Explained with ayahs 1–3
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن
سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 3
سورة کے دیباچے میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ کفار مکہ میں سے بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ کا امتحان لینے کے لیے، بلکہ اپنے نزدیک آپ کا بھرم کھولنے کے لیے، غالبا یہودیوں کے اشارے پر، آپ کے سامنے اچانک یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب ہوا۔ اسی بنا پر ان کے جواب میں تاریخ بنی اسرائیل کا یہ باب پیش کرنے سے پہلے تمہیدا یہ فقرہ ارشاد ہوا ہے کہ اے محمد ﷺ ! تم ان واقعات سے بیخبر تھے، دراصل یہ ہم ہیں جو وحی کے ذریعہ سے تمہیں ان کی خبر دے رہے ہیں۔ بظاہر اس فقرے میں خطاب نبی ﷺ سے ہے، لیکن اصل میں روئے سخن ان مخالفین کی طرف ہے جن کو یقین نہ تھا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے علم…
Read the full tafseer →(آیت) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ یعنی ہم بیان کرتے ہیں آپ کے لئے بہترین قصہ اس قرآن کو بذریعہ وحی آپ پر نازل کر کے بیشک آپ اس سے پہلے ان تمام واقعات سے ناواقف تھے، اس میں یہود کو تنبیہ ہے کہ تم نے جس طرح ہمارے رسول ﷺ کی آزمائش کرنا چاہی اس میں بھی رسول کا کمال واضح ہوگیا کیونکہ وہ پہلے سے امی اور تاریخ عالم سے ناواقف تھے اب اس واقفیت کا کوئی ذریعہ بجز تعلیم الہی اور وحی نبوت کے نہیں ہو سکتا
Read the full tafseer →" احسن القصص " کا مفہوم : " احسن القصص " میں " قصص " قصہ اور سرگزشت کے معنی میں ہے۔ مصدر یعنی قصہ بیان کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر مصدر کے معنی میں ہوتا تو زبان کے معروف اسعمال کے مطابق اس پر الف لام نہ آتا بلکہ " احسن قصص " ہوتا۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم تمہیں بہترین قصہ سناتے ہیں۔ یہ معنی اس کے صحیح نہیں ہیں کہ ہم تمہیں بہترین پیرایہ میں سناتے ہیں۔ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً سورة اعراف میں ہے۔ فاقصص القصص لعلہم یتفکرون (پس ان کو سرگزشت سناؤ تاکہ وہ غور کریں)۔ سورة قصص میں ہے فلما جاء ہو قص علیہ القصص (پس جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کی سرگزشت سنائی)۔…
Read the full tafseer →3۔ 1 قصص، یہ مصدر ہے معنی ہیں کسی چیز کے پیچھے لگنا مطلب دلچسپ واقعہ ہے قصہ، محض کہانی یا طبع زاد افسانے کو نہیں کہا جاتا بلکہ ماضی میں گزر جانے والے واقعے کے بیان کو قصہ کہا جاتا ہے۔ یہ گویا ماضی کا واقعی اور حقیقی بیان ہے اور اس واقع میں حسد وعناد کا انجام، تائید الٰہی کی کرشمہ سازیاں، نفس امارہ کی شورشیں اور سرکشیوں کا نتیجہ اور دیگر انسانی عوارض و حوارث کا نہایت دلچسپ بیان اور عبرت انگیز پہلو ہیں، اس لئے اس قرآن نے احسن القصص (بہترین بیان) سے تعبیر کیا ہے۔
3۔ 2 قرآن کریم کے ان الفاظ سے بھی واضح ہے نبی کریم عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیخبر قرار نہ دیتا، دوسری بات یہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: حضرت یعقوب ؑ کو معلوم تھا کہ یوسف ؑ نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ یوسف ؑ کو اتنا اونچا مقام ملنے والا ہے کہ ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ کسی وقت ان کے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے، دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ حضرت یعقوب ؑ کے کل بارہ بیٹے تھے، ان میں سے دوبیٹے یعنی حضرت یوسف ؑ اور بنیامین ایک والدہ سے تھے اور باقی صاحب زادے ان کی دوسری اہلیہ سے تھے، حضرت یعقوب ؑ کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کی وجہ سے حسد نہ ہو، اور شیطان کے بہکائے میں آکر یوسف ؑ کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔
