12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 12:37–41

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں۔ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں میں انکا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں۔

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایان نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا و غالب ؟

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں خدا نے انکی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جا نتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصل ہوچکا ہے۔

یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب میں حکمت تبلیغ قول باری ہے قال لا باتیکما طعام ترزقا نہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یا تیکما ۔ یوسف نے کہا ۔ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ تا آخر آیت ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت یوسف نے دونوں قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فوری طور پر بتانے سے اس لیے پہلو تھی کی تھی کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر بری تھی اس لیے آپ نے انہیں تعبیر بتانے کی بجائے ان سے وہ گفتگو کی جو آیت میں درج ہے لیکن دونوں نے اس وقت تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک آپ نے انہیں تعبیر نہ بتادی ۔ ایک قول کے مطابق آپ نے تعبیر بتانے سے پہلے ان دونوں سے یہ گفتگو اس لیے کی کہ انہیں پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت کی خلعت سے سرفراز کیا ہے ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر آمادہ ہوجائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان لوگوں کے درمیان اس سے پہلے کافی عرصہ گزارچکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق یہ حکایت نہیں کی کہ آپ نے ان لوگوں کو کبھی اللہ کی طرف دعوت دی تھی جبکہ یہ لوگ بت پرستی میں مبتلا تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے انہیں توحید کی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ لیکن جب آپ نے دیکھا کہ خواب کی تعبیر بتانے کے احسان کے زیراثر وہ لوگ آپکی طرف متوجہ ہیں تو آپ کو یہ توقع پیدا ہوگئی کہ اب یہ لوگ میری باتوں پر کان دھریں گے اور میری دعوت قبول کریں گے چناچہ آپ نے انہیں توحید باری کی دعوت دی جس کی حکایت اس قول باری میں ہوتی ہے۔ یا صاحبی السجنء ارباب متفرقون خیرا ام اللہ الواحد القھا اے زندان کے ساتھیوں ! تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے تا آخر آیت ثانیہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے توحید باری کی تبلیغ کا جواز انداز اختیار کیا تھا وہ اس قول باری کے عین مطابق تھا ۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ ۔ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی موعظت کے ذریعے لوگوں کو بلائو یعنی بڑی حکمت اور باریک بینی سے اس مناسب وقت کا انتظار کرتے رہو جب لوگ اللہ کے راستے کی طرف تمہاری دعوت پر کان دھرنے کے لیے آمادہ ہوں اور اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعوت توحید کی حکایت اس لیے کی ہے کہ م بھی تبلیغ کے سلسلے میں ان کی اقتدا کریں۔
Ayahs 12:42–49

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائیگا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے ہی میں رہے۔

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور اور (سات) خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قید یوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں۔ مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف ! اے بڑے سچے (یوسف ! ) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کے سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر (تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہو گے تو جو (غلہ) کا ٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سا ل) آئیں گے کہ جو (غلہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ سب کھا جائیں گیں پھر وہی تھوڑا سا رہ جائے جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

