Yusuf 12:2

Yusuf · from ayah 2

12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We have sent it down as an Arabic Qur'an that you might understand.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:2

ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم (اہل عرب) اس کو اچھی طرح سمجھ سکو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے اس کو قرآن عربی نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے اس کو ایسا قرآن بنا کر اتارا ہے جو عربی زبان میں ہے، تاکہ تم سمجھ سکو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے قرآن کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا ہے تاکہ تم اسے سمجھ سکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم سمجھو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم ہی نے اتارا ہے اس کو عربی زبان کے عظیم الشان قرآن کی صورت میں، تاکہ تم لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ سکو

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ہم نے اتارا ہے قرآن فصیح تاکہ تم (اسے) سمجھو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے اس کو نازل کیا ہے عربی قرآن بنا کر تاکہ تم لوگ اسے اچھی طرح سے سمجھ سکو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have revealed it as a Recitation in Arabic that you may fully understand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have sent it down, as an Arabic Qur‘an, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani

We have sent it down, as an Arabic Qur‘an, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We have revealed it, a Lecture in Arabic, that ye may understand.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We have sent it down as an Arabic Qur'an that you might understand.

— Saheeh International

We have revealed it in the Arabic language so that you (people) would understand it.

— Muhammad Sarwar

Surely We have revealed it-- an Arabic Quran-- that you may understand.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We have sent it down, an Arabic Recitation, that haply ye may reflect.

— Abdul Majid Daryabadi

We have sent it down as an Arabic Qur'an, in order that ye may learn wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة یُوْسُف 1 قرآن مصدر ہے قَرَأَ یَقرأ سے۔ اس کے اصل معنی ہیں ”پڑھنا“۔ مصدر کو کسی چیز کے لیے جب نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اس شے کے اندر معنی مصدری بدرجہ کمال پایا جاتا ہے۔ مثلا جب کسی شخص کو ہم بہادر کہنے کے بجائے ”بہادری“ کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اندر شجاعت ایسی کمال درجہ کی پائی جاتی ہے کہ گویا وہ اور شجاعت ایک چیز ہیں۔ پس اس کتاب کا نام ”قرآن“ (پڑھنا) رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ عام و خاص سب کے پڑھنے کے لیے ہے اور بکثرت پڑھی جانے والی چیز ہے۔ سورة یُوْسُف 2 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کتاب مخصوص طور پر اہل عرب ہی کے لیے نازل کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ یعنی ہم نے نازل کیا اس کو قرآن عربی بنا کر شاید تم سمجھ بوجھ حاصل کرلو، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ قصہ یوسف ؑ کا سوال کرنے والے عرب کے یہودی تھے اللہ تعالیٰ نے انہی کی زبان میں یہ قصہ نازل فرما دیا تاکہ وہ غور کریں اور رسول کریم ﷺ کے صدق و حقانیت پر ایمان لائیں اور اس قصہ میں جو احکام و ہدایات ہیں ان کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اسی لئے اس جگہ لفظ لعل بمعنے شاید لایا گیا ہے کیونکہ ان مخاطبوں کا حال معلوم تھا کہ ایسی واضح آیات بینات سامنے آنے کے بعد بھی ان سے قبول حق کی توقع مشکوک تھی،

