Explained with ayahs 7–10
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف
فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 10
یہ فقرہ ان لوگوں کے نفسیات کی بہترین ترجمانی کرتا ہے جو اپنے آپ کو خواہشات نفس کے حوالے کردینے کے ساتھ ایمان اور نیکی سے بھی کچھ رشتہ جوڑے رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی نفس ان سے کسی برے کام کا تقاضا کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضوں کو ملتوی کر کے پہلے نفس کا تقاضا پورا کرنے پر تل جاتے ہیں اور جب ضمیر اندر سے چٹکیاں لیتا ہے تو اسے یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذرا صبر کر، یہ ناگزیر گناہ، جس سے ہمارا کام اٹکا ہوا ہے، کہ گزرنے دے، پھر انشاء اللہ ہم توبہ کر کے ویسے ہی نیک بن جائیں گے جیسا تو ہمیں دیکھنا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں یہ بیان ہے کہ ان بھائیوں میں مشورہ ہوا بعض نے یہ رائے دی کہ یوسف ؑ کو قتل کر ڈالو، بعض نے کہا کہ کسی غیرآباد کنویں کی گہرائی میں ڈال دو تاکہ یہ کانٹا درمیان سے نکل جائے اور تمہارے باپ کی پوری توجہ تمہارے ہی طرف ہوجائے رہا یہ گناہ جو اس کے قتل یا کنویں میں ڈالنے سے ہوگا سو بعد میں توبہ کر کے تم نیک ہو سکتے ہو آیت کے جملہ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ کے یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یوسف کے قتل کے بعد تمہارے حالات درست ہوجائیں گے کیونکہ باپ کی توجہ کا یہ مرکز ختم ہوجائے گا یا یہ کہ قتل کے بعد باپ سے عذر معذرت کر کے تم پھر ویسے ہوجاؤ…
Read the full tafseer →اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ۔
لفظ " صالح " کا لغوی مفہوم : لفظ " صالح " یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم میں ہے۔ عربی میں اگر کہیں " صلحت حال فلان " تو اس کے معنی ہوں گے۔ اس کا حال بالکل ٹھیک ہوگیا، اس کی پریشانی دور ہوگئی، جو کانٹا اسے چبھ رہا تھا اس سے وہ نجات پا گیا۔
برادران یوسف کی مشورت : یہ وہ علاج ہے جو حضرت یوسف کے بھائیوں نے اپنی پریشانی دور کرنے کے لیے سوچا۔ انہوں نے اسکیم یہ بنائی کہ یوسف کو یا تو قتل کردیں یا کہیں دور دراز مقام میں لے جا کر پھینک دیں تاکہ ان کے باپ کی ساری توجہ انہی کی طرف…
Read the full tafseer →9۔ 1 اس سے مراد تائب ہوجانا ہے یعنی کنوئیں میں ڈال کر یا قتل کر کے اللہ سے اس گناہ کے لئے توبہ کرلیں گے۔
Read the full tafseer →5: یہ ترجمہ اس آیت کی ایک تفسیر کے مطابق ہے گویا ان کا خیال یہ تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ ایک گناہ ہوگا اور ہر گناہ کی معافی توبہ سے ہوسکتی ہے چنانچہ توبہ مانگ کر پھر ساری عملر نیکی کرتے رہنا۔ حالانکہ کسی بندے پر اگر ظلم کیا جائے تو اس کی معافی صرف توبہ سے نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ مظلوم معاف نہ کرے۔ اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم بعد میں نیک بن جائیں گے۔ بلکہ ان الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ سب کرنے کے بعد تمہارے سارے کام درست ہوجائیں گے یعنی والد کی طرف سے کسی امتیازی سلوک کا اندیشہ نہیں رہے گا۔ قرآن کریم کے الفاظ میں اس معنی کی بھی گنجائش موجود ہے۔