فانساہ الشیطن کے دو مفہوم قول باری ہے وقال للذین ظن انہ تاج منھما اذکرنی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین ۔ پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب شاہ مصر سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب شاہ مصر سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید میں پڑا رہا ۔ یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی اس تعبیر کے وقوع پذیرہونے کا یقین تھا جو آپ نے اسے بتائی تھی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے۔ انی ظنت انی ملاق حسابیہ مجھے یقین تھا کہ مجھے اپنے اعمال کے حساب و کتاب کا سامنا کرنا ہے۔ یہاں طننت بمعنیالقینت ہے یعنی مجھے یقین تھا۔ قول باری فانساہ الشیطان میں ضمیر مفعول حضرت ابن عباس ؓ سے مروی تفسیر کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ حسن بصری اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ اس قیدی کی طرف راجع ہے جو رہا ہو کر اپنے آقا شاہ مصر کو شراب پلانے والا تھا۔ آیت میں یہ بیان ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کئی سالوں تک قید میں پڑے رہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے رہا ہونے والے قیدی سے یہ کہا تھا کہ بادشا ہ کے پاس میرا تذکرہ کردینا ۔ آپ نے یہ بات ایک قسم کی غفلت کی بنا پر کہی تھی۔ اگر حضرت ابن عباس ؓ کی تاویل اختیار کی جائے کہ شیطان نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کیذہن سے اللہ کی یاد بھلا دی تھی جب کہ اس حالت قید میں اللہ کو یاد کرنا بہتر تھا، نیز اللہ کی یاد کو چھوڑ کر رہا ہونے والے قیدی سے یہ کہنا نہیں چاہیے تھا کہ اپنے آقا کے پاس میرا تذکرہ کرنا ۔ تو اس تاویل کی بنا پر ایسے وقت میں اللہ کی یاد سے غفلت اور بےتوجہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کئی سالوں تک قید میں پڑے رہنے کا سبب بن گئی ۔ اگر دوسری تاویل اختیار کی جائے جس کے مطابق شیطان نے رہا جانے والے قیدی کو جو اپنے آقا کا ساقی بننے والا تھا غفلت میں ڈال دیا تھا تو اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ کہا تھا تو ساقی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شیطانی وس اس و خیالات کے ساتھ تنہا چوڑ دیا جس کے نتیجے میں شیطان نے اس کے ذہن سے اپنے آقا کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کے تذکرے کی بات نکال دی ۔ لفظ بضع کے متعق حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ تین سے لے کر دس تک ہوتا ہے۔ مجاہد اور قتادہ کے قول کے مطابق نو تک ہوتا ہے۔ وہب کا قو ل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) قید میں سات برس تک رہے۔
Ayahs 12:50–51

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میر پاس لے آؤ۔ جب قاصد انکے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (عورتوں سے) پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے) کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ فلما جاء ہ الرسول قال ارجع الی ربک فاسئلہ ما بال النسوۃ الاتی قطعن ایدیھن ان ربی بکیلہ ھن علیہ۔ بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو ، مگر جب شاہی فرستادہ یوسف کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کر ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فوری طور پر بادشاہ کے پاس جانے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ شاہی قاصد کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ پہلے ان عورتوں سے ماملہ کی اصل حقیقت معلوم کرلی جائے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے تا کہ اس معاملہ میں آپ کی پاک دامنی واضح ہوجائے اور اس کے بعد جب آپ بادشاہ کے پاس جائیں تو اس کی نظروں میں آپ کی قدر و منزلت بڑھ جائے اور پھر آپ اسے توحید باری کی جو دعوت دیں نیز امور سلطنت میں اسے جو مشورے دے وہ انہیں آسانی سے قبول کرلے۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لئے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنیوالوں کے مکروں کو رو براہ نہیں کرتا۔

قول باری ہے ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب ( یوسف نے کہا) اس سے میری غرض یہ تھی کہ ( عزیز مصر) یہ جان لے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی ۔ حسن ، مجاہد ، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول تھا۔ آپ نے یہ فرمایا کہ ” میں نے قاصد کو بادشاہ کے پاس اس لیے بھیج دیا اور اس سے عورتوں کے معاملہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کہا کہ بادشاہ یعنی عزیز مصر کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی ہے “ اگر سلسلہ کلام کی ابتداء عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کے متعلق حکایت سے کی جائے تو اس صورت میں کلام کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قول کی حکایت کی طرف لوٹا جائے گا اس لیے کہ اس مفہوم پر کلام کی دلالت واضح ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے وکذلک یفعلون اور یہ ایسا ہی کرتے ہیں جبکہ اس فقرے سے پہلے عورت یعنی ملکہ سبا کے قول کی حکایت ہے یعنی وجعلوا عزۃ اھلھا اذلۃ اور یہ لوگ بیرونی حملہ آور بادشاہ ملک میں بسنے وال عزت دار اور اونچے مرتبے والوں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ قول باری بھی ہے فما ذا تامرون پھر تمہارا کیا مشورہ ہے ؟ حالانکہ اس فقرے سے پہلے فرعون کے دباریوں اور سرداروں کے قول کی حکایت ہے یعنی یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال باہر کردینا چاہتا ہے۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امّارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

