Explained with ayahs 7–10
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف
فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة یُوْسُف 8
اس سے مراد حضرت یوسف ؑ کے حقیقی بھائی بنیامین ہیں جو ان سے کئی سال چھوٹے تھے۔ ان کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت یعقوب ؑ ان دونوں بےماں کے بچوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اس سے محبت کی وجہ یہ بھی تھی کہ ان کی ساری اولاد میں صرف ایک حضرت یوسف ؑ ہی ایسے تھے جن کے اندر ان کو آثار رشد وسعادت نظر آتے تھے۔ اوپر حضرت یوسف ؑ کا خواب سن کر انہوں نے جو کچھ فرمایا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس بیٹے کی غیر معمولی صلاحیتوں سے خوب واقف تھے۔ دوسری طرف ان دس بڑے صاحبزادوں کی سیرت کا جو حال تھا اس کا اندازہ بھی آگے کے واقعات سے ہوجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں یوسف ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کے بھائیوں نے اپنے والد یعقوب ؑ کو دیکھا کہ وہ یوسف ؑ سے غیر معمولی محبت رکھتے ہیں جو ان کے بڑے بھائیوں کو حاصل نہیں اس لئے ان پر حسد ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی طرح ان کو یوسف ؑ کا خواب بھی معلوم ہوگیا جس سے انہوں نے یہ محسوس کیا ہو کہ ان کی بڑی شان ہونے والی ہے اس سے حسد پیدا ہوا اور آپس میں گفتگو کی کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے والد کو بہ نسبت ہمارے یوسف اور اس کے حقیقی بھائی بنیامین سے زیادہ محبت ہے حالانکہ ہم دس ہیں اور ان سے بڑے ہیں گھر کے کام کاج سنبھالنے کی قوت رکھتے ہیں اور یہ دونوں چھوٹے بچے ہیں جو کچھ کام نہیں کرسکتے ہمارے والد…
Read the full tafseer →اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ۭ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ۔
برادران یوسف کا غصہ : عصبۃ کے معنی گروہ، جتھہ اور جماع کے ہیں، خاص طور پر وہ گروہ جس کے اندر خون کی عصبیت بھی موجود ہو۔ بدویانہ دور زندگی میں، جب منظم حکومتوں کا وجود نہیں تھا، حمایت و مدافعت کا تمام تر انحصار خاندان اور قبیلہ کی عصبیت ہی پر ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ باعزت اور باثر وہ خاندان سمجھا جات جس کے اندر حمایت اور مدافعت کے لیے اٹھنے والے نوجوان سب سے زیادہ ہوں۔ اسی خاندان کو قوم و قبیلہ کی سربراہی حاصل ہوتی اور وہی حکومت کرتا۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے اسی امر کو…
Read the full tafseer →8۔ 1 ' اس کا بھائی ' سے مراد بنیامین ہے۔
8۔ 2 یعنی ہم دس بھائی طاقتور جماعت اور اکثریت میں ہیں، جب کہ یوسف ؑ اور بنیامین (جن کی ماں الگ تھی) صرف دو ہیں، اس کے باوجود باپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں۔
8۔ 3 یہاں ضلال سے مراد غلطی ہے جو ان کے زعم کے مطابق باپ سے یوسف ؑ اور بنیامین سے زیادہ محبت کی صورت میں صادر ہوئی۔
Read the full tafseer →4: مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ عمر اور طاقت میں بھی زیادہ ہیں اور تعداد میں بھی، چنانچہ ہم اپنے باپ کی قوت بازو ہیں۔ جب کبھی انہیں کسی مدد کی ضرورت پڑے، ہم ہی ان کی مدد کرنے کے لائق ہیں۔ اس لیے ہم سے محبت زیادہ ہونی چاہیے۔
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖٓ اٰيٰتٌ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ ۔ اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ۭ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِۨ: حقیقت یہ ہے کہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں ان پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا " یہ یوسف اور اس کا بھائی دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں ، حالانک کہ ہم پورا تجھا ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے اباجان بالکل بہک گئے ہیں "۔