Read the full tafseer →اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا : " چلو یوسف کو قتل کردو یا اسے کہیں پھینک دو " دونوں باتیں قباحت اور جرم کے اعتبار سے ایک ہیں ، کیونکہ کسی بچے کو ایک ایسی زمین پھینکنا جو دور دراز ہو ، گویا اسے قتل کرنے کے برابر ہے کیونکہ ایسے حالات میں اکثر موت واقع ہوجاتی ہے۔ اور کیوں ایسا کرو ؟
يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ : " تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے " اب یوسف تمہاری راہ کی رکاوٹ نہ رہیں گے۔ یعنی ان کا دل یوسف کی محبت سے خالی ہوجائے گا۔ جب وہ دیکھیں گے کہ یوسف موجود ہی نہیں ہے۔ حضرت یعقوب اس سے محبت نہ کریں گے۔ اور ان سے محبت شروع ہوجائے گی۔ اور یہ کس قدر عظیم…
Read the full tafseer →11 یعنی رشک و حسد کی آگ اندر ہی اندر سلگتی رہی۔ آخر آپس میں مشورہ کیا کہ یوسف کی موجودگی میں ممکن نہیں کہ والد بزرگوار کی خصوصی محبت و توجہ کو ہم اپنی طرف کھینچ سکیں، اس لیے یوسف کا قصد ہی یہاں سے ختم کردینا چاہیے خواہ قتل کردو یا کسی دور دراز ملک کی طرف پھینک دو جہاں سے واپس نہ آسکے۔ جب وہ نہ رہیں گے تو باپ کی ساری توجہات اور مہربانیوں کے ہم ہی تنہا حق دار رہ جائیں گے۔ بنیامین کے معاملہ کو غالبا ان کے یہاں کوئی اہمیت نہیں تھی۔ گویا اس کی محبت کو یوسف کی محبت کا ضمیمہ سمجھتے تھے۔
12 یعنی ایک مرتبہ قتل وغیرہ کا گناہ کرنا پڑے گا۔ اس سے فارغ ہو کر توبہ کرلیں گے اور خوب نیک بن جائیں گے، گویا رند…
Read the full tafseer →آیت 9 اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ
یوسف چونکہ ان دونوں میں بڑا ہے اس لیے وہی والد صاحب کی ساری توجہ اور عنایات کا مرکز و محور بنا ہوا ہے۔ چناچہ جب یہ نہیں رہے گا تو لا محالہ والد صاحب کی تمام تر شفقت اور مہربانی ہمارے لیے ہی ہوگی۔
وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ
اس فقرے میں ان کے نفس اور ضمیر کی کشمکش کی جھلک صاف نظر آرہی ہے۔ ضمیر تو مسلسل ملامت کر رہا تھا کہ یہ کیا کرنے لگے ہو ؟ اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ یہ تمہاری سوچ درست نہیں ہے ! لیکن عام طور پر ایسے مواقع پر انسان کا نفس اس کے ضمیر پر غالب آجاتا ہے جیسا کہ ہم نے…
Read the full tafseer →8 صالحین کے دو مفہوم :۔ باپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی ترکیب انہوں نے یہ سوچی کہ کسی طرح یوسف کو غائب ہی کردیا جائے یا تو اسے مار ہی ڈالا جائے۔ یا پھر کسی دور دراز مقام میں اسے پہنچا دیا جائے تاکہ وہاں سے وہ واپس نہ آسکے۔ اس طرح ہی وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے تھے۔ اب چونکہ وہ ایک جلیل القدر نبی کی اولاد بھی تھے۔ اس لیے ایسے فعل کے ارتکاب پر ان کا ضمیر انھیں ملامت بھی کر رہا تھا۔ اس کا حل یہ سوچا گیا کہ پہلے اپنی خواہش نفس تو پوری کرلیں۔ بعد میں تو بہ کرکے نیک بن جائیں گے۔ یہی وہ شیطانی چالیں تھیں جن کے متعلق یعقوب کو پہلے سے ہی اندیشہ تھا۔
(وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا…
