بشارت اور نصیحت
حضرت یعقوب ؑ اپنے لخت جگر حضرت یوسف ؑ کو انہیں ملنے والے مرتبوں کی خبر دیتے ہیں کہ جس طرح خواب میں اس نے تمہیں یہ فضیلت دکھائی اسی طرح وہ تمہیں نبوت کا بلند مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر سکھا دے گا۔ اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دے گا یعنی نبوت۔ جیسے کہ اس سے پہلے وہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کو اور حضرت اسحاق ؑ کو بھی عطا فرما چکا ہے جو تمہارے دادا اور پردادا تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے کہ نبوت کے لائق کون ہے ؟
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 5
یعنی نبوت عطا کرے گا۔
سورة یُوْسُف 6
”تَاوِیل الاَحَا دیثِ“ کا مطلب محض تعبیر خواب کا علم نہیں ہے جیسا کہ گمان کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے معاملہ فہمی اور حقیقت رسی کی تعلیم دے گا اور وہ بصیرت تجھ کو عطا کرے گا جس سے تو ہر معاملہ کی گہرائی میں اترنے اور اس کی تہہ کو پالینے کے قابل ہوجائے گا۔
سورة یُوْسُف 7
بائیبل اور تلمود کا بیان قرآن کے اس بیان سے مختلف ہے۔ ان کا بیان یہ ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے خواب سن کر بیٹے کو خوب ڈانٹا اور کہا، اچھا اب تو یہ خواب دیکھنے لگا ہے کہ میں اور تیری ماں اور تیرے سب بھائی تجھے سجدہ کریں گے۔ لیکن ذرا غور کرنے سے بآسانی یہ…
Read the full tafseer →چھٹی آیت میں اللہ تعالیٰ یوسف ؑ سے چند انعامات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اول كَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے انعامات و احسانات کے لئے آپ کا انتخاب فرما لیں گے جس کا ظہور ملک مصر میں حکومت اور عزت و دولت ملنے سے ہوا دوسرے وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ اس میں احادیث سے مراد لوگوں کے خواب ہیں معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تعبیر خواب کا علم سکھا دیں گے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعبیر خواب ایک مستقل فن ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کسی کو عطا فرما دیتے ہیں ہر شخص اس کا اہل نہیں۔
مسئلہتفسیر قرطبی میں ہے کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد نے فرمایا کہ یوسف ؑ کے اس خواب کی…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔
حضرت یعقوب نے جب خواب سنا تو چونکہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ نبوت کا آغاز رویائے صادقہ ہی سے ہوتا ہے اور اس خواب کا ظاہر ہی بتا رہا تھا کہ یہ سچا خواب ہے اور خواب دیکھنے والے کے لیے ایک شان دار مستقبل کی پیشین گوئی کررہا ہے اس وجہ سے انہوں نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے ٹھیک ہے۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب تمہارا رب تمہیں منصب نبوت کے لیے منتخب…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی جس طرح تجھے تیرے رب نے نہایت عظمت والا خواب دکھانے کے لئے چن لیا، اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدگی بھی عطا کرے گا اور خوابوں کی تعبیر سکھائے گا۔ تاویل الاحادیث کے اصل معنی باتوں کی تہہ تک پہنچنا ہے۔ یہاں خواب کی تعبیر مراد ہے۔
6۔ 2 اس سے مراد نبوت ہے جو یوسف ؑ کو عطا کی گئی۔ یا وہ انعامات ہیں جن سے مصر میں یوسف ؑ نوازے گئے۔
6۔ 3 اس سے مراد حضرت یوسف ؑ کے بھائی، ان کی اولاد وغیرہ ہیں، جو بعد میں انعامات الٰہی کے مستحق بنے۔
Read the full tafseer →2: یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس خواب کے ذریعے یہ بشارت دی ہے کہ سب تمہارے فرماں بردار بنیں گے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں نبوت سے سرفراز کرکے تمہیں بہت سے مزید نعمتوں سے نوازے گا۔