Read the full tafseer →یعنی قرآن کریم کی وحی تمہاری طرف کرکے ہم نے بہترین قصص تم پر نازل کیے اور یہ قصہ پھر تمام قصص سے احسن ہے اور یہ بھی وحی الہی ہے۔
وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : " ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے) تم بالکل ہی بیخبر تھے " کیونکہ آپ بھی اپنی پوری قوم کی طرح خواندہ نہ تھے ، نہ اس قسم کے موضوعات پر کلام کرتے تھے جن پر قرآن کریم نے بات کی ہے اور قرآن کریم کے موضوعات میں سے ایک موضوع اس قسم کے قصے بھی ہیں جو گہری دانشمندی پر مشتمل ہیں۔
Read the full tafseer →1 یعنی اس وحی کے ذریعہ سے جو قرآن کی صورت میں ہم پر نازل ہوتی ہے۔ ہم ایک نہایت اچھا بیان نہایت حسین طرز میں تم کو سناتے ہیں۔ جس سے اب تک اپنی قوم کی طرح تم بھی بیخبر تھے۔ گو یہ واقعہ کتب تاریخ اور بائبل میں پہلے سے مذکور تھا مگر محض ایک افسانہ کی صورت میں تھا۔ قرآن کریم نے اس کے ضروری اور مفید اجزاء کو ایسی عجیب ترتیب اور بلیغ و موثر انداز میں بیان فرمایا۔ جس نے نہ صرف پہلے تذکرہ نویسوں کی کوتاہیوں پر مطلع کیا بلکہ موقع بہ موقع نہایت ہی اعلیٰ نتائج کی طرف راہنمائی کی اور قصہ کے ضمن میں علوم و ہدایات کے ابو اب مفتوح کردیئے۔ یہ بات کہ خداوند قدوس کی تقدیر کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، اور خدا جب…
Read the full tafseer →آیت 3 نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ
قَصَص ق کی زبر کے ساتھ یہاں بطور مصدر آیا ہے اور اس کے معنی ہیں ”بیان“۔ اگر لفظ قِصَص ق کی زیر کے ساتھ ہوتا تو قصہ کی جمع کے معنی دیتا ‘ اور اس صورت میں اس کا ترجمہ یوں ہوتا کہ ہم آپ کو بہترین قصہ سنا رہے ہیں۔
بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ہٰذَا الْقُرْاٰنَق وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ
یعنی قرآن میں اس وحی سورت کے نزول سے پہلے آپ اس واقعہ سے واقف نہیں تھے۔
Read the full tafseer →2 قریش مکہ کا یہود کے کہنے پر آپ سے سوال بنی اسرائیل مصر کیسے پہنچ گئے ؟:۔ اس سورة کا شان نزول یہ ہے کہ کفار مکہ نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا سوال بتلاؤ جو ہم اس پیغمبر سے پوچھیں اور اس سوال کا وہ جواب نہ دے سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس نبی کا سب بھرم کھل جائے گا۔ وہ جواب تو نہ دے سکے گا یا پھر مہلت مانگے گا اور دریں اثنا وہ ادھر ادھر کی کچھ معلومات مہیا کرے گا جس کا علم ہوجانا بعید از قیاس نہیں۔ یہود یہ تو جانتے تھے کہ یہ نبی امی ہے لہذا انہوں نے سوچ سمجھ کر ایک تاریخی قسم کا سوال کفار مکہ کو بتایا جو یہ تھا کہ سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب (اسرائیل) سب کا مسکن تو شام و…
Read the full tafseer →3۔ یعنی اس قصہ کے صحیح تفصیلات آپ ﷺ کو نہ اپنے ذوق ووجدان سے معلوم تھے اور نہ کسی راوی یا مؤرخ کے ذریعہ سے۔ احسن القصص سورة تقریبا ایک مسلسل قصہ پر شامل ہے۔ اسے بہترین قصہ کیوں فرمایا گیا ہے ؟ قصہ سے بہترین اخلاقی سبقوں کا نکلنا تو ظاہر ہی ہے۔ باقی مختلف اہل تفسیر نے اس کی مختلف تو ج ہیں اپنے اپنے مذاق کے لحاظ سے کی ہیں۔ عجب نہیں جو بڑی وجہ یہ ہو کہ جو متعدد اور مختلف بصیرتیں مختلف قصوں سے مقصود تھیں وہ سب اس میں یکجا کردی گئی ہوں، اور یہ تو بہرحال واقعہ ہے کہ فطرت بشری کی کارفرمائیاں اور اس کے جتنے حقائق و اسرار اس ایک سورت میں اکٹھے مل جاتے ہیں ان کے لحاظ سے تو یہ سورت بس اپنی نظیر آپ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم عالا ہے، الٓمرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں کتاب مبین حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب کی ہیں (آیات الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اے اہل مکہ تم اس اس کے معانی کو (پہلے) سمجھو، ہم نے اس قرآن کی وحی آپ کی طرف کرکے آپ کو ایک بہت عمدہ قصہ سنانا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اس سے پہلے بالکل بیخبر تھے اور اِنْ مخففہ ہے ای واِنَّہ وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ابا یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →نحن نقص علیک احسن القصص ہم تم سے بہترین قصہ بیان کرتے ہیں۔ القصص یا مصدر ہے ‘ اس وقت مفعول مطلق ہوگا : بہترین بیان ‘ نادر ترین اسلوب کے ساتھ۔ یعنی ہم گزشتہ امم اور پارینہ اقوام کے قصے بہترین اسلوب کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یا القصص سے مراد ہے قصہ ‘ اس وقت مفعول بہ ہوگا ‘ یعنی قصہ حضرت یوسف بیان کرتے ہیں جو بہترین قصہ ہے۔ اس قصہ میں عجائبات قدرت ہیں ‘ عبرتیں اور حکمتیں ہیں ‘ وقائق اور فوائد ہیں جو دین و دنیا کے حالات کو درست کرنے والے ہیں۔ بادشاہوں اور رعایا کی سیرتیں اور علماء کے خصائل ہیں ‘ عورتوں کی مکاری کا اظہار ہے ‘ دشمنوں کی ایذاء پر صبر کرنے کا بیان ہے ‘ قابو پانے کے بعد بھی دشمنوں سے…
Read the full tafseer →(3) ہم نے قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین رسول اکرم ﷺ پر عربی میں نازل کیا ہے تاکہ جن چیزوں کا بذریعہ قرآن کریم ہم نے تمہیں حکم دیا ہے اور جن چیزوں سے تمہیں کو روکا ہے تم انکو سمجھو ہم آپ سے یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں سے اس قرآن کریم کے ذریعے جو بذریعہ جبریل امین ؑ ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں۔
اور آپ اس قرآن کریم کے نزول سے پہلے جو بذریعہ جبریل امین آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعہ سے بالکل لاعلم تھے۔
شان نزول : (آیت) ”نحن نقص علیک“۔ (الخ)
امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر…
Read the full tafseer →نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ : ”الْقَصَصِ“ ”قَصَّ یَقُصُّ“ کا مصدر ہے، قصہ کی جمع نہیں۔ (دیکھیے جواب اہل العلم، ص : 1 تا 20) قصہ کی جمع قصص قاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ فرمایا : (نَحْنُ نَقُصُّ) ”ہم بیان کرتے ہیں“ اللہ تعالیٰ جہاں اپنے لیے جمع کا صیغہ لاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام ایک الگ صفت کا تقاضا کرتا ہے، مثلاً بیان کرنا صفت کلام کا تقاضا کرتا ہے، زمین و آسمان بنانا صفت خلق کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی ہے ہی نہیں جس میں تمام صفات کمال موجود ہوں اور وہ اپنے آپ کو ”ہم“ کہنے کا صحیح حق رکھتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنی اس حیثیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 3
نحن نقص علیک مبتدا اور خبر ہے۔ احسن القصص یہ مصدر کے معنی میں ہے اور تقدیر عبارت یوں ہے : قصصنا أحسن القصص۔ قصص کی اصل کسی چیز ہے۔ قصص کی اصل کسی اصل کسی چیز کے پیچھے چلنا ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقالت لاختہٖ قصیہ (القصص :11) ہے یعنی اس کے نشان قدم کی اتباع کر۔ پس قصہ گو آثار کی اتباع کرتا ہے اور ان کے متعلق خبر دیتا ہے۔ اور
حسن قصص کی طرف لوٹتا ہے نہ کہ قصہ کی طرف۔ کہا جاتا ہے فلان حسن الاقتصاص للحدیث یعنی اس کا سیاق عمدہ ہوتا ہے۔
