12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 12:75–80

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی، (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں،

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اسکے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے ؟ اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو۔ تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لئے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر کرنیوالا ہے۔

قول باری ہے (قالو جزاء ہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ۔ انہوں نے کہا ” اس کی سزا ؟ جس کے سامان سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے “ ) حسن، ابو اسحاق، معمر اور سدی کا قول ہے کہ اس کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس طرح ترتیب عبارت یہ ہوگی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان سے وہ چیز برآمد ہوجائے گی اسے غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ایسے شخص کی یہی سزا ہے جس طرح تمہارے نزدیک اس کی یہی سزا ہے “ جب وہ پیمانہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوگیا تو انہوں نے شرط کے مطابق اپنے بھائی کو چوری کی سزا میں پکڑ لیا، اس پر برادران یوسف نے کہا، ” اس کی بجائے ہم میں سے کسی کو غلام بنا کر رکھ لو۔ “ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں کسی آزاد انسان کو چوری کی سزا کے طور پر غلام بنا لینا جائز تھا۔ نیز یہ بھی جائز تھا کہ ایک انسان کسی اور کی خاطر اپنے آپ کو غلامی میں دے دے۔ اس لئے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ان میں سے کسی ایک کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کی جگہ غلام بنال یا جائے۔ ایک غلام کے متعلق جس نے چوری کی تھی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے اسے اس قرض کے بدلے فروخت کردیا تھا جو اس پر اس وقت عائد ہوا تھا جب وہ آزاد تھا، ہوسکتا ہے کہ یہ حکم اس وقت تک ثابت تھا اور پھر ہمارے نبی ﷺ کی زبان سے اس کے نسخ کا اعلان ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے تذکرے میں بیان فرمایا کہ آپ نے قحط کے سالوں میں مصر کے اندر اشیائے خوردنی کا ذخیرہ کر کے ان کی حفاظت کی اور پھر اپنی نگرانی میں ضرورت کے مطابق لوگوں میں انہیں تقسیم کراتے رہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کے ائمہ اور خلفاء پر یہ لازم ہے کہ جب قحط سالی کی وجہ سے لوگوں کی ہلاکت کا خطرہ ہو تو وہ یہی طریق کار اختیار کریں۔
Ayahs 12:81–87

