بہترین قصہ حضرت یوسف ؑ
حضرت یوسف ؑ کے والد حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ ہم السلام ہیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ " کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ ہیں۔ (بخاری) آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا کہ سب لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا ڈر سب سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا ہمارا مقصود ایسا عام جواب نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا پھر سب لوگوں میں زیادہ بزرگ حضرت یوسف ہیں جو خود نبی تھے، جن کے والد نبی تھے جن کے دادا نبی تھے، جن کے پردادا نبی اور خلیل تھے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ آپ نے فرمایا پھر کیا تم عرب کے قبیلوں کی نسبت یہ سوال کرتے ہو ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة یُوْسُف 4
اس سے مراد حضرت یوسف ؑ کے وہ دس بھائی ہیں جو دوسری ماؤں سے تھے۔ حضرت یعقوب ؑ کو معلوم تھا کہ یہ سوتیلے بھائی یوسف ؑ سے حسد رکھتے ہیں اور اخلاق کے لحاظ سے بھی ایسے صالح نہیں ہیں کہ اپنا مطلب نکالنے کے لیے کوئی ناروا کارروائی کرنے میں انہیں کوئی تأمل ہو، اس لیے انہوں نے اپنے صالح بیٹے کو متنبہ فرما دیا کہ ان سے ہوشیار رہنا۔ خواب کا صاف مطلب یہ تھا کہ سورج سے مراد حضرت یعقوب ؑ ، چاند سے مراد ان کی بیوی (حضرت یوسف ؑ کی سوتیلی والدہ) اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ یعنی یوسف ؑ نے اپنے والد سے کہا کہ اباجان میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے اور یہ دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں،
یہ حضرت یوسف ؑ کا خواب تھا جس کی تعبیر کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ گیارہ ستاروں سے مراد یوسف ؑ کے گیارہ بھائی اور سورج اور چاند سے مراد ماں باپ تھے
قرطبی میں ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی والدہ اگرچہ اس واقعہ سے پہلے وفات پاچکی تھیں مگر ان کی خالہ والد ماجد کے نکاح میں آگئی تھیں خالہ خود بھی ماں کے قائم…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ۔
حضرت یوسف کا خواب : اب یہ اصل سرگزشت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ حضرت یوسف نے ایک اپنے والد حضرت یعقوب سے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند میرے آگے سربسجود ہیں۔ حضرت یوسف کا اس خواب کو سب سے پہلے اپنے والد کے علم میں لانا ان کی غیر معمولی سلیم الطبعی، نیک نیت اور سعادت مندی کی دلیل ہے۔ اس طرح کا خواب اگر کوئی اوچھی طبیعت کا آدمی دیکھتا تو سب سے پہلے اپنی بڑائی کا ڈھول دوسروں میں پیٹتا لیکن حضرت یوسف بچپن ہی سے نہایت رزین، متین اور سنجیدہ…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی اے محمد ! ﷺ اپنی قوم کے سامنے یوسف ؑ کا قصہ بیان کرو، جب اس نے اپنے باپ کو کہا باپ حضرت یعقوب ؑ تھے، جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے اور حدیث میں بھی یہ نسب بیان کیا گیا ہے۔ (یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم)۔ اور حدیث میں نسب بیان کیا گیا ہے۔ الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (مسند احمد جلد 2، ص 96)