یہ کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں ، ہم اسلام اور خاندان کی مدافعت کرتے ہیں اور مفید ہیں۔ جبکہ ہمارے والد محترم…
Read the full tafseer →10 حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف اور ان کے عینی بھائی بنیامین سے بہت زیادہ محب کرتے تھے کیونکہ یہ دونوں اپنے علاتی بھائیوں سے چھوٹے تھے، والدہ کا انتقال ہوچکا تھا اور خاص حضرت یوسف کی نسبت اپنے نور فراست یا الہام ربانی سے سمجھ چکے تھے کہ ان کا مستقبل نہایت درخشاں ہے اور نبوت کا خاندانی سلسلہ ان کی ذات سے وابستہ ہونے والا ہے۔ خود یوسف (علیہ السلام) کا حسن صورت و سیرت اور کمال ظاہری و باطنی پدر بزرگوار کی محبت خصوصی کو اپنی طرف جذب کرتا تھا۔ دوسرے بھائیوں کو یہ چیز ناگوار تھی۔ وہ کہتے تھے کہ وقت پر کام آنے والے تو ہم ہیں۔ ہمارا ایک طاقتور جتھا ہے جو باپ کی ضعیفی میں کام آسکتا ہے۔ ان چھوٹے لڑکوں…
Read the full tafseer →آیت 8 اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
برادران یوسف نے کہا کہ ہم پورے دس لوگ ہیں سب کے سب جوان اور طاقتور ہیں خاندان کی شان تو ہمارے دم قدم سے ہے قبائلی زندگی میں نوجوان بیٹوں کی تعداد پر ہی کسی خاندان کی شان و شوکت اور قوت و طاقت کا انحصار ہوتا ہے لیکن ہمارے والد ہمیں نظر انداز کر کے ان دو چھوٹے بچوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →7 یعنی باپ کی خدمت تو ہم کرتے ہیں۔ کما کر ہم لاتے ہیں۔ مشکل کے وقت کام ہم آتے ہیں اور شفقت اور پیار ہمارے بجائے یوسف اور اس کے بھائی پر ہوتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ باپ کی توجہ ہماری طرف ہوتی لیکن توجہ کا مرکز یہ دونوں بنے ہوئے ہیں اور یہ ہمارے باپ کی صریح غلطی ہے۔ لفظ ضلال مبین کا دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ ان حقائق کے باوجود ہمارا باپ انھیں دونوں کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →13۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) اصلا اور ان کے بھائی بنیامین تبعا۔ توریت میں ان کے بھائی کا نام بنیامین درج ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ کو جائز ہے کہ کسی مرید کے ساتھ دوسرے مریدوں سے زیادہ شفقت واختصاص رکھے جبکہ اس میں آثار رشد دوسروں سے زائد پائے۔
14۔ (پس تعداد وقوت دونوں کی بنا پر قدر ہماری ہونا چاہیے نہ کہ ان دو کمسن نادانوں کی جو باپ کے کسی کام بھی تو نہیں آسکتے) یہ گفتگو ان دسوں بھائیوں میں آپس میں ہوئی۔ تمدن کی ان منزل میں اولاد کی تعداد اور قوت اہمیت کا جو درجہ رکھتی تھی وہ آج خیال میں بھی نہیں آسکتا۔
15۔ (کہ خود اپنے نفع ونقصان کا اندازہ نہیں کرتے) (آیت) ” ضلل “۔ سے مراد کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →اذ قالوا لیوسف واخوہ احب الی ابینامنا جب یوسف کے بھائیوں نے (یعنی ایک نے دوسرے سے) کہا کہ اس میں شک نہیں کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں۔ اخوہ سے مراد ہے : حضرت یوسف کا حقیقی بھائی۔
ونحن عصبۃ باوجودیکہ ہماری دس کی جماعت ہے۔ فراء نے کہا : عصبہ دس اور دس سے اوپر کی جماعت کو کہتے ہیں۔
بعض نے کہا : ایک سے دس تک عصبہ ہے۔ بعض نے تین سے دس تک کی جماعت کو عصبہ کہا ہے۔ بعض نے دس سے چالیس تک اور مجاہد نے دس سے پندرہ تک کی جماعت کو عصبہ قرار دیا ہے۔ قاموس میں ہے : عصبہ مردوں اور گھوڑوں اور پرندوں کی دس سے چالیس تک کی جماعت۔ عصابہ بھی اسی طرح ہے۔ جزری نے نہایہ میں لکھا ہے کہ…
Read the full tafseer →(8) وہ وقت قابل ذکر ہے جب ان سوتیلے بھائیوں نے باہم مشورہ کیا کہ یوسف اور ان کے حقیقی بھائی بنیامین ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ عزیز ہیں اور ہم اس کی ایک جماعت ہیں واقعی ہمارے باپ یوسف ؑ سے محبت کرنے اور ان کو ہم پر ترجیح دینے میں ایک فاش غلطی پر ہیں۔