Read the full tafseer →16۔ (اور قضیہ نامرضیہ باقی ہی نہ رہ جائے گا) ای صالحین فی امردنیاکم فانہ ینتظم لکم بعدہ (روح) انسان دشمنی کے عالم میں کتنی دور تک جاسکتا تھا اور بدخواہی کے کن حدود تک پہنچ سکتا ہے یہ ان تجویزوں سے بالکل ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” اقتلوا یوسف اواطرحوہ “۔ جس طرح کمیٹی یا جلسۂ شوری میں مختلف تجویزیں اور مشورے پیش ہوتے رہتے ہیں یہاں بھی مختلف سمتوں سے یہ تجویزیں پیش ہورہی تھیں۔ (آیت) ” وتکونوا من بعدہ قوما صلحین “۔ کی دوسری تفسیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے بعد اپنی اس حرکت سے توبہ کرکے بھلے آدمی بن جانا۔ اور اکثر مفسرین نے اسی پہلو کو اختیار کیا ہے۔ ای بالتوبۃ والتنصل الی اللہ تعالیٰ عما جئتم بہ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →اقتلوا یوسف یوسف کو مار ڈالو __ وہب نے کہا : یہ بات شمعون نے کہی تھی۔ کعب نے کہا : دانی نے کہی تھی۔ مقاتل نے کہا : روبیل نے کہی تھی۔ بہرحال قائل ایک ہی تھا ‘ دوسرے اس رائے سے متفق تھے اسلئے کہنے کی نسبت سب کی طرف کردی گئی۔ ہاں جو لوگ اس قول سے متفق نہیں ہیں تو وہ قائل نہیں قرار دئیے جائیں گے مگر اکثر افراد جماعت کیونکہ اس سے متفق تھے ‘ اسلئے پوری جماعت کی طرف نسبت مجازاً کردی گئی۔
او اطرحوا ارضًا یا اس کو کہیں دور گمنام جگہ ڈال آؤ۔ ارضًا کی تنوین بتارہی ہے کہ اس سے مراد کوئی دور گمنام آبادی سے الگ زمین تھی۔
یخل لکم وجہ ابیکم تاکہ تمہارے باپ کی خالص توجہ تمہاری طرف ہوجائے۔ یوسف کی طرف سے توجہ…
Read the full tafseer →(9) پھر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یوسف کو قتل کر دو یا کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ آؤ، اس صورت میں تمہارے باپ کا رخ صرف تمہاری طرف ہوجائے گا اور تم یوسف کے قتل کے بعد ان کے قل کے گناہ سے توبہ کرلینا یا یہ کہ پھر تمہارے باپ کے ساتھ تمہارے سب معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا : دیکھیے حسد انسان کو کہاں تک پہنچا دیتا ہے کہ آدمی صغیرہ گناہ کو کبیرہ اور کبیرہ کو صغیرہ سمجھنے لگتا ہے۔ یوسف ؑ کا باپ کی نظر میں زیادہ محبوب ہونا بھائیوں کی نظر میں اتنا بڑا جرم بن گیا کہ اس کی وجہ سے قتل ناحق جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، ان کی نگاہ میں معمولی بن گیا۔ آدم ؑ کے دو بیٹوں کے قصے میں بھی حسد نے ایک بےگناہ کا قتل قاتل کی نگاہ میں جائز بلکہ خوش نما بنادیا۔ دوسری تجویز بھی کم خطرناک نہ تھی۔ ”طَرْحٌ“ کا معنی ہے دور پھینک دینا۔ ”اَرْضًا“ نکرہ ہے، یعنی اسے کسی نامعلوم زمین میں پھینک دو ، تاکہ وہیں مرجائے۔ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 7 تا 9
لقد کان فی یوسف واخوتہٖ اٰیٰت للسآئلین یعنی جس نے ان کی گفتگو کے بارے میں پوچھا۔ اہل مکہ نے ایت واحد پڑھا ہے اور ابوعبیدہ نے اٰیٰت جمع کو اختیار کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ خبر کثیر ہے۔ نحاس نے کہا : یہاں ” ایۃ “ عمدہ قرات ہے یعنی جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خبر کے بارے میں ان کو ان کے بارے میں جو خبر دی گئی اس میں ان کے لیے نشانی ہے، کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور آپ مکہ میں تھے انہوں نے کہا : ہمیں انبیاء میں سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں خبر دیجئے جو شام میں تھا، اس کے بیٹے کو مصر لے جایا گیا تو وہ اس پر رویا یہاں تک کے نابینا ہوگیا ؟ اور مکہ میں اہل کتاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) شام میں رہتے تھے اور آپ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی بنیامین کا خصوصی خیال رکھتے تھے ان کے دوسرے بھائی اس پر حسد کرنے لگے جب انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی اس محبت کو دیکھا اور یوسف (علیہ السلام) نے نیند میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے سورج اور چاند اس کو سجدہ کررہے ہیں یوسف نے اپنے والد کو یہ خواب سنایا تو (ان کے والد) یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” یبنی لا تقصص رء یاک علی اخوتک فیکیدوالک کیدا “ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو بھی اس خواب کی خبر پہنچی اور وہ اس سے حسد کرنے لگے اور کہنے لگے…
