Yusuf 12:5

Yusuf · from ayah 5

12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤی اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا ؕ— اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۟قَالَ يٰبُنَىَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰٓى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَـكَ كَيۡدًا ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "O my son, do not relate your vision to your brothers or they will contrive against you a plan. Indeed Satan, to man, is a manifest enemy.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:5

جواب میں اس کے باپ نے کہا، "بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یعقوب علیہ السلام نے کہا پیارے بچے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وه تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں، شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : بیٹا ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے لیے کوئی سازش تیار کریں، کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا وہ تیرے ساتھ کوئی چا ل چلیں گے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی پُر فریب چال چلیں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تیرے لیے تدبیر کریں گے، کوئی بری تدبیر۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو باپ نے کہا : میرے پیارے بیٹے ! یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا ورنہ وہ تمہارے لیے بری تدبیریں سوچنے لگیں گے کیونکہ شیطان انسان کا صریح دشمن ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے تم اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ وہ تمہارے خلاف کسی سازش میں لگ جائیں۔ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے فرمایا بیٹے، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ اس پر وہ تمہارے خلاف کوئی چال چلنے لگیں، کہ شیطان تو قطعی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے اے میرے پیارے بیٹے اپنے (اس) خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے نہ بیان کرنا۔ ورنہ تمہاری (ایذا) کے لئے کوئی چال چل کر رہیں گے۔ بیشک شیطان تو انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یعقوب نے فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے یقیناً شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ بیٹا ! اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے حق میں کوئی بری چال چلیں گے (نقصان پہنچائیں گے) یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

His father said: "My son! Do not relate your dream to your brothers lest they hatch a plot to harm you. Indeed Satan is man's open enemy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My son, do not relate your dream to your brothers, lest they should devise a plan against you. Surely, Satan is an open enemy for mankind.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My son, do not relate your dream to your brothers, lest they should devise a plan against you. Surely, Satan is an open enemy for mankind.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He (the father) said: "O my son! Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you. Verily, Shaytan is to man an open enemy!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: O my dear son! Tell not thy brethren of thy vision, lest they plot a plot against thee. Lo! Satan is for man an open foe.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "O my son, do not relate your vision to your brothers or they will contrive against you a plan. Indeed Satan, to man, is a manifest enemy.

— Saheeh International

his father said, "My son, do not tell your dream to your brothers lest they plot against you; satan is the sworn enemy of man.

— Muhammad Sarwar

He said: O my son! do not relate your vision to your brothers, lest they devise a plan against you; surely the Shaitan is an open enemy to man.

— Muhammad Habib Shakir

He said: O my son! recount not thine vision unto thy brethren, lest they plot a plot against thee; verily the Satan is unto man an enemy manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Said (the father): "My (dear) little son! relate not thy vision to thy brothers, lest they concoct a plot against thee: for Satan is to man an avowed enemy!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

