12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاحکام القرآن

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف لام را۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سجمھ سکو

Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں۔ اور تم اس سے پہلے بیخبر تھے۔

Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

سورة یوسف غیر انبیاء کے خواب سچے ہوسکتے ہیں قول باری ہے اذا قال یوسف لابیہ یا ابت انی رایت احد عشر کو کبا وشمس والقمر رایتھم لی ساجدین ۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا ابا جان ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ اس میں یہ بیان ہے کہ غیر انبیاء کے خواب بھی سچے ہوتے ہیں اس لیے کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) پیغمبر نہیں بنے تھے ۔ بلکہ کم سن تھے ، کواکب کی تعبیر ان کے بھائیوں اور سورج اور چاند کی تعبیر ان کے والدین سے کی گئی تھی حسن سے یہی مروی ہے۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

قول باری ہے الا تقصص رو یاک علی اخوتک فیکید والک کیدا ً ۔ اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ معلوم تھا کہ اگر یوسف اپنے بھائیوں سے اس خواب کا تذکرہ کریں گے تو وہ ان سے حسدکریں گے اور ان کے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ یہی بات ان لوگوں سے نعمت کو چھپانے اور ان پر ظاہر نہ کرنے کے جواز کی بنیاد ہے جن کے متعلق یہ خطرہ ہو کہ وہ حسد کریں گے اور درپے آزاد ہوجائیں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے نعمت کے اظہار کا حکم دیا ہے چناچہ ارشاد ہوا واما بنعمۃ ربک فحدث اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کیا۔
Ayahs 12:6–7

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

ہاں یوسف اور انکے بھائیوں کے (قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

تاویل الاحادیث کیا ہے قول باری ہے ویعلمک من تاویل الاحادیث اور تجھے باتوں کو تہہ کو پہنچنا سکھائے گا۔ تاویل سے مراد وہ مفہوم ہے جس کی طرف ایک معنی پلٹتا اور اس کی طرف راجع ہوتا ہو ۔ ایک چیز کی تاویل اس کے مرجع کو کہتے ہیں ۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ تاویل احادیث سے مراد خوابوں کی تعبیر ہے۔ ایک قول کے مطابق تاویل احادیث اللہ کی آیات ، اس کی توحید کے دلائل اور ان کے سوا دین کے دوسرے امور میں ہوتی ہے۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔

قول باری ہے اذا قالوا لیوسف واخوہ احب الی ابینا منا ونحن عصبۃ ان ابانا لفی ضلال مبنی ۔ یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا یہ یوسف اور اس کا بھائی دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں ۔ انہوں نے آپس میں یہ گفتگو کی اور اپنے اس حسد کا اظہار کیا جو وہ والد سے حضرت یوسف کے قریب اور وابستگی کی بنا پر اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے ، یہ مرتبہ اور یہ وابستگی انہیں حاصل نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنے والد کے اس طرز عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان ابا نا لفی ضلال مبین ان کا اشارہ اس امر کی طرف تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا یہ طرز عمل درست رائے پر مبنی نہ تھا اس لیے کہ حضرت یوسف ان سے چھوٹے تھے اور بھائیوں کا خیال یہ تھا کہ بڑے بھائی کا درجہ چھوٹے بھائی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اس لیے باپ کا قر ب انہیں حاصل ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ بیٹوں کا ایک پورا جتھا صرایک بیٹھے کی بہ نسبت شفقت و محبت کا زیادہ مستحق ہے ۔ قول باری ونحن عصبۃ کا یہی مفہوم ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی تھی کہ دنیاوی امور میں وہ حضرت یعقوب کے لیے حضرت یوسف سے بڑھ کر نفع مند تھے اس لیے کہ وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مال مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اس بنا پر ان کی رائے یہ تھی کہ باپ نے انہیں نظر انداز کرکے ایک بیٹے کو اپنی شفقت و محبت کا مرکز بنا لیا ہے نیز ان سب پر اسے مقدم رکھا ہے ، باپ کا یہ طرز عمل راہ صواب سے ہٹا ہوا ہے۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالوں یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائیگی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔

قول باری ہے اقتلوا یوسف او طرحوہ ارضا ً یخل لکم وجہ ابیکم چلو یوسف کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تا کہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے تا آخر آیت ۔ برادران یوسف نے آپ میں یہ فیصلہ کرلیا کہ یا تو یوسف کو قتل کر دیاجائے یا باپ سے انہیں دور کردیا جائے ۔ جس چیز کی بنیاد پر انہوں نے اس فعل کو جائز قرار دے کر اس کے ارتکاب کی جرأت کرلی تھی اسے قرآن کے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ وتکونوا من بعدۃ قوما ً صلحین یہ کام کرلینے کے بعد پھر نیک بن رہنا ۔ اس فعل کے ارتکاب کے بعد انہوں نے توبہ کرلینے کی توقع رکھی تھی ، اس کی مثال یہ قول باری ہے بل یرید الانسان لیفجر ا مامہ۔ اصل یہ ہے کہ انسان تو یہی چاہتا ہے کہ آئندہ بھی فسق و فجور ہی کرتا ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ انسان اس توقع پر گناہ کا عزم کرلیتا ہے کہ وہ اس کا ارتکاب کے بعد توبہ کرلے گا ۔ وہ اپنے دل میں کہتا ہے ۔ میں یہ گناہ کرلینے کے بعد توبہ کرلوں گا ۔ آیت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ قاتل کی توبہ قبول ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ برادران یوسف نے یہ کہا تھا کہ یوسف کو قتل کرنے کے بعد ہم نیک بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کردی لیکن اس پر تنقید نہیں کی، نہ ہی تردید کی۔
Ayahs 12:10–14

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہتے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ گیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو) ۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ ابا جان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اسکے خیر خواہ ہیں ؟

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اسکے نگہبان ہیں۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جداہو جائے) اور مجھے یہ بھی خوف ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں اسے بھیڑ یا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑ گے۔

قول باری ہے قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیایۃ الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ان کنتم فاعلین ۔ اس پر ان میں سے ایک بولا ۔ یوسف کو قتل نہ کرو ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا ۔ جب بھائیوں نے آپس میں حضرت یوسف کو قتل کردینے یا باپ کی نظروں سے دور لے جانے میں سے ایک پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا تو اس موقع پر ان میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ اس مقصد کے لیے درج بالا دونوں باتوں کی بجائے ایک تیسری راہ اختیار کی جائے جس میں شر اور بدی کا عنصر نسبتاً کم ہے۔ وہ یہ کہ یوسف کو کسی کم پانی والے کنویں میں پھینک دیا جائے تاکہ مسافروں کا کوئی قابلہ وہاں سے گزرے اور انہیں کنوئیں سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائے۔ جب انہوں نے قطعی طور پر اس تیسری تدبیر پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے نرمی اور چاپلوسی کی راہ اختیار کرلی چناچہ اپنے والد سے کہنے لگے ( یا ابانا مالک لا تامنا علی یوسف وانا لہ لنا صحون ارسلہ معنا غدا ً یرقع ویلعب وانا لہ لحافظون ۔ ابا جان ! کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں ، کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ۔ کچھ چرچگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دلا بہلائے گا ۔ ہم اس کی حفاظت موجود ہیں۔ یرقع کے معنی یرعی کے ہیں یعنی چرچگ لینا ۔ ایک قول کے مطابق رقع علاقوں میں فراخی کے ساتھ رہنے کو کہتے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ یرقع فی المال یعنی وہ اپنے مال کے ذریعے فراخی کے ساتھ علاقوں میں رہتا ہے۔ بعض کھیل مباح ہیں بعض گناہ اس کھیل کو کہتے ہیں جس میں تفریح مقصود ہوتی ہے اور اس کے ذریعے راحت حاصل کی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں کسی اچھے انجام کو مد نظر نہیں رکھ جاتا اور نہ ہی اس فعل کو کرنے والے کے سامنے تفریح اور تماشا کے حصول کے سوا اور کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اس بنا پر لعب کی بعض صورتیں مباح اور جائز ہوتی ہیں یعنی ان کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں ہوتا مثلاً ایک شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ ، اسی طرح طرب و تفریح کے لیے گھوڑا سواری وغیرہ لعب کی بعض صورتیں ممنوع اور حرام ہوتی ہیں ۔ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس لعب کا برادران یوسف نے ذکر کیا تھا وہ مباح اور جائز تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس پر انہیں ٹوکتے اور اس سے انہیں روکتے۔ جب بھائیوں نے حضرت یوسف کو اپنے ہمراہ لے جانے کی درخواست کی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا انی لیحرننی ان تذھبوا بہ واخاف ان یاکلہ الذئب وانتم عنہ غافلون۔ تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہیں اسے کوئی بھیڑ یا نہ پھاڑ کھائے جبکہ تم اس سے غافل ہو ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے اپنے اس غم کا ذکر کردیا جو یوسف کے چلے جانے سے انہیں لا حق ہوتا ۔ اس لیے کہ یوسف ان کی نظروں سے دورہو جاتے اور وہ انہیں دیکھنے سے قاصر رہ جاتے اس کے ساتھ انہیں یہ بھی خوف تھا کہ کہیں کوئی بھیڑیا ، ان کو مار لہ ڈالے ، اس طرح حضرت یوسف کے چلے جانے کی صورت میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر دو باتیں آ پڑتیں ۔ ایک تو جدائی کا غم اور دوسرا یوسف کی جان جانے کا خوف بھائیوں نے اس کے جواب میں باپ سے کہا کہ جہاں تک بھیڑے کے پھاڑ کھانے کا تعلق ہے تو یہ قطعی طور پر ناممکن ہے اس لیے کہ ہم ایک جتھا ہیں اور ہمارے ہوتے ہوئے اگر ایسا ہوگیا تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اسکو گہرے کنوئیں میں ڈال دیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور انکو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔

قول باری ہے واوحینا الیہ لتنبھنھم بامرھم ھذا وھم لا یشعرون ہم نے یوسف کو وحی کی ، کہ ایک وقت آئے گا جب تو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتنانے گا ۔ یہ اپے فعل کے نتائج سے بیخبر ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس وقت حضرت یوسف انہیں ان کی یہ حرکت جتائیں گے اس وقت انہیں احساس نہیں ہوگا کہ جتانے والے یوسف ہی ہیں ۔ حسن سے بھی یہی قول منقول ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں وحی بھیج کر نبوت عطا کردی تھی اور انہیں بتادیا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کو ان کی یہ حرکت جتائیں گے۔
Ayahs 12:16–17

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو دوڑ نے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔

ہر روتا ہوا شخص مظلوم ہی نہیں ، ظالم بھی ہوسکتا ہے قول باری ہے وجائوا اباھم عشا ئً یبکون ۔ شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے ۔ روایت کے مطابق ایک دفعہ شعبی دارالقضاء میں مقدمات کی سماعت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص روتا ہوا آیا اور دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے اس پر ظلم کیا ہے۔ شعبی کے پاس موجود ایک شخص نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ شخص واقعی مظلوم ہو ۔ یہ سن کر شعبی نے کہا کہ برادران یوسف بھی خیانت کرنے اور ظلم ڈھانے کے بعد شام کے وقت اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تھے اور جھوٹ بیان دیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیاکھا گیا ہے۔ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سانحہ پر رونے کا اظہار اپنے آپ کو خیانت کے الزام سے بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے کیا تھا نیز رو دھو کر انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ احساس دلایا تھا کہ وہ بھی ان کے غم میں شریک ہیں ، نیز حضرت یعقوب (علیہ السلام) جس خوکا اظہار کیا تھا کہ کہیں یوسف کو بھیڑیا نہ کھاجائے اس کے متعلق بھائیوں نے اپنے جھوٹے آنسوئوں کی ذریعے باپ کو تسلی دینے کی کوشش کی تھی چناچہ باپ سے انہوں نے کہا انا ذھبنا نستبق وترکنا یوسف عند متاعنافاکلہ الذنب وما انت بمومن لنا ہمدوڑ کر مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے۔ یعنی ہم تیر اندازی کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے۔ ایک قول کے مطابق ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے۔ قول باری ہے وما انت بمومن لنا یعنی آپ ہمیں سچا نہیں تسلیم کریں گے، اپنی بات پکی کرنے کے لیے یہ لوگ خون لگا ہوا قمیص بھی لے آئے اور کہا کہ اس پر یوسف کا خون لگا ہوا ہے۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا حقیقت الحال یوں نہیں تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو اچھا صبر اور وہی خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔

عدالت کا یعقوب (علیہ السلام) کی طرح زیرک اور معاملہ فہم ہونا چاہیے قول باری بدم کذب جھوٹ کا خون یعنی جھوٹ خون ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد اور قول ہے کہ اگر بھیڑے نے حضرت یوسف کو پھاڑ کھایا ہوتا تو قمیص ضررور تار تار ہوجاتی لیکن قمیص کا درست حالت میں ہونا اور اس پر کسی پھٹن وغیرہ کا نہ ہونا ان کے جھوٹ کی واضح علامت تھی ۔ شعبی کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کے ساتھ تین نشانیاں وابستہ ہوگئیں ۔ اس پر جو خون تھا وہ جھوٹ موٹ کا تھا اس میں پھٹن وغیرہ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ تیسری نشانی یہ تھی کہ جب یہ قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈالی گئی تو آپ کی بنیائی لوٹ آئی ۔ حسن کا قول ہے کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے قمیص کو درست حالت میں دیکھا تو فرمانے لگے کہ بیٹو ! میں نے آج تک ایسا حلیم الطبع بھیڑیا نہیں دیکھا۔ قول باری ہے قال بل سولت لکم انفسکم امرا ً ۔ یہ سن کر ان کے باپ نے کہا ۔ بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنادیا۔ یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہالسلام کو اپنے بیٹوں کی خیانت اور ظلم کا قطعی طور پر علم ہوگیا تھا نیز یہ کہ یوسف کو بھیڑے نے نہیں کھایا تھا جس کی دلیل یہ تھی کہ انکا قمیص درست حالت میں تھا ۔ اس میں پھٹن وغیرہ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس جیسی صورت حال میں ظاہری نشان اور علامت کو دیکھ کر تصدیق یا تکذیب کا حکم لگاناجائز ہے اس لیے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو قطعی طور پر یقین ہوگیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیے نے نہیں کھایا ہے۔ اسلیی کہ بیٹوں کی کذب بیانی کی علامت واضح طور پر ظاہر ہوچکی تھی۔ صبر جمیل کسے کہا جاتا ہے ؟ قول باری ہے فصبر جمیل اچھا صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا ایک قول ہے کہ صبر جمیل اس صبر کو کہتے ہیں جس میں کسی قسم کا شکوہ شکایت نہ ہو ۔ آیت میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ مصیبت صبر جمیل کا تقاضا کرتی ہے ، نیز غم و اوندوہ میں مبتلا کرنے والے امور پیش آنے کی صورت میں اللہ سے مدد کی درخواست کرنی چاہیے۔ اللہ تعلایٰ نے ہمارے سامنے اپنے نبی یعقوب (علیہ السلام) کی کیفیت بیان فرما دی کہ جب پیارا بیٹا نظروں سے غائب ہوگیا اور اس کی جدائی کا غم سر پر آپڑا تو آپ نے اس آزمائش میں صبر جمیل اختیا ر کیا ، اللہ کی طرف توجہ کی اور اس سے ہی مدد کے خواستگار ہوئے ، اس کی نظریہ قول باری ہے الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للہ وانا الیہ راجعون اولیک علیھم صلوات من ربھم ورحمۃ اولیک ھم المھتدون اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جا ان ہے ، ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی ۔ اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ تمام باتیں بیان کردی ہیں تا کہ ہم مصائب کی گھڑی میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیروی کریں۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اب خدا کی شان دیکھو) کہ اس (کنوئیں) کے قریب ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقا بھیجا اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اسکو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپالیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔

قول باری ہے قال یا بشری ھذ ا غلام واسروہ بضاعۃ ً وہ پکار اٹھا ۔ مبارک ہو۔ یہاں تو ایک لڑکا ہے۔ ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپالیا ۔ قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ جب سقے نے کنوئیں میں ڈول ڈالا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) ڈول کے ساتھ لٹک گئے ۔ سقے نے انہیں دیکھ کر پکارکر کہا کہ مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ ڈول ڈالنے والے نے اپنے ساتھیوں کو یہ خوش خبری سنائی کہ اسے ایک غلام ہاتھ آیا ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ جس شخص کو سقے نے پکار کر خوشخبری سنائی تھی اس کا نام بشری تھا۔ قول باری واسروہ بضاعۃ کی تفسیر میں مجاہد اور سدی کا قول ہے کہ ڈول ڈالنے والے اور اس کے ساتھیوں نے قافلے کے باقی ماندہ تاجروں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو چھپاکر رکھ لیا تا کہ وہ ان کی قیمت فروخت میں کمی کے ذریعے شرکت کے دعویدار نہ بن جائیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ برادران یوسف نے انہیں چھپالیا تھا اور یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ یہ ان کا بھائی ہے۔ حضرت یوسف نے بھی بھائیوں کی اس بات پر اس ڈر سے خاموشی اختیار کرلی تھی کہ کہیں وہ انہیں قتل نہ کردیں۔ بضاعت مال کے ایک حصے کو کہتے ہیں جو بغرض تجارت رکھاجائے۔ قول باری اوا سروہ بضاعۃ کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے دل میں حضرت یوسف کو بغر ض تجارت پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ شعبہ نے یونس سے ، انہوں نے عبید سے ، انہوں نے حسن سے ، اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے اس شخص کے بارے میں جو کہیں سے کسی کے ہاتھ آگیا تھا یعنی لقیط ، فیصلہ دیا تھا کہ یہ آزا د ہے۔ اس موقعہ پر آپ نے یہ تلاوت فرمائی تھی ۔ واشروہ بثمن بخس دراھم معدودۃ وکانوا فیہ من الزھدین ۔ آخر کار انہوں نے اسکو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے۔ جو بچہ کہیں سے پڑا مل جائے وہ کس کی ولاء ہے ؟ زہری نے ابو جمیلہ سنین سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں مجھے ایک بچہ ملا جسے کسی نے پھینک دیا تھا، میں اسے لے کر حضرت عمر ؓ کے پاس آیا تو آپ نے ضرب المثل کے طور پر یہ فقرہ کہا عسی الغویر ابو سا یعنی ہوسکتا ہے کہ بچے کی اس صورت حال میں تمہارا ہاتھ ہو ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ ابو جمیلہ پر ایسا الزام نہیں لگایا جاسکتا ۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا۔ یہ بچہ آزاد ہے، اس کی ولاء تمہیں یعنی ابو جمیلہ کو حاصل ہوگی اور اس کی راعت ہمارے ذمے ہوگی ۔ حضرت عمر ؓ کے قول عسی الغویر ابوسا کی تشریح یہ ہے، غور غار کی تصغیر ہے۔ یہ ایک مثل ہے جس کے معنی ہیں ۔ شاید یہ مصیبت غار کی جانب سے آئی ہو۔ حضرت عمر ؓ نے دراصل اس شخص پر الزام لگایا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ شاید اس ہاتھ آنے والے بچے کے معاملہ میں بایں معنی تمہارا دخل ہو کہ یہ تمہارے نطفے سے ہو لیکن جب لوگوں نے اس شخص کی بےگناہی کی گواہی دی تو آپ نے اسے اس بچے کو رکھ لینے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کی اولاد تمہارے لیے ہوگی ۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ولاء سے یہاں پرورش اور سرپرستی مراد لی ہو اور اس کی سرپرستی کا حق اس شخص کے لیے ثابت کردیا ہو جس طرح اس بچے کے غلام ہونے کی صورت میں اسے آزاد کردینے پر اس شخص کے لیے اس کی ولاء کا ثبوت ہوجاتا اس لیے کہ اس شخص نے اس بچے کو اپنے ساتھ لا کر اسے زندہ رکھ کر اور اس کے ساتھ حسن سلوک کر کے بڑی نیکی کی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے اسے بتایا تھا کہ وہ بچہ آزاد ہے۔ اب یا تو حضرت عمر ؓ نے یہ بات یہ خبر دینے کے طور پر کہی تھی کہ یہ بچہ اصل کے اعتبار سے آزاد ہے اور اس پر کوئی غلامی نہیں ہے یا یہ کہ آپ نے اپنی طرف سے اس پر آزادی واقع کردی تھی ، لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ اس بچے پر حضرت عمر ؓ کی ملکیت نہیں تھی۔ اور نہ ہی وہ بچہ حضرت عمر ؓ کا غلام تھا۔ جس کی بنا پر آپ اسے آزاد کردیتے ۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ حضرت عمر ؓ نے یہ خبر دی تھی کہ یہ بچہ اصل کے اعتبار سے آزاد ہے اس پر غلامی کا اجراء نہیں ہوسکتا۔ اور جب وہ اصل کے اعتبار سے آزاد تھا تو اس کی ولاء کسی انسان کے لیے ثابت نہیں ہوسکتی ۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت عمر ؓ کی اپنے قول لک ولاء ہ سے یہ مراد تھی کہ پرورش اور نگہداشت کے سلسلے میں اسے تمہاری سرپرستی حاصل ہوگی ۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اولاد زنا کے متعلق انہوں نے فرمایا تھا۔ انہیں آزاد کردو اور ان کے ساتھ احسان کرو۔ اس قول کے معنی یہ ہیں کہ ان پر آزاد ہونے کا حکم لگائو۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کوئی اپنے والد کو اس کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا ۔ الایہ کہ وہ اپنے والد کو کسی کا غلام پائے اور اسے خریدکر آزاد کردے۔ اس میں حضور ﷺ نے یہ بتادیا کہ بیٹے کی ملکیت میں آتے ہی باپ کو آزادی مل جاتی ہے بیٹے کو اسے نئے سرے سے آزاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ مغیرہ نے ابراہیم تخعی سے لقیط بچہ جو کہیں سے کسی کو مل جائے کے بارے میں جو کسی شخص کے ہاتھ آ جائے روایت کی ہے کہ اگر اس شخص نے اپنا غلام بنانے کا ارادہ کرلیا ہو تو وہ اس کا غلام بن جائے گا اور اگر اس نے اللہ سے ثواب حاصل کرنے کی نیت کی ہو تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ ایک بےمعنی سی بات ہے اس لیے کہ اگر وہ اصل کے اعتبار سے آزاد ہوگا تو اسے اٹھانے والے شخص کی نیت کی بنا پر وہ غلام نہیں بنے گا اور اگر وہ غلام ہوگا تو اٹھانے والے کی نیت ثواب کی بنا پر آزاد نہیں ہوگا۔ نیز انسانوں میں اصل اور بنیادی چیز آزادی ہے اور یہ بات واضح ہے آپ نہیں دیکھتے کہ ہمیں جو شخص دارالسلام میں کاروبار اور تصرفات کرتے ہوئے نظر آئے گا ہم اس کے متعلق یہی کہیں گے کہ یہ آزاد ہے اور اسے غلام قرار نہیں دیں گے۔ البتہ اگر کوئی ثبوت مہیا ہوجائے جس سے اس کا غلام ہونا ثابت ہوجائے یا وہ خود اپنے غلام ہونے کا اقرارکر لے تو یہ اور بات ہوگی ، نیز لقیط یا تو کسی آزاد عورت کا بیٹا ہوگا یا لونڈی کا اگر پہلی صورت ہوگی تو وہ آزاد ہوگا اور اسے غلام بنا لینا درست نہیں ہوگا اگر دوسری صورت ہوگی تو وہ اٹھانے والے انسان کے سوا کسی اور کا غلام ہوگا اس صورت میں ہمیں اسے اس شخص کی ملکیت میں دے دیناجائز نہیں ہوگا ۔ ان تمام صورتوں میں یہ بات جائز نہیں ہوگی کہ لقیط اس شخص کا غلام قرار دیا جائے جس نے اسے اٹھایا ہو نیز غلامی کی حالت اس پر طاری ہوتی ہے جبکہ اصل کے اعتبار سے اس میں آزادی ہوتی ہے۔ اس کی مثال اس طرح ہے جیسے کسی چیز کے متعلق ہمیں معلوم ہو کہ یہ فلاں شخص کی ملکیت ہے لیکن ایک اور شخص اس چیز کی ملکیت کا دعویٰ کرلے تو ہم اس کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کریں گے اس لیے کہ وہ ایسی چیز کا دعویٰ کر رہا ہے جو اس پر طاری ہوئی ہے۔ لقیط کو اٹھانے والے شخص کے حق میں اس کی غلامی کے ثبوت کی بھی یہی کیفیت ہوگی اور اس طرح غلامی ثابت نہیں ہوگی ۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھیے، لقطہ یعنی گرے پڑے مال یا جنس کو اٹھا لینے کی صورت میں اٹھانے والے کے لیے اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی حالانکہ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ یہ چیز کسی کی ملکیت ہے اور اصل کے اعتبار سے یہ مملوکہ شے ہے اس لیے لقیط کی صورت میں جسکی غلامی کے متعلق کسی کو کوئی علم نہیں ہے یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ اسے اٹھانے والے کی ملکیت قرار نہ دی جائے اور یہ چیز اس کی غلامی کی موجب نہ بنے۔ حماد بن سلمہ نے عطا خراسانی سے اور انہوں نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کرلیا ، عورت کے ہاں چار ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوگیا ۔ حضور ﷺ کو جب اسکی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ عورت کو اس کا مہر ملے گا اس لیے کہ مرد نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کرلی تھی اور بچہ مرد کا مملوک ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ ایک شاذ روایت ہے اس پر کسی کا عمل نہیں ہے اس لیے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ جو بات ہے وہ یہ ہے کہ وہ بچہ ولد زنا تھا ۔ اگر وہ کسی آزاد عورت کا بچہ ہوتا تو آزاد قرار دیا جاتا ۔ فقہاء کے مابین اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ولد زنا اور لقیط دونوں آزاد ہوتے ہیں۔
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور اسکو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدو دے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انھیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ بھی نہ تھا۔