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

تفسیر آیات 1۔ 2:۔ الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ سورة کا قرآنی نام : " الرا " یہ اس سورة کا قرانی نام ہے۔ یہی نام سورة یونس اور سورة ہود کا بھی ہے۔ نام میں اصل مقصود تسمیہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے معانی کی کھود کرید کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ناموں کا شتراک معانی و مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے۔ سو یہ چیز، جیسا کہ ہم پچھلی دونوں سورتوں کی تفسیر میں اشارہ کر آئے ہیں، ان سب سورتوں میں موجود ہے۔ ان میں اصل موضوع بحث ایک ہی ہے البتہ انداز بحث اور انداز استدلال ہر ایک میں الگ الگ ہے۔ " کتاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد، لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہے اور یہ مقصد اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ کتاب اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ سکیں، اس لئے ہر آسمانی کتاب اس قومی زبان میں نازل ہوئی، جس قوم کی ہدایت کے لئے اتاری گئی تھی۔ قرآن کریم کے مخاطب اول چونکہ عرب تھے، اس لئے قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا علاوہ ازیں عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت اور ادائے معانی کے لحاظ سے دنیا کی بہترین زبان ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس اشرف الکتاب (قرآن مجید) کو اشرف اللغات (عربی) میں اشرف الرسل (حضرت محمد ﷺ پر اشرف الملائکہ (جبرائیل) کے ذریعے سے نازل فرمایا اور مکہ، جہاں اس کا آغاز ہوا، دنیا کا اشرف ترین…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: حضرت یعقوب ؑ کو معلوم تھا کہ یوسف ؑ نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ یوسف ؑ کو اتنا اونچا مقام ملنے والا ہے کہ ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ کسی وقت ان کے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے، دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ حضرت یعقوب ؑ کے کل بارہ بیٹے تھے، ان میں سے دوبیٹے یعنی حضرت یوسف ؑ اور بنیامین ایک والدہ سے تھے اور باقی صاحب زادے ان کی دوسری اہلیہ سے تھے، حضرت یعقوب ؑ کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کی وجہ سے حسد نہ ہو، اور شیطان کے بہکائے میں آکر یوسف ؑ کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یعنی تم اس بات کو سمجھ سکو کہ متداول حروف تہجی اور عام بولے جانے والے کلمات سے ایک ایسی کتاب مرتب کرنا جو معجز ہو کسی انسان کی استطاعت میں نہیں ہے۔ لہذا عقلاً یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قرآن وحی الہی ہے ، گویا عقل کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ کتاب الہی کے اس اعجازی پہلو رپ غور کرے اور اس سے نتائج اخذ کرے۔ چونکہ اس سورت کا بیشتر حصہ ایک قصے پر مشتمل ہے۔ اس لیے اس کتاب کے موضوعات میں سے قصے کے موضوع کی صراحت کردی گئی اور یہ فرمایا کہ یہ قصہ احسن القصس ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی عربی زبان جو تمام زبانوں میں زیادہ فصیح و وسیع اور منضبط و پرشوکت زبان ہے، نزول قرآن کے لیے منتخب کی گئی۔ جب خود پیغمبر عربی ﷺ ہیں تو ظاہر ہے کہ دنیا میں اس کے اولین مخاطب عرب ہوں گے۔ پھر عرب کے ذریعہ سے چاروں طرف یہ روشنی پھیلے گی۔ اسی کی طرف " لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ " میں اشارہ فرمایا کہ تمہاری زبان میں اتارنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ تم جو پیغمبر ﷺ کی قوم ہو اول اس کے علوم و معارف کا مزہ چکھو پھر دوسروں کو چکھاؤ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " اُنْزِلَ اَشْرَفُ الْکُتُبِ بِاَشْرَفِ اللُّغَاتِ عَلٰی اَشْرَفِ الرُّسُلِ بِسَفَارَۃِ اَشْرَفِ الْمَلَائِکَۃِ وَکَانَ ذٰلِکَ فِیْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا یعنی وہ قرآن جو اُمّ الکتاب اور لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے ‘ اس کو ہم نے قرآن عربی بنا کر محمد رسول اللہ پر نازل کیا ہے۔ لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ یہ خطاب عرب کے امیینّ سے ہے کہ ہمارے آخری رسول کی اوّلین بعثت تمہاری طرف ہوئی ہے۔ آپ کے مخاطبین اولین تم لوگ ہو۔ چناچہ ہم نے قرآن کو تمہاری اپنی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم لوگ اسے اچھی طرح سمجھ سکو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 قرآن کی عربی زبان اور روایت بالمعنی کی ضرورت :۔ قرآن ساری دنیا کے لیے ہدایت کی کتاب ہے۔ لیکن چونکہ اس کے اولین مخاطب اہل عرب تھے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اسے عربی زبان میں نازل کیا جاتا۔ تاکہ پہلے عرب اس کے مطالب کو خوب سمجھیں، پھر دوسرے لوگوں تک ان لوگوں کی زبان میں اسے پہنچائیں۔ اہل عجم عربی زبان سیکھ جائیں اس سے ایک نہایت اہم مسئلہ کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے جو یہ ہے کہ روایت بالمعنی شرعی لحاظ سے قابل اعتبار چیز ہے اور روایت بالمعنی کے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ قرآن کے مطالب کو دوسری زبانوں میں منتقل کیا جاسکتا۔ قرآن کی ایک صفت تو یہ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے اور دوسری یہ کہ وہ اپنے سارے مطالب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (اور سمجھ کر اس کی ہدایات پر عمل کرو) (آیت) ” عرب یا “۔ خطاب سارے انسانوں کو ہے نہ کہ صرف اہل عرب کو (آیت) ” قرء نا عرب یا “۔ کے معنی اگر ” عربی زبان کا قرآن “ کئے جائیں تو دائرہ خطاب سمٹ کر صرف اہل عرب تک محدود رہ جاتا ہے لیکن عربی کے معنی فصاحت سے بیان کرنے والے اور خود کلام فصیح وواضح کے ہیں اور یہاں یہ معنی لینے سے خطاب عامۃ الناس کی طرف رہتا ہے۔ العربی المفصح (راغب) العربی الفصیح البین من الکلام (راغب) التعریب التبیین والایضاح ویقال اعرب عنہ لسانہ وعرب ای ابان وافصح (تاج) خود عرب کا نام اس لئے پڑا کہ وہ زبان فصیح کے مالک تھے۔ واختلف فی سبب تسمیۃ العرب فقیل لاعراب لسانھم ای ایضاحہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم عالا ہے، الٓمرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں کتاب مبین حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب کی ہیں (آیات الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اے اہل مکہ تم اس اس کے معانی کو (پہلے) سمجھو، ہم نے اس قرآن کی وحی آپ کی طرف کرکے آپ کو ایک بہت عمدہ قصہ سنانا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اس سے پہلے بالکل بیخبر تھے اور اِنْ مخففہ ہے ای واِنَّہ وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ابا یعقوب (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا انزلنا قراٰنًا عربیًا ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا۔ قرآن اس میں جنس ہے ‘ اس کا اطلاق پوری کتاب پر بھی ہوتا ہے اور ہر جز پر بھی ‘ اگرچہ غلبۂ استعمال کی وجہ سے پورے قرآن کا نام اس کو قرار دے دیا گیا ہے لہٰذا قرآن کا حمل الکتاب پر ہوسکتا ہے خواہ الکتاب سے مراد سورت ہی لی جائے (کیونکہ اجزائے کتاب کو بھی قرآن کہا جاسکتا ہے) ۔ عَرَبِیًّا کا لفظ حال ہے اور قرآنًا اس کی تمہید۔ یا قرآن موصوف ہے (جبکہ قرآن کو بمعنی اسم مفعول کے لیا جائے) اور عربیًا صفت ہے۔ عربیًا کہنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن تمہاری زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ لعلکم تعقلون۔ تاکہ تم سمجھو۔ یعنی قرآن کے معانی کو سمجھو اور فہم و…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(2) یہ سورت قرآن کریم کی آیات ہیں جو کہ حلال و حرام اور امر و نواہی کو واضح طور پر بیان فرمارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا۔۔ :”اَنْزَلْنٰهُ“ میں ”ہٗ“ ضمیر ”اَلْکِتٰب“ کی طرف جا رہی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کتاب صرف اہل عرب کے لیے ہے دوسروں کے لیے نازل نہیں کی گئی ہے۔ بات یہ ہے کہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری جائے گی وہ کسی ایک ہی انسانی زبان میں ہوگی اور فطری طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کتاب کی زبان سیکھی جائے یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے، چناچہ یہی طریقہ قرآن کے بارے میں ملحوظ رکھا گیا۔ اس لیے عربوں سے، جو اس کے اولین مخاطب ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری اپنی زبان میں نازل کی ہے، کسی اور زبان میں نہیں اتاری کہ تم اسے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 2 قولہ تعالیٰ : انآانزلنٰہ قرءٰنًا عربیًا اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے : أنا انزلنا القرآن عربیًا (یعنی ہ ضمیر سے مراد قرآن ہو) قرءٰنًا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا یعنی سارا قرآن (عربی ہے) اور عربیا، قرءٰنًا کی صفت ہوگا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرءٰنًا بطور تمہید وتاکید حال ہو جیسے مررت بزید وجلا صالحاً اور عربیًا ضمیر سے حال ہوگا، یعنی اے گروہ عرب اس کو تمہاری زبان میں پڑھا جاتا ہے۔ أعرب سے مراد بین ہے اسی سے الثیب تعرب عن نفسھا ہے۔ لعلکم تفعلون یعنی تاکہ تم اس کے معانی کو جانو اور جو کچھ اس میں ہے اسے سمجھو۔ بعض عرب لعل کے ساتھ ان لاتے ہیں عسی کے ساتھ مشابہت دیتے ہوئے لعل میں لام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ الطبرانی وابو الشیخ والحاکم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عرب کے لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ تین چیزوں کی وجہ سے میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور وہ جنت والوں کی زبان ہوگی۔ 2:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور جنت والوں کی زبان بھی عربی ہوگی۔ 3:۔ الحاکم (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” قرءنا عربیا “ کی تلاوت فرمائی پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کو یہ عربی زبان الحام کی گئی ہے (کہ ان کے دل میں یہ کلام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انآ : بیشک ہم نے ] [ انزَلْنٰهُ : اتارا اس کو ] [ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا : عربی قرآن ہوتے ہوئے ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد تم لوگ ] [ تَعقلوْنَ : عقل سے کام لو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور ان کے والد کی تعبیر اور ضروری تاکید یہاں سے سورة یوسف شروع ہو رہی ہے اس سورت میں تفصیل کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قصہ بیان فرمایا اور اس کو احسن القصص بتایا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے آپ اس قصہ کو نہیں جانتے تھے۔ آپ کو اس کا علم صرف وحی کے ذریعہ ہوا ہے لوگوں کو آپ کا بتانا آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور قرآن مجید کے حق اور منزل من اللہ ہونے کی بھی ‘ تصدیق کرنے والے سنیں گے اور غور کریں گے تو یہ سمجھ لیں گے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا قرآن مجید کے اولین مخاطب اہل عرب ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