یعقوب ؑ کی تعبیر اور ہدایات حضرت یوسف کا یہ خواب سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر حضرت یعقوب ؑ نے تاکید کردی کہ اسے بھائیوں کے سامنے نہ دہرانا کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اور بھائی آپ کے سامنے پس ہونگے یہاں تک کہ وہ آپ کی عزت و تعظیم کے لیے آپ کے سامنے اپنی بہت ہی لاچاری اور عاجزی ظاہر کریں اس لیے بہت ہی ممکن ہے کہ اس خواب کو سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر شیطان کے بہکاوے میں آکر ابھی سے وہ تمہاری دشمنی میں لگ جائیں۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نامعقول طریق کار کرنے لگ جائیں اور کسی حیلے سے تجھے پست کرنے کی فکر میں لگ جائیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں تم لوگ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة یُوْسُف 4 اس سے مراد حضرت یوسف ؑ کے وہ دس بھائی ہیں جو دوسری ماؤں سے تھے۔ حضرت یعقوب ؑ کو معلوم تھا کہ یہ سوتیلے بھائی یوسف ؑ سے حسد رکھتے ہیں اور اخلاق کے لحاظ سے بھی ایسے صالح نہیں ہیں کہ اپنا مطلب نکالنے کے لیے کوئی ناروا کارروائی کرنے میں انہیں کوئی تأمل ہو، اس لیے انہوں نے اپنے صالح بیٹے کو متنبہ فرما دیا کہ ان سے ہوشیار رہنا۔ خواب کا صاف مطلب یہ تھا کہ سورج سے مراد حضرت یعقوب ؑ ، چاند سے مراد ان کی بیوی (حضرت یوسف ؑ کی سوتیلی والدہ) اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ یعنی بیٹا تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا ایسا نہ ہو کہ وہ یہ خواب سن کر تمہاری عظمت شان معلوم کر کے تمہیں ہلاک کرنے کی کوئی تدبیر کریں کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ دنیا کے جاہ ومال کی خاطر انسان کو ایسے کاموں میں مبتلاکر دیتا ہے ان آیات میں چند مسائل قابل ذکر ہیں، خواب کی حقیقت اور درجہ اور اس کی قسمیں سب سے اول خواب کی حقیقت اور اس سے معلوم ہونے والے واقعات واخبار کا درجہ اور مقام ہے تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ ؒ نے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ حضرت یعقوب کی تعبیر اور حضرت یوسف کو ہدایت : حضرت یعقوب نے خواب سنتے ہی یہ اندازہ فرما لیا کہ یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے لیکن اس بشارت سے پہلے انہوں نے حضرت یوسف کو تاکید کے ساتھ منع فرمایا کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کے آگے نہ بیان کردینا کہ کہیں وہ حسد سے جل بھن کر تمہارے خلاف کسی سازش میں سرگرم ہوجائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ حضرت یوسف کے کل گیارہ بھائی تھے جن میں سے دس ان کی سوتیلی ماؤں سے تھے۔ صرف سب سے چھوٹے بھائی بن یامین ان کی اپنی ماں سے تھے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 حضرت یعقوب ؑ نے خواب سے اندازہ لگا لیا کہ ان کا یہ بیٹا عظمت شان کا حامل ہوگا، اس لئے انھیں اندیشہ ہوا کہ یہ خواب سن کر اس کے دوسرے بھائی بھی اس کی عظمت کا اندازہ کر کے کہیں اسے نقصان نہ پہنچائیں، بنا بریں انہوں نے یہ خواب بیان کرنے سے منع فرمایا۔ 5۔ 2 یہ بھائیوں کے مکروفریب کی وجہ بیان فرما دی کہ شیطان چونکہ انسان کا ازلی دشمن ہے اس لئے وہ انسانوں کو بہکانے، گمراہ کرنے اور انھیں حسد و بغض میں مبتلا کرنے میں ہر وقت کوشاں اور تاک میں رہتا ہے۔ چناچہ یہ شیطان کے لئے بڑا اچھا موقع تھا کہ وہ حضرت یوسف ؑ کے خلاف بھائیوں کے دلوں میں حسد اور بغض کی آگ بھڑکا دے۔ جیسا کہ فی الواقع بعد میں اس نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: حضرت یعقوب ؑ کو معلوم تھا کہ یوسف ؑ نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ یوسف ؑ کو اتنا اونچا مقام ملنے والا ہے کہ ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ کسی وقت ان کے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے، دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ حضرت یعقوب ؑ کے کل بارہ بیٹے تھے، ان میں سے دوبیٹے یعنی حضرت یوسف ؑ اور بنیامین ایک والدہ سے تھے اور باقی صاحب زادے ان کی دوسری اہلیہ سے تھے، حضرت یعقوب ؑ کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کی وجہ سے حسد نہ ہو، اور شیطان کے بہکائے میں آکر یوسف ؑ کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت یعقوب نے خواب کو راز میں رکھنے کا سبب یہ بتایا کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اور بعض لوگوں کے دلوں کو دوسرے کے خلاف حسد اور بغض سے بھر دیتا ہے اور وہ لوگوں کو آمادہ کرتا رہتا ہے کہ وہ غلطی کریں ، شر کریں اور بڑی بڑی غلطیوں کو وہ لوگوں کے سامنے معمولی کرکے اور خوشنما کرکے پیش کرتا ہے۔ حضرت یعقوب ابن حضرت اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) تھے نبوت کا خاندان تھا۔ انہوں نے خوب سنتے ہی محسوس کرلیا تھا کہ یہ بیٹا ایک تابناک مستقبل کا مالک ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ تابناک مستقبل دین ، اصلاح اور علم و معرفت کے میدان میں ہوگا۔ پھر ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں اس شمع نے روشن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی شیطان ہر وقت انسان کی گھات میں لگا ہے۔ وسوسہ اندازی کر کے بھائیوں کو تیرے خلاف اکسا دے گا۔ کیونکہ خواب کی تعبیر بہت ظاہر تھی، اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو بہرحال خاندان نبوت میں سے تھے، ایسے واضح خواب کا سمجھ لینا کچھ مشکل نہ تھا کہ گیارہ ستارے گیارہ بھائی ہیں اور چاند سورج ماں باپ ہیں گویا یہ سب کسی وقت یوسف (علیہ السلام) کی عظمت شان کے سامنے سر جھکائیں گے چناچہ آخر سورت میں (يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا) 12 ۔ یوسف :100) کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) خواب سے پیشتر ہی یہ محسوس کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ حضرت یعقوب نے سمجھ لیا کہ اس خواب میں یوسف کے گیارہ بھائیوں اور ماں باپ کے بارے میں کوئی اشارہ ہے اور شاید اللہ تعالیٰ میرے اس بیٹے کے لیے کوئی خاص فضیلت ظاہر کرنے والا ہے۔ فَیَکِیْدُوْا لَکَ کَیْدًا ممکن ہے وہ لوگ خواب سن کر اس میں واضح اشارے کو بھانپ لیں تو ان کے اندر حسد کی آگ بھڑک اٹھے اور پھر وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں ‘ تمہیں گزند پہنچانے کی کوشش کریں۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ وہ دشمنی میں کسی کو بھی کسی بھی وقت کوئی بھی پٹی پڑھا سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 سیدنا یعقوب اپنے بیٹوں کے ان منفی قسم کے جذبات سے تو واقف تھے ہی جو وہ سیدنا یوسف کے متعلق رکھتے تھے۔ لہذا آپ نے سیدنا یوسف کو یہ تاکید کردی کہ ایسا واضح خواب وہ اپنے بھائیوں کو نہ بتائیں۔ ورنہ وہ حسد کے مارے جل بھن جائیں گے اور ممکن ہے وہ شیطان کی انگیخت پر سیدنا یوسف کے حق میں بری تدبیر سوچنے لگیں جیسا کہ بعد میں سیدنا یعقوب کا اندیشہ برحق ثابت ہوا اور برادران یوسف نے اس سلسلہ میں جو کرتوتیں کیں ان کا ذکر آگے آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ذہن میں خواب کی تعبیر فورا آگئی۔۔ آپ اپنے چہیتے فرزند حضرت یوسف (علیہ السلام) کو منع کرتے ہیں کہ کہیں اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے نہ دہرا دینا وہ بھائی بھی بہرحال خاندان نبوت ہی سے تھے اور تعبیر خواب سے مناسبت نہ بھی رکھتے جب بھی خواب کا مضمون جذبات رشک وحسد کے برانگیختہ کردینے کو بہرحال کافی تھا۔ ؛ (آیت) ” اخوتک “۔ آپ (علیہ السلام) سے بڑے بھائی آپ کی دوسری ماؤں سے دس تھے گیارہویں بھائی بنیامین آپ ہی کی والدہ کے بطن سے اور آپ (علیہ السلام) سے چھوٹے تھے۔ ان میں سے نبی کوئی بھی نہ تھا۔ (آیت) ’ یبنی “۔ بنی صیغہ تصغیر کا ہے۔ مگر ایسی تصغیر جو تحقیر پر نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم عالا ہے، الٓمرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں کتاب مبین حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب کی ہیں (آیات الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اے اہل مکہ تم اس اس کے معانی کو (پہلے) سمجھو، ہم نے اس قرآن کی وحی آپ کی طرف کرکے آپ کو ایک بہت عمدہ قصہ سنانا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اس سے پہلے بالکل بیخبر تھے اور اِنْ مخففہ ہے ای واِنَّہ وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ابا یعقوب (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال یٰبني لا نقصص رء یاک علی اخوتک باپ نے کہا : بیٹا ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ بیان کرنا۔ بُنَيَّ تصغیر کا صیغہ ہے ‘ کم عمر ہونے کی وجہ سے یا بوجہ انتہائی پیار کے تصغیر کا صیغہ استعمال کیا۔ بغوی نے لکھا ہے : حضرت یوسف اس وقت بارہ سال کے تھے۔ رؤیا نیند میں یا نیند جیسی کسی استغراق کی حالت میں کچھ دیکھنا۔ معمولی دیکھنے کو رویت تاء کے ساتھ کہتے ہیں اور نیند (وغیرہ) میں دیکھنے کو رؤیا بالف مقصورہ کہا جاتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : قوت خیالیہ سے اتر کر اگر کوئی صورت حس مشترک میں چھپ جاتی ہے تو اس کو رؤیا کہا جاتا ہے۔ نفس ناطقہ اور عالم ملکوت میں (تجرد ذاتی کی) مناسبت ہے ‘ اسلئے نفس کو جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف ؑ سے فرمایا بیٹا اس خواب کے بعد اگر اور بھی خواب دیکھو تو اپنے بھائیوں کے سامنے مت بیان کرنا کہ کہیں وہ تمہاری موت کی کوئی تدبیر کریں، بلاشبہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے کہ لوگوں کو حسد پر اکساتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ۔۔ : یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے، سنتے ہی سمجھ لیں گے۔ گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ اور ایک ماں، یہ سب ان کی طرف محتاج ہوں گے، پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) اس وقت ان کی عمر کیا تھی، اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی۔ معالم میں ہے کہ بارہ سال تھی، کچھ لوگ بائبل کے حوالے سے سترہ سال بیان کرتے ہیں، مگر تعیین کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اگر کوئی اسرائیلی روایت ہو بھی تو اسے نہ ہم سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔ ویسے سترہ سالہ جواں جو صحرا میں پلا ہو، اس کے متعلق بھیڑیے کے کھا جانے کا خدشہ کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ بچے تھے، مگر سمجھ بوجھ رکھتے تھے :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 5 اس میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فیکیدوالک کیدا یعنی وہ آپ کو ہلاک کرنے کی سازش کریں گے، کیونکہ اس کی تاویل ظاہر ہے یعض اوقات شیطان ان کو آپ کے ساتھ برائی پر ابھارتا ہے لک میں لام تاکید کے لیے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ان کنتم للرء یا تعبرون۔ (یوسف) میں ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ خواب ایک شریف حالت اور مقام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” میرے بعد مبشرات میں سے صرف سچے، نیک خواب باقی رہ گئے ہیں جن کو نیک آدمی دیکھتا ہے یا اسے دیکھائے جاتے ہیں “۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” تم میں سے جو ازروئے خواب کے زیادہ سچا ہوگا وہی ازروئے کلام کے بھی زیادہ سچا ہوگا “۔ نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک یجتبیک ربک “ یعنی تجھ کو چن لیا ہے (تمہارے رب نے) 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویعلمک من تاویل الاحادیث “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے خواب کی تعیبر۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویعلمک من تاویل الاحادیث “ میں تاویل احادیث سے مراد ہے علم اور حلم کی تاویل (یعنی حقیقت) اور یوسف ان دونوں لوگوں کو خوابوں کی تعبیر بتاتے تھے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰبُنَيَّ : اے میرے چھوٹے سے بیٹے ] [لَا تَقْصُصْ : تم بیان مت کرنا ] [ رُءْيَاكَ : اپنی خواب کو ] [ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ : اپنے بھائیوں پر ] [ فَيَكِيْدُوْا : ورنہ وہ خفیہ تدبیر کریں گے ] [ لَكَ : تیرے لئے ] [ كَيْدًا : جیسے خفیہ تدبیر کرتے ہیں ] [ ان : یقینا ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [لِلْانسَان : انسان کے لئے ] [عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ: ایک کھلا دشمن ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اول تو یہ نصیحت کی کہ تو اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان مت کرنا اور پھر فرمایا کہ میں سمجھ رہا ہوں اور یقین کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرما لے گا اور تمہیں تعبیر خواب کا علم بھی عطا فرمائے گا اور تم پر اپنا انعام پورا فرمائے گا جس میں نبوت کا عطا فرمانا بھی ہے ‘ اللہ تعالیٰ تم پر اور آل یعقوب پر اپنا انعام کامل فرمائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے پردادا ابراہیم (علیہ السلام) پر اور تمہارے دادا اسحاق (علیہ السلام) پر انعام کامل فرمایا ہے۔ (اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (بےشک تیرا رب علم والا ہے حکم والا ہے) اس کے فیصلیعلم اور حکمت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