Read the full tafseer →[اقْــتُلُوْا : تم لوگ قتل کرو ] [ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [ اَوِ : یا ] [اطْرَحُوْهُ : پھینک دو ان (علیہ السلام) کو ] [اَرْضًا : کسی زمین میں ] [ يَّخْلُ : تو خالی ہوجائے گا ] [لَكُمْ : (صرف) تمہارے لئے ] [وَجْهُ اَبِيْكُمْ : تمہارے والد کا چہرہ (یعنی توجہ)] [وَتَكُوْنُوْا : اور تم لوگ ہوجانا ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد سے ] [ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ : ایک نیک قوم ]
ط ر ح
[طَرْحًا : (ف) پھینکنا۔ دور کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9] [
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مشورہ کہ اسے قتل کر دو یا کسی دور جگہ لے جا کر ڈال دو
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا جو واقعہ ہے اس میں سوال کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں مفسرین نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے آزمائش کے طور پر رسول اللہ ﷺ سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا واقعہ معلوم کیا تھا قرآن کریم میں واقعہ بیان کردیا گیا جسے رسول اللہ ﷺ نے سنا دیا لہٰذا سوال کرنے والوں کیلئے لائی ہوئی بات کے دلائل قائم ہوگئے کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں ممکن ہے کہ بعض یہود نے بطور امتحان سوال کیا ہو اور بعض نے آپ سے تلاوت کرتے ہوئے سنا ہو پھر دوسروں کو سنانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10:۔ یہ قصے کی دوسری کڑی ہے۔ براران یوسف نے آپس میں مشورہ کیا کہ یوسف اور بنیامین کو ہمارے والد بزرگوار ہم سے زیادہ چاہتے ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت ہیں مگر اس کے باوجود محترم اباجان ہمیں اتنی اہمیت نہیں دیتے معلوم نہیں کہ وہ کس بھول میں ہیں۔ ” اُقْتُلُوْا یُوْسُفَ الخ “ اس لیے یوسف کو راستہ سے ہٹٓنے کے لیے یا تو اسے قتل کردیا جائے یا اسے کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ دیا جائے جہاں سے اس کی کوئی خبر نہ آئے تاکہ ہم ہی والد بزرگوار کی محبت و شفقت کا مرکز بن جائیں اور بعد میں اس گناہ سے توبہ کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات
اس سے پہلے خواب کا ذکر ہوچکا ہے جو یوسف (علیہ السلام) نیبچپن میں دیکھا تھا۔ جب اس کا ذکر اپنے باپ کے پاس کیا تو انہوں نے منع کیا کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ حسد کریں گے اور تمہیں ضرور پہنچائیں گے اس کے ساتھ باپ نے اپنے فرزند کو تسلی بھی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں باتوں کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی بتلائے گا۔ اس میں خواب کی تعبیر کا علم بھی شامل ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرے گا۔ جیسا کہ اس نے تمہارے آبائو اجداد ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر اپنی نعمتوں کا اہتمام کیا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْہُ اَرْضًا يَّخْلُ لَكُمْ وَجْہُ اَبِيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِہٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ 9
