Ayah 12:21وَقَالَ الَّذِی اشْتَرٰہُ مِنْ مِّصْرَلِامْرَاَتِہٖٓ اَکْرِمِیْ مَثْوٰہُ عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْنَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ط وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ز وَلِنُعَلِّمَہٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ط وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 21)
(کہا مصر کے اس شخص نے جس نے یوسف ( علیہ السلام) کو خریدا تھا اپنی بیوی سے اسے عزت و احترام سے ٹھہرائو، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کو سرزمینِ مصر میں قرار بخشا اور تاکہ ہم اسے خوابوں کی تعبیر سکھائیں اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا نیا موڑ
جس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قافلے والوں سے خریدا، بائبل کی شہادت کے مطابق اس کا نام فوطیفار تھا اور وہ حکومت کا ایک معزز عہدہ دار اور بعض روایات کے مطابق شاہی باڈی گارڈ کا افسراعلیٰ تھا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے جیسے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھاتو وہ آپ ( علیہ السلام) کی پیشانی پر سعادت کے آثار اور آپ ( علیہ السلام) کے چہرے پر بےپناہ حسن کی علامات دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ یہ لڑکا غلام نہیں ہے بلکہ قافلے والے کہیں سے اسے اغواء کرکے لے آئے ہیں۔ یقینا اس لڑکے کا کسی بڑے خاندان سے تعلق ہے۔ اس لیے اس نے اپنی بیوی کو جس کا نام ایک روایت میں راحیل لیا گیا ہے اور تلمود میں سے زلیخا کے نام سے یاد کیا گیا ہے ہدایت کی کہ اس لڑکے سے غلاموں جیسا سلوک نہ کرنا بلکہ اسے عزت و اکرام سے جگہ دینا، یہ دکھوں کا مارا لڑکا بکتا ہوا یہاں پہنچ گیا ہے لیکن حقیقت میں یہ کسی بڑے خاندان کا چشم و چراغ معلوم ہوتا ہے۔ اگر اسے مناسب ماحول میسر آیا تو اس کی مضمر صلاحیتیں یقینا بروئے کار آئیں گی تو ممکن ہے اس کی صلاحیتوں سے ہمیں فائدہ پہنچے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی من موہنی شکل کی طرح اس کی عمدہ خصائل و عادات ہمیں اسے بیٹا بنانے پر اکسائیں، اگر اس گھر میں اس کے ساتھ عمدہ سلوک ہوا ہوگا تو بیٹا بن جانے کے بعد اس کی یاد اسے پریشان نہیں کرے گی۔ لیکن اگر ہم نے اسے غلاموں کی طرح رکھا تو بیٹے جیسی عزت ملنے کے بعد بھی اس کے پہلو کی کسک اسے ہمیشہ پریشان رکھے گی۔
حیرانی کی بات ہے کہ بھائیوں نے تو اپنے چھوٹے بھائی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اسے کنویں کی نذر کردیا اور مطمئن ہو بیٹھے کہ وہ یا تو مرگیا ہوگا اور یا کہیں ذلت سے زندگی گزار رہا ہوگا۔ اس بات کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یوسف ( علیہ السلام) کسی شاہی خاندان میں بکتے ہوئے پہنچیں گے لیکن وہاں انھیں ماں باپ کی شفقت ملے گی اور بیٹوں جیسی عزت ملے گی اور گھر کی خوشحالیاں ان کی زندگی کے ارمان پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گی لیکن یہ سب کچھ ہو کے رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا اور اس کی مشیت یہ فیصلہ کرچکی تھی کہ یوسف ( علیہ السلام) کو جس کار عظیم کے لیے مصر لایا گیا ہے اس کے اسباب فراہم کیے جائیں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا گیا
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں جس طرح ایک صالح انقلاب برپا کرنا تھا جو اقتدار کو ہاتھ میں لیے بغیر ممکن نہ تھا اس کے لیے نہایت ضروری تھا کہ آپ ( علیہ السلام) کے اندر وہ سمجھ بوجھ، وہ ژرف نگاہی اور وہ بلند نگاہ پیدا ہو جس سے آپ ( علیہ السلام) آسانی سے حالات کو سمجھ سکیں۔ آپ ( علیہ السلام) کے دل و دماغ میں وہ پاکیزگی اور وہ بالیدگی پیدا ہو جس سے آپ ( علیہ السلام) ہر بات کو گہرائی میں اتر کر جان سکیں۔ چناچہ ان صلاحیتوں کو پیدا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ آپ مصر کی سوسائٹی کو قریب سے دیکھیں، ان کا آقا جو افسراعلیٰ تھا جب ان سے مصر کے بڑے بڑے لوگ ملنے کے لیے آئیں تو یہ ان کی باتوں اور رویوں سے وہ سب کچھ اخذ کریں جن کی انھیں آئندہ ضرورت پیش آنے والی تھی۔
آپ کا بچپن اور لڑکپن جس ماحول میں گزرا تھا وہ ایک قبیلے کا ماحول لیکن نبوت کا گھرانہ تھا جس میں ایک طرف آزاد زندگی کا تصور، عزت نفس کی پاسداری، سہاروں کی عدم احتیاج اور بڑے سے بڑے خطرے سے ٹکرا جانے کا حوصلہ جیسی صفات قبیلے کی وراثت کے طور پر پہلے ہی آپ میں موجود تھیں اور دوسری طرف بلند کردار اور پاکیزہ اخلاق اور اپنے پروردگار کی قدرتوں کا ہر دم استحضار ایسی صفات کی نعمت آپ ( علیہ السلام) کو گھر کے ماحول سے میسر آچکی تھی۔ چناچہ عزیز مصر کے گھر پہنچ کر جب نبوی خصائل، قبائل کی خصوصیات اور جدیدزندگی کے اوصاف و کمالات آپ ( علیہ السلام) کے اندر جمع ہونے لگے اور آپ ( علیہ السلام) کی جوانی ان کی غمازی کرنے لگی تو آپ ( علیہ السلام) ایک ایسے جوانِ رعنا کی شکل اختیار کرگئے کہ جس کی نظیر مصر میں تو کیا کسی جگہ بھی ممکن نہ تھی۔ قدرت نے آپ ( علیہ السلام) کو پیدائشی طور پر ظاہری حسن سے حصہ وافر عطا فرمایا تھا اور پیغمبرانہ صفات آپ ( علیہ السلام) میں آپ ( علیہ السلام) کے عظیم باپ کی تربیت نے پیدا کردی تھیں اور جدید دور کی خوبیاں عزیز مصر کے گھر نے آپ ( علیہ السلام) کے اندر تیزی سے ابھاریں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اگر ایک طرف نامناسب نظریں آپ ( علیہ السلام) کی طرف اٹھنے لگیں تو دوسری طرف آپ ( علیہ السلام) کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر عزیز مصر نے آپ ( علیہ السلام) کو اپنی جاگیر بلکہ تمام معاملات کا منتظم بنادیا۔ بائبل کا بیان ہے کہ اس نے آپ ( علیہ السلام) کو اس حد تک خودمختاری دی کہ سب کو یوسف ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں چھوڑ دیا اور سوا روٹی کے جسے وہ کھا لیتا تھا اسے اپنی کسی چیز کا ہوش نہ تھا۔ (پیدائش۔ 6)
قرآن کریم کے اسلوب میں ایک اشکال کا ازالہ