آغاز قصہ برؤیائے صالحہ و صادقہ قال تعالیٰ اذ قال یوسف لابیہ یابت .... الیٰ .... ان ربک علیم حکیم۔ (ربط) اب یہاں سے احسن القصص کا بیان شروع ہوتا ہے جس کی ابتداء ایک رؤیائے صالح سے ہوئی چناچہ فرماتے ہیں یاد کرو اس وقت کو کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے میرے پیارے باپ میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے تحقیق میں نے خواب میں دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سور اور چاند کو وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں گیارہ ستاروں سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مراد ہیں اور سورج اور چاند سے ان کے باپ اور خالہ مراد ہیں اور سجدہ سے یہ مراد ہے کہ سب ایک دن ان کے آگے جھکیں گے بالجملہ یہ خواب یوسف…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹے کے خواب سے اندازہ لگا لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے حکمت و نبوت سے سرفراز فرمائے گا اور اسے دنیا و آخرت میں شرف و فضیلت کے مقام بلند پر فائز کرے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بعض قرائن سے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ ان کے بڑے بیٹے یوسف اور بنیامین سے حسد رکھتے ہیں اس لیے یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں کے سامنے اپنا خواب بیان کرنے سے منع فرما دیا جس کی تعبیر یہ تھی کہ سب بھائی ان کے سامنے جھکیں گے کیونکہ وہ اس کی تعبیر سمجھ جائیں گے اور مبادا تمہارے ہلاک کرنے کے منصوبے بنانے لگیں۔ ان یعقوب (علیہ السلام) کان شدیدا الحب لیوسف و اخیہ فحسدہ اخوتہ لھذا السبب و ظھر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–6

