوسری تھی۔ یہوذا کی جدائی بھی گوارا نہ تھی۔ لیکن اس کی کیفیت بھی ایسی شدید نہ تھی۔ یوسف ( علیہ السلام) کا غم سب غموں پر حاوی تھا۔ ایک تو اس لیے کہ آج تک اس کا معاملہ زندگی اور موت کے درمیان معلق تھا۔ زندگی کا خیال امید کی شمع جلا دیتا ہے اور موت کا تصور غم کو اور گہرا کردیتا ہے۔ اور مزید یہ بات بھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی محبت صرف ایک باپ کی بیٹے سے محبت نہیں تھی بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کے آئینہ میں جمالِ خداوندی دیکھتے تھے۔ ان کی پیشانی پر سعادت کا نور روشن تھا۔ ان کا پاکیزہ باطن اور روشن مستقبل ان کی یاد کو اور سنگین کردیتا تھا۔ اس لیے تخلیہ میں جاتے ہیں بےساختہ زبان پر ہائے یوسف ( علیہ السلام) کا لفظ آیا۔ لیکن اپنے بچوں کے سامنے ہائے کہنا گوارا نہ کیا۔ اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ایک مومن اپنے ہر صدمے میں اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی سے اپنے غم کی کہانی کہتا ہے۔ اسی کے سامنے آنسو بہاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسی آغوش سے مجھے وہ امرت مل سکتا ہے جو میرے تمام غموں کا مداوا ہوسکتا ہے کیونکہ : جس نے دیا ہے درد وہی چارہ گر بھی ہے کہنی ہے چارہ گر سے ہی خود چارہ گر کی بات ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ مسلسل رونے سے آنکھوں کا سفید پڑجانا اور غم سے گھٹے گھٹے رہنا یہ تو بظاہر بےقراری اور بےصبری معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں یہ بےصبری نہیں بلکہ فطرت کا اظہار ہے۔ پیغمبر اپنے تمام کمالات اور حوصلہ مندیوں کے باوجود بہرحال انسان ہوتے ہیں اور یہ تو انسان کی فطرت کا تقاضا ٹھہرا چوٹ لگتی ہے تو اک آہ نکل جاتی ہے ان کی فطرت کی سلامتی انسانوں کو ہمدردی اور غمگساری کا سبق دیتی ہے اور ان کا صبر استقلال اور استقامت کا درس دیتا ہے۔ وہ صدمے پر روتے ہیں لیکن صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے دوسروں کے سامنے وہ اپنے غم کا اظہار نہیں ہونے دیتے۔ اس لیے وہ گھٹے گھٹے سے رہتے ہیں۔ غم جوش مارتا ہے لیکن وہ اس کو ظاہر ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ کے اہل خانہ چونکہ ان حقائق سے آگاہ نہ تھے اس لیے جب انھوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ابھی تک یوسف ( علیہ السلام) کو یاد کررہے ہیں تو انھوں نے بہ ظاہر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا :
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

وہ بولے اللہ تعالیٰ کی قسم ! آپ ہمیشہ یوسف ( علیہ السلام) ہی کو یاد کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ازکار رفتہ ہو کر رہ جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے۔

قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَوْتَکُوْنَ مِنَ الْھٰلِکِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 85) (وہ بولے اللہ تعالیٰ کی قسم ! آپ ہمیشہ یوسف ( علیہ السلام) ہی کو یاد کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ازکار رفتہ ہو کر رہ جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے۔ ) بیٹوں کی ملامت تَاللّٰہِکا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی قسم ” تا “ عربی زبان میں ” و “ کی طرح قسم کے لیے بھی آتا ہے۔ تَفْتَؤُا، لاتزال کے معنی میں ہے یعنی ہمیشہ۔ ” حرض “ اس آدمی کو کہتے ہیں جو ہلاکت کے قریب ہوجائے اور کسی کام کے قابل نہ رہے۔ بیٹوں نے جب اپنے والد ماجد کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں آہیں بھرتے ہوئے سنا تو بجائے اس کے کہ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور کہیں تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے وہ اپنے حسد کے جذبے کے تحت اپنے والد کو بظاہر تو ہمدردی سے نصیحت کرنے لگے لیکن حقیقت میں ملامت کرنے لگے کہ آخر آپ کب تک یوسف ( علیہ السلام) کی یاد میں اپنی زندگی برباد کرتے رہیں گے۔ ایک واقعہ تھا ہوگیا، کیا دنیا سے لوگ چلے نہیں جاتے تو پسماندگان ان کے لیے اپنی زندگی اجیرن تو نہیں بنا لیتے۔ اب غور کیجیے کہ اس صدمے کی وجہ سے آپ نے اپنا کیا حال بنا لیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اگر آپ نے اپنے آپ پر قابو نہ پایا اور اس صدمے کی گرفت سے نہ نکلے تو آپ یا تو حواس کھو بیٹھیں گے یا عضومعطل ہو کے رہ جائیں گے اور یا پھر اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے۔ آپ کی اپنی زندگی کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ اس صدمے کو بھولنے کی کوشش کریں۔ اپنے لیے زندگی گزاریں، یوسف ( علیہ السلام) کے لیے زندگی نہ گزاریں۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے۔