Read the full tafseer →اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ۔۔ : یعنی انھوں نے آپس میں کہا۔ دراصل انھوں نے اپنے ظلم کے جواز کے لیے یوسف ؑ کا یہ جرم تجویز کیا، ورنہ اگر یہ جرم تھا تو والد کا تھا جو انھوں نے والد کو بھی معاف نہیں کیا، اس کا ذکر آگے آ رہا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں کہیں اشارہ بھی نہیں کہ اس میں یعقوب ؑ کی کوئی غلطی تھی، اگر یہ غلطی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یعقوب ؑ کو ضرور اس سے آگاہ کردیتا، کیونکہ وہ نبی تھے۔ بعض مفسرین نے بھی یہ لکھ دیا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ باپ کو بیٹوں کے درمیان محبت میں بھی برابری رکھنی چاہیے، حالانکہ نہ ان حضرات نے خیال فرمایا، نہ برادران یوسف نے کہ والدین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 7 تا 9
لقد کان فی یوسف واخوتہٖ اٰیٰت للسآئلین یعنی جس نے ان کی گفتگو کے بارے میں پوچھا۔ اہل مکہ نے ایت واحد پڑھا ہے اور ابوعبیدہ نے اٰیٰت جمع کو اختیار کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ خبر کثیر ہے۔ نحاس نے کہا : یہاں ” ایۃ “ عمدہ قرات ہے یعنی جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خبر کے بارے میں ان کو ان کے بارے میں جو خبر دی گئی اس میں ان کے لیے نشانی ہے، کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور آپ مکہ میں تھے انہوں نے کہا : ہمیں انبیاء میں سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں خبر دیجئے جو شام میں تھا، اس کے بیٹے کو مصر لے جایا گیا تو وہ اس پر رویا یہاں تک کے نابینا ہوگیا ؟ اور مکہ میں اہل کتاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) شام میں رہتے تھے اور آپ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی بنیامین کا خصوصی خیال رکھتے تھے ان کے دوسرے بھائی اس پر حسد کرنے لگے جب انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی اس محبت کو دیکھا اور یوسف (علیہ السلام) نے نیند میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے سورج اور چاند اس کو سجدہ کررہے ہیں یوسف نے اپنے والد کو یہ خواب سنایا تو (ان کے والد) یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” یبنی لا تقصص رء یاک علی اخوتک فیکیدوالک کیدا “ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو بھی اس خواب کی خبر پہنچی اور وہ اس سے حسد کرنے لگے اور کہنے لگے…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ لَيُوْسُفُ : بیشک یوسف (علیہ السلام) ] [ وَاَخُوْهُ : اور ان کا بھائی ] [اَحَبُّ : زیادہ محبوب ہیں ] [ اِلٰٓي اَبِيْنَا : ہمارے والد کو ] [مِنَا : ہم سے ] [ وَ : حالانکہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [عُصْبَةٌ: ایک مضبوط گروہ ہیں ] [ ان : بیشک ] [اَبَانا : ہمارے والد ] [ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِۨ: یقینا ایک واضح بھول میں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مشورہ کہ اسے قتل کر دو یا کسی دور جگہ لے جا کر ڈال دو
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا جو واقعہ ہے اس میں سوال کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں مفسرین نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے آزمائش کے طور پر رسول اللہ ﷺ سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا واقعہ معلوم کیا تھا قرآن کریم میں واقعہ بیان کردیا گیا جسے رسول اللہ ﷺ نے سنا دیا لہٰذا سوال کرنے والوں کیلئے لائی ہوئی بات کے دلائل قائم ہوگئے کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں ممکن ہے کہ بعض یہود نے بطور امتحان سوال کیا ہو اور بعض نے آپ سے تلاوت کرتے ہوئے سنا ہو پھر دوسروں کو سنانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10:۔ یہ قصے کی دوسری کڑی ہے۔ براران یوسف نے آپس میں مشورہ کیا کہ یوسف اور بنیامین کو ہمارے والد بزرگوار ہم سے زیادہ چاہتے ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت ہیں مگر اس کے باوجود محترم اباجان ہمیں اتنی اہمیت نہیں دیتے معلوم نہیں کہ وہ کس بھول میں ہیں۔ ” اُقْتُلُوْا یُوْسُفَ الخ “ اس لیے یوسف کو راستہ سے ہٹٓنے کے لیے یا تو اسے قتل کردیا جائے یا اسے کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ دیا جائے جہاں سے اس کی کوئی خبر نہ آئے تاکہ ہم ہی والد بزرگوار کی محبت و شفقت کا مرکز بن جائیں اور بعد میں اس گناہ سے توبہ کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات
اس سے پہلے خواب کا ذکر ہوچکا ہے جو یوسف (علیہ السلام) نیبچپن میں دیکھا تھا۔ جب اس کا ذکر اپنے باپ کے پاس کیا تو انہوں نے منع کیا کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ حسد کریں گے اور تمہیں ضرور پہنچائیں گے اس کے ساتھ باپ نے اپنے فرزند کو تسلی بھی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں باتوں کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی بتلائے گا۔ اس میں خواب کی تعبیر کا علم بھی شامل ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرے گا۔ جیسا کہ اس نے تمہارے آبائو اجداد ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر اپنی نعمتوں کا اہتمام کیا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْہُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ 0 ۭ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِۨ 8 ۚۖ
حب
والمحبَّة :
إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه :
- محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه :
وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] .
- ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه :
وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] .
- ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم .
( ح ب ب ) الحب والحبۃ
المحبۃ
کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں
اور محبت تین قسم پر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِذْقَالُوْا لَیُوْسُفُ وَاَخُوْہُ اَحَبُّ اِلٰٓی اَبِیْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ ط اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ نِ ۔ (سورۃ یوسف : 8)
(اس وقت کو یاد کرو جب برادرانِ یوسف نے کہا کہ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک جتھہ ہیں۔ بیشک ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے۔ )
عُصْبَۃٌ کے معنی جماعت، گروہ اور جتھہ کے ہیں۔ خاص طور پر وہ گروہ جن کے درمیان خون کا اشتراک پایا جاتا ہو۔
برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کا حسد
حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے بھائی سے مراد ان کے چھوٹے حقیقی بھائی بن یمین ہیں جو ان سے کئی سال چھوٹے تھے۔ ان کی پیدائش…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں حسد و بغض رکھنا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال، لیاقت و صلاحیت اور مستقبل میں ان کے نبی بننے کے آثار دیکھ کر ( جن کی نشاندہی خواب کی تعبیر میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کرچکے تھے۔ ) ان اوصاف حمیدہ کی بنیاد پر حضرت یعقوب کا دوسرے بیٹوں کی نسبت یوسف (علیہ السلام) سے زیادہ شفقت اور محبت کا اظہار کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے ان سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی محبت کا سبب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا چھوٹا ہونا بیان کیا ہے۔ یہ وجہ اس لیے لائق توجہ نہیں کہ عمر کے لحاظ سے حضرت بنیامین سب سے چھوٹے تھے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →بھائیوں کا حسد :