قرآن کریم کا اسلوب عجیب واقع ہوا ہے کہ بعض دفعہ ایسے جملوں کو حذف کردیتا ہے جو قاری اپنے ذہن پر تھوڑا سا زور دے تو سمجھ آسکتے ہیں اور ایسے جملے کا ذکر کردیتا ہے جو اگرچہ محذوف جملے کا قرینہ ہوتا ہے لیکن حقیقت میں کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں بھی وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِاور اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کو عزیز مصر کے گھر پہنچا کر ان کے لیے مصر میں پائوں جمانے کا موقع پیدا کردیا اور اس کے بعد ایک جملہ حذف کردیا گیا اور بعد کے آنے والے جملہ سے پہلے حرف عطف لا کر اشارہ کردیا کہ اس سے پہلے معطوف علیہ محذوف ہے اور وہ محذوف تھوڑا سا غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ایک ایسے گھر میں ٹھکانہ دیا جہاں رہ کر وہ اپنے آنے والی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے سمجھ بوجھ پیدا کرسکتے تھے، حالات کو سمجھ سکتے تھے اور مصر کی سوسائٹی کے مزاج کو جان کر اس میں آگے بڑھنے کے راستے نکال سکتے تھے اور پھر اگلے جملے میں وہ بات فرمائی جس میں بتانا مقصود یہ ہے کہ اگرچہ مذکورہ صلاحیتیں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ضرورت تھیں لیکن ان کا اصل کمال جو انھیں مصر کے تخت تک پہنچانے والا تھا وہ تعبیر کا علم تھا۔ چناچہ وہاں ہم نے انھیں تعبیر کا علم بھی عطا کیا اور ہر بات کو گہرائی میں اتر کر سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی۔ ظاہری نگاہ رکھنے والا آدمی ان آیات کو پڑھ کر محسوس کرتا ہے کہ یہ کوئی افسانوی سی باتیں ہیں جن کا حقیقی زندگی سے کوئی خاص تعلق نہیں لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کام پر غالب ہے۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرلیتا ہے تو اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ حالات چاہے کیسے بھی ہوں انھیں میں موافقت پیدا کرنا اور انھیں حسب حال بناتے چلے جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں، وہ ہر چیز پر غالب ہے لیکن جو لوگ صرف اسباب پر نگاہ رکھتے ہیں وہ ان چیزوں کو نہیں جانتے۔
Ayah 12:22وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗٓ اٰتَیْنٰـہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 22)
(جب حضرت یوسف (علیہ السلام) پہنچے اپنے پورے جوبن کو تو ہم نے انھیں قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں۔ )
اَشُدَّ ، حکم اور علم کا مفہوم
اَشُدَّ کا لفظ عربی زبان میں کمال اور جوبن کو کہتے ہیں۔ آدمی کا کمال اور جوبن اس کی جوانی ہے اور یا وہ زمانہ ہے جب اس کی عمر اور خیالات میں پختگی آجائے۔ قرآن کریم نے اسے دونوں معنی میں استعمال کیا ہے۔ جوانی کے لیے تو اس کا استعمال عام ہے البتہ دوسرے معنی میں غالباً سورة لقمان میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃٌ آیت کے اس ٹکڑے میں اَشُدَّکو فکری کمال اور سن و سال کی پختگی کے معنی میں لیا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) جب پختگی کی عمر کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کو حکم اور علم عطا فرمائے۔ قرآن کریم میں عام طور پر حکم سے مراد اقتدار بھی ہوتا ہے اور قوت فیصلہ بھی۔ اور علم سے مراد نبوت ہوتی ہے۔ نبوت عموماً 40 سال کی عمر میں ملتی ہے اس لیے اس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کی عمر جب 40 سال کی ہوئی تو آپ ( علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اقتدار دیا گیا۔ ہمارے قدیم اور جدید مفسرین میں سے بہت سے بزرگوں نے یہی مفہوم مراد لیا ہے، لیکن اس ناچیز کے خیال میں یہ بات کھٹکتی ہے کیونکہ تورات کی روایت کے مطابق جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کنویں میں پھینکے گئے تو آپ کی عمر 17 سال تھی۔ غالباً 20 سال کی عمر میں آپ کو جیل میں ڈالا گیا۔ تقریباً 10 سال جیل میں گزرے اور 30 سال کی عمر میں آپ کو اقتدار ملا۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ 30 سال کی عمر میں جب آپ ( علیہ السلام) کو اقتدار ملا اسی وقت آپ ( علیہ السلام) کو نبوت بھی دی گئی لیکن قرآن کریم اس رکوع میں جس ترتیب سے حالات کو بیان کررہا ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ زلیخا کا آپ ( علیہ السلام) کی طرف بدنیتی سے متوجہ ہونا آپ کی نبوت کے بعد کا واقعہ ہے، پھر اس کے بعد جیل کا واقعہ پیش آیا اور 10 سال بعد آپ ( علیہ السلام) اقتدار کو پہنچے۔ زیربحث آیت کی رو سے تو نبوت اور اقتدار 20 سال کی عمر میں مل جانا چاہیے جو تاریخی ترتیب کے بالکل برعکس ہے۔ اس ناچیز کے گمان میں تورات کے بیان میں بنیادی غلطی پائی جاتی ہے۔ اس میں چونکہ بیشتر چیزیں مختلف وقتوں میں لکھنے والوں نے اپنے تصورات کے مطابق لکھی ہیں۔ اس لیے اس میں ہر جگہ غلطی کا امکان ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب کنویں میں ڈالا گیا تو تورات کے مطابق آپ کی عمر 17 سال تھی۔ ذرا اندازہ فرمایئے کہ عام معمول کے مطابق 15 سال کا لڑکا بالغ ہوجاتا ہے، لیکن قبیلے کی کھلی فضا اور خالص غذا میں یقینا 15 سال سے بلوغت کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں نے یہ کہہ کر اپنے والد ماجد کو ترغیب دی کہ آپ یوسف ( علیہ السلام) کو ہر وقت گھر میں بٹھائے رکھتے ہیں، اسے ہمارے ساتھ جانے دیجیے، باہر جاکر کچھ کھائے گا چگے گا اور کھیلے کودے گا تو اسے تفریح ملے گی۔ غور فرمایئے کون 17 سال کا صحت مند نوجوان ہے جو گھر میں باپ کے گھٹنے کے ساتھ لگ کے بیٹھا رہے اور وہ بھی ایک پیغمبر کا بیٹا جو خوبرو بھی ہے تنو مند بھی وہ 17 سال کی عمر میں یقینا اس قابل ہے کہ اکیلے بھیڑیوں کا مقابلہ کرسکے اور جہاں جانا چاہے کوئی اس کے لیے مانع نہ ہو۔ اس لیے اس رکوع کے پڑھنے کے بعد یہ باور کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس وقت 17 سال کے ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) اس وقت ایک لڑکے کی عمر میں تھے اور جب مصر میں پہنچے تو تب بھی آپ ( علیہ السلام) کی حیثیت ایک خوبرو بھولے بھالے لڑکے کی تھی جسے دیکھ کر عزیز مصر نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس سے ہمیں فائدہ پہنچے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں۔ ایسی امیدیں ہمیشہ بچوں یا لڑکوں سے کی جاتی ہیں، جوان تو اپنی راہ متعین کرچکے ہوتے ہیں، ان سے سمجھدار لوگ کبھی بڑی امیدیں نہیں لگاتے اور مزید یہ بات بھی کہ آپ ( علیہ السلام) پر جو زلیخا فریفتہ ہوئیں یقینا آپ کے جوانی کے حسن نے اسے متاثر کیا ہوگا۔ اگر آپ ( علیہ السلام) اس وقت پختہ عمر یعنی ڈھلتی عمر کو پہنچ چکے ہوتے تو اس میں جوان اور خوشحال گھر کی خاتون کے لیے دل کھو دینے کی کون سی بات تھی۔ اس لیے اس آیت کریمہ کا وہ معنی جو پہلی نظر میں متبادر ہوتا ہے، وہی یہاں مراد ہے اور علم سے مراد وہ علم ہے جو مصری سوسائٹی میں راستہ نکالنے، ان کی روایات کو سمجھنے اور ان کے معروفات کو جاننے کے لیے ضروری تھا اور حکم سے مراد وہ فیصلہ کن قوت ہے جو ایک ایسے نوجوان کو ملنی چاہیے جو اجنبی ملک میں بغیر کسی قرابت کے سہارے کے اور بغیر کسی برادری کی پشت پناہی کے اپنا مقام و مرتبہ بنانے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا راستہ کھولنے کے لیے تگ و دو کررہا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ساری صلاحیتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عطا فرمائیں لیکن یہ آپ ( علیہ السلام) کی خصوصیت نہیں، یہ عنایات ہر اس شخص کے نصیب میں ہوسکتی ہیں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرح مقام احسان پر فائز ہو کر اپنا نام محسنین میں لکھوا لیتا ہے۔
