Explained with ayahs 7–10
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف
فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة یُوْسُف 8
اس سے مراد حضرت یوسف ؑ کے حقیقی بھائی بنیامین ہیں جو ان سے کئی سال چھوٹے تھے۔ ان کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت یعقوب ؑ ان دونوں بےماں کے بچوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اس سے محبت کی وجہ یہ بھی تھی کہ ان کی ساری اولاد میں صرف ایک حضرت یوسف ؑ ہی ایسے تھے جن کے اندر ان کو آثار رشد وسعادت نظر آتے تھے۔ اوپر حضرت یوسف ؑ کا خواب سن کر انہوں نے جو کچھ فرمایا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس بیٹے کی غیر معمولی صلاحیتوں سے خوب واقف تھے۔ دوسری طرف ان دس بڑے صاحبزادوں کی سیرت کا جو حال تھا اس کا اندازہ بھی آگے کے واقعات سے ہوجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یوسف ؑ کے اور ان کے (علاتی) بھائیوں کے قصہ میں (خدا کی قدرت اور آپ کی نبوت کے) دلائل موجود ہیں ان لوگوں کے لئے جو (آپ سے ان کو قصہ) پوچھتے ہیں (کیونکہ یوسف ؑ کو ایسی بےکسی اور بےبسی سے سلطنت و حکومت تک پہنچا دینا یہ خدا ہی کا کام تھا جس سے مسلمانوں کے لئے عبرت اور قوت ایمان حاصل ہوگی اور یہود جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لئے یہ قصہ پوچھا تھا ان کے لئے اس میں دلیل نبوت مل سکتی) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ ان (علاتی) بھائیوں نے (باہمی مشورہ کے طور پر) یہ گفتگو کی کہ (یہ کیا بات ہے کہ یوسف اور ان کا (حقیقی) بھائی (بنیامین) ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں حالانکہ (وہ دونوں کم عمری کی وجہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات نمبر 7 تا 22:
حضرت یوسف ؑ کی سرگزشت : اوپر کی تمہید کے بعد اب آگے حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کی اصل سرگزشت شروع ہوتی ہے چونکہ اس سگرگزشت کے سنانے سے اصل مقصود داستان سرائی نہیں بلکہ ان بہت سے سوالوں کا جواب دینا تھا جو اس دور میں اپنوں اور بیگانوں دونوں ہی کے ذہنوں کے اندر نبی ﷺ اور آپ کی دعوت سے متعلق پیدا ہو رہے تھے اس وجہ سے ابتداء ہی میں متنبہ کردیا کہ لقد کان فی یوسف واخوتہ ایات للسائلین (یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں)۔ یعنی جو لوگ اس الجھن میں ہیں کہ آگے کیا ہوگا اور کس طرح ہوگا وہ اپنے اس طرح کے سوالوں کے جواب اس…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی اس قصے میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور نبی کریم کی نبوت کی صداقت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں ان بھائیوں کے نام اور ان کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔
Read the full tafseer →3: یہ بظاہر ان کافروں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ بنو اسرائیل کس وجہ سے فلسطین چھوڑ کر مصر میں آباد ہوئے تھے ؟ یعنی اگرچہ ان کے پوچھنے کا اصل مقصد تو اپنے خیال کے مطابق آنحضرت ﷺ کو بےبس کرنا ہے، لیکن اگر ان میں ذرا بھی عقل ہو تو اس واقعے میں ان کے لیے بہت سی عبرتیں ہیں۔ اول تو یہ سبق ہی کیا کم ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر اس واقعے کا جاری ہونا آپ کی نبوت کی کھلی دلیل ہے۔ دوسرے حضرت یوسف ؑ کے خلاف جتنی سازشیں کی گئیں، چاہے وہ ان کے بھائیوں نے کی ہوں، یا زلیخا اور اس کی سہیلیوں نے، آخر کار ان ساری سازشوں کا پول کھل گیا، اور عزت اور فتح تمام تر حضرت یوسف ؑ ہی کے…