8: اِذْقَالُوْا لَیُوْسُفُ وَاَخُوْہُ اَحَبُّ اِلٰٓی اَبِیْنَا مِنَّا (جب انہوں نے کہا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہے) لَیوسفکی لام ابتدائیہ ہے۔ اس میں تاکید اور تحقیق جملہ کا معنی پایا جاتا ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ان سے زیادہ محبت والی بات ثابت شدہ حقیقت ہے۔ جس میں شبہ کی گنجائش نہیں۔ واخوہ انہوں نے کہا حالانکہ وہ بھی تو بھائی تھے اسکی وجہ یہ تھی ان دونوں کی والدہ ایک تھی اور ان کی اور، اَحبُّؔ کا لفظ تثنیہ کیلئے بھی لاتے ہیں کیونکہ افعل التفضیل کے واحد و تثنیہ یا جمع میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی طرح مذکر و مؤنث کا بھی فرق نہیں، اسی لئے لام تعریف لگا…
Read the full tafseer →8۔” اذقالوا لیوسف “ لام جواب قسم ہے اصل عبارت ” واللہ لیوسف “ ہے۔ واخوہ اس سے مراد ان کے بھائی بنیا مین ہیں ۔ ” احب لی ابینا منا “ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی بنیا مین ایک ماں سے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف سے بڑی شدید محبت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جو اپنے والد کا زیادہ میلان دیکھتے جو ان کے ساتھ نہیں تھا، جس کی وجہ سے دوسرے بیٹوں نے یہ کہا۔
عصبۃ کی مختلف تفاسیر
” ونحن عصبۃ “ یعنی جماعت ہیں اور یہ دس تھے ۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ عصبہ دس یا زائد کی جماعت اور بعض نے کہا ایک سے دس تک بعض نے کہا ایک سے دس تک مراد ہے اور بعض نے کہا ہے تین سے دس تک بعض نے کہا ایک دس تک…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →اِذْ قَالُوْا : جب انہوں نے کہا۔ یعنی جب انہوں نے آپس میں کہا۔ لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ : یوسف اور اس کا بھائی۔ یعنی یوسف اور ان کے حقیقی بھائی بنیامین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے۔ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ: ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں۔ یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں۔ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ : یقیناً ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے۔ کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کرسکیں، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔
Read the full tafseer →قول باری ہے اذا قالوا لیوسف واخوہ احب الی ابینا منا ونحن عصبۃ ان ابانا لفی ضلال مبنی ۔ یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا یہ یوسف اور اس کا بھائی دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں ۔ انہوں نے آپس میں یہ گفتگو کی اور اپنے اس حسد کا اظہار کیا جو وہ والد سے حضرت یوسف کے قریب اور وابستگی کی بنا پر اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے ، یہ مرتبہ اور یہ وابستگی انہیں حاصل نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنے والد کے اس طرز عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان ابا نا لفی ضلال مبین ان کا اشارہ اس امر کی طرف…
Read the full tafseer →15 ۔ برادران یوسف کا اپنے والد کے بارے میں شکوہ : کہ یوسف اور اس کا بھائی بنیامین ان کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ وہ دونوں چھوٹے اور کمزور ہیں۔ ہمارے والد کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ جبکہ ہم جیسے تنومند طاقتور بیٹے ان کے ہر موقعہ پر اور ہر طرح سے کام آسکتے ہیں۔ حالانکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے اس سلوک میں حق بجانب تھے۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ذات ستودہ صفات میں جو خصوصیات حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو نظر آرہی تھیں وہ اور کسی میں بھی نہیں پائی جاتی تھیں۔ جیسا کہ بعد کے حالات اور واقعات میں سب نے دیکھ لیا اور ان کی ذات میں پوشیدہ جوہر کھل کر سب کے سامنے آگئے۔ خاص کر اس عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سیدنا یوسف کو نقصان پہنچانے کے لیے بھائیوں کی سازش