4۔ 2 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ گیارہ ستاروں سے مراد حضرت یوسف ؑ کے بھائی ہیں جو گیارہ تھے چاند سورج سے مراد ماں اور باپ ہیں اور خواب کی تعبیر چالیس یا اسی سال کے بعد اس وقت سامنے آئی جب یہ سارے بھائی اپنے والدین سمیت مصر گئے اور وہاں حضرت یوسف ؑ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: حضرت یعقوب ؑ کو معلوم تھا کہ یوسف ؑ نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ یوسف ؑ کو اتنا اونچا مقام ملنے والا ہے کہ ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ کسی وقت ان کے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے، دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ حضرت یعقوب ؑ کے کل بارہ بیٹے تھے، ان میں سے دوبیٹے یعنی حضرت یوسف ؑ اور بنیامین ایک والدہ سے تھے اور باقی صاحب زادے ان کی دوسری اہلیہ سے تھے، حضرت یعقوب ؑ کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کی وجہ سے حسد نہ ہو، اور شیطان کے بہکائے میں آکر یوسف ؑ کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔
Read the full tafseer →اس خواب کے وقت حضرت یوسف ابھی بچے تھے یا مراہق۔ لیکن یہ خواب جو انہوں نے اپنے باپ کے سامنے بیان کیا یہ بچوں یا نوجوانوں کا خواب نہ تھا ، بچے اور نوجوان بچوں جیسے خواب دیکھتے ہیں یا وہ ایسے خواب دیکھتے ہیں جن کے بارے میں وہ کوئی سوچ رکھتے ہوں ، مثلاً یہ کہ سورج اور چاند ان کے ہاتھ میں ہوں اور یہ کہ اس نے انہیں پکڑ لیا ہو۔ لیکن یوسف نے دیکھا کہ شمس و قمر ایک عاقل شخص کی ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ستارے بھی ان کے سامنے سر جھکائے ہیں۔ یہ سجدہ تعظیم تھا۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت سے اس بات کو یوں نقل کرتا ہے۔
اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا…
Read the full tafseer →2 یعنی گیارہ ستارے اور چاند سورج میرے آگے جھک رہے اور پست ہو رہے ہیں۔ یہ خواب لڑکپن میں دیکھا تھا۔ سچ ہے " ہونہار بروے کے چکنے چکنے پات۔ "
Read the full tafseer →آیت 4 اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ
حضرت یعقوب کی بڑی بیوی سے آپ کے دس بیٹے تھے اور وہ سب کے سب اس وقت تک جوانی کی عمر کو پہنچ چکے تھے ‘ جبکہ آپ کے دو بیٹے یوسف اور بن یا مین آپ کی چھوٹی بیوی سے تھے۔ ان میں حضرت یوسف بڑے تھے مگر ابھی یہ دونوں ہی کم سن تھے۔
Read the full tafseer →3 سیدنا یوسف سے ان کے باپ کی محبت کی وجوہ :۔ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی صرف بن یمین تھے جو آپ سے چھوٹے تھے۔ باقی دس بھائی سوتیلے تھے۔ اور ان سے بڑے تھے۔ سیدنا یوسف سے ان کے والد سیدنا یعقوب کو والہانہ محبت تھی۔ جس کی وجوہ کئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ والدین کو عموماً چھوٹی اولاد سے نسبتاً زیادہ پیار ہوتا ہے۔ دوسرے ان دو بھائیوں کی والدہ فوت ہوچکی تھیں۔ تیسرے سیدنا یوسف بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے اور چوتھے یہ کہ آپ سب بھائیوں کی نسبت نیک سیرت تھے۔ انہی وجوہ کی بنا پر آپ اپنے والد کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ جس سے بڑے بھائی ان سے حسد کرنے لگے تھے۔ کم سنی کی عمر میں ہی آپ کو ایک…
Read the full tafseer →4۔ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) پیغمبر زادہ اور خود بھی پیغمبر تھے شرف نبوت خاندان میں تین پشتوں سے چلا آرہا تھا زمانہ بقول اغلب 1910 ء تا 1800 ء ق، م مولد ومکسن ارض فلسطین میں وادی حبرون تھا جسے اب الخلیل بھی کہتے ہیں اور جو یروشلم سے 18 میل جنوب ومغرب میں واقع ہے۔ ولادت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے محبوب ترین محل حضرت راحیل (علیہما السلام) کے بطن سے ہوئی خود بھی حسین وخوبرو اور والد ماجد کی نگاہ میں سب اولاد سے زیادہ محبوب تھے۔ آخر آگے چل کر پیغمبر بھی ہونے والے تھے ؛۔ آثار رشد بچپن ہی سے کون کر نمایاں نہ ہوتے۔ توریت میں ہے :۔ ” اسرائیل یوسف کو اپنے سب لڑکوں سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم عالا ہے، الٓمرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں کتاب مبین حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب کی ہیں (آیات الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اے اہل مکہ تم اس اس کے معانی کو (پہلے) سمجھو، ہم نے اس قرآن کی وحی آپ کی طرف کرکے آپ کو ایک بہت عمدہ قصہ سنانا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اس سے پہلے بالکل بیخبر تھے اور اِنْ مخففہ ہے ای واِنَّہ وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ابا یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →اذ قال یوسف لابیہ جبکہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا تھا۔ اگر احسن القصص کو مفعول بہ قرار دیا جائے تو اِذْ قَالَ یُوْسُفُ اس سے بدل اشتمال ہوگا۔ یا یوں کہا جائے : اُذْکُرْ فعل محذوف ہے اور اِذْ قَالَ اس کا مفعول فیہ ہے (اس وقت کو یاد کرو جب حضرت یوسف نے کہا تھا) یوسف عبرانی لفظ ہے ‘ اسی لئے یہ لفظ غیر منصرف ہے۔ آپ کے باپ حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے (اور یہ سب بزرگ پیغمبر تھے) امام احمد اور بخاری نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کریم بن کریم بن کریم بن کریم ‘ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔
یابت اني رایت احد عشر کوکبًا والشمس والقمر ابا جان ! میں نے…
Read the full tafseer →(4) چناچہ حضرت یوسف ؑ جب دوپہر کو سوئے تو خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستاروں نے اپنے مقامات سے اتر کر ان کو سجدہ تحیت کیا ہے اور ان ستاروں سے مراد ان کے گیارہ بھائی ہیں اور ایسے چاند وسورج کو دیکھا کہ وہ اپنی جگہ سے آئے اور مجھ کو سجدہ تحیت کیا، چاند وسورج سے ان کے والدین حضرت یعقوب ؑ اور حضرت راحیل مراد ہیں۔
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ : یوسف ؑ کے باپ یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے اور یہ چاروں نبی تھے، اس لیے نبی ﷺ نے یوسف ؑ کے متعلق فرمایا : (اَلْکَرِیْمُ ابْنُ الْکَرِیْمِ ابْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ : (ویتم نعمتہ علیک۔۔) : 4688، عن ابن عمر ] ”کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔“
يٰٓاَبَتِ : یہ اصل میں ”یَا أَبِیْ“ تھا ”اے میرے باپ !“ یاء حذف کرکے اس کی جگہ تاء تانیث لائی گئی اور باء کا کسرہ اس کی طرف منتقل کردیا۔ یہ اظہار محبت کا ایک طریقہ ہے، جیسے اردو میں ”ابا“ کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 4
اذقال یوسف، اذظرف ہونے کی وجہ سے محل میں ہے۔ یعنی انہیں یاد کراؤ جب یوسف نے کہا۔ عام قراء کی قرأت سین کے ضمیر کے ساتھ ہے۔ طلحہ بن مصرف نے یوسف پڑھا ہے ہمزہ اور سین کے فتح کے ساتھ عجمہ ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ عربی ہے۔ ابوالحسن الاقطع کو کہ حکیم تھا اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا : لغت میں أسف حزن کو کہتے ہیں اور أسیف کا معنی بندہ ہے اور یہ چیزیں حضرت یوسف (علیہ السلام) میں جمع تھیں اس وجہ سے آپ کو یوسف کہا گیا۔ لابیہ یٰٓابت أبوعمرو، عاصم، نافع، حمزہ اور کسائی کی قراءت ” تا “ کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ یہ بصریوں کے نزریک تانیث کی علامت…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب :
1:۔ احمد والبخاری رحمہما اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن کریم ابن کریم ابن کریم (یعنی یوسف بن یعقوب بن اسحاق ابن ابراہیم علیہم الصلاۃ والسلام ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انی رایت احد عشر کوکبا “ کے بارے میں فرمایا کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں۔