ایک قول یہ ہے : قصص مصدر نہیں بلکہ یہ اسم کے معنی میں ہے جس طرح کہا جاتا ہے : اللہ رجاءنا یعنی مرجونا۔ اس اعتبار سے معنی یہ ہوگا : ہم آپ کو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم پر کوئی قصہ بیان کریں یہ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” نحن نقص علیک احسن القصص “۔
2:۔ اسحاق بن زاہد والبزار وابویعلی وابن منذر وابن ابی حاتم وابن حبان وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر قرآن اتارا گیا آپ لوگوں پر ایک زمانہ اس کی تلاوت کرتے رہے۔ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہم پر کوئی قصہ بیان فرمائیے تو اللہ تعالیٰ فرمایا (آیت) ” الٓر تلک ایت الکتب المبین (1) ‘ ‘۔ یعنی وہ سورة نازل فرمائی پھر آپ نے ان سے ایک زمانہ کی تلاوت کی تو اللہ…
Read the full tafseer →[نَحْنُ : ہم ] [ نَقُصُّ : بیان کرتے ہیں ] [ عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [اَحْسَنَ الْقَصَصِ : بہترین بیان کرنا ] [بِمَآ : اس کے ساتھ جو ] [اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ھٰذَا الْقُرْاٰنَ : اس قرآن کو ] [وَان : اور بیشک ] [ كُنْتَ : آپ ﷺ تھے ] [ مِنْ قَبْلِهٖ : اس سے پہلے ] [ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : یقینا بیخبر رہنے والوں میں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 3) قَصَصٌ مصدر ہے اس لئے اَحْسَنَ الْقَصَصِ کو نَقُصُّ کا مفعول مطلق مانا جائے گا۔ اگر اَحْسَنَ الْقِصَصِ (قِصَّۃٌ کی جمع) ہوتا تو پھر اس کو مفعول بہ مانا جاسکتا تھا۔ اِنْ کُنْتَ کا اِنْ مخففہ ہے۔ (آیت۔ 4) یٰاَبَتِ دراصل یٰاَبِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور ان کے والد کی تعبیر اور ضروری تاکید
یہاں سے سورة یوسف شروع ہو رہی ہے اس سورت میں تفصیل کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قصہ بیان فرمایا اور اس کو احسن القصص بتایا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے آپ اس قصہ کو نہیں جانتے تھے۔ آپ کو اس کا علم صرف وحی کے ذریعہ ہوا ہے لوگوں کو آپ کا بتانا آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور قرآن مجید کے حق اور منزل من اللہ ہونے کی بھی ‘ تصدیق کرنے والے سنیں گے اور غور کریں گے تو یہ سمجھ لیں گے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا قرآن مجید کے اولین مخاطب اہل عرب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
حقانیت قرآن حکیم و تمہید قصہ
قال اللہ تعالیٰ الر، تلک ایت الکتب المبین ...... الیٰ ۔۔۔۔ لمن الغفلین۔
(ربط) اس سورت کا آغاز سورة یونس کے آغاز سے مشابہ ہے قرآن کریم کے ذکر سے اس قصہ کو شروع فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔
الر۔ یہ متشابہات میں سے ہے۔ سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو اس کی مراد معلوم نہیں۔ جمہور کے نزدیک راجح اور مختار قول یہی ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ متشابہات۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان راز ہیں۔ سوائے رسول کے کسی کا مرتبہ نہیں کہ وہ ان اسرار کو سمجھ سکے۔ مفصل کلام سورة بقرہ میں گزر چکا ہے یہ آیتیں ایسی کتاب کی ہیں جو واضح اور روشن ہے۔ حق اور باطل کے فرق کو خوب واضح کرتی ہے ہم نے…