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اُقْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِاطْرَحُوْہُ اَرْضًا یَّخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا مِنْ م بَعْدِہٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 9)
(یوسف ( علیہ السلام) کو قتل کردو یا اسے کسی علاقے میں دور پھینک دو تو تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری ہی طرف ہوجائے گی اور اس کے بعد نیک قوم بن جانا۔ )
بھائیوں کی مشاورت
باپ کی توجہ سے محرومی کا علاج اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ تم یوسف ( علیہ السلام) کو قتل کردو اور یا اسے کسی ایسی سرزمین میں پھینک دو جہاں سے وہ واپس نہ آسکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب یوسف ( علیہ السلام) نہ رہے گا جو ہمارے راستے کا کانٹا ہے تو پھر ہمارے والد کی ساری توجہ ہماری طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بردران یوسف کا اپنے باپ اور بھائی کے بارے میں منفی خیالات کے تحت خفیہ اجلاس کرنا اور ایک گھناؤنے فعل پر متفق ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دس بیٹے اپنے بھائی کے خلاف سازش کرنے کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور یہ سوچ و بچار کرنے لگے کہ یوسف سے کس طرح چھٹکارا پایا جائے۔ جن میں 9 (نو) بھائی اس بات پر متفق ہوئے کہ یوسف کو جان سے مار ڈالنا چاہیے یا کہیں دور پھینک دینا چاہیے۔ اس کے بعد باپ کی توجہ خود بخود تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اس جرم کے بعد ہم اللہ تعالیٰ سے توبہ کرکے پھر نیکو کار بن جائیں گے۔ (یاد رہے کہ بعد میں توبہ کرنے کی نیت سے گناہ کرنے سے گناہ میں کئی…
Read the full tafseer →فیصلہ قتل :
9: اڑقْتُلُوْا یُوْسُفَ (تم یوسف کو قتل کردو) یہ بھی منجملہ ان باتوں میں سے ہے جو اِذْ قَالُوْاؔ کے بعد بیان کی گئیں گویا وہ اس بات کا متفقہ فیصلہ کرچکے تھے۔ سوائے اس کے جس نے لا تقتلوا یوسف کہا تھا ایک قول یہ ہے کہ قتل کی رائے دینے والا شمعون تھا۔ اور باقی اتفاق رائے کرنے والے تھے۔ اس لئے تمام کو قتل کا حکم دینے والے کہا گیا۔ اَوِاطْرَ حُوْہُ اَرْضًا ( یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں) ناواقف اور بیابان جگہ میں جو آبادی سے دور ہو۔ اسی لئے ارْضًا کو نکرہ لائے اور صفت کے بغیر ذکر کیا اسی وجہ سے اس کا اعراب ظرف مبہم والا نصب دیا گیا۔
یَّخْلُ لَکُمْ وَجْہُ اَبِیْکُمْ (خالص ہوجائے گی…
Read the full tafseer →یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا مشورہ کس نے دیا
9۔” اقتلوا یوسف “ اس کے قائل میں اختلاف ہے۔
1۔ وہب (رح) فرماتے ہیں کہ شمعون نے کہا ۔ 2۔ کعب (رح) فرماتے ہیں کہ دان نے کہا۔
3۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ک روبیل نے کہا ” او اطر حوہ ارضا “ ایسی زمین میں ڈال دو جو اس کے باپ سے دور ہو ۔ اور بعض نے کہا ایسی زمین میں کہ درندے ان کو کھا جائیں۔ ے
” یخل لکم تا کہ تم اس سے چھٹکارا حاصل کرلو اور باپ کی محبت تمہاری طرف خالصتا ً ہوجائے ” وجہ ابیکم “ یوسف (علیہ السلام) کی طرف زیادہ متوجہ ہونے سے ہٹ جائے۔