حقانیت قرآن حکیم و تمہید قصہ قال اللہ تعالیٰ الر، تلک ایت الکتب المبین ...... الیٰ ۔۔۔۔ لمن الغفلین۔ (ربط) اس سورت کا آغاز سورة یونس کے آغاز سے مشابہ ہے قرآن کریم کے ذکر سے اس قصہ کو شروع فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔ الر۔ یہ متشابہات میں سے ہے۔ سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو اس کی مراد معلوم نہیں۔ جمہور کے نزدیک راجح اور مختار قول یہی ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ متشابہات۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان راز ہیں۔ سوائے رسول کے کسی کا مرتبہ نہیں کہ وہ ان اسرار کو سمجھ سکے۔ مفصل کلام سورة بقرہ میں گزر چکا ہے یہ آیتیں ایسی کتاب کی ہیں جو واضح اور روشن ہے۔ حق اور باطل کے فرق کو خوب واضح کرتی ہے ہم نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ یہاں سے ” لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ “ تک تمہید ہے۔ ” اَلْکِتَاب “ سے قرا ان مراد ہے یا یہ سورت جیسا کہ ارشاد ہے ” صُحُفًا مُّکَرَّمَۃً فِیھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃً “ (البینہ) ۔ یہاں ” کُتُبٌ“ صحفیوں کے حصوں کو فرمایا۔ ” اَلْمُبِیْن “: یہ اشارہ ہے کہ اس سورت میں دلیل نقلی ذکر کی جائے گی۔ ” قُرْاٰنًا “: حال مؤطئہ ہے ” عَرَبِیًّا “ کے لیے یہ حال ہے اور ” عَرَبِیًّا “ اس کی صفت ہے (مظہری) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة یوسف ہے۔ اس پوری سورة میں صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، لہٰذا اس کا نام آپ کے نام پر سورة یوسف رکھا گیا ہے۔ پورے قران پاک میں دو سورتیں ایسی ہیں جن میں مکمل طور پر صرف ایک ایک نبی کا واقعہ بیان ہوا ہے ایک سورة یوسف ہے اور دوسری سورة نوح۔ سورۃ یوسف مکی دور میں نازل ہوئی ، لہٰذا مکی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سو گیارہ آیات اور بارہ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1776 الفاظ اور 7996 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی حقائق توحید ، رسالت قیامت ، قرآن کریم کی حقانیت ، انبیاء کی تبلیغ ، قوموں کی نافرمانی اور پھر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝ 2 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : قرآنا مصدر موضع مفعول میں یہ حال ہے ضمیر انزلنا مفعول سے عرب یا اس کی صفت احسن منصوب ہے مفعول نقص کا ہو کر بما مصدر ھذا مفعول ہے اوحینا کا قرآن لغت ہے یا بیان ہے وان کنت مخففہ مثقلہ سے فیکیدوا جواب نہی۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 1، 2) (الف، لام، را۔ یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی۔ ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتاراتا کہ تم سمجھو۔ ) الٓرٰ : حروف مقطعات ہیں اور حروف مقطعات پر ہم سورة البقرہ کے آغاز میں بحث کرچکے ہیں۔ کتاب مبین کا مفہوم پیشِ نظر آیات ایک ایسی کتاب کی ہیں جو اپنے بیان اور استدلال میں سورج کی طرح روشن اور بدیہیات کی طرح واضح ہیں۔ اس کی ہر بات اپنے اندر روشنی کا اتنا سامان رکھتی ہے کہ باہر سے اسے ثبوت کی ضرورت نہیں۔ پورا قرآن پاک آپ کے سامنے ہے۔ کہیں سے بھی نکال کے دیکھ لیجیے، قرآن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن اآرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان کا حقیقی معنیٰ اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ عرب دانشوروں کا طریقہ تھا کہ شاعر اور ادیب اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے ” طرح مصرعہ کے طور پر “ چند الفاظ کہتے جس کا مفہوم بیان کرنا ضروری خیال نہیں کرتے تھے۔ اسی روایت کے پیش نظر صحابہ ؓ نے اس کا معنیٰ جاننے اور اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے نبی معظم ﷺ سے استفسار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی نبی معظم ﷺ نے حروف مقطعات کا مفہوم بتلانے کی ضرورت محسوس فرمائی۔ کیونکہ اس کا دین کی تفہیم اور عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ ورنہ آپ اس کا مفہوم ضرور بیان فرماتے۔ ارشاد ہوتا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا (ہم نے اسکواتارا ہے قرآن عربی زبان کا) یعنی اس کتاب کو جس میں یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ ہے اس حال میں اتارا ہے کہ یہ قرآن عربی ہے قرآن کے بعض حصہ کو قرآن کہا کیونکہ قرآن اسم جنس ہے۔ یہ سارے قرآن پر بھی بولا جاتا ہے اور بعض حصہ پر بھی لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (تاکہ تم سمجھو) تاکہ تم اس کے معانی سمجھو۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا وَلَوْجَعَلْنَاہُ قُرْٰانًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ ٰایَاتُہٗ ] فصلت : 24[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2۔” انا انزلناہ “ یعنی کتاب ” قرآنا عربیا لعکم تعقلون “ یعنی ہم نے اس کو تمہاری لغت میں اتارا تا کہ تم اس کے معانی جان لو اور جو احکام اس میں ہیں وہ سمجھ لو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ : تاکہ تم سمجھو۔ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامرو نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لوگے اور تمہارے دل اسی معرفت سے لبریز ہوجائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ یعنی تمہارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمہاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنی حا سے اعلی و اکمل احوال میں منتقل ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–3