Read the full tafseer →3:۔ علماء یہود نے مشرکین سے کہا کہ محمد سے پوچھو آل یعقوب شام سے مصر کیسے منتقل ہوئی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کیا قصہ ہے اس پر یہ سورت نازل ہوئی (بیضاوی) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی کہ آپ ہمیں کوئی عبرت آموز قصہ سنائیں اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف نازل فرمائی (خازن) ۔ ” اَحْسَنَ الْقَصَصِ “ اس قصے کو احسن القصص اس لیے کہا گیا کہ اس سے دو نہایت اہم مسئلے واضح ہوجاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی متصرف و مختار ہے اور ساری مخلوق اس کی قضاء وقدر کے سامنے عاجز اور بےبس ہے۔ و قد افادت انہ لا دافع لقضاء اللہ تعالیٰ و لا مانع من قدرہ وانہ سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة یوسف ہے۔ اس پوری سورة میں صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، لہٰذا اس کا نام آپ کے نام پر سورة یوسف رکھا گیا ہے۔ پورے قران پاک میں دو سورتیں ایسی ہیں جن میں مکمل طور پر صرف ایک ایک نبی کا واقعہ بیان ہوا ہے ایک سورة یوسف ہے اور دوسری سورة نوح۔
سورۃ یوسف مکی دور میں نازل ہوئی ، لہٰذا مکی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سو گیارہ آیات اور بارہ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1776 الفاظ اور 7996 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی حقائق توحید ، رسالت قیامت ، قرآن کریم کی حقانیت ، انبیاء کی تبلیغ ، قوموں کی نافرمانی اور پھر…
Read the full tafseer →نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ 0 ۤۖ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ 3
قصص
الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11]
( ق ص ص ) القص
کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ […
Read the full tafseer →تفسیر : شان نزول : مفسرین کہتے ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب یہ ہے کہ مکہ کے کفار سے یہود نے یہ کہلا بھیجا کہ محمد ﷺ جو عادو ثمود کے حالات بیان کرتا ہے سو یہ کچھ مشکل بات نہیں عرب کہ مشہور واقعات میں سے ہیں ہاں اس سے یہ پوچھو کہ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد مصر میں کیوں گئی تھی اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں میں کیا معاملہ گزرا اور یوسف (علیہ السلام) کیونکر مصر میں پہنچا ؟ یہ باتیں بجز مورخین اہل کتاب کے ان پڑھ آدمی خصوصاً مکہ کا رہنے والا کہ جہاں ان باتوں سے کان بھی آشنا نہیں ہرگز نہ بتلا سکے گا۔ چناچہ اہل مکہ نے حضرت ﷺ سے سوال کیا جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس کو یہود نے سن کر…
Read the full tafseer →نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ق وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لِمَنَ الْغٰفِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 3)
(ہم آپ کو ایک بہترین سرگزشت سناتے ہیں، اس قرآن کی بدولت جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ اس سے پہلے بیشک آپ اس سے ناآشنا تھے۔ )
اَحْسَنَ الْقَصَصِ کا مفہوم
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اَحْسَنَ الْقَصَصِ میں دو سورتوں کا احتمال ہے۔ ایک یہ کہ اَلْقَصَصِ ۔ قصّ سے مصدر ہے اس کا معنی ہے کسی چیز کا تتبع کرنا ہے، یعنی پیچھا کرنا۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک تابوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
اآرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان کا حقیقی معنیٰ اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ عرب دانشوروں کا طریقہ تھا کہ شاعر اور ادیب اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے ” طرح مصرعہ کے طور پر “ چند الفاظ کہتے جس کا مفہوم بیان کرنا ضروری خیال نہیں کرتے تھے۔ اسی روایت کے پیش نظر صحابہ ؓ نے اس کا معنیٰ جاننے اور اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے نبی معظم ﷺ سے استفسار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی نبی معظم ﷺ نے حروف مقطعات کا مفہوم بتلانے کی ضرورت محسوس فرمائی۔ کیونکہ اس کا دین کی تفہیم اور عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ ورنہ آپ اس کا مفہوم ضرور بیان فرماتے۔ ارشاد ہوتا…