3:۔ سعید بن نصر والبزار ابویعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والعقیلی وابن حبان نے الضعفاء میں وابوالشیخ اور حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی دونوں نے…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [ قَالَ : کہا ] [يُوْسُفُ : یوسف (علیہ السلام) نے ] [ لِاَبِيْهِ : اپنے والد سے ] [ يٰٓاَبَتِ : اے میرے محترم باپ ] [انى : بیشک میں نے ] [رَاَيْتُ : دیکھا ] [ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا : گیارہ ستاروں کو ] [ وَّالشَّمْسَ : اور سورج کو ] [ وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [ رَاَيْتُهُمْ : میں نے دیکھا ان کو ] [ لِيْ : اپنے لئے ] [سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور ان کے والد کی تعبیر اور ضروری تاکید
یہاں سے سورة یوسف شروع ہو رہی ہے اس سورت میں تفصیل کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قصہ بیان فرمایا اور اس کو احسن القصص بتایا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے آپ اس قصہ کو نہیں جانتے تھے۔ آپ کو اس کا علم صرف وحی کے ذریعہ ہوا ہے لوگوں کو آپ کا بتانا آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور قرآن مجید کے حق اور منزل من اللہ ہونے کی بھی ‘ تصدیق کرنے والے سنیں گے اور غور کریں گے تو یہ سمجھ لیں گے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا قرآن مجید کے اولین مخاطب اہل عرب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آغاز قصہ برؤیائے صالحہ و صادقہ
قال تعالیٰ اذ قال یوسف لابیہ یابت .... الیٰ .... ان ربک علیم حکیم۔
(ربط) اب یہاں سے احسن القصص کا بیان شروع ہوتا ہے جس کی ابتداء ایک رؤیائے صالح سے ہوئی چناچہ فرماتے ہیں یاد کرو اس وقت کو کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے میرے پیارے باپ میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے تحقیق میں نے خواب میں دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سور اور چاند کو وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں گیارہ ستاروں سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مراد ہیں اور سورج اور چاند سے ان کے باپ اور خالہ مراد ہیں اور سجدہ سے یہ مراد ہے کہ سب ایک دن ان کے آگے جھکیں گے بالجملہ یہ خواب یوسف…
Read the full tafseer →5:۔ یہاں سے قصے کی ابتداء ہوتی ہے اور یہ پندرہ احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” اِذْ “ ظرف ہے جس کے لیے متعلق کا ہونا ضروری ہے۔ تفسیر عباسی میں ہے کہ ” اِذْ “ بمعنی قَدْ ہے اس صورت میں اسے متعلق کی ضرورت ہی نہیں۔ اور بعض مفسرین اِذْ کا عامل متعلق اُذْکُرْ مقدر مانتے ہیں۔ اُذْکُرْ چونکہ فعل متعدی ہے اور مفعول کو چاہتا ہے اس لیے اَلْقِصّۃَ مفعول مقدر ہوگا ای اذکر القصۃ اذقال الخ۔ لیکن اس پر یہ اشکا ہے کہ جب یہ قصہحضور ﷺ کو معلوم ہی نہ تھا تو قصہ بیان کرنے کا حکم کس طرح دیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وحی کے ذریعہ آپ کو قصہ معلوم ہوگیا اس لیے بیان کرنے کا حکم دینا درست ہے۔ نیز رضی نے کہا ہے کہ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کا ” بہت کھول کر بیان کرنے والی کتاب “ کے طور پر تعارف کرایا۔ اپنے اولین مخاطبین کی سہولت کے لئے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا۔ پھر حضور خاتم النبین ﷺ کو خطاب فرمایا کہ ہم آپ پر اس قرآن پاک کو اچھے طریقے سے بیان کرتے ہیں یا یہ کہ ہم اچھی سرگزشت بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ قرآن ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور آپ اس سے پہلے بیخبر تھے یعنی آپ کو اس کا علم نہیں تھا۔