ربط آیات سورۃ ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کا ” بہت کھول کر بیان کرنے والی کتاب “ کے طور پر تعارف کرایا۔ اپنے اولین مخاطبین کی سہولت کے لئے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا۔ پھر حضور خاتم النبین ﷺ کو خطاب فرمایا کہ ہم آپ پر اس قرآن پاک کو اچھے طریقے سے بیان کرتے ہیں یا یہ کہ ہم اچھی سرگزشت بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ قرآن ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور آپ اس سے پہلے بیخبر تھے یعنی آپ کو اس کا علم نہیں تھا۔ اس سورة مبارکہ میں کئی خاص باتیں بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب دان نہیں اور دوسری بات یہ کہ حقیقی کار ساز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سورة کی تیسری اہم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا۝ 0ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝ 5 أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–5

یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے : واضح ہو کہ حاران سے کوچ کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک کنعان میں آرہے تھے ان کی بودوباش خیموں میں تھی حبرون کے پاس رہا کیے اسحاق (علیہ السلام) بھی یہیں رہے ان کے بیٹے عیص شعیر پہاڑ میں جا بسے اور یعقوب (علیہ السلام) اپنے باپ کی وصیت سے حاران کی طرف اپنے حقیقی ماموں نحور کے بیٹے لابن کے ہاں گئے ان کی دو بیٹیاں تھیں بڑی لیاہ جس کی آنکھیں چوندھی تھیں چھوٹی راحل یاراحیل جو بہت خوبصورت تھی یعقوب (علیہ السلام) اس پر عاشق ہوئے۔ سات برس لابن کی بکریاں اس لیے چراتے پھرے آخر نکاح ہوا تو صبح کو اپنے پاس لیاہ کو دیکھا ماموں سے شکایت کی اس نے ہفتہ بھر کے بعد راحیل سے بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ یٰـبُنَیَّ لاَ تَقْصُصْ رُئْ یَاکَ عَلٰٓی اِخْوَتِکَ فَیَکِیْدُوْا لَکَ کَیْدًا ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ (سورۃ یوسف : 5) (آپ نے فرمایا کہ اے میرے بیٹے تم اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف سازش کریں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ ) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بیٹے کو ہدایت حضرت یعقوب (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لیے وہ اس خواب کی تعبیر یقینا سمجھتے ہوں گے، لیکن آپ ( علیہ السلام) نے اس کی تعبیر کی بجائے وہ بات کہی جس کا کہنا نہایت ضروری تھا۔ آپ جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیشانی سے ابھرتے ہوئے نور کو پہچانتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ جس واقعہ سے ناآشنا تھے اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دو بیویوں سے گیارہ بیٹے تھے۔ جن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان سے چھوٹے بنیامین آپس میں حقیقی بھائی تھے۔ حضرت یوسف نہایت ہی خوبصورت، ذہین و فطین اور سمجھدار تھے۔ ان کی دانش مندی کا اس بات سے انداہ لگائیں کہ ابھی ان کی عمر مبارک آٹھ؍نوسال کی تھی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے گیارہ ستارے، چاند اور سورج سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب کسی کے سامنے بیان کرنے کی بجائے اپنے والد گرامی کے سامنے بیان کیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس خواب کی تعبیر میرے والد گرامی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5: قَالَ یٰـبُنَیَّ (کہا اے میرے بیٹے) قراءت : حفص نے بَنِیَّ کو ہر جگہ فتحہ سے ہی پڑھا ہے۔ لَا تَقْصُصْ رُئْ یَاکَ (تو بیان نہ کر اپنا خواب) یہ الرئویۃ کے معنی میں ہے مگر الرؤیا کا لفظ منام کیلئے خاص ہے بیداری کیلئے استعمال نہیں ہوتا اور صاحب بحرالمحیط نے دونوں میں تاؔ تانیث سے فرق کیا ہے جیسا کہ القربۃ اور القربی میں عَلٰٓی اِخْوَتِکَ فَیَکِیْدُ وْا لَکَ کَیْدًا (اپنے بھائیوں کے سامنے پس وہ تدبیر کریں گے تمہارے متعلق خفیہ تدبیر) یہ نہی کا جواب ہے تقدیر اس طرح ہے ان قصص تھا علیھم کادوک۔ اگر تم نے بیان کردیا تو وہ تیرے خلاف تدبیر کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