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

سرقہ کے بارے میں حکم قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار پایا، چناچہ بھائیوں نے کہا (وما شھدنا الا بما علمنا) یعنی ہمیں جو کچھ ظاہری طور پر معلوم ہوا ہم وہی بیان کر رہے ہیں۔ حقیقت حال نہیں بیان کر رہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک چیز کے متعلق ظاہری طور پر حاصل ہونے والے معلومات پر علم کے اسم کا اطلاق جائز ہے خواہ اس چیز کی حقیقت کا علم نہ بھی ہو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (وان علمتمو من مومنات فلا ترجعوھن الی الکفار۔ اگر تم ان عورتوں کو مسلمان سمجھ لو تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ بھیجو) یہ بات تو واضح ہے کہ ہمیں ان عورتوں کے ضمائر اور ان کے دل کی باتوں کا علم نہیں ہوسکتا۔ ہمیں تو صرف ان کے ظاہری ایمان پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ قول باری (وما کنا للغیب حافظین) کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو حسن، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس کا احساس نہیں تھا کہ تمہارا بیٹا چوری کا ارتکاب کر بیٹھے گا۔ “ دوسرا قول وہ ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں یعنی ہمیں اس چوری کے متعلق حقیقت حال کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے اپنے بھائی کے سامان سے ایسی حالت میں شاہی پیمانہ برآمد کرلینا کس طرح جائز ہوگیا جو لوگوں کے نزدیک بھائی کے مہتمم ہوجانے کی موجب بن گئی حالانکہ اس کا دامن اس سے پاک تھا اور دوسری طرف اس فعل کی وجہ سے اس کے بھائی اور والد اس کے غم میں مبتلا ہوگئے ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس طریق کار میں بھلائی کے کئی پہلو تھے اور یہ سب کچھ بھائی کو اپنے اعتماد میں لینے اور اسے صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد انہوں نے کیا تھا۔ اس اقدام کے ذریعہ انہوں نے گویا بڑے لطیف انداز میں اپنی اور اپنے بھائی کی سلامتی کا پیغام حضرت یعقوب کو پہنچا دیا تھا، نیز کسی کے لئے ان کے بھائی پر چوری کا الزام عائد کرنے کی گنجائش نہیں تھی اس لئے کہ قافلے کا معاملہ تھا جس میں یہ بات عین ممکن تھی کہ کسی نے ان کے سامان میں شاہی پیمانہ رکھ دیا ہو، جہاں تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے غم کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس اقدام کا حکم ہی اس لئے دیا تھا کہ دوسرے بیٹے سے محرومی کی بنا پر ان کا غم بڑھ جائے، وہ اس پر صبر کریں اور پھر دونوں بیٹوں سے محرومی کے غم پر صبر کرنے کی وجہ سے اجر عظیم کے مستحق قرار پائیں۔ حقوق برآمد کرنے پر حیلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (فلما جھزھم بجھانھم جب یوسف اپنے بھائیوں کا سامان لدوانے لگا) تاقول باری (کذلک کدنا لیوسف۔ اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی) میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ اور بھائیوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کا جو ذکر فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ایک صباح چیز تک رسائی اور دبے ہوئے حقوق کو برآمد کرنے کے لئے حیلہ اختیار کرنا جائز ہے۔ وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تدبیر پر انہیں نہیں ٹوکا بلکہ اس کی رضامندی حضرت یوسف کے شامل حال رہی اور آخر پر فرمایا (کذلک کدنا لیوسف) اسی طرح یہ قول باری بھی ہے (وخدبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا خشک و تر گھاس کالے لو اور اسی سے مارو) اور اپنی قسم نہ توڑو) حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیماری کے دوران بیوی کو ایک خاص تعداد میں کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ گھاس کا مٹھا بنا کر اپنی قسم پوری کرنے کے لئے بیوی کو اس سے ماریں اور اس طرح اسے سخت تکلیف پہنچانے سے بچ جائیں۔ اسی طرح حیلہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عدت گزارنے والی عورت کو کھلم کھلا پیغام نکاح بھیجنے سے منع کردیا گیا لیکن اشارہں کنایوں میں اس کی ذات کے ساتھ اپنی دلچسپی سے آگاہ کرنے کو مبدح قرار دیا گیا۔ سنت کی جہت سے اس پر حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت دلالت کرتی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو خیبر پر مقرر کیا۔ وہ شخص کھجور لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ آیا خیبر کے تمام کھجور اسی طرح کے ہوتے ہیں ؟ اس نے نفی میں جواب دیا اور عرض کیا : بخدا ! ہم دو صاع کے بدلے ایک صاع اور تین صاع کے بدلے دو صاح کھجور لیتے ہیں “۔ یعنی جو کھجور میں لایا ہوں یہ خیبر کا عمدہ کھجور ہے اور عام کھجور اگر دو صاع دیئے جائیں تو ان کے بدلے میں اس کھجور کا ایک صاع ملتا ہے (صاع ایک پیمانے کا نام ہے) حضور ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا : ایسا نہ کرو بلکہ بڑھیا اور گھٹیا کھجوروں کو دراہم کے بدلے فروخت کر دو اور پھر ان دراہم سے ایک جیسے کھجور خرید لو “۔ امام مالک بن انس نے عبد المجید بن سہیل سے انہوں نے سعید بن المسیب سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس کی روایت کی ہے۔ حضور ﷺ نے کھجور کی خرید و فروخت میں کمی بیشی کی ممانعت کردی اور پھر آپ نے مباح طریقے سے یہ کھجور حاصل کرنے کا طریقہ بتادیا۔ اس پر حضور ﷺ کا ارشاد بھی دلالت کرتا ہے جو آپ ﷺ نے ابو سفیان کی بیوی ہندہ سے فرمایا تھا کہ ” ابو سفیان کے مال میں سے اتنی مقدار حاصل کرلو جو تمہارے اور تمہارے بیٹے کے لئے معروف طریقے سے کافی ہوجائے “ حضور ﷺ نے ہندہ کو اپنے اور اپنے بیٹے کے حق کے حصول تک رسائی کا حکم دیا۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ جب کسی سفر کا ارادہ کرتے تو اصل مقصد پوشیدہ رکھ کر اظہار کسی اور چیز کا کرتے اسے توریہ کہا جاتا ہے۔ یونس اور معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ بنو قریظہ نے جو مدینہ کے یہودی باشندے تھے، ابو سفیان بن حرب کو جنگ خندق کے موقع پر پیغام بھیجا کہ ہماری مدد کو پہنچو، ہم مسلمانوں کے گڑھ یعنی مدینہ پر ان کے پیچھے سے حملہ کرنے والے ہیں “ یہ بات نعیم بن مسعود نے سن لی۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ صلح کر رکھی تھی۔ جب بنو قریظہ نے یہ پیغام ابو سفیان اور اس کے اتحادیوں کی طرف جنہوں نے مدینہ کا محاصرہ کر رکھا تھا، ارسال کیا تو اس وقت نعیم بن مسعود عینیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، چناچہ وہ وہاں سے اٹھے اور حضور ﷺ کے پاس پہنچ کر بنو قریظہ کی اس کارستانی کی آپ ﷺ کو اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ نے جواب میں فرمایا : ” شاید ہمیں اس کا حکم مل گیا ہے “ ، نعیم حضور ﷺ سے یہی باتیں کرتے ہوئے آپ کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ زہری کہتے ہیں کہ نعیم اس طبیعت کے انسان تھے کہ وہ کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھ سکتے تھے۔ جب وہ حضور ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جو عطفان کی طرف چلے گئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ نے جو ابھی فرمایا ہے اگر یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے تو اسے کر ڈالئے اور اگر یہ آپ کیذاتی رائے ہے تو پھر بنی قریظہ کی حیثیت اس سے کم تر ہے کہ آپ ان کے بارے میں کوئی ایسی بات فرمائیں جسے آپ کی طرف سے آگے نقل کی جائے “ یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا : ” بلکہ میری ذاتی رائے ہے اور جنگ تو دشمن کو دھوکے میں رکھنے کا نام ہے : ” ابو عثمان النھدی نے حضرت عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : تعریض کے طور پر کہی ہوئی بات میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہوئی ہے۔ حسن بن عمارہ نے الحکم سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اگر مبہم کلام یعنی تعریض کے طور پر کہی ہوئی بات کے بدلے مجھے سرخ اونٹ مل رہے ہوں تو ان سے مجھے خوشی نہیں ہوگی۔ ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بادشاہ کے اس سوال پر جو اس نے آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ کے متعلق کیا تھا کہ ” یہ تمہاری کیا لگتی ہے “ جواب میں فرمایا : ” یہ میری بہن ہے “ آپ نے یہ فقرہ اس لئے کہا تھا کہ بادشاہ حضرت سارہ کو آپ سے چھین نہ لے، بہن کہہ کر آپ نے دینی بہن مراد لیا تھا۔ اسی طرح آپ نے اپنی بت پرست قوم سے کہا تھا کہ ” میں بیمار ہوں “۔ یہ کہہ کر آپ ان کے ساتھ نہیں گئے تھے بلکہ بت خانہ کے بتوں کو توڑنے کے لئے پیچھے رہ گئے تھے۔ آپ کے کہے ہوئے فقرے کا مفہوم یہ تھا کہ میں جلد ہی بیمار ہو جائوں گا “ یعنی مر جائوں گا جس طرح یہ قول باری ہے (انک میت۔ آپ کو بھی مرنا ہے) آپ کی قوم نے آپ سے جو بات پوچھی تھی اس کے جواب میں تعریض کے طور پر آپ نے اس طرح بات کی تھی جس سے آپ پر کذب بیانی کا کوئی الزام عائد نہیں ہوسکتا تھا، حضور ﷺ سے منقول روایات میں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے آپ نے مباح چیز تک رسائی کی خاطر حیلہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ حیلہ اختیار کرنے کا جواز ہے بشرطیکہ حیلہ کی صورت ممنوع نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کے ذریعے جنسی پیاس کے بجھانے کی ممانعت فرما دی ہے اور ہمیں عقد نکاح کے ذریعے جنسی ملاپ تک رسائی حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح باطل طریقوں سے دوسروں کا مال کھانا ہم پر حرام قرار دیا ہے لیکن خرید و فروخت، ہبہ اور اسی طرح کے جائز طریقوں سے دوسروں کے مال تک رسائی کو مباح قرار دیا ہے۔ اس لئے جو شخص اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ایک ممنوع چیز کو اس جہت سے مباح کرنے کے لئے چارہ کیا جاسکتا ہے جس جہت سے شریعت نے اسے مباح قرار دیا ہے وہ گویا دین کے اصول کو رد کرتا اور شریعت سے ثابت شدہ ایک چیز کو ٹھکرا دیتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود پر ہفتہ کے دن مچھلیوں کے شکار کی ممانعت کردی تھی، وہ ہفتے کے دن مچھلیوں کو گھیر رکھتے تھے اور اتوار کے دن انہیں پکڑ لیتے تھے، ان کی اس حرکت پر اللہ نے انہیں سزا دی۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ یہود نے ہفتے کے دن کا قانون توڑا تھا۔ یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ مچھلیوں کو ہفتے کے دن گھیر کر رکھنے کی بھی ممانعت تھی۔ اگر یہودیوں کو اس چیز کی ممانعت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا (اعتدوا فی السبت۔ انہوں نے ہفتے کے دن کا قانون توڑا تھا) قول باری ہے (یا ایھا العذیز مسنا واھلنا اختو۔ اے سردار با اقتدار ! ہم اور ہمارے عیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں “ ) تا قول باری (وتصدق علینا۔ اور ہم کو خیرات دیں) جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کے قول (مسنا واھلنا الضر) پر کوئی نکیر نہیں کی تو اس سے دلالت حاصل ہوئی کہ ضرورت کے موقعہ پر اس قسم کے اظہار و بیان کا جو از ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کی صورت نہیں پائی تھی۔
Ayahs 12:88–96