نفس امارہ کی حقیقت قول باری ہے ان النفس لا مارۃ بالسوء ۔ نفس کا کام تو بس بدی پر اکسانا ہے۔ یعنی نفس برائی کی طرف بہت زیادہ کھینچتا ہے ۔ اس لیے میں اپنے نفس کی برأت کرنا نہیں چاہتا اگرچہ میں اس کے چکر میں نہیں پھنستا۔ اس فقرے کے قائل کے متعلق اختلاف رائے ہے ، کچھ حضرات کا قول ہے کہ اس کے قائل حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں جبکہ بعض دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ یہ عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے۔ امارہ سے کہتے ہیں جو کسی کام کے کرنے کا بہت زیادہ ام کرے اور حکم دے۔ نفس کو اس صفت سے اس لیے موصوف کیا گیا ہے کہ اس کی خواہشات کی کثرت اور اس کے جذبات کی شدت کی بنا پر اکثر افعال وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ابتداء میں نفس کی طرف برائی کا حکم دینے کی نسبت مجازا ً ہوتی تھی لیکن پھر اس کا استعمال اس کثرت سے ہوا کہ مجاز کا اسم ساقط ہوگیا اور اب یہ استعمال بطور حقیقت ہوتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے نفسی تامرنی بکذواتدعنی الی کذا من جھۃ شھوتی لہ ( میرا نفس مجھے فلاں کام کی طرف راغب کر کے اسے کرلینے کا حکم دیتا نیز فلاں کام کی دعوت دیتا ہے) حقیقت کے لحاظ سے یہ بات درست نہیں ہوتی کہ انسان اپنی ذات کو کوئی کام کرنے کا حکم دے اس لیے کہ امر کے اندر مامور کو ایسی چیز کا مالک بناکر جس کا وہ مالک نہیں ہوتا۔ حکم بجا لانے کی ترغیب دی جاتی ہے اور یہ بات محال ہے کہ ایک شخص اپنی ذات کو کسی ایسی چیز کا مالک بنادے جو اس کی ملکیت میں نہ ہو اس لیے کہ ہر شخص صرف اسی چیز کو کسی دوسرے کی ملکیت میں دے سکتا ہے جس کا وہ خود مالک ہوتا ہے۔
Ayahs 12:54–58

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤ نگا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے آخرت کا اجرت بہت بہتر ہے۔

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔

قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفی فلماکلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین۔ بادشاہ نے کہا : ” انہیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں “ جب یوسف نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا :” اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے “ چونکہ یہ بادشاہ عقل اور سمجھ رکھتا تھا اس لیے وہ حضرت یوسف علیہ کے حسن و جمال اور پر وقار شخصیت سے اس طرح متاثر نہیں ہوا جس طرح عورتیں اپنی کم عقلی اور ناسمجھی کی بنا پر ان سے متاثر ہوگئی تھیں ، نیز ان عورتوں نے صرف آپ کے ظاہری حسن و جمال کو دیکھا تھا آپ کی عقل مندی اور سمجھ داری کی خوبیوں میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ اس کے برعکس بادشاہ نے اس ظاہری کیفیت کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی ، لیکن اسے ان کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع ملا تو وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے باطنی کمالات سے ان کے بیان اور علم کی روشنی میں پوری طرح آگاہ ہوگیا اور کہنے لگا انک الیوم لدینا مکین علیم حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جوابا ً جو کچھ اس سے کہا قرآن نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا ہے اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم ملک کے خزانے میرے سپرد کیجئے میں حفاظت کرنیوالا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ۔ آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے فضل و کمال کا ایسے شخص کے سامنے تذکرہ کرے جسے اس کا علم نہ ہو تو اسے کے لیے ایسا کرنا جائز ہے اس کا یہ اقدام قول باری فلا تزکو انفسکم تم اپنی خود ستائی نہ کرو خود ستائی کی ممانعت کے ذیل میں نہیں آتا۔
Ayahs 12:59–71

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف (علیہ السلام) نے انکے لئے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں۔ اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں ؟

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کرینگے اور ہم (یہ کام) کر کے رہیں گے۔

