13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 13:8–43

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ دانائے نہاں و آشکار ہے۔ سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں۔ چھپ جائے یا دن (کی روشنی) میں کھلم کھلا چل پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اسکے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار رہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اور فرشتے سب اسکے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے۔ اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے۔ مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دو رہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے۔ حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا۔ اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ اور ان کے سامنے بھی صبح وشام (سجدے کرتے) ہیں۔

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ (تم ہی انکی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے ؟ (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور اجالا برابر ہوسکتا ہے ؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنیوالا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے۔

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے۔ پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح (خدا) صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ہی اتنے اور (نجات کے) بدلے میں صرف کر ڈالیں (مگر نجات کہاں ؟ ) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کا جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور (کافر لوگ) دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور جو (اسکی طرف) رجوع ہوتا ہے اسکو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو ۔ اور یہ لوگ رحمن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بیشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا ؟

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہبان) ہے (وہ بتوں کی طرح) بےعلم و بیخبر ہوسکتا ہے ؟ اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) انکے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا ؟ یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو ؟ ) اصل بات یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لئے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنیوالا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت سی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ (کسی کو) شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مدرگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی۔ اور کسی پیغمبر کے اخیتار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضاُ (کتاب میں) مرقوم ہے۔

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسکو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے۔ اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی) تمہارے روبرو ان پر نازل کریں۔ یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اسکے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنیوالا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتیری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لئے ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا) کے رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہے۔