Read the full tafseer →حضرت یعقوب کی سوچ اس اہم خواب کے بارے میں یہ بتا رہی ہے کہ حضرت یوسف اللہ کے ہاں برگزیدہ بن گئے ہیں اور ان پر اسی طرح کا فضل و کرم ہوچکا ہے کہ جس طرح ان کے باپ اور دادا پر ہوچکا ہے یعنی حضرت اسحاق اور ابراہیم پر ، عربی میں باپ اور دادا دونوں کے لیے " اب " کا لفظ بولا جاتا ہے۔
البتہ آیت کا یہ حصہ ویعلمک من تاویل الاحادیث " تجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھائے گا " تاویل کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بات کے انجام کا علم ہوجائے۔ احادیث سے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ حضرت یوسف کو نبی کا منصب عطا کرے گا ، اسے سچا شعور دے گا ، دور رس بصیرت دے گا جس کی وجہ سے وہ ہر بات کے انجام اور نتائج کو پہلے سے…
Read the full tafseer →4 یعنی جس طرح ایسا اچھا خواب دکھلایا، اسی طرح محض جاذبہ رحمت سے اپنی بارگاہ قرب میں تجھ کو خصوصی مقام عطا فرمائے گا۔ چناچہ نبوت عطاء فرمائی اور طرح طرح کی ظاہری و باطنی نوازشیں کیں۔
5 مثلا تعبیر رؤیا، یعنی خواب سن کر اس کے اجزاء کو ذہانت و فراست سے ٹھکانے پر لگا دینا۔ یا ہر بات کے موقع و محل کو سمجھنا، اور معاملات کے عواقب و نتائج کو فورا پرکھ لینا۔ یا خدا اور پیغمبروں کے ارشادات اقوام و امم کے قصص اور کتب منزلہ کے مضامین کی تہہ تک پہنچ جانا، یہ سب چیزیں " تاویل الاحادیث " کے تحت میں مندرج ہوسکتی ہیں۔
6 یعنی اخروی نعمتوں کے ساتھ دنیاوی نعمتیں عطا فرمائے گا۔ نبوت کے ساتھ بادشاہت میں حصہ دے گا…
Read the full tafseer →آیت 6 وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ
حضرت یعقوب نے سمجھ لیا کہ میرے بیٹوں میں سے یوسف کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے چن لیا ہے۔
وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ
یہاں پر تاویل حدیث کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک خوابوں کی تعبیر اور دوسرے معاملہ فہمی اور دور بینی باتوں کی کنہ تہ تک پہنچ جانا ‘ حقیقت تک رسائی ہوجانا۔
وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ
یہاں حضرت یعقوب نے کسر نفسی کے سبب حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کے ساتھ اپنا نام نہیں لیا۔
Read the full tafseer →5 سیدنا یوسف کے خواب کے واضح نتائج :۔ اس خواب سے سیدنا یعقوب نے خود جو نتائج نکالے اور سیدنا یوسف کو بتائے وہ یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا یوسف (علیہ السلام) سے اپنے دین کی خدمت کا کام لے گا اور انھیں تاویل الاحادیث سکھائے گا۔ تاویل الاحادیث سے مراد صرف خوابوں کی تعبیر ہی نہیں بلکہ ہر بات کے موقع و محل کو سمجھنا معاملات کے نتائج کو فوراً پرکھ لینا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے مضامین کی تہ تک پہنچ جانا وغیرہ سب کچھ شامل ہے اور تیسرے یہ کہ اللہ انھیں اس نعمت نبوت سے فیض یاب فرمائے گا جو ان کے دو باپوں سیدنا اسحاق اور سیدنا ابراہیم کو عطا کرچکا ہے۔
اس مقام پر سیدنا یعقوب نے از راہ تواضع اور انکساری…
Read the full tafseer →9۔ (اے یوسف نبوت کے لیے) قال الحسن یجتبیک ربک بالنبوۃ (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) فرما رہے ہیں کہ جس طرح اس خواب کے ذریعہ سے تمہاری آئندہ عزت افزائی کی ایک جھلک تمہیں دکھا دی گئی ہے اور اشارہ کردیا گیا ہے کہ تمہیں اپنے گیارہ بھائیوں اور ماں باپ پر سرداری حاصل ہوگی، اس طرح اور بھی عزتیں تمہارے لیے پردۂ غیب میں منتظر ہیں۔