اس سورة مبارکہ میں کئی خاص باتیں بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب دان نہیں اور دوسری بات یہ کہ حقیقی کار ساز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سورة کی تیسری اہم…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْہِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُہُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ 4
أب
الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6]
( اب و ) الاب
۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے : واضح ہو کہ حاران سے کوچ کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک کنعان میں آرہے تھے ان کی بودوباش خیموں میں تھی حبرون کے پاس رہا کیے اسحاق (علیہ السلام) بھی یہیں رہے ان کے بیٹے عیص شعیر پہاڑ میں جا بسے اور یعقوب (علیہ السلام) اپنے باپ کی وصیت سے حاران کی طرف اپنے حقیقی ماموں نحور کے بیٹے لابن کے ہاں گئے ان کی دو بیٹیاں تھیں بڑی لیاہ جس کی آنکھیں چوندھی تھیں چھوٹی راحل یاراحیل جو بہت خوبصورت تھی یعقوب (علیہ السلام) اس پر عاشق ہوئے۔ سات برس لابن کی بکریاں اس لیے چراتے پھرے آخر نکاح ہوا تو صبح کو اپنے پاس لیاہ کو دیکھا ماموں سے شکایت کی اس نے ہفتہ بھر کے بعد راحیل سے بھی…
Read the full tafseer →اِذْقَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْہِ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَعَشَرَ کَوْکَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَیْتُھُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 4)
(یاد کرو جب یوسف (رح) نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان، میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور چاند اور سورج دیکھے ہیں، میں نے انھیں دیکھا ہے کہ وہ میرے آگے سربسجود ہیں۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اس اَحْسَنَ الْقَصَصِکی تمہید بیان کی جارہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ابھی بچپن گزر رہا تھا لیکن ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق بچپن ہی میں آپ ( علیہ السلام) کے عادات و خصائل نہایت پاکیزہ تھے۔ شکل و صورت میں تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ جس واقعہ سے ناآشنا تھے اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے۔
مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دو بیویوں سے گیارہ بیٹے تھے۔ جن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان سے چھوٹے بنیامین آپس میں حقیقی بھائی تھے۔ حضرت یوسف نہایت ہی خوبصورت، ذہین و فطین اور سمجھدار تھے۔ ان کی دانش مندی کا اس بات سے انداہ لگائیں کہ ابھی ان کی عمر مبارک آٹھ؍نوسال کی تھی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے گیارہ ستارے، چاند اور سورج سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب کسی کے سامنے بیان کرنے کی بجائے اپنے والد گرامی کے سامنے بیان کیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس خواب کی تعبیر میرے والد گرامی…
Read the full tafseer →قصہ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کا خواب :
4: اِذْقَالَ (جب کہا) یہ احسن القصص سے بدل الاشتمال ہے۔ کیونکہ وقت واقعات کو اپنے اندر شامل کرنے والا ہے۔ اس لئے کہ واقعات ان اوقات میں وقوع پذیر ہوئے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اذکر اذ قال۔ یُوْسُفُ (یوسف نے) یوسف یہ عبرانی لفظ ہے عربی نہیں۔ اگر عربی ہو تو منصرف ہوتا کیونکہ منع صرف اسباب میں صرف تعریف رہ جاتی۔ لِاَ بِیْہِ (اپنے والد کو) یعنی یعقوب (علیہ السلام) یٰٓـاَ بَتِ (اے میرے ابا)