Read the full tafseer →اب پردہ گرا ہے ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ برادران یوسف اس میں متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کی حرکات سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ اہم واقعات پیش آنے والے ہیں۔
لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ الخ : حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصے میں بہت سی آیات اور نشانیاں ہیں اور ان کے ذریعہ انسان بڑے حقائق تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ افتتاحیہ کلمات قارئین کو متوجہ متنبہ اور بات کی اہمیت کی تحریک کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ کلمات اس طرح ہیں جس طرح اسٹیج پر سے پردہ گرا دیا جاتا ہے اور اسٹیج کے اوپر جو کچھ ہوتا ہے ، وہ سامنے نظر آنے لگتا ہے کیونکہ ان کلمات کے بعد متصلاً برادران…
Read the full tafseer →9 یعنی جو لوگ اس طرح کے واقعات دریافت کر کے کسی نتیجہ پر پہنچنا چاہتے ہیں ان کے لیے یوسف اور ان کے بھائیوں کی سرگزشت میں ہدایت و عبرت کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ اس قصہ کو سن کر قلوب میں حق تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کا نقش جم جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی صداقت کا بین ثبوت ملتا ہے کہ آپ باوجود امی ہونے اور کسی کتاب یا معلم سے استفادہ نہ کرنے کے ایسے منقح و منضبط تاریخی حقائق کا انکشاف فرما رہے ہیں۔ جن کے بیان کی بجز اعلام ربانی کے کوئی توجیہ نہیں ہوسکتی۔ خصوصا قریش مکہ کے لیے (جو یہود کے اکسانے سے اس قصہ کے متعلق حضور ﷺ سے سوال کر رہے تھے) اس واقعہ میں بڑا عبرت آموز سبق ہے کہ جس طرح حضرت یوسف کو…
Read the full tafseer →آیت 7 لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖٓ اٰيٰتٌ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ
یعنی جن لوگوں قریش مکہ نے یہ سوال پوچھا ہے اور جن لوگوں یہود مدینہ کے کہنے پر پوچھا ہے ان سب کے لیے اس قصے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اگر وہ صرف اس ایک قصے کو حقیقت کی نظروں سے دیکھیں اور اس پر غور کریں تو بہت سے حقائق نکھر کر ان کے سامنے آجائیں گے۔
Read the full tafseer →6 قصہ یوسف اور سائلین یعنی کفار مکہ کے حالات میں مماثلت کی وجوہ :۔ یہ پوچھنے والے کفار مکہ تھے انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے جواب میں جو سیدنا یوسف اور ان کے بھائیوں کے حالات زندگی آئے ہیں وہ خود انھیں کے حالات پر منطبق ہونے والے ہیں کفار مکہ اور برادران یوسف کے تقابلی مطالعہ میں جو عبرت کی نشانیاں یا وجوہ مماثلت پائی جاتی ہیں ان کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔
Read the full tafseer →12۔ یعنی عام طالبان حق اور جو بندگان علم کے لیے عموما اور ان اہل کتاب کے لیے خصوصا جنہوں نے امتحان کی غرض سے رسول اللہ ﷺ سے اس باب میں سوال کیا تھا۔ (آیت) ” ایت “۔ یعنی حق تعالیٰ کے کمال قدرت و حکمت کی نشانیاں۔ مطلب یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے باہمی معاملات سے بڑے بڑے اخلاقی اور دینی سبق حاصل ہوسکتے ہیں اگر کوئی لینا چاہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت للسائلین پوچھنے والوں کیلئے یوسف اور ان کے (اعلاتی) بھائیوں کے قصے میں (توحید کی) بکثرت نشانیاں (ا اللہ کی قدرت و حکمت کی دلیلیں) ہیں۔