10۔ خوابوں کی صحیح تعبیر بھی اللہ کی ایک نعمت ہے اگرچہ اس نعمت میں زندگی رزق صحت، دولت وغیرہ دوسری نعمتوں کی طرح مسلم کے ساتھ غیر مسلم بھی شریک ہوں۔ (آیت) ” تاویل الاحادیث “۔ کے عام ومتداول معنی تو تعبیر خواب ہی کے ہیں۔ قال مجاھد والسدی تاویل الاحادیث عبارۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم عالا ہے، الٓمرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں کتاب مبین حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب کی ہیں (آیات الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اے اہل مکہ تم اس اس کے معانی کو (پہلے) سمجھو، ہم نے اس قرآن کی وحی آپ کی طرف کرکے آپ کو ایک بہت عمدہ قصہ سنانا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اس سے پہلے بالکل بیخبر تھے اور اِنْ مخففہ ہے ای واِنَّہ وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ابا یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →وکذلک یجتبیک ربک اور تیرا رب (جس نے یہ خواب دکھایا جس سے تیری بزرگی اور برتری ظاہر ہو رہی ہے ‘ اسی طرح وہ) تجھے (نبوت و حکومت اور دوسرے بڑے کاموں کیلئے) منتخب کرلے گا۔
اجتباء (باب افتعال) جَبَبْتُ الشّیء (میں نے اس چیز کو اپنے لئے منتخب کرلیا ‘ چھانٹ لیا) سے ماخوذ ہے۔ جَبَبْتُ الْمَاء فی الحوض میں نے حوض میں پانی جمع کرلیا۔
ویعلمک من تاوین الاحادیث اور تجھے خوابوں کی تعبیر سکھا دے گا۔ خواب اگر سچا ہو تو حدیث ملک (الہام ملکوتی) ہوتا ہے اور جھوٹا ہو تو حدیث شیطان (تخویف شیطانی) ہوتا ہے۔ تعبیر نتیجۂ خواب ہوتی ہے اور تعبیر کا رجوع خواب کی طرف ہوتا ہے ‘ اسلئے اس کو تاویل کہتے ہیں (اوْل لوٹنا ‘…
Read the full tafseer →(6) اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں نبوت کے لیے منتخب کرے گا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دے گا اور نبوت واسلام دے کر تم پر اور تمہارے ذریعے یعقوب ؑ کے خاندان پر انعام کامل کرے گا اور اسی نعمت پر تمہارا انتقال ہوگا۔
جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے دادا، پردادا یعنی ابراہیم ؑ واسحاق ؑ کو نبوت واسلام کی نعمت سے نوازا، واقعی تمہارا پروردگار ان نعمتوں کو جاننے والا اور اس کی تکمیل میں حکمت والا ہے یا یہ کہ وہ تمہارے خواب کو جاننے والا اور جو پریشانی تمہیں لاحق ہوگی اس میں حکمتوں والا ہے۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ : ”یَجْتَبِیْ“ ”جَبَی یَجْبِیْ“ (ض) کے باب افتعال ”اِجْتِبَاءٌ“ کا فعل مضارع ہے، جس کا معنی جمع کرنا، کسی خوبی کی بنا پر چن لینا ہے۔ راغب نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کے ”اِجْتِبَاءٌ“ (چن لینے) سے مراد اسے اپنے ایسے فیض کے ساتھ خاص کرلینا ہے جس سے اس کو اپنی کسی کوشش کے بغیر مختلف قسم کی نعمتیں حاصل ہوجائیں، یہ چیز انبیاء کو حاصل ہوتی ہے یا انھیں جو ان کے قریب ہوں، مثلاً صدیقین، شہداء۔ (مفردات) بیشک اعلیٰ درجے کا اجتباء انبیاء، صدیقین اور شہداء کو حاصل ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے چننے کے بھی کئی درجے ہیں، جیسا کہ آپ اپنے متعلق سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 6
وکذٰلک یجتبیک ربک میں کاف ضمیر محل نصب میں ہے کیونکہ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ارشاد : کمآ اتمھا علیٰ ابویک من قبل میں کاف اور ما کافہ ہے۔ ایک قول یہ ہے : وکذٰلک یعنی جس طرح اس نے خواب کے ذریعے تجھے عزت عطا فرمائی پس اسی طرح وہ تجھے چن لے گا اور خواب کو سچا ثابت کرکے تیرے اوپر احسان فرمائے گا۔ مقاتل نے کہا : تیرے لیے سجدوں کے ذریعے (تجھے چن لے گا) حضرت حسن نے کہا : نبوت کے ذریعے، اجتباء سے مراد مجبیٰ کے لیے امور کی بلندی کو اختیار کرنا ہے۔ اس کی جبیت الشیئ ہے یعنی میں نے اس کو حاصل کرلیا۔ اسی سے جبیت الماء فی الحوض ہے، یہ نحاس کا قول ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک یجتبیک ربک “ یعنی تجھ کو چن لیا ہے (تمہارے رب نے)