دراہم کی تشریح قول باری ہے وشروہ بثمن بخس دراھم معدودۃ آخر کار انہوں نے اسکو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا۔ فراء کا قول ہے کہ ثمن ان درہم و دینار کو کہتے ہیں جو خرید و فروخت اور لین دین کی صورت میں بدل کے طور پر کسی کے ذمے لازم ہوجاتے ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر کلام اسی مفہوم پر دلالت کرتا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ثمن کو درہم کے نام سے موسم کیا اور فرمایا وشروہ بمثن فراء کا قول لغت کے دائرے میں قابل قبو ل ہے۔ جب اس نے یہ بتایا کہ ثمن اس چیز کا نام ہے جو انسان کے ذمہ خرید و فروخت میں بدل کے طور پر لازم ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے درہم کو مثن کا نام دیا تو یہ بات اس امر کی مقتضی ہوگئی کہ جب خرید و فروخت اور لین دین میں درہم کو بدل قرار دیا جائے تو خریدار کے ذمہ ان کا ثبوت بھی ہوجائے خواہ اس نے ان کا تعین کیا ہو یا تعین نہ کیا ہو بلکہ مطلق رہنے دیا ہو ۔ اس لیے کہ اگر اس کی تعیین کی بنا پر یہ متعین ہوجاتے تو یہ ثمن بننے کے دائرے سے خارج ہوجاتے اس لیے کہ اعیان حقیقت میں ثمن نہیں بن سکتے ہاں انسان انہیں بدل کے طور پر استعمال کر کے انہیں معنوں میں انہیں ثمن کا نام دیتا ہے۔ دراصل اس میں ثمن کے ساتھ تشبیہ کا پہلو ہوتا ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اب ضروری ہوگیا کہ درہم و دینارکا تعین نہہو اس لیے کہ اگر ان کا تعین کردی جائے تو اس صورت میں ان سے وہ صفت سلب ہوجائے گی جس کے ساتھ اللہ نے انہیں موصوف کیا یعنی انہیں ثمن قرار دیا ہے۔ عدم تعیین کی وجہ یہ ہے کہ اعیان ، ثمن نہیں بن سکتے۔ قول باری دراہم معدود ۃ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ بیس درہم تھے ، مجاہد سے بائیں درہم منقول ہے۔ ایک قول کے مطابق درہم کی قلت کی بنا پر لفظ معدودۃ استعمال کیا گیا ۔ ایک قول ہے کہ انہوں نے ان درہم کو وزن نہیں کیا تھا بلکہ ان کی گنتی کی تھی اس بنا پر درج بالا لفظ استعمال ہوا ۔ ایک قول کے مطابق درہم جب تک ایک اوقیہ کے برابر نہ ہوجائے اس وقت تک اور انہیں وزن نہ کرتے اور ایک اوقیہ میں چالیس درہم آتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہم السلام) کے بھائی اس موقعہ پر موجود تھے انہوں نے قافلہ والوں سے کہا کہ یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے، چناچہ قافلہ والوں نے ان سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خرید لیا ۔ قتادہ کا قول ہے کہ قافلہ والوں نے حضرت یوسف کو فروخت کیا تھا۔ قوبل باری وکانو فیہ من الزاھدین کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی ان کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہیں تھے۔ ان کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ کسی طرح یوسف ان کے والد کی نظروں سے غائب کردیئے جائیں۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو ' عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

عزیز مصر کی فراست قول باری ہے وقال الذی اشتراہ من مصر لا مراتہ اکرمی مثواہ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا ۔ مصر میں جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔ حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ فراست کے لحاظ سے تین بہترین انسان گزرے ہیں ۔ اول عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے یعنی یوسف کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا اسے ہم بیٹا بنالیں۔ دوم حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جب کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں انہوں نے اپنے والد محترم کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں غلام رکھ لیا جائے۔ سوم حضرت ابوبکر ؓ جبکہ انہوں نے حضرت عمر ؓ کو خلافت کے لیے نامزد کیا تھا۔
Ayahs 12:22–23

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں۔

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے انکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یو سف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے وہ (یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

جوانی کی اصل عمر قول باری ہے ولما بلغ اشدہ اتیناہ حکما ً و علما ً اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا ۔ ایک قول کے مطابق اٹھارہ برس سے لے کر ساٹھ برس کی عمر تک جسمانی قوت و طاقت کو اشد کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ بیس برس کے انسان کو اشد کہا جاتا ہے ۔ مجاہد کے قول کے مطابق تینتیس سالہ جوان کو اشد کہا جاتا ہے۔
Ayahs 12:24–25

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے انکا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اور اگر وہ پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔ تو عورت بو لی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اسکی اسکے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ؟

قول باری ہے ولقد ھمت بہ وھم بھا وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھا ۔ حسن سے مروی ہے کہ وہ یعنی عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف عزیمت یعنی پکے ارادے کے ساتھ بڑھی تھی اور حضرت یوسف اس کی طرف شہوت یعنی کشش کے تحت بڑھے تھے انہوں نے عزم نہیں کیا تھا۔ ایک قول کے مطابق طرفین ایک دوسرے کی طرف کشش کے تحت بڑھے تھے اس لیے کہ محاورے کے مطابق ہم بالشی کا مفہوم اس چیز کی قربت اختیار کرنا ہوتا ہے اس سے جا کر مل جانا نہیں ہوتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی طرف بڑھنا عزم اور پکے ارادے کے تحت نہیں تھا بلکہ صرف کشش کی بنا پر تھا اس کی دلیل یہ قول باری ہے۔ معاذ اللہ انہ ربی احسن مثوی ۔ خدا کی پناہ ! میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی اور میں یہ کام کروں ! ! نیز یہ قول باری کذلک لنصرف عنہ السوء والفحشاء انہ من عبادنا المخلصین ایسا ہوا تا کہ ہم اس سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیں ۔ در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔ آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دامن ارتکاب معصیت کے پختہ عزم سے پاک تھا۔ ایک قول کے مطابق آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ مفہوم یہ ہے اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا تو اسکی طرف بڑھتا لیکن اس تاویل میں یہ قباحت ہے کہ حرف لولا کے جواب کا اس پر مقدم ہوجانا جائز نہیں ہوتا اس لیے کہ نحوییین اس فقرے کو درست قرار نہیں دیتے۔ قد اتیتک لولازید اس میں لولا کا جواب اس پر مقدم ہے تا ہم یہ ہوسکتا ہے کہ حرف لو لا کی تقدیم مقدرما ن لی جائے۔ برھان ربہ سے مراد قول باری ہے لولا ان را برھان ربہ اگر وہ اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا حضرت ابن عباس ؓ ، حسن بصری ، سعید بن جبیر اور مجاہد کے قول کے مطابق حضرت یوسف کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا چہرہ نظر آیا، آپ نے دانتوں میں انگلیاں دبا رکھی تھیں ۔ قتادہ کے قول کے مطابق حضرت یوسف کے کانوں میں یہ آواز آئی ۔ یوسف تمہارا نام انبیاء کی فہرست میں درج ہے اور تم چلے ہو سفہاء و الاکام کرنے ! حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فرشتے کی صورت نظر آ گئی تھی ۔ محمد بن کعب کے قول کے مطابق برہان سے مراد وہ تعلیم ہے جو زنا کی سزا کے متعلق انہیں ملی تھی۔
Ayahs 12:26–35

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنیوالے نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹاہو تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا ہے۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

جب اس کا کرتہ دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے (اور) کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کا خیال نہ کر اور (زلیخا) تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ بیشک خطا تیری ہی ہے۔

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لئے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور انکے لئے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لئے) ہر ایک کو ایک ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو انکا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بیساختہ بول اٹھیں کہ سبحان اللہ (یہ حسن) یہ آدمی نہیں بزرگ فرشتہ ہے۔