خواب کی تعبیر کے ساتھ والد کی نصیحت 5۔” قال یا بنی لا تقصص رویاک علی اخوتک “ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا خواب وحی ہوتا ہے تو یعقوب (علیہ السلام) نے جان لیا کہ جب بھائی اس کو سنیں گے تو حسد کریں گے ۔ اسی لیے اس کو چھپانے کا حکم دیا ۔ ” فیکیدوا لک کیدا “ پس وہ آپ کے ہلاک کرنے کی تدبیریں کریں گے کیونکہ وہ اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے۔ لک کا لام صلہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لربھم یرھبون “ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ان کے قول ” نصحتک ونصحت لک “ اور ” شکر تک “ ” وشکرتک لک “ کی طرح ہے۔ ” ان الشیطان للانسان عدو مبین “ یعنی شیطان اپنی پرانی دشمنی کی وجہ سے ان کو تدبیروں پر ابھارے گا ۔ ابو سلمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر مکمل کرلی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف سے فرمایا يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا : اے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب۔ یعنی تمہارے ساتھ اپنے حسد کی وجہ سے تمہارے خلاف کوئی چال چلیں گے کہ کہیں تم ان کے سردار اور سربراہ نہ بن جاؤ۔ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ : بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ دن رات اور کھلے چھپے اس پر وار کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اس لیے ان اسباب سے دور رہنا بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے الا تقصص رو یاک علی اخوتک فیکید والک کیدا ً ۔ اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ معلوم تھا کہ اگر یوسف اپنے بھائیوں سے اس خواب کا تذکرہ کریں گے تو وہ ان سے حسدکریں گے اور ان کے درپے آزاد ہوجائیں گے۔ یہی بات ان لوگوں سے نعمت کو چھپانے اور ان پر ظاہر نہ کرنے کے جواز کی بنیاد ہے جن کے متعلق یہ خطرہ ہو کہ وہ حسد کریں گے اور درپے آزاد ہوجائیں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے نعمت کے اظہار کا حکم دیا ہے چناچہ ارشاد ہوا واما بنعمۃ ربک فحدث اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

7 ۔ قصے کا آغاز حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب سے : سو یہ اسی احسنیت کا ایک نمونہ اور مظہر ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے کہ قصے کا آغاز ہی وہاں سے فرمایا جارہا ہے جہاں سے دروس و عبر مستفاد ہوتے ہیں۔ نہ کہ میلاد اور اس کے متعلقہ غیر ضروری حالات و واقعات سے۔ جیسا کہ دنیا کی عام کتابوں میں ہوتا ہے۔ سو اس میں بھی ہمارے دور کے ان میلادی بدعتیوں کے لیے بھی بڑا درس عبرت ہے جو میلاد سے متعلق جھوٹے سچے قصے بیان کرنا عشق کا تقاضا اور بڑا کمال سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل توجہ کی چیز پیدائش اور وفات کے دن منانا نہیں بلکہ ان مقدس ہستیوں کی وہ تعلیمات ہوتی ہیں جن کا تعلق انسان کے عمل اور اس کی اصلاح سے ہوتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–6

سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور باپ کی نصیحت تشریح : یہاں خواب کا ذکر ہے سچا خواب دیکھنا یہ مقبول الٰہی ہونے کی نشانی ہے۔ جیسا کہ چھوٹی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کے آگے سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ وہ ضرور کوئی بہت بڑا انعام، برکت یا سعادت پانے والے ہیں۔ یوں بھی اللہ کے پسندیدہ انسان شروع سے ہی نیک مزاج، نرم دل اور پاکیزہ خیالات رکھتے ہیں۔ ان کے والد فوراً سمجھ گئے کہ یوسف کو نبوت ملے گی، خواب کی تعبیر کا مطلب ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے فہم و فراست، معاملہ فہمی، دور اندیشی اور حکمت ملے گی۔ کیونکہ آپ والد کے بڑے ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

آیات 1 تا 6 اسرار و معارف الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول ﷺ کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔ یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔ زبانوں میں تقدس مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ۔ یعنی اس کی تعبیر سنتے ہی سمجھ لیں گے گیارہ بھائی تھے اور ایک باپ، ایک ماں، ان کی طرف محتاج ہوں گے۔ پھر شیطان ان کے دل میں حسد ڈالے گا۔ (موضح) ۔ تعبیر حضرت یعقوب ( علیہ السلام) تو سمجھ گئے تھے اس لئے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں سے ہوشیار رہنے اور انہیں اپنا خواب نہ بتانے کی تلقین فرمائی۔ ایسا نہ ہو کہ وہ خواب کی تعبیر سمجھ جائیں اور ازراہِ حسد انہیں کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی جیسا کہ روایت میں ہے ہر خواب بیان کرنے میں احتیاط کی تعلیم دی ہے۔ فرمایا : لاتحدث بہ الاحبیبا اولبیبا (مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی) ۔ یعنی خواب کسی خیز اندیش یا سمجھ دار کے سامنے ہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:5) یبنی۔ یا حرف ندا۔ بنی۔ ابن سے اسم تصغیر ہے۔ مضاف ی ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ اضافت کے باعث ی کو ی میں مدغم کیا گیا۔ بنی میں تصغیر تحقیر کے لئے نہیں بلکہ شفقت اور محبت کے لئے ہے اور نحوی اسے تصغیر الحبیب کہتے ہیں اے میرے پیارے بیٹے۔ فیکیدوا۔سببیہ ہے فعل مضارع کو نصب دیتا ہے۔ یکیدوا مضارع منصوب بوجہ فاء سببیہ یا جواب نہی میں جو بہ اضمار ان (اضمار مضمر۔ پوشیدہ محذوف) مثال لایقضی علیہم فیموتوا۔ کاد یکید کیدا (باب ضرب) خفیہ تدبیر کرنا۔ فیکیدوا لک کیدا۔ ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی چال ضرور چلیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–6

لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6 لابیہ (اپنے باپ کے لئے) انی رایت (بےشک میں نے دیکھا ہے) احد عشر (گیارہ) کوکب (ستارے) الشمس (سورج) القمر (چاند) سجدین (سجدہ کرنے والے) یبنی (اے میرے پیارے بیٹے) لاتقصص (بیان نہ کر، بیان مت کر ) رویاک (تیرا خواب، آپ کا خواب) اخوتک (تیرا بھائی، آپ کا بھائی) یکیدوا (وہ فریب کریں گے۔ چال چلیں گے عدو (دشمن) یجتبیک (تجھے منتخب کرے گا) یعلمک (تجھے سکھائے گا ) تاویل (انجام۔ تعبیر) الاحادیث (حدیثیں۔ باتیں۔ خواب) ( یتم (پورا کرے گا) علی ابویک (تیرے باپ دادا پر) تشریح آیت نمبر 4 تا 6 سورة یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کے جس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے وہ درحقیقت ان کے صبر و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس خواب کی تعبیر کو سمجھ گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ ایسا مرتبہ عطا فرماوے گا کہ ان کے بھائی ان کے آگے سجدے میں گر جانے پر مجبور ہوں گے اس لئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو منع فرمایا کہ بیٹا اس خواب کا اپنے بھائیوں سے ہرگز ہرگز ذکر نہ کرنا۔ کیونکہ شیطان انسان کا دشمن ہے اور اس میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ اندیشہ کیا کہ ایسا نہ ہو کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی اس خواب کی تعبیر کو سمجھ لیں اور یوسف (علیہ السلام) کے جاہ و مرتبہ پر حسد کرنے لگیں اور کسی مکر و فریب سے یوسف (علیہ السلام) کی ہلاکت کی تدبیر سوچیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یوسف (علیہ السلام) کے دس بھائی سوتیلے تھے اور ایک سگا بھائی ان سے چھوٹا تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کو سب بیٹوں سے زیادہ چاہتے تھے اور یہ بات سوتیلے بھائیوں پر بہت شاق تھی۔ اسی لئے یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو روکا تھا کہ اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہیں۔ خواب میں گیارہ ستاروں سے مراد یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی اور سورج اور چاند سے مراد یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی بیوی (یوسف (علیہ السلام) کی سوتیلی ماں) ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مشفق باپ نے بتایا ، کہ تعبیر اچھی ہے ، اپنے بھائیوں سے نہ کہنا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے ، کیونکہ اس طرح ان کے دل میں حسد ورشک کی آگ جل اٹھے گی ، اس آیت میں انسان کی اس نفسیت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان بالطبع دوسروں کے عروج کو نہیں دیکھ سکتا ، ایک باپ کی اولاد ہیں ، بھائی بھائی ہیں ، مگر یہ منظور نہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کسی بات میں سبقت لے جائے ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