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویعلمک من تاویل الاحادیث “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے خواب کی تعیبر۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویعلمک من تاویل الاحادیث “ میں تاویل احادیث سے مراد ہے علم اور حلم کی تاویل (یعنی حقیقت) اور یوسف ان دونوں لوگوں کو خوابوں کی تعبیر بتاتے تھے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ يَجْتَبِيْكَ : چن لے گا تم کو ] [ رَبُّكَ : تمہارا رب ] [ وَيُعَلِمُكَ : اور وہ سکھائے گا تم کو ] [ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : باتوں کا انجام نکالنا (یعنی خوابوں کی تعبیر بتانا)] [وَيُـــتم : اور وہ تمام کرے گا ] [ نِعْمَتَهٗ : اپنی نعمت کو ] [ عَلَيْكَ : تم پر ] [وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) کے پیروکاروں پر ] [ كَمَآ : جیسے کہ ] [ اَتمــهَا : اس نے تمام کیا اس کو ] [عَلٰٓي اَبَوَيْكَ : تمہارے دونوں باپوں (یعنی باپ دادا) پر ] [ مِنْ قَبْلُ : پہلے سے ] [ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) پر ] [ وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اول تو یہ نصیحت کی کہ تو اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان مت کرنا اور پھر فرمایا کہ میں سمجھ رہا ہوں اور یقین کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرما لے گا اور تمہیں تعبیر خواب کا علم بھی عطا فرمائے گا اور تم پر اپنا انعام پورا فرمائے گا جس میں نبوت کا عطا فرمانا بھی ہے ‘ اللہ تعالیٰ تم پر اور آل یعقوب پر اپنا انعام کامل فرمائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے پردادا ابراہیم (علیہ السلام) پر اور تمہارے دادا اسحاق (علیہ السلام) پر انعام کامل فرمایا ہے۔ (اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (بےشک تیرا رب علم والا ہے حکم والا ہے) اس کے فیصلیعلم اور حکمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آغاز قصہ برؤیائے صالحہ و صادقہ
قال تعالیٰ اذ قال یوسف لابیہ یابت .... الیٰ .... ان ربک علیم حکیم۔
(ربط) اب یہاں سے احسن القصص کا بیان شروع ہوتا ہے جس کی ابتداء ایک رؤیائے صالح سے ہوئی چناچہ فرماتے ہیں یاد کرو اس وقت کو کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے میرے پیارے باپ میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے تحقیق میں نے خواب میں دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سور اور چاند کو وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں گیارہ ستاروں سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مراد ہیں اور سورج اور چاند سے ان کے باپ اور خالہ مراد ہیں اور سجدہ سے یہ مراد ہے کہ سب ایک دن ان کے آگے جھکیں گے بالجملہ یہ خواب یوسف…
Read the full tafseer →8:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ ” وَ یُعَلِّمُکَ “ اور ” وَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ “ الخ ” یَجْتَبِیْکَ “ کی تفسیر ہے۔ ” مِنْ تَاوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ “ میں من بعضیہ ہے۔ تاویل الاحادیث سے امام مجاہد اور سدی کے نزدیک خوابوں کی تعبیر مراد ہے، حسن بصری کے نزدیک معاملات کے انجام اور امام زجاج کے نزدیک کتب سماویہ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی احادیث کے معانی کا بیان مراد ہے (خازن، مدارک، روح) ۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں یہ نبوت کی طرف اشارہ ہے اور اس سے کتب سابقہ اور دلائل توحید کا بیان مراد ہے۔ ای احادیث الامم والکتب و دلائل التوحید ھفو اشارۃ الی النبوۃ (قرطبی ج 9 ص 129) اور تمام نعمت سے دینی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کا ” بہت کھول کر بیان کرنے والی کتاب “ کے طور پر تعارف کرایا۔ اپنے اولین مخاطبین کی سہولت کے لئے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا۔ پھر حضور خاتم النبین ﷺ کو خطاب فرمایا کہ ہم آپ پر اس قرآن پاک کو اچھے طریقے سے بیان کرتے ہیں یا یہ کہ ہم اچھی سرگزشت بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ قرآن ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور آپ اس سے پہلے بیخبر تھے یعنی آپ کو اس کا علم نہیں تھا۔