حضرت یعقوب کے ماموں کی بیٹی لیا بنت لیان کے بطن سے آپ کے چھ بیٹے اور دینہ نام کی ایک بیٹی تھی۔ سب سے بڑا روبیل تھا ‘ دوسرا شمعون ‘ تیسرا لادی ‘ چوتھا یہودا ‘ پانچواں ریاں ‘ چھٹا یشحر اور چار بیٹے زلفہ اور یلہمہ دو باندیوں کے بطن سے تھے : دان ‘ تفتالی ‘ جاو ‘ آشر۔ کذا قال البغوی۔ بغوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ لیا کے مرنے کے بعد حضرت یعقوب نے اس کی بہن راحیل سے نکاح کرلیا تھا جس کے بطن سے دو بیٹے یوسف اور بنیامین پیدا ہوئے۔ اس طرح کل بارہ…
Read the full tafseer →(7) یوسف ؑ اور ان کے واقعہ میں سوال کرنے والوں کے لیے دلائل موجود ہیں، یہ آیت علماء یہود کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ۔۔ : یہاں سے یوسف ؑ کے قصے کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔ ”اٰيٰتٌ“ ”آیَۃٌ“ کی جمع ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ عبرتیں، نصیحتیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں جو اس واقعہ میں ذکر ہوئی ہیں، چونکہ وہ بہت سی ہیں اور بہت سے لوگوں سے متعلق ہیں، مثلاً ایک طرف بھائیوں کی نفرت، حسد، بدگمانی، اس زمانے کے لوگوں کے حالات، آزاد لوگوں کو غلام بنا لینا، ان کا انداز حکومت، ان کے قوانین، شیطان کا بہکانا، اپنوں کے ظلم، پیاروں سے جدائی، بےوطنی، غلامی کے صدمے، حسن کی وجہ سے آنے والی آزمائشیں، عزیز کی بیوی کے عشق کی شورش اور طغیانی اور یوسف ؑ کی عفت کا امتحان، پھر قید خانے کی آزمائش ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 7 تا 9
لقد کان فی یوسف واخوتہٖ اٰیٰت للسآئلین یعنی جس نے ان کی گفتگو کے بارے میں پوچھا۔ اہل مکہ نے ایت واحد پڑھا ہے اور ابوعبیدہ نے اٰیٰت جمع کو اختیار کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ خبر کثیر ہے۔ نحاس نے کہا : یہاں ” ایۃ “ عمدہ قرات ہے یعنی جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خبر کے بارے میں ان کو ان کے بارے میں جو خبر دی گئی اس میں ان کے لیے نشانی ہے، کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور آپ مکہ میں تھے انہوں نے کہا : ہمیں انبیاء میں سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں خبر دیجئے جو شام میں تھا، اس کے بیٹے کو مصر لے جایا گیا تو وہ اس پر رویا یہاں تک کے نابینا ہوگیا ؟ اور مکہ میں اہل کتاب میں…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت “ میں آیات سے مراد خواب کی تعبیر ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت للسآئلین “ کے بارے میں فرمایا کہ جو اس کے بارے میں سوال کرتے تو وہ اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے تم پر قصہ بیان کیا اور تم کو اس کی خبر دی۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت للسآئلین “ کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص یوسف اور اس کے بھائیوں کے بارے میں سوال کرے تو یہ ان کی خبر اور واقعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا :
4:۔ ابن…
Read the full tafseer →[لَقَدْ كَان : بیشک (موجود) رہی ہیں ] [ فِيْ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) (کے قصّے) میں ] [وَاِخْوَتِهٖٓ : اور ان (علیہ السلام) کے بھائیوں (کے قصّے) میں ] [اٰيٰتٌ: کچھ نشانیاں ] [ لِلسَّاۗىِٕلِيْنَ : پوچھنے والوں کے لئے ]
ترکیب : (آیت۔ 7) کان کی خبر مَوْجُوْدًا محزوف ہے اور اٰیٰتٌ اس کا اسم ہے۔ اس میں آفاقی صداقت کا بیان ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا تھا اس وقت بھی اس میں نشانیاں تھیں، نزول قرآن کے وقت بھی تھیں، آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ اس لئے کَانَ کا ترجمہ حال میں بھوکا۔ (آیت۔ 9) طَرَحَ کا ایک مفعول آتا ہے۔ اِطْرَحُوْا کا مفعول ہ کی ضمیر ہے جبکہ اَرْظًا ظرف ہونے کی وجہ سے یَخْلُ محزوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مشورہ کہ اسے قتل کر دو یا کسی دور جگہ لے جا کر ڈال دو