5 انہوں نے کہا اے میریے پیارے بیٹے تو اس خواب کو اپنے بھائیوں سے ذکر نہ کی جو اور ان کے روبرو بیان نہ کیجئو ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی فریب آمیز تدبیر کریں گے بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے یعنی اس خواب کو سن کر وہ تیری ایذا رسانی اور تجھ کو نیچا دکھانے کی تدبیر اور دائوں کی گھات میں لگ جائیں گے اور گوبن یامین سے یہ خطرہ نہ ہو کیونکہ وہ حقیقی بھائی ہے اور باقی علاقی لیکن اتنا خدشہ ضرور ہے کہ وہ دوسرے بھائیوں کو سنادے اس لئے تم اس خواب کا کسی سے بھی ذکر نہ کرو اور کسی بھائی کے آگے مت بیان کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کی تعبیر ظاہر ہے سنتے ہی سمجھ جائیں گے گیارہ بھائی تھے ایک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–5

ف 3۔ کیونکہ آپ نے نہ کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی صاحب کتاب سے فائدہ حاصل کیا تھا اور عوام میں ایسی کامل صحت کے ساتھ یہ قصہ مشہور نہ تھا پس اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ قرآن وحی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹے کی بات کو بڑے غور سے سنا اور فرمایا کہ بیٹا یہ بات بھائیوں کو نہ بتاتا ۔ 5 یوسف (علیہ السلام) نے اپنی بات جب اپنے والد سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کو سنائی تو ظاہر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اس وقت موجود نہ تھے اس لئے یعقوب (علیہ السلام) نے خواب سنا اور بہت ہی مسرور ہوئے اور ان کو نبوت اور علوم الہیہ کی بشارت سنائی اور اس کے ساتھ ہی ایک ہدایت بھی بیٹے کو کی کہ دیکھو اپنا یہ خواب بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ انسان کا اصل دشمن تو شیطان ہے جو ہر انسان کے اندر بیٹھا ہے اور خصوصاً وہ لوگ جو اس کے اشاروں پر لگنے والے ہیں ان سے وہ کیا کچھ کرا کر دکھا دیتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The response given by Sayyidna Ya` qub X11 appears in verses 5 and 6 in the following words: قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُ‌ؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ` He said, 'My son, do not relate your dream to your brothers lest they [ by finding out your greatness to come ] should devise against you a plan. Surely, Satan is an open enemy for mankind ...' [ for He seduces people to take such action for the sake of worldly wealth and power ]. Worth mentioning here are some religious issues which emerge from these verses: The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

4. As the meanings of the dream were quite obvious, Prophet Jacob (peace be upon him) had a genuine fear that Joseph’s ten step brothers would become all the more envious of him when they would hear this. So he warned his righteous son not to mention his dream to his brothers, for he knew that those sons of his did not bear the moral character worthy of the sons of a Prophet, and, therefore they were up to any evil design against him out of mere envy. As regards to the dream, the sun in it was Prophet Jacob (peace be upon him), the moon his wife, Prophet Joseph’s step mother, and the eleven…

Read the full tafseer →