اس سورة مبارکہ میں کئی خاص باتیں بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب دان نہیں اور دوسری بات یہ کہ حقیقی کار ساز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سورة کی تیسری اہم…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ كَـمَآ اَتَمَّــہَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰہِيْمَ وَاِسْحٰقَ 0ۭ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 6ۧ
اجتباء
: الجمع علی طریق الاصطفاء . قال عزّ وجل : فَاجْتَباهُ رَبُّهُ [ القلم/ 50] ، وقال تعالی: وَإِذا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قالُوا : لَوْلا اجْتَبَيْتَها [ الأعراف/ 203] ، أي : يقولون : هلّا جمعتها، تعریضا منهم بأنک تخترع هذه الآیات ولیست من اللہ . واجتباء اللہ العبد : تخصیصه إياه بفیض إلهيّ يتحصل له منه أنواع من النعم بلا سعي من العبد، وذلک…
Read the full tafseer →1 ؎ بہت کچھ جاننا ہر حکمت و تدبیر سے واقف ہے قابل نعمت کو اپنی مصلحت سے دیتا ہے۔ 12 منہ
1 ؎ تاویل الاحادیث کے معنی تعبیر خواب بھی ہے اور ہر بات کی اصل حقیقت بیان کرنا اور اس کی حکمت اور مصلحت اور اس کے ہر پہلو پر واقفیت حاصل کرنا بھی یعنی یوسف ( علیہ السلام) کو ہم نے اس تدبیر سے ملک مصر میں عزت و وقعت دی اور حکمت و علم بھی دیا جس میں تعبیر خواب بھی ہے۔
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَعَلٰٓی اٰلِ یَعْقُوْبَ کَمَآ اَتَمَّھَا عَلٰٓی اَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ ط اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 6)
(اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا۔ اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت تمام کی۔ بیشک تمہارا پروردگار سب کچھ جاننے والا، بہت دانا ہے۔ )
خواب کی تعبیر
حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے صاحبزادے سے خواب سن کر جان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کھلے الفاظ میں خواب کی تعبیر کرنے کی بجائے اشارات کی زبان میں تعبیر کرتے ہیں۔ خواب کی تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ میرے بیٹے اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پیغام اور کام کے لیے منتخب فرمائے گا اور تجھے خوابوں کی تعبیر، معاملات کو سمجھنے اور سمجھانے کی دانشمندی کی نعمت سے بدرجۂ اتم سرفراز کرئے گا جو انعام و اکرام رب کریم نے میرے خاندان یعنی تیرے دادا اور پڑ دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو عنایت فرمائے تھے۔ یقیناً رب تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔ اور اس کے فرمان اور کام میں بےحد و حساب حکمتیں مضمر ہوا کرتی ہیں۔ بیٹے…
Read the full tafseer →6: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) اس چنائو کی طرح جس پر تیرا خواب دلالت کر رہا ہے۔ یَجْتَبِیْکَ رَبُّکَ ( تیر ارب تجھے چنے گا) تیرا انتخاب کرے گا۔ اجتباء، چنائو، کے معنی میں آتا ہے۔ اس کا اصل جبیت الشیء جبکہ اس چیز کو اپنے لئے حاصل کرے۔ اور جبیت الماء فی الحوض کا معنی میں نے پانی حوض میں جمع کیا۔ وَیُعَلِّمُکَ ( اور وہ تمہیں سکھائے گا) یہ ابتدائی جملہ ہے تشبیہ میں داخل نہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا ھو یعلمک۔ مِنْ تَاْ وِیْلِ الْاَ حَادِیْثِ (خواب کی تعبیر) نمبر 1۔ خواب کی تفسیر و وضاحت۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خواب کی سب سے زیادہ تعبیر کرنے والے تھے۔ یا نمبر 2۔ انبیاء (علیہم السلام) کی باتوں اور اللہ…