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا جو واقعہ ہے اس میں سوال کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں مفسرین نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے آزمائش کے طور پر رسول اللہ ﷺ سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا واقعہ معلوم کیا تھا قرآن کریم میں واقعہ بیان کردیا گیا جسے رسول اللہ ﷺ نے سنا دیا لہٰذا سوال کرنے والوں کیلئے لائی ہوئی بات کے دلائل قائم ہوگئے کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں ممکن ہے کہ بعض یہود نے بطور امتحان سوال کیا ہو اور بعض نے آپ سے تلاوت کرتے ہوئے سنا ہو پھر دوسروں کو سنانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →9:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے اس قصے میں سوال کرنیوالوں کے لیے عبرت اور اطمینان کی نشانیاں ہیں۔ سائلین سے یا تو وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے یہود مدینہ کے کہنے پرحضور ﷺ سے سوال کیا تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی آل و اولاد ملک شام سے مصر میں کس طرح منتقل ہوئی۔ اس طرح یہ آنحضرت ﷺ کی صداقت پر بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ نے وحی کے ذریعے یہ قصہ پورا پورا صحیح تفصیلات کے ساتھ بیان فرما دیا۔ یا سائلین سے معترضین مراد ہیں جو توحید پر اعتراض کرتے تھے اس قصے میں ان کے لیے بھی بہت بڑی عبرت و نصیحت ہے کیونکہ قصے کی ہر کڑی سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نبی، ولی یا فرشتہ عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات
اس سے پہلے خواب کا ذکر ہوچکا ہے جو یوسف (علیہ السلام) نیبچپن میں دیکھا تھا۔ جب اس کا ذکر اپنے باپ کے پاس کیا تو انہوں نے منع کیا کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ حسد کریں گے اور تمہیں ضرور پہنچائیں گے اس کے ساتھ باپ نے اپنے فرزند کو تسلی بھی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں باتوں کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی بتلائے گا۔ اس میں خواب کی تعبیر کا علم بھی شامل ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرے گا۔ جیسا کہ اس نے تمہارے آبائو اجداد ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر اپنی نعمتوں کا اہتمام کیا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِہٖٓ اٰيٰتٌ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ 7
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخْوَتِہٖٓ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 7)
(بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ )
ایک تنبیہ
یہ آیت آئندہ آیت سے شروع ہونے والی سرگزشت کے لیے تمہید ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں مشرکین کا سوال بظاہر بنی اسرائیل کی تاریخ سے متعلق ہے لیکن قرآن کریم انھیں اس واقعہ کے آئینہ میں اس وقت حق و باطل کے سلسلے میں برپا ہونے والی کشمکش کے حوالے سے جو سوالات ذہنوں میں پیدا ہورہے تھے ان کی طرف توجہ دلا رہا ہے اور ان کو یہ باور کرا رہا ہے کہ تم اگر غور سے ان واقعات کو دیکھو تو تمہیں ان سوالوں کا جواب مل جائے گا جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اے اہل مکہ جس واقعہ کے بارے میں تم نے سوال کیا ہے۔ اس کو واقعہ برائے واقعہ کے طور پر سننے کی بجائے اسے سبق آموزی اور عبرت حاصل کرنے کے لیے سنو۔