Ayah 12:23وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ھُوَ فِیْ بَیْتِھَا عَنْ نَّفْسِہٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ ط قَالَ مَعَاذَاللّٰہِ اِنَّہٗ رَبِّیْٓ اَحْسَنَ مَثْوَایَ ط اِنَّہٗ لاَیُفْلِغُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 23)
(اور ڈورے ڈالنے لگی اس پر وہ عورت جس کے گھر میں آپ تھے کہ ان سے مطلب برآری کرے اور (ایک روز) اس نے تمام دروازے بند کردیئے اور کہنے لگی، آجا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، اللہ تعالیٰ کی پناہ۔ وہ میرا رب ہے، اس نے مجھے بہت عزت کی جگہ دی ہے۔ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ )
زلیخا کا دام ہوس، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش
حضرت یوسف (علیہ السلام) شفقتِ پدری کی ٹھنڈی چھائوں میں زندگی گزار رہے تھے کہ بھائیوں کے حسد نے انھیں کنویں تک پہنچایا۔ وہاں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت نے دستگیری کی تو بکتے بکاتے مصر پہنچ گئے۔ یہ پہلا ابتلا تھا جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مبتلا کیا گیا اور آپ اس میں نہایت کامیابی اور کامرانی کے ساتھ گزر گئے۔ مصر میں اللہ تعالیٰ نے ایک عافیت کدہ دیا، ہر طرح کی سہولتیں بہم پہنچائیں، ایسی ایسی دنیاوی نعمتوں سے شادکام فرمایا جن کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں ہوا تھا لیکن یہیں سے دوسری آزمائش نکلی کہ عزیز مصر کی بیوی جسے اس کے شوہر نے حسن سلوک کی ترغیب دی تھی اور یہ امید دلائی تھی کہ یہ لڑکا ممکن ہے کل کو ہمارا بیٹا ثابت ہو۔ لیکن اس کی جوانی کے ناجائز جذبات نے بالکل ایک دوسرا رخ اختیار کرلیا جسے ماں کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے تھا اسے عاشق ناشاد کی نگاہ سے دیکھنا شروع کردیا۔ چناچہ اس کے لیے اس نے آہستہ آہستہ حالات پیدا کرنے شروع کردیئے باتوں باتوں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے قریب لانے کی کوشش شروع کردی۔ طریقے طریقے سے یوسف ( علیہ السلام) کے سامنے عشوہ طرازیاں دکھائی جاتیں۔ راود کا مصدر مراودۃ ہے جس کا معنی ہوتا ہے آہستہ آہستہ کسی کو محبت کے دام میں پھانسنا، اس کے گھر کے چکر لگانا، باتوں کے لیے موقع تلاش کرنا، بہانے بہانے سے تحائف بھیجنا، پہلودار باتیں کرنا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) چونکہ شرم و حیا کے پتلا تھے اور نہایت عالی ظرف بھی، وہ ہمیشہ ایک فاصلہ رکھتے تھے اور جیسے جیسے آپ ( علیہ السلام) پر جوانی وارد ہوتی جارہی تھی، ویسے ویسے آپ ( علیہ السلام) احتیاط کے تقاضوں کو اور زیادہ ملحوظ رکھنے لگے تھے اور ادھر زلیخا کا حال اس کے بالکل برعکس تھا۔ یہ دور رہنا چاہتے تھے، وہ قریب آنے کی فکر میں تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ یوسف ( علیہ السلام) شاید میری دبی خواہشوں کی زبان کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور میرے غمزہ و ادا کو ناجانے کیا مفہوم پہناتے ہیں، تو ایک دن بےصبر ہو کر اس نے آخری اقدام کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی خواب گاہ میں بلایا، وہ حکم کے پابند پہنچ گئے، انھیں ایک جگہ ٹھہرا کر خواب گاہ میں کھلنے والے سارے دروازے مغلق کردیئے اور کہا ھَیْتَ لَکْاس کے اعراب کے بارے میں قیل و قال کی گئی ہے، لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) کی واضح روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں اسی طرح سکھایا تھا۔ اس کا معنی ہے، آجا۔ یہ وہ آخری کلمہ ہے جس کے بعد فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ یہ گناہ کی انتہائی دعوت تھی، حضرت یوسف (علیہ السلام) جس کا تصور بھی گناہ سمجھتے تھے اور اس دعوت کی شدت کا عالم یہ تھا کہ ایک طرف خواب گاہ کا ماحول نہایت رومان پرور اور پھر حسن برہنہ یلغار پر تلا ہوا اور چاروں طرف کے دروازے بند، بےبسی کا عجیب عالم، ایسے ماحول میں حضرت یوسف (علیہ السلام) یا حضرت یوسف (علیہ السلام) جیسا ہی کوئی بچ سکتا تھا ورنہ کسی دوسرے زاہد سے زاہد آدمی کے بارے میں بھی توقع کرنا بہت مشکل ہے۔ اب آپ ( علیہ السلام) کے سامنے دو ہی راستے تھے، پہلا راستہ یہ تھا کہ آپ نے زلیخا کو سمجھانے کی کوشش کی، آپ ( علیہ السلام) نے اس کی دعوت گناہ کے جواب میں فرمایا : معاذاللہ ! اللہ تعالیٰ کی پناہ۔ میں ایسے گناہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں اور اس کی پناہ ہی ہے جو ایسے ماحول میں مجھے گناہ سے بچا سکتی ہے۔ وہی میرا رب ہے، میں جس کی پناہ چاہتا ہوں، اس نے مجھے کیسے برے حالات سے، کیسے اچھے حالات تک پہنچایا، کیا اس کی نعمتوں کا شکر یہ ہے کہ میں ایک ایسے جرم کا ارتکاب کروں جو اس کی نگاہ میں بہت بڑا گناہ ہے۔ جو مفسرین یہاں رب سے رب ہی مراد لیتے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے کسی انسان کا سہارا کسی عام انسان کے لیے بھی روا نہیں۔ چہ جائیکہ پیغمبر اس کی درخواست کرے۔ اس لیے یہاں ربی سے مراد رب کائنات ہی ہے، عزیزِ مصر نہیں۔ دوسرے مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ سورة یوسف ( علیہ السلام) میں صرف یہ ایک جگہ نہیں بلکہ دوسرے مقامات پر بھی رب کا لفظ آقا اور بادشاہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس لیے یہاں بھی اگر آقا کے معنی میں لیا جائے تو قرآن کریم کے استعمال کے عین مطابق ہے۔ رہی یہ بات کہ غیر اللہ سے پناہ طلب کیوں کی جائے تو بات دراصل یہ نہیں، بات یہ ہے کہ یہاں زلیخا کو سمجھانا مقصود ہے کہ تم جس گناہ کی طرف مجھے دعوت دے رہی ہو، میں اس کی طرف اس لیے نہیں بڑھ سکتا کہ تمہارا خاوند میرا آقا ہے، اس نے مجھے اپنے گھر میں بہترین ٹھکانا دیا ہے، اس نے مجھے عزت و اکرام سے نوازا ہے تو اس کی بیوی سے گناہ کا ارادہ بھی بہت بڑی خیانت ہے، یہ کام میں نہیں کرسکتا۔ اگر اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بات کی جاتی تو یہ تو بھینس کے سامنے بین بجانے والی بات ہوتی۔ البتہ اس کے خاوند کے حوالے سے اس سے بات مفید ہوسکتی تھی۔ شاید وہ اس سے یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائے کہ ایک ایسا نوجوان جو غلام بن کر ہمارے گھر میں آیا، اس پر میرے شوہر کے چند سالہ احسانات ہیں، وہ تو اس کا اس حد تک لحاظ کرے اور میں جو اس کی بیوی ہوں اس کے جائز نکاح میں ہوں، اس نے مجھے گھر کی ملکہ بنا رکھا ہے اور میں اس کی تمام جائیداد کی مالک بنی بیٹھی ہوں تو کس قدر عجیب بات ہے کہ میں خیانت کرتے ہوئے ذرا سوچنے کی زحمت نہیں کرتی۔ مزید حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کرکے اور اپنے آقا کی حیثیت کو فراموش کرکے ظلم نہیں کرسکتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی فلاح نہیں دیتا۔