Read the full tafseer →3: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَص (ہم تمہیں بہترین قصہ بیان کرتے ہیں) ہم آپ کو بہترین بیان سے وضاحت کرتے ہیں۔ القا ص ؔ۔ جو واقعہ کو صحیح طور پر بیان کرے یہ زجاج کا قول ہے ایک قول یہ ہے۔ القصص مصدر ہے اور اقتصاص کے معنی میں ہے۔ جیسے تم کہو قص الحدیث یقصہ قصصا اس نے بات کو بیان کیا۔ یہ فعل بمعنی مفعول ہے جیسا نفض اور الحسب بمعنی منقوص اور محسوب۔ اول صورت میں معنی نحن نقص علیک احسن اقتصاص ہم بیان کرتے ہیں تم پر بہترین بیان۔
بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ھٰذَا القُرْاٰنَ ( اس سبب سے کہ ہم نے قرآن کو بذریعہ وحی آپ کی طرف بھیجا) یعنی اس سبب سے کہ ہم نے تیری طرف وحی کی ہے یہ سورة ۔ اس طرح…
Read the full tafseer →3۔” نحن نقص علیک احسن القصص “ اور قاص وہ شخص جو آثار کی پیروی کرے اور ٹھیک خبر دے۔ معنی یہ ہے کہ ہم بیان کرتے ہیں آپ کے لیے گزشتہ امتوں اور گزشتہ زمانوں کی خبریں اچھے انداز بیان میں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف یوسف (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ اس کا نام احسن القصص اس وجہ سے رکھا ہے کہ اس میں عبرت ، حکمتیں اور ایسے نکتے اور فوائد ہیں جو دنیا اور آخرت کے لیے مفید ہیں جیسے بادشاہوں اور ملکوں اور علماء کے حالات اور عورتوں کے مکر اور دشمنوں کی تکلیف پر صبر اور ان پر قدرت پانے کے بعد ان سے اچھا در گزر کرنا اور اس کے علاوہ دیگر فوائد ہیں ۔ خالد بن معدان (رح) فرماتے ہیں کہ سورة یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ : ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں۔ یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ : اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن، یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء ومرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : اور یقیناً اس سے پہلے آپ بیخبروں میں سے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3 ۔ اہل عرب پر ایک خاص انعام و احسان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم لوگ سمجھو اے اہل عرب کہ اس کے اولین مخاطب تو بہرحال تم ہی ہو۔ اور یہ کلام حکمت التیام و صدق نظام ہے تو بیشک عالمی، زمان و مکان کی حدود وقیود سے اعلی وبالا، اور قیامت تک کے سب انسانوں اور تمام زمانوں کی راہنمائی کے لیے۔ لیکن اس کی تعلیم و تبلیغ کی خدمت وسعادت تو بہرکیف ایسے خوش نصیب انسانوں ہی کے ذریعے تکمیل پذیر ہوسکے گی جن کو اس کے حامل اور پاسدار و امین ہونے کے شرف سے مشرف فرمایا گیا ہوگا۔ اور ان میں سب سے پہلے اور سرفہرست وہی حضرات ہیں جن کی لغت و زبان میں اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
احسن القصص
تشریح : ان آیات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصے کو احسن القصص، یعنی سب سے بہترین قصہ کہا گیا ہے۔ الٓر یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ فرمایا کہ یہ آیات یعنی نشانیاں ایک ایسی نایاب کتاب میں بیان کی گئی ہیں جو انتہائی جامع، مکمل اور سچی کتاب ہے۔ کیونکہ یہ جزیرۃ العرب میں نازل ہوئی اس لیے انہی کی زبانی یعنی عربی زبان میں نازل کی گئی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اس کے مضامین، مفہوم اور احکامات کو اتنی اچھی طرح سمجھ سکیں کہ دوسرے غیر عربی لوگوں کو بغیر کسی شک و شبہ کے اصل مفہوم سمجھا سکیں اور کسی طرح کی غلطی کا امکان نہ رہے۔ اور پھر بڑی وضاحت سے اس قصہ میں اہل عرب کے مشرکین کے اس سوال کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6