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

تب (زلیخا نے) کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بیشک میں نے اسکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کریگا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

(یوسف نے) دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے انکے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں انکی طرف مائل ہوجاؤ نگا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا۔

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو خدا نے انکی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کردیا۔ بیشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر باوجود اسکے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے انکی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصے کے لئے ان کو قید ہی کردیں۔

شاہد کون تھا ؟ قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد سے اس کا تذکرہ کیا۔ جسے سن کر اس نے اپنی رائے دی کہ اگر قمیص سامنے سے پھٹی ہے تو لازما ً یوسف کی طرف سے دست درازی کی کوشش ہوئی ہوگی اور تمہاری بیوی نے اپنا بچائو کیا ہوگا اور اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف بچ کر بھاگا ہوگا اور تمہاری بیوی نے پیچھے سے قمیص پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی ہوگی۔ لقط کا حکم بعض لوگوں نے اس آیت سے لقطہ کے مسئلے میں استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص لقطہ کی ملکیت کا دعویٰ کرے اور لقطہ کی نشانیاں بتادے تو اس پر فیصلہ کردیا جائے گا ۔ اگر کوئی شخص لقط یعنی گری پڑی چیز جو کسی کے ہاتھ آ جائے ، کی نشانیاں بیان کر کے اس کی ملکیت کا دعویٰ کرے تو اس صورت میں فیصلہ اس کے حق میں کردیاجائے گا یا نہیں ۔ اس بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ ، امام ابو یوسف ، امام محمد زفر اور امام شافعی کا قول ہے کہ صرف نشانیاں بتا کر ایک شخص لقطہ کی ملکیت کا حق دار نہیں بنے گا ۔ اس کے لیے اسے بینہ یعنی ثبوت بھی پیش کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ نیز مدعی کی طرف سے نشانیاں بیان کردینے کی بنا پر لقطہ اٹھانے والے شخص کو لقطہ اس کے حوالے کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا تا ہم اگر وہ لقطہ اسکے حوالے کردے تو اس کے لیے اس کی بھی گنجائش ہے اگرچہ اسے عدالت کی طرف سے مجبور نہ بھی کیا گیا ہو۔ ابن القاسم نے امام مالک کے قول پر قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشانیاں بیان کردینے کی بنا پر وہ لقطہ کا حق دار ہوجائے گا اور اٹھانے والے کو لقطہ اس کے حوالے کرنے پر مجبور کردیا جائے گا ۔ اگر اس کے بعد کوئی اور مدعی پیدا ہوجائے اور ثبوت دے کر لقطہ کا مستحق قرار پائے تو اس صورت میں لقطہ اٹھانے والا کسی تاوان کا ذمہ دار نہ ہوگا ۔ امام مالک کا قول ہے کہ چوروں کی چرائی ہوئی چیزوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر ان سے مال برآمد ہوجائے اور کچھ لوگ آ کر اس مال کی ملکیت کا دعویٰ کریں لیکن ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ ہو تو ایسی صورت میں حاکم فوری فیصلہ نہیں کرے گا ۔ بلکہ سوچ بچار میں کچھ عرصے لگائے گا ۔ اگر اس دوران دوسرے لوگ اس مال کے دعویدار بن کر پیش نہ ہوں تو یہ مال پہلے دعویداروں کے حوالے کر دے گا ، بھاگے ہوئے غلام کے بارے میں بھی یہی حکم ہے ۔ حسن بن حی کا قول ہے کہ نشانیاں بیان کردینے کی بنا پر لقطہ مدعی کے حوالے کردیا جائے گا ۔ لقیط یعنی کہیں سے ہاتھ آئے بچے کے متعلق ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر دو شخص اس کے دعوے دار ہوں اور ایک نے اس کے جسم پر موجود کی نشان کا پتہ دیا ہو تو وہ دوسرے کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق دار قرار پائے گا ۔ گھرکے سامان کے متعلق اگر میاں بیوی میں اختلاف پیدا ہوجائے تو اس صورت میں امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے گھر میں مردانہ استعمال کی جو چیزیں ہوں گی وہ مرد کو مل جائیں گی اور زنا نہ استعمال کی چیزیں عورت کو دے دی جائیں گی ۔ لیکن جو چیزیں مشترک استعمال کی ہوں گی وہ مرد کو مل جائیں گی ۔ اس مسئلہ میں ہمارے اصحاب نے گھریلو سامان کی ظاہری ہیئت کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ اگر مکان کرایہ پر دینے والے اور کرایہ پر لینے والے کے درمیان گھر میں رکھے ہوئے دروازے کے ایک پٹ کی ملکیت کے بارے میں اختلاف پیدا ہوجائے تو ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر دروازے کا یہ پٹ عمارت میں لگے ہوئے دروازے کے پٹ کے مطابق ہے تو اس صورت میں گھرکے مالک کا قول قابل اعتبار ہوگا اور اگر اس کے مطابق نہ ہو تو پھر کرایہ پر لینے والے کا قول معتبر ہوگا ۔ اسی طرح اگر چھت کی کوئی کڑی کسی مکان کے احاطے پر پڑی ہو اور اس پر ایسے نقوش اور تصاویر ہوں جو اس مکان میں لگی ہوئی کڑیوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں نیز یہ کڑی ان کڑیوں کی طرح ہو تو اختلاف کی صورت میں گھرکے مالک کا قول قابل اعتبار ہوگا۔ بصورت دیگر کرایہ پر لینے والے کا قول معتبر ہوگا۔ ان مسائل میں ہمارے اصحاب نے بعض صورتوں میں نشانات کی بنا پر فیصلہ دیا ہے اور بعض میں نشانات کا اعتبار نہیں کیا ۔ ہمارے اصحاب کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر وہ شخص ایک مشک کی ملکیت کے ساتھ جھگڑ پڑیں اور دونوں نے اسے پکڑرکھا ہو لیکن ایک سقہ ہو اور دوسرا عطر فروش تو یہ مشک دونوں کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کردی جائے گی اور اس بارے میں سقہ کو عطر فروش پر ترجیح نہیں دی جائے گی۔ لقطہ کے متعلق ہماریاصحاب کے قول کی توجیہ یہ ہے کہ لقطہ کو اٹھا لانے والے کا اس پر درست قبضہ ہوتا ہے اب دوسرا شخص جو اس لقطہ کا دعویدار ہے وہ اس کے قبضہ کو زائل کرنا چاہتا ہے ، جبکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ ۔ ثبوت مہیا کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعا علیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جس شخص کے قبضہ میں لقطہ ہے اس کا اس لقطہ و اٹھا لینے والا ہونا مدعی کو مدعی بننے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا اس لیے کسی ثبوت کے بغیر اس کے دعویٰ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ لقطہ پر اس کا کوئی قبضہ نہیں ہے۔ رہ گئے نشانات تو وہ ثبوت نہیں بن سکتے۔ اس لیے کہ اگر ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں موجود کسی مال پر ملکیت کا دعویٰ کیا اور اس مال کی نشانیاں بھی بتادلے جب کہ وہ شخص جس کے ہاتھ میں مال ہے اس نے وہ مال کہیں سے پڑا ہوا اٹھایا نہ ہو یعنی وہ مال لقطہ نہ ہو تو اس صورت میں صرف نشانیوں کا بیان کردینا کوئی ایسا ثبوت قرار نہیں پائے گا جس کی بنا پر مدعی اس مال کا حق دار قراردیا جاسکتا ہے۔ اس لقیط کے متعلق جس کے دو دعویدار ہوں اور ہر ایک کا یہ دعویٰ ہو کہ لقیط اس کا بیٹا ہے لیکن ایک نے اس کے جسم پر موجود کسی نشان پتہ دیا ہو، ہمارے اصحاب کا یہ قول کہ نشان بتانے والا اس کا دوسرے کے مقابلے میں بڑھ کر حق دار ہوگا ، استحسان پر مبنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لقیط کا دعویدار اپنے دعویٰ کی بنیاد پر اس کا حق دار ہوجاتا ہے ۔ اسے کسی علامت یا نشان بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور محض دعویٰ کا بنیاد پر اس کا نسب بھی اس سے ثابت ہوجاتا ہے نیز جس شخص کے قبضہ میں وہ ہوتا ہے اس کا قبضہ بھی ختم ہوجاتا ہے، اب جب لقیط کے بارے میں دو شخصوں کے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اس کی حیثیت یہ ہوجائے گی کہ گویا یہ دونوں کے قبضے میں ہے۔ اس لیے کہ اگر ان میں سے ایک لقیط کے جسم پر موجود علامت کو بیان نہ کردیتا ، تو اس صورت میں دونوں اس بات کے حق دار بن چکے تھے کہ عدالت دونوں سے لقیط کے جسم پر موجود علامت کو بیان نہ کردیتا، تو اس صور ت میں دونوں اس بات کے حق دار بن چکے تھے کہ عدالت دونوں سے لقیط کے نسب کے ثبوت کا فیصلہ د ے دے۔ اب جب لقیط سے ا س شخص کا قبضہ ختم ہوگیا جس کے ہاتھ میں وہ تھا تو اب اس کی یہ حاملت اس حالت جیسی ہوگئی جب وہ عدالتی فیصلے کی رو سے دونوں کے قبضے میں ہوتا یعنی لقیط سارے کا سارا اس شخص کے قبضے میں ہوتا اور سارے کا سارا اس دوسرے شخص کے قبضے میں بھی ہوتا ۔ ایسی صورت میں لقیط کے جسم پر موجود علامت کا اعتبار جائز ہے اور اسی کا نام استحسان ہے ۔ اس کی نظیر وہ صورت ہے جس میں میاں بیوی کے درمیان گھر کے ساز و سامان کی ملکیت کے بارے میں جھگڑا پیدا ہوجائے ۔ جب گھریلو سامان پر دونوں کا قبضہ موجود ہے تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ کس سامان پر کس کا تصرف دوسرے سے بڑھ کر اور قبضہ زیادہ مضبوط ہے، اسی طرح مکان کرایہ پر لینے والے انسان کا گھر میں موجود سامان پر قبضہ ہوتا ہے اور کرایہ پر دینے والے کا بھی پورے گھر پر قبضہ ہوتا ہے جب گھر کے تمام سامان پر قبضہ کے لحاظ سے دونوں کا درجہ یکساں ہوگیا تو اس صورت میں ملکیت کے لحاظ سے وہ شخص اولی ہوگا ۔ جس کے دعویٰ کی صحت کے موافقت میں نشانات گواہی دیں گے۔ اور یہ چیز اسکے قبضہ کے حق میں فیصلہ کے لیے ترجیح کا باعث بن جائے گی ، یہ بات نہیں کہ نشانات کی بنا پر وہ اس بات کا مستحق بن جائے گا کہ اس کی ملکیت کے حق میں فیصلہ دے دیا جائے ۔ جس طرح وہ ثبوت مہیا کرنے کی صورت میں اس فیصلہ کا مستحق بن سکتا تھا۔ یہ وہ صورتیں ہیں جن میں ہمارے اصحاب نے نشانات کا اعتبار کیا ہے۔ انہوں نے نشانات کا اس وقت اعتبار کیا ہے جب دونوں مدعیوں میں سے ہر ایک کا پوری متنازعہ فیر چیز پر قبضہ ہو اس صورت میں نشانات گویا قبضہ کے حق میں حجت اور دلیل کا کام کریں گے ، یہ بات نہیں ہے کہ نشانات کی بنا پر ملکیت کا استحقاق ہوجاتا ہے۔ اگر دو مدعیوں کے قبضے میں کوئی متاع یعنی سامان ہو اور ان میں سے ایک اس چیز کو اپنے استعمال میں لاتا ہو اور وہ چیز اس شخص کے فن اور صنعت کے نادر بطور آلہ استعمال ہوتی ہو تو اس سے یہ بات واضح ہے کہ ان دونوں مدعیوں میں سے ہر ایک کے قبضہ میں اس چیز کا نصف حصہ ہوگا نیز یہ کہ جو حصہ ایک کے قبضے میں ہے اسکا کوئی جز دوسرے کے قبضے میں نہیں ہوگا ۔ اب اگر ہم ان دونوں میں سے ایک کی ظاہری کاریگری اور صنعت یا کسی نشان کی بنا پر جو اس کے ساتھ ہو اس کے حق میں فیصلہ دے دیں تو گویا ہم دوسرے کے مقابلے میں اس شخص کو اس چیز پر قبضہ رکھنے کا اس طرح حق دار دیں گے کہ قبضہ صرف اس کا ہی تھا دوسرے کا کوئی قبضہ نہیں تھا حالانکہ اس پر قبضہ دونوں کا تھا۔ اس چیز پر قبضہ کے لحاظ سے ان دونوں کی حیثیت اس موچی جیسی ہے جس نے جراب بنانے کے کسی فرمے پر دعویٰ کردیا ہو جو کسی صراف کے قبضے میں ہو۔ اس صورت میں وہ موچی اسے فرقے سے صراف کے قبضے کو اس بنا پر ائل نہیں کرسکے گا کہ فرما اس کے فن جفت سازی میں بطورآلہ کام آتا ہے۔ لقطہ کا زیر بحث مسئلہ بھی بعینہٖ اسی طرح ہے اس لیے کہ مدعی کا اس لقطہ پر کوئی قبضہ نہیں ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ نشان بنا کر ملتقط لقط اٹھانے والے کے قبضہ پر اپنا استحقاق ثابت کردے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ مدعی صرف دعویٰ کی بنا پر لقطہ کا حق دار نہیں بن سکتا اگر اس کے پاس نشان موجود نہ ہو۔ ٹھیک اسی طرح علامت اور نشان کی بنا پر وہ دوسرے کے قبضہ پر اپنا استحقاق ثابت نہیں کرسکتا۔ حضرت زید بن خالد ؓ کی روایت میں یہ ذکر ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا ۔ آپ نے فرمایا : اس لقطہ کے منہ پر لگی ہوئی ڈاٹ ، اس کی تھیلی اور تھیلی کے سر بند کو اچھی طرح پہچان لو اور پھر ایک سال تک اس کی تشہیر کرو۔ اگر اس دوران اس کا مالک آ جائے تو اس کے حوالے کر دو ورنہ اس مدت کے بعد اپنی مرضی چلائو ۔ اس روایت میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ لقطہ کا مدعی اس کی علامت بتا کہ اس کا حق دار بن جاتا ہے اس لیے کہ اس میں احتمال ہے کہ حضور ﷺ نے اس کا ڈاٹ ، تھیلی اور تھیلی کے سر بند کو پہچان لینے کا صر اس لیے حکم دیا ہے تا کہ وہ اس کے اپنے مال کے ساتھ مل نہ جائے اور اسے یہ معلوم رہے کہ یہ لقطہ ہے۔ بعض دفعہ ان ہی چیزوں کے ذریعے وہ مدعی کی سچائی پر استدلال کرکے لقطہ اس کے حوالے کرسکتا ہے۔ اگرچہ اس کے لیے ایسا کرنا عدالتی فیصلے کے طور پر لازم نہیں ہوتا ۔ بعض دفعہ لقطہ کے نشان اور اس کی ظاہری حالت کا ذکر سننے والے کے دل پر اثر کرتا ہے جسے کے نتیجے میں اس کا غالب گمان یہ ہوجاتا ہے کہ مدعی سچا ہے لیکن عدالتی فیصلے کے اندر اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ لقطے کا عدالت میں حکم حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے برادران یوسف کی کذب بیانی پر اس امر سے استدلال کیا تھا کہ اگر یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہوتا تو ان کی قمیض بھی ضرور پھٹ چکی ہوتی ۔ قاضی شریح اور قاضی ایاس سے بھی اسی قسم کے استدلا ل کے کئی واقعات منقول ہیں ۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دو عورتیں ملی کے ایک بچے کی ملکیت کا جھگڑا لے کر قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوئیں ۔ ایک نے کہا یہ میری بھی کا بچہ ہے جبکہ دوسری نے کہا ۔ نہیں ، یہ میری بلی کا بچہ ہے۔ قاضی شریح نے حکم دیا کہ بچے کو اس پہلی عورت کی بلی کے پاس چھوڑ دو ، اگر اس نے اس کا دودھ پی لیا اور اس کی گود میں جا ٹھہرا اور دراز ہوگیا تو یہ اس کا بچہ ہے۔ اگر گھبراکر بھاگ کھڑا ہوا اور دور ہوگیا تو یہ اس کا بچہ نہیں ہے۔ حماد بن سلمہ نے روایت کی ہے کہ مجھے ایک بتانے والے نے ایا س بن معاویہ کا یہ واقعہ سنایا کہ دو عورتیں کا تے ہوئے سوت کے ایک گولے کا تنازعہ لے کر انکے سامنے پیش ہوئیں ۔ ایاس نے ایک عورت سے تنہائی میں پوچھا کہ تو نے سوت کا یہ گولہ کس چیز کے عوض کاتا ہے۔ اس نے جواب دیا : ” ایک اخروٹ کے عوض پھر ایاس نے دوسری عورت سے تنہائی میں یہی سوال کیا تو اس نے جواب دیا “ روٹی کے ایک ٹکڑے کے عوض پھر ایاس کے کارندوں نے اس کا تے ہوئے سوت کو کھول کر اس عورت کے حوالے کردیا جس نے درست جواب دیا تھا۔ قاضی شریح اور قاضی ایاس کا یہ طریق کا ر صرف غالب گمان کی بنیاد پر استدلال کے طور پر تھا۔ فیصلے کو نافذ کرنے اور فریق مخالف پر اس فیصلے کو لازم کرنے کے طور پر نہیں ہوتا تھا۔ اس استدلال کے بعد فریقین میں سے جو غلط کار ہوتا ہے وہ اپنی غلطی کا اقرار کرلیتا ۔ جب اس قسم کا استدلال ظاہرہوجاتا تو اس سے بعض دفعہ مدعی اپنے دعوے پر اڑے رہنے سے شرما جاتا اور پھر درست بات کا اقرار کرلیتا اور اس کے اقرار پر فیصلہ کر دیاجاتا۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔ ایک نے دن میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا کیا ہوں کہ شراب (کے لئے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں (تو) ہمیں انکی تعبیر بتا دیجئے کہ ہم تمہیں نیکو کار دیکھتے ہیں۔