Ayah 12:24وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ ج وَھَمَّ بِھَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ ط کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْٓئَ وَالْفَحْشَآئَ ط اِنَّہٗ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 24)
(اور عورت نے تو اس کا قصد کر ہی لیا تھا اور وہ بھی اس کا قصد کرلیتا، اگر اس نے اپنے رب کی واضح نشانی نہ دیکھ لی ہوتی، ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ ہم اس سے برائی اور بےحیائی کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔ )
عصمتِ انبیا کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ زلیخا نے تو گناہ کا پختہ ارادہ کررکھا تھا کیونکہ اس کے ساتھ لام اور قد کے دو لفظ تاکید کے لیے آئے ہیں جو ارادے کی پختگی کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی گناہ کا ارادہ کرگزرتے، اگر آپ اپنے رب کا برہان نہ دیکھ لیتے۔ اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی انسان ہوتے ہیں اور ان کے اندر بھی وہ تمام جذبات اور داعیات موجود ہوتے ہیں جو انسان کو گناہ پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ گناہ نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی برہان اور دلیل ہمیشہ ان کی رہنمائی کرتی ہے اور عصمت ہمیشہ نگرانی کرتی ہے جس کی وجہ سے طاقت ہونے کے باوجود بھی گناہ کا ارتکاب ان سے کبھی نہیں ہوتا اور اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ ان میں سرے سے فرشتوں کی طرح گناہ کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہوتی تو پھر ان کے لیے معصومیت کوئی امتیاز کی بات نہیں رہ جاتی۔ اس لیے کہ جو شخص ایک کام کو کر ہی نہیں سکتا وہ یہ کہے کہ میں یہ کام نہیں کرتا تو اس میں خوبی کی کیا بات ہے۔ اندھا اگر یہ دعویٰ کرے کہ میری نگاہ کبھی نہیں بہکتی اور بہرہ یہ کہنے لگے کہ میری قوت سماعت نے آج تک کبھی کسی بری بات پر کان نہیں لگائے تو ہر شخص سن کے ہنسے گا کہ تمہارے پاس تو اس کی صلاحیت ہی موجود نہیں تو تم کس برتے پر پاکیزگی کا دعویٰ کرتے ہو۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی جوانِ رعنا تھے اور ان کے اندر پوری طرح جذبات موجزن تھے، زلیخا بھی جوان تھی، فرق دونوں میں یہ تھا کہ ایک پر گناہ حاوی تھا اور دوسرا گناہ پر حاوی تھا۔ گناہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
برہان سے کیا مراد ہے
رہی یہ بات کہ برہانِ رب سے کیا مراد ہے۔ بعض لوگوں نے تو ایسی باتیں کہی ہیں جو اپنے اندر اعجازی شان رکھتی ہیں۔ ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ دیوار پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تصویر نظر آرہی ہے اور وہ انگلی دانتوں میں دبائے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ دلیل اور برہان تھی جسے آپ نے دیکھا، لیکن مشکل یہ ہے کہ اس بات کی سند نہ قرآن کریم میں ہے اور نہ حدیث پاک میں۔ ایسی بات کا ظہور ناممکن نہیں لیکن بےسند بات کہنا ایک بڑی جسارت ہے۔ اس لیے ہمارے جمہور کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد وہی برہان اور دلیل ہے جس کا ذکر پہلی آیت میں کیا گیا ہے کہ میں اپنے آقا کی بیوی کے ساتھ ایسی حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ تو اپنے آقا کے ساتھ صریح خیانت اور اس کے احسانات کی ناشکری ہوگی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کوئی نہ کوئی دلیل دکھاتے ہیں جس سے ہر گناہ اور ہر بےحیائی کو ان سے دور رکھتے ہیں۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بھی ہم نے اس بےحیائی کو دور رکھا، کیونکہ وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔
Ayahs 12:25–29وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَا الْبَابِ ط قَالَتْ مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْٓئً ا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْعَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَھِدَشَاہِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا ج اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاٰقَمِیْصَہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ط اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔ یُوْسُفُ اَعرِضْ عَنْ ھٰذَا سکتۃ وَاسْتَغْفِرِیْ لَذِمنْبِکِ جاِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 25، 26، 27، 28، 29)
(وہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور زلیخا نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا پیچھے سے پھاڑ دیا اور دونوں نے زلیخا کے شوہر کو دروازے پر پایا۔ وہ بولی کہ کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری بیوی کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرے۔ بجز اس کے کہ وہ قیدخانہ میں ڈالا جائے یا وہ کوئی دردناک تکلیف بھگتے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا اسی نے مجھے پھسلانے کی کوشش کی اور زلیخا کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ سچی ہے اور یوسف ( علیہ السلام) جھوٹا ہے۔ اور اگر اس کے کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ جھوٹی ہے اور یہ سچا ہے۔ تو جب اس نے اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو بول اٹھا کہ یہ بیشک تمہاری ہی کارستانی ہے اور بیشک تمہارے چرتر بہت بڑے ہوتے ہیں۔ یوسف ( علیہ السلام) اس سے اعراض کرو اور ( اے زلیخا تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔ )
دامِ ہوس سے نکلنے کی کوشش