اسرار و معارف
الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول ﷺ کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔
یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔
زبانوں میں تقدس
مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ جس میں عقل رکھنے والوں کے لئے عبرت کا بڑا سامان ہے۔ ” القصص “ یہ قص یقص کا مصدر ہے قصہ کی جمع نہیں ہے۔ (دیکھئے جواب اہل العلم ص 1 ۔ 029 بنا برایں مطلب یہ ہوا کہ یہ واقعہ ہم بہترین انداز میں بیان کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(11:3) بما۔ اس کے ذریعہ سے۔
ان کنت۔ میں ان مخففہ ان (ثقیلہ) سے ہے۔ اس کو ان نافیہ سے فرق کرنے کے لئے لام فارقہ لایا گیا ہے۔
الغافلین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بیخبر ۔ لاعلم۔ غافل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3
تلک (یہ۔ (اسم اشارہ) ۔ مبین (واضح۔ روشن) قران (بہت پڑھا جانے والا ) لعل (شاید۔ توقع) نقص (ہم بیان کرتے ہیں) احسن القصص (قصوں میں بہترین) اوحینا (ہم نے وحی بھیجی) ان کنت (اگرچہ تو تھا) الغفلین (غافل) ۔ بیخبر
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 3
سورة یوسف بارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اس میں عبرت و نصیحت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کے لاتعداد پہلوؤں کے ساتھ ان کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف ، ان کے والدین اور رشتہ دار فلسطین سے مصر کیسے پہنچے اہل عرب اس سے ناواقف تھے۔ خود نبی کریم ﷺ نے بھی کبھی اس واقعہ کو بیان نہیں فرمایا۔ کفار مکہ نبی کریم ﷺ پر اعتراض کے موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قصہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے خواب کا ذکر
سورۃ یوسف مکی ہے الر حروف مقطعات میں سے ہیں۔ جن کا ذکر اول سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی تعریف بیان فرمائی کہ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زبان عربی میں نازل فرمایا ہے۔ تاکہ تم لوگ عرب کے باشندے اس کو اچھی طرح سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس قصہ یوسف (علیہ السلام) کو احسن القصص فرمایا کیونکہ اس قصہ میں عبرت اور حکمت اور عجیب و غریب فائدے ہیں، جو دین و دنیا میں انسان کے کار آمد ہیں مثلا عورتوں کا مکرو فریب اور دشمن کی ایذا رسانی پر صبر اور خوش اسلوبی سے درگزر کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[2] یوسف (علیہ السلام) بن یعقوب (علیہ السلام) بن اسحاق (علیہ السلام) بن ابراہیم (علیہ السلام) ، پیغمبر زادے اور خود بھی پیغمبر تھے۔ یہ شرف نبوت خاندان میں تین پشتوں سے چلا آ رہا تھا۔
[3] تورات میں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی عمر سترہ برس کی تھی جب خواب کا معاملہ پیش آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
بہترین واقعہ :
(ف 1) سورة یوسف کا نزول اس وقت ہواجب حضور ﷺ مکہ چھوڑ رہے تھے ، اور مدینہ کی جانب ہجرت کا ارادہ تھا ، غرض یہ ہے کہ جس طرح برادران یوسف نے جمال ظاہری کو رشک وحسد کی آنکھوں سے دیکھا اور بھائی کو کنوئیں میں پھینک دیا ، اسی طرح یہ برادران قوم حضور ﷺ کے جمال روحانی کی تجلیات کو برداشت نہ کرسکے ، اور حضور ﷺ غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے پھر جس طرح یوسف (علیہ السلام) ارض مصر میں حکومت اعلی کے درجہ تک پہنچے اسی طرح حضور کو مدینہ کے لوگوں نے آنکھوں پر بٹھایا ، اس سورة کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ہجرت یوسف (علیہ السلام) کی سی ہجرت ہے انشاء اللہ آپ مدینے میں یوسف (علیہ السلام) کی طرف…