اس سورة کے تعارف میں عرض کیا ہے کہ اہل مکہ نے حسب عادت رسول معظم کو لاجواب اور پریشان کرنے کے لیے سوال کیا تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کنعان میں رہائش پذیر تھے۔ ان کا بیٹا یوسف کس طرح مصر کا حکمران بنا۔ اور بنی اسرائیل کیونکہ مصر پہنچے ؟ اس سوال کا تفصیلی جواب دینے سے پہلے اہل مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے متعلق تم نے جو سوال کیا ہے۔ اگر تم اس کے جواب پر غور کرو تو تمہارے لیے اس واقعہ…
Read the full tafseer →7: لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخْوَتِہٖٓ (یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں میں) ان کے واقعہ میں اور باتوں میں اٰیٰتٌ (نشانات) علامات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔ اور حکمت باری کے ہر چیز میں ہونے کا ثبوت ہے۔ قراءت : مکی نے واحد آیۃٌ پڑھا ہے۔ لِّلسَّآ ئِلِیْنَ (سوال کرنے والوں کیلئے) نمبر 1۔ جو ان کے واقعات کے متعلق دریافت کرے۔ اور ان کو پہچانے نمبر 2۔ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے دلائل ہیں۔ ان لوگوں کیلئے جنہوں نے یہود سے یا ان کے کہنے پر خود سوال کیا اور آپ نے کسی سے واقعہ سننے کے بغیر بتلایا اور کسی کتاب سے پڑھنے کے بغیر بیان کردیا۔ بھائیوں کے نام یہ ہیں۔ نمبر 1۔ یہودا، نمبر 2۔…
Read the full tafseer →7۔” لقد کان فی یوسف واخوتہ “ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں بکثرت نشانیاں ہیں ۔ ان کے نام روبیل اور بعض نے روبین نون کے ساتھ کہا ہے یہ بھائیوں میں سے بڑا تھا۔ شمعون ، لاوی ، یہوذا ، زبالون اور بعض نے کہا کہ زبلون ، آشر اور ان کی ماں لیا بنت لابان یہ یعقوب (علیہ السلام) کے ماموں کی بیٹی تھی۔
یعقوب (علیہ السلام) کی دو باندیوں سے چار بچے ہوئے۔ ایک باندی کا نام زلقۃ اور دوسری کا یلھمۃ ہے اور بچوں کے نام وان ، نفتالی اور بعض نے کہا ہے نفتولی ، جاد اور اشیر۔
پھر لیا کی وفات ہوگئی تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بہن راحیل سے نکاح کیا تو ان سے یوسف (علیہ السلام) اور بنیا مین پیدا…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖٓ اٰيٰتٌ: یقیناً یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں ہیں۔ یعنی قصہ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں۔ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ : پوچھنے والوں کے لیے۔ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذیعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے، کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے، تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
تاویل الاحادیث کیا ہے
قول باری ہے ویعلمک من تاویل الاحادیث اور تجھے باتوں کو تہہ کو پہنچنا سکھائے گا۔ تاویل سے مراد وہ مفہوم ہے جس کی طرف ایک معنی پلٹتا اور اس کی طرف راجع ہوتا ہو ۔ ایک چیز کی تاویل اس کے مرجع کو کہتے ہیں ۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ تاویل احادیث سے مراد خوابوں کی تعبیر ہے۔ ایک قول کے مطابق تاویل احادیث اللہ کی آیات ، اس کی توحید کے دلائل اور ان کے سوا دین کے دوسرے امور میں ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →13 ۔ قصہ یوسف میں موجود نشانیوں کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ قصہ یوسف میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں جو دلالت کرتی ہیں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پر۔ اور جو دلالت کرتی ہیں حضرت خاتم الانبیاء۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ کی حقانیت و صداقت پر۔ اللہ کی قدرت و وحدانیت پر۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عظمت کردار، رفعت شان پر اور ابتلاء و آزمائش بھری اس داستان عبرت و بصیرت پر جو کہ انسانی زندگی اور انسان کی فکر و فہم میں انقلاب برپا کردیتی ہے۔ سو اس آیت کریمہ سے اصل قصہ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سرگزشت کے شروع کرنے سے پہلے یہ تنبیہ فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سیدنا یوسف کو نقصان پہنچانے کے لیے بھائیوں کی سازش