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب پانی کی سطح نیچی ہوجاتی ہے۔ عکرمہ کے قول کے مطابق (وما تغیض) کے معنی ” اذا غاضت “ کے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رحم کے خون میں ایک دن کے اندر جو کمی ہوجاتی ہے حمل کے اندر اتنا ہی اضافہ ہوجاتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ غیض سے وہ خون مراد ہے جو حاملہ عورت حمل کے دوران دیکھتی ہے۔ یہ دراصل رحم میں موجود حمل کی ساخت میں کمی کا باعث ہوتا ہے اور بیشی سے مراد وہ مدت ہے جو نو ماہ سے بڑھ جائے اس سے کمی کی تلافی ہوتی ہے۔ اس لئے آیت میں یہی اضافہ مراد ہے۔ اسماعیل بن اسحاق کا خیال ہے کہ اگر آیت کی تفسیر مجاہد اور عکرمہ سے مروی قول کے مطابق کی جائے تو گویا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حاملہ عورت کو بھی حیض آتا ہے اس لئے کہ رحم سے جو خون بھی نکلتا ہے وہ یا تو حیض کا خون ہوتا ہے یا نفاس کا۔ رہ گیا استحاضہ کا خون تو وہ ایک رگ سے نکلتا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اسماعیل کا یہ قول ایک بےمعنی سی بات ہے۔ اس لئے کہ رحم سے نکلنے والا خون کبھی حیض و نفاس کا خون ہوتا ہے اور کبھی ان دونوں کے سوا ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد کہ استحاضہ کا خون ایک رگ سے نکلنے والا خون ہوتا ہے اس بات کے لئے مانع نہیں ہے کہ رحم سے نکلنے والا بعض خون کبھی استحاضہ کا خون ہوتا ہے۔ اس لئے کہ آپ کا ارشاد ہے (انما ھو عرق انقطعاوداء عرض یا تو یہ کوئی رگ ہے جو منقطع ہوگئی ہے یا کوئی بیماری ہے جو لاحق ہوگئی ہے) آپ نے یہ بتایا کہ استحاضہ کا خون کبھی کسی عارضہ کے لاحق ہوجانے کی بنا پر ہوتا ہے۔ اگرچہ اس وقت یہ کسی رگ سے خارج نہیں ہوتا۔ نیز اس بات کی راہ میں کون سی چیز حائل ہے کہ رگ کا خون رحم کے راستے خارج ہوجائے۔ اس کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ کوئی رگ منقطع ہوجائے اور اس سے خون بہہ کر رحم میں پہنچ جائے اور پھر وہاں سے خارج ہوجائے اس صورت میں نہ تو وہ حیض کا خون کہلائے گا اور نہ نفاس کا۔ اسماعیل بن اسحاق نے مزید کہا کہ یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا مگر صرف اس بنا پر کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس کی اطلاع دی گئی ہے، اس لئے کہ یہ غیب کی حکایت ہے :“ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس موقع پر اسماعیل یہ بھول گئے کہ ان کا یہ کلیہ اس امر کا موجب ہے کہ ” یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حاملہ عورت کو حیض آتا ہے مگر صرف اس بنا پر کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس کی اطلاع دی گئی ہے “۔ اس لئے کہ اسماعیل کے قاعدے اور کلیے کے مطابق یہ غیب کی حکایت ہے بلکہ اس سے حاملہ عورت کے حیض کی نفی کرنے والوں کے لئے جو گنجائش پیدا ہوجاتی ہے وہ اس کے اثبات کے قائلین کے لئے نہیں پیدا ہوتی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم تھا کہ حاملہ عورت کو حیض نہیں آ رہا تھا کہ اچانک اس نے خون دیکھ لیا۔ اب اختلاف پیدا ہوگیا کہ آیا یہ حیض تھا یا حیض نہیں تھا۔ حیض کا اثبات دراصل احکام کا اثبات ہوگا لیکن اسے کسی شرعی دلیل کے بغیر حیض ثابت کرنا جائز نہیں ہے، اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ حاملہ عورت عدم حیض کی حالت پر برقرار رہے حتیٰ کہ توقیف یعنی شرعی دلیل یا اتفاق امت کی بنا پر اس خون کا حیض ہونا ثابت ہوجائے۔ اس لئے کہ خارج ہونے والے خون کو حیض کا خون ثابت کر کے گویا ایک ایسے حکم کا اثبات ہوجائے گا جس کا علم صرف توقیف کے ذریعے ہوسکتا ہے نیز ہمارا یہ کہنا کہ حیض ہے دراصل رحم سے خارج ہونے والے خون کی خصوصیت اور اس کا حکم بیان کرنا ہے۔ اب خون کی کیفیت کبھی یہ ہوتی ہے کہ وہ یکساں حالت میں رحم سے خارج ہوتا رہتا ہے۔ اگر عورت یہ خون ماہواری کے ایام میں دیکھتی ہے تو اس پر حیض کا حکم عائد کردیا جاتا ہے اور اگر غیر ایام ماہواری میں دیکھتی ہے تو اس پر استحاضہ کا حکم لگا دیا جاتا ہے۔ نفاس کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے جب حیض اس سے زائد اور کوئی امر نہیں ہوتا کہ خاص اوقات میں جاری ہونے والے خون کے لئے کچھ احکام کا اثبات ہوجاتا ہے، اور حیض صرف جاری ہونے والے خون سے عبارت نہیں ہوتا بلکہ اس میں اس کے ساتھ تعلق رکھنے والا حکم بھی اس میں داخل ہوتا ہے اب خون نکلنے پر حکم کے اثبات کا علم صرف توقیف یعنی شرعی دلیل کے ذریعے ہوسکتا ہے اس لئے حاملہ کے رحم سے نکلنے والے خون کے لئے اس حکم کا ثابت قرار دینا درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس سلسلے میں نہ تو توقیف یعنی کوئی شرعی رہنمائی اور دلیل وارد ہوئی ہے اور نہ ہی اس پر امت کا اتفاق ہے۔ اسماعیل بن اسحاق نے اپنے گزشتہ قول پر یہ کہہ کر مزید اضافہ کیا ہے کہ ” یہ بات ان لوگوں پر لازم نہیں آتی جو یہ کہتے ہیں کہ حاملہ کو حیض آتا ہے اس لئے کہ قول باری ہے (ویسئلو منک عن المحیض قل ھو اذی فاعتزلوا النساء فی المحیض۔ پوچھتے ہیں حیض کا کیا حکم ہے کہو، وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو) جب اس آیت میں النساء کا لفظ آگیا تو اس سلسلے میں عموم کالزوم ہوگیا اس لئے کہ خون جب عورت کے فرج سے خارج ہوگا تو اسے کہنا اولیٰ ہوگا الایہ کہ اس کے سوا خون کے کسی اور قسم مثلاً نفاس وغیرہ کا علم ہوجائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ویسئلونک عن المحیض) میں حیض کی صفت کا اس طور پر بیان نہیں کہ اس کے ذریعے حیض دوسری چیز یعنی نفاس وغیرہ سے ممتاز ہوجائے۔ قول باری (قل ھو اذی) کے ذریعہ صرف ان امور کی خبر دی گئی ہے جن کا حیض سے تعلق ہے مثلاً ترک صلوٰۃ اور ترکیب صوم نیز ہمبستری سے اجتناب وغیرہ۔ اسی طرح اس فقرے کے ذریعے حیض کے خون کی نجاست اور اس سے اجتناب کے لزوم کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں کوئی دلالت نہیں ہے کہ حیض کا خون حمل کی حالت میں موجود ہوتا ہے یا موجود نہیں ہوتا۔ اسماعیل کا یہ کہنا ایک بےمعنی سی بات ہے کہ جب آیت میں النساء کا لفظ آگیا تو اس سلسلے میں عموم کالزوم ہوگیا۔ “ اس لئے کہ قول باری ہے (فاعتزلوا النساء فی المحیض) قول باری (فی المحیض) میں یہ بیان نہیں ہے کہ حیض کیا ہے ؟ بلکہ اس کا بیان ہے کہ جب حیض کا ثبوت ہوجائے تو عورتوں سے الگ رہنا واجب ہے۔ اختلاف تو اس میں ہے کہ حمل کی حالت میں نکلنے والا خون آیا حیض ہے یا کچھ اور۔ اب فریق مخالف کا قول خود اس کے لئے حجت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسماعیل کا یہ قول کہ ” حمل کے دوران فرج سے نکلنے والے خون کو حیض قرار دینا اولیٰ ہے “ محض ایک دعویٰ ہے جس کی پشت پر کوئی بربان اور دلیل نہیں ہے۔ اسماعیل کے مدمقابل کے لئے یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ ” خون جب عورت کے فرج سے خارج ہو تو اسے غیر حیض قرار دینا اولیٰ ہوگا حتیٰ کہ دلیل قائم ہوجائے کہ یہ حیض ہے اس لئے کہ ایسے خون کا بھی وجود ہے جو فرج سے نکلتا ہے لیکن حیض نہیں ہوتا۔ اس لئے پوری بحث سے صرف ایسے دعاوی کا ہی حصول ہوا جو ایک دوسرے پر مبنی ہیں اور اس لئے یہ تمام دعاوی پشت پناہ بننے والی کسی دلیل کی محتاج ہیں۔ مطر الوراق نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حاملہ عورت اگر خون دیکھے تو وہ نماز نہیں چھوڑے گی۔ حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : ” ہمارے نزدیک حضرت عائشہ ؓ سے اس روایت میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپ کہا کرتی تھیں کہ حاملہ عورت جب خون دیکھے تو نماز پڑھنا چھوڑ دے اور پاک ہونے کے بعد نماز پڑھے۔ “ اس قول میں یہ احتمال ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے اس سے وہ حاملہ عورت مراد لی ہو جس کے بطن میں دو بچے ہوں اور ایک بچہ پیدا ہوچکا ہو تو سا صورت میں پہلے بچے کی پیدائش کے ساتھ نفاس کی ابتدا ہوجائے گی اور جب تک پاک نہیں ہوگی نماز نہیں پڑھے گی جیسا کہ اس بارے میں امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کا قول ہے۔ اس توجیہ کی اس لئے ضرورت پیش آئی تاکہ حضرت عائشہ ؓ سے مروی دونوں روایتیں درست رہ جائیں اور ایک کی دوسری کے ساتھ تعارض لازم نہ آئے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا اگر وہ خون دیکھے تو وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک حاملہ عورت کو بھی حیض آسکتا ہے۔ ہمارے مسلک کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضور ﷺ سے غزوہٗ اوطاس میں گرفتار ہونے والی قیدی عورتوں کے بارے میں مروی ہے۔ آپ نے فرمایا (لاتوطا حامل حتیٰ تضع ولا حائل حتی تستبری بحیضہ “۔ حاملہ سے جب تک وضع حمل نہ ہو ہمبستری نہ کی جائے اور غیر حاملہ سے جب تک ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم نہ ہو صحبت نہ کی جائے) استبراء رحم کی حمل سے برأت معلوم کرنے کو کہتے ہیں۔ جب شارع (علیہ السلام) نے حیض کے وجود کو رحم کی برأت کی نشانی قرار دیا تو پھر حمل کے وجود کے ساتھ حیض کے وجود کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اس لئے کہ اگر حمل کے وجود کے ساتھ حیض کا بھی وجود ہوتا تو پھر حیض برأت رحم کی نشانی قرار نہ پاتا۔ اس پر حضور ﷺ کا طلاق سنت کے متعلق یہ قول بھی دلالت کرتا ہے (فلیطلقھا طاھرا من غیر جماع اوحاملا قد استیان حملھا۔ پھر شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کو طہر کی حالت میں طلاق دے جس میں ہمبستری نہ ہو یا حمل کی حالت میں طلاق دے جبکہ حمل ظاہر ہوچکا ہو) اگر حاملہ عورت کو حیض آتا تو حضور ﷺ اس کے ساتھ ہمبستری اور اس کی طلاق کے درمیان ایک حیض کے ذریعہ فصل کردیتے جس طرح غیر حاملہ عورت کی صورت میں آپ نے حکم دیا ہے حضور ﷺ نے حاملہ عورت کو جماع کے بعد ایک حیض کے ذریعے جماع و طلاق کے درمیان فصل کئے بغیر طلاق دینے کی اباحت کردی جو اس بات کی دلیل ہے کہ حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا۔