قول باری ہے قال احدھما انی ارانی اعصرخموا ً ۔ ایک روز ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں ایک قول کے مطابق فقرے میں کچھ الفاظ پوشیدہ ہیں یعنی عصیر العنیب الخمر شراب تیار کرنے کے لیے انگور کا رس اس کے لیے مائع شراب میں کشید کا عمل نہیں ہوسکتا ۔ ایک قول کے مطابق میں ایسی چیز کشید کررہا ہوں جو آخر کار شراب میں تبدیل ہوجائے گی ۔ اس چیز یعنی رس کو خمر کے نام سے موسوم کردیا ۔ اگرچہ فی الحال وہ شراب نہیں تھی ۔ یہ اطلاق مجاز کے طور پر کیا گیا ہے انگور سے شراب کی کشید اس طرح بھی درست ہے کہ انگور کو مٹکے میں ڈال کر رکھ دیاجائے یہاں تک کہ اس میں ابا ل آ جائے اور جوش مارنے لگے اس طرح انگور کے دانوں میں موجود رس شراب میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس تشریح کی بنا پر شراب کے لیے شید کے الفاظ کو حقیقت پر محمول کیا جائے گا ۔ ضحاک کا قول ہے کہ عربی زبان کی ایک بولی میں انگور کو شراب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ قول باری ہے نبئنابتاویلہ انا نراک من المحسنین ہمیں اس کی تعبیر بتایئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مریضوں کا علاج معالجہ کرتے ، غمزدوں کو تسلی دیتے اور عبادت الٰہی میں بڑی سرگرمی دکھاتے تھے۔ ایک قول کے مطابق آپ مظلوموں کی مدد کرتے کمزوروں کا ہاتھ بٹاتے اور بیماروں کی عیادت کرتے تھے۔ ایک قول ہے کہ آپ خوابوں کی تعبیر کے لحاظ سے محسن تھے۔ یعنی خوابوں کی بہت درست تعبیر کرتے تھے ، آپ نے اپنے ان دونوں قیدی ساتھیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے خوابوں کی تعبیر بھی کی تھی۔