تشریح : جیسا کہ آیات میں بیان ہوچکا تو سب بھائیوں نے حسد کے مارے یوسف (علیہ السلام) کو ٹھکانے لگانے کے لیے تین تجویزیں رکھیں اور پھر آخری فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو کنوئیں میں پھینک دیا جائے، لہٰذا اس فیصلہ پر عمل کرنے کی تیاری شروع ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ منقول ہے کہ قریش ہونے نے یہود کے اشارے پر۔ امتحاناً آنحضرت ﷺ سے یہ سوال کیا کہ حضرت ابراہیم ﷺ کا وطن شام تھا تو بنی اسرائیل مصر میں کیسے آباد ہوگئے حتیٰ کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے دور میں فرعون سے نجات حاصل کی۔ اس پر یہ سورت اتری اور فرمایا کہ سوال کرنے والے کیلئے اس قصہ میں بہت سی نشانیاں ہیں انہوں نے ایک بھائی پر حسد کیا تو آخر کا۔ اسی کے متحاج ہوئے۔ اسی طرح یہود و حسد کی رہے ہیں اور قریش نے آنحضرت ﷺ کو وطن سے نکالا تو آخر کار اسی کا عروج ہوا۔ (کذافی الموضح) مگر یہ روایات اسرائیلی ہیں۔ حافط ابن کثیر (رح) نے ان کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے بالمقابل دوسری ایک دو روایت بحوالہ ابن جریر…
Read the full tafseer →(12:7) فی یوسف۔ یوسف ۔ بوجہ معرفہ و عجمہ غیر منصرف ہے۔ فی یوسف ای فی خبر یوسف۔ خبر (مضاف محذوف) یوسف۔ مضاف الیہ۔ السائلین۔ پوچھنے والے۔ جو ئندگان علم۔ طالبان حق۔ سوال کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 01
کان (ہے۔ تھا) السائلین (پوچھنے والے) احب (زیادہ محبوب ہے) عصبۃ (جماعت۔ قوت) ضلل (گمراہ۔ بھٹکنا) اقتلوا (قتل کردو) اطرحوا (ڈال دو ۔ پھینک دو ) یخل (خاص ہوجائے۔ خالی ہوجائے) وجھ (چہرہ) قائل (کہنے والا) القوہ (اس کو ڈال آؤ) غیبت (گہرا۔ اندھا) الجب (کنواں) یلتقت (اٹھا لے گا) السیارۃ (قافلہ) فعلین (کرنے والے)
تشریح آیت نمبر 7 تا 01
دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اور دنیا کے دوسرے لوگوں کا رویہ بڑا مختلف ہوتا ہے۔ لوگ دنیا میں اس شخص کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو طاقت ور ہوتے ہیں لیکن ماں باپ اولاد میں سے ان بچوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہوں۔ حضرت یعقوب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بارہ اولاد کا ذکر
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے پہلی بی بی لیا بنت لیان آپ کے ماموں کی بیٹی ہیں، ان سے چھ فرزند ہوئے : (1) رد سبیل۔ (2) شمعون۔ (3) لادی۔ (4) یہودا۔ (5) زبولون۔ (6) یشجر اور چار بیٹے حرم سے ہوئے : (1) ردان۔ (2) نفتالی۔ (3) حاوا۔ (4) آستر ان کی مائیں زلفہ اور بلسہ ہیں کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بہن یعنی سالی راحیل سے نکاح فرمایا۔ ان سے دو فرزند ہوئے : (1) یوف علیہ السلام۔ (2) بنیامین، یہ بارہ فرزند ہوئے ان کو اسباط کہتے ہیں۔ جب یوسف (علیہ السلام) کو خوان کے چھپانے کی تاکید کی اس وقت اتفاق سے یوسف (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →[6] مراد ہیں یہود جنہوں نے امتحان کی غرض سے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
یوسف (علیہ السلام) کیوں باپ کو پیارے تھے !