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ کے پیمانے سے اور پھر خریدار کے پیمانے سے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ کیل یعنی ناپنے کی ذمہ داری خریدار پر عائد ہوتی ہے اس لئے کہ آپ کی مراد وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے فروخت کنندہ نے اپنے فروخت کنندہ سے فروخت شدہ چیز ناپ کرلی تھی اور خریدار کے پیمانے سے وہ پیمانہ مراد ہے جس کے ذریعے دوسرا خریدار اپنے فروخت کنندہ سے فروخت شدہ چیز لیتا ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضور ﷺ کے قول (صاع البائع) کی اس پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ فروخت کنندہ ہی ناپ کرلینے والا ہو۔ یہ جائز ہے کہ آپ نے اس سے وہ پیمانہ مراد لیا ہو جس کے ذریعے فروخت کنندہ نے اپنے فروخت کنندہ کو ناپ کردیا ہو اور آپ نے خریدار کے پیمانے سے وہ پیمانہ مراد لیا ہو جس کے ذریعے اس کی فروخت کنندہ نے فروخت شدہ چیز اسے ناپ کردی ہو۔ اس لئے حدیث میں اس امر پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ ناپ کرلینا خریدار کے ذمہ ہوتا ہے جب کیل یعنی ناپ کے سلسلے میں ہماری یہ بات درست ہوگئی تو اس سے یہ بات بھی واجب ہوگئی کہ ثمن یعنی قیمت میں حاصل شدہ شے کو وزن کرنے والے کی اجرت خریدار کے ذمہ ہوگی۔ اس لئے کہ خریدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ فروخت کنندہ کے لئے ثمن کی تعیین کر دے اور ثمن کا تعین وزن کے بغیر نہیں ہوسکتا اس لئے وزن کرنے کی اجرت اس پر عائد ہوگی جو شخص کھوٹے کھرے سکوں کی پرکھ کرتا ہے اس کی اجرت کے متعلق محمد بن سماع نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ فروخت کنندہ کی طرف سے ثمن کی وصولی سے قبل پرکھ کی اجرت خریدار پر ہوگی اس لئے کہ خریدار پر ثمن کو درست حالت میں فروخت کنندہ کے حوالے کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن اگر ثمن پر فروخت کنندہ نے قبضہ کرلیا اور پھر اسے سکوں کی پرکھ کا خیال آیا تو اس صورت میں پرکھ کی اجرت فروخت کنندہ پر ہوگی اس لئے کہ اس نے ثمن پر قبضہ کر کے اس کی ملکیت حاصل کرلی اس لئے اب یہ معلوم کرنا اس کی ذمہ داری ہے کہ آیا اس میں کوئی کھوٹا سکہ تو نہیں جسے واپس کردینا ضروری ہو۔ قول باری (وتصدق علینا) کی تفسیر میں سعید بن جبیر کا قول ہے کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے ان سے یہ درخواست کی تھی کہ غلہ کے بھائو میں کمی کر کے انہیں اتنی رقم کے بدلے زیادہ غلہ فروخت کردیں۔ انہوں نے حضرت یوسف سے خیرات کا سوال نہیں کیا تھا۔ سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ انہوں نے خیرات کا سوال کیا تھا اور وہ سب چونکہ انبیاء تھے اس لئے خیرات ان کے لئے حلال تھا۔ خیرات اور صدقہ کی حرمت صرف ہمارے نبی کریم ﷺ کے لئے تھی۔ مجاہد نے اسے مکروہ سمجھا ہے کہ کوئی شخص اپنی دعا میں یہالفاظ کہے ” اللھم تصدق علی (اے اللہ مجھے خیرات دے) اس لئے کہ خیرات اس شخص کی طرف سے دی جاتی ہے جو ثواب کا طلبگار ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے ماورا ہے۔ قول باری ہے (قال ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ اذانتم جاھلون۔ اس نے کہا : تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جب زیادتی کی تھی اس وقت وہ جاہل اور نادان تھے لیکن اب جبکہ وہ حضرت یوسف سے ہم کلام تھے نادان نہ تھے، بعض لوگوں نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ انہوں نے بالغ ہونے سے پہلے حضرت یوسف کے ساتھ زیادتی کی تھی اس لئے کہ اگر بانع ہونے کے بعد وہ ایسا کرتے اور پھر ان سے توبہ کا ظہور نہ ہوتا تو پھر وہ اس وقت بھی جبکہ حضرت یوسف سے ہم کلام تھے جاہل قرار پاتے۔ اللہ تعالیٰ نے جہالت سے بچپن کی جہالت مراد لی ہے معصیت کی جہالت مراد نہیں ہے۔ معانی کی شان ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قول الا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم۔ آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کرے) اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے بالغ ہونے کے بعد حضرت یوسف پر ظلم کیا تھا۔ نیز یہ کہ ان کا یہ فعل ایک گناہ تھا جس سے استغفار کرنا ان پر واجب تھا۔ ظاہر کلام اس پر دلالت کرتا ہے کہ قرآن کے الفاظ میں انہوں نے یہ کہہ کر توبہ کرلی تھی، لقد اثرک اللہ علینا وان کنا لخاطئین بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطاکار تھے) اس پر قرآن کے الفاظ میں ان کا یہ قول بھی دلالت کرتا ہے (یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا کنا خاطئین۔ ابا جان ! آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لئے دعا کریں، واقعی ہم خطاکار تھے) اس جیسی بات وہ شخص نہیں کہہ سکتا جس سے بالغ ہونے سے قبل نابالغی کی حالت میں کسی جرم کا ارتکاب ہوا ہو۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