میں سابقہ آیت کی تشریح میں عرض کرچکا ہوں کہ زلیخا نے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی خواب گاہ میں بلا کر دروازے بند کرلیے اور آپ ( علیہ السلام) کو کھلی دعوت گناہ دی تو اب آپ ( علیہ السلام) کے سامنے بچنے کے لیے دو ہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ آپ زلیخا کو سمجھاتے۔ چناچہ گزشتہ آیت میں ہم اس کی تفصیل پڑھ چکے ہیں۔ اور دوسرا راستہ وہ تھا جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا جارہا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کسی طرح اس سے دامن بچا کر بھاگ نکلیں لیکن مشکل یہ درپیش تھی کہ دروازے مقفل تھے اور ہاتھ کی ضرب سے انھیں توڑا نہیں جاسکتا تھا۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سوچا کہ میرا کام صرف دروازوں تک بھاگ کے جانا ہے، اس کے بعد دروازوں کا کھولنا، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس کی قدرت سے کوئی چیز بعید نہیں۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر دروازے کی طرف بھاگے۔ زلیخا ہر صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھی۔ وہ بھی فوراً آپ ( علیہ السلام) کے پیچھے لپکی تاکہ آپ ( علیہ السلام) کو پکڑ کر روک سکے۔ آپ ( علیہ السلام) تو اس کے ہاتھ نہ آئے لیکن آپ ( علیہ السلام) کے پیراہن کا پچھلا حصہ اس کے ہاتھ آگیا اور اسے اس نے پھاڑ ڈالا۔ جیسے ہی دونوں دروازے پر پہنچے تو دروازہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کھل گیا۔ لیکن پریشانی کی بات یہ ہوئی کہ دونوں نے دیکھا کہ دروازے پر صاحب خانہ کھڑے ہیں۔ زلیخا معلوم ہوتا ہے کہ بلا کی ذہین، حاضر دماغ اور طبیعت کی تیز تھی۔ بجائے پریشان ہونے کے اس نے فوراً اپنے شوہر سے کہا کہ اس آدمی کی کیا سزا ہوسکتی ہے جو گھر میں غلام بن کے آئے اور اپنے آقا کی عدم موجودگی میں اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے اور پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سزا میں دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ یا تو اسے جیل بھیج دیا جائے اور یا اسے دردناک سزا دی جائے۔
زلیخا کے الزام کا جواب
زلیخا نے جو صورتحال پیدا کردی تھی اس کے پیش نظر اب یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) خاموش رہتے کیونکہ خاموشی کا مطلب اعترافِ گناہ ہوتا اور آنے والے مستقبل میں جو عظیم ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ادا کرنا تھی اس میں تو اصل قوت ہی آپ ( علیہ السلام) کا بےعیب کردار تھا۔ کیونکہ نبوت کا دعویٰ جس کا سراسر تعلق غیب سے ہے اس کی کوئی چیز اگر دلیل بن سکتی ہے تو وہ صرف یہ بات ہے کہ نبوت کا داعی ایسا شخص ہے جس نے زندگی میں نہ کبھی جھوٹ بولا ہے، نہ اس سے کبھی کسی اور گناہ کا صدور ہوا ہے۔ اس کی زندگی باد بہاری کی طرح گزری ہے جس سے ہمیشہ لوگوں نے فائدہ تو اٹھایا ہے لیکن کبھی اس میں گناہ یا ظلم کی کجی نہیں دیکھی۔ اور اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خاموشی آپ ( علیہ السلام) کی سیرت و کردار کے لیے ایک ایسا داغ چھوڑ دیتی جو کبھی دھل نہیں سکتا تھا۔ اس لیے آپ نے اس کے شوہر کے سامنے برملا فرمایا کہ میں نے تیرے گھر میں کسی خیانت کا ارادہ نہیں کیا کیونکہ میں خائن اور بدکردار نہیں۔ البتہ تیری بیوی نے مجھ پر ڈورے ڈالے اور مجھے بہکانے کی کوشش کی۔ اور آج اس نے مجھے بےبس کرکے اپنی خواہش پر قربان کرنا چاہا اور میں اپنے کردار کی عظمت اور اپنے ایمان کو سلامت لے کر باہر کو بھاگا تاکہ میں اس طلسم سے نکل سکوں اور باہر آپ ( علیہ السلام) سے سامنا ہوگیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بیان نے معاملے کو پیچیدہ کردیا۔ ایک طرف زلیخا کا الزام ہے اور دوسری طرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے صرف بےگناہی کا دعویٰ نہیں بلکہ زلیخا پر الزام بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سچا کون ہے، فیصلہ کون کرے ؟ ممکن ہے اس موقع پر گھر کے نوکر چاکر بھی جمع ہوگئے ہوں۔ گھر کے کچھ بزرگ افراد بھی موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وہاں پہنچ گئے ہوں۔ عزیزِ مصر نے اسی میں بہتری سمجھی کہ اس وقت تو اس معاملے کو ٹال دیا جائے لیکن پھر کسی دوسرے وقت میں اس نے اپنے خاندان کے بزرگوں کو جمع کرکے یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا تو تب زلیخا کے خاندان میں سے ایک بزرگ نے جو ہمیشہ ایسے موقعوں پر فیصلہ کن بات کہا کرتا تھا، قرینے کی بات کہی کہ یہ اتفاق ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے یوسف ( علیہ السلام) کا پیراہن موجود ہے جو پھٹا ہوا ہے اور اس کا حوالہ بھی سارے ہی دے رہے ہیں۔ اس پیراہن کو دیکھ لیا جائے کہ وہ کہاں سے پھٹا ہے۔ آگے سے یا پیچھے سے۔ اگر وہ آگے سے پھٹا ہے تو مطلب صاف ہے کہ گناہ کے لیے اقدام یوسف ( علیہ السلام) کی طرف سے ہوا ہے اور زلیخا نے اپنے بچائو کے لیے یوسف ( علیہ السلام) سے کشمکش کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس کے پیراہن کا اگلا حصہ پھٹ گیا ہے۔ لیکن اگر پیراہن پیچھے سے پھٹا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) گناہ سے بچنے کے لیے باہر کو بھاگے اور زلیخا نے تعاقب کرتے ہوئے پیچھے سے ان کا پیراہن پھاڑ ڈالا۔ اس صورت میں گناہ کا بار زلیخا پر ہوگا۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ عزیز مصر کے خاندان میں سے کسی بچے نے جو ابھی پنگھوڑے میں دودھ پی رہا تھا، اس نے گواہی دی اور وہی بات کہی جس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔ اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ یقینا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معجزہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ بات کوئی بعید بھی نہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے سرمایہ قرآن و سنت میں اس کے لیے کوئی سند موجود نہیں۔
فیصلہ کسی بڑے بزرگ نے کیا ہو یا کسی بچے نے یہ بات کہی ہو، دونوں صورتوں میں بات کو دلیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جسے عقل سلیم تسلیم کرتی ہے۔ چناچہ اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے زلیخا کے خاوند نے اپنی بیوی کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ یہ تمہارا ہی چرتر ہے اور تم عورتوں کے چرتر اور فریب ہمیشہ بہت فتنہ پرور ہوتے ہیں۔ تم نے اپنے طور پر تو بات بنانے کی کوشش کی لیکن آخر حقیقت کھل گئی اور اس گواہی نے ثابت کردیا کہ یہ سراسر تمہاری حرکت ہے، تم نے گناہ کا ارادہ کیا اور یوسف ( علیہ السلام) کو بھی اس میں پھانسنا چاہا۔
مِنْ کَیْدِکُنّ َکا مفہوم
مِنْ کَیْدِکُنَّ میں ضمیر جمع کی ہے حالانکہ یہ بات صرف زلیخا سے کہی جارہی ہے۔ موقع کے لحاظ سے ضمیر واحد ہونی چاہیے۔ اس لیے اہل علم نے اس کے مختلف مطالب سمجھے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ مصر میں اس وقت جو تہذیب عروج پر تھی اس میں تہذیبِ مغرب کی طرح عورتوں کو ترجیح حاصل تھی اور اس ماحول میں میاں بیوی کے تعلقات کی نوعیت اس طرح کی ہوگئی تھی کہ شوہر صریحاً اپنی بیوی کی بےحیائی دیکھ کر بھی کھل کر اسے ڈانٹ نہیں سکتا تھا۔ چناچہ زلیخا کے میاں نے اس یقین کے باوجود کہ زلیخا نے بےحیائی کے ارتکاب کی کوشش کی، کھل کر کچھ کہنے کی بجائے جمع کے صیغے میں لپیٹ کر بات نبٹانے کی کوشش کی اور دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ دیا کہ تم نے جو حرکت کی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں، تم عورتوں کے ایسے ہی چرتر ہیں جو ہر سوسائٹی میں دکھائی دیتے ہیں۔