3 ۔ اہل عرب پر ایک خاص انعام و احسان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم لوگ سمجھو اے اہل عرب کہ اس کے اولین مخاطب تو بہرحال تم ہی ہو۔ اور یہ کلام حکمت التیام و صدق نظام ہے تو بیشک عالمی، زمان و مکان کی حدود وقیود سے اعلی وبالا، اور قیامت تک کے سب انسانوں اور تمام زمانوں کی راہنمائی کے لیے۔ لیکن اس کی تعلیم و تبلیغ کی خدمت وسعادت تو بہرکیف ایسے خوش نصیب انسانوں ہی کے ذریعے تکمیل پذیر ہوسکے گی جن کو اس کے حامل اور پاسدار و امین ہونے کے شرف سے مشرف فرمایا گیا ہوگا۔ اور ان میں سب سے پہلے اور سرفہرست وہی حضرات ہیں جن کی لغت و زبان میں اس کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

احسن القصص تشریح : ان آیات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصے کو احسن القصص، یعنی سب سے بہترین قصہ کہا گیا ہے۔ الٓر یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ فرمایا کہ یہ آیات یعنی نشانیاں ایک ایسی نایاب کتاب میں بیان کی گئی ہیں جو انتہائی جامع، مکمل اور سچی کتاب ہے۔ کیونکہ یہ جزیرۃ العرب میں نازل ہوئی اس لیے انہی کی زبانی یعنی عربی زبان میں نازل کی گئی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اس کے مضامین، مفہوم اور احکامات کو اتنی اچھی طرح سمجھ سکیں کہ دوسرے غیر عربی لوگوں کو بغیر کسی شک و شبہ کے اصل مفہوم سمجھا سکیں اور کسی طرح کی غلطی کا امکان نہ رہے۔ اور پھر بڑی وضاحت سے اس قصہ میں اہل عرب کے مشرکین کے اس سوال کا جواب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

آیات 1 تا 6 اسرار و معارف الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول ﷺ کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔ یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔ زبانوں میں تقدس مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کتاب صرف اہل عرب کے لئے ہے۔ دوسروں کے لئے نازل نہیں کی گئی ہے۔ کیونکہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے جو کتاب اتاری جائے گی وہ کسی ایک ہی انسانی زبان میں ہوگی اور فطری طریقہ یہ ہے کہہ یا تو اس کتاب کی زبان سیکھی جائے یا اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے چناچہ یہی طریقہ قرآن کے بارے میں ملحوظ رکھا گیا۔ اس لئے عربوں سے جو اس کے اولین مخاطب میں کہا جا رہا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری اپنی زبان میں نازل کی ہے۔ کسی اور زبان میں نہیں اتاری کہ تم اس کے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکنے کا عذر پیش کرسکو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:2) انزلنا۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الکتاب ہے۔ بمراد قرآن۔ قرنا۔ مادہ قرئ۔ القرء کے اصل معنی طہر سے حیض میں داخل ہونے کے ہیں اور چونکہ یہ لفظ طہر اور حیض دونوں کا جامع ہے ۔ اسی لئے دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو اسم دو چیزوں کے لئے بحیثیت مجموعی وضع کیا گیا ہو وہ ہر ایک پر انفرادا بھی بولا جاتا ہے مثلاً لفظ مائدہ کہ دسترخوان اور کھانا دونوں کے مجموعہ کے لئے وضع کیا گیا ہے مگر ہر ایک پر انفرادا بھی بولا جاتا ہے۔ لہٰذا قرء نہ صرف حیض کا نام ہے اور نہ صرف طہر کا۔ بلکہ دونوں کے لئے وضع کیا گیا ہے اسکی دلیل یہ ہے کہ جس عورت کو حیض نہ آتا ہو اسے ذات قرء نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 تلک (یہ۔ (اسم اشارہ) ۔ مبین (واضح۔ روشن) قران (بہت پڑھا جانے والا ) لعل (شاید۔ توقع) نقص (ہم بیان کرتے ہیں) احسن القصص (قصوں میں بہترین) اوحینا (ہم نے وحی بھیجی) ان کنت (اگرچہ تو تھا) الغفلین (غافل) ۔ بیخبر تشریح :- آیت نمبر 1 تا 3 سورة یوسف بارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اس میں عبرت و نصیحت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کے لاتعداد پہلوؤں کے ساتھ ان کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف ، ان کے والدین اور رشتہ دار فلسطین سے مصر کیسے پہنچے اہل عرب اس سے ناواقف تھے۔ خود نبی کریم ﷺ نے بھی کبھی اس واقعہ کو بیان نہیں فرمایا۔ کفار مکہ نبی کریم ﷺ پر اعتراض کے موقع…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

قصہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے خواب کا ذکر سورۃ یوسف مکی ہے الر حروف مقطعات میں سے ہیں۔ جن کا ذکر اول سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی تعریف بیان فرمائی کہ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زبان عربی میں نازل فرمایا ہے۔ تاکہ تم لوگ عرب کے باشندے اس کو اچھی طرح سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس قصہ یوسف (علیہ السلام) کو احسن القصص فرمایا کیونکہ اس قصہ میں عبرت اور حکمت اور عجیب و غریب فائدے ہیں، جو دین و دنیا میں انسان کے کار آمد ہیں مثلا عورتوں کا مکرو فریب اور دشمن کی ایذا رسانی پر صبر اور خوش اسلوبی سے درگزر کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] قرآن کے اصل معنی ہیں پڑھنا۔ یہ مصدر ہے قَرَأَ یَقْرَأُ سے۔ مصدر کو جب نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مصدری معنی میں بدرجہء کمال کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ پس کتاب کا نام قرآن رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بکثرت پڑھی جانے والی کتاب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

بہترین واقعہ : (ف 1) سورة یوسف کا نزول اس وقت ہواجب حضور ﷺ مکہ چھوڑ رہے تھے ، اور مدینہ کی جانب ہجرت کا ارادہ تھا ، غرض یہ ہے کہ جس طرح برادران یوسف نے جمال ظاہری کو رشک وحسد کی آنکھوں سے دیکھا اور بھائی کو کنوئیں میں پھینک دیا ، اسی طرح یہ برادران قوم حضور ﷺ کے جمال روحانی کی تجلیات کو برداشت نہ کرسکے ، اور حضور ﷺ غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے پھر جس طرح یوسف (علیہ السلام) ارض مصر میں حکومت اعلی کے درجہ تک پہنچے اسی طرح حضور کو مدینہ کے لوگوں نے آنکھوں پر بٹھایا ، اس سورة کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ہجرت یوسف (علیہ السلام) کی سی ہجرت ہے انشاء اللہ آپ مدینے میں یوسف (علیہ السلام) کی طرف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2 ہم نے اس کو نازل کیا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم اس کو اے اہل عرب سمجھ سکو ۔ یعنی اس میں جو چیز بیان کی جاتی ہے وہ واضح طورپر بیان کی جاتی ہے پھر ہم نے اس قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل اس لئے کیا ہے تاکہ تم اے اہل عرب اس کو اچھی طرح سمجھ سکو اور خود سمجھ کر دوسروں کو سمجھائو اور پھیلائو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ پڑھی جانے والی کتاب ہے جس کا نزول عربی زبان میں ہوا ۔ 2 اس قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا گیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ یہ جس اللہ کے بندے کے دل پر نازل کیا گیا اس کی زبان عربی تھی اور اس کے مخاطبین اول بھی عربی تھے اور یہ وہ زبان ہے جس کو صیح معنوں میں زبان یا ایک بولی کہا جاسکتا ہے جس کے مقابلہ میں اور کوئی زبان وسیع اور فصیح نہیں۔ ” انزلناہ ‘ ‘ کی ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے یا قصہ یوسف علیہ السلام۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اس کتاب کو عربی میں نازل کیا تاکہ تم اس کو اچھی طرح سمجھ سکو اور دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ قصہ یوسف جس کے متعلق اہل کتاب نے قریش مکہ کی وساطت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The statement made in verse 2 following immediately is: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (Surely, We have sent it down, an Arabic Qur’ an, so that you may understand). It is indicative of the situation that those who had asked to be informed of what had happened to Sayyidna ~Yusuf (علیہ السلام) were the Jews of Arabia. So, Allah Ta’ ala revealed this story in their language so that they may ponder over it and attest to the veracity of the Holy Prophet ﷺ and tune their lives in the light of the injunctions and instructions which emerge from this story. This…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1. The Arabic word Quran“to read”is originally the infinitive form of the verb qara. When the infinitive form of a verb in Arabic is used as a name, it implies that that thing or person possesses the characteristics in their perfection. This Book has been named Quran to indicate that it is meant to be read by all and sundry and is to be read often and over and over again. 2. This does not mean that this Book has been sent down exclusively for the Arabs. What it means is only this: Of all the people, O Arabs, you should understand the excellence of the Quran, which is a sure proof of its being…

Read the full tafseer →