قول باری (یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا) میں انہوں نے اپنے والد سے ان کے لئے بخشش کی دعا مانگنے کی درخواست کی ہے حالانکہ ان کی توبہ قبول ہوچکی تھی۔ اس درخواست کا جواز اس بنا پر ہے کہ مظلوم پر ڈھائے گئے ظلم کی معافی اس کی طرف سے ظالم کو معاف کردینے کے ساتھ معلق ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ رب سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اس ظلم پر اس کا مواخذہ نہ کرے۔ یہاں اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے یہ درخواست کی ہو کہ وہ اپنی دعا کے ذریعے انہیں ان لوگوں کے درجے پر پہنچا دیں جنہوں نے کبھی کسی قسم کا جرم نہ کیا ہو۔
Ayahs 12:98–99

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

قول باری ہے (سوف استغفر لکم ربی۔ میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا) حضرت ابن مسعود ؓ ، ابراہیم التیمی، ابن جریج اور عمرو بن قیس سے مروی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کے لئے معافی کی درخواست کو صبح تک کے لئے موخر کردیا تھا اس لئے کہ وقت سحر اجابت دعا کے لئے موزوں ترین وقت ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جمعہ کی رات تک دعائے استغفار کو ملتوی کردیا تھا۔ ایک قول کے مطابق بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اپنی دعائوں میں ہمیشہ ان کے لئے معافی کی دعا مانگتے رہیں۔ قول باری ہے (و خرولہ سجدا۔ اور سب اس کے آگے بےاختیار سجدے میں جھک گئے) کہا جاتا ہے کہ بادشاہوں کو سجدے میں جھک کر سلام کیا جاتا تھا ایک قول کے مطابق انہوں نے اللہ کا اس امر پر شکر بجا لانے کے لئے سجدہ کیا تھا کہ اس نے اپنی مہربانی اور فضل سے انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ خوش کن ماحول میں یک جا کردیا تھا۔ اس سجدے کے ذریعے انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعظیم بجا لانے کا ارادہ کیا تھا اس بنا پر مجاز کے طور پر سجدے کی نسبت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف کردی گئی۔ جس طرح مجازاً یہ کہا جاتا ہے۔ ” صلی للقبلۃ (اس نے قبلے کی طرف نماز پڑھی) یا صلی الی غیر القبلۃ (اس نے قبلے کی طرف نماز نہیں پڑھی) مراد اس سے قبلے کی جہت ہوتی ہے۔ حضرت یوسف کا قرآن کے الفاظ میں یہ قول (ھذا تاویل رویا ی من قبل۔ یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا) یعنی خواب میں دیکھا تھا کہ سورج، چاند اور ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ اس طرح خواب میں دیکھا ہوا سجدہ حالت بیداری کا سجدہ بن گیا۔ اور سورج، چاند نیز ستارے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والدین اور آپ کے بھائی ثابت ہوئے۔
Ayahs 12:100–104

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجئیو۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ' تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ یوسف کا دیکھا ایک نہ ایک دن سچا ہوجائے گا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت یوسف نے بچپن میں یہ خواب دیکھا تھا ایک قول کے مطابق محبوب کی کافی عرصے تک نظروں سے دوری غم و حزن کی موجب ہوتی ہے۔ جس طرح کہ دوری آخرت میں یکجا ہونے کے یقین کے باوجود بھی غم کی موجب بن جاتی ہے۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں۔ اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