بعض دوسرے اہل علم نے اس کا یہ مطلب سمجھا ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی کو ڈانٹتے ہوئے معاملہ صرف بیوی تک محدود نہیں رکھا بلکہ پوری صنف نازک کو اس کا ہدف بنایا ہے۔ گویا کہ کہنے والے کے خیال میں زلیخا جس صنف سے تعلق رکھتی ہے یعنی عورتوں سے، وہ صنف ایسی مکروہ صنف ہے جس کے فریب اور چرتروں سے کسی کو بھی امان نہیں۔ اس طرح سے کہنے والے نے پوری صنف نازک کی توہین کی ہے اور یہ وہ طرز فکر ہے جسے مردوں کے معاشرے کی خصوصیت کہا جاتا ہے۔
بعض اور اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس میں ضمیر یقینا جمع کی ہے لیکن مراد اس سے تمام عورتیں نہیں ہیں بلکہ یہ اظہار کا ایک اسلوب ہے کہ جب آدمی انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو وہ عموماً واحد کے بجائے جمع کے الفاظ میں بات کرتا ہے۔ اس سے ایک تو غصے کی شدت کو ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہنا ہوتا ہے کہ تم نے ایک ایسی حرکت کی ہے جس نے تمہاری پوری صنف کو مبغوض بنا کے رکھ دیا ہے۔
غصے کے اظہار سے عزیز مصر کی طبیعت میں کسی حد تک سکون آیا تو اس نے یوسف ( علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یوسف ( علیہ السلام) تم زلیخا کی حرکتوں پہ نہ جاؤ، تم اطمینان سے اپنا کام جاری رکھو اور زلیخا سے اعراض کرو اور بیوی کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ گواہی سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ تم ہی خطاکار ہو۔ اس لیے اپنی خطا سے توبہ کرو اور مغفرت طلب کرو۔ مغفرت طلب کرنا یا استغفار، یہ صرف مسلمانوں ہی کا شیوہ نہیں بلکہ غیرمسلم بھی ہمیشہ اپنے گناہوں کی معافی چاہتے اور بخشش مانگتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور غیرمسلم دیوتائوں سے کرتے ہیں یا جن قوتوں کو انھوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ یہاں بھی شاید یہی مراد ہے۔
قرآن کریم اور بائبل کے بیانات کا تقابل
قرآن کریم کا بیان آپ نے پڑھ لیا ہے لیکن بائبل نے اس قصے کو جس بھونڈے طریقے سے بیان کیا ہے، ہم اسے تفہیم القرآن سے نقل کررہے ہیں تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ قرآن اور دوسری کتابوں میں کیا فرق ہے۔
” تب اس عورت نے اس کا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو، وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اپناپیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا تو اس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبری کو ہم سے مذاق کرنے کے لیے ہمارے پاس لے آیا ہے۔ یہ مجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گھس آیا اور میں بلند آواز سے چلانے لگی۔ جب اس نے دیکھا کہ میں زور زور سے چلا رہی ہوں تو اپنا پیراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا اور وہ اس کا پیراہن اس کے آقا کے گھر لوٹنے تک اپنے پاس رکھے رہی… جب اس کے آقا نے اپنی بیوی کی وہ باتیں جو اس نے اس سے کہیں سن لیں کہ تیرے غلام نے مجھ سے ایسا ایسا کیا تو اس کا غضب بھڑکا اور یوسف ( علیہ السلام) کے آقا نے اس کو لے کر قیدخانے میں جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے ڈال دیا۔ (پیدائش 39: 12۔ 20)
خلاصہ اس عجیب و غریب روایت کا یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جسم پر لباس کچھ اس قسم کا تھا کہ ادھر زلیخا نے اس پر ہاتھ ڈالا اور ادھر وہ پورا لباس خودبخود اتر کر اس کے ہاتھ میں آگیا۔ پھر لطف یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) وہ لباس اس کے پاس چھوڑ کر یونہی برہنہ بھاگ نکلے اور ان کا لباس (یعنی ان کے قصور کا ناقابل انکار ثبوت) اس عورت کے پاس ہی رہ گیا۔ اس کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مجرم ہونے میں آخر کون شک کرسکتا تھا۔
یہ تو ہے بائبل کی روایت۔ رہی تلمود، تو اس کا بیان ہے کہ فوطیفار نے جب اپنی بیوی سے یہ شکایت سنی تو اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خوب پٹوایا، پھر ان کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا اور حکام عدالت نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیض کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ قصور عورت کا ہے کیونکہ قمیض پیچھے سے پھٹی ہے نہ کہ آگے سے، لیکن یہ بات ہر صاحب عقل آدمی تھوڑے سے غور و تأمل سے بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کی روایت تلمود کی روایت سے زیادہ قرین قیاس ہے۔ آخر کس طرح یہ باور کرلیا جائے کہ ایسا بڑا ایک ذی وجاہت آدمی اپنی بیوی پر اپنے غلام کی دست درازی کا معاملہ خود عدالت میں لے گیا ہوگا۔
یہ ایک نمایاں ترین مثال ہے۔ قرآن اور اسرائیلی روایات کے فرق کی جس سے مغربی مستشرقین کے اس الزام کی لغویت صاف واضح ہوجاتی ہے کہ محمد ﷺ نے یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کرلیے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ قرآن نے تو ان کی اصلاح کی ہے اور اصل واقعات دنیا کو بتائے ہیں۔
Ayah 12:30وَقَالَ نِسْوَۃٌ فِی الْمَدِیْنَۃِ اِمْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُفَتٰـھَا عَنْ نَّفْسِہٖ ج قَدْشَغَفَھَا حُبًّا ط اِنَّا لَنَرٰھَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ یوسف : 30)
(اور شہر کی عورتیں کہنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام پر ڈورے ڈال رہی ہے تاکہ اس سے مطلب براری کرے۔ یوسف ( علیہ السلام) کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہی ہیں۔ )
عزیز کے معنی مقتدر اور زبردست کے ہیں۔ اس لفظ کا اطلاق مقتدرِ اعلیٰ پر بھی ہوتا ہے اور اونچے درجے کے بااختیار افسروں پر بھی۔ زلیخا کا خاوند چونکہ شاہی باڈی گارڈ کا افسرِ اعلیٰ تھا اور اس کا شمار صاحب اختیار لوگوں میں ہوتا تھا اس لیے مصر کی عورتوں نے اسے عزیز کے نام سے یاد کیا۔
” قَدْشَغَفَھَا حُبًّا “ شغف اس سیاہ نکتہ کو کہتے ہیں جو دل کے وسط میں ہوتا ہے، اس لحاظ سے جملے کا معنی ہوگا کہ یوسف ( علیہ السلام) کی محبت زلیخا کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ہوگئی اور لوگوں کی ملامت بھی اس کے دل کی گہرائیوں تک اترنے میں ناکام رہی۔