Read the full tafseer →تفسیر : 6۔” وکذلک یجتبیک ربک “ تجھے چن لے گا ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو کہا جیسا کہ اس خواب کے ذریعے تیرا مرتبہ بلند کیا ، اسی طرح تیرا رب تجھے چن لے گا ۔ ” ویعلمک من تاویل الا حادیث “ تاویل سے مرادخوابوں کی تعبیر ہے۔ اس کا نام تاویل رکھا گیا ہے اس لیے کہ اس کا معاملہ اس کی طرف لوٹتا ہے جو اس نے خواب میں دیکھا تھا اور تاویل اس کو کہتے ہیں جس کی طرف کسی کا م کا انجام ہو۔ ” ویتم نعمتہ علیک “ یعنی نبوت کے ساتھ ” وعلی آل یعقوب “ یعنی ان کی اولاد پر کیونکہ ان کی ساری اولاد انبیاء (علیہم السلام) تھے۔
” کما اتمھا علی ابویک من قبل ابراہیم واسحق ان ربک علیم حکیم “ اور بعض نے کہا ہے…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ : اور اسی طرح چن لے گا تجھ کو تیرا رب۔ یعنی اللہ جل شانہ تجھ کو اوصاف جلیلہ اور مناقب جمیلہ کی نعمتوں سے نواز کر چن لے گا۔ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا۔ یعنی خوابوں کی تعبیر اور کتب سماویہ میں وارد ہونے والے سچے واقعات کی تاویل وغیرہ۔ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ : اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا۔ اور دنیا و آخرت میں تجھ پر اپنی نعتم کی تکمیل کرے گا۔ یعنی وہ دنیا میں بھی تجھ کو بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
تاویل الاحادیث کیا ہے
قول باری ہے ویعلمک من تاویل الاحادیث اور تجھے باتوں کو تہہ کو پہنچنا سکھائے گا۔ تاویل سے مراد وہ مفہوم ہے جس کی طرف ایک معنی پلٹتا اور اس کی طرف راجع ہوتا ہو ۔ ایک چیز کی تاویل اس کے مرجع کو کہتے ہیں ۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ تاویل احادیث سے مراد خوابوں کی تعبیر ہے۔ ایک قول کے مطابق تاویل احادیث اللہ کی آیات ، اس کی توحید کے دلائل اور ان کے سوا دین کے دوسرے امور میں ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔ تاویل احادیث سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا رب تم کو برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی تہ تک پہنچنے کے علم سے سرفراز فرمائے گا۔ جس میں خوابوں کی تعبیر بھی آجاتی ہے اور دوسری سب باتیں بھی نہ کہ صرف خوابوں کی تعبیر۔ جس طرح کہ عام طور پر سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ اور یہ علم آپ کو آپ کا رب براہ راست بغیر کسی واسطہ کے از خود اپنے لطف و کرم سے عطا فرمائے گا۔ پس نبی کا معلم و استاد براہ راست اللہ پاک خود ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں کسی کے آگے زانوئے تلمذ طے نہیں کرتا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین۔ بہرکیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور باپ کی نصیحت
تشریح : یہاں خواب کا ذکر ہے سچا خواب دیکھنا یہ مقبول الٰہی ہونے کی نشانی ہے۔ جیسا کہ چھوٹی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کے آگے سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ اشارہ تھا اس بات کی طرف کہ وہ ضرور کوئی بہت بڑا انعام، برکت یا سعادت پانے والے ہیں۔ یوں بھی اللہ کے پسندیدہ انسان شروع سے ہی نیک مزاج، نرم دل اور پاکیزہ خیالات رکھتے ہیں۔ ان کے والد فوراً سمجھ گئے کہ یوسف کو نبوت ملے گی، خواب کی تعبیر کا مطلب ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے فہم و فراست، معاملہ فہمی، دور اندیشی اور حکمت ملے گی۔ کیونکہ آپ والد کے بڑے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6
اسرار و معارف
الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول ﷺ کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔
یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔
زبانوں میں تقدس
مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ خواب دکھایا اور اس طرح کا خواب کسی دوسرے کو نہیں دکھایا اسی طرح۔
8 ۔ شاہ صاحب کا ترجمہ ہے ”: نوازے گا تجھ کو “۔ پھر اللہ کا بندے کو نوازنا یہ ہے کہا سے اپنے فضل و رحمت کے لئے خاص کرے کہ بغیر کسی کوشش کے اس پر طرح طرح کے فتوحات ہوں یہ درجہ انبیا کو حاصل ہوتا ہے صدیقین، شہدا اور صالحین کو۔ (روح) ۔
9 ۔ ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسحاق ( علیہ السلام) کا نام لیا اپنا نہ لیا عاجزی سے۔ (موضح) ۔ یہ دونوں ” ابویک “ سے عطف بیان ہیں۔ (روح) ۔
10 ۔ کہ اس کے بندوں میں کون سرفرازی کے لائق ہے۔ (کذافی الروح) ۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” نوازش اللہ کی سجدے سے سمجھے اور ” تاویل…
Read the full tafseer →(12:6) کذلک۔ اول کاف حرف تشبیہ ذ اسم اشارہ ل علامت اشارہ بعید۔ آخری کاف حرف خطاب (واحد مذکر) ایسے ہی۔ اسی کی طرح ۔ ای مثل ذلک الاجتبائ۔
یجتبیک۔ مضارع واحد مذکر غائب اجتباء افتعال سے مصدر ۔ جبی مادہ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تجھ کو منتخب کر رہا ہے۔ چن رہا ہے۔ مجتبی برگزیدہ۔ چنا ہوا۔ منتخب شدہ ۔
الاحادیث۔ کہانیاں ۔ باتیں۔ حدیث کی جمع۔ ہر وہ کلام جو انسان تک پہنچ سکے۔ خواہ بذریعہ سماعت۔ خواہ بذریعہ وحی۔ عالم خواب میں ہو یا بیداری کی حالت میں ۔ اس کو حدیث کہتے ہیں۔
تاویل۔ اس کا مادہ اول ہے بروزن تفعیل مصدر ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کا اصل کی طرف رجوع ہونا۔ اور جس مقام کی طرف کوئی چیز لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6
لابیہ (اپنے باپ کے لئے) انی رایت (بےشک میں نے دیکھا ہے) احد عشر (گیارہ) کوکب (ستارے) الشمس (سورج) القمر (چاند) سجدین (سجدہ کرنے والے) یبنی (اے میرے پیارے بیٹے) لاتقصص (بیان نہ کر، بیان مت کر ) رویاک (تیرا خواب، آپ کا خواب) اخوتک (تیرا بھائی، آپ کا بھائی) یکیدوا (وہ فریب کریں گے۔ چال چلیں گے عدو (دشمن) یجتبیک (تجھے منتخب کرے گا) یعلمک (تجھے سکھائے گا ) تاویل (انجام۔ تعبیر) الاحادیث (حدیثیں۔ باتیں۔ خواب) ( یتم (پورا کرے گا) علی ابویک (تیرے باپ دادا پر)
تشریح آیت نمبر 4 تا 6
سورة یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کے جس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے وہ درحقیقت ان کے صبر و…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تتم کو تمہارے پروردگار نے کو اب دکھاکر برگزیدہ کیا جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ تمہارا مرتبہ تمہارے بھائیوں سے بلند ہے اور یہ خواب تمہاری بزرگی کی دلیل ہے۔ اسی طرح تمہارا پروردگار تم کو حکومت اور سلطنت کے ساتھ برگزیدہ کرے گا اور تم کو خواب کی تعبیریں اور کتب منزلہ کے مشکل مقامات تعلیم فرمائے گا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کرے گا۔ یعنی نبوت عطاکرے گا۔ اور یعقوب (علیہ السلام) کی نسل میں بھی نبوت کو قائم کرے گا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارے دادا اور پر دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو برگزیدہ کیا اور اپنی نعمت کاملہ ان کو مرحمت…
Read the full tafseer →[5] اصل میں '' تاویل الاحادیث '' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کے معنی محض تعبیر خواب ہی کا علم نہیں جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے۔ لفظ احادیث کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے، علم و حکمت و فہم کے مسائل سب اس میں شامل ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 3) سچے خواب نبوت کا ایک حصہ ہیں ، کیونکہ قلب جس قدر پاک اور مصفا ہوگا ، اسی قدر معارف عالیہ کے اکتساب کی اس میں استعداد زیادہ ہوگی ، انبیاء جو کچھ بذریعہ خواب دیکھتے ہیں وہ بالکل حق اور حقیقت ہوتی ہے ، اس طرح ان میں یہ ملکہ بھی ہوتا ہے کہ خواب کی صحیح صحیح تعبیر معلوم کرلیں ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو خوشخبری دی کہ تمہیں علم التعبیر سے بہرہ ور کیا جائے گا ، تم خواب کی سچی تعبیر بتا سکو گے ، نیز تم پر اللہ کا فضل ہوگا ، اور تم ابراہیم واسحق (علیہ السلام) کی مسند پر بیٹھو گے ۔