” وتکونوا من بعدہ “ یوسف (علیہ السلام) کے قتل کے بعد توجہ ہماری طرف ہوجائے گی ۔” قوما صالحین “ توبہ کرنے…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا : یوسف کو مار ڈالو یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں، یعنی کہیں دور علاقے میں لے جا کر اس کو باپ کی نظروں سے دور کردو جہاں وہ اپنے باپ کو نظر نہ آسکے۔ اگر نے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر عمل کرلیا۔ يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ : تو خالص ہوجائے گی تمہارے باپ کی توجہ تمہارے لیے۔ یعنی وہ تمہارے لیے فارغ ہوگا اور تمہارا باپ تمہارے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آے گا، کیونکہ وہ اس وقت یوسف کی محبت میں مشغول ہے تمہاری محبت کے لیے اس کے پاس فراغت نہیں۔ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ : اور ہوجانا تم اس کے، یعنی یہ کام کرنے کے بعد۔ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ : نیک…
Read the full tafseer →قول باری ہے اقتلوا یوسف او طرحوہ ارضا ً یخل لکم وجہ ابیکم چلو یوسف کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تا کہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے تا آخر آیت ۔ برادران یوسف نے آپ میں یہ فیصلہ کرلیا کہ یا تو یوسف کو قتل کر دیاجائے یا باپ سے انہیں دور کردیا جائے ۔ جس چیز کی بنیاد پر انہوں نے اس فعل کو جائز قرار دے کر اس کے ارتکاب کی جرأت کرلی تھی اسے قرآن کے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ وتکونوا من بعدۃ قوما ً صلحین یہ کام کرلینے کے بعد پھر نیک بن رہنا ۔ اس فعل کے ارتکاب کے بعد انہوں نے توبہ کرلینے کی توقع رکھی تھی ، اس کی مثال یہ قول باری ہے بل یرید الانسان لیفجر ا مامہ۔ اصل یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →17 ۔ لفظ " صالحین " سے یہاں پر مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ برادران یوسف نے یوسف کے بارے میں آپس میں کہا کہ اس کو قتل کردو یا کسی دور افتادہ زمین میں ڈال دو تاکہ اس کے بعد تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری طرف ہوجائے اور تمہارا کام بن جائے۔ یعنی صلاح سے یہاں مراد دنیاوی صلاح ہے نہ کہ دینی اور اخروی صلاح۔ (روح، التحریر والتنویر لابن عاشور وغیرہ) عام طور پر مفسرین کرام نے یہاں پر صلاح سے دینی اور اخروی صلاح مراد لی ہے یعنی یہ کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے بعد تم لوگ توبہ کرکے نیک اور صالح بن جانا۔ لیکن یہ معنی یہاں پر مراد لینا درست نہیں معلوم ہوتا کیونکہ یہ معنی اس صورت میں بن سکتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سیدنا یوسف کو نقصان پہنچانے کے لیے بھائیوں کی سازش
تشریح : جیسا کہ آیات میں بیان ہوچکا تو سب بھائیوں نے حسد کے مارے یوسف (علیہ السلام) کو ٹھکانے لگانے کے لیے تین تجویزیں رکھیں اور پھر آخری فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو کنوئیں میں پھینک دیا جائے، لہٰذا اس فیصلہ پر عمل کرنے کی تیاری شروع ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی اپنے باپ کی نظر میں پسندیدہ ہوجائو گے یا بعد میں توبہ کرکے نیک بن جانا۔ بعض نے خیال کیا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے یہ بھائی بھی بعد میں نبی ہوگئے تھے جیسا کہ آیت قولوا امنا باللہ میں والا سباط کے کلمہ سے شبہ وہتا ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ ” الاسباط “ سے بنی اسرائیل کے بارہ سبط (قبیلے) مراد ہیں اور ان قبیلوں سے جو نبی ہوئے ہیں وہ مراد ہیں۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی صلبی اولاد مراد نہیں ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ ان بھائیوں کو صحابیت کا شرف حاصل ہوگیا تھا۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔
Read the full tafseer →(12:9) اطرحوہ۔ اس کو پھینک دو ۔ اس کو دور کہیں پھینک آو۔ طرح یطرح (فتح) طرح جس کے معنی پھینک دینے اور دور ڈال دینے کے ہیں۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔
یحل لکم۔ خلا یخلو خلاء وخلو (باب نصر) خالی ہونا۔ خالی رہ جانا۔ خلا الانائ۔ برتن خالی ہوگیا۔ خلا الرجل۔ آدمی تنہا رہ گیا۔ یخل لکم وجہ ابیکم تمہارے لئے خالی ہوجائے گا تاکہ تمہارے باپ کی توجہ (صرف) تمہاری طرف ہوجائے ۔
وتکونوا من بعدہ قوما صلحین۔ اس کے بعد تمہارے سب کام بن جائیں گے۔ یا اس کا معنی یہ ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد تم بھلے آدمی بن جانا۔ (یعنی توبہ کرکے نیک بن جانا) اکثر مفسرین نے اسی پہلو کو اختیار کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 01
کان (ہے۔ تھا) السائلین (پوچھنے والے) احب (زیادہ محبوب ہے) عصبۃ (جماعت۔ قوت) ضلل (گمراہ۔ بھٹکنا) اقتلوا (قتل کردو) اطرحوا (ڈال دو ۔ پھینک دو ) یخل (خاص ہوجائے۔ خالی ہوجائے) وجھ (چہرہ) قائل (کہنے والا) القوہ (اس کو ڈال آؤ) غیبت (گہرا۔ اندھا) الجب (کنواں) یلتقت (اٹھا لے گا) السیارۃ (قافلہ) فعلین (کرنے والے)
تشریح آیت نمبر 7 تا 01
دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اور دنیا کے دوسرے لوگوں کا رویہ بڑا مختلف ہوتا ہے۔ لوگ دنیا میں اس شخص کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو طاقت ور ہوتے ہیں لیکن ماں باپ اولاد میں سے ان بچوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہوں۔ حضرت یعقوب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا ذکر
شیطان نے جو بوڑھے آدمی کی شکل میں آیا تھا ان کو بہکایا کہ یوسف (علیہ السلام) تو تمہیں غلام بنانا چاہتا ہے۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس کو مار ڈالو یا کسی دور جگہ چھوڑ آؤ، پھر تم ہی تم نظر آؤگے ان میں سے جس کا نام یہودا تھا، کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل تو نہ کرو کیونکہ بےگناہ کا قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اس کو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو ، کوئی راہ چلتا اسے اٹھا لے جاوے گا تمہارا مقصد اس تدبیر سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ بات سب کی سمجھ میں آگئی سب مل کر باپ کے پاس آئے اور کہا کہ یوسف کو تفریح کے لئے ہمارے ساتھ بھیج دیں تو کچھ مضائقہ کی بات نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[7] یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بکریاں جنگل میں چرانے لے جایا کرتے تھے۔ اس حیلے سے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانا چاہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
یوسف (علیہ السلام) کیوں باپ کو پیارے تھے !