زلیخا کے عشق کی خبریں آہستہ آہستہ شہر میں پھیلنے لگیں اور شہر کی وہ معزز سوسائٹی جس کا تعلق اصحابِ اقتدار کی بیگمات سے ہوتا ہے انھیں ویسے بھی ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ لگانے کی عادت ہوتی ہے اور پھر مختلف سوشل تقریبات میں روز روز کی شمولیت سے کسی بڑے گھرکا راز، راز نہیں رہتا اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مصر جو اس زمانے کا سب سے متمدن ملک سمجھا جاتا تھا اس کے شہروں کی تہذیب اور اس کی اعلیٰ سوسائٹی کی بودوباش مغربی تہذیب سے کسی طرح کم نہ تھی۔ مغرب جسے اپنی ترقی کی علامت سمجھتا ہے اور مغرب کی عورتیں جس چیز کو اپنی آزادی سمجھتی ہیں یہ آج کے دور کی چیز نہیں بلکہ مصر میں آج سے چار ہزار سال پہلے پوری طرح کارفرما تھی۔ وہاں کسی معزز خاتون کا، کسی معزز شخص کے ساتھ محبت کا تعلق پیدا کرلینا یا اعلیٰ سوسائٹی میں مردوزن کا آزادانہ اختلاط اور بےحجابانہ میل جول قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ سب چیزیں اس تہذیب کا حصہ تھیں جو اس وقت مصر کے اعلیٰ گھرانوں میں رائج ہوچکی تھی۔ چناچہ زلیخا کا یہ عشق بھی اس لحاظ سے معزز گھروں کا موضوع نہیں بنا تھا کہ زلیخا نے کسی برائی کا ارتکاب کیا ہے۔ البتہ اس میں تعجب کی بات یہ تھی کہ زلیخا ایک زرخرید غلام سے عشق کا اظہار کررہی ہے اور وہ غلام کسی طرح بھی اس کے دام فریب میں آنے کے لیے تیار نہیں۔ چناچہ جب یہ چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ زلیخا جو اپنے آپ کو بہت ذہین و فطین اور عشوہ طراز سمجھتی ہے۔ وہ اپنے غلام کو رام نہیں کرسکی۔ اگر وہ غلام ایسا ہی سر پھرا تھا تو یہ اس کے عشق میں مبتلا کیسے ہوگئی اور پس پردہ یہ ادعا بھی جھلکتا تھا کہ اگر ہم اس کی جگہ ہوتیں تو غلام کی کیا مجال تھی کہ ہماری خواہش سے انکار کرتا۔
Ayah 12:31فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِھِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْھِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَھُنَّ مُتَّکَاً وَّاٰتَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنْھُنَّ سِکِّیْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْھِنَّ ج فَلَمَّا رَاَیْنَہٗٓ اَکْبَرْنَہٗ وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاھٰذَا بَشَرًا ط اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ مَلَکٌ کَرِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 31)
(جب زلیخا نے ان کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اس نے انھیں بلا بھیجا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک چھری رکھ دی اور یوسف ( علیہ السلام) کو کہا کہ نکل آئو ان کے سامنے۔ پس جب ان عورتوں نے یوسف ( علیہ السلام) کو دیکھا اس کی عظمت سے مبہوت رہ گئیں اور وارفتگی کے عالم میں اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہہ اٹھیں کہ سبحان اللہ، یہ انسان نہیں بلکہ یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ )
آیتِ کریمہ کے ایک ایک جملے پر غور کیجیے، قرآن کریم کا اسلوب اگرچہ کسی بھی واقعہ کو واقعہ کے طور پر بیان کرنا نہیں ہو تاہم اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو اس میں واقعہ کے تمام اجزا موجود ہوتے ہیں۔ لیکن زور ان باتوں پر ہوتا ہے جو انسانی ہدایت کے لیے ضروری ہیں۔ اس آیت کریمہ میں بھی جس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے بظاہر اس کے تمام اجزا کو قابل ذکر نہیں سمجھا گیا لیکن غور و فکر سے ایسے تمام اجزا سامنے آجاتے ہیں جن سے مکمل واقعہ سمجھ میں آسکتا ہے۔ غور فرمائیے کہ سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جب زلیخا نے ان کے مکر کے بارے میں سنا حالانکہ وہ بظاہر ایک سیدھی سادی بات کہہ رہی تھیں کہ زلیخا جیسی معزز آدمی کی بیگم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک غلام سے عشق لڑائے اور محبت کی پینگیں بڑھائے۔ لیکن مکر کے لفظ نے اس میں محذوف کڑیوں کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ زنان مصر جو باتیں کہہ رہی تھیں، حقیقت میں ان کی باتوں کے پیچھے ان کی یہ خواہش کارفرما تھی کہ ہمیں کسی طرح زلیخا کے گھر میں جانے کا موقع ملے اور وہاں جا کر ہم اپنی قاتل قسم کی عشوہ طرازیوں سے اس نوجوان کو گھائل کرکے رکھ دیں جو کسی طرح زلیخا کے دام فریب میں آنے کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح سے اس نوجوان کی پاک دامنی کا بھرم بھی کھل جائے گا اور زلیخا کو بھی اپنی اوقات معلوم ہوجائے گی۔ چناچہ یہی وہ ادعا ہے جو ان کی باتوں کے پیچھے مضمر ہے۔ زلیخا نے غالباً اسی کو ان کا مکر قرار دیا ہے۔ زلیخا چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر مکمل آگاہی رکھتی تھیں انھیں خوب معلوم تھا کہ اس نوجوان کی عفت و عصمت کو پامال کرنا کسی کے بس کی بات نہیں اور ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی یقین تھا کہ بیگماتِ مصر کو اپنی فتنہ خیز ادائوں پر ہزار غرہ سہی لیکن وہ نہیں جانتیں کہ یوسف ( علیہ السلام) کا حسن کس قدر پاکیزہ اور کس قدر ہوشربا ہے۔ چناچہ اس معاملے میں ان کی اوقات انھیں سمجھانے کے لیے اپنے گھرآنے کی دعوت دی اور اشرافِ مصر کی تقریبات کے طریقے پر چاندنی کا فرش بچھایا گیا، گائو تکیے رکھے گئے اور پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ مصر کے آثار قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مجالس میں تکیوں کا عام استعمال تھا اور وہ اپنے کھانے میں چھریوں کا بھی استعمال کرتے تھے۔ چناچہ ہر مہمان کے سامنے ہر پلیٹ میں چھری بھی رکھی گئی تاکہ وہ اپنی مرضی سے جس چیز کو کاٹنا چاہیں اسے کاٹ کر کھائیں۔ چناچہ جب مجلس آراستہ ہوگئی اور بیگمات کھانے پینے میں مصروف ہوگئیں، قہق ہے اچھلنے لگے، بےتکلفی کی فضا ماحول پر چھا گئی تو اچانک زلیخا نے یوسف ( علیہ السلام) کو کہیں قریب ہی بٹھا رکھا تھا، اشارہ کیا کہ تم بھی مجلس میں چلے آئو۔ وہ حکم کے پابند ہونے کی وجہ سے ان خواتین کے سامنے پہنچے جو اپنے حسن کے مکمل اسلحے کے ساتھ مسلح تھیں، انھوں نے جیسے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) ( علیہ السلام) کو دیکھا تو دو چیزوں نے ان کو مبہوت کرکے رکھ دیا۔ ایک تو یہ بات کہ یوسف ( علیہ السلام) کا غیرمعمولی حسن ان کے لیے چونکا دینے والا تھا۔ انھوں نے اپنی تقریبات میں ایک سے ایک بڑھ کر حسین مرد دیکھے تھے جو خود اپنی ادائوں سے عورتوں کو مسحور کرنے کی کوشش کرتے اور اگر کسی خاتون کی جانب سے ہلکا سا بھی اشارہ ہوجائے تو انھیں زمین پر بچھ جانے میں بھی تامل نہیں ہوتا تھا، لیکن ادھر معاملہ بالکل برعکس تھا کہ یوسف ( علیہ السلام) کا حسن بجائے خود اس طرح کا تھا کہ جس کے سامنے احتیاط اور وقار کے تمام دامن چھوٹ چھوٹ جارہے تھے اور دل سینوں سے نکلے جاتے تھے۔ ہر دیکھنے والی خاتون محسوس کررہی تھی کہ آسمان سے چاند اتر آیا، لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہو رہی تھیں کہ وہ ماہ کنعان اور حسن کا پیکر آنکھ اٹھا کر بھی کسی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کررہا تھا۔ ظاہری حسن کے ساتھ سیرت و اخلاق کی پاکیزگی حسن کی دلربائی میں اضافہ کردیتی ہے۔ بیگماتِ مصر کے لیے اس طرح کا تجربہ پہلا تجربہ تھا کہ ایک حسن کا پیکر جوانِ رعنا، صحت و توانائی کی مجسم مثال اور اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں حیا اور ادائوں میں عفت اور سیرت و کردار میں ایسی پختگی کہ جسے ہزار کوششوں سے بھی شکستہ نہ کیا جاسکے۔ اس کا فوری اثر تو یہ ہوا کہ ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حُسنِ خداداد میں مسحور ہو کر اپنے ہاتھ زخمی کرلیے۔ چھریاں بجائے پھلوں پہ چلنے کے انگلیوں پر چل گئیں، لیکن جب اس طرح کی مرمٹنے والی حرکتوں سے بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) پر کوئی اثر نہ ہوا تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک کرکے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف بڑھیں اور اسے اپنے جلو میں لے کر سمجھانے لگیں کہ یوسف ( علیہ السلام) تم خوش نصیب ہو کہ عزیز مصر کی بیوی تم پر جان دیتی ہے، تمہیں اپنے دل کا شہزادہ سمجھتی ہے، وہ تمہارے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے، لیکن تمہاری یہ بےرخی اور بےاعتنائی اس کے دل کو خون کررہی ہے لیکن ساتھ ساتھ ایسی حرکتیں بھی کی جارہی تھیں جس میں اشارے تھے کہ اگر تم ادھر دیکھنا پسند نہیں کرتے تو ہماری طرف دیکھو، ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر قیامت ہے۔ لیکن جب ان باتوں میں سے بھی کسی بات کا اثر نہ ہوا تو پکار اٹھیں، حاشا اللہ ! یہ کلمہ تنزیہ ہے، یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اے یوسف ( علیہ السلام) تجھ جیسا انسان پیدا کیا اور زلیخا کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگیں کہ زلیخا یہ انسان نہیں، یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے ورنہ کوئی انسان حسن کی ایسی بےحجابانہ دعوت کو رد کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو معزز فرشتہ قرار دینا ان کے سیرت و کردار کے پاکیزگی کی جانب اشارہ ہے کیونکہ فرشتوں ہی میں یہ وصف ہے کہ وہ کبھی کسی برائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ لیکن بعض دوسرے اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اشارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ملکوتی حسن کی طرف تھا کیونکہ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ فرشتے چونکہ نور سے پیدا ہوئے ہیں اس لیے بہت زیادہ حسین ہیں، لیکن بعض مفسرین نے ان دونوں معنوں کو مراد لیتے ہوئے کہا کہ جس طرح فرشتے گناہوں سے معصوم ہیں اسی طرح ہماری زبان میں ملکوتی حسن کا بھی چرچا ہے اور اس سے مراد وہ حسن ہوتا ہے جس پر کسی گناہ کی آلودگی کا داغ نہ ہو۔
Ayah 12:32قَالَتْ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْہِ ط وَلَقَدْ رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ فَاسْتَعْصَمَ ط وَلَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَآ اٰمُرُہٗ لَیُسْجَنَنَّ وَلَیَکُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 32)
(زلیخا نے کہا کہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کیا کرتی تھیں، بخدا میں نے اسے بہت پھسلایا لیکن وہ بچا ہی رہا، اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔ )
زلیخا کی دھمکی
زلیخا نے جب دیکھا کہ بیگمات کی ساری کاوشیں ناکام ہوگئیں، نہ ان کا سمجھانا بجھانا کام آیا، نہ ان کی عشوہ طرازیاں اسے بہکا سکیں۔ اس نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ دیکھ لیا تم نے، اس شخص کو جس پر میں جان دیتی ہوں اور جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ ایک طرف تمہارا کہنا یہ ہے کہ عزیز کی بیوی غلام پر مر مٹی ہے جو باعث شرم ہے اور دوسری طرف یہ الزام کہ کس قدر ناکام ہے زلیخا کہ غلام کو بھی ڈھب پہ نہ لاسکی۔ اب تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ غلام ہے یا حسن کی دنیا کا بادشاہ ہے۔ کون ہے جو اس کے حسن سے مسحور نہیں ہوگا اور دوسری طرف تمہیں یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ اسے اپنے ڈھب پہ لانا ایسا آسان نہیں جیسا تم سمجھ رہی تھیں۔ لیکن میں اب صاف کہے دیتی ہوں کہ اگرچہ آج تک میرے بہلاوے اور پھسلاوے ناکام رہے ہیں لیکن اب میں مزید برداشت نہیں کروں گی۔ اب اگر اس نے میرا حکم نہ مانا اور میری خواہش کی تعمیل نہ کی تو اسے جیل جانا پڑے گا اور ذلیل و خوار ہونا ہوگا۔
تین نکات
زلیخا کے قول سے تین باتیں مترشح ہوتی ہیں (1) کہ زلیخا اپنی سوسائٹی کی تمام بیگمات کے سامنے نہ صرف اپنے عشق کا اعتراف کررہی ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ یوسف ( علیہ السلام) کو وارننگ بھی دے رہی ہے کہ اب اسے ہر قیمت پر میری خواہش کی تعمیل کرنا ہوگی۔ اس میں بظاہر جو بات کھٹکتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شادی شدہ عورت کبھی بھی اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ میرا کسی کے ساتھ معاملہ افشا ہو۔ اس سے ایک تو عزت باقی نہیں رہتی اور دوسرا یہ کہ خاوند کیسے برداشت کرے گا کہ اس کی بیوی دوسروں کے ساتھ عشق لڑاتی پھرتی ہے۔ لیکن اسے اس بات کی کوئی پرواہ معلوم نہیں ہوتی۔ اس سے مصر کی مہذب سوسائٹی کا انداز سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جس طرح آج مغرب میں لڑکیاں شوق سے اپنی سہیلیوں کو اپنے فرینڈز کی تصویریں دکھاتی ہیں اور اس پر فخر کرتی ہیں اور شادی شدہ عورتیں بھی اس بات میں کوئی قباحت نہیں سمجھتیں کہ شوہر کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے مرد کے ساتھ دوستی بھی چلتی رہے۔ یہی حال مصر کی سوسائٹی کا بھی تھا۔ (2) مصر کی سوسائٹی میں معلوم ہوتا ہے کہ غلاموں کے کوئی حقوق نہیں تھے۔ کوئی بھی بڑا آدمی اپنے غلام پر کوئی بھی الزام لگا کر بڑی آسانی سے اسے جیل بھیج سکتا تھا اور غلاموں کے لیے اپنی صفائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ اس لیے ان پر جو بھی الزام لگا دیا جاتا تھا وہ ایک حقیقت بن جاتا تھا اور وہ بیچارے زندگی بھر زبان بند رکھ کر اس ذلت کا عذاب برداشت کرتے رہتے تھے۔ (3) زلیخا کے اعتراف میں یوسف ( علیہ السلام) کی مضبوط سیرت کا اعتراف بھی ہے کیونکہ اس کے حسن کی تمام رعنائیاں یوسف ( علیہ السلام) کی پاکدامنی کو شکست دینے میں ناکام ہوجانے کے بعد اب وہ طاقت کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کررہی ہے اور طاقت کے استعمال میں جو اصل سزا ہے وہ جیل جانا ہے۔ اور اگلی آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیج دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زلیخا اپنے تمام حربوں میں ناکام رہی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان میں برائی کے اس جال سے بچ کر نکل گئے۔