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف (علیہ السلام) نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ انکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ وہ ان کے بھائی کو دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کا دل اس کا اصل سبب معلوم کرنے کے لیے بےتا ب ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ اس طریقے سے وہ اپنے بھائی تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ انہیں یہ خوف تھا کہ اگر بھائیوں کے سامنے وہ کھل کر آ جائیں اور انہیں بتادیں کہ میں یوسف ہوں تو عین ممکن تھا کہ بھائی ان میں سے بن یامین کا معاملہ چھپا جاتے۔ اور اس کے متعلق کچھ نہ بتاتے بلکہ دونوں بھائیوں کے یکجا ہونے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے اس لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کے حصول کے لئے اپنی تدبیر پر مرحلہ وار عمل کیا تاکہ بھائیوں پر حقیقت حال سے واقف ہوجانے کی وجہ سے ایسا دبائو نہ پڑے جس کی بنا پر بھائی کے ساتھ ان کے اختلاف اور نفرت میں اور زیادہ شدت پیدا ہوجائے۔ قول باری ہے (یا بنی لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقۃ میرے بچو ! مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا) حضرت ابن عباس ؓ ، حسن بصری، قتادہ، ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے یہ بیٹے بڑے وجیہ اور حسین و جمیل تھے، آپ کو یہ خوف پیدا ہوا کہ اکٹھے داخل ہونے کی صورت میں کہیں انہیں نظر نہ لگ جائے۔ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ خوف پیدا ہوگیا کہ کہیں لوگ ان سے حسد کرنا نہ شروع کردیں اور ان کی قوت و طاقت کی خبر بادشاہ کے کانوں تک نہ پہنچ جائے اور وہ انہیں اپنی حکومت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے قتل نہ کرا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر تابعین سے مروی تاویل کی بنا پر یہ دلالت ہوتی ہے کہ نظر بد برحق ہے۔ حضور ﷺ سے بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا (العین حق، نظر بد برحق ہے) قول باری ہے (جعل السقایۃ فی رحل اخیہ ثم اذن موذن ایتھا العیر انکم تارقون۔ اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا ” اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو “ ) ایک قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کسی آدمی کو بھائی کے سامان میں پیالہ رکھ دینے کے لئے کہا تھا اس کے بعد جو لوگ پیمانوں کے ذریعے ناپ کر قافلے والوں کو غلہ تقسیم کرنے پر مامور تھے انہیں جب ایک پیمانہ نہ ملا اور پتہ نہل گا کہ اسے کون اٹھا کرلے گیا ہے تو ان میں سے ایک نے قافلہ کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم چور ہو، غلہ تقسیم کرنے والوں کا خیال تھا کہ قافلے والے اس قسم کی چوریاں کرلیتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں یہ اعلان کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، اس بنا پر اعلان کرنے والے شخص کی یہ بات غلط نہیں تھی کیونکہ اس نے اپنے ظن غالب کی بنیاد پر نیز اپنی سمجھ کے مطابق یہ اعلان کیا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائی تک رسائی کا جو طریقہ اختیار کیا اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان کے لئے دوسرے سے اپنے حق کی وصولی کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنا جائز ہے اس کے لئے اس شخص کی رضا مندی کو کوئی ضرورت نہیں جس سے حق وصول کرنا ہو۔
Ayahs 12:72–74

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا گلاس کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا ؟