قراءت : شامی نے ابت پڑھا۔ یہ تاء تانیث ہے جو کہ یاء اضافت کے عوض میں آئی ہے۔ کیونکہ دونوں میں مناسبت پائی جاتی ہے ان میں سے ہر ایک اسم کے آخر میں بڑھائی جاتی ہیں۔ اسی لئے تو…
Read the full tafseer →لفظ یوسف کی تحقیق
تفسیر 4۔” اذ قال یوسف لا بیہ “ یعنی اس وقت کو یاد کریں جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد کو کہا اور یوسف عبرانی نام ہے۔ اسی وجہ سے منصرف نہیں ہوتا اور بعض نے کہا ہے کہ عربی نام ہے۔ ابو الحسن اقطع (رح) سے لفظ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ الاسف لغت میں بمعنی غم ہے اور اسیف لغت میں غلام کے معنی میں ہے اور یوسف (علیہ السلام) میں یہ دونوں چیزیں جمع ہوگئیں۔ اس لیے ان کا نام یوسف رکھا گیا ۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیشک کریم بیٹا کریم کا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اس کتاب کریم میں اپنے رسول ﷺ پر بہترین قصہ بیان فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہ قصہ نہات بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور اس قصے کے متعلق تمام واقعات ذکر کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ نہایت کامل اور بہت خوبصورت ہے۔ جو کوئی اس قصہ کی ان اسرائیلیات کے ذریعے سے تکمیل اور اس کو مزین کرنا چاہتا ہے، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور ان کو روایت کرنے والے کا نام تک معلوم نہیں جن میں سے اکثر جھوٹ پر مبنی ہیں، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر استدراک کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزعم خود ناقص اور نامکمل چیز کی تکمیل کرتا ہے اور آپ کے لیے یہی کافر ہے اس لیے کہ بہت…
Read the full tafseer →سورة یوسف
غیر انبیاء کے خواب سچے ہوسکتے ہیں
قول باری ہے اذا قال یوسف لابیہ یا ابت انی رایت احد عشر کو کبا وشمس والقمر رایتھم لی ساجدین ۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا ابا جان ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ اس میں یہ بیان ہے کہ غیر انبیاء کے خواب بھی سچے ہوتے ہیں اس لیے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) پیغمبر نہیں بنے تھے ۔ بلکہ کم سن تھے ، کواکب کی تعبیر ان کے بھائیوں اور سورج اور چاند کی تعبیر ان کے والدین سے کی گئی تھی حسن سے یہی مروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
7 ۔ قصے کا آغاز حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب سے : سو یہ اسی احسنیت کا ایک نمونہ اور مظہر ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے کہ قصے کا آغاز ہی وہاں سے فرمایا جارہا ہے جہاں سے دروس و عبر مستفاد ہوتے ہیں۔ نہ کہ میلاد اور اس کے متعلقہ غیر ضروری حالات و واقعات سے۔ جیسا کہ دنیا کی عام کتابوں میں ہوتا ہے۔ سو اس میں بھی ہمارے دور کے ان میلادی بدعتیوں کے لیے بھی بڑا درس عبرت ہے جو میلاد سے متعلق جھوٹے سچے قصے بیان کرنا عشق کا تقاضا اور بڑا کمال سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل توجہ کی چیز پیدائش اور وفات کے دن منانا نہیں بلکہ ان مقدس ہستیوں کی وہ تعلیمات ہوتی ہیں جن کا تعلق انسان کے عمل اور اس کی اصلاح سے ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور باپ کی نصیحت
تشریح : یہاں خواب کا ذکر ہے سچا خواب دیکھنا یہ مقبول الٰہی ہونے کی نشانی ہے۔ جیسا کہ چھوٹی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کے آگے سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ وہ ضرور کوئی بہت بڑا انعام، برکت یا سعادت پانے والے ہیں۔ یوں بھی اللہ کے پسندیدہ انسان شروع سے ہی نیک مزاج، نرم دل اور پاکیزہ خیالات رکھتے ہیں۔ ان کے والد فوراً سمجھ گئے کہ یوسف کو نبوت ملے گی، خواب کی تعبیر کا مطلب ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے فہم و فراست، معاملہ فہمی، دور اندیشی اور حکمت ملے گی۔ کیونکہ آپ والد کے بڑے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6