قَالَ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ ٓ اِلَی اللّٰہِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 86) (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے۔ ) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا پر از حکمت جواب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی نصیحت کے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ، تمہیں میرے رونے دھونے پر اعتراض ہے حالانکہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے سامنے آہ وزاری نہیں کرتا کیونکہ میں خوب جانتا ہوں کہ میری پریشانی اور میرا غم اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت سے دور ہوسکتا ہے، وہی میرا ملجا و ماویٰ ہے۔ میں یہ بات جانتا ہوں کہ مخلوق کے سامنے آہ وزاری کرنا بےصبری ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بےصبری سے روکا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے پریشانیوں کا اظہار نہ صرف کہ قابل ملامت نہیں بلکہ عین عبادت ہے۔ جس طرح غیر اللہ کے سامنے کسی بھی کمزوری کا اظہار ایمان کی کمزوری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے غیرمعمولی استقلال اور استقامت کا اظہار اور آنکھوں سے آنسو بہانے سے احتراز اسے ناراض کردینے کا باعث ہے۔ وہ جب بھی اترتا ہے ٹوٹے ہوئے دلوں میں اترتا ہے۔ وہ جب بھی خوشی سے سنتا ہے تو اپنے بندوں کی بےقراریوں کو سنتا ہے۔ اسے بندوں کی دعائیں اور بندوں کا مانگنا بیزار نہیں کرتا بلکہ خوش کرتا ہے کیونکہ ایک بندے کا بندگی ہی اصل سرمایہ ہے۔ جو شخص غم سے ٹوٹ پھوٹ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے مصنوعی استقامت کا اظہار کرتا ہے وہ آخر کیا چاہتا ہے، شاعر نے خوب کہا : اس قدر بھی ضبط غم اچھا نہیں توڑنا ہے حسن کا پندار کیا ؟ آپ نے فرمایا : میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کی ایسی حکمتوں کو جنھیں تم نہیں جانتے۔ مجھے خوب معلوم ہے کہ بندہ جب مایوسی کے قریب پہنچنے لگتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ سے امید کا رشتہ ٹوٹنے نہیں دیتا تو بالآخر اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے لیکن جب ان کی قوت برداشت جواب دینے لگتی ہے تو پھر اس کی رحمت دامن تھام لیتی ہے۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹو ! جائو یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں۔

اس لیے یٰـبَنِیَّ اذْھَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَاَخِیْہِ وَلاَ تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ ط اِنَّہٗ لاَ یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلاَّ الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 87) (اے میرے بیٹو ! جاؤ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں۔ ) میرے دل میں امید کا چراغ روشن ہے۔ میں محسوس کررہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھوں کے دن ختم ہونے والے ہیں۔ اس لیے تم مایوسی کو چھوڑو اور جاکر یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا کیونکہ اس کی رحمت سے مایوس کافر ہوتے ہیں، صاحب ایمان نہیں ہوتے۔ تم نے اگر اخلاص کے ساتھ پوری تندہی سے اپنے بھائیوں کو تلاش کیا تو مجھے امید ہے کہ رحمت الٰہی ضرور ہمارے شامل حال ہوگی۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو قحط سالی سے بڑی تکلیف پہنچی اور ہم تھوڑی سی پونجی لیے یوسف ( علیہ السلام) کر حاضر ہوئے ہیں تو آپ ہمیں غلہ بھی پورا دیجیے اور ہم کو صدقہ بھی عنایت فرمایئے، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ عطا فرماتا ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہِ قَالُوْا یٰٓـاَیُّھَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَھْلَنَا الضُّرُّوَجِئْنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزْجٰۃٍ فَاَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا ط اِنَّ اللّٰہَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 88) (جب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو قحط سالی سے بڑی تکلیف پہنچی اور ہم تھوڑی سی پونجی لے کر حاضر ہوئے ہیں تو آپ ہمیں غلہ بھی پورا دیجیے اور ہم کو صدقہ بھی عنایت فرمایئے، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ عطا فرماتا ہے۔ ) ضَرّ اس تکلیف کو کہتے ہیں جو بھوک اور قحط وغیرہ کے سبب سے پہنچتی ہے۔ بِضَاعَۃٍ مُّزْجٰۃٍایسی ردی اور حقیر پونجی کو کہتے ہیں جسے کوئی قبول کرنا پسند نہ کرے۔ بھائیوں کی لجاجت گزشتہ آیت کریمہ میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو بھائیوں کی تلاش میں جانے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی نصیحت فرمائی تھی کہ تم بظاہر یوسف ( علیہ السلام) کی طرف سے مایوس ہو لیکن ایک مومن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ تم اخلاص اور تندہی سے کوشش کرو، ممکن ہے اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ قرآن کریم نے اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ باپ کی نصیحت کی وجہ سے بیٹوں نے سفر کا ارادہ کیا یا بھوک اور قحط کے باعث وہ مصر جانے پر مجبور ہوئے۔ سبب کچھ بھی ہو وہ مصر پہنچے اور قاعدے کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز کے لفظ سے خطاب کیا۔ گزشتہ آیات میں بھی بعض جگہ آپ ( علیہ السلام) کے لیے عزیز کا لفظ استعمال ہوا۔ اس سے بعض لوگوں کو خیال پیدا ہوا ہے کہ عزیز حکومتِ مصر میں کسی منصب کا نام تھا جس پر زلیخا کا شوہر فائز تھا۔ اس کے مرجانے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس منصب پر تقرر ہوا۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) کو عزیز مصر کے خطاب سے یاد کیا جانے لگا لیکن بعض محققین کا خیال ہے کہ عزیز کسی منصب کا عنوان نہیں بلکہ ہر صاحب اقتدار کے لیے اس لفظ کا استعمال ہوتا تھا جیسے ہمارے یہاں ہر مقتدر آدمی کو سرکار کہہ کر مخاطب کرنے کا رواج رہا ہے۔ اس آیت کریمہ میں بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھائیوں نے بھی آپ ( علیہ السلام) کو سرکار کہہ کر پکارا اور نہایت لجاجت کے ساتھ عرض پرداز ہوئے کہ ہم اور ہمارا خاندان قحط سالی کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں۔ ہم آپ ( علیہ السلام) کے شکرگزار ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) بیرون ملک رہنے والوں کو بھی قمیتاً غلہ عنایت فرماتے ہیں لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس قیمت ادا کرنے کے لیے بھی مناسب معاوضہ نہیں بلکہ ہم اپنے ساتھ غلے کی قیمت کے طور پر جو پونجی لے کر آئے ہیں وہ تو ایسی حقیر اور کم قیمت پونجی ہے کہ جسے کوئی بھی لینا پسند نہ کرے، لیکن آپ ( علیہ السلام) کے حُسنِ سلوک نے ہمیں حوصلہ دیا کہ جیسی کیسی پونجی بھی ہمارے پاس ہے اسے ہم آپ ( علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کردیں اور مزید یہ درخواست بھی کریں کہ آپ ہماری پونجی کو نہ دیکھیں بلکہ ہماری ضرورت کو دیکھ کرہ میں پورا غلہ عنایت فرمائیں اور مزید ہمیں صدقہ سے بھی نوازیں کیونکہ جو غلہ قانون کے مطابق ملے گا وہ ہماری ضرورتوں کے لیے کفایت نہیں کرتا۔ اس لیے آپ صدقہ کے طور پر بھی مزید کرم فرمائی کریں۔ یقینا اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کرتا۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا، جب تم جاہل تھے۔