تشریح : جیسا کہ آیات میں بیان ہوچکا تو سب بھائیوں نے حسد کے مارے یوسف (علیہ السلام) کو ٹھکانے لگانے کے لیے تین تجویزیں رکھیں اور پھر آخری فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو کنوئیں میں پھینک دیا جائے، لہٰذا اس فیصلہ پر عمل کرنے کی تیاری شروع ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 12 ۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے سے کہا۔
1 ۔ یعنی ہم وقت پر کام آنے والے ہیں اور یہ لڑکے ہیں چھوٹے۔ ایک ان کا سگا بھائی تھا اور سب سوتیلے۔ (موضح) ۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف اور اس کا بھائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے اس کے کسی کام نہیں آسکتے اور ہم ایک جتھا ہیں۔ اس بدوسی ماحول میں وقت پر کام آسکتے ہیں۔ (روح۔ شوکانی) ۔
2 ۔ یعنی رائے کی غلطی جو دنیوی معاملات میں ہوتی ہے۔ یہاں ضلالت سے دینی ضلالت مراد نہیں ہے ایسا کہتے تو یہ لوگ کافر ہوجاتے۔ (وحیدی) ۔
Read the full tafseer →(12:8) عصبۃ۔ عصب سے العصب کے معنی بدن کے پٹھے۔ جو جوڑوں کو تھامے ہوئے ہیں ۔ الاعصاب۔ پٹھے۔ مضبوطی کے ساتھ باندھنے کو عصب کہتے ہیں۔ مثلاً لاعصبتکم عصب السلمۃ میں تمہیں سلمہ درخت کی طرح باندھ کر چھوڑوں گا۔ فلان شدید العصب فلاں کے جوڑ مضبوط ہیں۔ وقال ھذا یوم عصیب (11:77) اور بولے یہ بہت سخت دن ہے۔ عصیب بمعنی فاعل اور مفعول دونوں طرح مستعمل ہے۔
العصبۃ۔ وہ جماعت جس کے افراد ایک دوسرے کے حامی اور مددگار ہوں۔ اور اس طرح طاقت اور مضبوطی کا سبب بنیں۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے لتنوء بالعصبۃ اولی القوۃ ایک طاقت ور جماعت کو اٹھانا مشکل ہوتیں۔
ونحن عصبۃ (آیت ہذا) حالانکہ ہم ایک پوری جماعت کی جماعت ہیں۔ عصبۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 01
کان (ہے۔ تھا) السائلین (پوچھنے والے) احب (زیادہ محبوب ہے) عصبۃ (جماعت۔ قوت) ضلل (گمراہ۔ بھٹکنا) اقتلوا (قتل کردو) اطرحوا (ڈال دو ۔ پھینک دو ) یخل (خاص ہوجائے۔ خالی ہوجائے) وجھ (چہرہ) قائل (کہنے والا) القوہ (اس کو ڈال آؤ) غیبت (گہرا۔ اندھا) الجب (کنواں) یلتقت (اٹھا لے گا) السیارۃ (قافلہ) فعلین (کرنے والے)
تشریح آیت نمبر 7 تا 01
دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اور دنیا کے دوسرے لوگوں کا رویہ بڑا مختلف ہوتا ہے۔ لوگ دنیا میں اس شخص کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو طاقت ور ہوتے ہیں لیکن ماں باپ اولاد میں سے ان بچوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہوں۔ حضرت یعقوب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بارہ اولاد کا ذکر
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے پہلی بی بی لیا بنت لیان آپ کے ماموں کی بیٹی ہیں، ان سے چھ فرزند ہوئے : (1) رد سبیل۔ (2) شمعون۔ (3) لادی۔ (4) یہودا۔ (5) زبولون۔ (6) یشجر اور چار بیٹے حرم سے ہوئے : (1) ردان۔ (2) نفتالی۔ (3) حاوا۔ (4) آستر ان کی مائیں زلفہ اور بلسہ ہیں کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بہن یعنی سالی راحیل سے نکاح فرمایا۔ ان سے دو فرزند ہوئے : (1) یوف علیہ السلام۔ (2) بنیامین، یہ بارہ فرزند ہوئے ان کو اسباط کہتے ہیں۔ جب یوسف (علیہ السلام) کو خوان کے چھپانے کی تاکید کی اس وقت اتفاق سے یوسف (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[7] یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بکریاں جنگل میں چرانے لے جایا کرتے تھے۔ اس حیلے سے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانا چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
یوسف (علیہ السلام) کیوں باپ کو پیارے تھے !