اسرار و معارف
الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول ﷺ کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔
یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔
زبانوں میں تقدس
مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) جو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پوتے تھے۔ حدیث میں ہے الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم۔ یوسف ( علیہ السلام) بن یعقوب ( علیہ السلام) بن اسحاق ( علیہ السلام) بن ابراہیم ( علیہ السلام) ۔ (موضح) ۔
Read the full tafseer →(11:4) اذقال یوسف۔ احسن القصص سے بدل اشتمال ہے۔ یوسف۔ بوجہ معرفہ اور عجمہ کے غیر منصرف ہے۔ عبرانی لفظ ہے۔
یابت۔ یا حرف نداء ابت میں تائے تانیث ۔ یائے اضافت کے عوض لائے ہیں ۔ یا ابی سے یا ابت ہوگیا۔
رایتھم۔ میں نے ان کو دیکھا۔ رایت ماضی واحد متکلم۔ رایت۔ رویۃ سے بھی ہوسکتا ہے اور رؤیا سے بھی۔ لیکن اگلی ہی آیت میں لفظ رأیاک صریحا ظاہر کرتا ہے کہ یہ رؤیا سے ہے۔ جس کے معنی ہیں خواب میں دیکھنا ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ رایتھم میں نے ان کو خواب میں دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6
لابیہ (اپنے باپ کے لئے) انی رایت (بےشک میں نے دیکھا ہے) احد عشر (گیارہ) کوکب (ستارے) الشمس (سورج) القمر (چاند) سجدین (سجدہ کرنے والے) یبنی (اے میرے پیارے بیٹے) لاتقصص (بیان نہ کر، بیان مت کر ) رویاک (تیرا خواب، آپ کا خواب) اخوتک (تیرا بھائی، آپ کا بھائی) یکیدوا (وہ فریب کریں گے۔ چال چلیں گے عدو (دشمن) یجتبیک (تجھے منتخب کرے گا) یعلمک (تجھے سکھائے گا ) تاویل (انجام۔ تعبیر) الاحادیث (حدیثیں۔ باتیں۔ خواب) ( یتم (پورا کرے گا) علی ابویک (تیرے باپ دادا پر)
تشریح آیت نمبر 4 تا 6
سورة یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کے جس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے وہ درحقیقت ان کے صبر و…
Read the full tafseer →اللہ پاک نے سورة یوسف کو احسن القصص فرما کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنا شروع کیا۔ کہ یوسف (علیہ السلام) بارہ برس کی عمر میں جمعہ کی شب اور یہ رات شب قدر بھی اپنے باپ کی گود میں سوئے تھے کہ دفعۃ گھبرائے ہوئے نیند سے چونکے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے پوچھا کہ بیٹا تجھے کیا ہوا یوسف (علیہ السلام) نے کہا :” اے ابا ! میں نے کو اب دیکھا ہے کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں۔ ان سب نے مجھ کو سجدہ کیا “۔ اس خواب میں گیارہ ستارے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی تھے اور چاند وسورج یوسف (علیہ السلام) کی ماں یعنی خالہ اور باپ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[2] یوسف (علیہ السلام) بن یعقوب (علیہ السلام) بن اسحاق (علیہ السلام) بن ابراہیم (علیہ السلام) ، پیغمبر زادے اور خود بھی پیغمبر تھے۔ یہ شرف نبوت خاندان میں تین پشتوں سے چلا آ رہا تھا۔
[3] تورات میں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی عمر سترہ برس کی تھی جب خواب کا معاملہ پیش آیا۔
Read the full tafseer →خواب کی حقیقت :