قَالَ ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّافَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْہِ اِذْاَنْتُمْ جٰھِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 89) (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا، جب تم جاہل تھے۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کمال اخلاق اور مروت حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب بھائیوں کی بےکسی، بےبسی اور لجاجت آمیز لہجہ دیکھا تو دل پہ ایک چوٹ لگی۔ آپ چونکہ کریم بھائی تھے اور مکارمِ اخلاق کے پیکر تھے آپ ( علیہ السلام) کو یہ دیکھ کر نہایت دکھ ہوا کہ میرے یہ بھائی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور بڑے طنطنے کے لوگ تھے، آج اس حد تک پریشان ہیں کہ نہ صرف معمولی پونجی کے بدلے میں پورا غلہ مانگ رہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ صدقے کے لیے درخواست بھی کررہے ہیں تو آپ کی مروت نے پسند نہیں کیا کہ اب میرے درمیان اور بھائیوں کے درمیان جو اجنبیت کا پردہ تھا وہ باقی رہے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے تمام حجابات اٹھاتے ہوئے فرمایا، کہ تمہیں کچھ معلوم ہے تم جو کچھ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کرچکے ہو لیکن ساتھ ہی انھیں شرمندگی سے بچانے کے لیے فرمایا، کہ میں جانتا ہوں کہ تم نے جو کچھ کیا وہ جہالت کے باعث کیا۔ جہالت سے مراد یہاں بیخبر ی یا بےعلمی نہیں بلکہ جذبات سے مغلوبیت ہے۔ تم اپنے جذبہ حسد سے ایسے مغلوب ہوئے کہ تم اس بات کو بھول گئے کہ تمہارے بھائیوں کا تمہارے ساتھ خون کا رشتہ ہے۔ تم نے صرف یہ دیکھا کہ ہمارے والد ماجد یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو زیادہ چاہتے ہیں تو تم نے باپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یوسف ( علیہ السلام) کو راستے سے ہٹا دینے کا فیصلہ کرلیا۔ بھائیوں نے جیسے ہی دیکھا کہ عزیز یوسف ( علیہ السلام) کا نام لے رہا ہے تو وہ سمجھ گئے کہ ہو نہ ہو یہی یوسف ( علیہ السلام) ہے ورنہ اسے کیسے خبر ہوسکتی ہے کہ ہم کون لوگ ہیں اور ہمارے کسی بھائی کا نام یوسف ( علیہ السلام) بھی تھا۔ اور ہم نے اس کے اور اس کے بھائی کے ساتھ زیادتی کی تھی۔