(ف 1) اب یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں شروع ہوتی ہیں ، بھائی ملے کرتے ہیں ، کہ یوسف کو تاریک کنوئیں میں ڈال دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اس کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے تاکہ ہم یوسف (علیہ السلام) کی جگہ لے لیں اور باپ ہم سے زیادہ محبت کرنے لگے ۔
بات یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خلعت نبوت ملنے والا تھا ، یہ باپ کے ہونہار اور سعادتمند صاحبزادے تھے ، باپ کو بالطبع ان سے زیادہ انس تھا ، اور یہ محبت دوسروں کو ناگوار تھی اور قرآن حکیم سے یہ ثابت نہیں ہوتا ، کہ یہ لوگ بھی انبیاء تھے ، بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بدگمانی اور ان کے دوسرے افعال سے…
Read the full tafseer →7 بلاشہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصے میں ان لوگوں کے لئے آپ کی نبوت کے بڑے دلائل ہیں جو اس واقعہ سے متعلق آپ سے سوال کرنیوالے اور پوچھنے والے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نقل ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ کچھ بتائو کہ ہم محمد (علیہ السلام) سے پوچھیں سچ آزمانے کو کہا کہ پوچھو کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن شام ہے اس کی اولاد بنی اسرائیل مصر میں کیوں کر آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرکون سے قضیہ ہوا یہ سورت اتری فرمایا کہ پوچھنے والوں کو نشانیاں ہیں قریش کو یہ ! ایک بھائی کا حسد کیا اطاعت قبول نہ کی آخر اللہ نے اس کی طرف محتاج کیا اور اسی طرح یہود وحسد کرکے خراب ہوئے اور…
Read the full tafseer →ف 1۔ یوسف (علیہ السلام) کو ایسی بےکسی اور بےبسی سے اس سلطنت و رفعت کو پہنچا دینا یہ خدا ہی کا کام تھا اس سے مسلمانوں کو جو کہ کسی قصہ کے خواہاں تھے عبرت اور قوت ایمان حاصل ہوگی اور یہود کو کہ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ یہ قصہ پوچھا تھا دلیل نبوت مل سکتی ہے اگر غور کریں۔
Read the full tafseer →پوچھنے والوں کے لئے یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں بڑی نشانیاں ہیں
۔ 7 ” پوچھنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں “ اس فقرہ نے ان احادیث و آثار کے تصدیق فرما دی جن احادیث و آثار می یہ بیان ہوا کہ قریش نے یہود کے ایماء پر یہ سوال کیا تھا کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو بتائیں کہ بنی اسرائیل مصر میں کیسے آئے ؟ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی مصر میں آمد یوسف (علیہ السلام) اور آپ کے بھائیوں کی آمد مصر ہی سے ہوئی تھی اس سے پوچھنے والوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ کیسے آئے ؟ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کے یہاں آنے کی ابتداء کیونکر ہوئی ؟ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بھائی جب اپنے بھائی سے حسد کریں تو وہ کیا کچھ کر گزرتے…
Read the full tafseer →Commentary
In the first of the fourteen verses cited above (7), a notice of warning has been served to the effect that the story of Yusuf, peace be on him, should not be taken as a common story - because, in it, there are great signs of the perfect power of Allah Ta’ ala, and His instructions, both for those who have asked and for those who would seek guidance through it.
The statement made here could be explained by saying that the signs referred to here are for the Jews who had put the Holy Prophet ﷺ to test by asking him to relate this story to them. When, according to a narration, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8. This brother was Benjamin. He was the real younger brother of Prophet Joseph, and was his junior by many years. Their mother had died at the birth of Benjamin. That is why Prophet Jacob paid special attention to these two motherless children. Besides, Joseph was the only son, in whom he had discerned signs of righteousness and capabilities. Accordingly, when Prophet Joseph narrated his dream to him, he was all the more convinced of his future greatness, and was perturbed at the idea lest his brothers conspired against him out of envy, if they came to know of his dream, which was self…
Read the full tafseer →