(ف 1) اب یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں شروع ہوتی ہیں ، بھائی ملے کرتے ہیں ، کہ یوسف کو تاریک کنوئیں میں ڈال دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اس کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے تاکہ ہم یوسف (علیہ السلام) کی جگہ لے لیں اور باپ ہم سے زیادہ محبت کرنے لگے ۔
بات یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خلعت نبوت ملنے والا تھا ، یہ باپ کے ہونہار اور سعادتمند صاحبزادے تھے ، باپ کو بالطبع ان سے زیادہ انس تھا ، اور یہ محبت دوسروں کو ناگوار تھی اور قرآن حکیم سے یہ ثابت نہیں ہوتا ، کہ یہ لوگ بھی انبیاء تھے ، بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بدگمانی اور ان کے دوسرے افعال سے…
Read the full tafseer →8 وہ وقت قابل ذکر جب یوسف (علیہ السلام) کے علاقی بھائیوں نے جن کی تعداد دس تھی اپس میں یہ گفتگو کی اور باہم یوں مشورہ کیا یہ بات کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب اور پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک زور آور اور پوری جماعت ہیں یہ دونوں ابھی کم عمر ہیں کچھ شک نہیں کہ اس بارے میں ہمارے والد کھلی غلطی میں مبتلا ہیں یعنی محبت کی کمی زیادتی خدمت پر موقوف ہے جو بچے زیادہ قوی ہوں گے ظاہر ہے کہ وہ خدمت زیادہ انجام دے سکتے ہیں اور یہ دونوں ابھی کم عمر اور کم زور ہیں ان کی خدمت ہماری خدمت سے زیادہ قوی اور بہتر نہیں ہوسکتی اور چونکہ ہم تعداد میں بھی زیادہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ سب سے زیادہ محبت ہونے کی وجوہ بیان کی گئی ہیں اقرب یہ ہے کہ فراست نبوت سے یعقوب (علیہ السلام) ان کو ہونہار دیکھتے تھے اور خواب سننے کے بعد یہ امرا اور زیادہ موکد ہوگیا تھا جیسا کہ ان کے ارشاد وکذالک یجتبیک۔ سے یہ امرمترشح ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے ذہن میں جو چیز تھی اس کے مطابق انہوں نے ابتداء کی
۔ 8 آخر کار حسد کی بھڑکتی ہوئی آگ نے ایک روز برادران یوسف کو یوسف کے خل اف سازشیں کرنے پر مجبور کر ہی دیا اور اس طرح شیطان اپنا ہاتھ دکھا گیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے بلاشبہ پہلے یوسف (علیہ السلام) کے خواب کو ایک خطرہ کا الارم سمجھا تھا پھر بیٹے کو منع بھی کیا کہ یہ خواب بھائیوں تک نہ پہنچانا لیکن جس کام کا مشیت میں ہونا تحریر ہو اس کو کون روک سکتا ہے اور کیسے روک سکتا ہے ؟ یوسف (علیہ السلام) کا یہ خواب بھائیوں تک کیسے پہنچا ؟ اگر ایک شخصیت کا نام سامنے آتا تو کہہ دیتے کہ فلاں نے یہ خواب ان کے بھائیوں تک پہنچا…
Read the full tafseer →From the second verse (8), begins the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which tells that the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) saw that their father, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) loved Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) unusually more than them who were older than him. Therefore, this made them envy him. And it is also possible that they had somehow found out about the dream of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which may have led them to become uncomfortable at the prospect of his coming rise in status, and which may have made them envious of him. They talked about it among themselves: We…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8. This brother was Benjamin. He was the real younger brother of Prophet Joseph, and was his junior by many years. Their mother had died at the birth of Benjamin. That is why Prophet Jacob paid special attention to these two motherless children. Besides, Joseph was the only son, in whom he had discerned signs of righteousness and capabilities. Accordingly, when Prophet Joseph narrated his dream to him, he was all the more convinced of his future greatness, and was perturbed at the idea lest his brothers conspired against him out of envy, if they came to know of his dream, which was self…
Read the full tafseer →