فن تعبیر وجدان صحیح اور ذوق پر موقوف ہے ، علمی طور پر اس کی جزئیات مدون نہیں ۔
Read the full tafseer →6 اور جس طرح تجھ کو اللہ تعالیٰ نے اس خواب سے نوازا ہے اور تجھ کو یہ عزت حاصل ہوگی کہ سب تیرے مطیع اور منقاد ہوں گے اسی طرح تیرا رب تجھ کو برگزیدہ کرے گا اور تجھ کو نبوت کے لئے منتخب فرمائے گا اور تجھ کو باتوں کی صحیح کل بٹھانی اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمائے گا اور خوابوں کی تعبیر دینا سکھائیگا اور اللہ تعالیٰ اسی طرح تجھ پر اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان پر کامل انعام فرمائے گا اور اپنی نعمتوں کو پورا کرے گا جس طرح اب سے پہلے تیرے پردادا اور داد ا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرچکا ہے یقینا تیرا پروردگار بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے…
Read the full tafseer →ف 4۔ یہ بشارتیں جو یعقوب (علیہ السلام) نے دیں یا تو اس خواب سے سمجھے یا وحی سے۔
Read the full tafseer →یعقوب (علیہ السلام) نے اس ممانت کے ساتھ ہی بیٹے کے خواب کی تعبیر بھی بتانا شروع کر دی
۔ 6 یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا خواب میں جس طرح کی بشارت دی گئی ہے بالکل ویسے ہی تیرا پروردگار تجھے تیرے ان بھائیوں پر فضیلت اور برتری و بزرگی عطا فرما کر اپنے کام کے لئے تجھے منتخب فرمائے گا اور تجھے علم خواب اور باتوں کی تہہ تک پہنچنا بھی سکھائے گا اور تجھے منصب نبوت اور فرمانروائی ایسے ہی عطا فرمائے گا جیسا کہ اس سے پہلے تیرے بزرگوں حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کو عطا کرچکا
ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے خاندان پر اپنی نعمت کی تکمیل کردی ہے یقینا…
Read the full tafseer →Expertise in the Interpretation of Dreams is Bestowed by Allah on whom He wills
In the sixth verse, Allah Ta ا ala has promised some blessings for Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) : (1) كَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ (And in the like manner your Lord will choose you ...) that is, H-e will choose him for His blessings and favours, something which manifested itself when wealth, recognition and power came into his hands in the country of Egypt. (2) وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ - (and teach you the interpretation of events ...). The word: الْأَحَادِيثِ : 'al-ahadith' here means the…
Read the full tafseer →5. That is,“Bless him with Prophethood.”
6. The Arabic words of the text do not mean merely“the interpretation of dreams”, as has been generally understood. They are comprehensive and imply also this: Allah will bless you with the full understanding of the problems of life and their solutions and will give you the insight to reach at the reality of every matter.
7. Here it should be noted that the response of Prophet Jacob to the dream of Prophet Joseph (peace be upon them), according to the Bible and the Talmud, was quite different from this:“And he told it to his father, and to his…
Read the full tafseer →