کائنات میں تفکر کی دعوت قول باری ہے (وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون، زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے) یعنی زمین و آسمان میں کتنی نشانیاں موجود ہیں جن کے بارے میں یہ لوگ غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے توحید باری پر استدلال کرتے ہیں۔ آیت میں اللہ کی آیات اور اس کے دلائل سے اس کی ذات پر استدلال کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ نیز کائنات کے نظام پر غور و فکر کرنے اور اس پر اس زاویے سے نظر ڈالنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس نظام کو ایک مدبر ذات چلا رہی ہے جسے اس کائنات پر پوری قدرت حاصل ہے اور جو اس کے ایک ایک ذرے کا علم رکھتی ہے نیز یہ کہ یہ ذات کائنات کے ساتھ کسی پہلو سے بھی مشابہت نہیں رکھتی بلکہ بےمثل اور یکتا ہے۔ یہ غور و فکر کائنات کی ان چیزوں پر نظر ڈال کر کیا جاسکتا ہے جو آنکھوں پر عیاں ہیں اور حواس خمسہ سے جن کا ادراک کیا جاسکتا ہے مثلاً سورج، چاند، ستاروں، ہوائوں، درختوں، نباتات و حیوانات اور ان کی نسل کا تسلسل وغیرہ کے اندر کارفرما تدبیر وغیرہ۔
Ayahs 12:106–107

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو ؟

قول باری ہے (وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون۔ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ ان میں سے اکثر لالہ کو اس اقرار کے ساتھ مانتے ہیں کہ وہ ان کا خالق اور ارض و سما کا پیدا کرنے والا ہے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ بت پرستی کے ذریعے دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آیت کے مصداق اہل کتاب ہیں جن کے اندر ایمان بھی تھا اور شرک بھی تھا۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی عبادت کی تصدیق کرتے اور اسے مانتے ہیں مگر اس طرح کہ عبادت میں بتوں کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ایک یہودی کے اندر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان ہوتا ہے لیکن حضور ﷺ کی نبوت سے کفر اور انکار ہوتا ہے اس لئے کہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایمان اور کفر الگ الگ جہت سے ایک دوسرے کے منافی نہیں ہوتے اور اس طرح ایک انسان میں ایک جہت سے کفر ہوتا ہے اور ایک جہت سے ایمان۔ تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ الگ الگ جہت سے ان دونوں کا اجتماع ایسے شخص پر مومن کے اسم کے اطلاق اور اس کے لئے ایمان کے ثواب کے استحقاق کا سبب نہیں بنتا اس لئے کہ کفر ان دونوں باتوں کے منافی ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو) اس قول باری نے یہودیوں کے اندر کتاب کے ایک حصے پر ایمان اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کو ثابت کردیا۔ اس کے ذریعے ایک جہت سے ایمان اور دوسری جہت سے کفر کے ثبوت کا جواز پیدا ہوگیا تاہم یہ جائز نہیں کہ ایسے شخص میں مومن ہونے کی صفت اور کافر ہونے کا وصف یکجا ہوجائے۔ اس لئے کہ مومن ہونے کی صفت علی الاطلاق صفت مدح ہے جبکہ کافر ہونے کی صفت صفت ذم ہے اور ایک ہی حالت میں ایک شخص کا ان دونوں صفات سے متصف ہونے کا علی الاطلاق استحقاق ممتنع ہوتا ہے۔
Ayahs 12:108–109

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لئے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

قول باری ہے (قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا و من اتبعنی تم ان سے صاف کہہ دو کہ ” میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی) آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لئے ہوئی ہے نیز آپ خود بھی اس راستے پر پوری بصیرت کے ساتھ چل رہے ہیں کہ گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں نیز آپ کے متبعین بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہے ہیں اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے کے لئے آپ کا یہی طریق کار ہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اہل ایمان پر لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی اسی طرح ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس طرح حضور ﷺ پر تھی۔ قول باری ہے (وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القری اے محمد ! تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے۔ اور انہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے اور انہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں) ایک قول کے مطابق شہروں میں رہنے والوں میں سے نہ کہ صحرا نشینوں میں سے، اس لئے کہ شہروں میں رہنے والے علم و حکمت میں دوسروں سے بڑھ کر ہوتے ہیں اور لوگوں میں ان کی باتوں کو قبول کرنے کا زیادہ رجحان ہوتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دیہاتوں اور صحرائوں میں رہنے والوں میں سے کبھی کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا۔ نہ ہی جنات میں کوئی نبی ہوا اور نہ ہی عورتوں میں۔
Ayahs 12:110–111