Read the full tafseer →3 اے پیغمبر ہم اس وحی کے ذریعہ جو قرآن کریم کی صورت میں ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ایک بہترین واقعہ تم سے بیان کرتے ہیں اور اس ہمارے بیان کرنے سے پہلے آپ اس واقعہ سے بالکل باخبر تھے یعنی یہ قرآن کریم جو ہم نے تمہاری جانب وحی کیا ہے اس وحی کے ذریعہ ہم تم کو ایک بہترین واقعہ بتاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے یہ سورت بھیجکر تم کو ایک واقعہ سناتے اور تم پر بیان کرتے ہیں۔
احسن القصص فرمایا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ چونکہ عجیب غریب واقعات اور بیشمار نصائح پر مشتمل تھا اور ایک بہت بڑا تاریخی واقعہ ہے اس لئے بہترین قصہ فرمایا اور چونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 3۔ کیونکہ آپ نے نہ کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی صاحب کتاب سے فائدہ حاصل کیا تھا اور عوام میں ایسی کامل صحت کے ساتھ یہ قصہ مشہور نہ تھا پس اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ قرآن وحی ہے۔
Read the full tafseer →ہم آپ کو بہتر سے بہتر سرگزشتیں سناتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے ناواقف تھے
۔ 3 اے پیغمبر اسلام ! آپ سے قریش نے جو قصہ پوچھا ہے ہم اس کو بہترین طریقہ سے بیان کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کی پوری قوم اس قصہ سے ناواقف تھی۔ ان لوگوں سے جن لوگوں نے اس قصہ کے متعلق دریافت کرایا ہے ان کی نیت تو درست نہیں انہوں نے تو شرارتاً استفسار کرایا ہے لیکن ہم اس کو اس طرح صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ جنہوں نے اس کے متعلق استفسار کیا اور وہ جنہوں نے استفسار کرایا سب اس سے عبرت حاصل کریں اگر وہ عبرت حاصل کرنا چاہیں لیکن جو عبرت حاصل نہ کرنا چاہیں وہ بھی اس قصہ کے متعلق کوئی اور بات نہ پوچھ…
Read the full tafseer →In the third verse, it was said: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـٰذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِین (We narrate to you the best narrative by revealing this Qur'an to you, and surely before this, you were among the unaware).
This is to chasten the Jews that they had tried to test the Messenger of Allah ﷺ which proved to be in vain, for its effect turned out to be just the reverse of what they had intended. It only went on to prove the excellence and authenticity of the Messenger of Allah ﷺ in a far more evident manner. From…
Read the full tafseer →3. This was to impress indirectly on the unbelievers of Makkah the fact that the Messenger (peace be upon him) did not know anything about the story of the settlement of the Israelites in Egypt, but was being informed of this by revelation from Allah. This introduction was necessary because, as has been stated in the preface to this Surah, the disbelievers had put an abrupt question concerning this matter in order to expose the Prophet (peace be upon him) by this test. The answer is to this effect: Tell them, O Muhammad (peace be upon him), that, though you did not know anything about the…
Read the full tafseer →