(ف 1) بعض خواب قابل تعبیر ہوتے ہیں ، ان کا تعلق مستقبل کے حالات سے ہوتا ہے ، اور بعض اضغاث واھلام ، یعنی خوابہائے پریشان ، جن کی تعبیر بوجہ اختلاف احوال معقول وغیر معقول نہیں ہے ، خواب کیوں تعبیر طلب ہوتا ہے ؟ اور کیوں اس کا تعلق آئندہ حالات سے ہوتا ہے ؟ مادیت کی رو سے اس کا کوئی جواب نہیں ، البتہ مذہب نے اس حقیقت کو بیشتر سے معلوم کرلیا ہے کہ روح انسانی فیضان آلہی کا نتیجہ ہے اور روح کا تعلق عام ارواح سے ہے جب روح کو کامل تجرد اور علیحدگی کا موقع ملتا ہے ، وہ عالم ارواح کی جانب پرواز کرلی ہے تو اپنے ساتھ بیش بہا معارف ومعلومات لاتی ہے ۔
خواب کی پوری پوری حقیقت اب تک معلوم…
Read the full tafseer →4 وہ وقت قابل ذکر ہے جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سوج اور چاند کو دیکھا ہے کہ وہ میرے روبرو سجدہ کر رہے ہیں یعنی گیارہ ستارے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی ، چاند اور سورج سے ماں باپ مراد ہیں چاند سے مراد ماں اور سورج سے مراد باپ یا اس کے عکس کہ چاند سے مراد باپ اور سورج سے مراد ماں
غرض ! ان تیرہ کو میں نے اپنے آگے سجدہ کرتے دیکھا ہے اس خواب کی تعبیر چونکہ بہت صاف اور ظاہر تھی اور سجدے سے مراد ظاہر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان سب پر تفویق اور برتری حاصل ہوگی اور یہ سب ان کے سامنے پست ہوں گے اس بنا پر باپ نے خواب سنتے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 3۔ کیونکہ آپ نے نہ کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی صاحب کتاب سے فائدہ حاصل کیا تھا اور عوام میں ایسی کامل صحت کے ساتھ یہ قصہ مشہور نہ تھا پس اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ قرآن وحی ہے۔
Read the full tafseer →یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں
۔ 4 یعقوب (علیہ السلام) اپنی تمام اولاد میں سے حضرت یوسف اور بنیامین سے بیحد محبت رکھتے تھے جس کی اصلاح وجہ ان کی کم عمری اور آپ کے اخلاق کریمانہ تھے اور شکل و صورت کے بھی حسین و جمیل تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کی یہ مبحت برادران یوسف کے لئے بیحد شاق اور ناقابل برداشت تھی اور وہ ہر وقت اس فکر میں لگے رہتے تھے کہ یا تو یعقوب (علیہ السلام) کے دل سے یوسف کی اس محبت کو ناکل ڈالیں یا پھر کسی نہ کسی صورت یوسف ہی کو اپنے راستہ سے ہٹا دیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ان بھائیوں کے حاسدانہ تخیل پر مزید تازیانہ یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Moving on the verse 4, the text takes up the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which opens with the following words: إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ (It happened) [ when Yusuf said to his father, 'My father, I have seen eleven stars and the Sun and the Moon; I have seen them all prostrating to me.]
This was the dream seen by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) interpreting which Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ said: ` The eleven stars meant the eleven brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4. As the meanings of the dream were quite obvious, Prophet Jacob (peace be upon him) had a genuine fear that Joseph’s ten step brothers would become all the more envious of him when they would hear this. So he warned his righteous son not to mention his dream to his brothers, for he knew that those sons of his did not bear the moral character worthy of the sons of a Prophet, and, therefore they were up to any evil design against him out of mere envy. As regards to the dream, the sun in it was Prophet Jacob (peace be upon him), the moon his wife, Prophet Joseph’s step mother, and the eleven…
Read the full tafseer →