(ف 1) اب یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں شروع ہوتی ہیں ، بھائی ملے کرتے ہیں ، کہ یوسف کو تاریک کنوئیں میں ڈال دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ اس کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے تاکہ ہم یوسف (علیہ السلام) کی جگہ لے لیں اور باپ ہم سے زیادہ محبت کرنے لگے ۔
بات یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خلعت نبوت ملنے والا تھا ، یہ باپ کے ہونہار اور سعادتمند صاحبزادے تھے ، باپ کو بالطبع ان سے زیادہ انس تھا ، اور یہ محبت دوسروں کو ناگوار تھی اور قرآن حکیم سے یہ ثابت نہیں ہوتا ، کہ یہ لوگ بھی انبیاء تھے ، بلکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بدگمانی اور ان کے دوسرے افعال سے…
Read the full tafseer →9 تو اب یوسف (علیہ السلام) کو یا تو قتل کرڈالو یا اس کو کہیں اور کسی سرزمین پر پھینک آئو اس سے تمہارے باپ کی توجہ خالی تمہارے لئے رہ جائے گی اور تمہارے باپ کا رخ خالص تمہاری طرف ہوجائے گا اور اس واقعہ کے بعد تم نیک ہوجانا مشورے میں یہ باتیں پیش ہوئیں اور خیال یہ کیا گیا کہ اصل تو یوسف (علیہ السلام) ہے اگر یوسف (علیہ السلام) کو مارڈالو یا کسی دور دراز سرزمین پر پھینک آئو تو سب قصہ ختم ہوجائے گا۔
بن یامین سے بھی محبت اسی بنا پر ہے کہ وہ یوسف (علیہ السلام) سگا بھائی ہے جب یوسف (علیہ السلام) ہٹ جائے گا تو پھر باپ کا رخ فقط تمہاری طرف ہوگا اور ایک گناہ ضرور ہم سے ہوگا تو ہم اس کے بعد نیک بن جائیں…
Read the full tafseer →ف 3۔ کیونکہ وہ دونوں صورتوں میں باپ سے جدا ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →بھائیوں کے مشورہ میں جو بات طے پائی وہ یہ تھی کہ یوسف کو قتل کر دو یا ملک بدر کر دو
۔ 9 غور کرو کہ انسان دشمین کے عالم میں کتنی دور تک جاسکتا ہے اور بد خواہی کے کن کن حدود تک پہنچ سکتا ہے ؟ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی اس تجویز سے بالکل واضح اور ظاہر ہو رہا ہے۔ تجویز پیش ہوئی کہ یا تو یوسف کو قتل کر دو یا کسی دور دراز علاقہ میں پہنچا دو اس طرح جب یہ باپ کی آنکھوں سے پوشیدہ ہوجائے گا تو اس کی ساری توجہ اور محبت کا مرکز ہم ہوجائیں گے۔ انسان کے اندر کا شیطان انسان کو کیا کیا سبز باغ دکھاتا ہے اس سر گزشت کو پڑھتے وقت ذرا سوچتے چلو اور خود اپنے اندر کے شیطان سے بھی اس کا موازنہ کرتے چلو۔ یوسف…
Read the full tafseer →The third verse (9) describes how the brothers exchanged opinions among themselves. Some suggested that Yusuf be killed. Others opted for throwing him into a desolate pit so that the thorn in their side could be removed and they could thus become the sole recipients of their father's attention. As for the sin they would be earning for themselves by killing or throwing him in a pit that was something which could be taken care of later when they could repent for what they did and thus become righteous. This is the meaning of the sentence: وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِين (and after…
Read the full tafseer →10. This sentence depicts the true psychology of those people who give themselves up to the lusts of their hearts, and, at the same time, do not want to break away completely from faith and religion. This is how a person of this type behaves. Whenever he is tempted to do a certain evil thing, he makes up his mind to do it first and puts off the demands of his faith for the time being. And if his conscience pricks him, he tries to soothe it, saying: Have a little patience. Let me first do this evil thing, which is an obstacle in my way. Then I will repent and become as good as thou desirest to…
Read the full tafseer →