قول باری ہے (ولمن جاء بہ حمل بغیر وانا بہ زعیم (شاہی کارندوں کے جمعدار نے کہا) جو شخص یہ پیمانہ لا کر دے گا اس کے لئے ایک بارشتہ انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں) یحییٰ بن یمان سے مروی ہے، انہوں نے یزید بن زریع سے روایت کی ہے اور انہوں نے عطا خراسانی سے کہ زعیم کے معنی کفیل کے ہیں یعنی ذمہ اٹھانے والا، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ کسی انسان کے بارے میں کفالت تھی حالانکہ بات یہ نہیں ہے اس لئے کہ اعلان کرنے والے نے پیمانہ شاہی ڈھونڈھ نکالنے والے کے لئے ایک بارشتہ کی اجرت مقرر کی تھی اور اس امر کو اپنے اس قول سے موکد بنادیا تھا کہ میں اس کا زعیم یعنی ضامن ہوں۔ جس طرح شاعر کا یہ قول ہے۔؎ والی زعیم ان رجعت مسلما یسیریری منہ الفرافق اندورا اگر میں صحیح سالم واپس آگیا تو پھر ایسی تیز رفتاری سے واپس ہونے کی ضمانت دیتا ہوں جس سے شیر کی آمد کی خبر دینے والا جانور یعنی گیدڑ بھی عاجز اور درماندہ ہے۔ یعنی میں اس بات کا ضامن ہوں۔ اس قائل نے کسی انسان کی کوئی ذمہ داری نہیں اٹھائی بلکہ اس نے صرف شاہی پیمانہ کو برآمد کرنے والے کے لئے اجرت دلانے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہی چیز اس مسئلے کے جواز کے لئے اصل اور بنیاد ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے ” اس سامان کو جو شخص فلاں مقام تک لے جائے گا اسے ایک درہم ملے گا “ تو یہ کہنا جائز ہے۔ یہ اجارے کی ایک جائز صورت ہوگی اگرچہ اس میں کسی خاص شخص کو اجارہ پر حاصل کرنے کی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔ اجارہ کا حکم امام محمد بن الحسن نے ’ سیر کبیر ‘ میں کہا ہے کہ اگر امیر شکریہ اعلان کرے : ” جو شخص ان جانوروں کو فلاں مقام تک ہانک کرلے جائے گا یا اس سامان کو فلاں جگہ پہنچا دے گا اسے اتنا دیا جائے گا، “ تو اس کا یہ اعلان جائز ہوگا اور جو شخص یہ کام سرانجام دے گا وہ اجر اور معاوضہ کا مستحق ہوجائے گا۔ آیت زیر بحث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا یہی مفہوم ہے۔ ہشام نے امام محمد سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جس شخص کے قبضے میں کسی شخص کا مکان ہو جس میں اس کی رہائش ہو پھر مالک مکان اس سے کہے۔ ” اگر تم آج کے بعد اس مکان میں رہو گے تو تمہیں یومیہ دس درہم ادا کرنے پڑیں گے۔ “ مالک مکان کی یہ بات جائز ہوگی اور اگر کرایہ دار اس دن کے بعد مکان میں رہائش رکھے گا تو اسے یومیہ اتنے ہی درہم کرایہ کے طور پر ادا کرنے ہوں گے۔ کرایہ دار کا اس دن کے بعد رہائش پذیر رہنا اس کی رضامندی پر دال ہوگا اور یہ اجارے کی صورت ہوگی اگرچہ اس میں باہمی گفتگو کے ذریعے معاملہ طے نہیں ہوا، آیت کی اس پر دلالت ہو رہی ہے اس لئے آیت میں یہ ذکر ہے کہ جو شخص شاہی پیمانہ برآمد کر کے پیش کرے گا اسے معاوضہ ملے گا۔ اگرچہ اعلان کرنے والے اور برآمد کرنے والے کے درمیان کوئی عقد اجارہ نہیں ہوا تھا بلکہ برآمد کرنے والے کا فعل اجارہ قبول کرنے کی علامت تھی اسی بنا پر فقہاء کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے یہ کہے۔ میں تجھے ایک درہم کے عوض اس سامان کو فلاں مقام تک پہنچانے کے لئے اجارے پرل یتا ہوں “ اگر وہ شخص اس سامان کو مقررہ مقام تک لے جائے گا تو معاوضہ کا مستحق قرار پائے گا اگرچہ اس نے اپنی زبان سے اس اجارے کو قبول کرنے کے متعلق ایک لفظ بھی نہ کہا ہو۔ اگر کہا جائے کہ آیت میں مذکورہ صورت اجارے کی صورت نہیں بن سکتی اس لئے کہ ایک بارشتہ کے بدلے اجارہ درست نہیں ہوتا اور اگر یہ اجارے کی صورت تھی تو ہمارے نبی ﷺ کی شریعت میں یہ منسوخ ہوچکی تھی اس لئے کہ ہماری شریعت میں معلوم و متعین اجرت کے بغیر اجارہ درست نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آیت میں مذکورہ بارشتر ایک متعین معاوضہ تھا اس لئے کہ بارشتر کیل اور وزن کے تحت آنے والی چیزوں کی ایک معلوم مقدار کا اسم تھا۔ جس طرح کا رۃ (غلہ سے بھرا ہوا جہاز) وقر (بھاری بوجھ) اور وسق (ساٹھ صاع) اہل زبان کے ہاں معلوم و متعین تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب اس کی تردید نہیں کی تو یہ چیز اس کی صحت پر دال ہوگئی۔ حضور ﷺ سے قبل آنے والے انبیاء کی شریعتوں کے احکامات اس وقت ہمارے نزدیک ثابت ہیں جب تک ان کے نسخ پر کوئی دلالت قائم نہ ہوجائے۔