13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsاحکام القرآن

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (اے محمد ﷺ یہ کتاب (الہٰی) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے۔ (اس طرح) وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔

Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے۔ اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن لباس پہناتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

Ayahs 13:4–6

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجودیہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہونگے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہونگے۔ اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔

زمین کے خطے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں قول باری ہے (وفی الارض قطع متجاورات، اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے زمین شورا اور زمین شیریں مراد ہے۔ قول باری ہے (ونخیل صہنوان۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ حضرت براء بن عازب ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ کھجور کے ایسے درخت جن کی جڑیں اکہری ہوں۔ قول باری ہے (یسقی بماء واحد و نفضل بعضھا علی بعض فی الاکل۔ سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر) آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان کی واضح ترین دلالت موجود ہے جو کہتے ہیں کہ پھلوں وغیرہ کی پیدائش کا دارومدار مٹی کی طبیعت ہوا اور پانی پر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اصحاب الطبائع کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اگر پیدا ہونے والے پھلوں کی پیدائش کا انحصار مٹی کی خصوصیت نیز پانی اور ہوا پر ہوتا تو پھر یہ ضروری ہوتا کہ تمام پھل ایک جیسے ہوتے اس لئے کہ ان کی پیدائش کا سبب اور موجب ایک جیسا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک مٹی کی یکساں خاصیت اس سے پیدا ہونے والے پھلوں کی یکسانیت کو واجد کرتی ہے اور یہ درست نہیں ہوتا کہ یکساں طبیعت اور خاصیت دو مختلف اور متضاد اقعال کے حدوث کی موجب بن جائے اگر ان اشیاء کا حدوث جن کے رنگ، مزے، خوشبوئیں اور شکلیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں یکساں طبیعت اور خاصیت کی ایجاد کا نتیجہ ہوتا تو موجب کی یکسانیت کے ہوتے ہوئے ان کا اختلاف اور تضاد محال ہوتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ان اشیاء کو وجود میں لانے والا اللہ تعالیٰ جو قادر، مختار اور حکیم ہے، جس نے ان اشیاء کو اپنے علم اور قدرت سے مختلف شکلوں اور خصوصیتوں والی بنا کر پیدا کیا۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ﷺ پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ سو (اے محمد ﷺ تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔

قول باری ہے (انما انت منذر ولکل قوم ھاد۔ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک رہنما ہے) حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ ہادی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے نیز قتادہ سے کہ ہر امت کا نبی اس کا ہادی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ہادی وہ شخص ہے جو حق کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، حسن، قتادہ، ابو الضحی اور عکرمہ سے مروی ہے کہ ہادی حضور اکرم ﷺ ہیں۔ یہی تاویل درست ہے اس لئے کہ عبارت کی ترتیب اس طرح ہے (انما انت منذرو ھاد لکل قوم) تم ہر قوم کو خبردار کرنے والے اور ہدایت دینے والے ہو) منذر کو ہادی کہتے ہیں اور ہادی کو منذر۔ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