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے۔ جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور ہر چیز کی تفصیل (کرنے والا) اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

قول باری ہے (حتی اذا ستیئس الرسل و ظنوا انھم قدکذبوا جاء ھم نصرنا۔ یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ ان پر جھوٹ بولا گیا تھا تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی) یاس امید کے انقطاع کا نام ہے۔ قول باری (کذبوا) کو حرف ذال کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ پڑھا گیا۔ اگر پہلی قرأت لی جائے تو آیت اس معنی پر محمول ہوگی جس کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، سعید بن جبیر، مجاہد اور ضحاک سے روایت کی گئی ہے۔ یعنی قوموں نے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبروں نے ان سے جو کہا تھا کہ انہیں اللہ کی نصرت حاصل ہے اور ان کے دشمن ہلاک ہوجائیں گے، وہ جھوٹ تھا۔ حماد بن زید سے مروی ہے۔ انہوں نے سعید بن الحجات سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابراہیم بن ابی حرۃ الجزری نے یہ بات سنائی کہ ” میں نے کھانا تیار کیا اور اپنے کچھ دوستوں کو جن میں سعید بن جبیر بھی شامل تھے کھانے پر بلایا۔ میں ضحاک بن مزاحم کو بھی پیغام بھیجا لیکن انہوں نے آنے سے انکار کردیا۔ اس پر میں خود ان کے پاس گیا اور انہیں لئے بغیر واپس نہیں آیا۔ دوران مجلس میں ایک قریشی نوجوان نے سعید بن جبیر سے دریافت کیا کہ ” ابو عبد اللہ ! ، آپ اس لفظ کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں میں تو جب تلاوت کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچتا ہوں تو میرے دل میں یہ تمنا بیدار ہوجاتی ہے کہ کاش میں یہ سورت نہ ہی پڑھتا یعنی قول باری (حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انھم قدکذبوا) نوجوان کی یہ بات سن کر سعید بن جبیر نے فرمایا : ہاں سنو ! یہاں تک کہ جب پیغمبروں کو اپنی قوموں سے اس بارے میں مایوسی ہوگئی کہ وہ ان کی تصدیق کریں گے اور قوموں نے بھی سمجھ لیا کہ پیغمبروں سے جھوٹ کہا گیا ہے۔ “ یہاں سعید بن جبیر نے (کذبوا) کی تخفیف والی قرأت کی۔ یہ سن کر ضحاک بن مزاحم نے فرمایا : میں نے آج کی طرح کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی ہو اور اس نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اس کا جواب دے دیا ہو، اگر مجھے یہ بات معلوم کرنے کے لئے یمن تک کا سفر کرنا پڑتا تو بھی میں اسے تھوڑا سمجھتا “ ایک اور روایت کے مطابق مسلم بن یسار نے سعید بن جبیر سے اسی آیت کی تفسیر پوچھی تھی اور جواب ملنے پر انہوں نے سعید کے ساتھ معانقہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ ” اللہ تم سے بھی اسی طرح سختیدور کر دے جس طرح تم نے اس آیت کے سلسلے میں مجھ سے سختی اور الجھن دور کردی ہے۔ “ جن حضرات نے لفظ (کذبوا) کی تشدید کے ساتھ قرأت کی ہے ان کے نزدیک آیت اس معنی پر محمول ہے کہ پیغمبروں کو یہ یقین ہوگیا کہ قوموں نے ان کی تکذیب کی ہے۔ اس طرح ان قوموں نے ہماری تکذیب کردی حتیٰ کہ ان میں سے ایک کو بھی فلاح نصیب نہیں ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ ، حسن اور قتادہ سے یہ تفسیر مروی ہے۔